گواچے گیت
(بدلتے دور میں گمشدہ ہوتی مروجہ موسیقی کی ایک داستان)
از قلم محمد حماد علی گورسی
انتساب؛
اُن تمام فنکاروں کے نام،
جن کے فن کی قدر ان کے رخصت ہو جانے کے بعد ہوئی،
اور اُن خاموش سازوں کے نام،
جن کی دھنیں وقت کے شور میں کہیں گُم ہوتی گئیں۔
سامنے والے گھرسے آتی بےہنگم اور شور سے بھرپور پاپ میوزک کی آواز استاد شرافت کے اندھیرے کمرے کی خاموشی کو کسی تیز دھار ہنجر کی طرح چیر رہی تھیں۔ وہ ستمبر کی ایک خاموش شام تھی۔ جب سورج کی چند لکیریں پرانے جھروکے کی لکڑی کی درزوں سے چھین کر کمرے میں اڑتے ہو ئے دھول کے ذروں کو چمکا رہی تھی۔
استاد شرافت نے ایک گہری سانس لی ، ان کے پھیپھڑوں میں پرانی لکڑی ، اگر بتی کی خوشبو اور نمی کی ملی جلی مہک اتر آئی۔ انہوں نے اپنے بوڑھے ہاتھوں سے اپنی گود میں پڑی پچاس سال پرانی سارنگی اٹھائی تو انہیں اپنی جوانی کا غرور اور محفلوں میں ان کے ہونے والے چرچے یاد آنے لگے۔ استاد شرافت نے سارنگی اپنے ہاتھوں میں مظبوطی سے تھامی۔ یہ صرف سارنگی نہیں تھی۔ یہ ان کے دادا کی نشانی اور ان کے بچپن کی ےادوں سے جڑی داستان تھی۔ انہوں نے اپنے لرزتے ہو ئے ہاتھوں سے سارنگی کو چھوا ، تو جیسے ایک لمحے کو ان کی روح کانپ اٹھی۔ یہ سارنگی بھی ان کی روح کا ہی حصہ تھی۔ لیکن وقت کی دھول کے ساتھ ساتھ اس سارنگی پر بھی ایک باریک مٹی کی تہہ جم چکی تھی۔ بلکل ویسے ہی جیسے استاد کی زندگی پر وقت کی دھول جم چکی تھی۔
استاد شرافت نے پاس پڑا ایک پرانا ململ کا کپڑا اٹھایا۔ اور اس سے سارنگی کے پیٹ کو صاف کرنا شروع کیا۔ لکڑی کی وہ سرخی اب وقت کے ساتھ ساتھ مدھم پڑ چکی تھی۔ لیکن جب بھی ان کی انگلیاں سارنگی کے گز کو چھوتی تو ان کے دل کے اندر ماضی کا کوئی گواچا ہوا گیت انگڑائی لینے لگتا تھا۔ وہ دور بھی کیا دور تھا۔ جب اسی میں شہر میں استاد شرافت کا نام سنتے ہی لوگ احتراماً اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ امراء اور متمول ان کی ایک ایک تان پر اپنے دل بار بیٹھتے تھے۔ خیر اب تو نہ وہ لوگ رہے تھے اور نہ ہی وہ دور رہا تھا۔ کیا زمانہ تھا جب لوگ اپنے ٹیلی فون کی گھنٹی پر استاد شرافت کی ساز لگایا کرتے تھے۔ لیکن اب ؟ اب تو موبائل فون کی گھنٹی پر طرح طرح کے ساز سننے کو ملتے ہیں۔ اب باہر کی گلی موٹر سائیکل کے شور اور موبائل فون کی اسکرینوں میں گم ہو چکی تھی۔ جہاں سارنگی کا ساز سننے کا نہ ہی کسی کے پاس وقت ہے ، نہ ہی ظرف اور نہ ہی ذوق۔۔۔
سارنگی صاف کرتے ہو ئے استاد شرافت کی نظر سامنے دیوار پر لٹکی فریم پر پڑی۔ وہ فریم وقت کے ساتھ ساتھ اور گرد و غبار پڑنے کی وجہ سے ذرا دھندھلا سی گئی تھی۔ اور اس میں لگی استاد شرافت کی تصویر بھی صفحے سے مٹ رہی تھی۔ تصویر میں کھڑے شخص خود استاد شرافت تھے۔ جو کہ اُس وقت اپنی زندگی جی رہے تھے۔ ان کو ضلع بھر کے سب سے اچھے موسیقار کے اعزاز کے ساتھ نوازا جا رہا تھا۔ انہیں ایک بڑی ٹرافی ، ایک میڈل اور ساتھ کچھ رقم انعام کے طور پر ملی تھی۔ تصویر میں کھڑا شخص بہت خوش تھا مگر وہ خوشی ہمیشہ کے لئے تو نہ تھی۔ ہر چیز وقتی طور کے لئے ہوتی ہے۔ خوشی بھی۔ استاد شرافت کی وہ مسکراہٹ بھی عارضی تھی۔
خیر کسی نے سچ ہی کہا تھا کہ (ہر عروج کا زوال لازم ہوتا ہے۔) شاید استاد شرافت کا زوال بھی شروع ہو چکا تھا۔
استاد شرافت اس تصویر میں لگے خود کے عکس کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔ جیسے وہ ابھی بھی وہ وقت دوبارہ سے جینے کے خواہش مند تھے۔ لیکن ایسا نا ممکن تھا۔ کیونکہ زندگی میں ہر چیز واپس آ سکتی ہے لیکن گزرا ہوا وقت اور مر جانے والے کبھی واپس نہیں آتے۔ ہم بس گزرا ہوا کل اور گزرے ہو ئے لوگوں کے ساتھ بنائی گئی یادیں ہی یاد کر سکتے ہیں۔
استاد شرافت کی نظر تصویر سے ہٹی تو ساتھ لٹکے میڈل اور پاس میز پر رکھی ٹرافی پر پڑی۔ وہ بھی دھول کی زد میں آچکے تھے۔ استاد شرافت ماضی سے حال میں آئے تو خیال آیا کہ تصویر میں کھڑا شخص آج کے دور کا شرافت علی نہیں ہے بلکہ پینتیس سالہ جوان موسیقار شرافت علی ہے۔ استاد شرافت علی پھر سے سارنگی صاف کرنے لگے۔ کچھ ہی پل گزرے کہ لکڑی کا بوسیدہ دروازہ ایک کرب ناک چڑچڑاہٹ کے ساتھ کھلا اور ماحول کی خاموشی کو توڑتا ہوا ان کا بیٹا کمرے میں داخل ہوا۔
آگئے بیٹا!
استاد شرافت نے اپنے بیٹے ساجد کی طرف دیکھے بغیر کہا، اور سارنگی صاف کرتے رہے۔
مگر سامنے سے سکوت کے سوا کچھ نہ ملا۔ کچھ دیر تک جواب نہ ملنے پراستاد نے چند لمحے ٹھہر کر سر اٹھایا، تو ساجد کو موبائل میں کھویا ہوا دیکھا۔ ساجد کانوں میں تاروں والے ہیڈفونز لگائے ریپ میوزک سن رہا تھا۔ اور پھر آہستہ آہستہ اس نے بھی گانا شروع کیا۔ استاد شرافت کے کانوں میں جیسے ہی وہ آواز پڑی ، ان کا کلیجہ یوں چھلنی ہوا جیسے ہوا کے دوش پر اڑتا ریشمی کپڑا کسی کیل سے الجھ کر یکایک پھٹنے لگے۔
نامراد!
شرافت علی کی چیخ دار آواز جیسے ہی ساجد کے کانوں میں پڑی اس نے فوراً الجھتے ہوئے کانوں سے ہیڈفونز نکالے اوربیزار ہوتے ہوئے بولا۔
کیا ہے ابا!
تجھے ذرا شرم نہ آئی ؟تمہارا باپ ، دادا ، پردادا سب نو پشتوں سے موسیقار ہیں اور موسیقی کرتے آئے ہیں اور تم انگریزوں کی نئی طرز کے گانے سن رہے ہو۔
شرافت علی غصے میں بڑبڑاتے ہوئے کہے جا رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتے ، ان کا بیٹا بیزار ہوتے ہوئے بولا۔
ابا اب بس کریں۔ موسیقی اور موسیقار! اگر جدوں پشتوں سے موسیقار تھے تو اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب کوئی بھی موسیقی نہی سنتا اور نہ ہی کسی کو موسیقی پسند رہی ہے۔ اب ساری دنیا بس نئی طرز کے گانے ، میوزک اور پاپ ریپ سننا پسند کرتے ہیں۔
ساجد انتہائی سخت لہجے سے بول رہا تھا۔
کچھ پل کے لئے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
چند پل بعد ساجد پھر سے بولا۔
اور ویسے بھی مجھے نہ ہی موسیقی میں دلچسپی ہے اور نہ ہی میں موسیقار بننا چاہتا ہوں۔ میں تو سنگر بنوں گا۔
اس کی بات ختم ہونے پر استاد شرافت اپنی لرزتی ہوئی آواز میں بولے۔
لوگ اب اس لئے موسیقی سننا پسند نہیں کرتے کیونکہ اب کوئی موسیقار ہی نہیں رہا۔ موسیقاروں کی اولادیں اب تہاری طرح وراثت میں باپ دادا کی طرف سے ملی ہوئی موسیقی چھوڑ کر میوزک سنگر بننا چاہتے ہیں۔
ساجد نے استاد شرافت کی اس بات کا کوئی جواب نہ دیا اور پاس پڑے پلنگ پر براجمان ہو گیا۔ اس نے استاد شرافت کے ہاتھ میں سارنگی دیکھی۔ سارنگی دیکھ کر اسے مزید غصہ آیا۔
آپ ابھی تک یہ سارنگی پکڑے ہوئے ہیں۔ اس لکڑی کے ٹکڑے کو پھینک دیں۔ اب یہ کسی کام کا نہیں رہا اور نہ ہی یہ ہمارے کسی کام آ سکتا ہے۔ اس گھسی پیٹی پچاس ، ساٹھ سال پرانی سارنگی کو ابھی تک پکڑے ہوئے ہیں۔
استاد شرافت نے کوئی جواب نہ دیا۔ مگر ساجد کی اس بات نے استاد شرافت کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ خاموشی سے سارنگی کو دیکھتے رہے۔
ادستاد نے سارنگی نہ چھوڑی تو ساجد اٹھ کر غصے سے پاوں پٹختا ہوا پھر کمرے سے باہر چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی استاد شرافت کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔ انہوں نے پاس پڑے سلک کے غلاف میں سارنگی کو لپیٹ کر رکھ دیا۔ جس میں ہمیشہ سے وہ سارنگی ہوتی تھی۔
ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست تھے۔ استاد شرافت کی بات بھی ٹھیک تھی کہ نئی نسل کا موسیقی کو فروغ نہ دینے کی وجہ سے لوگوں میں اسے سننے کا جوش ختم ہوا، اور ساجد بھی اپنی جگہ ٹھیک تھا کہ اب لوگ یہ سننا پسند ہی نہیں کرتے ، کیونکہ اب بازار میں نئے قسم کے ساز آچکے ہیں۔ خیر وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ یہی بات سوچتے ہوئے استاد شرافت نے خاموشی اختیار کر لی۔
ساجد کے تند و تیز جملوں کی گونج ابھی کمرے میں باقی تھی کہ وہ غصے سے پاوں پٹختا ہوا باہر نکل گیا۔ استاد شرافت علی وہیں چٹائی پر ساکت بیٹھے رہے ، جیسے وقت کی رفتار ان کے لئے تھم گئی ہو۔ انہوں نے ایک گہری ، لرزتی ہوئی سانس لی اور اپنی لاٹھی کا سہارا لے کر دھیمے قدموں سے صحن کے کونے میں بنے چھوٹے سے باورچی خانے کی طرف بڑھے۔
وہاں مٹی کے لال چولہے پر ایک کالی پتیلی اوندھی پڑی تھی۔ جیسے وہ پتیلی بھی اس گھر کی قسمت پر نوحہ کناں ہو۔ استاد نے کانپتے ہاتھوں سے آٹے کے پیٹے کا ڈھکن اٹھایا ، تو اندر سے صرف خشک آٹے کی گرد اُڑ کر ان کی سفید داڑھی پر جم گئی۔ گھی کا ڈبہ بھی خالی تھا ، اور دالوں کی چھوٹی برتنیاں یوں صاف پڑی تھیں جیسے برسوں سے ان میں کچھ رکھا ہی نہ گیا ہو۔ اس رسوئی کی خاموشی باہر گلی کے شور سے زیادہ خوفناک اور گہری تھی۔
موسیقی اگر روح کی غذا تھی ، تو جسم جسم کو زندہ رکھنے کے لئے تو اناج کا ایک دانہ ہی درکار ہوتا ہے۔ شکم کی آگ کے سامنے سُروں کی تانیں ہمیشہ ہار جایا کرتی ہیں۔ استاد نے رسوئی کی دیوار سے ٹیک
لگائی اور سوچنے لگے کہ کیا واقعی ساجد ٹھیک کہتا ہے ؟ کیا سارنگی کے ان ریشمی تاروں نے ان کی غیرت اور بھوک کا تماشہ بنا دیا تھا ؟ اسی لمحے برابر کے کمرے سے ان کی یتیم پوتی حورین کی کھانسی کی ہلکی سی آواز آئی ، جو کہ پچھلے ایک ہفتے سے تیز بخار میں تپ رہی تھی۔ جس کے علاج کے لئے ساجد صبح سے پیسوں کا بند و بست کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
☆☆☆
۱۰ ماہ پہلے
حورین بیٹی ! تم دادا جان کے پاس رہو۔ ہم تھوڑی دیر تک آ جاتے ہیں۔
فرحین اپنی بیٹی کو سمجھاتے ہوئے بولی۔
نہیں امی! مجھے آپ کے ساتھ جانا ہے۔
حورین ضد کرتے ہوئے بولی۔
بیٹا ہم ہسپتال جا رہا ہیں۔ تمہاری نانی کی طبیعت خراب ہے ، تو شام تک آ جائیں گے۔
فرحین اسے پیار کرتے ہوئے بولی۔
امی جان! مجھے بھی نانی اماں سے ملنا ہے۔
حورین نے پھر سے ضد کی۔ ماجد علی نے آگے بڑھتے ہوئےحورین کو اٹھایا اور اسے پیار دے کر سمجھانے لگا۔
بیٹا جب وہ ٹھیک ہو کر گھر آئیں گی تو پھر تم ان سے ملنی جانا۔ ابھی ہسپتال میں بہت سے مریض ہوں گے ، تو تم بھی بیمار پر جاوں گی۔
ٹھیک ہے بابا۔
حورین بناوٹی اداسی بھرے لہجے میں بولی۔ حورین کو پیار کر کے اسے دادا کے حوالے کر کے ماجد اور فرحین وہاں سے بس اڈے کی طرف نکل پڑے۔
☆☆☆
ماجد علی ، استاد شرافت علی کا بڑا بیٹا۔ ماجد علی بلکل اپنے باپ کی جوانی کا عکس تھا۔ چھ فٹ لمبا ، چوڑا پروقار انسان تھا ، جو اس کی شخصیت کو مزید نکھارتا تھا۔ سیاہ گھنے اور نفاست سے سنوارے بال وہ ہمیشہ پیچھے کی طرف بٹھا کر رکھتا تھا ، جو اس کی سنجیدہ طبیعت کو ظاہر کرتے تھے۔ گہری بھوری آنکھیں جو ہر دیکھنے والے کے دل کو چھوتی تھیں۔ ان آنکھوں میں اپنے والد کی عزت ، خاندانی وقار اور ذمہ داری کا ایک عزم جھلکتا تھا۔
فرمین ، ماجد علی کی بیوی۔ قد درمیانہ تھا نہ بہت لمبی اور نہ بہت چھوٹی، اپنے لباس اور چال ڈھال میں ایک روایتی مشرقی گھریلو عورت کا وقار تھا۔ اس کی کمر تک لمبی کالی ریشمی زلفیں جو اس کی خوبصورتی کو نکھارتی تھیں۔ فرحین ہر وقت بالوں کی چٹیا بنائے رکھتی تھی۔ بڑی ، سیاہ اور پرسکون آنکھیں جن میں ایک ممتا کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ گھر میں ساس نہ موجود تھی لیکن فرحین نے گھر بکھرنے نہیں دیا۔ کئی سال پہلے استاد شرافت کی بیوی انتقال کر چکی تھیں۔ بیوی کے جانے کے بعد استاد بہت نڈھال رہنے لگے۔ لیکن فرحین کے آنے سے ان کی اداسی میں کئی حد تک کمی ہوئی۔ وہ ان کا بہت اچھے سے خیال رکھتی۔ انہیں سگے باپ کی طرح پیار کرتی تھی۔ اور اپنے چھوٹے دیور کو بھی ماں کی طرح پیار کرتی اور اسے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح رکھتی۔
حورین جو کہ ماجد اور فرحین کی بیٹی تھی۔ چار سال کی بہت ہی معصوم سی دوشیزہ۔ جو اس اداس گھر کے صحن میں اچھلتی کودتی تھی تو ہر وقت رونق لگی رہتی تھی ، مگر والدین کے جانے بعد وہ بھی بلکل اداس ہو گئی۔ ہلکے بھورے ، نرم اور گھنگھریالے بال جو اکثر اس کے ماتھے پر بکھرے رہتے۔ باپ کی طرح گہری بھوری آنکھیں اور ماں کی طرح بلکل موٹی موٹی اور معصوم۔
☆☆☆
برسات کی وہ ایک منخوس شام تھی ، جس کی ہولناکی آج دس ماہ گزرنے کے بعد بھی استاد شرافت علی کے بوڑھے ذہن پر نقش تھی۔ تپتے ہوئے لوہے جیسے اس اڈے پر تماشائیوں کا ایک ہجوم تھا ، جہاں ہر کوئی اپنی منزل کی جلدی میں بھاگ رہا تھا۔ ماجد نے فرحین کا ہاتھ تھامے ہوئے بہت مشکل سے اس نیلی بس میں جگہ بنائی جو شہر کی طرف جانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔
بس چلی تو اس کی پرانی لوہے کی باڈی کا شور اور باہر برستی بارش کی آوازیں ایک عجیب خوفناک راگ الاپنے لگیں۔ ماجد کی وہ بھوری آنکھیں جن میں حورین کے روشن مستقبل کے خواب تھے ، دھیرے دھیرے نیند کے بوجھ سے مچنے لگیں اور اس نے اپنا سر فرحین کے کندھے پر ٹکا دیا۔ فرحین کی وہ لمبی سیاہ زلفیں کھڑکی سے آنے والی تیز ہوا کے تھپیڑوں سے ماجد کے چہرے کو چھو رہی تھیں۔
بس پہاڑی راستے کے تنگ موڑ کاٹتے ہوئے اپنی پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ فرحین نے ڈر کر اپنے ہاتھ میں پکڑی تسبیح کو مضبوطی سے تھام لیا ، کیونکہ بس کا ڈرائیور تیز بارش میں بھی رفتار کم کرنے کو تیار نہ تھا۔
اور پھر ۔۔۔ ایک ہولناک سیکنڈ میں کائنات کی بساط الٹ گئی۔ بلکہ سیکنڈ کے بھی سویں حصے میں۔ سامنے والے موڑ سے آتے ہوئے ایک تیز رفتار ٹرک کی ہیڈ لائٹس نے بس کے شیشوں کو اندھا کر دیا۔ ڈرائیور نے گھبرا کر بریک پر پاوں رکھا ، لیکن بارش کے پانی سے پھسلتی ہوئی سڑک پر بس نے اپنا توازن کھو دیا۔ ایک کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا ، لوہے کے ٹوٹنے اور انسانوں کے چیخنے کی وہ ایک قیامت خیز آواز آئی جس نے پہاڑوں کی خاموشی کو چیر کر رکھ دیا۔ بس سڑک سے پھسلتی ہوئی گہری کھائی کی طرف رینگتی چلی گئی اور الٹ گئی۔ ماجد کا وہ چھ فٹ کا کسرتی قد اور فرحین کا روایتی سرخ دوپٹہ ، سب کچھ سیکنڈوں میں لوہے کے ملبے ، شیشے کے ٹکروں اور ابلتے ہوئے خون کے سمندر میں دفن ہو گیا۔
دس ماہ پہلے کی اس ایک رات نے استاد شرافت علی اور حورین کی دنیا اجاڑ دی تھی ، حورین کابچپن ویران کر دیا تھا اور استاد کا سارنگی کی سُروں میں ہمیشہ کے لئے ابدی ماتم بھر دیا۔
☆☆☆
رات کا ایک بج چکا تھا۔ چہار سو ایک گہری خاموشی کا راز تھا۔ فضا میں ستمبر کی ہلکی سی نمی رچی ہوئی تھی۔ دور پھاٹک سے گزرتی ریل گاڑی کا شور بار بار اس سکوت کے تسلسل کو توڑنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ رات کے اس پچھلے پہر بھی کسی دور دراز گلی سے آتی موٹر سائیکل کے سائلنسر کی تیز آواز ماحول کو بوجھل بنا رہی تھی۔ استاد شرافت گھر کے اس چھوٹے سے ، تاریک صحن میں اپنی پوتی کی چارپائی کے سرہانے بیٹھے متواتر اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہے تھے تاکہ کسی طرح اس کے بدن کی تپش کم ہو سکے۔ اسی اثنا میں گھر کا بوسیدہ لوہے کا دروازہ ایک کرب ناک چڑچڑاہٹ کے ساتھ کھلا اور ساجد انتہا درجے کی مایوسی چہرے پر سجائے اندر کی طرف بڑھا۔
بیٹا ! کہیں سے پیسوں کا کوئی انتظام ہوا ؟
استاد شرافت نے انتہائی مایوسی کے عالم میں کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
نہیں ابا !
ساجد نے ہارے ہوئے لہجے میں دھیمے سے جواب دیا ، اورنظریں جھکا لیں۔
کچھ لمحوں کے لئے صحن میں ایک گہری اور بوجھل خاموشی چھا گئی ، جس میں صرف حورین کے تیز سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ماجد نے اس خاموشی کو توڑتے ہوئے پھر سے کہا۔
البتہ ۔۔۔ یہ ایk لفافہ ہے جو میرے ایک دوست نے دیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ شہر کے ایک بہت بڑے اور جدید میوزک اسٹوڈیو میں انہیں کچھ موسیقاروں اور گلوکاروں کی ضرورت ہے۔ شاید وہ آپ کو اور آپ کی اس پرانی سارنگی کو دیکھ کر ایک اینٹیک (قدیم نایاب چیز) کے طور پر کام پر رکھ لیں۔ ویسے تو انہیں نئے طرز کے موسیقار چاہئے لیکن ، ان نئے لوگوں کو ایسی پرانی چیزیں دکھاوے کے لئے پسند آتی ہیں ،تو ممکن ہے کہ اس بہانے آپ کو وہاں کام مل جائے اور چھوٹی کی دوائی کا خرچ نکل آئے۔
کیا ؟ واقعی ؟ لیکن اگر ان نئے لوگوں میرا یہ روایتی ساز پسند نہ آیا تو ؟
استاد شرافت نے ایک اور ٹھنڈی پٹی حورین کے تپتے ماتھے پر رکھتے ہوئے شدید اندیشے اور مایوسی سے پوچھا۔
لیکن ابا! ہمیں کم از کم ایک بار کوشش کر کے تو دیکھ لینی چاہئے ، کوشش کرنے میں کوئی خرج تو نہیں نا؟ جب تک ہم پہلا قدم نہیں اٹھاتے ، تب تک راستے نہیں کھلتے۔ جب پہلا قدم اٹھا لیا جائے ، تو آگے کی منزل خود بخود آسان ہو جاتی ہے۔ انسان تو صرف وہ پہلا قدم اٹھانے سے ہی ڈرتا ہے۔
ساجد نے دھیمے اور سنجیدہ لہجے میں استاد شرافت کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی۔
چلو بیٹا! جیسے تمہاری مرضی ، ہم یہ کوشش بھی کر کے دیکھ لیتے ہیں۔
استاد نے بوجھل دل سے ہامی بھرتے ہوئے کہا ، اور ایک بار پھر اس ویران اور تاریک صحن پر اداسی کی ایک گہری چادر تان گئی۔ کچھ لمحے گزرے تھے کہ استاد شرافت نے ساجد کی طرف دیکھا اور انتہائی بے بسی سے بولے۔
لیکن بیٹا! ہمارے پاس تو اس وقت کھانے تک کے پیسے نہیں ہیں ، تو شہر جانے کا کرایہ کہاں سے لائیں گے ؟ سچ تو یہ ہے کہ میں نے پچھلے دو دن سے اناج کا ایک دانہ تک نہیں چکھا ، اور شدید فاقہ کشی کے عالم میں ہوں۔ مجھے تو اپنی فکر نہیں ، لیکن یہ معصوم حورین بھی تو اسی وجہ سے بیمار ہوئی ہے کہ اسے کئی دن سے مکمل خوراک نصیب نہیں ہوئی۔
“ابا… یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔”
ساجد نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اپنی انگلی میں پہنی چاندی کی انگوٹھی کو دیکھا، پھر دھیمے لہجے میں بولا،
“میں کل صبح بازار جا کر یہ انگوٹھی بیچ آؤں گا۔ کم از کم اس سے شہر آنے جانے کا کرایہ تو نکل آئے گا۔”
استاد شرافت خاموش رہ گئے۔
ان کی نگاہیں ساجد کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔ یہی ساجد تو تھا جو چند گھنٹے پہلے غصے میں انہیں برسوں پرانی سرنگی پھینک دینے کا مشورہ دے رہا تھا، اور آج وہی بیٹا اسی سرنگی کو لے کر شہر کے اسٹوڈیو جانے پر اصرار کر رہا تھا۔ وقت نے چند ہی لمحوں میں اس کے لہجے کی سختی کو فکر میں بدل دیا تھا۔
استاد شرافت کے دل میں ایک عجیب سی کشمکش جنم لینے لگی۔ ایک طرف بیٹے کی بدلتی سوچ انہیں خوشی دے رہی تھی، تو دوسری طرف ایک انجانا خوف مسلسل دل پر دستک دے رہا تھا۔
“اگر اسٹوڈیو والوں نے سرنگی سننے سے ہی انکار کر دیا تو؟ اگر کوئی کام نہ ملا تو؟
یہ خیال انہیں بے چین کیے جا رہا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ساجد صرف ایک انگوٹھی نہیں بیچ رہا، بلکہ اپنی انا، اپنی ضد اور اپنی آخری امید بھی داؤ پر لگا رہا تھا۔
استاد شرافت نے گہرا سانس لیا۔ کبھی کبھی زندگی میں منزل سے پہلے امید پر یقین کرنا پڑتا ہے، کیونکہ پہلا قدم ہمیشہ یقین ہی اٹھاتا ہے۔
☆☆☆
اگلی صبح ساجد فجر کی نماز ادا کرتے ہی خاموشی سے گھر سے نکل گیا۔ استاد شرافت اپنی پوتی کو سینے سے لگائے چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ پوری رات فکر اور بے یقینی نے ان کی آنکھوں سے نیند چھین لی تھی۔ کبھی وہ اسٹوڈیو میں کام ملنے کی امید باندھتے، تو اگلے ہی لمحے ناکامی کا اندیشہ ان کے دل کو جکڑ لیتا۔
جب صبح کے نو بجے، سورج کی کرنیں گاؤں کی کچی گلیوں میں اتر چکی تھیں، ساجد گھر کا بوسیدہ لکڑی کا دروازہ کھولتا ہوا اندر داخل ہوا۔ استاد شرافت پہلے ہی شہر جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے، گویا وہ اس لمحے کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہوں۔
ساجد نے بغیر کچھ کہے رقم ان کے ہاتھ پر رکھ دی۔ اس کی خاموشی میں بھی کئی ان کہی باتیں پوشیدہ تھیں۔ پھر اس نے اپنی بھتیجی کو گود میں اٹھایا اور دونوں استاد شرافت کے ساتھ بس اڈے کی جانب چل پڑے۔
بس اڈے پہنچ کر اس نے شہر کی ایک ٹکٹ خریدی، اسٹوڈیو کا پتہ احتیاط سے ایک کاغذ پر لکھ کر استاد شرافت کے حوالے کیا اور راستے کی چند ضروری ہدایات بھی دے دیں۔
بس روانگی کے لیے تیار ہوئی تو استاد شرافت نے جھک کر اپنی پوتی کے ماتھے کو چوما۔ پھر ایک لمحے کے لیے ان کی نظریں ساجد سے ملیں۔ ان نگاہوں میں الفاظ تو نہ تھے، مگر دعائیں، محبت اور بے شمار احساسات سمٹے ہوئے تھے۔ اگلے ہی لمحے وہ بس میں سوار ہو گئے، اور ساجد دیر تک گرد میں لپٹتی ہوئی اس بس کو دیکھتا رہا، یہاں تک کہ وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ پھر اس نے اپنی بھتیجی کو سینے سے لگایا اور خاموش قدموں سے گھر کی طرف لوٹ گیا۔
چاندی کی وہ انگوٹھی پرانے زمانے کی نفیس کاریگری کا نمونہ تھی۔ اس کے وزن اور عمدہ ساخت کی وجہ سے سنار نے اس کی توقع سے بہتر قیمت ادا کی تھی۔ استاد شرافت کے سفر، واپسی کے کرائے اور کھانے کے اخراجات نکالنے کے بعد جو تھوڑی سی رقم بچی، ساجد نے اس سے اپنی بھتیجی کے لیے کچھ غذائیت بخش کھانے کی اشیاء خریدیں، تاکہ شاید اس کی کمزور ہوتی سانسوں کو کچھ سہارا مل سکے، اور اپنے لیے بھی معمولی سا کھانا لے لیا۔
فضا پر ایک گہری خاموشی طاری تھی۔ استاد شرافت کھڑکی کے ساتھ والی نشست پر بیٹھے بس کے روانہ ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ چند ہی لمحوں بعد انجن کی گرج سنائی دی اور بس آہستہ آہستہ پہاڑوں کے درمیان بل کھاتی سڑک پر سفر کرنے لگی۔
راستے کا ایک موڑ آیا تو استاد شرافت کی سانس جیسے رک گئی۔ وہی موڑ… وہی گہری کھائی
ان کی نظریں بے اختیار نیچے جا ٹھہریں۔ انہیں یوں محسوس ہوا جیسے آج بھی ٹوٹی ہوئی بس کے بکھرے ہوئے پرزے وہیں پڑے ہوں۔ ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ انہیں چیخوں کی مدھم بازگشت سنائی دینے لگی۔ وہ منظر، جو دس ماہ پہلے ان کی زندگی اجاڑ گیا تھا، ایک بار پھر ان کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہو اٹھا۔
انہیں یوں لگا جیسے ان کے بیٹے اور بہو کی روحیں آج بھی انہی پہاڑوں کے درمیان کہیں بھٹک رہی ہوں۔
ان کی پلکیں بھیگ گئیں۔ انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا، مگر آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
ساتھ والی نشست پر بیٹھے ایک نوجوان نے فکر مندی سے پوچھا، “چاچا… خیریت ہے؟ آپ اچانک رونے کیوں لگے؟”
استاد شرافت نے رومال سے آنکھیں صاف کیں اور ٹوٹتی ہوئی آواز میں بولے، “آج سے دس ماہ پہلے… میرا جوان بیٹا اور بہو اسی کھائی میں بس حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔”
نوجوان چند لمحے خاموش رہا، پھر دھیرے سے بولا، “إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ… اللہ آپ کو صبر عطا فرمائے۔ آپ شہر کس کام سے جا رہے ہیں؟”
“میری یتیم پوتی بیمار ہے… اور میرے بیٹے نے مشورہ دیا تھا کہ شاید شہر کے کسی بڑے اسٹوڈیو میں میری اس پرانی سارنگی کی قدر ہو جائے۔”
نوجوان نے استاد کی گود میں رکھی سارنگی پر ایک نظر ڈالی، پھر ہلکی سی آہ بھرتے ہوئے بولا، “چاچا… شہر میں اب ایسی دھنیں بہت کم سنی جاتی ہیں۔ لوگ جدید موسیقی کے عادی ہو چکے ہیں۔ پھر بھی… اللہ بہتر کرے۔”
استاد شرافت نے کوئی جواب نہ دیا۔ انہوں نے خاموشی سے کھڑکی کے باہر نظریں جما دیں۔ نوجوان کی بات نے ان کے دل میں چھپی ہوئی تشویش کو اور گہرا کر دیا تھا۔
کب سفر ختم ہوا اور بس شہر کے مرکزی اڈے پر آ کر رکی، انہیں احساس ہی نہ ہوا۔ نوجوان نے کندھے پر ہلکا سا ہاتھ رکھا تو وہ چونک کر حال میں لوٹے۔
کھڑکی سے باہر جھانکا تو منظر بالکل مختلف تھا۔ اونچی عمارتیں، تیز رفتار گاڑیاں، شور سے بھری سڑکیں… اور ہر طرف ایک ایسی دنیا جو ان کے گاؤں سے بالکل الگ تھی۔
وہ بس سے اترے ہی تھے کہ سامنے ایک نوجوان گٹار بجا رہا تھا۔ اس کی دھن پر لوگ رک رک کر داد دے رہے تھے اور پاس رکھے ڈبے میں نوٹ اور سکے ڈال رہے تھے۔
استاد شرافت بے اختیار رک گئے۔چند قدم آگے بڑھے تو ایک اور فنکار جدید موسیقی کے ساز کے ساتھ کھڑا تھا۔ پھر ایک اور… اور پھر ایک اور۔
ہر چند قدم کے فاصلے پر کوئی نہ کوئی موسیقار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا تھا۔
ان کے ہاتھ میں تھامی ہوئی پرانی سارنگی جیسے یکایک اور بھی بوڑھی محسوس ہونے لگی۔
وہ نوجوان، جو ان کے ساتھ بس میں سفر کر رہا تھا، انہیں وہیں خاموش کھڑا دیکھ کر واپس پلٹا اور مسکراتے ہوئے بولا، “کیوں چاچا… میں نے کہا تھا نا؟”
استاد شرافت نے صرف ایک بے جان سی مسکراہٹ سے جواب دیا۔
نوجوان نے بات بدلتے ہوئے پوچھا، “اچھا یہ بتائیے، آپ کو جانا کہاں ہے؟ اگر قریب ہوا تو میں چھوڑ دیتا ہوں۔”
استاد شرافت نے جیب سے وہ کاغذ نکالا جو ساجد نے انہیں دیا تھا اور خاموشی سے اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
کاغذ پر نظر ڈالتے ہی نوجوان بولا، “ارے، یہ تو بالکل قریب ہے۔ بس پانچ منٹ کی پیدل مسافت ہے۔ آئیے، میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔”
استاد شرافت خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑے۔یہ پانچ منٹ کا راستہ ان کے لیے کسی طویل آزمائش سے کم نہ تھا۔ ہر چند قدم پر ایک نیا ساز، ایک نئی دھن اور ایک نیا فنکار انہیں یہ احساس دلا رہا تھا کہ شاید ان کی سارنگی اس شہر میں واقعی اجنبی ہو چکی ہے۔
آخرکار نوجوان ایک بلند و بالا سات منزلہ عمارت کے سامنے رک گیا۔
“چاچا، یہی ہے وہ اسٹوڈیو۔ اب میں چلتا ہوں۔ اللہ آپ کے لیے آسانی فرمائے۔”
استاد شرافت نے پہلی بار اس کی طرف دیکھ کر دھیرے سے کہا، “شکریہ
اور یہی ایک لفظ تھا جو ان کے لبوں سے ادا ہو سکا۔
استاد شرافت نے ہچکچاتے ہوئے اسٹوڈیو کے مرکزی دروازے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ گیٹ پر کھڑے محافظ نے ہاتھ بڑھا کر انہیں روک لیا۔
“او بابا، کہاں چلے آ رہے ہو؟”
استاد شرافت نے نہایت ادب سے جواب دیا، “بیٹا… مجھے اندر جانا ہے۔
محافظ نے انہیں سر سے پاؤں تک دیکھا۔ ان کے سادہ اور بوسیدہ کپڑے، ہاتھ میں تھامی ہوئی پرانی سارنگی اور چہرے کی جھریاں دیکھ کر اس کے لبوں پر حقارت بھری مسکراہٹ آگئی۔
“اندر؟ کس سے ملنا ہے؟”
استاد نے جیب سے تہہ کیا ہوا کاغذ نکالتے ہوئے کہا “میرے بیٹے نے بتایا تھا کہ شاید یہاں میری سارنگی…”
محافظ نے ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کاغذ ایک نظر دیکھا اور جھنجھلا کر بولا بابا، یہ کوئی میلہ نہیں جہاں ہر کوئی اندر گھس جائے۔ چلو، ہٹو یہاں سے،
استاد شرافت نے ایک بار پھر منت بھرے لہجے میں کہا،
“بس ایک موقع دے دو، بیٹا۔ صرف دو منٹ… اگر انہیں میرا فن پسند نہ آیا تو میں خود واپس چلا جاؤں گا۔”
کہہ دیا نا، اندر نہیں جا سکتے!” محافظ نے انہیں دھکیلتے ہوئے پیچھے کر دیا۔
اسی لمحے ایک سیاہ رنگ کی قیمتی گاڑی اسٹوڈیو کے سامنے آ کر رکی۔ ایک معروف گلوکار گاڑی سے اترا تو محافظ فوراً سیدھا ہو گیا۔
“گڈ مارننگ، سر!
گلوکار نے سر ہلایا، مگر اس کی نظر فوراً استاد شرافت پر جا ٹھہرا۔
“یہ بزرگ کون ہیں؟”
“سر، صبح سے اندر جانے کی ضد کر رہے ہیں۔ سمجھ ہی نہیں رہے۔”
گلوکار چند لمحے استاد کو دیکھتا رہا، پھر بولا،
“آنے دو۔ دیکھتے ہیں کیا بات ہے۔”
محافظ نے حیرت سے اسے دیکھا، مگر خاموش رہا۔
استاد شرافت نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا اور گلوکار کے پیچھے چل دیے۔
وہ انہیں ایک بڑے ہال میں لے گیا جہاں موسیقار، گلوکار اور پروڈیوسرز اپنی گفتگو میں مصروف تھے۔ اچانک سب کی نظریں استاد شرافت پر جم گئیں۔
“یہ کون ہیں؟”
ایک شخص نے ناگواری سے پوچھا۔
گلوکار نے مختصراً جواب دیا،
“باہر کھڑے تھے، میں اندر لے آیا۔”
“بابا، بتائیے… آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟”
استاد شرافت نے دونوں ہاتھوں سے سارنگی کو سنبھالتے ہوئے آہستہ آہستہ اپنی پوری داستان سنا دی۔ بیٹے کی موت، بیمار یتیم پوتی، غربت… اور آخری امید کے طور پر اس اسٹوڈیو تک پہنچنے کا سفر۔
ہال میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی، مگر پھر اچانک کسی کے ہنسنے کی آواز آئی۔
“بابا، یہ سارنگی اب میوزیم میں اچھی لگتی ہے، اسٹوڈیو میں نہیں۔”
دوسرا طنزیہ انداز میں بولا،
“آج کل لوگ یہ سب نہیں سنتے۔ زمانہ بدل چکا ہے۔”
تیسرا شخص ہنستے ہوئے بولا،
“کسی لوک میلے کا راستہ بھول آئے ہیں کیا؟”
قہقہوں کی آواز پورے ہال میں گونجنے لگی۔
استاد شرافت نے لرزتے ہاتھوں سے اپنی سارنگی کو اور مضبوطی سے سینے سے لگا لیا۔
“بس… ایک بار سن تو لیجیے…”
ان کی آواز التجا میں ڈوبی ہوئی تھی۔
لیکن کسی نے نہ سنا۔
چند ملازمین آگے بڑھے اور انہیں بازوؤں سے پکڑ کر تقریباً دھکے دیتے ہوئے باہر نکال دیا۔
استاد شرافت کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ وہ اسٹوڈیو کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھ گئے اور اپنی سارنگی کو سینے سے لگا کر خاموشی سے روتے رہے
کچھ دیر بعد کسی کے قدم ان کے قریب آ کر رکے
انہوں نے سر اٹھایا۔
وہی گلوکار ان کے سامنے کھڑا تھا۔
وہ آہستہ سے بولا،
“بابا… اندر میں نے آپ کی حمایت نہیں کی۔ اگر کرتا تو لوگ میرا مذاق اڑاتے۔ میری شہرت پر بھی اثر پڑتا۔”
استاد شرافت خاموش رہے۔
گلوکار نے سارنگی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“لیکن ایک بات ہے… مجھے پرانی اور نایاب چیزوں کا بہت شوق ہے۔ یہ سارنگی واقعی بے حد خوبصورت ہے۔ میرا نیا گھر بن رہا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں اسے خرید لیتا ہوں۔ قیمت آپ خود بتا دیجیے، جتنی کہیں گے ادا کر دوں گا۔”
یہ سنتے ہی استاد شرافت کی آنکھوں میں دکھ کی جگہ غصہ اتر آیا۔
انہوں نے سارنگی کو اپنے سینے سے اور مضبوطی سے لگا لیا۔
“یہ صرف لکڑی اور تاروں کا ایک ساز نہیں…”
ان کی آواز لرز رہی تھی۔
“یہ میرے باپ کی نشانی ہے… میرے دادا کی میراث ہے… میری پوری زندگی کی کمائی ہے۔ تم کہتے ہو کہ میں چند روپوں کے عوض اسے تمہارے ڈرائنگ روم کی زینت بنا دوں؟”
گلوکار نے سمجھانے کی کوشش کی،
“بابا، میں اس کی بے عزتی نہیں کروں گا…
“خاموش!”
استاد شرافت کی بلند آواز سن کر وہ بھی ساکت رہ گیا۔
“جس ساز نے مجھے ساری عمر عزت دی، میں اسے دولت کے لیے کبھی نہیں بیچوں گا۔”
یہ کہہ کر استاد شرافت اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھے، سارنگی کو کندھے سے لگایا اور آہستہ آہستہ بس اڈے کی طرف چل پڑے۔
واپسی کی ٹکٹ لے کر وہ خاموشی سے ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔
اس بار ان کے ہاتھ میں صرف ایک پرانی سارنگی نہیں تھی…
بلکہ ٹوٹتی ہوئی امیدوں کا بوجھ بھی تھا۔
☆☆☆
رات بہت گہری ہو چکی تھی۔ کالے بادل آسمان پر خاموشی سے پھیلے ہوئے تھے اور پورا گاؤں سناٹے کی چادر اوڑھے سو رہا تھا۔
استاد شرافت بس سے اتر کر آہستہ آہستہ اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔ ان کے قدم بوجھل تھے، جیسے ہر قدم اپنے ساتھ ایک نئی شکست اٹھائے ہوئے ہو۔ انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
کچھ لمحوں بعد ساجد نے نیم خوابیدہ حالت میں دروازہ کھولا۔ دروازہ کھلتے ہی وہ حیرت سے ٹھٹھک گیا۔
“ابا… آپ؟ اتنی جلدی واپس آگئے؟”
استاد شرافت نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ خاموشی سے اندر آئے، اپنی پوتی کے ماتھے کو چوما اور تھکے ہوئے وجود کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئے۔
ساجد ان کے چہرے کی ویرانی پڑھ چکا تھا۔
“ابا… کیا ہوا؟ کچھ بولتے کیوں نہیں؟ اسٹوڈیو والوں نے کیا کہا؟”
کافی دیر کی خاموشی کے بعد استاد شرافت نے ٹوٹے ٹوٹے لفظوں میں شہر کا سارا واقعہ سنا دیا؛ دربان کی بے رخی، اسٹوڈیو میں ہونے والی تذلیل اور آخر میں اس گلوکار کی وہ پیشکش، جس میں اس نے سارنگی کو صرف ایک سجاوٹی چیز سمجھ کر خریدنا چاہا تھا۔
یہ سنتے ہی ساجد کا صبر جواب دے گیا۔
“ابا! آپ کو وہ سارنگی بیچ دینی چاہیے تھی۔ جب کسی نے اس سے موسیقی نہیں سننی تھی تو کم از کم اس کے بدلے حورین کا علاج ہی ہو جاتا۔”
استاد شرافت نے بے حد سکون مگر مضبوط لہجے میں کہا،
“ساجد… مجھے اپنی پوتی کی فکر تم سے کم نہیں۔ مگر یہ سارنگی صرف ایک ساز نہیں، میرے باپ دادا کی امانت ہے۔ میں اسے دولت کے عوض نہیں بیچ سکتا۔”
“امانت سے زیادہ قیمتی ایک معصوم جان ہے، ابا!”
ساجد کی آواز بلند ہو گئی۔
کافی دیر تک دونوں کے درمیان خاموشی، دکھ اور اختلاف ایک دوسرے سے ٹکراتے رہے۔ آخرکار ساجد اپنی بھتیجی کو گود میں اٹھا کر اندر کے کمرے میں چلا گیا۔
رات اپنی آخری ساعتوں میں داخل ہو چکی تھی۔ سیاہ بادلوں نے چاند کو اپنی آغوش میں چھپا رکھا تھا اور پورا گاؤں گہری خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔
استاد شرافت صحن کے بیچوں بیچ بیٹھے تھے۔ سامنے برسوں پرانی وہی سارنگی رکھی تھی، جو ان کے باپ کی نشانی، ان کے دادا کی میراث اور ان کی پوری زندگی کا حاصل تھی۔
انہوں نے آہستہ سے اسے اپنے سینے سے لگایا، آنکھیں بند کیں اور پہلا سُر چھیڑ دیا۔
راگ بھیروی کی درد بھری لے خاموش رات میں یوں پھیلنے لگی، جیسے برسوں سے دبی ہوئی ہر آہ آج آواز بن گئی ہو۔
ہر سُر میں ایک جدائی تھی۔۔۔ ہر دھن میں ایک شکس تے۔۔۔
اور ہر لرزتی ہوئی تان میں ایک ایسے فنکار کا دکھ، جسے زمانے نے سننے سے انکار کر دیا تھا۔
گھر کے اندر ساجد جاگ رہا تھا، مگر ضد اور انا نے اس کے قدم صحن تک نہ آنے دیے۔
استاد شرافت بجاتے رہے…
وقت گزرتا رہا…
رات ڈھلتی رہی…
سارنگی کے تاروں پر ان کی انگلیاں مسلسل رقص کرتی رہیں۔ برسوں کی ریاضت نے انہیں درد کا احساس بھی بھلا دیا تھا۔ انگلیاں زخمی ہو چکی تھیں، مگر ان کا ہاتھ نہ رکا۔ وہ آخری بار اپنی روح سارنگی کے سپرد کر رہے تھے۔
جب دور دور کی مسجدوں سے فجر کی پہلی اذان بلند ہوئی تو بھیروی کی آخری تان بھی فضا میں تحلیل ہو چکی تھی۔
اسی لمحے…
ایک تار ٹوٹنے کی آواز پورے صحن میں گونجی
پھر دوسرا…
پھر تیسرا…
اور پھر ہر طرف خاموشی چھا گئی۔
اگلی صبح ساجد کی آنکھ کھلی تو اسے غیر معمولی سکوت نے چونکا دیا۔ وہ تیزی سے صحن کی طرف بھاگا۔
استاد شرافت اسی جگہ خاموش بیٹھے تھے۔ ان کی جھکی ہوئی گردن ایک طرف ڈھلکی ہوئی تھی اور سارنگی بدستور ان کے سینے سے لگی تھی، گویا وہ آخری لمحے تک اپنے سب سے وفادار ساتھی کو چھوڑ نہ سکے ہوں۔
ساجد نے لرزتے ہوئے انہیں پکارا۔
“ابا…!”
کوئی جواب نہ آیا۔
وہ گھٹنوں کے بل ان کے قریب بیٹھ گیا۔ استاد شرافت کی انگلیاں اب بھی سارنگی کے تاروں پر ٹکی ہوئی تھیں، جیسے آخری سُر ابھی مکمل ہونا باقی ہو۔
ساجد کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس نے صرف اپنے باپ کو نہیں کھویا…
بلکہ ایک ایسا فنکار کھو دیا تھا، جس کی قیمت اس دنیا نے کبھی پہچانی ہی نہیں۔
☆☆☆
ختم شُد
