Mohabbat ibadat by Rida Fatima Last episode.

محبت عبادت
اخری قسط
از قلم ردا فاطمہ
یہ شام کا وقت تھا رات چھانے والی تھی حسین رات ۔۔ علی مصطفیٰ مارکی کے پرائیویٹ روم میں تیار کھڑا تھا ۔۔ رحال شیخ کا ہونے وہ شوہر اُس کی زندگی کا ہمسفر ۔۔ علی آخری نظر آئینے میں خود کو دیکھ رہا تھا ہاتھوں میں سلور رنگ کی گھڑی پہن رکھی تھی بالوں کو جیل سے سلیقے سے سے کیا گیا تھا ۔۔ پرفیوم کی خوشبو پورے کمرے میں پھیل رہی تھی کمرا خاموش تھا اور خوبصورت کمرے میں آئینے لگے تھے ایک طرف صوفے رکھے تھے ائینو کے سامنے ڈریسنگ ٹیبل سجے تھے ہر آئینے میں علی مصطفیٰ کا عکس نظر آرہا تھا ۔۔
کچھ دیر بعد اس کو باہر جانا تھا ۔۔ تب ہی برہان اندر کمرے میں آگیا چلو علی باہر چلتے ہیں رحال آنے والی ہے معراج نے فون پر بتایا ہے علی خاموش سے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑا تھا قدم گھوم کے برہان کے ساتھ باہر چل پڑا ۔۔۔

گاڑی میں خاموشی تھی معراج اور رحال کو مرکی کے پیچھے والے دروازے سے برائیڈل روم میں لے کے جایا جانا تھا ۔۔ اور پھر آخری انتظام دیکھ کے رحال کو سٹیج پر باہر نکلنا تھا
گاڑی مارکی کے سامنے آ کے رکی رحال اپنا عروسی لباس سنبھالتے گاڑی سے باہر نکلی معراج بھی باہر نکلی اور برائیڈل روم کی طرف بڑ گئیں ۔۔ برائیڈل روم میں سلیماں بیگم پہلے سے اندر اس کا انتظار کر رہی تھیں
کہاں رہ گئی تھی تم دونوں اتنی دیر لگا دی آنے میں۔۔؟
ماما وہ راستے میں ٹرفک بہت تھا معراج نے جلدی سے کہا
ٹھیک ہے اب باتیں نہ کرو رحال تھوڑی دیر بعد تمھیں لینے کے لیے اتی ہوں
ٹھیک ہے امی سلیماں بیگم نے اپنی بیٹی کو دیکھا انکھوں میں انسو چمک رہے تھے اُن کی بیٹی اپسرا لگ رہی تھی اج وہ اپنی زندگی نہ نیا باب شروع کرنے جا رہی تھی ۔۔ رات کو رحال نے اسلام آباد اپنے بابا کے گھر ہی رہنا تھا صبح اس کو لاہور کے لیے نکلنا تھا رات کا سفر خاطر ناک تھا ۔۔ اس لیے انھیں صبح لاہور کے لیے جانا تھا ۔۔
کیسی نے سوچا تھا کے رحال شیخ علی مصطفیٰ کی منکوحہ بن جائے گی ۔۔
وقت کی سوئی نے 8 بجائے اور سلیماں بیگم اندر کمرے میں اپنی بیٹی کو لینے اگئی ساتھ میں زرینہ بھی تھیں
آنچل کنزا سب رحال کو کے جانے ائے تھے ۔۔ وہ اُسے پکڑ کے باہر نکلے اور جیسے ہی مارکی کا دروازہ کھولا رحال شیخ نے پہلا قدم اندر رکھا علی مصطفیٰ چلتا ہوا نہیں بلکہ دوڑتا ہوا اُس تک گیا
ہال تالیوں کی اواز سے گونج اُٹھا علی مصطفیٰ نے رحال شیخ کا ہاتھ تھاما اُسے پکڑ ا اور اسٹیج کی طرف بڑنے لگ گیا میوزک سسٹم پر گانے چلے جا رہے تھے
آئی ایسی رات ہے جو
بہت خوش نصیب ہے
چاہے جیسے دور سے دنیا
وہ میرے قریب ہے
رحال اور علی سٹیج پر لگے صوفے پر بیٹھے انتہائی خوبصورت صوفہ ۔۔
سب اپنی خوشیوں میں خوش تھے
رحال دلہن کے جوڑے میں علی مصطفیٰ کے ساتھ بیٹھی تھی اور علی اُس کے کان میں کچھ کہہ رہا تھا دور ایک کونے میں دیکھو تو قیسن کمیار خاموش کھڑا تھا وہ بے جان نظروں سے رحال کو دیکھ رہا تھا اور رحال نے ایک بار بھی اُسے نہیں دیکھا تھا دل بے جان ہو رہا تھا
محبت کرنے کی سزا ملی تھی قیسن کمیار کو …

اسلام آباد کی سرسبز اور شاندار پہاڑیوں کے دامن میں واقع “دی گرینڈ امپیریل مارکی” شام کے وقت کسی پریوں کے دیس کا منظر پیش کر رہی تھی۔ مارکی کی عمارت باہر سے ہی ایک شاہانہ محل کی مانند دکھائی دے رہی تھی، جس پر سفید، سنہری اور وائلٹ (جامنی) رنگ کی چھوٹی چھوٹی لائٹس کا ایسا روپ سجایا گیا تھا کہ دور سے ہی اس کی چمک آنکھوں کو خیرگی بخشتی تھی۔
گیٹ پر داخل ہوتے ہی ایک طویل، خوبصورت کوریڈور تھا جہاں دونوں طرف شیشے کے اونچے فلور واز (Vases) رکھے تھے، جن میں تازہ لال گلاب، سفید للی اور گیندے کے پھولوں کا ایسا حسین امتزاج تھا کہ اندر داخل ہونے والے ہر مہمان کا استقبال ایک بھیگی، معطر خوشبو سے ہو رہا تھا۔
جیسے ہی مارکی کے مرکزی وزنی شیشے کے دروازے کھلتے، اندر کا ڈیکوریشن اور ماحول دیکھ کر انسان کی سانسیں تھم جاتیں۔
مارکی کی چھت اتنی اونچی تھی کہ وہاں سے لٹکتے ہوئے درجنوں کرسٹل جھومرپورے ہال پر اپنی سنہری روشنی نچھاور کر رہے تھے۔ ہر جھومر کے ساتھ باریک باریک سفید اور شفاف پردے چھت سے نیچے کی طرف لہراتے ہوئے آ رہے تھے، جس سے ہال کو ایک انتہائی رومینٹک اور پرتعیش لک مل رہا تھا۔
ہال کا فلور چمکدار سفید ماربل اور بلیک گرینائٹ کے امتزاج سے بنا تھا، جس پر اوپر لٹکتے جھومروں کا عکس یوں تیرتا ہوا محسوس ہوتا تھا جیسے پانی کی سطح ہو۔
مرکزی راستے پر ایک لمبا سرخ قالین (Red Carpet) بچھا ہوا تھا، جس کے دونوں اطراف اونچے اونچے سنہرے اسٹینڈز پر جلتی ہوئی شمعیں اور تازہ پھولوں کی لمبی لڑیاں لٹک رہی تھیں۔ اس ریڈ کارپٹ کا اختتام ایک انتہائی دلکش اور زرق برق اسٹیج پر ہوتا تھا۔
اسٹیج کو خاص طور پر روایتی اور جدید انداز کے ملاپ سے سجایا گیا تھا۔ پس منظر میں ہلکے گلابی اور سفید رنگ کے ڈریپس کے ساتھ گہرے لال گلابوں کی ایک پوری کی پوری دیوار (Flower Wall) بنائی گئی تھی۔ اسٹیج کے عین درمیان میں شاہانہ نفیست سے تراشا ہوا، سنہری پالش اور سفید کپڑے کا بنا ایک بڑا سا صوفہ رکھا تھا

مارکی کے اندر کا ماحول اس وقت پوری طرح زندہ اور پررونق ہو چکا تھا۔ گول ڈائننگ ٹیبلز کے ارد گرد، جن پر ریشمی کور چڑھے ہوئے تھے اور
مہمان گروہوں کی صورت میں بیٹھے اور ٹہلتے نظر آ رہے تھے۔
خواتین اپنے زرق برق رنگ برنگے لہنگوں، میکسیوں اور چمکتی ہوئی جیولری میں ہال کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹہل رہی تھیں، ان کے ہلکے ہلکے قہقہے اور ہاتھوں میں پہنی چوڑیاں چھنک کر ہال کی فضائی موسیقی کا حصہ بن رہی تھیں۔
مرد حضرات، جو زیادہ تر سیاہ سوٹ یا شاہانہ شیروانیوں میں ملبوس تھے، ہاتھ میں جوس کے گلاس لیے ایک دوسرے سے گرمجوشی سے گلے مل رہے تھے اور ہنستے ہوئے گفتگو میں مصروف تھے۔
بچے سنہری قالین اور چمکتے فلور پر ادھر ادھر بھاگتے پھر رہے تھے، جبکہ ویٹرز ہاتھوں میں چائے، کافی اور شربت کی ٹرے اٹھائے، معزز مہمانوں کی خدمت میں انتہائی نفاست اور احترام کے ساتھ ٹہل رہے تھے۔
ہر طرف ایک خوش گوار شور، گرمجوشی، ڈھولک کی دور سے آتی مدہم دھن اور رشتوں کے ملن کا جشن جاری تھا۔ پورا ہال روشنیوں، رنگوں اور عطر کی خوشبوؤں سے سرشار تھا

مارکی کا شاندار اسٹیج روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ لال عروسی جوڑے میں سجی، سر پر سنگھار کا سنگین دوپٹہ اوڑھے رحال، اور اس کے ساتھ علی مصطفیٰ اسٹیج کے مرکزی صوفے پر براجمان تھے۔
رحال کی نظریں شرم اور خوشی کے ملے جلے احساس سے جھکی ہوئی تھیں، جبکہ علی کے چہرے پر ایک فاتحانہ سکون تھا۔
علی تھوڑا سا رحال کی طرف جھکا اور اس کے کان کے بالکل قریب ہو کر نہایت دھیمی، رسیلی آواز میں بولا، “آج اگر میں تمہیں دیکھتا ہی رہوں اور میری سانسیں تھم جائیں، تو قصور میرا نہیں ہوگا رحال۔۔۔ تم واقعی کسی اور دنیا کی اپسرا لگ رہی ہو۔”
رحال کے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ بکھر گئی، اس نے لال چوڑیاں بھرے ہاتھوں سے دوپٹے کا کوہنا سنبھالا اور شرما کر نظریں مزید جھکا لیں۔
ابھی ان دونوں کے درمیان یہ مٹھاس بھری گفتگو جاری ہی تھی کہ ہال میں ایک دم احترام کی خاموشی چھا گئی۔ مولوی صاحب، جن کے ہاتھ میں نکاح نامے کی فائل تھی، فرحان صاحب اور خاندان کے بقیہ بڑوں کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے۔
مولوی صاحب اسٹیج پر پہنچے، صوفے کے پاس رکھی میز پر نکاح نامہ رکھا اور سب کو باقاعدہ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ پورے ہال کی نظریں اب اسی اسٹیج پر ٹکی ہوئی تھیں۔
مولوی صاحب نے عینک درست کی، رجسٹر کھولا اور خطبہ نکاح کی تلاوت شروع کی، جس کی برکت سے پورے ماحول میں ایک سحر انگیز روحانیت پھیل گئی۔ خطبے کے بعد مولوی صاحب نے نکاح نامے کی شرائط بلند آواز میں پڑھنی شروع کیں۔

، حق مہر کی رقم اسی (80) لاکھ روپے نقد، اور لاہور میں ذاتی بنگلہ رحال شیخ کے نام۔۔۔”
“اسی لاکھ۔۔۔؟” رحال نے جیسے ہی یہ رقم سنی، اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اتنی بڑی رقم اور ساتھ میں پورے گھر کی ملكیت!
اس نے فوراً تھوڑا سا علی کی طرف جھک کر اس کے کان میں سراسیمگی سے کہا، “علی! یہ۔۔۔ یہ تو بہت زیادہ پیسے ہیں! اور گھر بھی؟ اتنی بڑی رقم کی کیا ضرورت تھی؟”
علی کے لبوں پر ایک گہری، پراعتماد مسکراہٹ ابھری۔ اس نے رحال کی گھبرائی ہوئی آنکھوں میں دیکھا اور نرمی سے بولا، “یہ تمہارہ حق ہے رحال، اور سچ کہوں تو تم میرے لیے اس پوری دنیا کی دولت سے بھی زیادہ قیمتی ہو، یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔”
رحال علی کے اس جواب پر بے دم سی ہو کر رہ گئی، اس کا دل علی کی اس بے پناہ محبت پر اور زیادہ نچھاور ہو گیا۔
مولوی صاحب نے کاغذات سنبھالے اور رحال کی طرف متوجہ ہوئے:
“رحال شیخ بنت فرحان شیخ۔۔۔ کیا آپ کو علی مصطفیٰ ولد مصطفیٰ کے ساتھ، حق مہر اسی لاکھ روپے نقد اور ایک مکان سکہ راج الوقت نکاح قبول ہے ؟
ہال میں مکمل سکوت طاری ہو گیا۔ رحال کے دل کی دھڑکن ایک پل کے لیے جیسے تھم گئی۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کے شفاف آنسو چمکے۔ اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ لینا تھا۔ ایک گہرا سانس لے کر، لرزتی مگر پراعتماد آواز میں اس نے کہا:
“قبول ہے۔”
مولوی صاحب نے دوبارہ پوچھا، “کیا آپ کو قبول ہے؟”
رحال نے نظریں اٹھا کر علی کو دیکھا، “قبول ہے۔”
اور جب تیسری بار مولوی صاحب نے یہی سوال دہرایا، تو رحال نے مسکرا کر پورے دل سے کہا، “قبول ہے۔”
اس کے لفظ ‘قبول ہے’ کہتے ہی علی کے چہرے پر روشنی پھیل گئی۔ اب مولوی صاحب علی مصطفیٰ کی طرف مڑے:
“علی مصطفیٰ ولد مصطفیٰ۔۔۔ کیا آپ کو رحال شیخ بنت فرحان شیخ سے، یہ نکاح قبول ہے؟”
علی نے بغیر ایک سیکنڈ کا تاخیر کیے، رعب دار اور پختہ آواز میں کہا، “قبول ہے۔”
“کیا آپ کو قبول ہے؟”
“قبول ہے۔”
“کیا آپ کو قبول ہے؟”
“قبول ہے!”
تیسری بار علی کے ‘قبول ہے’ کہتے ہی ہال مبارکباد کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ مبارکباد کے شور، ڈھولک کی تھاپ اور رشتیداروں کے گلے ملنے کے درمیان علی نے رحال کا لرزتا ہوا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام لیا۔ رحال نے مسکرا کر علی کو دیکھا، جو اب سرکاری، شرعی اور دلی طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کا محافظ اور ہمسفر بن چکا تھا۔

نکاح کے خوبصورت اور روحانی بول مکمل ہوتے ہی ہال کا ماحول مبارکباد کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ اسی وقت ہال کے ایک بڑے حصے میں فاخرانہ کھانے کا اہتمام کر دیا گیا۔ شاندار ڈائننگ ایریا میں گرما گرم بریانی، سیخ کباب، قورمہ، نان اور میٹھے میں شاہی ٹکروں کے ساتھ ساتھ گرما گرم گلاب جامن کی خوشبو پھیل گئی۔ سب مہمانوں نے پرسکون ماحول میں کھانا کھایا اور دولہا دلہن کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
سب سے پہلے رحال کے ماں باپ (سلیمہ بیگم اور فرحان صاحب) آگے آئے۔ فرحان صاحب نے نم آنکھوں سے اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور علی کو ایک قیمتی سونے کی گھڑی اور رحال کو سونے کا سیٹ تحفے میں دیا، اور دونوں کو سینے سے لگا کر ڈھیروں دعائیں دیں۔
پھر برہان مسکراتا ہوا آگے بڑھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا ایک نفیس، چمکدار گفٹ باکس رحال کی طرف بڑھایا۔ “بھابھی! یہ میری طرف سے آپ کے لیے ایک چھوٹا سا تحفہ۔ علی بھائی اگر کبھی آپ کو تنگ کریں تو مجھے بتائیے گا، میں ہمیشہ آپ کی سائیڈ لوں گا!” برہان کی اس بات پر علی نے اسے گھورا جبکہ رحال اور معراج ہنس پڑیں۔
پھر معراج چہکتی ہوئی آئی، اس نے ایک خوبصورت ہینڈ میڈ گفٹ پیکٹ رحال کے ہاتھ میں تھمایا، “رحال! یہ میرا خاص تحفہ ہے تمہارے لیے، اس میں ہماری بچپن سے لے کر آج تک کی یادوں کی ایک الگ ہی دنیا ہے۔” دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور دونوں کی آنکھیں بھر آئیں۔
آخر میں قیسن انتہائی دھیمے اور پرسکون قدموں سے اسٹیج پر آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک انتہائی نفیس اور قیمتی کرسٹل کا گفٹ باکس تھا۔ اس نے علی اور رحال کو دیکھتے ہوئے اپنی نیلی آنکھوں کے درد کو ایک خوبصورت مسکراہٹ کے پیچھے چھپایا اور تحفہ رحال کی طرف بڑھایا۔
“یہ میری طرف سے تم دونوں کے لیے۔۔۔ اللہ تم دونوں کی زندگی کو ہمیشہ خوشیوں سے بھرے رکھے،” قیسن نے رندھی ہوئی آواز مگر مسکراتے ہوئے کہا۔
رحال نے تحفہ تھاما اور دھیمے سے کہا، “شکریہ قیسن۔” قیسن نے ایک آخری بار ان دونوں کو ساتھ دیکھا، اور پھر خاموشی سے پیچھے ہٹ کر ہجوم میں غائب ہو گیا۔

رات کافی ڈھل چکی تھی اور بارات کا فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا۔ چونکہ رحال کی رخصتی کی گاڑی نے کل شام لاہور کے لیے روانہ ہونا تھا، اس لیے آج کی رات رحال، علی اور اس کے تمام گھر والوں نے رحال ہی کے گھر (فرحان ولاز) واپس جانا تھا
گھر پہنچ کر، فرحان ولاز کے اس خاص کمرے کو سرخ گلاب کے پھولوں اور شمعوں سے ایک دلہن کے کمرے کی طرح سجایا گیا تھا۔ رحال سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس، گھونگھٹ کی باریک اوٹ میں خاموشی سے بستر پر بیٹھی تھی، اور اس کا دل نامعلوم گھبراہٹ سے زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
باہر کوریڈور میں قدموں کی چاپ ابھری۔ علی جیسے ہی اپنے کمرے کے دروازے کے قریب پہنچا، اس کی بہنیں کنزہ اور آنچل راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہو گئیں۔
“کتنی جلدی میں ہیں بھائی! اتنی آسانی سے اندر نہیں جانے دیں گے جب تک آپ ہمیں ہماری نیگ (پیسے) نہیں دیتے!” کنزہ نے ناز نخرے سے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
علی نے مسکرا کر اپنی بہنوں کو دیکھا، “یہ تو غلط بات ہے یار، میرا اپنا کمرہ ہے یہ!”
“لیکن بھائی، یہ سالوں سے چلی آنے والی رسام ہے!” آنچل نے شرارت سے کہا۔
“تنگ نہ کرو نا تم دونوں۔۔۔ دیکھو تمہاری بھابھی اندر اکیلی انتظار کر رہی ہو گی،” علی نے سنجیدہ بننے کی ناکام کوشش کی۔
“ہاں ہاں! بالکل انتظار کر رہی ہوں گی، اسی لیے تو کہہ رہی ہوں کہ جلدی سے پیسے نکالیں اور اندر جائیں!” آنچل نے ہنستے ہوئے کہا۔
علی نے نفی میں گردن ہلائی، اپنی شیروانی کی اندرونی جیب سے نقد نوٹوں کی ایک کڑکتی ہوئی گڈی نکالی اور دونوں بہنوں کے ہاتھ میں تھما دی۔ “لو، اب راستہ چھوڑو!”
کنزہ اور آنچل نے خوشی سے چیخ کر پیسے سنبھالے اور راستہ چھوڑ دیا۔
علی نے آہستہ سے کمرے کا بھاری لکڑی کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔ دروازہ بند ہونے کی ہلکی سی کلک کی آواز پر رحال کے دل کی دھڑکن ایک پل کے لیے جیسے رک گئی۔
کمرے میں صرف پھولوں کی معطر خوشبو اور مدہم روشنی تھی۔ علی پرسکون قدم اٹھاتا ہوا بستر کے قریب آیا اور رحال کے بالکل برابر میں بیٹھ گیا۔
رحال کی نظریں شرم کے مارے جھکی ہوئی تھیں اور وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں مروڑ رہی تھی۔ علی کے لبوں پر ایک انتہائی دلکش اور محبت بھری مسکراہٹ ابھری۔ اس نے اپنے مضبوط ہاتھ سے رحال کی نازک ٹھوڑی کو نرمی سے تھاما اور اس کا چہرہ تھوڑا سا اونچا کیا۔
شمعوں کی مدہم روشنی میں رحال کا چہرہ لال جوڑے اور سنگھار کے ساتھ چاند کی طرح دمک رہا تھا۔
“چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہو رحال۔۔۔” علی کے لبوں سے یہ الفاظ بے ساختہ اور گہرے احساس کے ساتھ نکلے۔ “میرے نصیب میں لکھے جانے کے بعد جو چہرہ تمہارے اس روپ سے چمک رہا ہے، خدا کرے اسے کسی کی نظر نہ لگے۔ میں دعا کرتا ہوں۔” یہ کہتے ہوئے علی نے آگے جھک کر انتہائی عقیدت اور محبت سے رحال کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے۔
پھر علی نے بستر کے سائیڈ ڈراز (Drawer) سے ایک سجی ہوئی مخملی ڈبیا باہر نکالی اور اسے رحال کے سامنے کھول دیا۔ ڈبیا کے اندر ایک انتہائی نفیس، چمکدار ہیرا اور زمرد کا جڑا ہوا ڈائمنڈ نیکلس چمک رہا تھا۔
رحال نے حیرت سے اس خوبصورت نیکلس کو دیکھا اور علی کی طرف دیکھ کر بولی، “یہ۔۔۔ یہ کیا ہے علی؟”
“میری حسین دلہن کی منھ دکھائی،” علی نے مسکرا کر جواب دیا۔
علی نے ڈبیا سے وہ نیکلس نکالا اور بہت احتیاط سے رحال کے گالوں سے بکھری زلفوں کو ہٹا کر اس کی گوری اور نازک گردن میں پہنا دیا۔
رحال نے نیکلس کے چمکتے ہوئے ہیرے کو چھوا اور دھیمی آواز میں کہا، “یہ تو بہت مہنگا لگ رہا ہے علی۔۔۔”
اس سے پہلے کہ رحال مزید کچھ کہتی، علی نے اپنی انگلی بہت نرمی سے رحال کے گلابی لبوں پر رکھ کر اسے چپ کروا دیا۔
“یہ اب بے حد قیمتی ہو گیا ہے رحال۔۔۔ کیونکہ اسے تم نے پہن لیا ہے،” علی کی آواز میں ایک سحر تھا۔
اس نے رحال کی انگلیوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا:
“میں تم سے محبت کا اظہار بہت بار کر چکا ہوں
رحال، اور تم یہ اچھے سے جانتی بھی تھی۔ لیکن آج۔۔۔ آج میں کوئی لمبا چوڑا اظہار نہیں کروں گا۔ آج میں بس تم سے اتنا کہوں گا کہ جب تک زندہ رہوں گا، تمہیں اپنے سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھوں گا۔ جتنی خوشیاں میں تمہیں دے سکا، اس سے کہیں زیادہ تمہاری جھولی میں ڈالوں گا۔ تم میری عزت ہو، میری زندگی ہو۔”
یہ ان کی زندگی کا نیا آغاز تھا ۔۔۔

اسلام آباد کی دلفریب صبح ابھی تازہ ہی بیدار ہوئی تھی جب کمرے میں کھڑکی کے پردوں کی دراڑ سے ہلکی سنہری روشنی اندر چھن کر آ رہی تھی۔
علی مصطفیٰ کی جب آنکھ کھلی، تو اس نے بے ساختہ اپنے برابر میں بستر پر ہاتھ پھیرا، مگر وہ جگہ خالی تھی۔ رحال وہاں موجود نہیں تھی۔ علی نے بستر سے اٹھ کر اپنا فون چیک کیا۔ اسکرین پر ہانیہ کی مسلسل کالز اور میسجز چمک رہے تھے۔ لاہور میں اس کی کئی اہم بزنس میٹنگز تھیں جنہیں اس نے شادی کی وجہ سے فی الحال ملتوی کیا ہوا تھا، اور اب لاہور واپسی کے بعد اسے وہ سارے کام دوبارہ سنبھالنے تھے۔
علی ابھی فون پر میسجز دیکھ ہی رہا تھا کہ واش روم کا دروازہ کھلا اور رحال باہر نکلی۔
وہ سرخ رنگ کی لمبی فراک میں ملبوس تھی، جس کے گلے میں دوپٹہ نفاست سے ڈالا گیا تھا۔ شاور لینے کے بعد اس کا چہرہ صبح کے شبنم زدہ پھول کی طرح نکھرا ہوا لگ رہا تھا۔
علی کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی، فون کی اسکرین پر ٹائپ کرتے اس کے ہاتھ وہیں ٹھہر گئے۔ اس کی نظریں رحال کے وجود پر جم کر رہ گئیں۔
رحال علی کی موجودگی سے بے خبر، تولیے سے اپنے لمبے سیاہ بالوں کو خشک کر رہی تھی۔ اس کے بعد اس نے ڈرائیر (Hair Dryer) آن کیا اور اپنے بالوں کو سکھانے لگی۔ علی بالکل خاموشی سے بیڈ پر بیٹھا اس کی ایک ایک ادا، اس کی ہر حرکت کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے دنیا کا سب سے خوبصورت منظر اس کے سامنے ہو۔
بال سکھانے کے بعد رحال نے انہیں ایک خوبصورت جوڑے میں باندھنا چاہا اور جیسے ہی اس نے کلپ اٹھایا، علی مصطفیٰ نے خاموشی سے قدم بیڈ سے نیچے رکھے اور چلتا ہوا بالکل رحال کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا۔ رحال اس وقت تک بال باندھ چکی تھی کہ اچانک علی کے ہاتھ آگے بڑھے اور اس نے بالوں میں لگا کلپ آہستگی سے اتار دیا۔ رحال کے لمبے، بھیگے سے بال ایک بار پھر آزاد ہو کر اس کی کمر پر لہرانے لگے اور فضا میں شیمپو کی بھیگی خوشبو پھیل گئی۔
علی نے نرمی سے رحال کے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اسے اپنی طرف گھمایا۔ رحال پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ نظریں اٹھا کر اپنے شوہر کو دیکھنے لگی۔
تم کھلے بالوں میں زیادہ حسین لگتی ہو رحال۔۔۔ انہیں ایسے ہی رہنے دو،” علی نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
رحال نے شرما کر اثبات میں گردن ہلا دی۔
پھر علی آگے بڑھا، ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا “رحال” نام کا پرفیوم اٹھایا اور اس کا ہلکا سا سپرے رحال کے بالوں پر کر دیا۔ پرفیوم واپس رکھ کر اس کی نظریں ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی ہلکی گلابی رنگ کی لپ اسٹک پر گئیں۔ علی نے انتہائی احتیاط اور نفاست سے وہ لپ اسٹک اٹھائی اور رحال کے نرم، گلابی لبوں پر لگا دی۔
اس کے بعد علی نے رحال کے دونوں ہاتھوں کو دیکھا، جن پر مہندی کا گہرا رنگ رچا ہوا تھا۔ اس نے رحال کے ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیا اور انتہائی محبت سے اپنے لبوں سے لگا لیا۔
“اب لگ رہی ہو تم علی مصطفیٰ کی رحال۔۔۔” علی نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔ “تم بیٹھو، میں فریش ہو کے آتا ہوں، پھر ایک ساتھ ڈائننگ پر جا کر کھانا کھاتے ہیں۔”
رحال نے مسکرا کر ہاں میں گردن ہلا دی۔
چند منٹوں بعد علی شاور لے کر باہر آیا۔ وہ سرمئی (Gray) رنگ کے شاندار شلوار قمیض میں ملبوس، بے حد وجیہہ لگ رہا تھا۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل سے وہی “رحال” نام کا پرفیوم اٹھایا اور اپنے کپڑوں پر چھڑکنے لگا۔
رحال اسے دیکھ کر کھلکھلا کر مسکرا دی، “علی! یہ لیڈیز (Ladies) پرفیوم ہے!”
علی کے لبوں پر ایک دلکش اور کھلی مسکراہٹ ابھری، وہ ہنس پڑا، “مجھے تمھاری خوشبو اچھی لگتی ہے رحال۔۔۔ اور اس میں تم بست ہو!”
رحال اس کی اس بے ساختہ محبت پر بالکل چپ ہو کر رہ گئی اور اس کا چہرہ گلابی ہو گیا۔
علی نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بالوں میں کنگھی کی اور پھر رحال کا ہاتھ تھام کر خاموشی سے کمرے سے باہر آ گیا۔
ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ لگ چکا تھا اور گھر کے تمام افراد انہی دونوں کا انتظار کر رہے تھے۔ علی اور رحال کو ایک ساتھ نیچے آتے دیکھ کر سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور سب نے مل کر اس نئے شادی شدہ جوڑے کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔
دونوں ڈائننگ پر کھانا کھانے کے لیے بیٹھے۔ کھانا کھاتے ہوئے فرحان صاحب نے علی سے کام کے سلسلے میں بات شروع کی، تو علی نے نفاست سے بتایا،
شام کو ہمیں لاہور کے لیے نکلنا ہو گا۔ وہاں میری کچھ بہت اہم میٹنگز ہیں جنہیں اب مزید کینسل نہیں کیا جا سکتا۔” فرحان صاحب نے سر ہلا کر اس کی بات سے اتفاق کیا۔
دوسری طرف، اسی نکھری ہوئی صبح میں “کامیار ہاؤس” کی فضائیں سنگین اور اداس تھیں۔
کامیار صاحب نے آگے بڑھ کر قیسن کے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھولا۔
کمرے میں قیسن ایک کونے میں رکھی راکنگ چیئر (Reclining Chair) پر خاموشی سے بیٹھا تھا، اس کا رخ کھڑکی کی طرف تھا جہاں سے چودھویں کی رات کا سورج اب نکل چکا تھا۔ وہ پوری رات جاگتا رہا تھا، اس کی نیلی آنکھیں رو رو کر سرخ ہو چکی تھیں اور چہرے پر ویرانی کا راج تھا۔
کامیار صاحب کا دل اپنے جوان بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر کٹ کر رہ گیا۔ وہ دھیمے قدموں سے اپنے بیٹے کے پاس آئے اور اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔
“بھول جاؤ اب رحال کو قیسن۔۔۔” ان کی آواز میں باپ کا درد تھا۔ “وہ اب علی کی بیوی ہے، کسی اور کی امانت ہے۔ تم اپنی زندگی کا ایک نیا باب شروع کرو۔”
قیسن نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، اس کی آواز حلق میں اٹک رہی تھی، “بابا۔۔۔ آپ مجھے کہیں دور بھیج دیں! پاکستان سے بہت دور۔۔۔ جہاں اس شہر کی ہوائیں مجھے اس کی یاد نہ دلائیں۔”
کامیار صاحب نے ایک بوجھل سانس لی، “میں بھی یہی سوچ رہا تھا بیٹے! میں سوچ رہا ہوں کہ تم کویت چلے جاؤ۔”
قیسن نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“تم وہاں جا کر اپنی پڑھائی پر دھیان دو، اپنے میڈیکل کا کورس پورا کرو، ڈاکٹر بنو اور اپنی ایک نئی دنیا بناؤ،” کامیار صاحب نے اسے حوصلہ دیا۔
“سمجھ گیا بابا۔۔۔” قیسن کی آواز بے جان تھی۔
کامیار صاحب نے اسے سنبھالنے کے لیے ذرا سخت لہجہ اختیار کیا، “اور ہاں قیسن۔۔۔ رحال اب تمھارے لیے کوئی نہیں ہے۔ یوں سمجھو کہ رحال مر گئی تمھارے لیے!”
یہ سنتے ہی قیسن کا ضبط جواب دے گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تڑپ کر چھلک پڑے، اس نے دکھ سے اپنے باپ کو دیکھا، “آپ میرا دل جلا رہے ہیں بابا ایسی باتیں کر کے۔۔۔”
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔
کامیار صاحب کی اپنی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے تڑپ کر اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ قیسن ان کے سینے سے لگتے ہی کسی چھوٹے بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ اس کا پورا وجود سسکیوں سے کانپ رہا تھا۔
میں جانتا ہوں قیسن۔۔۔ میں باپ ہوں تمھارا، میں جانتا ہوں تمہیں بے پناہ تکلیف ہو رہی ہے،” کامیار صاحب نے اس کی پشت تھپتھپاتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔ “لیکن قسمت میں یہی لکھا تھا میرے بچے!”
“جانتا ہوں بابا۔۔۔” قیسن نے ان کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھیچتے ہوئے سسکی لی۔

“تو میرے بچے، جب تم سب جانتے ہو تو اب ہمت کرو۔ ایک نئی زندگی شروع کرو، ایک نئی شروعات کرو میرے بیٹے!”
قیسن نے آہستہ سے ان کی آغوش سے الگ ہو کر ہاں میں گردن ہلائی، مگر اس کی نیلی آنکھوں میں ایک دائمی ویرانی تھی، “زندگی کی شروعات تو کر دوں گا بابا۔۔۔ لیکن میرا دل مر گیا ہے۔”
کامیار صاحب نے تڑپ کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور شفقت سے اس کا سر سہلاتے ہوئے بولے، “خدا پر یقین رکھو قیسن۔۔۔ اللہ نے تمھارے لیے اس سے بھی کچھ بہتر سوچ رکھا ہو گا میرے بچے، وہ تمھارے دل کو سکون دے گا۔”

اسلام آباد پر شام کا نیلگوں اور اداس سایہ آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے سورج ڈھلنے کو تھا اور فضا میں ایک خاموش رخصتی کا رنگ گھل رہا تھا۔ جیسے اسلام آباد اپنے دامن سے اپنی ایک بیٹی کو رخصت کرنے کی تیاری کر رہا ہو اور یہ شہر اب رحال کی موجودگی کو یاد کرنے والا تھا۔
وہ وقت قریب آ چکا تھا جب علی مصطفیٰ اپنی دلہن کو ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لاہور لے جانے والا تھا۔
ایک طرف علی اپنے کمرے میں بہت سنجیدگی سے اپنا سامان پیک کر رہا تھا، تو دوسری طرف رحال کے کمرے کا ماحول انتہائی جذباتی اور سنگین تھا۔ رحال اپنے بستر پر کھلی سوٹ کیس کے پاس بیٹھی اپنی ایک ایک چیز سنبھال کر رکھ رہی تھی۔ اس کا دل نامعلوم گھبراہٹ اور جدائی کے دکھ سے زور زور سے دھڑک رہا تھا، اور آنکھوں میں شفاف آنسو مسلسل تیر رہے تھے۔
معراج خاموشی سے اس کی مدد کروا رہی تھی، کبھی کپڑے طے کر کے دیتی تو کبھی جیولری باکس سنبھالتی۔ پاس ہی سلیماں بیگم کھڑی رحال کو ہر ضروری بات کی ہدایت دے رہی تھیں کہ کون سا سامان کس طرح اور کہاں رکھنا ہے۔
جب تمام سامان پیک ہو گیا اور زپ بند کر دی گئی، تو رحال تھکن اور اداسی کے مارے بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ سلیماں بیگم نے آگے بڑھ کر اپنی بیٹی کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا، ان کا اپنا گلا بھی رندھا ہوا تھا۔
“اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے میری جان۔۔۔” سلیماں بیگم نے رحال کے ماتھے کو چومتے ہوئے دعا دی۔ “اللہ کرے علی تمہارا ہر ناز، ہر نکھرا اٹھائے اور تمہیں کبھی کسی چیز کی تکلیف نہ ہو۔ خدا تمہارا نصیب بلند سے بلند تر کرے میری بچی۔”
رحال نے آنکھوں میں چمکتے آنسوؤں کے ساتھ مسکرا کر اپنی ماں کی طرف دیکھا، “ایسا ہی ہوگا امی۔۔۔ مجھے اپنے رب پر اور علی پر پورا یقین ہے۔”
یہ بات سن کر سلیماں بیگم نے اسے سینے سے لگا لیا۔
ان باتوں کے دوران، معراج کمرے کے ایک کونے میں دیوار سے ٹیک لگائے بالکل خاموش کھڑی تھی۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور وہ بمشکل اپنے اندر اٹھتے ہوئے آنسوؤں کے طوفان کو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
رحال کی رخصتی میں اب بس کچھ ہی منٹ باقی تھے۔ اس نے کونے میں کھڑی معراج کو دیکھا، تو اس سے رہا نہ گیا۔ رحال بیڈ سے اٹھی اور دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی معراج کے پاس گئی۔
“تم مجھے یاد کرو گی نا معراج؟” رحال نے بہت پیار اور اداسی سے پوچھا۔
رحال کا یہ پوچھنا ہی تھا کہ معراج کا سارا ضبط ایک پل میں ٹوٹ کر بکھر گیا۔ وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی!
“میں تمہیں بالکل یاد نہیں کروں گی رحال!” معراج نے روتے ہوئے، زبردستی غصہ دکھانے کی کوشش کی، مگر دوسرے ہی سیکنڈ میں اس نے تڑپ کر رحال کو اپنے گلے سے لگا لیا۔
“تم بہت بری ہو رحال۔۔۔ بہت بری!” معراج اس کے شانے پر سر رکھے سسکیاں بھرتے ہوئے بولنے لگے، “تمہارا پورا بچپن میرے ساتھ گزرا ہے، ہم نے ایک ساتھ ہنسا، کھیلا، ہر بات شیئر کی۔۔۔ اور تم اب یوں ہمیں اکیلا چھوڑ کر جا رہی ہو؟”
معراج کا یہ تڑپتا ہوا روپ دیکھ کر رحال کی آنکھوں سے بھی آنسوؤں کی لڑیاں بہ نکلیں۔ اس نے معراج کو اور کس کے اپنے سینے میں بھیچ لیا۔
“سب لڑکیوں کو ایک نہ ایک دن جانا ہی ہوتا ہے معراج۔۔۔” رحال نے اس کی پشت سہلاتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔ “ایک دن تمہاری بھی شادی ہو گی، تم بھی جاؤ گی۔”
“لیکن مجھے تمہاری بہت یاد آئے گی رحال!” معراج سسکتی رہی، “میں اس گھر میں بالکل اکیلی ہو جاؤں گی۔ یہ کمرہ۔۔۔ تمہارے بغیر یہ کمرہ مجھے کاٹنے کو دوڑے گا۔ میں کس سے باتیں کروں گی؟ کس سے لڑوں گی؟”
رحال نے معراج کو اپنے سے تھوڑا الگ کیا اور اس کے گالوں پر ہاتھ رکھ کر مسکرانے کی ناکام کوشش کی، “ارے! تم تو میری شیر بہن معراج ہو نا، تم کیوں روتی ہو؟ تم نے تو اب اور سمجھدار بننا ہے۔ تم اپنی پڑھائی پر پورا دھیان دینا، اپنا بہت خیال رکھنا اور۔۔۔ اور روز مجھ سے فون پر لمبی باتیں کرنا، ٹھیک ہے؟”
“لیکن فون پر بات کرنے سے تمہاری کمی پوری نہیں ہوگی رحال۔۔۔” معراج نے ہچکی لیتے ہوئے کہا، اس کی آنکھوں سے اب بھی مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔
رحال نے بہت محبت سے اپنے دوپٹے کے کونے سے معراج کے گالوں پر پھیلے آنسو صاف کیے، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی:
“دیکھو معراج۔۔۔ ہم دونوں صرف بہنیں نہیں ہیں، ہم ایک دوسرے کی روح ہیں، اور جو روح سے جڑے ہوتے ہیں وہ کبھی جدا نہیں ہوتے۔ میں لاہور جا کر بھی تمہارے قریب رہوں گی۔ میں ہر وقت تم سے بات کروں گی، تم سے اپنے سارے دل کے حال شیئر کروں گی اور تمہیں کبھی اکیلا محسوس نہیں ہونے دوں گی۔”
رحال کی ان محبت بھرے، پرخلوص اور تسلی بخش باتوں نے معراج کے دل پر جیسے مرہم کا کام کیا۔ معراج نے ایک لمبا اور گہرا سانس لیا، اپنے بچے ہوئے آنسوؤں کو اپنی ہتھیلی کی پشت سے صاف کیا۔ اس نے اپنے چہرے پر پھیلی اداسی کو سمیٹا اور رحال کو دیکھ کر آہستہ سے اپنا رونا بند کر دیا، اور اپنی بہن کے گال کو چوم کر مسکرا دی۔
اور پھر وقت رخصت بھی اگیا علی مصطفیٰ اپنی ماں اور بہنوں کے ساتھ اپنی دلہن کو اپنے شہر لے کے جانے والا تھا
رحال سب سے مل رہی تھی باہر کے دروازے پر کھڑی آخری ملاقات اور اس ملاقات کے بعد اُس نے اس کی پرائی بیٹی بن جانا تھا ۔۔
سلیماں بیگم اپنے بیٹی کو گلے لگا رہی تھی ساتھ ساتھ دونوں رو بھی رہی تھی
معراج نے بہن کو گلے لگایا تو ایک بار پھر رو پڑی سلمان عثمان نے بہن کے سر پر پیار بھرا ہاتھ رکھا فرحان صاحب نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا وہ رو پڑی پھر انہوں نے اُس کے سر پر لب رکھے
اگر کبھی بھی کوئی مسئلہ ہو تمہارا شوہر تمہاری عزت کرنا بھول جائے تو واپس آجانا بابا کی گڑیا یہ گھر ہمیشہ تمہارا تھا اور تمھارا رہے گا
رحال نے اثبات میں گردن ہلائی ۔۔۔

علی کی گاڑی کے ہارن کی آواز پر رحال گھر سے باہر نکل گئی ۔۔۔ اب ایک طویل سفر تھا جو ان کو تہہ کرنا تھا ۔۔۔

قیسن اپنے کمرے میں خاموش بیٹھا تھا کمرے میں مُکمل اندھیرا تھا شام سے رات ہو رہی تھی بیڈ کے سائڈ پر پڑا ایک لیمپ زرد روشنی کمرے میں بکھیر رہا تھا ۔۔
کمرا قیسن کمیار کی ادھوری محبت کا غم منا رہا تھا کوئی پوچھے قیسن سے محبت کیسی ہوتی ہے وہ بتائے گا موت جیسی ہوتی ہے ۔۔
وہ سانس لئے رہا تھا لیکن مر گیا تھا ۔۔
وہ بس کے پاس نیچے زمین پر بیٹھا تھا ۔۔ آنکھیں سرخ تھی اسے کل صبح پاکستان سے چلے جانا تھا
اُس نئی زندگی شروع کرنی تھی یہ اس کی زندگی کی آخری سوگ بھری رات تھی ۔۔
لیکن محبت کو بھولنے والا نہیں تھا
اُس کے بال بکھرے ہوئے تھے انکھوں کے نیچے ہلکے تھے
چہرہ مُردوں جیسا ہو رہا تھا ۔۔ نیلی آنکھیں بے جان تھی چمک ختم ہو گئی تھی ۔۔
دیکھ لو میں کیا کمال کر گیا ہوں
زندہ بھی ہوں اور انتقال بھی کر گیا ہوں

رحال اور علی ایک گاڑی میں اکیلے لاہور جا رہے تھے جب کے زرینہ اور علی کی بہنے دوسری گاڑی میں تھیں ۔۔
رحال خاموشی سے گاڑی میں بیٹھی باہر بھاگتے درخت دیکھ رہی تھی جب علی نے ایک نظر گاڑی چلاتے اس کی طرف دیکھا
تم ٹھیک ہو ۔۔
جی ۔۔
تم خوش ہو نہ میری جان
جی میں خوش ہوں ۔۔
لیکن لگ نہیں رہی ۔۔؟
علی میں بس اُداس ہوں امی ابو کو چھوڑنے پر
ہر بیٹی اپنا گھر چھوڑتی ہے رحال
جانتی ہوں
تو بس تم بھی تو بیٹی ہو ہر بیٹی کو ایک دن اپنے شوہر کے گھر جانا ہوتا ہے
لیکن ماں باپ جیسا پیار کوئی نہیں کر سکتا علی
جانتا ہوں میری جان نے تمھارے امی ابو جیسا پیار نہیں کر سکتا تمھیں تم اُن کی بیٹی تھی
لیکن میں اُن سے کم محبت بھی نہیں دوں گا تمھیں
تمھیں خوش رکھنے کی کوشش کروں گا ۔۔
تم میری بیوی ہو اور مجھے بہت عزیز ہو رحال اس لیے اپنا غبارے جیسا چہرہ صحیح کرو علی کی جان
اس کی بات پر رحال مسکرا دی ۔۔
اپ بہت اچھے ہیں اپ میری زندگی میں ائے میں خوش نصیب ہوں علی ۔۔
نہیں رحال میں خوش نصیب ہوں کے مجھے تم ملی
سفر طویل تھا اور انھیں ہمیشہ ساتھ رہنا تھا ۔۔ علی مصطفیٰ نے ہمیشہ اُس کا ساتھ دینا تھا ۔۔
وہ اُس کی بیوی تھی اور وہ خاص تھی

ختم شدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *