The last registry by Rida Fatima and Neha ghouri episode 3.

The last registry
Writers Neha ghouri and Rida fatima
Episode 3_
آفس کی 32ویں منزل پر بورڈ روم شہر سے سب سے اونچا کمرہ تھا۔ تینوں طرف سے فرش سے چھت تک شیشے کی دیواریں تھیں۔ باہر دوپہر کا سورج شہر کی عمارتوں پر پگھل رہا تھا۔ نیچے ٹریفک چیونٹیوں جیسی لگ رہی تھی۔ سائرن کی آواز یہاں تک نہیں آتی تھی۔ صرف شیشے کے پار ایک خاموش دنیا تھی جو زارون مرزا کے نام سے چلتی تھی۔
اندر ہوا بالکل ٹھنڈی تھی۔ اے سی کی ہلکی سرسراہٹ کے علاوہ کوئی آواز نہیں تھی۔ کمرے کے بیچ میں مہوگنی کی ایک لمبی میز رکھی تھی۔ اتنی چمکدار کہ اس میں چہرے نظر آ رہے تھے۔ اس کے گرد بارہ ہائی بیک چمڑے کی کرسیاں لگی تھیں۔ میز پر ہر سیٹ کے سامنے سفید فائل، بند لیپ ٹاپ اور ایک شیشے کا گلاس رکھا تھا۔ دیوار پر لگی بڑی سکرین ابھی بند تھی۔
میز کے بالکل ہیڈ پر والی کرسی پر زارون مرزا بیٹھا تھا۔
اس نے نیوی بلیو تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔ کوٹ کے بٹن بند تھے۔ اندر سفید شرٹ تھی جس کے کالر بالکل سیدھے اور اوپر والے دونوں بٹن بند تھے۔ نہ ٹائی تھی نہ کوئی ایکسٹرا چیز۔ سادگی میں رعب تھا۔ اس کی کلائی پر وہی پرانی سلور گھڑی بندھی تھی۔ وہ گھڑی جو اس نے تب لی تھی جب اس کے پاس بینک میں 2000 روپے بھی نہیں تھے۔ پانچ سال میں کروڑوں آئے اور گئے، پر گھڑی وہی تھی۔
زارون کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ جبڑا سخت تھا۔ آنکھیں آدھی بند تھیں جیسے وہ سب کو دیکھ بھی رہا ہو اور کسی کو نہ بھی دیکھ رہا ہو۔ صبح والے سین کی تھکن ابھی اس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے سائے کی طرح تھی۔ لیکن اس تھکن کے ساتھ اب لوہے جیسا کنٹرول بھی تھا۔ وہ کنٹرول جو ایک ایسے آدمی میں آتا ہے جس نے سب کچھ خود بنایا ہو۔
اس کے بالکل دائیں ہاتھ پر روہی بیٹھی تھی۔ دوسری کرسی پر۔ اس نے بلیک ٹیلرڈ پینٹ سوٹ پہنا تھا۔ اندر سفید شرٹ۔ بالوں کا سخت جوڑا۔ ہاتھ میں بلیک لیپ ٹاپ اور گود میں موٹی فائل۔ اس کا چہرہ پتھر کی طرح تھا۔ پروفیشنل۔ نہ مسکراہٹ، نہ شکن۔ ۔ زارون مرزا کی پرسنل اسسٹنٹ۔
میز کے دوسری طرف کمپنی کے تین سینئر ڈائریکٹر بیٹھے تھے۔ عمریں پچاس سے اوپر۔ مہنگے سوٹ، مہنگی گھڑیاں۔ لیکن ان کی کرسیاں زارون کی کرسی سے دو انچ نیچی تھیں۔ یہ اتفاق نہیں تھا۔ ان کے ساتھ دبئی سے آئے دو انویسٹر بھی تھے۔ دونوں کے چہرے پر بے چینی تھی۔ فائلز کھلی تھیں لیکن کوئی بول نہیں رہا تھا۔ سب زارون کے پہلے لفظ کا انتظار کر رہے تھے۔
باہر شیشے سے روشنی آ کر سیدھی زارون کی میز پر پڑ رہی تھی۔ دھول کے ذرے ہوا میں تیر رہے تھے۔ کمرے کا درجہ حرارت 18 تھا لیکن سب کے ماتھے پر پسینہ تھا۔
زارون نے ابھی تک ایک لفظ نہیں بولا تھا۔ اس نے بس اپنی انگلیاں میز پر ایک بار بجائیں۔ ہلکی سی “ٹک” کی آواز۔ اور پورے کمرے کی سانس رُک گئی۔ روہی نے فوراً سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ زارون نے آنکھوں سے اشارہ کیا۔ روہی نے لیپ ٹاپ آن کیا۔
میٹنگ شروع ہونے والی تھی۔

میز کے دوسری طرف پانچ لوگ بیٹھے تھے۔ اور ان پانچوں کے چہروں پر ایک ہی تحریر تھی: بے چینی۔
سب سے پہلے دائیں جانب اقبال صاحب تھے۔ کمپنی کے سب سے پرانے ڈائریکٹر۔ عمر کوئی 58 سال۔ سر کے بال آدھے سفید ہو چکے تھے۔ انہوں نے ہلکے گرے رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا جس کے کالر پر پسینے کے نشان تھے۔ ان کے سامنے دبئی پروجیکٹ کی فائل کھلی تھی لیکن وہ ایک لفظ بھی نہیں پڑھ پا رہے تھے۔ ہر دو منٹ بعد وہ اپنی موٹی فریم والی عینک اتار کر صاف کرتے اور پھر پہن لیتے۔ پچھلے 20 سال سے وہ ہر میٹنگ میں سب سے زیادہ بولتے تھے۔ آج وہ چپ تھے۔ کیونکہ سامنے زارون بیٹھا تھا۔
ان کے ساتھ نائلہ بیگم تھیں۔ فنانس کی ہیڈ۔ 45 سال کی عمر۔ تیز، سخت، اور ہمیشہ نمبرز میں الجھی رہنے والی عورت۔ آج انہوں نے مرون کلر کا پاور سوٹ پہنا تھا۔ ہاتھ میں مہنگی قلم تھی جسے وہ مسلسل گھما رہی تھیں۔ ان کے لیپ ٹاپ کی سکرین پر ایکسل شیٹ کھلی تھی۔ لال نشان سے بھری ہوئی۔ پچھلے مہینے کی رپورٹ میں 4% کا نقصان آیا تھا۔ اور وہ جانتی تھیں کہ زارون نقصان کا نام سن کر کیا کرتا ہے۔
تیسرے ڈائریکٹر دانش تھے۔ سب سے چھوٹے۔ 38 سال۔ نئے نئے پروموشن ہوئے تھے۔ انہوں نے نیلا سوٹ پہنا تھا اور بار بار گھڑی دیکھ رہے تھے۔ ان کی کرسی سے آواز آ رہی تھی کیونکہ وہ ٹانگ ہلا رہے تھے۔ وہ میٹنگ میں نیا تھا، اور اسے ڈر تھا کہ کہیں پہلی میٹنگ میں ہی غلطی نہ ہو جائے۔
ان تینوں کے سامنے بیٹھے تھے دو مہمان۔ دبئی سے آئے ہوئے انویسٹر۔
پہلا تھا خالد المنصوری۔ عمر 50 کے آس پاس۔ سفید تھوب اور سر پر عقال۔ کلائی میں سونے کی گھڑی جس کی قیمت ایک چھوٹا فلیٹ تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی لیکن آنکھوں میں حساب تھا۔ 200 ملین ڈالر کوئی چھوٹی رقم نہیں تھی۔ وہ اس ڈیل میں اپنا 40% لگا رہا تھا۔
اس کے ساتھ بیٹھا تھا ریان الخوری۔ عمر کوئی 35 سال۔ ویسٹرن سوٹ، بغیر ٹائی کے۔ بال جیل سے چمک رہے تھے۔ وہ نوجوان تھا، تیز تھا، اور مغرور بھی۔ وہ بار بار فون کی سکرین آن کر کے بند کر رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہ میٹنگ وقت کا ضیاع ہے۔ وہ سوچ رہا تھا “زارون مرزا اتنا بڑا نام ہے، پر ابھی تک بولا کیوں نہیں؟”
میز پر پانچوں کے سامنے ایک جیسی موٹی فائلیں کھلی تھیں۔ ا
بورڈ روم میں دھوپ شیشے سے ٹوٹ کر مہوگنی کی میز پر پڑ رہی تھی۔ اے سی 18 ڈگری پر تھا لیکن کمرے کا درجہ حرارت پھر بھی بڑھ رہا تھا۔ وجہ میز کے گرد بیٹھے پانچ لوگوں کا پسینہ تھا۔
سب سے پہلے اقبال صاحب نے خاموشی توڑی۔ 58 سال کی عمر، 20 سال کا ساتھ۔ انہوں نے اپنی موٹی فریم والی عینک اتاری۔ رومال سے شیشے صاف کیے۔ ہاتھ تھوڑا کانپ رہا تھا۔ جب بولے تو آواز میں شکایت تھی، لیکن اس شکایت کے نیچے باپ والا درد بھی تھا۔
“زارون بیٹا…” انہوں نے کہا اور ایک لمحے کے لیے رکے۔ “معذرت۔ لیکن پچھلے مہینے سے فیصلے تھوڑے لیٹ ہو رہے ہیں۔ دبئی والی ٹیم روز دو بار کال کر رہی ہے۔ فائلیں تیار ہیں۔ سائن کے لیے آپ کا انتظار ہے۔”
ان کے لفظ ختم ہوتے ہی نائلہ بیگم سیدھی ہو کر بیٹھ گئیں۔ مرون سوٹ، بالوں کا سخت جوڑا، ہاتھ میں مہنگی قلم۔ وہ کمپنی کی سب سے سخت عورت مانی جاتی تھیں۔ آج ان کی آواز دھیمی تھی۔
“سر” انہوں نے کہا۔ “ایک اور بات ہے۔ مارکیٹ میں باتیں چل رہی ہیں۔ انویسٹرز پوچھ رہے ہیں۔ میڈیا بھی۔ کہ زارون صاحب… کیا وہ پہلے جیسے انوالو ہیں؟ یا اب دلچسپی کم ہو گئی ہے؟”
“دلچسپی کم”۔ یہ تین لفظ تھے۔ لیکن ان تین لفظوں نے پورے کمرے کی ہوا بھاری کر دی۔
خالد المنصوری نے اپنا تھوب کا آستین ٹھیک کیا۔ ریان نے فون سائیڈ پر رکھ دیا۔ دانش نے ٹانگ ہلانا بند کر دی۔ سب کی نظریں ایک ہی جگہ پر تھیں۔ میز کے ہیڈ پر۔
زارون مرزا۔
وہ اپنی کرسی پر بالکل سیدھا بیٹھا تھا۔ نیوی بلیو تھری پیس سوٹ۔ سفید شرٹ کے بٹن بند۔ کلائی پر وہی پرانی سلور گھڑی۔ چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ نہ غصہ، نہ مسکراہٹ۔ صرف تھکن تھی۔ وہ تھکن جو راتوں کی جاگ سے آتی ہے۔ اور اس تھکن کے نیچے ایک پہاڑ جتنی ذمہ داری۔
اس نے فوراً جواب نہیں دیا۔
وہ 5 سیکنڈ تک چپ رہا۔ ان 5 سیکنڈ میں اس نے اقبال صاحب کی کانپتی انگلیاں دیکھیں۔ نائلہ کے ماتھے کا پسینہ دیکھا۔ ریان کی بے چینی دیکھی۔
پھر بہت آہستگی سے اس نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور میز پر رکھ دیے۔ چمڑے پر جلد لگنے کی ہلکی “تھپ” کی آواز آئی۔
اس نے پہلے اقبال صاحب کی آنکھوں میں دیکھا۔
پھر نائلہ کی۔
پھر خالد اور ریان کی۔
آخر میں نظر شیشے کے پار شہر پر گئی۔ 32 منزلیں نیچے ایک شہر تھا جو اس کے نام سے سانس لیتا تھا۔
جب وہ بولا تو آواز دھیمی تھی۔ چیخ نہیں۔ دھمکی نہیں۔
صرف ایک تھکا ہوا آدمی کی آواز تھی جو سچ بول رہا تھا۔
“اقبال انکل” اس نے کہا۔ “آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ڈیل لیٹ ہوئی ہے۔”
اس نے سانس لی۔ “اور اس لیٹ ہونے کی ذمہ داری… میری ہے۔”
اقبال صاحب نے چونک کر سر اٹھایا۔ انہیں توقع ڈانٹ کی تھی۔ معافی کی نہیں۔
زارون نے آگے کہا: “میں نے جلدی نہیں کی۔ کیونکہ 200 ملین ڈالر میرے لیے صرف ایک نمبر نہیں ہے۔” اس نے فائل پر ہاتھ رکھا۔ “یہ نمبر 2000 گھروں کا چولہا ہے۔ یہ ان لوگوں کی نوکریاں ہیں جو صبح 9 بجے اس بلڈنگ میں آتے ہیں۔ یہ ہمارے باپ دادا کا نام ہے۔”
اس کی آواز میں اب سختی نہیں تھی۔ وزن تھا۔
“میں کوئی بھی سائن اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک میں خود بیٹھ کر ہر لائن، ہر شق، ہر رسک خود نہ پڑھ لوں۔ کیونکہ ایک غلط سائن سے کمپنی نہیں ڈوبتی… ہزاروں لوگ ڈوبتے ہیں۔”
کمرے میں سناٹا تھا۔ صرف اے سی کی آواز۔
پھر زارون نے نائلہ کی طرف دیکھا۔ 5 سال میں پہلی بار اس نے میٹنگ میں مسکرا کر دیکھا۔ وہ مسکراہٹ تھکی ہوئی تھی، لیکن سچی تھی۔
“اور رہی بات انوالو ہونے کی نائلہ…” اس نے کہا۔ “تو میں انوالو تھا۔ ہوں۔ اور ان شاءاللہ رہوں گا۔”
اس نے ایک لمحہ رکا۔ “بس طریقہ بدل گیا ہے۔ پہلے میں شور مچا کر فیصلے کرواتا تھا۔ اب میں ڈیٹا دیکھ کر فیصلے کرتا ہوں۔ کیونکہ شور سے بلڈنگیں کھڑی نہیں ہوتیں۔ بنیادیں کھڑی ہوتی ہیں۔”
آخری لفظ کے ساتھ ہی جیسے کمرے کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔
اقبال صاحب نے آہستہ سے سر جھکایا۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ “بیٹا… تم جیسا بہتر سمجھو۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔”
خالد المنصوری نے عزت سے سر ہلایا۔ “Mr. Zaroon, this is leadership.”
ریان نے بھی پہلی بار مغروریت اتار کر کہا: “Understood sir.”
زارون نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے بس آخر میں اپنی دائیں طرف دیکھا۔ روہی کی طرف۔
کوئی لفظ نہیں بولا۔ صرف 2 سیکنڈ کی نظر تھی۔
اور وہ 2 سیکنڈ روہی کے لیے 5 سال کے برابر تھے۔
روہی نے فوراً سر ہلایا۔ اس نے لیپ ٹاپ کھولا۔ سکرین آن کی۔ پروجیکٹر پر دبئی پروجیکٹ کے فگرز آ گئے۔ اسے پتہ تھا اب کیا کرنا ہے۔ پانچ سال کا بھروسہ یہی تھا۔
زارون نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگایا۔ تھکن ابھی تھی۔ لیکن اس تھکن کے ساتھ سکون بھی تھا۔ کیونکہ اس نے آج اپنے لوگوں کو سنبھال لیا تھا۔

روہی نے زارون کے آخری لفظ ختم ہوتے ہی فوراً لیپ ٹاپ کھول دیا اور بغیر کسی اشارے کے پروجیکشن سکرین پر دبئی پروجیکٹ کے تمام فگرز چلا دیے کیونکہ پانچ سال میں اسے یہی عادت پڑ گئی تھی کہ زارون بول کر رک جائے تو اگلا قدم اسی کا ہوتا ہے، زارون بولتا تھا اور روہی اس کے بولنے سے پہلے ہی آگے کا کام کر دیتی تھی۔ اگلے دس منٹ تک کمرے میں صرف زارون کی آواز گونجتی رہی اور وہ آواز کسی تقریر کی طرح نہیں تھی بلکہ ایک انجینئر کے حساب کی طرح تھی، نہ جذباتی جملہ نہ لمبی چوڑی بات، صرف نمبر، صرف فگر، صرف حقیقت۔ اس نے کہا لینڈ کی قیمت پچھلے کوارٹر میں بارہ فیصد بڑھی ہے لیکن ہم کنسٹرکشن کاسٹ آٹھ فیصد نیچے لا سکتے ہیں اگر لوکل میٹریل استعمال کریں اور لیبر کو فیز وائز لگائیں، اس نے کہا ریٹرن آن انویسٹمنٹ اگر ہم نارمل چلیں تو پانچ سال میں ہے لیکن اگر فیز ٹو چھ مہینے پہلے شروع کر دیں تو چار سال تین مہینے میں ریکور ہو جائے گا، اس نے کہا قانونی رسک صرف ایک ہے اور وہ دبئی میونسپل کا نیا رول ہے جسے ہم نے پہلے ہی فائل نمبر چونتیس میں کور کر لیا ہے۔ وہ بولتا رہا اور سکرین پر گراف بدلتے رہے اور میز کے دوسری طرف بیٹھے ہوئے اقبال صاحب، نائلہ بیگم، خالد المنصوری اور ریان الخوری سب چپ چاپ سنتے رہے کیونکہ اس دس منٹ میں انہیں سمجھ آ گیا تھا کہ زارون مرزا انوالو نہیں ہوا تھا بلکہ وہ پہلے سے دس قدم آگے تھا۔ آخر میں زارون نے فائل بند کی اور میز پر “ٹک” کی آواز آئی اور اس نے کہا دبئی والی ڈیل اگلے ہفتے فائنل ہوگی لیکن میری ایک شرط ہے اور شرط یہ ہے کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کی فائنل رپورٹ مجھے خود روہی کے تھرو ملے گی کسی اور کے تھرو نہیں۔ یہ لفظ اس نے روہی کی طرف دیکھے بغیر کہے لیکن کمرے میں بیٹھے ہر شخص نے اس لفظ کا مطلب سمجھ لیا، یہ کنٹرول نہیں تھا یہ بھروسہ تھا، یہ پانچ سال کا ٹرسٹ تھا جسے ایک لائن میں بول دیا گیا تھا۔ دو سیکنڈ کی خاموشی رہی پھر نائلہ بیگم نے سب سے پہلے سر ہلایا اور کہا جی سر ایسا ہی ہوگا، اس کے بعد اقبال صاحب نے کہا بیٹا جیسے تم بہتر سمجھو، خالد نے کہا noted اور ریان نے بھی سر ہلا دیا۔ میٹنگ ختم ہوئی کرسیاں پیچھے ہوئیں فائلیں بند ہوئیں اور سب ایک کر کے عزت سے سر جھکا کر باہر نکل گئے۔ روہی سب سے آخر میں اٹھی اس نے اپنا لیپ ٹاپ بیگ میں رکھا فائل کو سینے سے لگایا اور چپ چاپ زارون کے پیچھے چل دی جیسے وہ پانچ سال سے چلتی آ رہی تھی۔ زارون بورڈ روم کے دروازے تک پہنچ کر رکا اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا باہر کوریڈور کی مدھم روشنی اس کے نیوی بلیو سوٹ پر پڑ رہی تھی اس نے دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے اور بغیر پیچھے مڑے بہت دھیمی لیکن واضح آواز میں کہا شام سات بجے میرے آفس میں آنا اور وہ فائل لے کر آنا جس پر ریڈ اسٹیکر لگا ہے۔ ریڈ اسٹیکر والی فائل وہی تھی جو پچھلے تین دن سے روہی کی دراز میں بند تھی جس پر زارون نے خود اپنے ہاتھ سے TOP SECRET لکھا تھا۔ روہی نے ایک قدم آگے بڑھایا سر تھوڑا سا جھکایا اور صرف اتنا کہا جی سر۔ زارون نے جواب نہیں دیا وہ سیدھا کوریڈور کے موڑ سے مڑ کر اپنے آفس کی طرف چلا گیا اور روہی دروازے کے پاس کھڑی اس کی پرچھائی کو اس وقت تک دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔ اس کے ہاتھ میں فائل کا وزن تھا اور دل میں سو سوال تھے کہ سات بجے اکیلے آفس میں اور وہ بھی ریڈ اسٹیکر والی فائل لیکن اس نے ایک سوال بھی نہیں کیا کیونکہ وہ روہی تھی اور روہی سوال نہیں کرتی تھی وہ بس حکم مانتی تھی۔
____________________
لائبریری کا دروازہ دھکا دیتے ہی اندر خاموشی تھی۔ قندیل سیدھی کھڑکی والی میز پر بیٹھ گئی اور نوٹس کھول دیے۔ ارحمہ نے ایک لمحے کے لیے رک کر پورا ہال دیکھا۔ اس کی نظریں خود بخود کھڑکی سے باہر گراؤنڈ کی طرف چلی گئیں۔ وہی جگہ تھی جہاں کل سب کے سامنے بات بڑھ گئی تھی۔ اس کے قدم سست ہو گئے۔ آہد نے نوٹ کیا لیکن کچھ نہیں کہا بس اپنی فائل میز پر رکھ کر بیٹھ گیا۔ قندیل نے سرگوشی میں کہا چلو پڑھو۔ ٹیسٹ سر پر ہے۔ ارحمہ نے ہاں میں سر ہلایا اور کتاب کھول لی۔ دس منٹ بعد لائبریری کا دروازہ کھلا۔ وہی لڑکا اندر آیا جس سے کل گراؤنڈ میں بحث ہوئی تھی۔ ساتھ اس کے دو دوست بھی تھے۔ تینوں نے ارحمہ کو دیکھتے ہی ایک دوسرے کو دیکھا اور جان بوجھ کر ان کی میز کے پاس والی کرسیاں گھسیٹ کر بیٹھ گئے۔ کرسیوں کی چرچراہٹ سے پورا ہال ہل گیا۔ ایک نے اونچی آواز میں کہا یار یہاں پڑھائی نہیں ہوتی یہاں ڈرامے ہوتے ہیں۔ دوسرا ہنس دیا۔ قندیل نے فوراً قلم رکھا اور گھور کر دیکھا۔ ارحمہ نے نظریں جھکا لیں۔ آہد نے سر نہیں اٹھایا۔ وہ بس نوٹس پر لکھتا رہا لیکن اس کی لکھائی رک گئی تھی۔ دو منٹ کی خاموشی کے بعد لائبریرین مسز سدرہ آئیں۔ ان کے ہاتھ میں پرچی تھی۔ انہوں نے تینوں کو دیکھا اور بولیں ارحمہ تمہیں پرنسپل صاحب نے بلایا ہے۔ ابھی۔ قندیل کا چہرہ فوراً اتر گیا۔ ارحمہ نے کتاب بند کی۔ آہد نے بھی سر اٹھا لیا۔ مسز سدرہ نے کہا پانچ منٹ میں آفس پہنچو۔ بات سنجیدہ ہے۔ یہ کہہ کر وہ چلی گئیں۔ پیچھے سے وہ لڑکے ہلکا سا کھانسے۔ قندیل نے ارحمہ کا ہاتھ پکڑا اور بولی گھبراؤ مت میں ساتھ ہوں۔ ارحمہ نے ہلکا سر ہلایا۔ آہد کھڑا ہوا اور بولا میں باہر ویٹ کروں گا۔ تینوں باہر نکلے۔ راستے میں کوئی نہیں بولا۔ صرف ہوا کی آواز تھی۔ پرنسپل کا آفس دوسری بلڈنگ میں تھا۔ دروازے پر دستک دی۔ اندر سے آواز آئی اندر آ جاؤ۔ دروازہ کھلا تو سامنے پرنسپل صاحب بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے وہی لڑکا اور اس کا والد بیٹھے تھے۔ والد کا چہرہ غصے سے سرخ تھا۔ پرنسپل نے ارحمہ کو دیکھ کر کہا بیٹھو۔ ارحمہ بیٹھ گئی۔ قندیل اس کے پیچھے کھڑی رہی۔ آہد دروازے کے باہر رک گیا۔ پرنسپل نے فائل کھولی اور بولے کل گراؤنڈ میں جو ہوا اس کی شکایت آئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آپ نے سب کے سامنے ہاتھ اٹھایا۔ لڑکے کا والد فوراً بولا جی سر۔ ہماری عزت کا سوال ہے۔ اس لڑکی کو یونیورسٹی سے نکالا جائے۔ ارحمہ نے ایک گہری سانس لی۔ اس نے سر اٹھایا۔ آنکھوں میں ڈر نہیں تھا۔ آواز صاف تھی۔ اس نے کہا سر میں نے ہاتھ اٹھایا تھا کیونکہ پہلے میرے کردار پر بات آئی تھی۔ گراؤنڈ میں سب نے سنا تھا۔ اگر یہ غلط ہے تو میں مانتی ہوں۔ لیکن اصول سب کے لیے ایک ہونے چاہیے۔ کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ والد نے میز پر ہاتھ مارا۔ پرنسپل نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا۔ باہر آہد نے دروازے کی چوکھٹ کو زور سے پکڑ لیا۔ اب سب کی نظریں پرنسپل پر تھیں۔ فیصلہ ایک لفظ کا تھا۔
پرنسپل صاحب نے کچھ دیر تک سب کو خاموشی سے دیکھا۔ کمرے میں صرف دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔ لڑکے کا والد ابھی بھی غصے سے میز پر ہاتھ مارنے والا تھا کہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ انہوں نے پہلے ارحمہ کی طرف دیکھا۔ ارحمہ سیدھی بیٹھی تھی۔ کمر تنا ہوا تھا۔ آنکھوں میں پانی نہیں تھا۔ نہ ڈر تھا۔ صرف ایک تھکی ہوئی سنجیدگی تھی۔ پرنسپل نے پھر سامنے والے لڑکے کو دیکھا جو نظریں چرا رہا تھا۔ اور آخر میں اس کے والد کو دیکھا جن کے چہرے پر “عزت” کا غصہ تھا۔ پرنسپل نے قلم میز پر رکھا اور گہری سانس لی۔ انہوں نے کہا دیکھیں صاحب معاملہ یونیورسٹی کا ہے۔ یہاں سب سے پہلے تمیز اور ڈسپلن دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے فائل بند کی اور بولے کل گراؤنڈ میں جو ہوا وہ دونوں طرف سے غلط تھا۔ لفظوں سے بات شروع ہوئی اور ہاتھ پر ختم ہوئی۔ یہ یونیورسٹی ہے کوئی بازار نہیں۔ لڑکے کے والد فوراً بولے سر لیکن اس لڑکی نے ہاتھ اٹھایا۔ پرنسپل نے ان کی بات کاٹ دی اور کہا اور آپ کے بیٹے نے پہلے عزت پر بات کی۔ میرے پاس تین گواہوں کے بیان ہیں۔ سیکیورٹی نے بھی سب رپورٹ کر دیا ہے۔ گراؤنڈ میں آدھے سے زیادہ بچوں نے دیکھا تھا۔ اب بتائیں قصور کس کا ہے۔ والد ایک دم چپ ہو گئے۔ پرنسپل نے ارحمہ کی طرف دیکھا اور کہا بیٹا آپ نے جو کیا وہ غصے میں کیا۔ میں سمجھتا ہوں۔ لیکن یونیورسٹی کا اصول ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ہو سیدھا ایڈمن کے پاس لاؤ۔ ہاتھ نہیں اٹھے گا۔ سمجھیں۔ ارحمہ نے سر جھکا کر کہا جی سر۔ آئندہ نہیں ہوگا۔ پرنسپل نے سر ہلایا۔ اور تم۔ انہوں نے لڑکے کی طرف انگلی کی۔ تمہیں بھی وارننگ ہے۔ آئندہ کسی لڑکی سے اس لہجے میں بات کی تو سیدھا گھر بھیج دوں گا۔ لڑکے نے جلدی سے سر ہلا دیا۔ جی سر۔ پرنسپل نے والد کی طرف دیکھا اور بولے اور آپ سے گزارش ہے کہ بچوں کو تمیز سکھائیں۔ عزت ایک طرف سے نہیں مانگی جاتی۔ دونوں طرف سے دی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے فائل بند کر دی اور کھڑے ہو گئے۔ معاملہ یہیں ختم ہوتا ہے۔ دونوں کو وارننگ لیٹر ملے گا۔ فائل میں لگ جائے گا۔ آئندہ کوئی شکایت آئی تو کارروائی سخت ہوگی۔ اب آپ جا سکتے ہیں۔ لڑکے کا والد کچھ بولنا چاہتا تھا لیکن پرنسپل کی آنکھوں کی سختی دیکھ کر چپ کر گیا۔ وہ بیٹے کا بازو پکڑ کر باہر نکل گیا۔ دروازہ بند ہوتے ہی کمرے میں سکون آیا۔ پرنسپل نے ارحمہ کی طرف دیکھا اور لہجہ تھوڑا نرم کر کے بولے بیٹا تم اچھی طالبہ ہو۔ پڑھائی پر دھیان دو۔ ایسی چھوٹی باتوں میں وقت ضائع مت کرو۔ ارحمہ نے آہستہ سے کہا جی سر۔ شکریہ۔ قندیل جو اب تک سانس روکے کھڑی تھی اس نے بھی سر ہلایا۔ پرنسپل نے انہیں جانے کا اشارہ کیا۔ جیسے ہی وہ باہر نکلیں دروازے کے ساتھ دیوار کے سہارے آہد کھڑا تھا۔ اس نے اندر کی ساری بات سن لی تھی۔ ارحمہ نے اسے دیکھا تو ایک لمحے کے لیے نظریں ملیں۔ آہد نے کچھ نہیں کہا۔ بس ہلکا سر ہلایا جیسے کہہ رہا ہو ٹھیک ہے۔ قندیل نے فوراً لمبی سانس لی اور بولی شکر ہے جان چھوٹی۔ ارحمہ نے کچھ نہیں کہا۔ وہ بس آگے چل پڑی۔ گراؤنڈ کی طرف سے ہوا آ رہی تھی۔ کل والی جگہ اب خالی تھی۔ وہ تینوں لائبریری کی طرف واپس چل پڑے۔ راستے میں کوئی بڑی بات نہیں ہوئی۔ قندیل نے بس اتنا کہا چلو ٹیسٹ کی تیاری کرتے ہیں۔ ارحما اور قندیل ٹیسٹ کی تیاری کرنے لگی اور احد واپس سے اپنی جگہ پر جاکر بیٹھ کر کتاب پرھنے لگا
وارننگ کے بعد تینوں لائبریری سے باہر نکلے۔ Malaysia کی شام تھی۔ آسمان پر نارنجی اور ہلکا جامنی رنگ پھیلا ہوا تھا۔ ہوا میں ہلکی بارش کے بعد والی مٹی کی خوشبو تھی۔ قندیل نے گھڑی دیکھی اور لمبی سانس لی۔ شکر ہے آج جلدی نکل گئے ورنہ میری وین نکل جاتی۔ ارحمہ نے بیگ کندھے پر ٹھیک کیا اور سر ہلا دیا۔ آہد کے ہاتھ میں ایک موٹی reference book تھی۔ وہ سٹوڈنٹ نہیں تھا، بس ریسرچ کے لیے لائبریری آتا تھا۔ تینوں گیٹ کی طرف چل پڑے۔
راستے میں قندیل نے آہد کو اوپر سے نیچے دیکھا اور بولی اوئے آج کون سی کتاب اٹھا لائے ہو۔ وزن سے لگ رہا ہے جم کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آہد نے کتاب سینے سے لگا لی۔ یہ History کی ہے۔ تحقیق کے لیے۔ قندیل نے منہ بنایا تحقیق۔ ہر روز ایک نئی کتاب۔ کبھی پڑھ بھی لیتے ہو یا بس فوٹو کھنچوانے کے لیے لاتے ہو۔ آہد نے سنجیدگی سے کہا علم فوٹو سے نہیں دماغ سے آتا ہے۔ قندیل نے فوراً کہا اچھا۔ تو پھر یہ بتاؤ Malaysia کی سب سے لمبی سرنگ کون سی ہے۔ آہد ایک سیکنڈ رکا۔ پھر بولا SMART Tunnel۔ قندیل نے حیرت سے کہا اوہ۔ پتہ تھا۔ ارحمہ جو اب تک خاموش تھی ہلکا سا مسکرا دی۔ آہد نے اسے دیکھا اور کہا تم بتاؤ۔ Kuala Lumpur کا سب سے پرانا mall کون سا ہے۔ ارحمہ نے فوراً کہا Sogo۔ آہد نے سر ہلایا۔ شاباش۔ قندیل بیچ میں بولی واہ۔ دونوں ہی بہت ذہین بن رہے ہو۔ میں کیا کروں۔ آہد نے کہا تم curry puff کے بارے میں بتا دو۔ وہ تمہارا subject ہے۔ قندیل نے غصے سے اس کے بازو پر ہلکا مکا مارا بدتمیز۔ ارحمہ ہنس پڑی۔ آہد نے
ہاتھ اوپر کر کے کہا معافی۔ مذاق کر رہا تھا۔
تھوڑی دیر چلنے کے بعد قندیل نے کہا یار آج گرمی بہت تھی۔ AC بند ہو جائے تو یونیورسٹی جہنم لگتی ہے۔ آہد نے کہا ہاں۔ خاص کر لائبریری کی اوپر والی floor۔ ارحمہ نے کہا میں تو ہمیشہ کھڑکی والی جگہ بیٹھتی ہوں۔ ہوا آتی رہتی ہے۔ آہد نے کہا اچھی choice ہے۔ قندیل نے فوراً کہا دیکھو۔ اب یہ دونوں تعریفیں بھی کرنے لگ گئے۔ ارحمہ نے فوراً کہا میں نے کوئی تعریف نہیں کی۔ بس fact بتایا۔ آہد نے ہنستے ہوئے کہا ہاں fact۔ بہت اچھا fact۔
گیٹ قریب آ گیا۔ قندیل کی وین کھڑی تھی۔ ڈرائیور نے ہارن دیا۔ قندیل نے کہا اچھا میں چلی۔ تم دونوں کتابوں اور curry puff پر بحث کرتے رہو۔ یہ کہہ کر وہ ہنس کر وین میں بیٹھ گئی اور چلی گئی۔ اب گیٹ پر صرف ارحمہ اور آہد رہ گئے۔
آہد نے کتاب ٹھیک کی اور پوچھا تمہارا گھر۔ ارحمہ نے کہا Setapak۔ ابو لینے آ رہے ہیں۔ آہد نے سر ہلایا۔ اچھا۔ میں بھی اسی طرف جا رہا ہوں۔ چھوڑ دوں۔ ارحمہ نے فوراً کہا نہیں شکریہ۔ ابو نے کہا تھا ویٹ کروں۔ آہد نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر آسمان کی طرف دیکھ کر بولا آج موسم اچھا ہے۔ لیکن گرمی اور حبس بہت ہے۔ ارحمہ نے کہا ہاں۔ مجھے بارش کے بعد والی خوشبو پسند ہے۔ آہد نے کہا اسے petrichor کہتے ہیں۔ ارحمہ نے چونک کر کہا کیا۔ آہد نے مسکرا کر کہا petrichor۔ بارش کے بعد مٹی کی خوشبو۔ ارحمہ نے آہستہ سے لفظ دہرایا۔ petrichor۔ اچھا لفظ ہے۔ آہد نے کہا ہاں۔ کتابوں میں پڑھا تھا۔ ارحمہ نے کہا آپ بہت کتابیں پڑھتے ہیں۔ آہد نے کندھے اچکائے۔ عادت ہے۔ فارغ وقت میں اور کیا کروں۔ ارحمہ نے کہا میں بھی پڑھتی ہوں۔ لیکن ناول۔ آہد نے پوچھا کون سے۔ ارحمہ نے کہا عمیرہ احمد۔ نمرہ احمد۔ آہد نے سر ہلایا۔ اچھے لکھاری ہیں۔ ارحمہ نے ہلکا سر ہلایا۔ جی۔
اتنے میں ابو کی گاڑی آ گئی۔ ارحمہ نے کہا میں چلتی ہوں۔ آہد نے ہلکا سر ہلایا۔ ٹھیک ہے۔ خیال رکھنا۔ راستے میں دھیان سے جانا۔ ارحمہ نے کہا جی۔ شکریہ۔ آپ بھی۔ یہ کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ آہد وہیں کھڑا رہا۔ گاڑی کے جانے تک وہ کتاب کے کور پر انگلی پھیرتا رہا۔ پھر پلٹ کر بائیک کی طرف چلا گیا۔ شام کا رنگ اب گہرا نیلا ہو چکا تھا۔
–ارحمہ جب یونیورسٹی سے گھر واپس آئی تو تھکن سے اس کا برا حال تھا۔ پورے دن کی کلاسز اور سفر نے اسے نچوڑ کر رکھ دیا تھا۔
گھر کا مین دروازہ ابو نے کھولا۔ ارحمہ نے کندھے پر لٹکا بھاری بیگ سنبھالا اور ساتھ اندر داخل ہوئی۔ لاؤنج میں مکمل خاموشی تھی۔ اس کا بھائی ہارون اپنے کمرے میں موجود تھا، جبکہ امی کچن میں شام کے کھانے کی تیاریوں میں مصروف تھیں۔ ابو نے جوتے اتارے اور کہا بیٹا جاؤ فریش ہو جاؤ، میں بھی کپڑے بدلتا ہوں۔ ارحمہ نے ہاں میں سر ہلایا اور سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ کمرے میں آتے ہی اس نے بیگ بے پروائی سے بیڈ پر پھینکا اور سیدھی واش روم میں فریش ہونے چلی گئی۔
کچھ دیر بعد وہ واش روم سے باہر نکلی۔ اس نے لمبی قمیض اور کھلے پلازو کا آرام دہ لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے گھنے سیاہ بال جو اب تک جوڑے کی قید میں تھے، آزاد ہو کر اس کے کندھوں پر لہرا رہے تھے۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی۔ آئینے میں اپنا تھکا ہوا مگر پیارا سا چہرہ دیکھا، بالوں میں نفاست سے برش کیا اور پھر انہیں ایک ڈھیلے سے جوڑے میں باندھ کر کمرے سے باہر نکل آئی۔
اسی وقت ہارون بھی اپنے کمرے سے باہر نکلا۔ ارحمہ کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر شرارت چمکی اور وہ اونچی آواز میں بولا:
“آ گئی چپکلی!”
ارحمہ نے تپ کر اسے گھورا اور فوراً بولا:
“اگر میں چپکلی ہوں اور تم میرے بھائی ہو، تو تم خود بھی مگرمچھ ہوئے!”
ابھی ہارون کچھ جواب دیتا کہ کچن سے امی کی اونچی آواز آئی:
“ہاں ہاں! تم دونوں مل کر پورے گھر کو چڑیا گھر بنا دو! ہمیں کون سا جانور بنانے کا ارادہ ہے؟ ہم تو تم دونوں کے ماں باپ ہیں نا!”
امی کی بات سن کر ہارون زور سے ہنس پڑا:
“ارے ماما! آپ لوگ انسان ہی رہیں۔ جانور تو یہ ارحمہ ہے، اور وہ بھی بالکل جنگلی!”
ارحمہ سے اب برداشت نہ ہوا، اس نے آگے بڑھ کر ہارون کے سر پر ایک ہلکی سی چماٹ رسید کی۔
“تم ہو جنگلی!”
ہارون کہاں پیچھے ہٹنے والا تھا، اس نے بھی بدلے میں ارحمہ کے سر پر ہلکی سی چماٹ ماری۔ دونوں کی یہ نوک جھوک اور بھائی بہن والی شرارتیں کچھ دیر یوں ہی چلتی رہیں۔
اس کے بعد ارحمہ مسکراتی ہوئی کچن میں امی کے پاس چلی آئی تاکہ کھانا بنانے میں ان کی مدد کر سکے۔
اس نے شیلف سے پیاز اور چاقو اٹھایا اور بولی:
“ماما! آپ چکن فرائی کر لیں، تب تک میں یہ پیاز کاٹ دیتی ہوں۔”
“چلو اچھا ہے، ذرا جلدی ہاتھ چلاؤ، تمہار بابا کے آنے کا وقت ہو رہا ہے،” امی نے پیار سے کہا۔
ارحمہ پیاز کاٹنے لگی اور ساتھ امی سے یونیورسٹی کی باتیں شیئر کرنے لگی۔ دونوں ماں بیٹی کچن میں باتیں کر رہی تھیں کہ ہارون باہر سے تیار ہو کر کچن کے دروازے پر آیا۔
“ماما! میں اپنے دوست کے گھر جا رہا ہوں، combine study کرنے،” ہارون نے اطلاع دی۔
ارحمہ نے پیاز کاٹتے کاٹتے موڑ کر دیکھا اور شریر لہجے میں بولی:
“ہاں ہاں! پڑھائی کے نام پر بس گیمز ہی کھیلنا وہاں جا ک!”
ہارون نے اسے زبان چڑہائی:
“تم سے تو مطلب ہی نہیں ہے کچھ!”
اور امی کو خدا حافظ کہتا ہوا تیزی سے گھر سے باہر نکل گیا۔ ارحمہ اور اس کی امی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیں اور دوبارہ شام کے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئیں۔—
__________________

LAND EMPIRE SAFE HOUSE – رات 3:12 بجے

سیف ہاؤس کی خاموشی اب کانوں میں چبھنے لگی تھی۔ چھت سے لٹکی LED اسکرین پر کوالا لمپور کا نقشہ اب بھی جل رہا تھا اور اس پر بنے سفید نشان کسی زخم کی طرح لگ رہے تھے۔ میز کے سرے پر بیٹھا شخص تین گھنٹے سے ایک ہی پوزیشن میں تھا۔ کالی جیکٹ، کالے دستانے، اور چہرہ جان بوجھ کر اندھیرے میں۔ اس کے سامنے میز پر مرزا گروپ کی بیس سالہ سلطنت کا پورا نقشہ کھلا تھا۔ ہر لائن، ہر نام، ہر کمپنی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔
فیصل سامنے کھڑا پسینہ پونچھ رہا تھا حالانکہ کمرے کا درجہ حرارہ 18 پر تھا۔
“سر، ہم نے لیگل ریکارڈ، شپمنٹ لاگ، بینک ٹرانزیکشن، سب کچھ چھان مارا۔” فیصل کی آواز ریت جیسی خشک تھی۔ “مرزا گروپ کا ہر کاروبار کاغذوں میں پاک ہے۔ پورٹ کلانگ سے لے کر KLCC تک۔ ان کے پاس سیاستدان ہیں، پولیس میں اپنے لوگ ہیں، میڈیا ان کے ساتھ ہے۔ ہم اندر گھس ہی نہیں پا رہے۔”
میز والے نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کی نظریں اسکرین پر جمی تھیں۔ چند لمحے بعد اس نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
“اور؟”
فیصل نے گلا صاف کیا۔ “سر، ہم یہاں صرف سروے کرنے نہیں آئے تھے۔ LAND EMPIRE نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اس شہر کو سمجھنا ہے۔ لیکن اگر ہم ابھی کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے تو ہمیں کوئی سیریس ہی نہیں لے گا۔”
کمرے میں سناٹا اور گہرا ہو گیا۔ میز والا آہستہ سے اٹھا اور اسکرین کے قریب گیا۔ اس نے انگلی سے چو کٹ کے ایک چھوٹے گودام پر نشان لگایا۔ یہ جگہ مرزا گروپ کی مین بلڈنگ نہیں تھی۔ یہ ان کا ایک چھوٹا ڈسٹری بیوشن پوائنٹ تھا۔ کاغذوں پر الیکٹرانکس کا گودام، لیکن اندر کیش اور کچھ حساس فائلیں رکھتے تھے۔
“جنگ کا پہلا اصول کیا ہے؟” اس نے پیٹھ موڑ کر پوچھا۔
“صبر سر۔”
“نہیں۔” اس کی آواز میں برف تھی۔ “پہلا اصول پہچان ہے۔ جب تک دشمن کو یہ محسوس نہ ہو کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے، وہ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ اور جب تک وہ سنجیدہ نہیں ہوتا، وہ اپنی کمزوری نہیں دکھاتا۔ ہم تین ہفتے سے دیکھ رہے ہیں۔ اب انہیں محسوس کرانے کا وقت ہے کہ LAND EMPIRE صرف ایک نام نہیں ہے۔”
اس نے گھڑی دیکھی۔ رات کے 3:15 ہو رہے تھے۔
“آج رات۔”
کمرے میں سب کے سر ایک دم اٹھ گئے۔
“سر؟”
“آج رات۔ چو کٹ والا گودام۔ کوئی بڑا نقصان نہیں کرنا۔ کوئی خاتمے کی بات نہیں۔ بس ایک پیغام چھوڑنا ہے۔ کہ کوئی ہے جو اندھیرے میں بھی سانس لے رہا ہے۔ اور وہ یہ شہر سمجھنے آیا ہے۔”

رات 2:17 بجے – چو کٹ – مرزا گروپ کا گودام

گلی مکمل سنسان تھی۔
ایسی سنسان کہ ہوا کی سرسراہٹ بھی گونج رہی تھی۔ زرد اسٹریٹ لائٹ کا بلب ٹمٹما رہا تھا۔ اس کی روشنی سڑک پر گری تو ایسا لگا جیسے کسی نے گندہ پانی پھیلا دیا ہو۔ سڑک پر کوئی پرندہ تک نہیں تھا۔ کوئی کتا تک نہیں بھونک رہا تھا۔ جیسے شہر نے اس گلی کو رات کے لیے بند کر دیا ہو۔
گودام کے باہر لوہے کا گیٹ آدھا کھلا تھا۔ گیٹ کے ساتھ دو پلاسٹک کی کرسیاں۔ ان پر دو گارڈ بیٹھے تھے۔
پہلا گارڈ عمر 35۔ موٹا۔ شرٹ کے اوپر والے دو بٹن کھلے ہوئے۔ وہ سگریٹ سلگا رہا تھا۔ دھواں اوپر چھوڑ کر بولا “یار آج کا میچ دیکھا؟ رونالڈو نے کیا گول مارا۔”
دوسرا گارڈ دبلا، نوجوان۔ گھڑی بار دیکھ رہا تھا۔ “ہاں یار۔ لیکن ریفری نے پنالٹی نہیں دی۔ چور تھے سب۔”
دونوں ہنسے۔ سگریٹ کی راکھ فرش پر گری۔
اندر گودام میں AC کی ہلکی _گوں گوں_ کی آواز آ رہی تھی۔ فائلوں کے پلٹنے کی آواز۔ چار لوگ اندر تھے۔ دو کمپیوٹر پر۔ ایک چائے پی رہا تھا۔ ایک لاکر گن رہا تھا۔ سب نارمل تھا۔
گلی کے دوسرے کونے سے ایک سفید وین آہستہ سے نکلی۔
وین پرانی تھی۔ لیکن انجن بالکل خاموش۔ جیسے کسی نے آواز نکالنا ہی بند کر دی ہو۔ اس کی ہیڈ لائٹ بند تھیں۔ صرف پارکنگ لائٹ کی ہلکی روشنی۔ نمبر پلیٹ پر کیچڑ کا موٹا لیپ لگا ہوا تھا۔ جان بوجھ کر۔
وین گودام سے بیس میٹر پہلے رک گئی۔ بریک کی آواز نہیں آئی۔
دروازہ کھلا۔ _سرر_۔ بہت دھیما۔
اس میں سے تین سائے اترے۔
سب نے کالا لباس پہن رکھا تھا۔ سر سے پاؤں تک۔ کالے دستانے۔ کالے جوتے۔ چہرے پر کالے ماسک۔ صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ ٹھنڈی۔ خالی۔ ہاتھ میں سائلنسر لگی پستول۔ چمک بھی نہیں رہی تھی۔
ان کے قدموں کی آواز تک نہیں آ رہی تھی۔ وہ زمین پر نہیں چل رہے تھے۔ وہ زمین کے اوپر تیر رہے تھے۔
پہلا گارڈ ابھی سگریٹ کا لمبا کش لے ہی رہا تھا۔ دھواں اس کے پھیپھڑوں میں بھرا ہی تھا کہ…
_پے_۔
اتنی دھیمی آواز۔ جیسے ہوا کا غبارہ پھٹا ہو۔
پہلے گارڈ کے ماتھے کے عین درمیان میں ایک چھوٹا سوراخ بنا۔ آنکھیں پھٹ گئیں۔ سگریٹ ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گرا۔ _چٹ_۔ اور وہ کرسی سمیت پیچھے گرا۔ _دھڑام_۔ کرسی ٹوٹ گئی۔
دوسرے گارڈ نے بندوق اٹھانے کی کوش کی۔ اس کی انگلی ٹرگر کی طرف گئی ہی تھی کہ…
_پے_۔
دوسری گولی اس کے سینے میں اتر گئی۔ دل کے عین اوپر۔ وہ کرسی سے لڑھک کر فرش پر آیا۔ منہ سے خون کی جھاگ نکلی۔ آنکھیں چھت کو گھورنے لگیں۔
پورا واقعہ 2 سیکنڈ میں ہوا۔
اندر موجود چار لوگ ابھی سمجھ ہی نہیں پائے تھے۔ چائے والا کپ منہ تک لے جا ہی رہا تھا۔
_دھڑام_۔
دروازہ ایک لات سے ٹوٹا۔ لکڑی کے چھینٹے ہوا میں اڑے۔ اس کے ساتھ ہی دھواں اندر داخل ہوا۔ سفید دھواں۔ آنکھوں میں چبھنے والا۔
تین سائے اندر داخل ہوئے۔ کوئی آواز نہیں۔ کوئی بات نہیں۔
پہلے نے بائیں طرف والے کو پکڑا۔ گردن مروڑی۔ _کڑک_۔ دوسرا فرش پر۔
دوسرے نے کمپیوٹر والے کو میز سمیت دھکا دیا۔ _دھڑام_۔ مانیٹر ٹوٹ گیا۔ شیشہ ہوا میں اڑا۔
تیسرا سیدھا لاکر کی طرف گیا۔
*تیس سیکنڈ۔ بس تیس سیکنڈ۔*
میزیں الٹ دی گئیں۔ فائلیں ہوا میں اڑیں۔ کاغذ کترے کی طرح بکھر گئے۔
کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو نکالی گئی۔ فرش پر پٹخی گئی۔ _چٹاخ_۔ پلاسٹک اور لوہے کے ٹکڑے ہو گئے۔
لاکر توڑا گیا۔ اندر سے دو بیگ کیش نکالے گئے۔ موٹے۔ بھاری۔ بغیر گنے۔
سب سے آخر میں تیسرا سایہ دیوار کے پاس گیا۔ اس نے جیب سے سرخ اسپرے نکالا۔ _شششش_۔
دیوار پر تین حروف بنے۔ بڑے۔ موٹے۔ ٹپکتے ہوئے۔
_L.E_
اسپرے کی بو بارود کی بو میں مل گئی۔
کام ختم۔
وہ اتنی ہی خاموشی سے نکلے جتنی خاموشی سے آئے تھے۔ وین کا دروازہ بند ہوا۔ _سرر_۔ وین آہستہ سے پیچھے ہٹی۔ اور گلی کے موڑ سے مڑ کر غائب ہو گئی۔ جیسے تھی ہی نہیں۔
پیچھے رہ گیا صرف…
فرش پر خون۔ پھیلتا ہوا۔
ٹوٹی ہوئی کرسیاں۔
دھوئیں کی بو۔
بارود کی بو۔
اور دیوار پر وہ تین حروف جو ابھی بھی ٹپک رہے تھے۔ _L.E_
اور ایک سوال۔ جو اب اس رات کے بعد پورے شہر کی ہر گلی، ہر پولیس اسٹیشن، ہر میز پر گونجے گا۔
_L.E کون ہے؟_

اگلی صبح – مرزا گروپ ہیڈ آفس – 20واں فلور – 9:03 بجے
کوالا لمپور کی صبح دھوپ سے نہیں، ڈر سے جاگی تھی۔
شہر کے ہر اخبار کی پہلی شہ سرخی ایک ہی تھی۔ لال سیاہی سے چھپی ہوئی۔
“چو کٹ میں رات گئے فائرنگ۔ دو ہلاک۔ مرزا گروپ کے گودام میں توڑ پھوڑ۔ دیوار پر اسرار حروف L.E ملے۔”
ٹی وی پر اینکر ایک ہی کلپ بار چلا رہا تھا۔ پولیس کی بیریئر۔ گودام کے باہر سفید چاک۔ اور دیوار پر سرخ پینٹ سے لکھے تین حروف۔ _L.E_۔ جیسے کسی نے خون سے لکھے ہوں۔
ہیڈ آفس کی 20ویں منزل۔ شیشے کی دیوار کے پیچھے شہر پاؤں میں تھا۔ ٹریفک، بلڈنگز، لوگ۔ سب چیونٹیوں جیسے لگ رہے تھے۔
اور اس شیشے کے سامنے ایک بڑا آدمی کھڑا تھا۔
سفید شیروانی۔ بغیر ایک شکن کے۔ گلے میں موتیوں کی تسبیح۔ ہاتھ میں چینی کا بنا باریک چائے کا کپ۔ جس سے بھاپ نہیں اٹھ رہی تھی۔ بیس سال۔ بیس سال سے اس نے اس شہر پر حکومت کی تھی۔ بغیر تاج کے۔ بغیر کرسی کے۔ صرف نام سے۔
اس کے سامنے پولیس کمشنر بھی کھڑا ہو کر بات کرتا تھا۔ وزیر بھی دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آتا تھا۔ کوئی آنکھ اٹھا کر بات نہیں کرتا تھا۔
دروازہ کھلا۔ _ٹک_۔
سیکرٹری اندر آیا۔ عمر 40۔ لیکن آج 60 لگ رہا تھا۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے۔ ہاتھ میں فائل کانپ رہی تھی۔
“سر…” اس کی آواز گلے میں اٹک رہی تھی۔ “رات… رات گودام پر حملہ ہوا ہے۔”
بڑے آدمی نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ وہ باہر ہی دیکھتا رہا۔
“اور؟” آواز اتنی دھیمی تھی کہ AC کی سرسراہٹ میں دب گئی۔
“دو… دو ہمارے آدمی۔” سیکرٹری نے ڈھونک نگلا۔ “اور دیوار پر… دیوار پر L.E لکھا ہوا ملا ہے سر۔ سرخ رنگ سے۔”
بڑے آدمی نے چائے کا گھونٹ لیا۔ بہت آہستہ۔ چینی کے کپ سے چائے کی آواز تک نہیں آئی۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں آیا۔ نہ غصہ۔ نہ حیرت۔ نہ دکھ۔
صرف کھڑکی کے شیشے پر اس کی آنکھوں کا عکس تھا۔ اور وہ عکس اب بدل رہا تھا۔
“L.E؟” اس نے لفظ دہرایا۔ جیسے کوئی نیا ذائقہ چکھ رہا ہو۔ زبان پر گھمایا۔ “ایل۔ ای۔”
“جی سر۔”
وہ بولا۔ آواز اب بھی پرسکون تھی۔ لیکن اس پرسکونی کے نیچے برف تھی۔
“بیس سال ہو گئے۔”
اس نے شیشے پر انگلی رکھی۔ دور پٹروناس ٹاور کی سنہری چوٹیاں دھوپ میں اندھی کر رہی تھیں۔
“بیس سال میں اس شہر میں کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ میرے کسی آدمی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے بھی۔”
اس نے انگلی گھمائی۔
“اور اب کوئی آ کر میرے گودام کی دیوار پر اپنا نام لکھ کر چلا گیا ہے۔ جیسے کتا علاقہ پیشاب کر کے نشان لگاتا ہے۔”
اس نے کپ میز پر رکھا۔ _کھنک_ کی ہلکی سی آواز آئی۔ لیکن وہ آواز پورے کمرے میں گونجی۔
اس نے پلٹ کر سیکرٹری کو دیکھا۔ پہلی بار۔
اور اس ایک نظر میں سیکرٹری کے گھٹنے کانپ گئے۔
اس کی آنکھوں میں اب وہ ٹھنڈک تھی۔ وہی ٹھنڈک جو شیر کی آنکھوں میں تب آتی ہے جب وہ شکار کو دور سے دیکھ لیتا ہے۔ اور فیصلہ کر لیتا ہے کہ گردن کہاں سے توڑنی ہے۔
“اچھا ہے۔” وہ بولا۔ ہونٹوں کے کونے ذرا سے اوپر ہوئے۔
“بہت بور ہو گیا تھا۔”
اس نے تسبیح کے دانے گھمائے۔ _کھڑک… کھڑک…_
“پتہ کرو۔” اس نے حکم دیا۔ “یہ L.E کون ہے۔ یہ کہاں سے آئے ہیں۔ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے۔ کتنے آدمی ہیں۔ اور سب سے اہم…”
اس نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
“یہ کیا چاہتے ہیں۔”
سیکرٹری نے سر جھکا دیا۔ “جی سر۔”
بڑے آدمی نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ شہر اب بھی نارمل لگ رہا تھا۔
“اور پھر…” اس نے آخری لفظ چبایا۔
“انہیں بہت عزت سے بتاؤ۔ کہ مرزا گروپ کی دیوار پر ہاتھ لگانے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔”
اس نے سانس لی۔
“مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب دیوار نہیں گرے گی۔ اب پوری عمارت گرے گی۔ اور اس کے ملبے میں… ان کا نام دفن ہو جائے گا۔”
کمرے میں خاموشی۔
باہر شہر دھوپ میں چمک رہا تھا۔
اور اندر… 20ویں منزل پر… بیس سال کی بادشاہت نے پہلی بار کسی کو للکارا محسوس کیا تھا۔
—–
LAND EMPIRE SAFE HOUSE – (done)

اسکرین پر وہی خبر چل رہی تھی۔ لال رنگ کی پٹی۔ “بریکنگ نیوز”۔
اینکر کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ خشک۔ پروفیشنل۔ لیکن اس آواز کے پیچھے ڈر چھپا ہوا تھا۔
“پولیس کے مطابق یہ کسی نئے گروپ کی کارروائی لگتی ہے۔ ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ شہر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ گھروں میں رہیں۔”
اسکرین پر پورٹ کی فوٹیج چل رہی تھی۔ دھواں۔ ٹوٹی ہوئی کرینیں۔ پولیس کی گاڑیاں۔ اور دور، سائے میں کھڑے کچھ لوگ۔ جن کے چہرے دھندلے تھے۔
میز کے گرد کھڑے تمام لوگ خاموش تھے۔ سانس کی آواز بھی نہیں۔ 8 لوگ۔ سب کالے سوٹ میں۔ سب کے ہاتھ پیٹھ کے پیچھے۔ سب کی آنکھیں اسکرین پر۔ لیکن دل میز کے سرے پر کھڑے آدمی پر تھے۔
فیصل۔ سب سے چھوٹا۔ لیکن سب سے تیز۔ اس نے گلہ صاف کیا۔ آواز دبا کر بولی۔
“سر… پہلا قدم ہو گیا۔”
اس کے لفظ ہوا میں لٹک گئے۔ جیسے اجازت مانگ رہے ہوں۔
میز والا ابھی تک کھڑکی کی طرف منہ کر کے کھڑا تھا۔ اس نے ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے۔ سفید قمیض۔ آستینیں کہنیوں تک فولڈ۔ باہر شہر جاگ چکا تھا۔ دھوپ نکل آئی تھی۔ ٹریفک۔ لوگ۔ اسکول کی بسیں۔ کافی شاپس کھل رہی تھیں۔ سب نارمل لگ رہا تھا۔ جیسے رات کو کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اس نے بغیر پلٹے سر ہلایا۔
“یہ حملہ نہیں تھا فیصل۔”
آواز پرسکون تھی۔ بہت زیادہ پرسکون۔ جیسے طوفان سے پہلے سمندر۔
“یہ تعارف تھا۔”
وہ آہستہ سے پلٹا۔ اس کی آنکھیں تھکی ہوئی نہیں تھیں۔ وہ جاگ رہی تھیں۔ شکار کی طرح۔
“ہم اس شہر میں شور مچانے نہیں آئے۔” اس نے کہا۔ ایک لفظ چن کر۔
“ہم اس شہر کو سمجھنے آئے ہیں۔”
اس نے قدم آگے بڑھایا۔ میز کے گرد چکر لگانے لگا۔
“کہ یہ شہر کس کی انگلی پر ناچتا ہے۔ کس کے نام سے کانپتا ہے۔ اور کہاں جا کر جھک جاتا ہے۔”
وہ رکا۔ سب کے چہروں کو ایک کر کے دیکھا۔
“تعارف ہمیشہ ایک دستک سے شروع ہوتا ہے۔ زور کی دستک۔ تاکہ اندر والا دروازہ کھولے۔ اور جب وہ دروازہ کھولے گا…”
اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔ وہ مسکراہٹ نہیں تھی۔ وہ وعدہ تھا۔
“تو ہم اندر گھس کر پوچھیں گے کہ چابی کہاں ہے۔”
کمرے میں خاموشی۔ لیکن اب وہ خاموشی ڈر کی نہیں تھی۔ وہ سمجھ کی خاموشی تھی۔
اس نے ریموٹ اٹھایا۔ _کلک_۔ اسکرین بند۔
کمرے میں اندھیرا چھا گیا۔ صرف کھڑکی سے آتی دھوپ کی ایک لکیر فرش پر پڑی تھی۔ اس لکیر میں گرد کے ذرے ناچ رہے تھے۔
اس اندھیرے میں اس نے آخری جملہ کہا۔ سرگوشی میں۔ لیکن وہ سرگوشی 8 دلوں میں چیخ بن کر اتری۔
“اور اب… اب ایک سوال جل چکا ہے۔”
اس نے انگلی سے ہوا میں سوال کا نشان بنایا۔
“کہ L.E کون ہے؟”
اس نے ہاتھ نیچے کیا۔
“اور اس سوال کا جواب… مرزا گروپ کو دینا ہوگا۔ ورنہ ہم دیں گے۔”
دھوپ کی لکیر میں اس کا سایہ لمبا ہو کر دیوار تک جا رہا تھا۔
اور اس سائے کے پیچھے… پورا شہر۔

Episode 4
MIRZA MANSION – رات 3:45 بجے
کمرے میں وہسکی کے گلاس سے اٹھتی برف کی خوشبو اب بھی تھی۔ مرزا کھڑکی کے پاس سے ہٹ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ چمڑے کی کرسی۔ جس پر بیٹھنے سے پہلے دنیا کے بڑے بڑے لوگ اجازت مانگتے تھے۔ سامنے میز پر 3 اسکرینز تھیں۔ ایک پر پورٹ کلانگ کی لائیو فیڈ، دوسری پر شہر کے 12 اہم چوراہوں کے کیمرے، تیسری پر اس کے اپنے لوگوں کی لوکیشن۔ ہر نقطہ ہل رہا تھا۔ ہر نقطہ اسے رپورٹ کر رہا تھا۔
دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ اس بار تیز۔ گھبرائی ہوئی۔
“اندر آؤ” اس کی آواز میں کوئی جلدی نہیں تھی۔
سلیم اندر آیا۔ مرزا گروپ کا سکیورٹی سربراہ۔ 20 سال سے اس کے ساتھ۔ لیکن آج اس کی وردی پر پسینہ تھا۔ پیشانی پر لکیر۔ اس نے سر جھکایا۔
“باس… مسئلہ ہے۔”
مرزا نے گلاس ہاتھ میں لیا۔ گھونٹ لیا۔
“مسئلہ؟”
“جی۔ دو مسئلے۔” سلیم نے سانس لی۔ “پہلا… ہمیں ان کا ٹھکانہ مل گیا تھا۔ پرانا گودام۔ انڈسٹریل ایریا۔ ہم نے گھیر لیا۔ لیکن جب اندر گئے… خالی تھا۔ کافی ابھی گرم تھی۔ کمپیوٹر ابھی آن تھے۔ وہ 2 منٹ پہلے نکلے ہیں۔ کوئی اندر سے اطلاع دے گیا۔
مرزا کی پلک تک نہیں پھڑکی۔ وہ اسکرین دیکھتا رہا۔
“اور دوسرا؟”
سلیم نے سر جھکا لیا۔ اس کی آواز بھاری ہو گئی۔
“دوسرا… وقار صاحب۔”
اس ایک نام پر کمرے کی ہوا رک گئی۔
مرزا نے آہستہ سے گلاس میز پر رکھا۔ ٹک کی آواز ہوئی۔
“وقار کو کیا ہوا؟”
“سر… ان کے فلیٹ سے میسج آیا ہے۔ ان کے گارڈز بے ہوش ملے۔ وقار صاحب… غائب ہیں۔ اور میز پر یہ پڑا تھا۔” سلیم نے فون آگے بڑھایا۔ اسکرین پر تصویر تھی۔ وقار۔ ہاتھ بندھے۔ منہ پر ٹیپ۔ اور نیچے سرخ مارکر سے لکھا تھا۔ _L.E_
کمرے میں 10 سیکنڈ تک کوئی آواز نہیں آئی۔ صرف باہر شہر کی دور ہارن کی آواز۔ مرزا نے تصویر کو 3 سیکنڈ دیکھا۔ پھر فون واپس کر دیا۔ اس کے چہرے پر نہ غصہ تھا، نہ چیخ۔ صرف وہی پرسکونی جو طوفان سے پہلے ہوتی ہے۔
“تو…” وہ آہستہ بولا۔ “انہوں نے دو کام ایک ساتھ کیے۔ ایک ہمارا گھونسلا خالی کر دیا۔ دوسرا میرے دائیں ہاتھ کو اٹھا لیا۔”
اس نے آنکھیں بند کیں۔ 32 سال کی عمر۔ لیکن اس لمحے لگ رہا تھا جیسے 60 سال کا بوڑھا بیٹھا ہو۔
“اچھا کھیل رہے ہیں۔ پہلے گودام پر دستک۔ اب میرے آدمی پر ہاتھ۔ لگتا ہے انہیں لگتا ہے یہ شہر ان کے باپ کا ہے۔
اس نے اٹھ کر دوبارہ کھڑکی کے پاس جا کر کھڑے ہو گیا۔ نیچے شہر سو رہا تھا۔ اسے نہیں پتہ تھا کہ اس شہر کا بادشاہ آج رات جاگ گیا ہے۔
“سنو سلیم۔” اس کی آواز ابھی بھی دھیمی تھی۔ لیکن اس میں لوہا تھا۔ “اب تک ہم دیکھ رہے تھے۔ اب دیکھنا بند۔”
اس نے پلٹ کر سلیم کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ سیاہی تھی جو 12 سال کی عمر میں اس نے کسی اپنے کی لاش کے پاس دیکھی تھی۔
“تین حکم ہیں۔ پہلا۔ شہر کی ہر CCTV فوٹیج۔ پچھلے 48 گھنٹے کی۔ مجھے وہ دو چہرے چاہییں جو وقار کے فلیٹ میں گئے تھے۔ دوسرا۔ ہر اسپتال، ہر کلینک، ہر فارمیسی چیک کرو۔ اگر انہوں نے وقار کو زندہ رکھا ہے تو سانس لینے کے لیے آکسیجن تو چاہیے ہوگی۔ تیسرا۔” وہ رکا۔ “پورٹ کھول دو۔”
سلیم چونک گیا۔ “سر؟ لیکن…”
“کھول دو۔” مرزا نے درمیان میں کاٹا۔ “جب تک پورٹ بند رہے گا یہ سمجھیں گے ہم ڈر گئے۔ میں نہیں چاہتا یہ ڈرے ہوئے کتے سے لڑیں۔ میں چاہتا ہوں یہ اس شیر سے لڑیں جو پنجہ مارنے سے پہلے مسکراتا ہے۔
وہ چل کر میز پر آیا۔ کرسٹل کی بوتل سے پھر وہسکی ڈالی۔
“20 سال۔” اس نے گھونٹ لیا۔ “20 سال سے میں نے اس شہر کو اپنے ہاتھ سے پالا ہے۔ روٹی بھی میں نے دی۔ ڈر بھی میں نے دیا۔ اور اب کوئی آ کر دیوار پر اپنا نام لکھ کر چلا جائے؟
اس نے سلیم کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ انگلیاں کس دیں۔
“تم جانتے ہو میں شکار کیسے کرتا ہوں۔ میں چیختا نہیں۔ میں جال بچھاتا ہوں۔ اور پھر بیٹھ کر تماشا دیکھتا ہوں کہ شکار خود اپنے پاؤں سے پھندے میں آتا ہے۔
اس نے شیشے سے باہر دیکھا۔ دور پٹروناس کی روشنیاں۔
“L.E… تم نے وقار کو چھیڑا ہے۔ یہ غلطی نہیں تھی۔ یہ دعوت تھی۔ اور دعوت کا جواب… خون سے دیا جاتا ہے۔
اس نے گلاس خالی کیا۔
“جاؤ۔ اور یاد رکھو۔ اگلی رپورٹ جب آئے تو اس میں یا تو وقار ہو… یا L.E والے کفن میں لپٹے ہوئے ہوں۔
سلیم نے سر جھکایا اور باہر نکل گیا۔ دروازہ بند ہوا۔ کلک۔
کمرے میں پھر وہ اکیلا رہ گیا۔ اس نے موبائل نکالا۔ اسکرین پر وقار کی تصویر ابھی بھی تھی۔ 20 سال کا ساتھ۔ اس نے انگوٹھے سے اسکرین بند کر دی۔
“تم نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔” وہ سرگوشی میں بولا۔ “اب میں دیوار گرا دوں گا۔”

باہر کوالا لمپور کی رات اب بھی پرسکون تھی۔ لیکن مرزا مینشن کی سب سے اوپر والی منزل پر… ایک سلطنت نے فیصلہ کر لیا تھا۔ اب کوئی سایہ نہیں۔ اب کوئی انتظار نہیں۔ اب صرف حساب۔
_________________________
صبح 9 بجے ارحمہ کی آنکھ کھلی۔
دھوپ کھڑکی کے باریک پردے چیرتی ہوئی سیدھی بستر پر پڑ رہی تھی۔ کمرے میں ہلکی خاموشی تھی۔ پنکھا آہستہ آہستہ گھوم رہا تھا اور باہر سے چڑیوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔
اس نے کسمسا کر آنکھیں ملین۔ آج چھٹی تھی۔ نہ کلاس تھی نہ کوئی ٹینشن۔
کمبل ایک طرف کیا۔ پاؤں زمین پر رکھے تو فرش کی ٹھنڈک نے قدموں کو چھو لیا۔
واش روم میں جا کر ٹھنڈے پانی سے منہ دھویا۔ آئینے میں دیکھا تو نیند ابھی آنکھوں میں باقی تھی۔ بالوں کو انگلیوں سے سلجھایا۔ الماری سے ہلکے گلابی رنگ کا سادہ کرتا نکالا۔ ساتھ سفید پلازو۔ دوپٹہ کاندھے پر ڈال کر ایک بار خود کو دیکھا اور نیچے آ گئی۔
کچن سے پراٹھے اور چائے کی خوشبو آ رہی تھی۔
امی ٹیبل پر ناشتہ لگا رہی تھیں۔
ارحمہ کرسی کھینچ کر بیٹھی۔ “السلام علیکم ماما”
“وعلیکم السلام بیٹا” امی نے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا۔ “آج تو چھٹی ہے نا تمہاری؟”
“جی ماما” ارحمہ نے روٹی کا نوالہ توڑا۔
امی برتن سمیٹتے ہوئے بولیں “اچھا سنو۔ تمہیں
بھی تو اپنا کچھ یونی کا سامان لینا تھا نا؟ وہ بھی لے آنا۔ ابا کو تو ٹائم مل نہیں رہا مارکیٹ جانے کا۔ اس لیے تم ہی لے آؤ۔ اگر آج تمہاری چھٹی ہے تو تو صحیح ہے”
ارحمہ نے سر ہلایا۔ “جی ماما۔ اور کیا کیا لانا ہے؟”
“دھنیا ختم ہے، لیموں بھی نہیں ہیں۔ اور تمہارے نوٹس کی شیٹس بھی لے آنا۔ وہ بھی ختم ہیں”
“ٹھیک ہے” کہہ کر ارحمہ نے چائے کا آخری گھونٹ لیا۔
ناشتے کے بعد وہ کمرے میں گئی۔
پرس کھول کر اس میں موبائل رکھا۔ کچھ پیسے ڈالے۔ چھوٹی سی ڈائری بھی رکھ لی۔
بالوں کا ڈھیلا جوڑا بنایا۔ دوپٹہ ٹھیک کیا۔
نیچے آئی۔ دروازے کے پاس سے جوتے پہنے۔
ٹیبل پر رکھا پرس اٹھایا۔
اور گھر سے نکل گئی۔
گلی کے نکڑ پر ایک پیلا رکشہ کھڑا تھا۔ رکشے والے نے ارحمہ کو دیکھتے ہی آواز دی۔
“آپی Setapak مارکیٹ جائیں گی؟”
ارحمہ نے آس پاس دیکھا۔ دھوپ ابھی تیز نہیں ہوئی تھی۔ “ہاں چلیں” کہہ کر وہ پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
رکشہ ہلکا سا جھٹکا لے کر چل پڑا۔
گلی کے دونوں طرف قطار میں گھر تھے۔ کچھ گھروں کے باہر چھوٹے چھوٹے باغیچے بنے تھے۔ سرخ اور سفید پھولوں کی بیلیں دیواروں پر چڑھی ہوئی تھیں۔
سڑکیں بہت صاف تھیں۔ کہیں کچرا نہیں تھا۔ ہر 10 قدم بعد ایک درخت۔ درختوں کے پتے ہوا سے سرسرا رہے تھے۔ ہلکی ٹھنڈی ہوا چہرے سے ٹکرا رہی تھی۔
راستے میں اسکول کے بچے یونیفارم پہن کر جا رہے تھے۔ کچھ لوگ سائیکل پر، کچھ واک کرتے ہوئے۔
Malaysia کی صبح میں ایک عجیب سکون تھا۔ شور نہیں تھا۔ بس رکشے کی آواز اور پرندوں کی چہچہاہٹ۔
ارحمہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ کبھی دکانوں کو، کبھی گزرتے لوگوں کو۔
10 منٹ بعد بڑی سڑک آ گئی۔ ٹریفک ہلکی تھی۔ سگنل پر رکشہ 1 منٹ رکا۔ سامنے ایک کیفے تھا۔ شیشے کے پیچھے تازہ بریڈ اور کیک رکھے تھے۔
پھر رکشہ مڑا اور 5 منٹ میں مارکیٹ کے گیٹ پر آ کر رک گیا۔
“آ گئی آپی۔ 8 رنگٹ”
ارحمہ نے پیسے دیے اور نیچے اتر گئی۔
15 منٹ میں مارکیٹ آ گئی تھی۔
گیٹ سے اندر قدم رکھتے ہی فرش کی چمک آنکھوں کو لگی۔ Malaysia کی مارکیٹ بہت صاف ستھری تھی۔ فرش پر پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ چھت پر بڑے بڑے پنکھے چل رہے تھے۔
ہر طرف رنگ ہی رنگ تھے۔
ایک طرف ٹوکریوں میں سرخ سیب، نارنجی، کیلے، انگور سجے تھے۔ دوسری طرف ہری سبزیاں۔ پالک، دھنیا، مرچ، گاجر۔ سب اتنی تازہ لگ رہی تھیں جیسے ابھی کھیت سے توڑ کر لائی ہوں۔
کونے میں پھولوں کی دکانیں تھیں۔ گلاب، گیندا، ٹیولپ۔ ہوا میں ان کی خوشبو اور ساتھ میں بیکری سے آتی تازہ بریڈ کی مہک گھل مل گئی تھی۔
لوگ اپنی دھن میں تھے۔ کوئی سودا کر رہا تھا، کوئی فون پر بات کر رہا تھا۔
ارحمہ نے گہری سانس لی۔ مارکیٹ کی ٹھنڈک اور خوشبو نے صبح کے سکون کو اور بڑھا دیا۔
—ارحمہ نے اسٹیشنری سے 2 پیکٹ A4 شیٹس لیں۔ پھر سبزی والے سے دھنیا اور لیموں کا شاپر لیا۔
سودا بیگ میں رکھ کر وہ آگے بڑھی تو بک سٹال کے پاس رک گئی۔
ٹیبل پر کتابیں رکھی تھیں۔ وہ ایک ناول کا کور دیکھ ہی رہی تھی کہ پیچھے سے آواز آئی۔
“ارحمہ؟”
ارحمہ چونک کر پلٹی۔
آہد کھڑا تھا۔
ہاتھ میں کپڑے کا ہلکا نیلا تھیلا۔ اس میں بریڈ کا پیکٹ اور پانی کی بوتل۔ دوسرے ہاتھ میں ایک موٹی سی کتاب۔ سفید شرٹ۔
ارحمہ نے آنکھیں تھوڑی بڑی کر کے دیکھا۔ “تم یہاں؟”
آہد نے کتاب کو ہلایا۔ “بس آیا تھا”
ارحمہ نے کتاب پر نظر ڈالی۔ “اتنی موٹی کتاب؟ تم پڑھتے بھی ہو یا بس وزن اٹھانے کے لیے لیتے ہو؟”
لہجے میں ہلکا سا طنز تھا۔
آہد نے فوراً جواب دیا “وزن اٹھانا ہوتا تو جیم جاتا۔ کتاب اس لیے ہے کہ پڑھوں”
“اچھا؟” ارحمہ نے ایک بھنویں اٹھائی۔ “پھر بتاؤ پہلے صفحے پر کیا لکھا ہے؟”
آہد نے کتاب کھول کر دیکھی۔ “صبر کرو”
ارحمہ ہنس دی۔ “ہاں ہاں، پڑھنے کا ٹائم ہی نہیں ہوگا تمہارے پاس”
آہد نے کتاب بند کی۔ “تم سے بحث کرنی ہو تو الگ بات ہے۔ ورنہ ٹائم بہت ہے میرے پاس”
ارحمہ نے شاپر ٹھیک کیا۔ “چلو ٹھیک ہے۔ جیت گئی میں”
“کبھی نہیں” آہد نے کہا اور قدم آگے بڑھا دیے۔
2 قدم جا کر رکا۔ پیچھے مڑ کر بولا “اور ہاں۔ ہار مان لینا سیکھ لو کبھی”
ارحمہ نے فوراً جواب دیا “تم پہلے سیکھو”
آہد ہنس دیا اور آگے چلا گیا۔
ارحمہ نے بھی بیگ اٹھایا اور مسکراتے ہوئے دوسری طرف مڑ گئی۔

ارحمہ نے اسٹیشنری سے 2 پیکٹ A4 شیٹس لیں۔ پھر سبزی والے سے دھنیا اور لیموں کا شاپر لیا۔
سودا بیگ میں رکھ کر وہ آگے بڑھی تو بک سٹال کے پاس رک گئی۔
ٹیبل پر کتابیں رکھی تھیں۔ وہ ایک ناول کا کور دیکھ ہی رہی تھی کہ پیچھے سے آواز آئی۔
“ارحمہ؟”
ارحمہ چونک کر پلٹی۔
آہد کھڑا تھا۔
ہاتھ میں کپڑے کا ہلکا نیلا تھیلا۔ اس میں بریڈ کا پیکٹ اور پانی کی بوتل۔ دوسرے ہاتھ میں ایک موٹی سی کتاب۔ سفید شرٹ۔
ارحمہ نے آنکھیں تھوڑی بڑی کر کے دیکھا۔ “تم یہاں؟”
آہد نے کتاب کو ہلایا۔ “بس آیا تھا”
ارحمہ نے کتاب پر نظر ڈالی۔ “اتنی موٹی کتاب؟ تم پڑھتے بھی ہو یا بس وزن اٹھانے کے لیے لیتے ہو؟”
لہجے میں ہلکا سا طنز تھا۔
آہد نے فوراً جواب دیا “وزن اٹھانا ہوتا تو جیم جاتا۔ کتاب اس لیے ہے کہ پڑھوں”
“اچھا؟” ارحمہ نے ایک بھنویں اٹھائی۔ “پھر بتاؤ پہلے صفحے پر کیا لکھا ہے؟”
آہد نے کتاب کھول کر دیکھی۔ “صبر کرو”
ارحمہ ہنس دی۔ “ہاں ہاں، پڑھنے کا ٹائم ہی نہیں ہوگا تمہارے پاس”
آہد نے کتاب بند کی۔ “تم سے بحث کرنی ہو تو الگ بات ہے۔ ورنہ ٹائم بہت ہے میرے پاس”
ارحمہ نے شاپر ٹھیک کیا۔ “چلو ٹھیک ہے۔ جیت گئی میں”
“کبھی نہیں” آہد نے کہا اور قدم آگے بڑھا دیے۔
2 قدم جا کر رکا۔ پیچھے مڑ کر بولا “اور ہاں۔ ہار مان لینا سیکھ لو کبھی”
ارحمہ نے فوراً جواب دیا “تم پہلے سیکھو”
آہد ہنس دیا اور آگے چلا گیا۔
ارحمہ نے بھی بیگ اٹھایا اور مسکراتے ہوئے دوسری طرف مڑ گئی۔
ارحمہ نے سودا بیگ میں ٹھیک کیا۔ مارکیٹ کی بھیڑ سے تھوڑا ہٹ کر ایک کونے میں جا کر کھڑی ہو گئی۔
وہاں دیوار کے ساتھ ایک چھوٹا سا سایہ تھا۔ پنکھے کی ہوا سیدھی وہیں آ رہی تھی۔
اس نے بیگ کا زپ کھولا۔ اندر سے اسٹیل کی بوتل نکالی۔ ڈھکن گھما کر کھولا۔
گلہ خشک ہو رہا تھا۔ اس نے سر تھوڑا پیچھے کیا اور لمبے گھونٹ بھرنے لگی۔
ٹھنڈا پانی گلے سے اترا تو سکون سا آیا۔
بوتل ابھی ہونٹوں سے لگی تھی کہ اسے محسوس ہوا… کوئی ہے۔
کسی کی موجودگی۔
نہ قدموں کی آواز، نہ کوئی بولا۔ بس ہوا کا رخ جیسے بدل گیا ہو۔
ارحمہ نے بوتل نیچے کی۔ ڈھکن ہاتھ میں پکڑے ہوئے وہ آہستہ سے پلٹی۔
تھوڑے ہی فاصلے پر آہد کھڑا تھا۔
ہاتھ میں وہی کپڑے کا نیلا تھیلا۔ اس میں بریڈ کا کونا نظر آ رہا تھا۔
سفید شرٹ پر ہلکی سی شکنیں۔ بال ہوا سے تھوڑے بکھرے ہوئے۔
اور چہرے پر… ہلکی سی مسکراہٹ۔
وہ بولا نہیں۔ بس کھڑا تھا۔ آنکھوں میں کوئی شکایت نہیں تھی، کوئی سوال بھی نہیں۔
بس دیکھ رہا تھا۔ جیسے وہاں سے گزرا ہو اور رک گیا ہو۔
مارکیٹ کی آوازیں پیچھے مدھم ہو گئیں۔ پنکھے کی سرسراہٹ، لوگوں کی باتیں، سب دھندلا۔
ارحمہ کے ہاتھ میں بوتل کا ڈھکن تھوڑا کس گیا۔
آہد کی نظر ابھی بھی اسی پر تھی۔ مسکراہٹ ویسی ہی۔ نہ بڑھی نہ گھٹی۔
ارحمہ نے سودا بیگ میں ٹھیک کیا۔ مارکیٹ کی بھیڑ سے ہٹ کر ایک کونے میں جا کر کھڑی ہو گئی۔
دیوار کے ساتھ سایہ تھا۔ اس نے بیگ سے اسٹیل کی بوتل نکالی۔ ڈھکن کھولا اور پانی پینے لگی۔
ٹھنڈا پانی گلے سے اترا ہی تھا کہ اسے محسوس ہوا کوئی ہے۔
اس نے پلٹ کر سیدھا دیکھا۔
تھوڑے فاصلے پر آہد کھڑا تھا۔
ہاتھ میں نیلا تھیلا۔ اس میں بریڈ کا کونا نظر آ رہا تھا۔ سفید شرٹ۔
چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ۔ اور آنکھیں… سیدھی ارحمہ پر۔
وہ بولا نہیں۔ بس دیکھ رہا تھا۔
ارحمہ نے بھی نظریں نہیں چرائیں۔ بوتل ہاتھ میں پکڑے وہ ویسے ہی کھڑی رہی۔
دو سیکنڈ تک خاموشی رہی۔ مارکیٹ کا شور پیچھے مدھم ہو گیا۔
پھر ارحمہ نے بھنویں تھوڑی سکڑائیں۔ لہجہ سخت۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”
آہد نے کاندھے اچکا دیے۔ مسکراہٹ وہی۔
“بس۔ ایسے ہی”
کہہ کر وہ آگے نکل گیا
ارحمہ نے بوتل بند کی۔
دو قدم آگے بڑھی۔ پھر رکی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا۔
آہد ابھی بھی وہیں کھڑا تھا۔ اسی مسکراہٹ کے ساتھ۔ آنکھیں ابھی بھی اسی طرف۔
ارحمہ نے سانس لی۔ اور آہستہ سے خود سے کہا۔
“بہت ہی عجیب انسان ہے۔
یا تو لائبریری میں کتابیں پڑھتا رہتا ہے،
یا پھر مارکیٹ میں آ کر ایسے گھورتا رہتا ہے”

کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *