Girdaab Episode 13 written by siddiqui

گرداب ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۱۳

باب پنجم: پہلی لہر

کچھ ہی دیر بعد فارم ہاؤس کے مختلف حصوں سے ریپر کے آدمی ایک ایک کر کے بھاگنے لگے۔
کچھ پچھلی جانب سے نکل گئے، جبکہ کچھ موقع ملتے ہی گیٹ کی طرف دوڑ گئے۔
چند ہی منٹوں میں وہ وسیع و عریض فارم ہاؤس، جو کچھ دیر پہلے تک مسلح افراد سے تقریباً خالی ہو چکا تھا۔
امن نے حیرت سے اردگرد دیکھا۔
اُس کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا۔
کیا یہ لوگ صرف اُس کی پارٹی خراب کرنے کے لیے آئے تھے؟
آخر اُن کا اصل مقصد کیا تھا؟
وہ ابھی تک نہات کو بھی نہیں دیکھ پایا تھا۔
البتہ سنان اور زرقان اُسے مل چکے تھے۔
دوسری طرف افتخار صاحب بھی پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مل کر حالات پر قابو پانے میں مصروف تھے۔
اسی دوران آفیسر ظفر تیزی سے امن کے پاس آئے۔
آپ اپنی فیملی کو لے کر گھر جائیں۔
یہاں کا معاملہ ہم سنبھال لیں گے۔
امن نے ایک نظر اُن کی طرف دیکھا، پھر بےچینی سے پوچھا،
ٹھیک ہے… لیکن دادی اور امل کہاں ہیں؟
سنان فوراً بولا،
اُسے یسریٰ لے گئی۔
امن چونک گیا۔
کیسے لے گئی؟
سنان نے کندھے اچکائے۔
یہ تو نہیں معلوم… بس لے گئی۔
پھر اُس نے قدرے اطمینان سے کہا،
گھر چلو… وہ تمہیں وہیں مل جائے گی۔
امن نے ایک لمحے کے لیے کچھ سوچا، پھر اچانک اُسے نہات کا خیال آیا۔
اور نہات کہاں ہے؟
ظفر کے چہرے پر سنجیدگی آ گئی۔
اُسے چوٹ لگ گئی ہے۔
امن فوراً چونکا۔
کیا؟
کہاں ہے وہ؟
ظفر نے سکون سے جواب دیا،
ہسپتال۔
امن کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔
ہسپتال کیوں؟ کیا ہوا اُسے؟
ظفر نے وضاحت کی،
جن گارڈز کو گولیاں لگی تھیں، اُنہیں گاڑی کے ذریعے ہسپتال بھیجا گیا تھا۔ اُسی دوران آپ کے گارڈ ارحم کو بھی گولی لگی۔
وہ ایک لمحے کو رکے، پھر بولے،
نہات صاحب اُسے لے کر ہسپتال گئے ہیں۔ میں نے ہی انہیں وہاں بھیجا تھا۔
امن نے فوراً پوچھا،
ٹھیک تو ہیں وہ دونوں؟
ظفر نے قدرے محتاط لہجے میں جواب دیا،
یہ ہسپتال پہنچ کر ہی معلوم ہو سکے گا۔
سنان نے فوراً امن کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
چلو نا گھر… نہات خود کال کر دیں گے۔
امن نے چند لمحے خاموش رہ کر فارم ہاؤس کی طرف دیکھا۔
ہر طرف بکھرا ہوا سامان، ٹوٹے ہوئے شیشے اور فائرنگ کے نشانات اُس خوفناک حملے کی گواہی دے رہے تھے۔
اُس نے گہری سانس لی۔
ہمم…
پھر وہ سب گھر جانے کے لیے آگے بڑھ گئے۔
مگر امن کے ذہن میں اب بھی ایک ہی سوال تھا…
ریپر کے لوگ آخر آئے کس مقصد سے تھے؟
شاید اُن کا مقصد صرف امن کی پارٹی خراب کرنا تھا۔۔

+++++++++++++

اُدھر گاڑی جیسے ہی امن کے گھر کے سامنے آ کر رکی، سب لوگ تیزی سے اندر داخل ہوئے۔
گھر کے اندر پہنچتے ہی امن کی نظر سامنے موجود انیسہ بیگم پر پڑی، جو لونچ کے صوفے پر بالکل خیریت سے بیٹھی تھیں۔
اُنہیں دیکھتے ہی انیسہ بیگم فوراً اپنی جگہ سے اٹھیں اور تیزی سے امن کی طرف بڑھیں۔
اَے… آ گیا تُو؟
اُنہوں نے بےچینی سے اُسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
چوٹ تو نہیں لگی؟
امن نے فوراً سر ہلایا۔
نہیں دادی… مجھے کچھ نہیں ہوا۔
اطمینان ہونے کے بعد انیسہ بیگم فوراً سنان کی طرف بڑھیں۔
اَے… تجھے تو چوٹ نہیں لگی؟
اور پھر بغیر کچھ کہے اُس کا بازو پکڑ لیا۔
اَے... اِدھر آ!
سنان نے حیرت سے اُنہیں دیکھا۔ دادی؟
مگر انیسہ بیگم کہاں رکنے والی تھیں۔
انہوں نے پہلے اُسے سر سے پاؤں تک غور سے دیکھا، پھر اُس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اُسے ایک طرف گھمایا۔
یہاں چوٹ تو نہیں لگی؟
پھر اُسے دوسری طرف گھمایا۔
اور اِدھر؟
اُن کی نظریں اُس کے بازوؤں، کندھوں اور سینے پر تیزی سے دوڑ رہی تھیں، جیسے کپڑوں کے اوپر سے بھی ہر چوٹ تلاش کر لینا چاہتی ہوں۔
سنان نے بےبسی سے اُن کے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔
دادی، میں بالکل ٹھیک ہوں…
مگر انیسہ بیگم نے اُس کی بات سنی اَن سنی کر دی۔
اُنہوں نے اُس کا ایک بازو اوپر کیا، پھر دوسرے کو پکڑ کر ہلایا۔
ہاتھ تو سلامت ہیں؟
دادی…
اَے چپ! پہلے ہمیں دیکھ لینے دے۔
سنان نے بےچارگی سے ہاتھ اٹھائے۔
ارے دادی! کیا کر رہی ہیں؟ ڈگڈگی لگا رہی ہیں۔۔
انیسہ بیگم نے اُسے گھورا۔
اَے پاگل۔۔۔
پھر وہ زرقان کی طرف بڑھیں۔
زرقان نے اُنہیں اپنی طرف آتے دیکھا تو فوراً دونوں ہاتھ اوپر کیے، پھر وہیں کھڑے کھڑے ایک چکر کاٹ کر خود کو دکھا دیا۔
مجھے بھی کُچھ نہیں ہوا نہیں دادی…
افتخار صاحب جو کچھ فاصلے پر کھڑے یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے، آخرکار بول پڑے۔
اپنے بچوں کو دیکھنے سے فرصت مل گئی ہو تو شوہر کو بھی دیکھ لو۔
اُن کی بات سنتے ہی امن، سنان اور زرقان کے چہروں پر مسکراہٹ آ گئی۔
امن نے مسکراتے ہوئے کہا،
نہات صحیح کہتا ہے… آپ ہم سے جیلس ہوتے ہیں۔ دادا،
افتخار صاحب نے فوراً ناگواری سے کہا
اُس کی تو بات ہی مت کرو ہم سے،
انیسہ بیگم نے اطمینان سے اُن کی طرف دیکھا۔
آپ کو کچھ نہیں ہوگا، ہمیں پتا ہے۔
افتخار صاحب نے بھنویں چڑھائیں۔
کیوں؟ ہم پتھر کے بنے ہیں؟
انیسہ بیگم نے فوراً جواب دیا،
آپ کی جوانی سے ہی اِن سب چیزوں کی پریکٹس ہے۔ اب ہم آپ کے لیے پریشان ہوتے ہوتے تھک چکے ہیں۔
افتخار صاحب نے قدرے مصنوعی ناراضی سے اُنہیں دیکھا۔
عجیب عورت ہو تُم… کہیں تمہارے دل سے ہماری محبت تو ختم نہیں ہو گئی؟
انیسہ بیگم نے بےنیازی سے کہا،
کاش ختم ہو جاتی۔
افتخار صاحب فوراً متوجہ ہوئے۔
ختم ہو جاتی تو؟
انیسہ بیگم نے اُنہیں دیکھ بیچاری والا چہرا بنایا۔۔
تو کب کا چھوڑ کر بھاگ چکے ہوتے ہم۔
اگلے ہی لمحے تینوں لڑکوں کے ساتھ ساتھ انیسہ بیگم کے لبوں پر بھی ہنسی آ گئی۔
افتخار صاحب نے بےبسی سے سر ہلایا۔
تم بھی نا… ہمارا کبھی بھرم نہیں رکھ سکتی۔
ہٹیا جائیے یہاں سے۔۔
انیسہ بیگم نے ہاتھ کے اشارے سے اُنہیں دور کیا۔
امن ابھی مسکرا ہی رہا تھا کہ اچانک اُسے کچھ یاد آیا۔
دادی… امل؟
انیسہ بیگم نے فوراً جواب دیا،
اَے ہاں! وہ کمرے میں ہے۔
پھر اُنہوں نے قدرے فکر مندی سے کہا،
بےہوش ہو گئی تھی۔ بہت ڈرپوک ہے یہ لڑکی… اسے کچھ سکھاؤ۔
امن چونک گیا۔
بےہوش کیسے ہو گئی؟
زرقان نے فوراً کہا،
ڈر گئی ہوگی۔ پہلے کبھی اُس نے یہ سب دیکھا کہاں ہوگا۔
امن نے قدرے سنجیدگی سے جواب دیا،
وہ جس قیامت سے گزر چکی ہے… اُس کے لیے یہ سب اب بہت چھوٹی سی بات ہے۔
وہ امل کو دیکھنے کے لیے آگے بڑھنے لگا۔
مگر انیسہ بیگم نے فوراً اُس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
اَے! نہ جا ابھی۔ ابھی ہم اُسے سُلا کر آئے ہیں۔ صبح دیکھ لینا۔ ہم کہہ رہے ہیں نا، ٹھیک ہے وہ۔
امن نے چند لمحے سوچا، پھر سر ہلا دیا۔
اچھا، ٹھیک ہے۔
پھر اُسے اچانک یسریٰ کا خیال آیا۔
اور یسریٰ؟
انیسہ بیگم کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ پھیل گئی۔
اَے ہاں! وہ یسریٰ بھی اپنے کمرے میں ہے۔
پھر فخر سے بولیں،
بڑی بہادر لڑکی ہے۔۔ وہ۔۔
زرقان نے فوراً دلچسپی سے پوچھا،
کیوں؟ کیا کیا اُس نے؟
انیسہ بیگم نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
اَے… ہم دونوں کو و وہیں وہاں سے نکال کر لے آئی ہے۔
زرقان نے چونک کر پوچھا، وہ تو معمولی سی شیف ہے نا؟ پھر…؟
سنان نے فوراً اپنا ہاتھ اٹھایا۔
دادی، تھوڑی میری بھی تعریف کر دیں۔ میں نے بھی کچھ کیا تھا۔
انیسہ بیگم نے اُسے دیکھ کر فوراً کہا،
اَے ہاں! تُو بھی بہت بہادر ہے۔
سنان نے خوش ہو کر سر ہلایا۔
شکریہ، شکریہ۔۔۔
زرقان نے بےصبری سے کہا،
میرے سوال کا تو جواب دیں۔
اَے، میرے سے کیا پوچھ رہا ہے؟ اُسی سے پوچھنا۔
امن زرقان سے مخاطب ہوا
ہاں، تم صبح اُس سے بات کر لینا۔ میں بھی کروں گا۔
انیسہ بیگم نے تینوں کو دیکھ کر حکم دیا،
جاؤ اب آرام کرو۔ تینوں۔۔
امن نے کچھ کہنا چاہا، مگر پھر نہات کا خیال آ گیا۔
لیکن دادی… نہات؟
انیسہ بیگم فوراً پریشان ہوئیں۔
اَے، کیا ہوا اُسے؟ پھر گولی لگ گئی کیا؟
امن نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں، لیکن کافی چوٹ آئی ہے۔
یہ کہتے ہوئے وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔ اُس نے اپنی شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھولے اور گہری سانس لی۔
کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد بولا،
مجھے اُس کی بہت فکر ہوتی ہے۔
اُس کی آواز میں پہلی بار واضح پریشانی تھی۔
وہ ہر دفعہ میرے معاملات میں پھنس جاتا ہے… اور مجھے تو کچھ نہیں ہوتا، اُسے چوٹ لگ جاتی ہے۔
انیسہ بیگم نے فوراً بات پکڑ لی۔
اَے… یہ تو ہے۔ وہ تیرا وہی ہے نا، جو تُو کہتا ہے…
وہ ایک لمحے کو رکیں۔
لکی چارم؟
امن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
ہاں…
مگر اگلے ہی لمحے اُس کے چہرے پر سنجیدگی لوٹ آئی۔
لیکن اب مجھے اُس کے لیے ڈر لگنے لگا ہے۔
افتخار صاحب نے قدرے ناگواری سے اُن کی بات سنی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولے،
سنبھال کے… کہیں تُو اُس کے غم میں رہ رہ کر پاگل نہ ہو جانا۔
یہ کہہ کر وہ اندر چلے گئے۔
سنان نے اُنہیں جاتے ہوئے دیکھا۔
اِن کو کیا ہوا؟
امن نے بےفکری سے جواب دیا،
چھوڑ دو اُنہیں۔ وہ نہات کو پسند نہیں کرتے۔
زرقان فوراً چونکا۔
کیوں؟
امن نے مختصر سا جواب دیا،
بہت لمبی کہانی ہے… پھر کبھی سناؤں گا۔
اُسی وقت گھر کا دروازہ کھلا۔
سب کی نظریں بےاختیار اُس طرف اٹھ گئیں۔
اگلے ہی لمحے نہات تیزی سے اندر داخل ہوا۔
اُس کے سر اور ہاتھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی، مگر چوٹ زیادہ گہری معلوم نہیں ہو رہی تھی۔
وہ تقریباً بھاگتا ہوا امن کے پاس آیا۔
بھائی۔۔۔ بھائی
اُس کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔
بھائی… تم ٹھیک ہو؟
امن فوراً کھڑا ہو گیا۔
تم ٹھیک ہو؟
سنان نے دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر جھنجھلا کر کہا،
ارے! کیا ٹھیک ہو، ٹھیک ہو کر رہے ہو؟ نظر نہیں آ رہا کیا؟ دونوں ہی ٹھیک ہو۔۔۔
نہات نے جلدی سے امن کا بازو پکڑا۔
بھائی، یار… سوری۔ مجھے تمہیں چھوڑ کر ہسپتال جانا پڑا۔ وہ ارحم…
امن نے فوراً اُس کی بات کاٹ دی۔
ارحم ٹھیک ہے؟
نہات نے سر ہلایا۔
ہاں، اب ٹھیک ہے۔ لیکن کچھ دن ریکور ہونے میں وقت لگے گا۔
امن نے اُس کے سر پر بندھی پٹی کو دیکھا۔
تم پاگل ہو؟ تمہیں یہ چوٹ کیسے لگی؟
نہات نے بےفکری سے کندھے اچکائے۔
چھوڑو… لگ گئی تو لگ گئی۔
زرقان نے ایک لمحے کے لیے نہات کو غور سے دیکھا۔
پھر وہ سنان کے قریب جھکا اور اُس کے کان میں سرگوشی کی،
مجھے اِس انسان پر شک ہے۔
سنان نے فوراً گردن موڑی۔
کیااا؟ وہ اتنا تیز چیخا جیسے زرقان نے کِسی کے موت کی خبر اُسے سنا دی ہو۔۔۔
زرقان نے اُس کا بازو کھینچ لیا۔
ابے منحوس! چیخ مت۔
امن اور نہات دونوں فوراً اُن کی طرف متوجہ ہوئے۔
کیا ہوا؟
سنان نے فوراً بات سنبھالی۔
نہیں… کچھ نہیں۔
زرقان نے دوبارہ دھیمی آواز میں کہا،
سمجھ رہا ہے نا؟ اِس پر نظر رکھ۔
سنان نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
لیکن وہ اُن کا دوست ہے۔ کتنا اچھا ہے۔۔۔
زرقان نے اُسے گھورا۔
اچھا ہے… تبھی کہہ رہا ہوں۔ وہ جو اچھے ہوتے وہیں لوگ زیادہ خطرناک ہوتے،
سنان نے چند لمحے سوچا، پھر اچانک بولا،
اچھا… اور مجھے یسریٰ پر شک ہے۔
زرقان نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
کیوں؟
سنان نے قدرے شاک ہو کر کہا،
اُسے فارم ہاؤس کی ایک ایک لوکیشن پتا تھی، بھائی صاحب۔ جیسے وہ فارم ہاؤس اُس کا ہو، اور وہ اتنی آسانی سے دادی اور امل کو باہر لے گئی۔ باہر سے کیا… گھر تک لے آئی۔۔۔
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر بولا،
اور اُس کی طرف کسی نے نوٹس بھی نہیں کیا۔
زرقان نے فوراً سر جھٹکا۔
ابے، نوٹس کیوں کرتے؟ وہ لوگ وہاں تباہی مچانے آئے تھے، کسی ایک شخص کو مارنے نہیں۔ جو بھاگ رہا تھا اُسے بھگانے دے رہے تھے، اُن کا مقصد صرف پارٹی خراب کرنا تھا،
سنان نے فوراً پوچھا،
تجھے کیسے پتا؟
زرقان نے اُسے ایسے دیکھا جیسے اُس نے کوئی انتہائی بےوقوفانہ سوال پوچھ لیا ہو۔
اندھا تھا کیا تُو؟ دِکھ نہیں رہا تھا؟
گولیاں اُن کی کہاں کہاں چل رہی تھیں؟
سنان نے آہستہ سے سر ہلایا۔
آہو… ہو سکتا ہے۔

+++++++++++++

صبح کی ہلکی سی روشنی بالکونی کے پردوں کے کناروں سے چھن چھن کر کمرے کے فرش پر بکھر رہی تھی۔
امل نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔
چند لمحوں تک وہ نیم خوابیدہ سی چھت کو دیکھتی رہی، جیسے ابھی تک نیند اور بیداری کے درمیان کہیں ٹھہری ہوئی ہو۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس کی ناک سے ٹکراتی ایک مانوس سی خوشبو نے اُس کے حواس کو چونکا دیا۔
امل فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی۔
اُس نے گہری سانس لی۔
پورا کمرہ ایک تیز اور بھاری پرفیوم کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔
اتنی شدید خوشبو تھی کہ چند ہی لمحوں میں اُس کا سر چکرانے لگا۔
امل نے بےاختیار اپنے کپڑوں کو دیکھا۔
اُس کے لباس سے بھی وہی خوشبو آ رہی تھی۔
وہ چند لمحے ساکت بیٹھی اپنے لباس کو غور سے دیکھتی رہی۔
یہ… خوشبو…؟
اُس کی بھنویں آپس میں سمٹ گئیں۔
اچانک گزشتہ رات کا منظر اُس کے ذہن میں ابھرا۔
ریپر کے قریب… وہی خوشبو…
امل نے بےاختیار اپنی سانس روک لی۔
کیا یہ… وہی خوشبو ہے؟
اُس نے اپنی انگلیاں لباس کے کپڑے پر پھیریں، پھر دوبارہ گہری سانس لینے کی کوشش کی۔
مگر خوشبو اتنی تیز تھی کہ اُس کا سر مزید بھاری ہونے لگا۔
کل اُس نے جو خوشبو محسوس کی تھی، وہ بھی کچھ ایسی ہی تھی…
مگر کیا واقعی دونوں خوشبوئیں ایک جیسی تھیں؟
یا اُس کا ذہن رات کے واقعے کی وجہ سے اُسے دھوکا دے رہا تھا؟
وہ جتنا یاد کرنے کی کوشش کرتی، یاد اتنی ہی دھندلی ہوتی جاتی۔
اُس نے جھنجھلا کر اپنا سر ہلایا۔
نہیں… مجھے کچھ یاد کیوں نہیں آ رہا؟
چند لمحے مزید سوچنے کے بعد اُس نے فیصلہ کیا کہ فی الحال اِس بات کو ذہن پر سوار کرنا بےکار ہے۔
امل فوراً بستر سے اٹھی۔
وہ تیزی سے بالکونی کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول دیا۔
پھر اُس نے ایک ایک کر کے بالکونی کے تمام شیشے اور پردے کھول دیے، تاکہ تازہ ہوا اندر آ سکے اور کمرے میں پھیلی ہوئی تیز خوشبو کچھ کم ہو۔
وہ چند لمحے وہیں کھڑی گہری گہری سانسیں لیتی رہی۔
مگر خوشبو اب بھی اُس کے کپڑوں سے آ رہی تھی۔
امل نے فوراً الماری کھولی، جلدی سے کپڑے نکالے اور واش روم کی طرف بڑھ گئی۔
اُس کے ذہن میں ابھی بھی ایک ہی سوال مسلسل گردش کر رہا تھا…
کیا واقعی… یہ وہی خوشبو تھی؟
یا پھر…
ریپر جان بوجھ کر کسی دوسری خوشبو کے ذریعے اُسے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا؟
امل نے بےچینی سے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔
جتنا وہ اُس خوشبو کے بارے میں سوچتی، اُتنا ہی معاملہ اُلجھتا جا رہا تھا۔
اُسے کل کا وہ لمحہ بار بار یاد آ رہا تھا…
وہی خوشبو۔۔۔ وہی قربت۔۔۔ اور پھر اُس کا اچانک اُسے چھوڑ دینا۔
امل نے آنکھیں بند کرکے ایک بار پھر اُس خوشبو کو یاد کرنے کی کوشش کی، مگر ذہن میں صرف ایک دھندلا سا احساس ابھرا۔
کچھ تو تھا… جو کل اُس نے محسوس کیا تھا۔
مگر کیا؟
یہ وہ ابھی تک سمجھ نہیں پا رہی تھی۔.

++++++++++++

صبح کی نرم روشنی ابھی پوری طرح پھیل بھی نہیں پائی تھی کہ امن کی آنکھ کھل گئی۔
وہ حسبِ معمول بستر سے اُٹھا، وضو کیا اور کچھ ہی دیر بعد تازہ دم ہو کر اپنے کمرے سے باہر نکلا۔
آج اُس نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی، جس کے اوپر سادہ مگر ویسک کوٹ پہن رکھا تھا۔۔
کمرے سے نکلتے ہی اُسے یاد آیا کہ نِہات سے ایک ضروری کام کے سلسلے میں بات کرنی تھی۔
گزشتہ رات نِہات بھی یہیں رک گیا تھا، سو امن بغیر کسی توقف کے اُس کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
دروازہ آدھا کھلا تھا۔
امن نے ہلکی سی دستک دی، مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔
وہ دروازہ ذرا سا کھول کر اندر داخل ہوا۔
اگلے ہی لمحے اُس کی نگاہ نِہات پر پڑی۔
وہ بستر کے کنارے بیٹھا بڑی مشکل سے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر پٹی باندھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
زخمی ہاتھ کو ایک ہاتھ سے سنبھالنا اُس کے لیے خاصا دشوار تھا۔ کبھی پٹی ڈھیلی ہو جاتی، کبھی گرنے لگتی اور وہ دانت بھینچ کر دوبارہ اُسے درست کرنے کی کوشش کرتا۔
امن فوراً اُس کے قریب آیا۔
یہ کیا کر رہے ہو؟
نِہات نے چونک کر سر اُٹھایا۔
کچھ نہیں بھائی… بس پٹی۔۔۔
دو۔۔ امن نے اُس کے ہاتھ سے پٹی لے لی۔
میں باندھ دیتا ہوں۔
وہ اُس کے سامنے بیٹھ گیا اور نہایت احتیاط سے اُس کے زخمی ہاتھ پر پٹی باندھنے لگا۔
نِہات نے خاموشی سے اُسے دیکھا۔
امن نے پٹی مضبوط کرتے ہوئے بےساختہ کہا،
اسی لیے میں کہتا ہوں نِہات… شادی کرلو۔
نِہات کے چہرے پر بےزاری سی آئی۔
بھائی، ذرا آرام سے…
امن کے ہاتھ فوراً رک گئے۔
کیا ہوا؟
بازو کی طرف بھی درد ہو رہا ہے۔
امن نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔۔بازو کی طرف بھی چوٹ لگی ہے؟ دکھاؤ۔
خدا کے واسطے بھائی… وہ بےبسی سے بولا،
اب میں صرف دکھانے کے لیے ٹی شرٹ تو نہیں اتارنے والا۔
امن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر اگلے ہی لمحے اُس کے لہجے میں فکر نمایاں ہو گئی۔
ابھی کچھ دنوں پہلی ہی تو تمہیں گولی لگی ہے۔
تمہیں احتیاط کرنا چاہیے تھا۔۔۔
نِہات نے فوراً جواب دیا،
کی تھی میں نے احتیاط۔
امن نے پٹی کی آخری گرہ باندھی اور کچھ لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
پھر اُس کی آواز پہلے سے قدرے سنجیدہ ہو گئی۔
میری بات سمجھنے کی کوشش کرو، نِہات۔
نِہات خاموش ہو گیا۔
امن نے دھیرے سے کہا،
اگر تمہاری اپنی فیملی ہوتی…
وہ ایک لمحے کو رکا۔
یا تمہاری فیملی کا ایک بھی فرد تمہارے ساتھ ہوتا، تو شاید میں تمہیں بار بار شادی کا نہ کہتا۔
نِہات کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
اُس نے فوراً امن کی طرف دیکھا۔
کس نے کہا میری فیملی نہیں ہے؟
امن کی نظریں اُس کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔
نِہات… اس نے خفگی سے کہا
نِہات نے فوراً بات سنبھالتے ہوئے ہلکا سا کھنکارا۔
اچھا…
امن نے اُسے چند لمحے غور سے دیکھا، مگر اُس کی بات کو مزید کریدنے کے بجائے ایک گہری سانس لی۔
پھر قدرے نرم لہجے میں بولا،
شادی کرلو نا۔
دیکھو، بیوی آئے گی تو کم از کم تمہارا خیال تو رکھے گی۔ مجھے ہر وقت ہزاروں کام ہوتے ہیں۔
نِہات نے اُسے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ اُس کے لبوں پر آ گئی۔
میں نے کہا تو ہے اپنی جیسی ہی کسی خیال رکھنے والی لڑکی سے کروا دو۔ پھر بےفکری سے بولا،
میں خوشی خوشی شادی کرلوں گا۔
ابھی نِہات کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
نِہات نے فوراً سر اُٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا۔
دروازہ پہلے ہی کھلا ہوا تھا۔
وہاں یسریٰ کھڑی تھی، جس کے ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی۔
نِہات نے اُسے دیکھتے ہی کہا،
آؤ۔۔۔
یسریٰ اندر داخل ہوئی تو اُس نے فوراً بولنا شروع کر دیا۔
اب آپ مجھے یہ نہیں بولیے گا کہ اندر تو تم آ ہی گئی تھی، ناک کرنے کی کیا ضرورت تھی تمہیں…
وہ ایک لمحے کو رکی بھی نہیں۔۔
تو میں آپ کو پہلے ہی بتا دوں… دروازہ پہلے سے ہی کھلا تھا…
وہ جلدی جلدی وضاحت کرتی چلی گئی۔
پھر اچانک اُسے احساس ہوا کہ سامنے موجود دونوں بالکل خاموش ہیں۔
یسریٰ نے بولتے بولتے اپنی نظریں اُٹھائیں۔
امن اور نِہات دونوں کے چہروں پر دبی دبی سی مسکراہٹ تھی۔
یسریٰ ایک لمحے کو رک گئی۔
کیا؟
دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
یسریٰ نے باری باری دونوں کو دیکھا۔
اب میں نے کیا کر دیا؟
نِہات نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا،
مطلب کہ تم کچھ نہ کچھ تو ہم سے چھپاتی ہو… تبھی تو تمہیں ہر وقت ایکسپلینیشن دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔
وہ ذرا سا مسکرایا۔
اور ابھی بھی تم ہمارے کچھ بولنے سے پہلے ہی ایکسپلین کر رہی تھی۔
یسریٰ نے فوراً صفائی پیش کرنے کے لیے منہ کھولا۔
نہیں، وہ تو میں…
مگر اُس کے جملہ مکمل کرنے سے پہلے ہی نِہات نے اُس کی بات کاٹ دی۔
وہ تو کیا میں؟
اُس نے شرارت سے اُسے دیکھا۔
اب کور مت کرو، میں سب سمجھتا ہوں۔
یسریٰ نے بےبسی سے اُسے دیکھا۔
امن نے دونوں کی نوک جھونک سے بےنیاز ہوتے ہوئے یسریٰ کے ہاتھ میں موجود ٹرے کی طرف اشارہ کیا۔
تم یہ کیا لے کر آئی ہو؟
یسریٰ نے فوراً جواب دیا،
وہ… انہوں نے ہی تو بولا ناشتہ کا، وہی لائی۔
امن نے نِہات کی طرف دیکھا۔
کیوں؟
نِہات نے فوراً وضاحت کی،
ہاں، میں نے بولا تھا… وہ مجھے نیچے نہیں جانا۔ نیچے پھر دادا ہوں گے اور میں اُن کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔
امن نے ہلکا سا سر ہلایا۔
اچھا اچھا، ٹھیک ہے، مت جاؤ۔
پھر اُس نے نِہات کی طرف دیکھ کر کہا،
اور ہاں، جب تک یہ چوٹیں صحیح نہیں ہوتیں تمہاری یہی رہنا۔
یسریٰ نے فوراً درمیان میں بولنے کی اجازت چاہی۔
میں کچھ بولوں؟
امن نے اُسے دیکھا۔
ہاں، پہلے یہ ٹرے سائیڈ میں رکھ دو پھر کچھ بولو۔
ہاں۔
یسریٰ نے فوراً ٹرے سائیڈ پر رکھی اور دوبارہ اُن دونوں کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
آپ پرمننٹ یہیں شفٹ کیوں نہیں ہو جاتے؟
امن نے فوراً نِہات کی طرف دیکھا
ہاں، اچھا آئیڈیا ہے۔
نِہات نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
کیوں؟ میرا اپنا گھر ہے۔
یسریٰ نے فوراً وضاحت کی،
نہیں، مطلب ہے تو میں کب بولی نہیں ہے… میرا مطلب، آئے دن تو آپ کو چوٹ لگتی رہتی ہے۔۔
وہ ذرا سا رکی، پھر بولتی چلی گئی،
پھر آئے دن آپ کو یہاں رکنا پڑتا ہے، پھر آپ نخرے کرتے ہیں… تو اِس سے اچھا ہے آپ پرمننٹ یہیں رک جائیں۔
نِہات نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
میں نخرہ کرتا ہوں؟
یسریٰ نے بالکل سادگی سے سر ہلا دیا۔
ہاں کرتے ہیں۔
امن نے فوراً تائید کی۔
ہاں، صحیح کہہ رہی ہے۔
نِہات نے دونوں کو گھور کر دیکھا۔
ہاں، آج تم اِس کے ساتھ مل جاؤ۔
امن نے مسکراتے ہوئے کہا،
صحیح کہہ رہی ہے وہ، تم بالکل لڑکیوں کی طرح نخرے کرتے ہو۔
نِہات ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ دروازے سے امل اندر داخل ہوئی۔
نِہات نے اُسے دیکھا اور فوراً ماتھے پر ہاتھ رکھ لیا۔
اوہ بھائی کی بگڑی ہوئی بہن، کسی نے تمہیں تمیز نہیں سکھائی…
امل وہیں رک گئی۔
کیا؟
نِہات نے اُسے گھورتے ہوئے کہا،
دروازہ ناک کر کے آتے ہیں کسی کے روم میں۔۔۔
امل نے فوراً صفائی پیش کی۔
لیکن دروازہ تو کھلا تھا…
نِہات نے بےبسی سے یسریٰ کی طرف دیکھا۔
یسریٰ یار، کچھ سکھاؤ اِس کو…
امل نے فوراً آنکھیں نکالیں۔
مار دوں گی میں…
پھر وہ امن کی طرف دیکھ کر بولی،
میں بھائی سے بات کرنے آئی ہوں، کچھ…
نِہات نے اُس کی بات وہیں کاٹ دی۔
سوری بھائی… اپنے بھائی نومی کے ساتھ مصروف ہیں۔ آپ نِہات سے بات کیجیے۔
امل نے اُسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
اوہ… لیکن نِہات تو ورکر مین ہے… تو مجھے کسی بھی کام کے حوالے سے بات نہیں کرنی ہے۔
نِہات نے فوراً سر ہلایا۔
اچھا، پھر نومان سے بات کیجیے۔
امل نے بےنیازی سے جواب دیا،
نومان تو میرے بھائی کا دوست ہے… اور میں بھائی کے کسی بھی دوست سے بات نہیں کرتی۔
نِہات نے ہاتھ کے اشارے سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
پھر جائیے، جس دروازے سے اندر آئی ہیں، اُسی سے واپس چلی جائیے۔
امل نے فوراً جواب دیا،
میں نہیں جا رہی۔
وہ یہ کہتے ہی وہیں سامنے موجود صوفے پر جا کر بیٹھ گئی۔
امن خاموشی سے اُن دونوں کی نوک جھونک دیکھ رہا تھا۔
کچھ لمحوں بعد اُس نے نِہات کی طرف دیکھا۔
تم یہ ناشتہ کر لو گے؟ یا میں کروا دوں؟
نِہات نے فوراً اپنا زخمی ہاتھ دیکھا۔
بھائی، میرے ایک ہاتھ…
وہ کہتے کہتے رک گیا۔
ایک لمحے کے لیے اُس کی نظر اپنے صحیح سلامت ہاتھ پر گئی۔
پھر اُس نے امل کی طرف دیکھا۔
اُس کے لبوں پر آہستہ آہستہ ایک شرارتی مسکراہٹ پھیل گئی۔
ہاں بھائی… میرے ہاتھ میں تو بہت درد ہے۔
وہ ذرا سا معصوم بنتے ہوئے بولا،
یہ بلی جیسی آنکھوں والی سے کھاؤ… مجھے کھلا دیں۔
امل نے فوراً اپنی آنکھیں سکیڑیں۔
پھر انتہائی معصومیت سے بولی،
اوہ… بلی جیسی آنکھوں والی تو بہت مصروف ہے۔
اُس نے یسریٰ کی طرف دیکھا۔
آپ ایسا کرو… بلی جیسی آنکھوں والی کی دوست کے ہاتھ سے کھا لو۔
نِہات ایک لمحے کو واقعی حیران رہ گیا۔
کون دوست؟
امل نے بڑے اطمینان سے یسریٰ کی طرف اشارہ کیا۔
یسریٰ…
یسریٰ کا نام سنتے ہی جیسے اُس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔
اُس نے فوراً امل کو دیکھا، پھر نِہات کو، اور آخر میں بےاختیار امن کی طرف دیکھا۔
امن کے چہرے پر اب بھی ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
وہ دونوں کی نوک جھونک سے خوب محظوظ ہو رہا تھا۔
یسریٰ نے گھبرا کر کہا،
ہائے اللہ! آپ کیسی کیسی باتیں کرتی ہیں…
نِہات نے فوراً اُس کی طرف دیکھا اور شرارت سے مسکرایا۔
ہائے اللہ… آپ تو شرما گئیں۔۔
یسریٰ کے چہرے پر مزید گھبراہٹ پھیل گئی۔
امن نے دونوں کو دیکھتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا،
تم ایک دوسرے کو تنگ کرتے کرتے اب اُسے تنگ کرنے لگے…
نِہات اور امل کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔
امن بھی اُن دونوں کی نوک جھونک سے محظوظ ہو رہا تھا۔
بس ایک یسریٰ ہی تھی جو اُن تینوں کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش میں مسلسل اُن کے چہرے دیکھ رہی تھی۔
آخرکار وہ بےبسی سے بولی،
آپ لوگ مجھے سے کیوں کنفیوز کر رہے ہیں؟
نِہات نے فوراً معصومیت سے کہا،
ارے کہاں کنفیوز کیا؟
امل نے بھی فوراً ہامی بھری۔
ہاں، ہم تو بس ناشتہ کروانے کی بات کر رہے ہیں۔
یسریٰ نے حیرت سے دونوں کو دیکھا۔
یہ کوئی بات ہوئی؟ میں کیسے ناشتہ کروا سکتی ہوں؟
امن نے اُس کی الجھن دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مزید کہا،
دیکھو اگر تمہیں اِس کے الگ سے سیلری چاہیے تو وہ بھی لے سکتی ہو تم۔
یسریٰ نے ایک ایک کر کے تینوں کے چہرے دیکھے۔
امن… نِہات… امل…
تینوں کے چہروں پر عجیب سی سنجیدگی تھی، مگر آنکھوں میں چھپی شرارت صاف دکھائی دے رہی تھی۔
یسریٰ کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔
وہ چند لمحے خاموش کھڑی رہی۔
پھر اچانک بولی،
مجھے لگ رہا ہے دادی جان مجھے بلا رہی ہیں۔۔
اور اس سے پہلے کہ اُن میں سے کوئی اُسے روک پاتا، یسریٰ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی اور وہاں سے تقریباً بھاگتی ہوئی نکل گئی۔
اُس کے جاتے ہی کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
پھر نِہات اور امل نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
اور اگلے ہی لمحے دونوں کی ہنسی کمرے میں گونج اُٹھی۔
امن نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے یسریٰ ابھی ابھی بھاگ کر گئی تھی، پھر بےاختیار سر جھٹکا۔
پاگل دونوں… وہ سیریس ہو گئی۔
امل کی ہنسی ابھی تک نہیں رکی تھی۔
ہاہاہا… کتنی معصوم ہے یہ۔
نِہات نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
ہاں، دیکھو کچھ سیکھو…
امل نے فوراً گردن اکڑائی۔
کیا سیکھوں؟ معصوم بننا؟ وہ تو میں پہلے سے ہوں…
نِہات نے فوراً آنکھیں بند کر کے سر جھٹکا۔
استغفراللہ… اتنا جھوٹ۔۔۔
امل نے بےساختہ جواب دیا،
جھوٹ نہیں، سچ۔۔۔
امن اُن دونوں کی نوک جھونک سنتے ہوئے مسکرا دیا۔
پھر اُس نے نِہات کی طرف دیکھا اور قدرے سنجیدہ لہجے میں بولا،
اچھا، تم آرام سے ناشتہ کر لو۔ اور زیادہ تکلیف ہے ہاتھ میں تو آج گھر پر ہی ریسٹ کرو۔
نِہات نے فوراً گردن جھکا کر تابعداری کا انداز اپنایا۔
جو حکم، سرکار۔ پھر شرارت سے بولا،
جائیے اب…
امن نے ہلکا سا سر ہلایا۔
اُس کے ساتھ ہی امل بھی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
دونوں کمرے سے باہر نکل گئے، جبکہ نِہات اُنہیں جاتے دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دیا۔

++++++++++++

امن اور امل اب امن کے کمرے میں موجود تھے۔
امن نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور امل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
بولو…
امل چند لمحے خاموش رہی، جیسے سوچ رہی ہو کہ بات کہاں سے شروع کرے۔
پھر آہستہ سے بولی،
بھائی… کل میں ریپر سے ملی تھی۔
امن کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
دوبارہ؟ اُس نے فکرمندی سے پوچھا،
کچھ کیا تو نہیں اُس نے؟
امل نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں…
امن نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
لیکن تم تو یسریٰ کے ساتھ تھی نا؟
ہاں… ٹھیک۔ پھر یسریٰ گاڑی لینے گئی تو…
امل اچانک رکی۔۔
وہ چھوڑیں… وہ قدرے آگے جھکی۔
میری بات سنیں۔
امن خاموشی سے اُسے دیکھنے لگا۔
کل جب میں اُس کے ساتھ تھی نا… تو اُس کے پرفیوم کی خوشبو…
وہ ایک لمحے کو رکی، جیسے اُس خوشبو کو یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
جو ریپر نے لگا رکھی تھی… ویسے تو میں نے اُس کا چہرہ نہیں دیکھا۔
لیکن وہ خوشبو..
امل کی آواز میں الجھن نمایاں تھی۔
وہی خوشبو میں نے پارٹی میں بھی محسوس کی تھی۔ یا مطلب… میں آپ کو کیسے سمجھاؤں؟
اُس نے بےبسی سے کہا،
مطلب جیسے وہ خوشبو جانی پہچانی تھی۔ جیسے میں پہلے بھی اُسے محسوس کر چکی ہوں۔
امن نے فوراً پوچھا،
کیسی خوشبو تھی؟
امل نے کچھ دیر سوچا، پھر سر جھکا لیا۔
بھائی… وہ یاد نہیں۔
میں نے جیسے ہی اُسے محسوس کیا، پھر میں اچانک بےہوش ہو گئی۔
اُس نے دھیرے دھیرے پوری بات بتانا شروع کی۔
پھر جب میری آنکھ کھلی تو میں رات کو گھر میں تھی اور دادی میرے پاس بیٹھی تھیں۔ اُس وقت مجھے زیادہ ہوش نہیں تھا، سر بھاری ہو رہا تھا۔
پھر میں نے سر درد کی دوا لی اور دوبارہ سو گئی۔
اور جب صبح اُٹھی تو میرا پورا کمرہ اُسی خوشبو سے مہک رہا تھا۔
امل نے پریشانی سے امن کی طرف دیکھا۔
لیکن بھائی… اب مجھے یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ وہ دونوں خوشبوئیں ایک ہی تھیں یا الگ الگ۔
پھر اُس کی آواز میں یقین آ گیا۔
لیکن بھائی، اگر میں اُس وقت بےہوش نہ ہوتی نا…
وہ ایک لمحے کو رکی۔
تو میں پکا پہچان لیتی۔
بھائی، میں پکا پہچان لیتی ریپر کو۔
امن کی نظریں اُس کے چہرے پر جم گئیں۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد اُس نے آہستہ سے کہا،
مطلب… ریپر ہمارے آس پاس ہے۔
امل نے فوراً سر ہلایا۔
ہاں بھائی۔ وہ ہر وقت ہمارے آس پاس رہتا ہے۔
اُس کی آواز میں تشویش بڑھ گئی۔
بھائی، ہم کسی پر بھی بھروسا نہیں کر سکتے۔
یہ حیدر بھائی، یہ علی بھائی… اور آپ کے گارڈز میں سے بھی تو وہ ہو سکتا ہے۔ یا آپ کی پارٹی میں سے بھی..
اُس نے فوراً کہا،
آپ کسی پر بھی بھروسا مت کریں۔
امن نے ایک گہری سانس لی۔
ایسا تو نہیں ہو سکتا نا کہ میں کسی پر بھی بھروسا نہ کروں۔ اُس نے سنجیدگی سے کہا،
اگر میں کسی پر بھروسا ہی نہیں کروں گا تو ریپر تک پہنچوں گا کیسے؟
امل خاموش ہو گئی۔ پھر قدرے بےیقینی سے بولی،
بھائی… پھر تو اگر وہ ہمارے ساتھ ہی ہوا؟
امن نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر بات بدلتے ہوئے بولا،
اچھا، یہ چھوڑو ابھی۔
وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
دیکھو، ابھی تمہیں وہ کرنا پڑے گا جو آج سے پہلے تم نے کبھی نہیں کیا۔
امل نے حیرت سے پوچھا،
کیا؟
امن نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا،
دیکھو، ریپر تمہارے پاس تب ہی آئے گا جب میں نہیں ہوں گا۔ میرے ہوتے ہوئے تو وہ تمہارے سامنے کبھی آئے گا ہی نہیں۔
امل نے آہستہ سے سر ہلایا۔
ہاں…
امن نے بات جاری رکھی۔
تو تمہیں فائٹنگ، گن چلانا… اور سب سے بڑھ کر خود کو خود پروٹیکٹ کرنا سیکھنا ہوگا۔
امل نے فوراً اُسے پکارا،
بھائی…
امن نے نرمی سے اُسے روکا۔
نہیں۔ ڈرو نہیں۔ میں ساتھ ہوں نا تمہارے۔
پھر اُس نے قدرے سنجیدہ لہجے میں پوچھا،
تم خود بتاؤ، کیا ایسے ہی اُس سے ڈرتی رہو گی؟
یا اُس کا مقابلہ کرنا چاہتی ہو؟
امل نے کچھ لمحے خاموش رہ کر کہا،
میں…
پھر اُس نے بےاختیار اعتراف کیا،
میں… بھائی، مجھے بہت غصہ آتا ہے۔
امن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
جس پر غصہ آ رہا ہے، اُس پر ہی نکالو۔
پھر اُس کی آواز قدرے مضبوط ہو گئی۔
بس کبھی خوف کو خود میں حاوی مت ہونے دینا۔۔
پھر ہر جنگ میں جیت تمہاری ہوگی۔
امل خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی۔
امن نے چند لمحوں بعد کہا،
ابھی میں تمہارے لیے ایک باڈی گارڈ ہائر کروں گا۔
جو ہر وقت تمہارے ساتھ رہے گی۔ جہاں کہیں بھی تم جاؤ گی، وہ تمہارے ساتھ جائے گی۔
اور وہ تمہیں فائٹنگ اور گن چلانا بھی سکھاتی رہے گی۔ فیمیل سے تو مسئلہ نہیں نا؟ اُس پر تو ہم بھروسا کر سکتے ہیں نا؟
امن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مزید کہا،
ریپر لڑکی تو نہیں ہوگا… نا؟
امل بےاختیار ہنس دی۔
بھائی… آپ بھی نا!
امن بھی مسکرا دیا۔
پھر اچانک اُسے کچھ یاد آیا۔
ویسے میں تمہیں خود کو بچانے کی تین چار اسکلز ایسی ہی ابھی بیٹھے بیٹھے، بغیر ہاتھ پاؤں استعمال کیے سکھا سکتا ہوں۔
امل نے فوراً اعتماد سے کہا،
وہ مجھے آتا ہے۔
امن نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
کیا؟
امل کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ ذرا سا آگے جھکی اور نہایت اطمینان سے بولی،
۔Manipulate کرنا…
ایک لمحے کو رکی۔
پھر اُس کی آنکھوں میں شرارت اُتر آئی۔
دماغ سے کھیلنا۔
امن چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
پھر بےاختیار مسکرا دیا۔
ہاں… یہ تو مجھے پہلے ہی سمجھ آ گیا تھا۔

+++++++++++++

امن امل سے بات ختم کرنے کے بعد کمرے سے باہر نکلا اور سیڑھیاں اُترتا ہوا نیچے آ گیا۔ اُس کے ذہن میں ابھی بھی امل کی باتیں گردش کر رہی تھیں، خصوصاً یسریٰ کا وہ انداز جس میں اُس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے دادی اور امل کو فارم ہاؤس سے باہر نکالا تھا۔
سیڑھیوں کے آخری زینے پر قدم رکھتے ہی امن کی نظر یسریٰ پر پڑی۔
وہ کچھ فاصلے پر کھڑی کسی کام میں مصروف تھی۔
امن نے ایک لمحے کے لیے اُسے دیکھا، پھر ہاتھ کے اشارے سے اُسے اپنی طرف بلایا۔
یسریٰ…
یسریٰ فوراً اُس کی طرف متوجہ ہوئی اور قریب آ کر رک گئی۔
جی؟
امن نے چند لمحے اُسے غور سے دیکھا، جیسے اُس کے چہرے سے ہی اپنے سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
پھر اُس نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا،
تمہیں کیسے معلوم تھا؟
یسریٰ نے الجھن سے اُسے دیکھا۔
کیا؟ فارم ہاؤس کا ایک ایک لوکیشن…
امن کی نظریں اُس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔
تم کیسے امل کو باہر لے کر آئی؟
یسریٰ نے چند لمحے سوچا، پھر بالکل سادگی سے بولی،
وہ… ایک جیسے ہی ہوتے ہیں سارے فارم ہاؤس۔
امن کی بھنویں ذرا سی سکڑیں۔
مطلب؟
یسریٰ نے فوراً وضاحت کرنا شروع کر دی۔
مطلب یہ میرا پہلا گھر تھوڑی ہے جہاں میں کام کر رہی ہوں۔ میں اور بھی بڑے بڑے گھروں میں کام کرتی تھی۔
وہ ہاتھ کے اشارے سے سمجھاتے ہوئے بولتی گئی۔
تو اُن کے بھی فنکشن ایسے ہی بڑے بڑے فارم ہاؤس میں ہوتے تھے۔ اور سب فارم ہاؤس ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، تو مجھے اندازہ تھا پچھلے راستے کا…
تو میں بس اُنہیں چپکے سے لے کر نکل گئی۔
امن خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
یسریٰ کی بات میں نہ کوئی بناوٹ تھی، نہ اپنی بہادری جتانے کا انداز۔ وہ ایسے بتا رہی تھی جیسے اُس نے کوئی بہت معمولی سا کام کیا ہو۔
پھر اچانک اُسے کچھ یاد آیا تو اُس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
اور آپ کو پتا ہے…
امن نے فوراً پوچھا،
کیا؟
یسریٰ نے رازدارانہ انداز میں ذرا قریب ہو کر کہا،
مجھے کار کی چابی بھی کسی کی جیب سے گری ہوئی ملی تھی۔
امن کی آنکھیں ذرا پھیل گئیں۔
پتا نہیں کس کی تھی… وہ بڑے اطمینان سے بولی۔
امن نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
اور تم نے اُٹھا لی؟ بس؟
یسریٰ نے بالکل سادگی سے سر ہلایا۔
ہاں… بھاگنا تھا نا!
امن چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
پھر اُس کے لبوں پر بےاختیار ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
یہ لڑکی واقعی عجیب تھی۔
ایک طرف اِتنا سادہ سا مذاق بھی سمجھ نہیں پاتی تھی، اور دوسری طرف خطرے کے وقت ایسی حاضر دماغی دکھا گئی تھی کہ کسی کو اُس پر شک تک نہ ہوا۔
امن نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
اچھا…
پھر اچانک اُس کے لہجے میں سنجیدگی آ گئی۔
لیکن اب کوئی اور تم سے اِس بارے میں پوچھے، میرے علاوہ…
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر واضح انداز میں بولا،
تو سب سے یہی کہنا کہ میں نے تمہیں باہر جانے کا راستہ بتایا تھا۔
یسریٰ نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
کیوں؟ پھر اُس کے چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ آ گئی۔ آپ کریڈٹ لینا چاہتے ہیں؟
امن نے ایک لمحے کو اُسے دیکھا، پھر بےنیازی سے کندھے اچکائے۔
ہاں… مجھے شوق ہو رہا ہے بہت۔
یسریٰ اُسے دیکھتی رہ گئی۔
امن نے مزید کوئی وضاحت نہیں دی اور بڑے اطمینان سے ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔
یسریٰ کچھ لمحے وہیں کھڑی اُسے جاتا دیکھتی رہی، پھر بےاختیار اُس کے لبوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی۔
اُسے ابھی تک سمجھ نہیں آیا تھا کہ امن نے اُس کی مدد کو اپنے نام کیوں کر لیا تھا…
مگر شاید…
امن کے لیے اُس کی بہادری کو چھپانا، اُس کی تعریف کرنے سے زیادہ ضروری تھا۔

++++++++++++

اُدھر شہر کے ایک پولیس اسٹیشن میں صبح کی معمول کی گہماگہمی شروع ہو چکی تھی۔
اسی دوران پولیس اسٹیشن کے باہر ایک گاڑی آ کر رکی۔ دروازہ کھلا۔
آفیسر ظفر گاڑی سے نیچے اترا۔
اُس نے اپنی وردی درست کی، چشمہ سیدھا کیا اور بڑے اطمینان سے پولیس اسٹیشن کی طرف بڑھ گیا۔
وہ ابھی اندر داخل ہی ہوا تھا کہ اُس کی نظر سامنے پڑی۔
اور اگلے ہی لمحے اُس کے چہرے پر ایک مخصوص سی شرارتی مسکراہٹ پھیل گئی۔
سامنے مائرہ ہاتھ میں ایک فائل لیے ایک حوالدار کے ساتھ کھڑی تھی۔
ظفر کے قدم بےاختیار اُسی طرف بڑھ گئے۔
اُس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے صبح سویرے اُسے کام سے زیادہ کسی اور چیز کی تلاش ہو…
اور آج وہ تلاش پوری ہو گئی تھی۔
وہ مائرہ کے قریب جا کر رکا۔
گُڈ جاب…
مائرہ نے اُس کی آواز سنتے ہی گردن موڑی۔
ظفر کو دیکھتے ہی اُس کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہو گئے۔
گُڈ مارننگ، سر… مائرہ نے انتہائی رسمی انداز میں کہا۔
ظفر نے اُسے سر سے پاؤں تک دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے بولا، تم پولیس یونیفارم میں زیادہ اچھی لگتی ہو…
مائرہ کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں آیا۔
اگر اُس کا بس چلتا تو شاید اسی وقت ظفر کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ رسید کر دیتی۔ اُسے اس قدر غصّہ تھا ظفر پر۔۔۔
مگر وہ پولیس اسٹیشن تھا۔ اور سامنے اُس کا سینئر افسر۔
لہٰذا اُس نے صرف ایک گہری سانس لی۔ پھر نہایت سنجیدگی سے بولی، پر سر… آپ پر یہ یونیفارم بالکل اچھی نہیں لگتی۔
ظفر نے فوراً بھنویں اٹھائیں۔
کیوں؟ یونیفارم میں ہینڈسم نہیں لگتا کیا؟
مائرہ نے اُسے ایک نظر اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
بالکل نہیں…
ظفر کے چہرے پر مصنوعی حیرت پھیل گئی۔
آپ کچھ اور کام ڈھونڈ لیں اپنے لائق… یہ کیریئر آپ پہ سوٹ نہیں کرتا…
ظفر نے فوراً پوچھا،
پھر کیا ڈاکٹر بن جاؤں؟ یا پائلٹ؟ یا انجینئرنگ؟
مائرہ نے فوراً جواب دیا،
یہ سب بننے کے لیے پڑھائی کی بھی ضرورت پڑتی ہے… جو کہ پڑھائی آپ سے ہوگی نہیں۔
ظفر نے آنکھیں سکیڑ کر اُسے دیکھا۔
ارے تمہیں کیسے پتا مجھے پڑھائی میں بالکل انٹرسٹ نہیں ہے؟
مائرہ نے ایک لمحے کو اُس کی طرف دیکھا، پھر بالکل سنجیدگی سے بولی،
آپ کے لیے سب سے اچھا اور پرفیکٹ کام یہی ہے کہ آپ اپنی ایک چھوٹی سی دکان کھول کر بیٹھ جائیں… اور ایمانداری سے اپنا کام کریں…
وہ ذرا سا رکی، پھر اُس کے چہرے پر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
نہیں تو اگر بےایمانی بھی کرے گا… تو نقصان پھر آپ کا ہی ہوگا، کسی دوسرے کا نہیں۔
ظفر چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
پھر اُس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
تمہیں میری اتنی فکر کیوں ہے؟
مائرہ نے اُسے پورا جملہ بھی مکمل نہیں کرنے دیا۔
ٹھیک کیجیے۔
ظفر کی مسکراہٹ ذرا سی مدھم ہوئی۔
مائرہ نے بالکل سنجیدگی سے کہا،
مجھے آپ کی فکر نہیں… مجھے اپنے شہر اور یہاں کے لوگوں کی فکر ہے۔
اُس کی آواز میں پہلی بار سختی نمایاں ہوئی۔
میں اپنے لوگوں کو شیطان کے شر سے بچانا چاہتی ہوں۔
ظفر نے بھنویں اوپر اٹھائیں۔
تم مجھے شیطان بول رہی ہو؟
مائرہ نے اُس کی طرف دیکھا۔
چند لمحوں تک خاموش رہی۔
پھر بغیر کوئی جواب دیے بس کندھے جھکا کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔
ظفر اُس کے جواب سے زیادہ اُس کی خاموشی سے محظوظ ہوا۔
مگر اُسی وقت رشید صاحب، تیزی سے اُن کی طرف آتے دکھائی دیے۔
وہ ظفر کے قریب پہنچ کر رک گئے۔
سر… آپ آ گئے؟
ظفر نے بےزاری سے اُن کی طرف دیکھا۔
کیوں؟ کوئی کام ہے؟
رشید صاحب نے قدرے محتاط لہجے میں کہا،
جی… کال آئی ہے۔ آپ کو امن صاحب نے بلایا ہے۔
ظفر کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
کیوں؟
میٹنگ ہے۔
میں نہیں جا رہا۔ صاف منع کر دو۔ ظفر نے صاف انکار کردیا
رشید صاحب نے ایک لمحے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا، پھر دھیمی آواز میں بولے، سر…؟
ظفر نے گھور کر دیکھا۔
اب وہ کوئی معمولی انسان نہیں رہے۔ وہ الیکشن جیت چکی ہیں، آپ کو اب اُن کے ایک بار بولنے پر فوراً بھاگ کر اُن کے پاس جانا پڑے گا۔
ظفر نے بےبسی سے سر پیچھے کی طرف کیا۔
کیا مصیبت ہے…
پھر دانت بھینچ کر بڑبڑایا،
بس اسی… اسی دن کے لیے میں اُس شخص سے نفرت کرتا تھا۔
وہ چند قدم آگے بڑھا، پھر رک کر رشید صاحب کی طرف دیکھا۔
مجھے معلوم ہے میٹنگ میں کیا بکواس کرنے والا ہے۔
رشید صاحب خاموش رہے۔
ظفر کے چہرے پر اچانک سختی آ گئی۔۔
یہ ریپر بھی نا… کسی کام کا نہیں۔
اُس نے غصے سے کہا،
نادیہ کو مار دیا…
پھر اُس کی آواز میں زہر گھل گیا۔
ورنہ اصل میں تو اِسے مارنا چاہیے تھا۔ کراچی کی اصلی مصیبت تو یہ ہے…
مائرہ جو اب تک خاموش کھڑی تھی، اُس کے چہرے کے تاثرات یکدم بدل گئے۔
اُس نے آہستہ سے فائل بند کی۔
ظفر کی طرف دیکھا۔
اور پہلی بار اُس کی آنکھوں میں وہ خاموش غصہ صاف دکھائی دیا جو اب تک اُس نے چھپا رکھا تھا۔
سر…
ظفر نے پلٹ کر اُسے دیکھا۔
مائرہ نے نہایت سنجیدگی سے کہا،
آپ کو امن سر سے اتنی ہی شکایت ہے تو اُن کے سامنے جا کر کہہ دیجیے گا۔
ظفر کی مسکراہٹ فوراً غائب ہو گئی۔
مائرہ نے ایک قدم آگے بڑھ کر کہا،
یہاں کھڑے ہو کر اُنہیں برا بھلا کہنے سے کُچھ نہیں ہوگا، وہ کریں گے، پھر بھی وہیں جو صحیح ہوگا۔۔۔
ظفر  نے چند لمحے اُسے دیکھا۔
پھر اُس کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ واپس آئی۔
تمہیں واقعی بہت بولنے کی عادت ہے۔
مائرہ نے بےتاثر انداز میں جواب دیا،
لیکن میرے بولنا کا کُچھ اثر نہیں ہوتا آپ پہ۔۔۔
یہ کہتی وہ اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

+++++++++++++

رات گئے تک جاری رہنے والی مبارک بادوں اور ملاقاتوں کے بعد بھی امن نے آرام نہیں کیا تھا۔
بڑے کانفرنس روم کی میز پر کراچی کا نقشہ پھیلا ہوا تھا۔
اُس کے ساتھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی مختلف رپورٹس، شکایات کی فائلیں، جرائم کے اعداد و شمار اور شہر کے مختلف تھانوں کی تفصیلات رکھی تھیں۔
کمرے میں پولیس کے چند سینئر افسران، انتظامیہ کے نمائندے اور امن کی سیاسی ٹیم کے اہم لوگ موجود تھے۔
سب کی نظریں دروازے پر تھیں۔
چند لمحوں بعد دروازہ کھلا۔
امن اندر داخل ہوا۔
سفید شلوار قمیض کے اوپر سیاہ واسکٹ، چہرے پر حسبِ معمول سنجیدگی اور ہاتھ میں چند فائلیں تھیں۔
اُس نے رسمی گفتگو کے بعد سیدھا میز کے سامنے موجود اپنی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔
سب نے اُس کی طرف دیکھا۔
امن نے سامنے رکھی پہلی فائل اٹھائی۔
چند صفحات پلٹے۔
پھر دوسری فائل کھولی۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
کچھ لمحوں بعد اُس نے فائل بند کر دی۔
یہ سب کیا ہے؟
سامنے بیٹھے ایک افسر نے قدرے محتاط لہجے میں جواب دیا،
سر… مختلف تھانوں کی رپورٹس ہیں۔
امن نے اُسے دیکھا۔
مجھے معلوم ہے رپورٹس ہیں۔
اُس نے فائل میز پر رکھ دی۔
میں پوچھ رہا ہوں، یہ سب کچھ ہو کیا رہا ہے؟
کسی نے جواب نہیں دیا۔
امن نے دوسری فائل اٹھائی۔
یہاں ایک شہری کی شکایت ہے کہ اُس کی FIR درج نہیں کی گئی۔
پھر اُس نے تیسری فائل کھولی۔
یہاں ایک اور شکایت ہے کہ پولیس نے معاملہ درج کرنے کے بجائے دونوں فریقوں کو تھانے سے واپس بھیج دیا۔
اُس نے ایک اور کاغذ اٹھایا۔
اور یہاں…
اُس کی آواز قدرے سخت ہوئی۔
ایک ایسے افسر کی شکایت ہے جس کے خلاف پچھلے دو سال میں بارہ شکایات آ چکی ہیں۔
کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔
امن نے آہستہ سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔
بارہ شکایات کے بعد بھی وہ افسر اپنی جگہ پر ہے؟
سامنے بیٹھے افسر نے نظریں جھکا لیں۔
سر… departmental procedure ہے۔
امن نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
Procedure؟

وہ ہلکا سا آگے جھکا۔
اگر procedure ایک ایسے آدمی کو دو سال تک اُس عہدے پر رکھے جس کے خلاف بارہ شکایات ہوں…
وہ ایک لمحے کو رکا۔
تو پھر مسئلہ procedure میں ہے۔
کسی نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔
سر، پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اپنے rules—
امن نے ہاتھ اٹھا کر اُسے روک دیا۔
میں پولیس ڈیپارٹمنٹ ختم نہیں کر رہا۔
اُس کی آواز پرسکون تھی، مگر الفاظ میں واضح وزن تھا۔
میں اُسے کام کرنے کے قابل بنانا چاہتا ہوں۔
اُس نے میز پر پڑے کراچی کے نقشے کی طرف دیکھا۔
مجھے نئی پولیس نہیں چاہیے۔
وہ آہستہ سے بولا،
مجھے یہی پولیس چاہیے…
پھر اُس کی انگلی نقشے پر شہر کے ایک حصے پر جا رکی۔
لیکن ایسا نظام چاہیے جس میں ایماندار افسر کام کر سکے…
اُس کی انگلی دوسرے حصے کی طرف گئی۔
…اور کرپٹ افسر چھپ نہ سکے۔
کمرے میں موجود سب لوگ خاموشی سے اُس کی بات سن رہے تھے۔
امان نے ایک گہری سانس لی۔
پھر اُس نے سامنے بیٹھے پولیس افسران کو براہِ راست مخاطب کیا۔
میں آپ لوگوں سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔
سب کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
کراچی میں پولیس عوام کی حفاظت کرتی ہے…
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
پھر اُس نے سوال مکمل کیا۔
یا عوام پولیس سے ڈرتی ہے؟
کمرے میں جیسے اچانک سکوت اتر آیا۔
کسی کے پاس فوری جواب نہیں تھا۔
امن نے سر جھکا کر میز پر انگلی سے ہلکی سی ضرب لگائی۔
مجھے جواب چاہیے۔
ایک سینئر افسر نے احتیاط سے کہا،
سر… دونوں طرح کی صورتِ حال موجود ہے۔
امن نے اُس کی طرف دیکھا۔
اور مجھے یہی بدلنا ہے۔
اُس نے ایک نئی فائل کھولی۔
آج سے کراچی کے ہر تھانے کی performance صرف جرائم کی تعداد سے نہیں دیکھی جائے گی۔
سب متوجہ ہو گئے۔
FIR کتنی درج ہوئیں…

شکایات کتنی آئیں… کتنی شکایات حل ہوئیں… کتنے مقدمات میں تفتیش مکمل ہوئی…
وہ ایک ایک نکتہ گنواتا گیا۔
پھر اُس نے آخری بات کہی۔
اور سب سے اہم…
اُس کی آواز میں سختی آ گئی۔
عام آدمی تھانے سے واپس جاتے ہوئے مطمئن تھا یا مجبور؟
ایک افسر نے پوچھا،
سر، اس کے لیے پورا monitoring system بنانا پڑے گا،
امن نے فوراً جواب دیا،
بنائیں۔
اور شکایات کے لیے؟
Direct complaint system۔
اُس نے بغیر توقف کے کہا۔
عام آدمی کو کسی سیاسی آدمی، کسی وکیل یا کسی بڑے افسر کی سفارش کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ اُس کی بات سنی جائے۔
اُس نے سامنے رکھی فائل بند کر دی۔
جس تھانے میں FIR کے لیے شہری کو سفارش چاہیے…
امن نے ایک لمحے کو سب کی طرف دیکھا۔
سب سے پہلے اُس تھانے کے SHO سے سوال ہوگا۔
کمرے میں موجود چند افسران نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
یہ فیصلہ معمولی نہیں تھا۔ امن یہ جانتا تھا۔
جس نے کام کیا، وہ اپنی جگہ پر رہے گا۔
جس نے غلطی کی، اُسے اصلاح کا موقع ملے گا۔
اور جو جان بوجھ کر عوام کے ساتھ زیادتی کرے گا…
اُس نے فائل میز پر رکھ دی۔
اُسے اپنی کرسی بچانے کے لیے کسی کے دروازے پر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
چند لمحوں تک کوئی نہیں بولا۔
پھر ایک افسر نے دھیرے سے کہا،
سر… آپ جانتے ہیں نا، اس قسم کی تبدیلی آسان نہیں ہوگی؟
امن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
مجھے آسان کام کرنے کے لیے الیکشن جیتنا بھی نہیں تھا۔
وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ ناراض ہوں گے۔
اُس نے میز پر پڑے کراچی کے نقشے کو دیکھا۔
لیکن اگر صرف اس لیے نظام نہیں بدل سکتا کہ کچھ لوگ ناراض ہو جائیں گے…
وہ پلٹا۔
تو پھر الیکشن جیتنے کا فائدہ ہی کیا؟
وہ فائلیں سمیٹ کر آگے بڑھ گیا۔
دروازے تک پہنچ کر اچانک رکا۔
اور ایک بات… سب نے دوبارہ اُس کی طرف دیکھا۔
مجھے تین ماہ بعد یہ نہیں سننا کہ system بہت بڑا تھا، مسئلہ بہت پرانا تھا یا تبدیلی میں وقت لگتا ہے۔
اُس کی آواز پرسکون تھی۔
مجھے پہلے مہینے کے نتائج چاہیے۔
یہ کہتے ہی امن دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
مگر اُس کے جانے کے بعد بھی کمرے میں خاموشی قائم رہی۔
کیونکہ سب جانتے تھے…
امن نے صرف ایک میٹنگ نہیں کی تھی۔
اُس نے کراچی کے ایک ایسے نظام کو ہاتھ لگا دیا تھا جسے برسوں سے کوئی چھیڑنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔
اور شاید…
اب سب سے بڑا سوال یہ نہیں تھا کہ امن کراچی کو کتنا بدل سکتا ہے۔
سوال یہ تھا…
کراچی کا وہ کون سا طاقتور آدمی تھا جو امن کو بدلنے سے پہلے روکنا چاہتا تھا؟

++++++++++++++++

شام کے ٹھیک چھ بجے کا وقت تھا۔
آسمان پر ڈوبتے سورج کی سنہری روشنی پھیلی ہوئی تھی، مگر شہر کے ایک بڑے میدان میں جمع ہونے والے ہجوم کے باعث ماحول میں جیسے الگ ہی حرارت پیدا ہو چکی تھی۔
ہر طرف لوگوں کا سمندر تھا۔
ہزاروں افراد اپنے ہاتھوں میں جھنڈے اٹھائے امن کے نام کے نعرے لگا رہے تھے۔ میدان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لگے بڑے بڑے بینرز ہوا کے ساتھ لہرا رہے تھے، جبکہ اسٹیج کے سامنے میڈیا کی متعدد گاڑیاں اور کیمرے موجود تھے۔
سیکیورٹی پہلے سے کئی گنا بڑھا دی گئی تھی۔
اسٹیج کے اردگرد مسلح اہلکار تعینات تھے، جبکہ میدان کے داخلی راستوں پر بھی سخت چیکنگ جاری تھی۔
آج امن کی الیکشن جیتنے کے بعد پہلی بڑی عوامی تقریب تھی۔
اور شہر کو اُس سے بہت سی امیدیں تھیں۔
کچھ ہی دیر بعد نعروں کا شور اچانک بڑھ گیا۔
امن بھائی! امن بھائی! امن بھائی!
میدان میں موجود ہزاروں آوازیں ایک ساتھ بلند ہوئیں۔
سفید شلوار قمیض اور سیاہ واسکٹ میں ملبوس امن اسٹیج پر نمودار ہوا..
اُس کے ساتھ نِہات، بھی موجود تھا، ارحم کو گولی لگنے کی وجہ سے وہ کُچھ دنوں کی چھٹی پر تھا اُس کے جگہ کوئی اور گارڈ امن کے ساتھ کھڑا تھا، اور ائراہ کا تو ابھی تک کُچھ آتا پتہ نہیں تھا،
امن نے اسٹیج پر پہنچ کر ایک نظر پورے مجمع پر ڈالی۔
اُس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح سکون تھا۔
مگر اُس کی نظریں صرف ہجوم نہیں دیکھ رہی تھیں۔
وہ اسٹیج کے نیچے موجود سیکیورٹی، داخلی راستوں اور آس پاس کی عمارتوں کا بھی جائزہ لے رہا تھا۔
نِہات اُس کے قریب آ کر دھیرے سے بولا،
سب ٹھیک ہے۔ سیکیورٹی مکمل ہے۔
امن نے مختصر سا سر ہلایا۔
گڈ۔
پھر وہ مائیک کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
شور آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔
امن نے مائیک تھاما۔
السلام علیکم۔۔۔۔
پورا میدان ایک بار پھر نعروں سے گونج اٹھا۔
امن چند لمحے خاموش کھڑا اُن لوگوں کو دیکھتا رہا۔
پھر اُس نے کہنا شروع کیا،
میں آج یہاں صرف اپنی جیت کا جشن منانے نہیں آیا۔
میدان میں خاموشی پھیلنے لگی۔
میں آج آپ لوگوں کو یہ یقین دلانے آیا ہوں کہ جس اعتماد کے ساتھ آپ نے مجھے ووٹ دیا ہے… میں اُس اعتماد کو ضائع نہیں ہونے دوں گا۔
تالیاں بجنے لگیں۔
امن کی نظر ایک لمحے کے لیے ہجوم کے درمیان ٹھہر گئی۔
کیمرے مسلسل امن کو فوکس کیے ہوئے تھے۔
اُس وقت شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مجمعے کے عین سامنے…
لوگوں کے درمیان ایک لڑکی خاموشی سے کھڑی تھی۔
سانولی رنگت، نرم اور معصوم نقوش، مگر آنکھوں میں عجیب سی بےخوفی تھی۔ بڑی، گہری سیاہ آنکھیں جن میں نہ گھبراہٹ تھی، نہ کسی کے رعب کا اثر۔
اُس کے بال گھنے اور سیاہ تھے، جو کندھوں سے خاصے نیچے تک آ رہے تھے۔ اور بال کسی سادہ سے کلچر میں بندھے ہوئے تھے۔
چہرے پر ذرا سا بھی میک اَپ نہیں تھا۔۔۔
اور عمر میں بھی وہ تقریباً بائیس سے چوبیس برس کی ہی معلوم ہورہی تھی،
اُس نے عام سی سیاہ پینٹ اور سادہ سیاہ کرتی پہن رکھی تھی۔ اور سیاہ دوپٹہ دونوں کندھوں پر ڈال رکھا تھا…
وہ بالکل سامنے کھڑی امن کو دیکھ رہی تھی۔
کچھ دیر تک اُس کی نظریں امن پر جمی رہیں۔
پھر… اچانک اُس نے اپنے ہاتھ میں موجود بیگ سے گن نکالی۔
اگلے ہی لمحے گن سیدھی امن کی طرف تان دی۔
ایک لمحے کے لیے جیسے پورا مجمع ساکت ہو گیا۔
نعرے رک گئے۔
کیمرے ایک ساتھ اُس لڑکی کی طرف گھوم گئے۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے فوراً حرکت کی۔۔
چاروں طرف سے گارڈز تیزی سے اُس لڑکی کی جانب بڑھنے لگے۔
مگر لڑکی نے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹایا۔
اُس نے گن کی گرفت مزید مضبوط کی اور بلند آواز میں کہا، کسی نے مجھے ہاتھ بھی لگایا تو گولی چلا دوں گی۔۔۔
سیکیورٹی اہلکار وہیں رک گئے۔ اور دور سے ہی اُس پر چاروں طرف سے گن تن دی،
امن نے سامنے کا منظر دیکھا تو اُس کے چہرے پر پہلی بار واضح حیرت ابھری۔
اُس کی نظریں لڑکی کے چہرے سے گن تک گئیں۔
پھر دوبارہ اُس کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔
اُس کی پوری زندگی میں شاید پہلی بار کسی نے ہزاروں لوگوں کے بیچ، کیمروں کے سامنے، اُس پر گن تانی تھی۔
اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اُس لڑکی کے چہرے پر خوف کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
نہ اُس نے اپنا چہرہ چھپایا تھا…
نہ مجمع سے بچنے کی کوشش کی تھی…
وہ پورے اطمینان کے ساتھ سب کے سامنے کھڑی تھی۔
امن نے ایک لمحے کے لیے اپنے اردگرد دیکھا۔
سیکیورٹی اہلکار دوبارہ آگے بڑھنے ہی والے تھے کہ امن نے فوراً ہاتھ اٹھا کر اُنہیں روک دیا۔
رکو۔
اُس کی ایک آواز پر سب وہیں رک گئے۔
امن نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔
سیکیورٹی اہلکار چند قدم پیچھے ہٹ گئے۔
مگر اُن کی نظریں مسلسل لڑکی کے ہاتھ میں موجود گن پر جمی تھیں۔
میڈیا کے کیمرے اب مکمل طور پر اُس لڑکی کو فوکس کر چکے تھے۔
کچھ رپورٹرز ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔
یہ کون ہے؟
امن پر گن کس نے تانی ہے؟
کیا یہ حملہ ہے؟
مگر وہ لڑکی… وہ اب بھی بالکل خاموش کھڑی تھی۔
اُس کی نظریں صرف امن پر تھیں۔
امن نے چند لمحے اُسے غور سے دیکھا۔
پھر نہایت پرسکون لہجے میں پوچھا،
تُم کون ہو؟؟
امن نے چند لمحے اُسے غور سے دیکھا۔
اُس لڑکی کی آنکھوں میں عجیب سا سکون تھا۔
ایسا سکون… جو کسی عام انسان کی آنکھوں میں اُس وقت نہیں ہو سکتا، جب اُس کے ہاتھ میں بھری ہوئی گن ہو اور سامنے ہزاروں لوگوں کے درمیان کھڑا شہر کا سب سے طاقتور آدمی۔
امن نے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا۔
بس اُسی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دوبارہ پوچھا،
تُم کون ہو؟
لڑکی کے لبوں پر ایک انتہائی ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی،
اُس نے گن کی نالی ذرا سا سیدھا کی۔ پھر نہایت پرسکون لہجے میں بولی،
آپ کی تباہی۔۔۔
امن کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے حیرت ابھری۔
اگلے ہی لمحے گولی چلنے کی آواز پورے میدان میں گونج گئی۔
بھائی….
نِہات کی چیخ پورے میدان میں گونج اٹھی۔

++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *