SAFAR E YARAN BY MOMINA AZAM EPISODE 2.

Email I’d :mominaazam420@gmail.com
Instagram User I’d : mominaaz_pen

https://www.instagram.com/mominaaz_pen?igsh=ajM5ZnZnM2pucmJ3

Writer Name in English and Urdu :
مومنہ اعظم
Momina Azam

Novel Name in English and Urdu :
سفرِ یاراں
Safar e Yaran

Novel Description in Urdu :
داڑھیوں، تسبیحوں، مصّلوں، برقعوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ان کے پیچھے چھپی نیتیں جب میزان میں رکھی جائیں گی تب حشر برپا ہوگا۔قیامت لگے گی۔

Novel theme: college Based, Romcom, Emotional, Religious ,Social reform, Mystery & Thriller

Episode : 02

Total Words:6806

Novel Status: Ongoing

سفرِ یاراں از مومنہ اعظم


دوسری قسط

میر بخت بستر پر لیٹا دو انگلیوں سے اپنے دکھتے سر کو دبا رہا تھا۔ اس وقت وہ رف سی ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس تھا۔ گہری بھوری آنکھیں جو کہ اسوقت اپنے کمرے میں سورج کی روشنی سے دور ہونے کی وجہ سے سن گلاسز سے آزاد تھیں چھت کو گھورنے میں مصروف تھیں۔ “شکل اور حلیے سے ایسے لگ رہا ہے جیسے آکسفورڈ کی ڈگری لے کر آئے ہیں جناب۔۔ مگر باہر لکھا وومن کالج نہیں پڑھ سکتے ہر کوئی منہ اٹھا کر چلا آتا ہے۔۔۔ ہونہہ! ” اس شہد رنگ آنکھوں والی لڑکی کے کہے الفاظ اسکے کانوں سے ٹرائے۔ میر بخت نے ساتھ پڑا کشن اٹھاکر دیوار میں دے مارا۔وہ خود کہاں راضی تھا۔ وہ بھی گرلز کالج میں جاب کیلیے نہیں جانا چاہتا تھا۔ اسنے تو خود بہت بار ڈائریکٹر سے التجا تک کی تھی مگر وہ نہ مانے۔۔ ڈائریکٹر صاحب اسکے خالو کے دوست تھے۔ ان کے مطابق ابھی اس کالج میں ناظرہ کے لیکچرر کی بہت ضرورت تھی اسی بنا پر اسے وہاں بھیجا گیا ہے۔ وہ چوبیس سال کا نوجوان اپنی عمر کے لڑکوں سے بہت مختلف تھا۔ شاید اسکی وجہ اسکا اکلوتا ہونا تھا۔ ہاں مگر اسکے دوست تھے جو اسکے لیے بھائیوں سے بھی بڑھ کر تھے۔کبھی انکا پانچ دوستوں کا گروپ پوری کالونی کی شان ہوتا تھا۔۔مگر اب وہ گروپ ٹوٹ چکا تھا انکا ایک دوست پچھلے بارہ سالوں سے ان سے جدا تھا۔ انہوں نے اسے کہاں کہاں نہ ڈھونڈا تھا۔مگر وہ اسے آج تک تلاش نہیں کر پائے تھے۔یا شاید وہ خود ہی ان چاروں سے دور بھاگتا تھا۔ میربخت اپنی سوچوں میں اس قدر گم تھا کہ دروازہ کھول کر اندر آنے والی مخلوق کا اسے اندازہ ہی نہ ہوا۔
اور پھر اسے پورے کمرے میں پھیلی کڑک چائے کی بُو نے ٹھٹکنے پر مجبور کیا۔
یہ تھا حاکم، حاکم خانزادہ، یا اگر ڈاکٹر حاکم خانزادہ کہا جاتا تو غلط نہ ہوتا۔وہ جنرل فزیشن تھا۔ کڑک چائے کا دیوانہ حاکم! ہر وقت چائے کے فوائد بتانے والا۔ اسے ان لوگوں سے نفرت تھی جنہیں چائے سے نفرت تھی۔ بھورے بالوں، کتھئی سحر انگیز آنکھوں اور کسرتی جسامت کا حامل بلاشبہ وہ ایک خوبرو نوجوان تھا۔ وہ پانچوں ویسے تو بہت اچھے دوست تھے مگر ان کے گروپ میں حاکم، میر بخت اور ارحم ہم عمر تھے۔ ارحم کاظمی ایک سیکرٹ ایجنٹ تھا۔ ویسے تو وہ بہت فرینڈلی اور جولی قسم کا شخص تھا۔ مگر ملک کے دشمنوں میں وہ وائٹ ٹائیگر کے نام سے جانا جاتا تھا۔اسکا نام سنتے ہی دشمن ممالک کا ہر جنگجو مارے دہشت کے اپنے اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتا۔وہ کمال کا ہیکر بھی تھا۔ سرمئی آنکھوں والا ارحم جب دشمن کی آنکھوں میں دیکھتا تھا تو دشمن اس کی آنکھوں میں اپنا درد ناک انجام با آسانی دیکھ پاتا۔ مگر بقول اسکے دوستوں کے اسمیں ایک عادت بہت عجیب تھی. وہ عادت جو اسکے کسی اور دوست میں بالکل بھی نہیں پائی جاتی تھی۔۔حاکم میں تو بالکل بھی نہیں! وہ عجیب عادت یہ تھی کہ ارحم کو ناول پڑھنے اور سالار سکندر جیسا بننے کا بہت شوق تھا۔ارحم کاظمی بہت شوق سے ناولز پڑھتا تھا۔ سالار سکندر اسے بہت پسند تھا (حاکم کو نہ ناولز پسند تھے نہ ناولز کے کیریکٹر) اور چاکلیٹ، چاکلیٹ تو جان تھی ارحم کی۔ وہ ہر وقت چاکلیٹ کھاتا تھا۔اگر بچوں سے بھی چھین کر کھانی پڑے تو وہ اسمیں بھی کوئی عار محسوس نہ کرتا۔۔
شاہ زیب انکا چوتھا دوست تھا۔ وہ ستائیس سالہ، سیاہ رنگ آنکھوں والا، خوش شکل اور دراز قد نوجوان ایک کامیاب بزنس مین تھا۔ بزنس کی دنیا کا چمکتا ستارہ تھا وہ۔۔
ہر جانا مانا انڈسٹریل اسکے آگے پیچھے گھومتا پھرتا تھا۔ہر کوئی اس سے بات کرنے کو ترستا۔ مگر اسکے پاس تو پانچ منٹ تک فالتو نہ ہوتے۔ اسکا ہر سیکنڈ قیمتی ہوتا تھا۔ہاں مگر اپنے دوستوں کیلئے وہ ہر وقت فری ہوتا۔ اگر وہ کسی اہم سے اہم میٹنگ میں بھی مصروف ہو اور ان تینوں میں سے کسی کی صرف کال آجائے۔ تو وہ میٹنگ تک کینسل کر کے انکے پاس دوڑا چلا جاتا۔ کیونکہ وہ ہی اب ان کے گروپ میں بڑا تھا۔وہ ان تینوں کیلئے بالکل انکے بڑے بھائی جیسا تھا۔اسے ہی اس گروپ کو جوڑے رکھنا تھا۔ ان کے گروپ میں وہ واحد تھا جسکی انگیجمنٹ ہو چکی تھی۔

“یار رات کو ہم سب باہر کھانے پر چلیں؟” حاکم نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھا۔میر بخت کی تیوری چڑھی۔ “اسے چھوڑو پہلے تم مجھے اس چائے کا بل دو۔اتنی چائے تو میں ایک مہینے میں نہیں پیتا جتنی تم ایک ہفتے میں پی لیتے ہو. ” میر بخت نے اسے گھوری سے نوازا۔وہ سخت غصہ تھا۔ “یار اب تم مجھ سے بھی پیسے مانگو گے؟ مجھ سے۔۔۔ حاکم خانزادہ سے؟” حاکم نے حیرت سے خود کی طرف اشارہ کیا۔ “نہیں وہ جو سامنے پینٹنگ میں درخت ہے ناں اس سے مانگ لیتا ہوں۔” میر بخت اسے گھور رہا تھا۔” اچھی بات ہے اس سے مانگو جا کر کیونکہ میں تو نہیں دینے والا کوئی پیسے ویسے۔۔ہو سکتا ہے وہ دے دے۔”حاکم نے مسکرا کر ابرو اچکائے۔تو میر بخت کے غصے کا گراف مزید بلند ہوا۔ اب تو باقاعدہ منہ بھی پھیر لیا گیا تھا۔ حاکم کو معاملات کی کشیدگی کا اندازہ ہوا۔” ہوا کیا ہے کیوں جلے بیٹھے ہو کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟” حاکم کے استفسار پر میر بخت نے گہرا سانس لیا۔”تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ میں نے اس گرلز کالج میں جانے سے انکار کیا تھا۔ اور مجھے زبردستی وہاں بھیجا گیا۔” میر بخت نے اپنی دکھ بھری داستان سنانی شروع کی حاکم سیدھا ہو بیٹھا۔” ہاں جانتا ہوں” حاکم نے سر ہاں میں ہلاتے چائے کا ایک گھونٹ بھرا۔”تو یار مجھے کچھ ایسا بتا دو کہ میں وہاں نہ جا سکوں۔”لہجے میں بے بسی عیاں تھی۔” مجھے پتہ تھا تم یہی بحث لے کر بیٹھ جاؤ گے۔ یار ایک سال کی ہی بات ہے تم بس اپنے کام پر فوکس کرو زیادہ پریشان نہ ہو۔وقت ہی ہے گزر جائے گا۔” حاکم اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔ “اوکے ٹھیک ہے میں کوشش کرتا ہوں۔اب اور کر بھی کیا سکتے ہیں! ” میر بخت نے اثبات میں سر ہلایا۔ “اچھا یہ لو چائے پیو فریش ہو جاؤ گے۔” حاکم نے چائے کا مگ اسے تھمایا۔ “شکریہ ایک گھونٹ بچا کر دینے کیلئے اور اب جاؤ میں نے لیکچر پریپیئر کرنا ہے۔”میر بخت نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا تو حاکم قہقہہ لگا کر بغیر اسے مزید تنگ کیے رات آنے کا کہہ کر چلا گیا۔
گھر میں کوئی تھا نہیں امی شاپنگ پر گئی ہوئی تھیں۔میر بخت اٹھا اور اپنے لیے کافی بنا کر نوٹس اٹھاتے ٹیرس پر آیا۔ کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے اس نے نوٹس کو پڑھناشروع کیا۔ دوسرا صفحہ پلٹتے ہی اسپر بنےنقش و نگار دیکھ کر اسکا پارہ ہائی ہوا۔ “یہ کیا حرکت ہے ناظرہ کے نوٹس پر ایموجیز کون بناتا ہے؟”اس نے تصور میں ہی ام ہانی کو گھورا اور ایک اسٹکی نوٹ اٹھا کر اس پر کچھ لکھنے لگا پھر اسے دوسرے صفحے پر چپکا دیا۔اسے پتہ تھا کہ یہ حرکت اس لڑکی کی ہی ہے۔اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ کل جا کر اس لڑکی کی کلاس ضرور لی گا۔

__________

آج بھی وہ سب لیکچرز لیکر فارغ بیٹھے تھے۔گرمی دن بہ دن بڑھ رہی تھی۔ وہ سب اس وقت پلینز بنانے میں مشغول تھیں۔ انکا ارادہ کل ون ڈش پارٹی کرنے کا تھا۔ اور اس وقت وہ سوچ چکیں تھیں کہ لے کر کیا کیا آنا ہے۔ مومنہ بریانی لیکر آنے والی تھی کیونکہ وہ بریانی اچھی بناتی تھی۔ اور علشبہ جو کہ انتہائی لزیز اسپیکیٹی بناتی تھی تو اسے وہ بنانے کی ذمہ داری دے دی گئی تھی۔اور باقی تینوں اسنیکس لے کر آنے والی تھیں۔ “چلو یار پانچ منٹ رہ گئے ہیں ناظرہ کا لیکچر شروع ہونے میں۔” سویرا ان سب کو اٹھاتے ہوئے بولی۔ کلاس میں پہنچ کر وہ سب اپنی اپنی کرسیا‌ں سنبھال چکی تھیں۔دروازہ بجا اور وہ اندر داخل ہوا۔ ڈارک بلو جینز اور سکائی بلو شرٹ پہنے۔ دائیں ہاتھ میں موبائل تھامے وہ ڈائس پر پہنچا۔ اُم ہانی کے نوٹس اسکے بائیں ہاتھ میں تھے۔ موبائل جیب میں ڈال کر اس نے مومنہ کو بلایا اور اُم ہانی کے نوٹس دے کر شکریہ ادا کرتے اسے بیٹھنے کا کہا پھر کلاس کی جانب متوجہ ہوا۔ ہر لڑکی اس ہینڈسم شخص کو مبہوت ہو کر دیکھ رہی تھی۔ اور وہ ان سب سے بے نیاز اپنے یہاں ہونے کا مقصد بتانے لگا۔ اسے ان سب سے کوئی سروکار نہ تھا وہ اپنے ایمان کو ہر جگہ مٹی میں نہیں ملاتا تھا۔ “السلام وعلیکم کلاس! میرا نام میر بخت ہے۔ میں آپ کا ناظرہ کا لیکچرار ہوں۔ سب اپنے اپنے نوٹس نکال لیں اسکے علاوہ ایک کاپی پینسل بھی آپ سب کے پاس روز ہونی چاہیے۔ میں جو بھی لیکچر دوں آپ اسے دھیان سے سنا کریں گی اور میں روز ہی آپ سے اسکا فیڈ بیک بھی لیتا رہوں گا۔ ان شاءاللہ۔ آپ میں سے کسی کا کوئی سوال ہے تو وہ کر سکتی ہیں۔” اپنی بات کے اختتام پر اس نے کلاس کو بولنے کا موقع دیا تھا۔ ” سر کیا آپ میریڈ ہیں؟” یہ سوال کرنے والی ہادیہ تھی۔ مومنہ، اُمِ ہانی، علشبہ، سویرا، وثقیٰ نہ صرف وہ پانچوں یہاں تک کہ میر بخت بھی منہ کھولے اس لڑکی کو دیکھ کررہ گیا۔ جس نے میر بخت سے یہ سوال پوچھا تھا۔ اگرحاکم اور ارحم یہاں ہوتے تو وہ بیچارے تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے ہوتے۔ ” ایکسکیوز می۔ آئیندہ اگر آپ نے یا کسی اور نے مجھ سے یہ یا ایسا کوئی ذاتی زندگی کے متعلق سوال پوچھا تو میں اسے پرنسپل صاحبہ کے پاس لیکر جاؤں گا۔ ان کے پاس میرا ریزیومے ہے وہ آپکو وہی پکڑا دینگی۔اور آپ کو بہت اچھے سے میرا بایو ڈیٹا دیا جائے گا۔اینڈ بائے دا وے جی ہاں میں شادی شدہ ہوں اور الحمدللہ تین بیٹیوں کا باپ بھی۔ اور آپ سب بھی میرے لیے میری بیٹیوں جیسی ہیں۔” لو جی قصہ ہی ختم (ویسے تین بیٹیاں کچھ زیادہ نہیں ہوگئیں۔۔” دل میں سوچا گیا۔) اس نےانتہائی صفائی سے جھوٹ بولا تھا۔ اور اگر اس وقت میر بخت کے باقی تینوں دوست یہاں ہوتے تو شاید کیا یقیناً ہی وہ کومے میں جا چکے ہوتے۔(لیکن اسکی پٹائی کرنے کے بعد۔۔کہ اس بدتمیز نے شادی بھی کرلی اور انہیں بلایا تک نہیں۔۔)
اور اُمّ ہانی نے دیکھا تھا کہ ہادیہ اور اس جیسی باقی لڑکیوں کا چہرہ ایسے تھا جیسے انہوں نے کڑوا بادام چبا لیا ہو۔ یہ انکشاف تو ان پانچوں کو بھی حیرت میں ڈال چکا تھا۔ اور میر بخت۔۔ وہ اسوقت ایک زوردار قہقہہ لگانا چاہتا تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اسنے ان سب کے سر پر بم پھوڑا ہے۔ “چلیں اب کلاس کا آغاز کرتے ہیں۔ سب اپنے اپنے نوٹس نکال لیں پہلے ہم اس سب کی دہرائی کر لیتے ہیں جو آپ نے پڑھا ہے۔” سب لڑکیاں پڑھنے میں مشغول تھیں کہ جب دوسرا صفحہ پلٹا گیا اور اس پر لکھے الفاظ پڑھ کر اُمّ ہانی کا پارہ ہائی ہوا جس پر لکھا تھا کہ “ناظرہ کے نوٹس پر ایموجیز بنانا انتہائی غلط حرکت ہے۔ آئیندہ سے ایسی حرکتیں کرنے سے پرہیز کریں۔ اس کے علاوہ جو کچھ آج پڑھایا جا رہا ہے آپ اسے پانچ دفعہ لکھ کر آئیں گی۔ یہ آپکی پنشمنٹ ہے۔ میر بخت” اُمّ ہانی کا چہرہ غصّے سے اسقدر سرخ ہو رہا تھا جیسے جسم کا سارا خون نچوڑ کر اس کے چہرے پر آگیا ہو۔ اسے اب بس کلاس ختم ہونے کا انتظار کرنا تھا۔ کلاس ختم ہوتے ہی وہ جلدی سے اسکے پیچھے بھاگی۔ “سر ایکسکیوز می سر” وہ اسے آوازیں دے رہی تھی۔ مگر وہ موبائل میں کچھ دیکھتا آگے بڑھتا گیا۔ “میر سر ایکسکیوز می میری بات سنیں۔” وہ بھاگ کر اسکے پاس پہنچتی چیخی تھی۔ اور وہ جو اپنے آفس کا دروازہ کھولے اندر بڑھ رہا تھا کسی کو خود کا ایسا نام لینے پر حیرانی سے گھوم کر اسکی جانب متوجہ ہوا تھا۔ “جی بولیں؟ “۔ میر بخت نے ابرو اچکائے۔ “مجھے آپ سے بات کرنی ہے” اُمّ ہانی گہرا سانس لے کر بولی۔ “اوکے اندر آجائیں۔” میر بخت نے اسے راستہ دیا جس پر اُمّ ہانی خاموشی سے اندر چل دی۔ میر بخت نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کھڑکی پر موجود پردے ہٹا دیے کمرہ ایک دم روشن ہوا تھا۔ اپنی کرسی سنبھال کر اس نے اُمّ ہانی کو بولنے کا اشارہ کیا۔ اُمّ ہانی نے نوٹس کھول کر اسکے سامنے کیے۔ “یہ آپ نے لکھا تھا؟” اس نے میر بخت کو گھورتے ہوئے پوچھا۔ “جی” یک لفظی جواب۔ “میں پوچھ سکتی ہوں کیوں لکھا تھا آپ نے یہ؟” اس نے گہرا سانس لے کر استفسار کیا۔”- جی بالکل پوچھ سکتی ہیں۔” میر بخت سکون سے اس سے مخاطب تھا۔ ” یہ ناظرہ کے نوٹس ہیں ان پر یہ سب کام نہیں کرنے چاہئیں آپکو۔” وہ تحمل سے سمجھا رہا تھا۔
” جی میں جانتی ہوں کہ یہ ناظرہ کے نوٹس ہیں۔ میں نے ان پر یہ نہیں بنائے تھے یہ میری کزن سسٹر نے بنائے تھے میر سر۔” ام ہانی نے وضاحت دی۔ “مس اُمِ ہانی آئندہ سے آپ مجھے میرے پورے نام سے بلائیں گی۔ میرا نام میر بخت ہے اور مجھے اپنا پورا نام لینا پسند ہے۔ صرف میر نہیں۔” وہ اسے گھورتے ہوئے بولا۔ “اوکے لیکن میں پانچ دفعہ کام لکھ کر نہیں آسکوں گی یہ بہت زیادہ ہے۔” وہ پریشان ہورہی تھی۔ “نہیں ہرگز نہیں میں نے جو کہا ہے آپ وہی کریں ادر وائز میں آپکے مڈز کے سیشنل مارکس نہیں دونگا۔”انداز حتمی تھا۔” سر میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ وہ ایموجیز میں نے نہیں میری کزن نے بنائے ہیں۔وہ چھوٹی سی بچی ہے۔آپ کو اب مجھے یہ سزا دینے کا حق نہیں ہے کیونکہ اس سب میں میری کوئی غلطی نہیں ہے۔ “مڈز کا نام سنتے ہی اُمِ ہانی کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا اب اسکے چہرے پر شدید پریشانی کے تاثرات رقم تھے۔” میں نے آپ سے جو کہا ہے آپ وہ کریں بس۔ میں کل کلاس میں آتے ہی آپ کا ہوم ورک چیک کرونگا۔ اب آپ جا سکتی ہیں۔” میر بخت اپنے موبائل کی جانب متوجہ ہوا۔یعنی صاف ظاہر تھا کہ اسے اب اور کچھ نہیں کہنا۔ ” اوکے ٹھیک ہے “میر” سرجیسا آپ کہیں۔” اُمّ ہانی ” میر” پر زور دیتے باہر چل دی اور جاتے ہوئے دروازہ زور سے بند کرنا ہر گز نہ بھولی۔ میر بخت نے دروازے کو گھورا جسکے پار ابھی اُمّ ہانی غائب ہوئی تھی۔ ” بد تمیز” وہ بول کر اپنا سامان سمیٹنے لگا کیونکہ اسے گھر جانا تھا۔

_______

رات ہو چکی تھی۔ علشبہ کافی دیر سے گھر میں اکیلی تھی۔ امی ابو اور باقی بہن بھائی قریبی رشتے دار کی شادی پر گئے تھے۔ اسنے بھی جانا تھا مگر پاؤں میں آئی موچ کی وجہ سے نہیں جاسکی تھی۔ امی نے تو کہا تھا کہ وہ اسکے ساتھ رک جاتی ہیں مگر اسنے ہی انہیں بھیج دیا تھا یہ کہہ کر کہ” تھوڑی دیر کا تو فنکشن ہے آپ جائیں میری ٹینشن نہ لیں میں اتنی دیر میں اپنا کالج کا کام کر لونگی۔”
پہلے تو وہ کالج کا کام کرتی رہی مگر کام جلد ہی ختم ہوچکا تھا۔اب علشبہ بہت زیادہ بوریت کا شکارہو رہی تھی۔وہ اپنا فون اُٹھائے گارڈن میں آکرٹہلنے لگی۔ اچانک ہی گھر کا دروازہ زور زور سےبجنے لگا اسکا دل اُچھل کر حلق میں آگیا۔ امی کہہ کرگئیں تھیں کہ وہ آتے ہی اسے کال کریں گی تب ہی وہ دروازہ کھولے گی اور اگر کوئی دروازہ بجائے تو وہ ہرگز دروازہ نہ کھولے۔اس نے جلدی سے اپنے والدین کو کال کی مگر کال نہیں لگ رہی تھی۔شاید وہ مصروف تھے۔دستک لگاتار دی جارہی تھی۔پھر اس نے شاہ زیب کو کال کی جو اگلے ہی لمحے اُٹھالی گئی تھی۔”ش، ش، شاہ شاہزیب امی ابو گھ۔۔گھ، گھر نہیں ہیں۔م، میں اکیلی ہوں اور گھرپر کوئی آگیا ہے۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ آپ آجائیں پلیز۔” وہ خوف سے کپکپا رہی تھی۔”علشبہ میں ہی ہوں باہر دروازہ کھولو۔تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں یہیں ہوں۔چلو آجاؤ شاباش دروازہ کھولو۔” اوہ آپ ہیں؟ اوکے ٹھیک ہے میں آتی ہوں آپ وہیں رہیں جائیے گا مت۔”وہ بھاگ کر دروازہ کھولتے بولی۔”دروازہ کھول کرشاہزیب کو دیکھتے ہی اسے سکون محسوس ہواتھا۔۔اور محفوظ ہونے کا احساس ہوا۔”شکر ہے آپ ہیں۔”اس نے شکر کا سانس لیا۔” اندر آجائیں۔”۔ علشبہ نے اسے راستہ دیتے ہوئے کہا تو شاہزیب مسکرا کر اندر آگیا۔ “مجھے انکل نے کال کی تھی کہ تمہارے پاس چلا جاؤں وہ لوگ آج دیر سے آئیں گے یا ہوسکتا ہے آئیں ہی نہ کیونکہ تمہاری خالہ نے انہیں روک لیا تھا۔ مجھے پتا تھا کہ تم اسوقت بہت ڈری ہوئی ہو تو میں فوراً ہی آگیا۔ کیا تم نے کھانا کھا لیا؟” وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھ رہا تھا علشبہ نے نفی میں سر ہلایا۔ “نہیں میں نے نہیں کھایا کچن میں جانے سے ڈر لگ رہا تھا۔” وہ اسکے سامنے ہی صوفے پر بیٹھی تھی۔ ” گڈ میں نے بھی نہیں کھایا ابھی تک۔جاؤ تیار ہو جاؤ ہم باہر ڈنر کرنے جا رہے ہیں۔” “او کے ٹھیک ہے میں ابھی آئی۔” وہ بول کر تیار ہونے چل دی۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایمرلڈ گرین کلر کی میکسی پہنے جو کسی بھی قسم سجاوٹ سے مبرّا تھی نہ کوئی نقش و نگار، نہ کوئی چمک دمک۔بالوں کو اونچے جوڑے میں باندھے، گولڈن منیمل جیولری اور، ہلکے پھلکے میک اپ کے ساتھ علشبہ، شاہزیب کے سامنے تیار کھڑی تھی۔اسے دیکھتے ہی شاہزیب مسکرا دیا۔ “جانتی ہو زمرد نایاب پتھروں میں ایک ہے؟مجھے وہ پتھر بے انتہا پسند ہے۔اسکا رنگ مجھے ہمیشہ سے خود کہ جانب کھینچتا ہے۔لیکن میں یہ بات دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ سارے جہاں کے زمرد بھی مل جائیں تو میری محبوبہ کے اس زمرد رنگ کے جوڑے میں ملبوس وجود کے سامنے ہیچ ہونگے۔” علشبہ گلنار ہوئی وہ اس سادہ سے حلیے پر اتنی زیادہ تعریف کی امید نہیں کررہی تھی۔” شاہزیب یہ تو بس میں عام سا تیار ہوئی ہوں سادہ سا لباس پہنا ہے۔”وہ وضاحت دینے لگی۔” تمہارے عام سے حلیے بھی میرے لیے خاص ہوتے ہیں لڑکی۔۔! “وہ بولا تو علشبہ کے گلابی رخسار مزید گلابی ہوئی۔۔شرم سے آنکھیں جھکا لی گئیں۔”چلیں؟ دیر ہورہی ہے۔مجھے بہت بھوک لگی ہے۔”اس نے شاہزیب کا دھیان بھٹکانا چاہا۔ شاہزیب مسکرا دیا۔” اوکے جی چلتے ہیں۔”وہ مسکرا کر کہتے آگے بڑھ گیا۔
انہوں نے ایک بہت اچھے ریسٹورنٹ میں ڈنر کیا اور اسکے بعد وہ شاہزیب کے کہنے پر اسکے ساتھ ہی اسکے گھر چل دی۔ کیونکہ وہ اسکا فیانسی ہونے کےساتھ ساتھ کزن بھی تھا۔شاہزیب کی والدہ نے ہی اسے واپسی پرعلشبہ کو اپنے ساتھ گھر لانے کا کہا تھا۔
___________

اگلے دن وہ سب ناظرہ کا لیکچر لے رہے تھے۔ام ہانی لیکچر ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔ جیسےہی لیکچر ختم ہوا وہ اُٹھی اور میر بخت کے پیچھے چل دی۔ اس نے آفس کا دروازہ بجایا اور اجازت ملتےہی اندر داخل ہوئی۔ ” سر میری اسائمنٹ جو آپ نے دی تھی۔یہ لیں میں نے مکمل کرلی ہے۔”ام ہانی اسائنمنٹ اس کے آگے کرتے بولی۔ میر بخت نے اٹھا کر اسے دیکھا چند صفحات پلٹتے ہی اسکا چہرہ غصے سے سرخ ہوا۔ ” یہ کیا ہے ؟” وہ دھاڑا۔ام ہانی خوفزدہ سی پیچھے ہوئی۔” س، سر وہ اسائن۔۔”وہ اپنا جملہ مکمل کر پاتی اس سے پہلے ہی میر بخت نے غصے سے اسائنمنٹ شیٹس پٹخ دیں اس کی دھاڑ پورے آفس میں گونج رہی تھی۔”میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ لیکچر کو پانچ مرتبہ لکھ کر آئیںگی اور آپ اسے ایک مرتبہ لکھ کر باقی چار فوٹو کاپیز کروا لائیں۔ مسئلہ کیا ہے آپکا؟ میں آپ سےجتنا نرمی سے پیش آرہا ہوں آپ اتنی سر پر چڑھرہی ہیں۔ آخر آپ نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے ؟” وہ سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا۔یہ اسکے رتبے کی توہین تھی۔وہ یہ کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ام ہانی خوف سے کانپنے لگی تھی۔ “سر وہ، وہ۔۔۔” وہ دہشت زدہ لگ رہی تھی۔ “کیا وہ وہ لگا رکھا ہے آپ نے؟ بولیں آخر چاہتی کیا ہیں آپ؟آپ کی نظر میں استاد کی یہ عزت ہے؟ میں آپ کی اس حرکت پر آپکو ابھی پرنسپل صاحبہ کے پاس لے کر جاسکتا ہوں۔ آپ کی حرکتیں دن بدن برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہیں میرے لیے۔سر کا درد بن گئیں ہیں آپ میرے لیے۔جائیں چلی جائیں اب یہاں سے اور کل آپ آج اور کل والا لیکچر دس دس دفعہ لکھ کر لائیں گی۔۔ورنہ میں اس سے بھی برا پیش آؤنگا آپ کے ساتھ۔” وہ پھر سے چیخا تھا۔ام ہانی فوراً بھاگی تھی۔ اسے امید نہیں تھی کہ وہ اس طرح اس پر غصہ ہو گا۔ اس کے جاتے ہی میر بخت نے اسائنمنٹ اٹھا کر کوڑا دان میں پٹخی۔چھٹی ہو چکی تھی۔ ام ہانی فوراً گھر چل دی۔

_______

حاکم، شاہزیب اور میر بخت اس وقت سنوکر کھیلنے میں مشغول تھے۔ ارحم اپنے مشن پر تھا۔ مگر آج میر بخت کچھ چڑچڑا سا لگ رہا تھا۔ “یار میر بخت آخر ہوا کیا ہے؟ اتنے چڑچڑے کیوں ہو رہے ہو؟” حاکم میر بخت کے ساتھ آ بیٹھا۔ “کچھ نہیں بس کالج کے مسئلے ہیں تم چھوڑو۔” میر بخت ٹالنے والے انداز میں بولا۔ “بتاؤ کیا مسئلہ ہے؟”شاہزیب بھی ان کے ساتھ آبیٹھا ان کے پوچھنے پر اس نے ساری بات انکے گوش گزار کردی۔ اور اس کی بات سنتے حاکم اور شاہزیب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ ہنس ہنس کر ان کے پیٹ میں درد ہو رہا تھا۔ ”یار تم دونوں مجھ پر ہنس رہے ہو؟“ وہ انتہائی صدمے سے بولا۔ وہ لوگ اب بھی مسلسل ہنس رہے تھے۔ ”اب مجھ سے بات نہ کرنا۔“ وہ غصے سے بولا اور اٹھ کرجانے لگا۔ اسے سب پر غصہ آ رہا تھا۔ پیچھے وہ دونوں حیران تھے کہ آخر اسے ہوا کیا ہے؟”واپس بیٹھو بخت!” شاہزیب کی آواز جب اس کی سماعت سے ٹکرائی تو میر بخت کے قدم تھم گئے۔وہ واپس آبیٹھا اور گہرا سانس لیا۔جانتا تھا کہ اب اسکی کلاس لگنے والی ہے۔شاہزیب اسے بخت کہہ کر تب ہی مخاطب کرتا تھا جب میر بخت کوئی گستاخی کرے۔” تم نے اس لڑکی کے ساتھ غلط کیا۔پہلے دن بھی اور آج بھی۔جب وہ پہلے دن ہی بتا چکی تھی کہ وہ ایموجیز اس نے نہیں اسکی چھوٹی سی کزن نے بنائے ہیں تو اسکی سزا یہ نہیں بنتی تھی۔۔اتنی تو نہیں بنتی تھی۔اس کے بعد تم اس پر آج اتنا چلائے۔میں مانتا ہوں اس کی بھی غلطی ہے لیکن غلطی اتنی بڑی نہیں تھی کہ تم اسے خوفزدہ کر دو۔تم نے خود ہی کہا ہے کہ وہ کپکپا رہی تھی۔لڑکیوں پر غصہ نہیں کرتے بخت۔وہ نازک ہوتی ہیں۔اونچی آوازیں انہیں توڑ دیتی ہیں.تم غیر مرد ہو تم نے اسے خود سے بے حد خوفزدہ کردیا ہے۔اور تم نے یہ غلط کیا ہے۔”شاہزیب اسے سمجھا رہا تھا۔”لیکن وہ مجھے خود تنگ کرتی ہے۔کچھ نہ کچھ ایسا کرتی ہے کہ مجھے غصہ آجاتا ہے۔”میر بخت نے اپنے حق میں صفائی دینی چاہی۔” تم خود پر قابو رکھنا سیکھو۔عورت ذات مرد کی اونچی آوازوں کی حقدار نہیں ہے۔اگلی بار کچھ ایسا ہو تو آرام سے اسے سمجھانا۔اور اگر نہ سمجھے تو یہ معاملہ کالج انتظامیہ کے سپرد کر دینا۔” شاہزیب نے اسے سمجھایا تو میر بخت نے اثبات میں سر ہلا دیا۔”دیکھو میر بخت میں نے تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا کہ یہ صرف دوسال کی بات ہے۔۔وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا اور گزر جاتا ہے۔تم سکون سے رہو۔صرف اپنے مقصد پر توجہ دو۔باقی معاملات خود بخود ٹھیک ہوجائیں گے۔” حاکم نے بھی سمجھایا تو اس نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلادیا۔نہ جانے اب کل کیا ہونیوالا تھا۔
—-
رات ہو چکی تھی۔ اُمِ ہانی کب سے اپنا کام کرنے میں مصروف تھی۔ اس نے دوپہر سے کھانا تک نہیں کھایا تھا۔ بس کافی ہی پی رہی تھی۔ اب بھی اس کا پانچواں کپ تھا۔ اسے آج میر بخت سے صحیح معنوں میں خوف محسوس ہوا تھا۔ دروازہ بجا اور امی اندر آئیں۔ ”بیٹا کچھ کھا لو جب سے کالج سے آئی ہو اسی کام میں لگی ہوئی ہو۔ رات کے دس بج گئے ہیں۔ اس طرح تو تم بیمار پڑ جاؤ گی۔“مسز قریشی کھانے کی ٹرے اسکے پاس رکھتی بولیں۔ “شکریہ ماما بس تھوڑا سا ہی کام رہ گیا ہے میں اسے جلد ہی ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔” وہ کتابیں سائیڈ پر کرتی ٹرے اٹھا کر اس سے نوالا ٹوڑنے لگی۔ بھوک بہت شدید لگی تھی۔ “اچھا ٹھیک ہے جلدی کام ختم کر کے سو جانا۔”مسز قریشی اسے بول کر جا چکی تھیں۔ کھانا ختم کر کے وہ پھر سے کام کرنے لگی۔ رات ایک بجے تک اسنے اپنا کام ختم کیا اور ایسے ہی بکھری کتابوں پر سر رکھے سو گئی۔
____
آج انکی پارٹی تھی۔ سب اپنے حصے کی ڈشز لے آئے تھے۔لیکن ام ہانی نہ لاسکی۔ وہ کل بہت مصروف تھی اور اسکے ذہن سے پارٹی کا خیال نکل چکا تھا۔وہ پیسے لائی تھی کہ کالج سے ہی کچھ لے لے گی۔مگر آج کینٹین پر بھی کوئی خاص شے موجود نہ تھی۔”سویرا میرے ساتھ تو چلو پلیز گیٹ کیپر سے کوئی چیز منگوالیتی ہوں۔۔” ام ہانی نے بیگ سے پیسے نکالے “مگر میم صابرہ نے دیکھ لیا تو وہ غصہ کرینگی۔” وثقیٰ پریشان ہوگئی۔سب جانتے تھے پروفیسر صابرہ صاحبہ باہر سے چیز نہیں منگوانے دیتی تھیں۔کالج کے دو گیٹ کیپرز تھے اور وہ کہتی تھیں کہ وہاں سے پانچ منٹ کیلئے بھی ایک گیٹ کیپر نہ ہلے۔ام ہانی نے نفی میں سر ہلایا” کچھ نہیں ہوتا ہم ان سے چھپ کر گیٹ کیپر کو بھیج دیں گے انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔ہم احتیاط کریں گے۔”ام ہانی نے انہیں تسلی دی۔”تم انہیں ابھی جانتی نہیں ہو۔وہ بہت غصہ ہونگی ہانی۔تم رہنے دو کوئی چیز نہ منگواؤ۔ہم سب مل کر کھانا کھائیں گے۔”علشبہ بولی۔” یار کچھ نہیں ہوتا۔ہم جائیں گے اور گیٹ کیپر کو پیسے دے کر آجائیں گے وہ لے آئے گا چیزیں تم لوگ پریشان مت ہو۔میں سب سنبھال لونگی۔اٹھو سویرا۔”ام ہانی کہہ کر( دل میں میر بخت سے سامنا نہ ہونے کی دعا کرتی) اٹھ کھڑی ہوئی تو سویرا بھی ساتھ اٹھی.” اچھا تم وہاں جاؤ یہاں ہم میم صابرہ کو دیکھتے ہیں۔اگر وہ اس طرف آئیں تو ہم تمہیں بتادیں گے۔”باقیوں نے کہا اور سب اپنی منزل کی طرف بڑھے۔مومنہ، وثقیٰ اور علشبہ جب سٹاف آفس پہنچے تو میم صابرہ وہاں موجود نہ تھیں۔”شکر ہے میم نہیں ہیں شاید وہ پرنسپل آفس میں ہونگی۔یعنی خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔”انہوں نے شکر کا سانس لیا۔مگر ام ہانی اور سویرا کو خوفزدہ سا واپس آتے دیکھ کر وہ تینوں ٹھٹھک گئیں۔”کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟” مومنہ پریشان ہوگئی۔ان دونوں نے نفی میں گردن ہلائی”و، و،وہ ہم گیٹ کیپر سے بات کر ہی رہے تھے کہ میم صابرہ وہاں آگئیں۔وہ پہلے سے وہیں موجود تھیں۔” “گ، گھر جارہی تھیں وہ۔اپنی گاڑی کی منتظر۔” “ہاں اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلا۔۔انہوں نے ہماری بات سن لی اور بہت ڈانٹا۔”وہ دونوں ساتھ ساتھ بولتی جارہی تھیں۔اور باقیوں کے چہرے ہر حیرت و خوف واضح تھا۔” اب کیا ہوگا یار؟ میں چیزیں کیسے منگواؤں؟ “ام ہانی روہانسی ہوئی۔” بھاڑ میں گئیں چیزیں۔۔ڈانٹ کھا کر پیٹ نہیں بھرا تمہارا؟ “سویرا اس پر بھڑکی” کہا بھی تھا مت منگواؤ اکٹھے کھانا کھالیں گے مگر تم مت سننا۔” وہ خفا لگ رہی تھی۔” اچھا لڑکیوں اب تم لڑنے تو مت شروع ہو جاؤ۔ام ہانی کوئی بات نہیں ہمارا کھانا تمہارا کھانا۔۔دوست کی ساری چیزیں ہماری ہوتی ہیں۔۔اور ان پر سارے حق ہمارے ہوتے ہیں۔چلو آجاؤ ساتھ مل کر کھائیں گے۔”مومنہ نے اسے سمجھایا۔”مگر یار میں ایک اور کوشش کرنا چاہتی ہوں پلیز۔۔کیونکہ میم صابرہ تو اب گھر جاچکی ہونگی۔۔اب گیٹ کیپر لے آئے گا چیزیں آرام سے۔”ام ہانی بولی تو باقی بس سر ہلا کر رہ گئے۔” اچھا چلو اس بار میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ۔۔ ان شاءاللہ تعالیٰ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔”مومنہ بولی” ہاں مومنہ تم جاؤ تم کالج کی ہیڈ پراکٹر ہو۔۔سب سنبھال لوگی۔”علشبہ نے کہا اور وہ دونوں چل دیے۔تھوڑی دیر بعد وہ کام کرکے واپس آگئیں۔اب بس چیز کا انتظار کیا جارہا تھا۔کھانا آئے تو وہ سکون سے پارٹی شروع کریں۔تھوڑی دیر کے انتظار کے بعد وہ واپس آگئیں کیونکہ اب گیٹ کیپر واپس آنے والا تھا۔وہ دونوں وہاں کھڑے ہوکر انتظار کرنے لگیں۔تھوڑی دیر گزری کے دروازہ کھلا اور گیٹ کیپر اندر آیا۔ان دونوں نے شکر کا سانس لیا۔مگر۔۔یہ تب ہی تھا کہ جب دوسرا گیٹ بھی کھولا گیا اور میم صابرہ کی گاڑی اندر داخل ہوئی۔مومنہ اور ام ہانی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔وہ منہ کھولے انکی گاڑی کو دیکھ رہی تھیں جو پارکنگ کی طرف بڑھ رہی تھی۔صدمہ شدید تھا۔ان دونوں کے سارے حواس رخصت ہوچکے تھے۔پھر مومنہ کو ہوش آیا۔اس نے فوراً سے ام ہانی کو جھنجھوڑا اور وہ دونوں گارڈ سے کلب سینڈوچز کے پیکٹس جھپٹ کر کالج کی بیک سائیڈ بھاگیں۔کیونکہ میم صابرہ ابھی تک پارکنگ ایریا میں ہی تھی۔صد شکر انہوں نے انہیں نہیں دیکھا تھا۔”جان بچی تو لاکھوں پائے۔۔” مومنہ بولی تو ام ہانی نے گہرے سانس لے کر محاورہ مکمل کیا۔”لوٹ کے مومنہ، ہانی پارٹی پر آئے۔” اور وہ دونوں ہنس دیں۔
تھوڑی دیر بعد وہ سب گارڈن میں بیٹھ کر پارٹی شروع کر رہی تھیں۔ان پانچوں کی ایک عادت تھی کہ جب بھی پارٹی کرتے اپنا کھانا سارے استاذہ سے بھی شیئر کرتے۔سو اب وہ سب ٹیچرز کی پلیٹس تیار کر رہیں تھیں۔۔پلیٹس تیار کرنے کے بعد وہ پانچوں دو دو کا گروپس بنا کر سارے ٹیچرز کو دینے جارہے تھے۔

______
میر بخت اپنے آفس میں بیٹھا تھا۔اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ اپنے غصے کو قابو میں رکھے گا۔ام ہانی کو اب نہیں ڈانٹے گا۔وہ انہیں سوچوں میں غلطاں تھا کہ جب اسکا موبائل رنگ ہوا۔کال رسیو کی تو دوسری جانب پرنسپل صاحبہ تھیں۔انہوں نے میر بخت کو اپنے آفس میں بلایا تھا۔وہ سر ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا اور دروازے کہ طرف بڑھا۔ابھی اس نے ڈور ناب پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ اس کے کان میں وہ آواز آئی اس نے غصے سے ابرو اچکائے۔ماتھا شکن آلود ہوا۔
“مومنہ ،وثقیٰ رکو۔میر سر کو نہیں دینا ہم نے کھانا۔” وہ آواز ام ہانی کی تھی۔”کیوں ہانی؟” وثقیٰ کی حیرت زدہ آواز سنائی دی۔”ان کا موڈ بگڑ سکتا ہے۔وہ نیو ہیں ہم انکے مزاج سے ابھی ناواقف ہیں۔” ام ہانی نے اپنی بات کی وضاحت دی۔میر بخت کے ماتھے کی شکنوں میں کچھ اور اضافہ ہوا۔”یہ محترمہ ہوتی کون ہے میرے بارے میں رائے قائم کرنے والی؟” اسکا سارا موڈ بگڑ چکا تھا۔” نہیں ہانی ایسی بات تو بالکل بھی نہیں ہے۔سر تو اچھے ہیں۔ان کا رویہ بھی بہت شائستہ ہے۔وہ کیوں غصہ ہونگے؟ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔”مومنہ نے کہا تو ام ہانی نے نفی میں سر ہلایا۔” نہیں یار،پھر بھی۔۔ہمیں انہیں نہیں دینا چاہیے۔وہ غصہ کریں گے تم لوگ سمجھ کیوں نہیں رہے۔”وہ روہانسی ہوئی۔ لہجہ خوفزدہ تھا۔وہ ابھی تک کل والے واقعہ کو بھلا نہیں پائی تھی۔” شاہزیب کہتا ہے اس کی موجودگی میں غصے کو قابو رکھنا سیکھوں ۔یہ لڑکی موقع دے تب ناں۔اسکی اپنی حرکتوں کی وجہ سے مجھے غصہ آتا ہے۔ہونہہ”دروازے کے اس پار میر بخت کے غصے کا گراف انتہا ہر پہنچ چکا تھا۔” اچھا چلو ٹھیک ہے جیسا تم کہو۔۔ویسے مجھے یہ ٹھیک نہیں لگ رہا سب ٹیچرز کو دیا ہے انہیں بھی دینا چاہیے تھا۔”وثقیٰ کو عجیب لگ رہا تھا۔” ہانی وثقیٰ صحیح کہہ رہی ہے ہمیں انہیں بھی دینا چاہیے۔ہمارا سب کو دینا اور صرف ان ایک کو نہ دینا آداب کی خلاف ورزی شمار ہوگا۔۔میں اور وثقیٰ جارہے ہیں دینے۔ان شاءاللہ تعالیٰ کچھ نہیں ہوگا۔” مومنہ نے کہا تو ام ہانی نے محض سر ہلا دیا۔” ٹھیک ہے جیسا تمہیں ٹھیک لگے۔”وہ کہہ کر چلی گئی۔دوسری طرف میر بخت جلدی سے کرسی پر جا بیٹھا۔ماتھے کی شکنیں غائب کیں۔دروازہ بجا تو اس نے اجازت دی۔
چند لمحوں بعد مومنہ اور وثقیٰ اندر داخل ہوئیں۔” السلام علیکم سر!” دونوں کے سلام پر اس نے مسکرا کر جواب دیا۔” جی بولیں؟” اس کے پوچھنے پر انہوں نے کھانا اسکے آگے سرو کیا۔۔”سر آج ہماری ون ڈش پارٹی ہے۔۔ہم اپنی ہر پارٹی کا کھانا اپنے اساتذہ سے بھی شیئر کرتے ہیں۔یہ آپکے لیے ہے۔سارے کھانے گھر کے پکے ہوئے ہیں امید ہے آپ کو اچھے لگیں گے۔” مومنہ نے بات مکمل کی تو میر بخت نے مسکرا کر سر ہلایا۔ “بہت شکریہ بچے۔۔شکل سے بہت اچھا لگ رہا ہے امید کرتا ہوں ذائقہ بھی خوب ہوگا۔”وہ انہیں سراہ رہا تھا۔۔مومنہ اور وثقیٰ کو تسلی ہوئی۔” ان شاءاللہ سر آپ کو پسند آئے گا۔لطف اندوز ہوں۔ﷲ حافظ۔” وہ کہہ کر جانے کیلئے واپس مڑگئیں۔


واپس آکر انہوں نے کھانا شروع کیا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی انہیں کھانا شروع کیے کہ دامیہ بھی وہاں آ پہنچی۔ ان سب نے اسے بھی اپنے ساتھ شامل کیا۔ “ویسے دامیہ ایک بات تو بتاؤ یہ تم آج لپسٹک کیوں لگا کر آئی ہو؟ ۔” وثقیٰ تفتیشی انداز میں بولی۔ “اسے چھوڑو ذرا اس ذولفی کو تو دیکھو تم نیا سفید سوٹ پہن کر آیا ہے۔ مجھے لگتا ہے معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔” سویرا نے ذولفی کی طرف اشارہ کیا۔ “یار تم سب بھی نہ عجیب سی باتیں کرتے رہتے ہو۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”وہ شرمانے لگی ایک ذور دار قہقہہ لگایا۔”ارے ارے دیکھو ذرا لڑکی شرما رہی ہے” علشبہ نے اسے چھیڑا۔ “دفع ہو جاؤ بد تمیزوں” دامیہ کھلکھلا کر بولی تھی۔ “جلدی کرو ناظرہ کا لیکچر ہونے والا ہے۔” سویرا نے یاد دہانی کروائی تو ام ہانی کا چہرہ پھیکا پڑا۔ ناظرہ کے لیکچر کا نام سنتے ہی اُمِ ہانی کا دل خوف سے دھڑکا تھا۔
اس سے کھانا بھی صحیح سے نہیں کھایا جارہا تھا.” ارے ام ہانی کھانا تو صحیح سے کھاؤ۔۔دیکھو تمہاری پلیٹ ابھی تک ویسی کی ویسی ہی ہے۔۔” مومنہ فکرمند ہوئی۔”اوہ ہاں میں کھا رہی ہوں۔” ام ہانی جو سوچوں میں گم تھی بولی۔”وثقیٰ مجھے یہ کلب سینڈوچ پکڑاؤ زرا۔۔آخر اسے حاصل کرنے کیلئے آج ہم اپنے جان پہ کھیلے ہیں۔میم صابرہ کی ڈانٹ کھانے کی بعد اب یہ بھی کھانا چاہتی ہوں میں۔”سویرا بولی تو سب کا قہقہہ بلند ہوا۔

ناظرہ کا لیکچر شروع ہو چکا تھا۔ وہ سب اپنی اپنی سیٹس پر بیٹھی لیکچر سن رہیں تھیں۔ اُمِ ہانی نے آتے ہی اسائنمنٹ ڈائس پر رکھی تھی۔ مگر میر بخت نے اسے ہاتھ لگانا تو دور کی بات دیکھنا تک پسند نہ کیا تھا۔ وہ ام ہانی پر اب بھی غصہ تھا۔ لیکچر دے کر وہ کلاس سے جا چکا تھا۔ اُمِ ہانی نے ڈائس سے اسائنمنٹ اٹھائی اور میر بخت کے پیچھے بھاگی۔ وہ اسکے آفس کا دروازہ بجا کر اندر گئی۔ میر بخت سامنے ہی کرسی پر بیٹھا تھا۔ “سر میں نے اپنی اسائنمنٹ مکمل کر لی ہے۔۔ آپ پلیز اسے چیک کر لیں۔” اس نے اسائنمنٹ میربخت کے سامنے میز ہر رکھی۔ “آپ نے یہ کام کر کے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا۔۔ آپ جاسکتی ہیں اور جاتے ہوئے یہ اسائنمنٹ اپنے ساتھ لیکر جائیے گا۔”وہ موبائل اٹھا کر خود کو مصروف دکھانے لگا۔” جی سر سوری ؟ “ام ہانی نے اچھنبے سے اسے دیکھا اسے لگا کہ اس نے شاید غلط سنا ہے۔”میں کہہ رہا ہوں اسے لیں اور یہا‌ں سے جائیں مجھے یہ چیک نہیں کرنی۔”میر بخت تحمل سے بولا۔”سر میں نے اسے بہت محنت سے لکھا ہے آپ اسے ایک بار چیک کرلیں پلیز۔” وہ التجائیہ بولی۔ “مس اُمِ ہانی آپ نے یہ دو چار صفحات لکھ کر مجھ پر احسان نہیں کیا۔۔ میں نے آپ سے کہا ہے کہ آپ یہاں سے جائیں کیا آپکو سنائی نہیں دیا؟”وہ پوچھ رہا تھا ام ہانی کو اپنا دماغ ماؤف ہوتا محسوس ہوا۔” سر آپ مجھ سے ایسے بات نہیں کر سکتے۔۔ میری کوئی غلطی نہیں تھی پھر بھی میں آپکے کہنے پر اپنا کام پورا کر کے آئی آپ نے کل بھی مجھے بے وجہ ڈانٹا تھا۔ اور آج بھی آپ مجھے بے وجہ ڈانٹ رہے ہیں۔جنہیں آپ دو چار صفحات کہہ رہے ہیں وہ ٹوٹل بتیس صفحات ہیں۔” ام ہانی نے شدید غصے سے کہا میر بخت نے ناگواری سے اسے دیکھا۔” بتیس صفحات ہی لکھے ہیں کوئی معرکہ نہیں سر کیا آپ نے۔”اسے نے غصے سے کہا۔ام ہانی نے بے یقینی سے اسے دیکھا آنکھوں میں نمی تیر گئی.”سر میں نے کل ساری رات جاگ کر بھوکی پیاسی رہ کر یہ کام کیا تھا۔ رات ایک بجے سوئی تھی میں اس کام کی وجہ سے۔۔۔ اور صبح بھی دیر سے اُٹھی تھی۔ صبح میں نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا آپ کو ذرا برابر بھی احساس نہیں ہے کیا میرا؟ میں نے اس اسائنمنٹ پر اتنی محنت کی تھی جسے آپ نے ہاتھ لگانا تو دور کی بات۔۔دیکھنا تک بھی پسند نہیں کیا۔۔مجھے نہیں پتہ آپ کس بات کا غصہ مجھ پر اتارتے ہیں۔لیکن شاید آپ غصے میں یہ بھول جاتے ہیں کہ میں انسان ہوں جذبات رکھتی ہوں۔۔”اسکی آنکھ سے آنسو بہہ کر گال پر لڑکھا میر بخت ٹھٹک کر کرسی سے اٹھا۔وہ کم از کم اسے رُلانا نہیں چاہتا تھا۔” ہانی۔۔آپ رو رہی ہیں؟ “وہ اچھنبے سے بولا ام ہانی نے بے دردی سے گال ہر بہتا آنسو رگڑا ” آپ مجھے پہلے دن سے ہرٹ کرتے آئے ہیں۔میں ان رویوں کی عادی نہیں ہوں۔ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں۔مجھے تکلیف میں دیکھ کر وہ کئیں راتیں سو نہیں پاتے۔میری زندگی کے آپ پہلے انسان ہیں جو مجھ پر اس طرح سے چیخ چلا رہے ہیں۔میری تزلیل کر رہے ہیں۔آپ برے ہیں میر سر۔بہت برے۔مجھے نہیں پتہ میں نے ایسا کونسا جرم کیا ہے جس کی آپ مجھے اسطرح سے سزا دے رہے ہیں اور وہ جرم جو بھی ہو کم از کم اتنا بڑا تو نہیں ہو گا کہ آپ میری اس طرح سے بے عزتی کریں۔ آپ انتہائی برے اور پتھر دل انسان ہیں۔میں آپکی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔” وہ روتے ہوئے باہر بھاگی۔ “اُمِ ہانی رکیں میری بات سنیں۔ہانی رکیں۔”وہ اسکے پیچھے بھاگا تھا۔ “بولیں کچھ اور اگر کہنے کو رہتا ہے تو وہ بھی بول دیں اب آپ۔۔ میں یہیں ہوں۔ سن رہی ہوں۔آپ اور مجھے جتنا بے عزت کرنا چاہتے ہیں کریں۔ بلکہ ابھی رک جائیں ابھی یہاں کوئی نہیں ہے۔کل آپ سارے کالج کے سامنے مجھے بے عزت کر لیجئے گا۔شاید آپ کو تب سکون آئے گا. ” اس نے بے دردی سے اپنے آنسو رگڑے۔پتہ نہیں کیوں اسے اس قدر رونا آ رہا تھا۔”سوری میری غلطی ہے مجھے آپ سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی پلیز آپ روئیں تو مت مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔” وہ شدید پشیمان ہوا۔ام ہانی کا رونا اسے تکلیف دے رہا تھا۔”آپ کو اچھا کیوں نہیں لگ رہا ہاں؟ آپ کو تو بہت اچھا لگنا چاہیے مجھے تکلیف میں دیکھ کر۔ میں آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ میری پوری لائف میں آج تک کسی نے مجھ سے اتنی بری طرح سے بات نہیں کی۔ آپ بہت پتھر دل انسان ہیں میر سر۔”وہ کہہ کر جا چکی تھی۔ اور میر بخت وہ وہیں کالج کی راہداری میں مجسمہ بنے کھڑا تھا۔ بالکل ساکت سا۔ جیسے اسکے وجود نے کبھی حرکت ہی نہ کی تھی۔ وہ کافی دیر وہاں کھڑا رہا۔ “آپ بہت پتھر دل انسان ہیں میر سر۔۔۔ پتھر دل انسان۔۔” ہانی کے جملے اس کے کانوں کے پردے پھاڑ دینے کو کافی تھے۔ اسکی ٹانگیں مستقل کھڑے رہنے سے شل ہو چکی تھیں۔ اسے کالج کی راہداری میں مجسمہ بنے کھڑے خود کے وجود سے سخت نفرت محسوس ہونے لگی تھی۔ “لڑکیوں پر غصہ نہیں کرتے بخت۔وہ نازک ہوتی ہیں۔اونچی آوازیں انہیں توڑ دیتی ہیں” شاہزیب کی آواز اسکے کانوں پر ہتھوڑے بن کر برسی۔وہ آفس کی طرف بھاگا اپنا سامان سمیٹا اور گھر روانہ ہوا۔ سارے راستے وہ شہد رنگ روتی آنکھیں اسکی سوچوں کو منتشر کرتی رہیں۔ تین بار اسکا ایکسیڈنٹ ہوتے بچا تھا۔
گھر پہنچتے ہی میر بخت سیدھا اپنے بیڈ روم میں آیا۔ اسے بہت زیادہ افسوس ہو رہا تھا۔ ارمان کی ساری فرسٹریشن اس نے ہانی پر نکالی تھی۔ یہ سب ارمان کی وجہ سے ہوا تھا اسنے ہی صبح اسے غصہ دلایا تھا۔ بعد میں ام ہانی کی باتوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔ اگر صبح صبح اسکا ارمان سے جھگڑا نہ ہوا ہوتا تو ایسا بالکل نہ ہوتا۔ نا جانے وہ پھر سے میر بخت کی زندگی میں کیوں آ ٹپکا تھا۔ اور پتہ نہیں وہ جیل سے اتنی جلدی کیوں رہا ہوا تھا۔ ارمان، میر بخت کا یونی فیلو تھا۔ شروع شروع میں وہ دونوں دوست تھے۔ مگر ارمان ہر آتی جاتی لڑکی سے فرینک ہوتا۔ یونی میں اسکی بہت سی گرل فرینڈز تھیں۔ جسکی وجہ سے میر بخت نے اس سے دوستی توڑ دی تھی۔ مگر ایک دفعہ ارمان نے کسی لڑکی کو اغوا کر لیا تھا۔ جسکی وجہ سے اسے جیل ہو گئی۔ اور اب وہ چار سال بعد پھر سے واپس آگیا تھا۔ اور اسنے آتے ہی پھر سے میر بخت سے ملنا بھی شروع کر دیا تھا۔ اور آج صبح بھی وہ اس سے ملنے آیا تھا۔ میر بخت کو لگا کہ اب وہ تھوڑا بدل گیا ہو گا۔ مگر وہ غلط تھا۔ کیونکہ فطرت کبھی نہیں بدلا کرتی۔

__________
جاری ہے

اگلی قسط ان شاء اللہ تعالیٰ پندرہ دن بعد آئے گی۔
Follow me on Instagram:
mominaaz_pen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *