سات رنگِ حیات
از قلم حفظہ مرزا
قسط نمبر 7
آج افی ایک کیس کے سلسلے میں عدالت آئی تھی۔ جس کیس کی آج سماعت تھی، وہ اس کے اپنے آفس میں ایک ایمپلائی تھی ۔۔۔ اقراء پچھلے پانچ سال سے اپنے شوہر کے ظلم و تشدد کو برداشت کر رہی تھی۔ اس کا شوہر اکثر شراب کے نشے میں اسے مارتا پیٹتا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی زندگی مزید مشکل بناتا جا رہا تھا۔
چند ماہ قبل اقراء حاملہ تھی۔ ایک دن شوہر کے تشدد کے باعث اس کا حمل ضائع ہو گیا اور وہ اپنے بچے سے محروم ہو گئی۔
اس واقعے نے اقراء کے اندر جیسے سب کچھ توڑ دیا تھا۔
اب وہ مزید یہ زندگی اس کے ساتھ نہیں گزارنا چاہتی تھی۔ پانچ سال تک برداشت کرنے کے بعد آخرکار اس نے اپنے شوہر سے طلاق لینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اور آج اسی کیس کی تاریخ تھی۔
افی نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ صرف اس کی وکیل بن کر عدالت نہیں آئی تھی، بلکہ ایک انسان کی حیثیت سے بھی اقراء کے ساتھ کھڑی تھی۔وہ ایک بہت اچھی لڑکی تھی اور اچھا کام کرتی تھی۔۔۔
عدالت کے باہر اقراء خاموش بیٹھی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن صاف دکھائی دے رہی تھی۔
افی نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا، پھر دھیمی آواز میں بولی،
“، گھبراؤ نہیں۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
اقراء نے خاموشی سے سر اٹھا کر افی کو دیکھا۔
شاید اسے اس وقت کسی لمبی تقریر کی ضرورت نہیں تھی۔
صرف یہ یقین کافی تھا کہ آج عدالت میں وہ اکیلی نہیں تھی۔
آخرکار ان کے کیس کی باری بھی آ گئی۔
اسی وقت پولیس اہلکار اس کے شوہر کو عدالت میں لے کر آئے۔ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اور وہ پولیس کی حراست میں تھا۔ اقراء نے کچھ دنوں پہلے اپنے شوہر کے تشدد کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی، جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔
آج ان کے کیس کا پہلا ٹرائل تھا۔
اقراء نے عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا بیان دیا۔ اس نے بتایا کہ کس طرح اس کا شوہر اسے مسلسل مارتا پیٹتا تھا اور کئی سالوں سے اسے ذہنی اور جسمانی اذیت برداشت کرنا پڑ رہی تھی۔
افی نے بھی اس کی میڈیکل رپورٹس اور کچھ ثبوت جج صاحب کو دیے۔۔
کیس میں موجود شواہد سننے کے بعد عدالت نے اس کے شوہر کو دو سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی۔
فیصلہ سنتے ہی اقراء نے ایک گہری سانس لی۔
جیسے برسوں سے اپنے اندر قید خوف کا ایک حصہ آج آزاد ہوا ہو۔وہ آج تک سب کچھ معاف کرتی ائی تھی پر اپنے بچے کے قاتل کو معاف نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
افی نے اس کی طرف دیکھا اور دونوں عدالت سے باہر نکلنے لگیں۔
مگر ابھی وہ چند قدم ہی آگے بڑھی تھیں کہ اقراء کے شوہر کی آواز پیچھے سے آئی۔
وہ اسے غصے سے گھور رہا تھا اور بلند آواز میں اسے برا بھلا کہہ رہا تھا۔
“تم نے اچھا نہیں کیا…”
اقراء کے قدم وہیں رک گئے۔ اس کے چہرے پر خوف واضح تھا۔
افی نے پلٹ کر اس شخص کو دیکھا۔
وہ شخص سرِعام ایک عورت کو گالیاں دے رہا تھا، اور یہ منظر دیکھ کر افی کا خون کھول اٹھا۔ اسے شدید غصہ آ رہا تھا، مگر وہ جانتی تھی کہ وہ عدالت کے احاطے میں موجود ہے اور قانون کو اپنا کام کرنے دینا ہی بہتر ہے۔
اس نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچیں اور اقراء کی طرف دیکھا۔
افی نے اس کے قریب جا کر دھیمی آواز میں کہا،
“چلو … اسے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اب وہ تمہیں کچھ نہیں کر سکتا۔”
اقراء نے ایک بار پھر اپنے شوہر کی طرف دیکھا، پھر نظریں جھکا کر افی کے ساتھ چل دی۔
افی کے دل میں صرف ایک ہی بات گونج رہی تھی—
کچھ لوگ سزا ملنے کے بعد بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے۔۔۔
افی بھی ابھی چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ اچانک اسے ایک عورت کی آواز سنائی دی۔ وہ غصے میں چیختی چلاتی ہوئی بھاگتی چلی آ رہی تھی اور اقراء کو گالیاں دے رہی تھی۔
“تم نے میرے بیٹے کے ساتھ ظلم کیا ہے! تم نے جھوٹ بول کر سب کچھ کیا!”
یہ کہتے ہی اس عورت کے ہاتھ میں جو چیز آئی، اس نے غصے میں اقراء کی طرف پھینک دی۔ اس سے پہلے کہ وہ چیز اقراء کو لگتی، افی فوراً آگے بڑھ آئی۔ وہ چیز افی کے ہاتھ پر لگی اور اس کا ہاتھ زخمی ہو گیا۔
اتنے میں پولیس اہلکار، سرکاری لوگ اور آس پاس موجود لوگ بھی اکٹھے ہو گئے۔ سب حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ وہ عورت کس طرح اقراء کو برا بھلا کہے جا رہی تھی، جبکہ اسے اپنے بیٹے کی حرکتوں کا ذرا بھی احساس نہیں تھا۔
اقراء کافی دیر سے خاموش کھڑی سب کچھ برداشت کر رہی تھی، مگر اب اس کا صبر بھی جواب دے چکا تھا۔ اس نے آنکھوں میں آنسو لیے مگر مضبوط لہجے میں کہا:
“بس! بہت ہو گیا۔ پہلے آپ اپنے نشئی بیٹے کو سنبھالیں۔ اس کی حرکتوں پر نظر ڈالیں، پھر کسی اور پر انگلی اٹھائیے گا۔”
عورت اسے گھورنے لگی، مگر اقراء اس بار رکنے والی نہیں تھی۔
“سب سے پہلے آپ لوگوں نے شادی سے پہلے جھوٹ بولا تھا۔ کہا تھا کہ آپ کا بیٹا بہت شریف ہے، اچھا انسان ہے۔ لیکن حقیقت کیا نکلی؟ وہ نشہ کرتا ہے، شراب پیتا ہے، چوری کرتا ہے، مار پیٹ کرتا ہے، اور آپ نے کبھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی اسے سمجھایا نہیں کہ عورت کے ساتھ عزت سے کیسے پیش آتے ہیں۔”
اس کی آواز میں دکھ صاف محسوس ہو رہا تھا۔
“الٹا ہر بار مجھے ہی ذلیل کیا گیا۔ میرے ماں باپ کے سامنے بھی مجھے کہا گیا کہ تمہاری بیٹی کچھ نہیں کرتی۔ لیکن آج میں آپ سے صرف اتنا کہوں گی کہ مجھے کچھ کہنے سے پہلے اپنے بیٹے کو دیکھیں۔ اسے سمجھائیں، اسے تربیت دیں۔”
اقراء نے ایک لمحے کے لیے گہری سانس لی پھر بولی۔۔ غصے کی وجہ سے اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔
“اگر آج آپ نے اپنے بیٹے کی غلطیوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے صحیح تربیت دی ہوتی، اسے اس کی غلط حرکتوں پر روکا ہوتا، تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔”
اس کے الفاظ ختم ہوتے ہی وہاں موجود لوگوں پر خاموشی چھا گئی۔
کئی لوگ خاموشی سے اقرا کی طرف دیکھ رہے تھے، جیسے اس کی باتوں میں انہیں حقیقت نظر آ رہی ہو۔ ۔۔
مگرعورت پھر بھی باز نہ آئی۔ وہ غصے میں اقرا پر تہمت لگاتے ہوئے بولی،
“تم نے میرے بیٹے کو اس لیے چھوڑا کیونکہ تمہاری نظر کسی اور پر تھی۔ تم میرے بیٹے کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تھیں، تم کسی اور کے ساتھ جانا چاہتی تھیں، اسی لیے تم نے ڈیوورس لی!”
یہ سن کر اقراء کے چہرے پر دکھ اور غصہ ایک ساتھ ابھرا۔ وہ چند لمحے خاموش رہی، جیسے خود کو قابو کر رہی ہو۔۔
“آپ کتنی گھٹیا عورت ہیں! ایک عورت ہو کر بھی آپ ایک بے قصور عورت پر الزام لگاتے ہوئے ذرا نہیں شرما رہیں؟”
آپ نے میرے کردار پر انگلی اٹھائی ہے، اور یہ میں برداشت نہیں کروں گی۔”عورت سب کچھ برداشت کر سکتی ہے، مگر اپنے کردار پر اٹھنے والی انگلی کبھی برداشت نہیں کرتی۔”
اپنے بیٹے کی غلطیوں کا بوجھ میرے سر پر ڈالنے کے لیے آپ میرے کردار پر تہمت نہیں لگا سکتیں۔”
وہ عورت کو دیکھتے ہوئے بولی،
“میں نے ڈیوورس اس لیے لی کیونکہ آپ کے بیٹے نے میرے ساتھ جو سلوک کیا، وہ کسی بھی عورت کے لیے قابلِ قبول نہیں تھا
اقراء کی آواز اب پہلے سے زیادہ مضبوط تھی۔
“اگر آپ کو اپنے بیٹے کی فکر ہے تو اسے سمجھائیں، اس کی غلطیوں کا دفاع کرنا بند کریں۔ اور اگر میرے پاس کسی اور کے پاس جانے کی نیت ہوتی تو میں اتنے عرصے تک آپ کے بیٹے کی حرکتیں برداشت ہی کیوں کرتی؟،
“آپ نے ہمیشہ میرے کردار پر سوال اٹھایا، مگر کبھی اپنے بیٹے کے کردار کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ آج بھی آپ کو اس کی غلطیاں نظر نہیں آ رہیں، صرف میں نظر آ رہی ہوں۔”
اقراء غصے سے کانپتی ہوئی بولی۔غصے سے بولتے بولتے اس کی آواز بھرا گئی تھی، جبکہ غصے اور بے بسی کے باعث اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔
“اگر آپ نے دوبارہ میرے بارے میں کوئی غلط یا برے الفاظ استعمال کیے تو میں آپ کے خلاف بھی کیس کر دوں گی۔ دھمکی دینے اور مار پیٹ کرنے کی کوشش کرنے کا بھی۔ آپ نے بھی کوئی کم نہیں کیا!”
یہ سنتے ہی عورت ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گئی۔ شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ اقراء اس کے سامنے اس طرح ڈٹ جائے گی۔ وہ غصے سے اقراء کو گھورتی ہوئی ۔بولی جاؤ جاؤ بڑی ائی کیس کرے گی۔۔۔
اسی وقت اس کا دوسرا بیٹا بھی تیزی سے وہاں پہنچا اور اپنی ماں کو بازو سے تھامتے ہوئے بولا،
“ماں، چلو یہاں سے۔ تماشا مت کرو، سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔”
عورت نے غصے سے اپنے بیٹے کو دیکھا، پھر ایک بار اقراء کو گھورا اور اس کے ساتھ وہاں سے چل دی۔
افی نے ایک نظر اپنے زخمی ہاتھ پر ڈالی، پھر اقراء کی طرف متوجہ ہوئی۔
“چلو، میرے ساتھ۔”
وہ اقراء کو لے کر گاڑی کی طرف بڑھنے لگی۔ گاڑی کے قریب چند لوگ ابھی بھی کھڑے تھے۔ شاید وہ بھی اسی مقدمے سے متعلق لوگ تھے۔ ان میں سے ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے بولا،
۔ جیسی خود ہیں، ویسی ہی وکیل ڈھونڈ کر لائی ہیں۔”
افی کے قدم وہیں رک گئے۔
اقراء نے حیرت سے مڑ کر ان لوگوں کی طرف دیکھا، جیسے اسے سمجھ ہی نہ آیا ہو کہ وہ کس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
اقراء نے بھی چونک کر افی کی طرف دیکھا۔
افی نے چند لمحے خاموشی سے ان لوگوں کو دیکھا۔۔ وہ سمجھ گئی تھی وہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔۔۔
وہ لڑکوں کی طرف دیکھتے ہوئے آگے بڑھی،۔۔۔
جبکہ ایک طرف التمش بھی خاموشی سے کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ اسے اس عورت پر بھی غصہ ا رہا تھا۔۔اب ان لڑکوں کی باتیں سن کر اسے بھی شدید غصہ آیا۔
التمش نے غصے سے ان لڑکوں کو گھورا تو وہ فوراً محتاط ہو گئے۔ جیسے ہی ان کی نظر پولیس اہلکاروں پر پڑی، وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے وہاں سے سائیڈ پر ہو گئے۔
افی نے اس طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔ وہ اقراء کو گاڑی تک لے کر گئی اور دروازہ کھولتے ہوئے اسے اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“تم بیٹھو، میں ابھی آ رہی ہوں۔”
اقراء نے خاموشی سے سر ہلایا۔
“ہاں، ٹھیک ہے۔”
افی نے دروازہ بند کیا اور ایک نظر اردگرد ڈالی، پھر واپس جانے کے لیے مڑ گئی۔
افی تھوڑا سا آگے بڑھی، پھر اچانک اس کی نظر اسی سمت چلی گئی جہاں وہ لڑکے جاتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔ وہ ایک لمحے کو رکی، پھر خاموشی سے ان کے پیچھے چل پڑی۔
کچھ فاصلے پر التمش ابھی بھی اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا، “یہ لڑکی کہاں جا رہی ہے؟ عدالت تو دوسری طرف ہے، پھر یہ ادھر کیوں جا رہی ہے؟”
افی ایک طرف سے گھومتی ہوئی کچھ آگے بڑھی تو اسے وہی لڑکے واش روم کے باہر کھڑے نظر آئے۔ وہ فوراً ایک سائیڈ پر رک گئی اور دور سے ان کی حرکات دیکھنے لگی۔
تقریباً پانچ منٹ بعد انہی میں سے وہ لڑکا، جس نے افی اور اقراء کے بارے میں نامناسب بات کی تھی، واش روم کے اندر چلا گیا۔ باہر کھڑے باقی لڑکے آپس میں باتیں کرتے ہوئے ہنس رہے تھے۔
“وکیل دیکھی تھی؟ کتنی اچھی ٹائپ کی تھی!”
دوسرے لڑکے بھی ہنسنے لگے۔
کچھ دیر بعد وہ تینوں بھی واش روم کی طرف بڑھے اور اندر چلے گئے۔
افی نے ایک نظر آگے پیچھے دیکھا، پھر اسی طرف بڑھ گئی۔ پیچھے کھڑا التمش اب بھی حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“یہ لڑکی مین واش روم کی طرف کیوں جا رہی ہے؟”
افی نے مین واش روم کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔ اندر کئی واش رومز ایک قطار میں بنے ہوئے تھے۔ وہ خاموشی سے آگے بڑھی اور آواز کا تعاقب کرنے لگی۔
اچانک اسے اندر سے وہی آواز سنائی دی۔
وہ تینوں اب بھی آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
افی نے آواز پہچاننے کی کوشش کی اور آخرکار اسے یقین ہو گیا کہ انہی میں سے ایک وہ شخص تھا جس نے باہر کھڑے ہو کر اس کے بارے میں نامناسب بات کی تھی۔
وہ متعلقہ دروازے کے قریب گئی پہلے تو ڈورز کو باہر سے لاک کیا۔۔۔
پھر جس نے بولا تھا اس کا دروازہ کھٹکایا۔۔
اندر سے فوراً آواز آئی،
“کیا ہے؟ اندھے ہو یا آواز نہیں آ رہی؟ اندر کوئی ہے!”
افی نے کوئی جواب نہیں دیا۔پھر سے دروازہ کھٹکایا۔۔
چند لمحے بعد اندر موجود شخص غصے میں دروازہ کھول کر باہر نکلا۔
جیسے ہی وہ باہر آیا، افی نے غصے میں اسے ایک زور دار مکا مارا۔
وہ لڑکا اچانک ساکت رہ گیا۔سیدھا جا کر واش روم کی سیٹ پر گر گیا۔۔
افی غصے سے اسے گھورتے ہوئے بولی،
“اب بتاؤ، بہت زبان چل رہی تھی نا باہر؟”
باہر کھڑے ہو کر لڑکیوں کے بارے میں ایسی گھٹیا باتیں کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آئی؟”
وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ افی نے اسے ایک زور دار مکا مارا۔ وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا۔
“اور میرے کردار پر انگلی اٹھانے کی ہمت کیسے ہوئی تمہیں؟”
وہ غصے سے آگے بڑھا تو افی نے اس کا وار روکتے ہوئے اسے ایک طرف دھکیل دیا اور ایک اور مکا جڑ دیا۔
وہ لڑکا درد سے کراہتے ہوئے اسے دھمکانے لگا،
“میں تم پر کیس کروں گا! تم واش روم میں گھس کر مجھے مار رہی ہو!”
یہ سنتے ہی افی کا غصہ مزید بھڑک اٹھا۔ اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر تیسرا مکا بھی اس کی ناک پر دے مارا۔ وہ لڑکا لڑکھڑایا اور نیم بے ہوشی کی حالت میں زمین پر جا گرا۔
افی کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
ہنستے ہوئے کہا۔۔۔میں نے کب مارا تمہیں۔۔
“ثبوت ہے؟”
اس نے اسے گھورتے ہوئے کہا، “کوئی ثبوت ہے کہ میں نے تمہیں یہاں مارا ہے؟”
وہ خاموش ہو گیا۔۔یہ کہتے ہوئے اس نے چوتھا مکا بھی جڑ دیا، جس کے بعد وہ مکمل طور پر بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔
افی نے گہری سانس لی، پھر دروازہ کھول کر باہر نکلی اور اسے باہر سے لاک کر دیا۔۔۔
دوسرے دروازے کے پیچھے موجود لڑکے شور سن کر حیران ہو رہے تھے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر اندر کیا ہو رہا ہے اور دروازہ کیوں نہیں کھل رہا۔
اچانک افی نے ان میں سے ایک کا دروازہ کھولا اور اسے بھی ایک زور دار مکا مارا۔۔
“آئندہ کسی کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے سو بار سوچنا! اپنے گھر میں موجود ماں اور بہن کا چہرہ یاد کر لینا۔ تمہیں دوسروں کی بہن بیٹیاں کیڑے مکوڑے لگتی ہیں؟”
اس کے لہجے میں ایسی سختی تھی کہ سامنے والا خاموش رہ گیا۔۔
اس کی بولتی بند ہوگی تھی وکیل کو سامنے دیکھ کر۔۔
تم لوگوں کو لگتا ہے کہ کسی لڑکی کے بارے میں کچھ بھی کہہ دو گے اور کوئی تمہیں روکنے والا نہیں ہوگا؟”
دوسرا لڑکا گھبرا کر اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا،
“مجھے جانے دو، مجھ سے غلطی ہو گئی۔ آئندہ ایسا کچھ نہیں کہوں گا، مجھے معاف کر دو۔”
افی نے غصے سے اسے گھورا۔ اس کی آنکھوں میں ابھی بھی غصہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ ایک قدم آگے بڑھی اور اسے سختی سے جھڑکتے ہوئے بولی،
“غلطی؟ کسی لڑکی کے کردار پر انگلی اٹھانا تمہارے لیے صرف ایک غلطی ہے؟”
یہ کہتے ہوئے اس نے غصے میں ہاتھ اٹھایا۔
“افی نے غصے میں ایک ساتھ دو مکے اس کے چہرے پر جڑ دیے، جس سے وہ لڑکھڑاتا ہوا واش روم کی سیٹ پر جا بیٹھا۔”
وہ نیم بے ہوشی کی کیفیت میں وہیں ٹک گیا۔
افی نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر غصے سے رخ موڑ لیا۔
اب وہ تیسرے واش روم کی طرف بڑھی۔
دروازہ کھولتے ہی لڑکا اسے دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگا، مگر افی نے ایک لمحے کی بھی مہلت نہ دی۔ اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسے ایک زور دار کِک ماری، جس سے وہ اپنا توازن کھو بیٹھا۔
تیسرے کا بھی وہی حال کرتے ہوئے۔۔ وہ باہر نکلتے ہوئے اپنے ہاتھ کو دیکھا۔
افی کا ہاتھ بری طرح زخمی ہو چکا تھا اور اس سے خون بھی رسنے لگا تھا۔ اس نے فوراً اپنی کوٹ کی جیب سے رومال نکالا، اسے ہاتھ پر لپیٹ کر زخم کو باندھا اور پھر خاموشی سے واش روم سے باہر نکل پڑی۔
اب واش روم کے اندر مکمل خاموشی تھی۔ تینوں لڑکے زمین پر پڑے تھے اور کسی میں بھی افی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
لیکن انہیں خبر نہیں تھی کہ یہ سب کچھ کسی نے دیکھا تھا۔
واش روم کے باہر دوسری طرف التمش دیوار کے ساتھ کھڑا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت صاف جھلک رہی تھی۔
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا،
“یہ لڑکی آخر ہے کیا چیز؟”
افی نے باہر نکلتے ہوئے پلٹ کر آخری بار اندر دیکھا اور بلند آواز میں بولی،
“اب بتاؤ… کوئی ثبوت ہے؟ کون کرے گا مجھ پر کیس؟”
کوئی جواب نہ آیا۔
افی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے اور وہاں سے باہر نکلنے لگی۔
اسی لمحے دوسری طرف سے التمش بھی آگے بڑھا اور اچانک عین اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
افی نے جیسے ہی اسے دیکھا، اس کے قدم وہیں رک گئے۔
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“کیا… اس نے سب کچھ دیکھ لیا؟”
التمش نے اپنی ایک بھنویں اٹھاتے ہوئے اسے غور سے دیکھا۔ اس کی نظروں میں صاف سوال تھا۔
افی نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا،
“کیا؟”
التمش نے قدرے سنجیدگی سے پوچھا،
“آپ مین واش روم میں کیا کر رہی تھیں؟”
افی ایک لمحے کے لیے گھبرائی، مگر فوراً خود کو سنبھال لیا۔اور بالکل ڈٹ کر بولی،
“وہ… میں غلطی سے یہاں آ گئی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ مین واش روم ہے۔”
التمش نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“سچ میں؟”
وہ آہستہ آہستہ افی کے قریب آیا اور ذرا سا جھک کر اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ افی نے احتیاطاً فوراً ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا،
“آپ ذرا پیچھے ہو کر بات کریں۔”
التمش سیدھا ہوا، مگر اس کی نظریں اب بھی افی پر جمی ہوئی تھیں۔
“آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کو کچھ کہنا چاہیے؟”
افی نے فوراً پوچھا،
مجھے کیا کہنا چاہیے؟”
التمش نے قدرے معنی خیز انداز میں کہا،
“جو آپ نے کیا…”
افی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے دیکھا۔
“کیا مطلب ہے آپ کا؟ میں آپ کی بات کا مطلب نہیں سمجھی۔”
التمش چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، پھر سیدھا ہو کر کھڑا ہو گیا۔
افی بالکل بے نیازی سے اس کے پاس سے آگے بڑھنے لگی کہ اچانک التمش کی آواز پیچھے سے آئی،
“کیا پتا… کسی کے پاس کوئی ثبوت ہو۔”
افی کے قدم فوراً رک گئے۔ وہ ایک دم حیرت سے پلٹی اور التمش کو دیکھنے لگی۔
التمش کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا، جیسے اس نے جان بوجھ کر اسے الجھن میں ڈالا ہو۔
افی نے اسے غصے سے گھورا، مگر کوئی جواب نہ دیا۔ وہ فوراً پلٹی اور تیز قدموں سے وہاں سے چلی گئی۔
التمش وہیں کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا، جبکہ اس کے چہرے کی مسکراہٹ بدستور قائم تھی۔۔۔
التمش نے ایک نظر واش روم کی طرف ڈالی، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
“تم لوگوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔”
اس کے بعد اس نے اپنا فون نکالا اور کسی کو کال کی۔ چند لمحے بات کرنے کے بعد اس نے فون بند کیا اور وہاں سے چل پڑا۔
افی کی گاڑی کو جاتے ہوئے دیکھا۔۔
التمش چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر بے اختیار مسکرا دیا۔
“کیا دلچسپ لڑکی ہے ۔۔۔”یہ تو بڑی خطرناک لڑکی ہے… زبان کے ساتھ ہاتھ بھی چلا لیتی ہے!” 😄
وہ پہلی بار اپنی زندگی میں کسی ایسی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو اتنی بہادری سے اپنے لیے اور دوسروں کے لیے کھڑی ہوئی تھی۔
التمش نے ایک بار پھر اس کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے وہاں سے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
——————————————–
وہ آفس میں بیٹھا اپنے کام میں مصروف تھا کہ اچانک اس کے موبائل پر ایک کے بعد ایک میسج آنے لگے۔
پہلے ایک میسج آیا، پھر دوسرا۔
اس نے بے دھیانی میں موبائل اٹھایا، مگر اسکرین پر نظر پڑتے ہی اس کے ہاتھ رک گئے۔
تینتیس ہزار روپے۔
اس کے فوراً بعد ایک اور پیمنٹ کا میسج آیا۔
بائیس ہزار روپے۔
وہ حیرت سے اسکرین کو دیکھنے لگا۔
اس نے تو آج کچھ خریدا ہی نہیں تھا، پھر یہ پیسے اس کے کارڈ سے کہاں جا رہے تھے؟
اس نے فوراً اپنا والٹ نکالا اور کارڈ چیک کیا، مگر اگلے ہی لمحے اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
کارڈ وہاں تھا ہی نہیں۔
اس نے فوراً اپنے فون پر ان ٹرانزیکشنز کو سرچ کیا اور معلوم کیا کہ پیمنٹ کہاں کی گئی تھی۔ وہاں موجود شاپ کا نمبر نکال کر اس نے فوراً کال ملائی۔
چند لمحوں بعد دوسری طرف سے کال اٹینڈ ہوئی۔
بات کرتے کرتے اسے معلوم ہوا کہ اس کے کارڈ سے شاپنگ ایک لڑکی کر رہی تھی۔
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر جیسے ہی اسے اس لڑکی کے بارے میں پتا چلا، اس کی حیرت اور بھی بڑھ گئی۔
وہ لڑکی کوئی اور نہیں، بلکہ اس کی اپنی بہن تھی۔
اس نے بے اختیار آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی۔
تب اسے سمجھ آیا کہ اس کی بہن آخر یہ سب کیوں کر رہی تھی۔
وہ اس سے انٹرویو نہ دینے کا بدلہ لے رہی تھی۔
اس کے ہونٹوں پر بے اختیار ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ اس کی بہن اس بات پر ناراض تھی، اور اب موقع ملتے ہی اس کا کارڈ استعمال کرکے اسے تنگ کر رہی تھی۔
وہ سر جھٹک کر کرسی سے ٹیک لگا گیا۔
“تو یہ بات ہے میڈم…!” وہ زیرِ لب بڑبڑایا۔۔۔
“تو تم ایسے بدلہ لو گی مجھ سے؟ اب میرے ہاتھوں بچ کے دکھانا۔”
—————————————-
شاپنگ کرنے کے بعد جب وہ گھر واپس آئی تو کافی تھک چکی تھی
تو ابھی ہال میں قدم ہی رکھا تھا کہ اس کی نظر اپنی ماں، نائمہ خالہ اور خالہ کی بیٹی ایزل پر پڑی، جو صوفے پر بیٹھی باتوں میں مصروف تھیں۔
انہیں دیکھ کر اس نے بےاختیار سا منہ بنایا، مگر اگلے ہی لمحے خود کو سنبھالتے ہوئے مسکرا کر آگے بڑھی۔
“السلام علیکم!”
سب سے سلام دعا کرنے کے بعد اس نے خالہ سے بھی خیریت دریافت کی۔
خالہ کی بیٹی نے دور ہی سے مصنوعی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ہلایا۔
“اوہ… تو تم آ گئی؟ کیسی ہو؟”
اس کے لہجے میں اپنائیت کم اور غرور زیادہ تھا۔لگتا ہے کافی شاپنگ کر کے ائی ہو۔۔۔
زرنش نے مختصر سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
“الحمدللہ، آپ کیسی ہیں؟”
وہ ابھی ان کے قریب کھڑی ہی ہوئی تھی کہ خالہ نے محبت سے کہا،
“ارے بیٹھو نا! تم تو ہمیں ملتی ہی نہیں، نہ کبھی فون کرتی ہو۔ آج بڑے دنوں بعد ملاقات ہوئی ہے۔ بتاؤ، آج کل کیا کر رہی ہو؟”
زرنش ابھی جواب دینے ہی والی تھی کہ اس کی ماں نے فوراً بات سنبھال لی۔
اس نے کیا کرنا ہے میرے منع کرنے کے باوجود یہ ایک نیوز چینل میں کام کرتی ہے۔ حالانکہ میں نے اسے لاکھ سمجھایا کہ اپنے باپ اور بھائی کی طرح بزنس جوائن کرے، مگر نہ جانے اسے یہ رپورٹر بننے کا شوق کیوں ہے۔ ہر وقت خطرناک جگہوں پر گھومتی رہتی ہے، میری تو جان ہی نکلی رہتی ہے۔”
زرنش نے خاموشی سے اپنی ماں کی بات سنی۔ وہ جانتی تھی کہ اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں، اس لیے صرف ہلکی سی مسکراہٹ پر اکتفا کیا۔
پھر اس نے نظریں اپنی کزن کی طرف موڑ دیں۔
“تم کب پاکستان واپس آئی ہو؟”
“پرسوں ہی۔ ابھی چند دن ہوئے ہیں۔”
“اچھا… اور آج کل کیا کر رہی ہو؟”
اس نے ہلکے سے گردن اکڑاتے ہوئے جواب دیا،
“ابھی تو ریسٹ کر رہی ہوں، لیکن آگے کا پلان یہی ہے کہ ڈیڈ کے ساتھ بزنس جوائن کروں۔ آخر میں نے بزنس ہی پڑھا ہے، تو جانا بھی اسی فیلڈ میں ہے۔”
اس کے لہجے میں واضح خوداعتمادی کے ساتھ ہلکا سا غرور بھی شامل تھا۔
زرنش ہنس پڑی۔
“اچھا… تو تم بھی بزنس جوائن کر رہی ہو؟”
“ہاں، اور کیوں نہیں؟”
اس نے فخر سے جواب دیا۔
“ویسے تمہارا کام کیسا چل رہا ہے؟”
“الحمدللہ، ٹھیک جا رہا ہے۔”
“تم اتنی ساری شاپنگ کیسے کر کے لے آئی ہو؟ تمہاری تنخواہ تو اتنی ہے ہی نہیں کہ تم اتنی زیادہ شاپنگ کر سکو۔ چند ہزار روپے میں یہ سارا سامان کہاں سے لائی ہو؟ پیسے کہاں سے آئے؟”اس کی ماں نے اس کے شاپنگ بیگس کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
وہ خاموش سے ماں کو دیکھتی رہی۔
اس وقت گھر میں خالہ اور اس کی بیٹی بھی موجود تھیں۔ ماں کے لہجے میں موجود شک اور سوال اسے اندر تک چبھ رہے تھے۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ماں خالہ اور اس کی بیٹی کے سامنے اسے نیچا دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی۔
وہ ہمیشہ یہی کرتی تھی، انہوں کس بات کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ وہ کہاں ہے اور کون اس کے سامنے بیٹھا ہے۔
وہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اچانک عرشمان وہاں آ گیا۔
“میرا کارڈ کہاں ہے؟”
عرشمان کی آواز سنتے ہی وہ ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گئی۔
آنکھوں میں جمع آنسو آخرکار چھلکنے کو بےتاب ہو گئے۔
وہ فوراً نظریں جھکا گئی تاکہ کوئی اس کی آنکھوں میں موجود نمی نہ دیکھ سکے۔۔۔وہ بھی کچھ کہنے ہی والی تھی کہ خالہ فوراً بول پڑیں۔
” اچھا تو کیا ہوا لڑکیاں شاپنگ ہی تو کرتی ہیں اور ویسے بھی تو یہ اپنے بھائی کے پیسوں سے شاپنگ کر کے لائی ہے؟”میری ایزل کو بھی بہت پسند ہے شاپنگ کرنا ۔۔
یہ سنتے ہی وہ مزید کچھ نہ کہہ سکی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے فوراً اپنے بھائی عرشمان کی طرف دیکھا، پھر خاموشی سے اپنے ہاتھ میں پکڑا کارڈ نکالا اور عرشمان کے ہاتھ میں تھما دیا۔
“یہ لو۔”
بس اتنا کہہ کر وہ تیزی سے وہاں سے چلی گئی اور غصے میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
عرشمان چند لمحے وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔ اسے فوراً احساس ہوا کہ شاید اسے اس طرح سب کے سامنے نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اس نے اپنی بہن کی آنکھوں میں آنسو دیکھ لیے تھے۔۔۔
وہ کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ اسی لمحے ایزل اس کے پاس آ گئی۔
“ہیلو عرشمان! کیسے ہو تم؟ تم تو بغیر بتائے ہی پاکستان آ گئے۔ اگر بتاتے تو ہم بھی تمہارے ساتھ واپس آتے۔”۔۔
ارشمان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
“بس اچانک پلان بن گیا تھا۔”
وہ ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ خالہ نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔
“بیٹا، تمہیں دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی ہے نا! تم پتہ ہے نوشین۔۔ لندن میں اس نے ہمارا کتنا خیال رکھا۔ ہر ویک اینڈ ہم سے ملنے آتا تھا، چاہے کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہو۔ واقعی بہت اچھے اور پیارے بچے ہے۔”
خالہ مسلسل اس کی تعریفیں کیے جا رہی تھیں، جبکہ عرشمان خاموشی سے سر جھکائے کبھی ہاں میں سر ہلا دیتا اور کبھی ہلکی سی مسکراہٹ دے دیتا۔
مگر اس کے ذہن میں بار بار اپنی بہن کا آنسوؤں بھرا چہرہ آ رہا تھا۔
وہ ایک بار اوپر جا کر اس سے معافی مانگنا چاہتا تھا، لیکن خالہ اسے اپنے پاس سے اٹھنے ہی نہیں دے رہی تھیں۔
ایزل بھی اس کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی تھی اور اب اپنی باتیں شروع ہو گئی تھی۔۔۔
کافی دیر بعد عرشمان نے آخرکار کہا،
“اوکے خالہ، مجھے کچھ کام ہے۔”
یہ کہہ کر وہ وہاں سے اٹھا اور سیدھا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
جبکہ ایزل اسے کہتی ہے ۔رکو تو ابھی تو آئے ہو تھوڑی دیر تو بیٹھو باتیں کرتے ہیں ۔نہیں پھر کبھی ابھی میں بزی ہوں۔۔
اس کے قدم اوپر کی طرف بڑھ رہے تھے، مگر دل میں صرف ایک ہی خیال تھا۔
اسے اپنی بہن سے بات کرنی تھی۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہاں عرشیان پہلے ہی موجود تھا۔ وہ زرنش کے پاس بیٹھا اسے پیار سے سمجھا رہا تھا۔
“دیکھو، ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر نہیں روتے۔”
زرنش اپنے بھائی سے لپٹی ہوئی تھی۔ آنسو مسلسل اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔
“ماما ہمیشہ میرے ساتھ ایسا ہی کرتی ہیں۔ سب کے سامنے مجھے ڈانٹتی ہیں، ذلیل کرتی ہیں۔ انہیں ذرا بھی میری پروا نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ میرا دل دکھاتی ہیں۔”
عرشیان نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“بس، اب رو مت۔تم تو پتا ہے نا کہ ماما کا غصہ تھوڑا تیز ہے۔”
دروازے کے پاس کھڑا ور ور عرشمان خاموشی سے سب کچھ سن رہا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی بہن کو روتے ہوئے دیکھ چکا تھا اور اب اسے پہلے سے بھی زیادہ افسوس ہو رہا تھا کہ اس نے سب کے سامنے اس سے وہ بات کیوں کہی ۔۔۔وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر نم آنکھوں سے بولی،
“آپ بتائیں، کیا میری جاب بری ہے؟”
عرشیان نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔
“بالکل نہیں۔ تم جو چاہو کر سکتی ہو۔ میں تمہیں سپورٹ کروں گا۔”
زرنش نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“سچ میں؟”
“ہاں، بالکل۔”
اسے ٹائم عرشمان بھی روم میں داخل ہوا اور کہا۔۔۔
“اور میں بھی تمہیں سپورٹ کروں گا۔ تمہیں کوئی نہیں روکے گا۔ اور جتنے چاہو میرے پیسے استعمال کر سکتی ہو۔”
زرنش نے اسے دیکھا تو اس کا غصہ ایک بار پھر جاگ اٹھا۔۔
زرنش نے فوراً منہ بنا کر دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔
یہ صاف ظاہر تھا کہ وہ ابھی تک اپنے بھائی سے ناراض تھی۔
عرشمان نے اس کا منہ دیکھا تو شرارت سے مسکرایا اور اسے گدگدی کرنے لگا۔
“اوہو! لگتا ہے کوئی مجھ سے ناراض ہے۔ چلو، اسے مناتے ہیں۔”
“بھائی! بس کریں!”
زرنش ہنستے ہوئے پیچھے ہٹنے لگی، مگر عرشمان اسے مزید گدگدی کرنے لگا۔ کچھ ہی لمحوں میں اس کی ہنسی کمرے میں گونجنے لگی اور اس کے آنسو بھی جیسے کہیں پیچھے رہ گئے۔
عرشیان نے دونوں کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا،
“چلو، اب جب موڈ ٹھیک ہو گیا ہے تو آؤ، تم کو آئس کریم کھلانے لے چلتے ہوں”
زرنش نے فوراً کہا،
“بالکل نہیں! اگر آپ مجھے لے کر گئے نا تو نیچے جو چڑیل بیٹھی ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ چل پڑے گی۔”
عرشیان نے فوراً اسے گھورا۔
“ایسے نہیں کہتے۔ وہ تمہاری کزن ہے۔”
زرنش نے منہ بنا کر دوسری طرف دیکھ لیا۔
“جو بھی ہے!”
تینوں ہنس پڑے۔ عرشمان نے عرشیان کو بھی ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔
“آپ بھی چلیں۔”
عرشیان نے مسکرا کر سر ہلایا۔
“نہیں، مجھے ہسپتال جانا ہے۔ تم لوگ جاؤ، مزے کرو۔”
زرنش نے بھی کہا بھائی پلیز چلے نا آپ ہر وقت کام کرتے رہتے ہیں جس پر وہ کہتا ہے پھر کبھی ۔۔پھر وہ منہ بناتے ہوئے انہیں دیکھتی ہے جس پر اس کا بھائی اسے کہتا ہے اب جاؤ بھی۔۔
“ٹھیک ہے۔”
یہ کہتے ہوئے عرشمان اور زرنش باہر نکل گئے، جبکہ ارشیان انہیں جاتا دیکھتا رہا۔ کمرے سے نکلتے ہوئے زرنش کے چہرے پر کافی دیر بعد ایک ہلکی سی مسکراہٹ واپس آ چکی تھی۔۔۔۔
اس کی کبھی اپنی خالہ اور خالہ کی بیٹی سے خاص نہیں بنی تھی۔ خالہ بظاہر تو اس سے بہت پیار کرتی تھیں، مگر زرنش اچھی طرح جانتی تھی کہ اس محبت کے پیچھے ایک مقصد تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ زرنیش کسی طرح ان کی بہو بن جائے، حالانکہ زرنش کو ان کے بیٹے میں ذرہ بھر بھی دلچسپی نہیں تھی۔
شکر تھا کہ دو سال پہلے خالہ کے بیٹے نے اپنی پسند سے باہر شادی کر لی تھی، یوں زرنش کی جان چھوٹی تھی۔ ورنہ خالہ تو آئے روز اس کے پیچھے پڑی رہتی تھیں۔
“یہ میری بیٹی ہے، یہی میری بہو بنے گی، دیکھنا!”
ان کی ایسی باتیں سن سن کر زرنش کا دماغ گھوم جاتا تھا۔
رہی بات خالہ کی بیٹی کی، تو زرنش کی اس سے بھی کبھی خاص دوستی نہیں رہی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کی کزن نے بھی کبھی زرنش کو کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی۔ وہ نہ کبھی اس سے کھل کر بات کرتی اور نہ ہی اس کے ساتھ گھلنے ملنے کی کوشش کرتی۔
اس کے برعکس وہ ہمیشہ عرشمان بھائی کے ساتھ دوستی تھی ۔اس سے باتیں کرتی رہتی، جبکہ چھوٹی بہن سے بھی اس کی اچھی دوستی تھی۔ مگر زرنش کے ساتھ اس کی بالکل نہیں بنتی تھی۔
دونوں بچپن سے ہی ایک دوسرے سے الجھتی آئی تھیں۔ معمولی سی بات بھی ہو تو بحث شروع ہو جاتی، اور یہی وجہ تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان فاصلے اور بھی بڑھتے چلے گئے تھے۔۔۔۔۔۔
————————————–
منال اپنے کمرے سے نکل کر سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ ہال میں اپنے
والد کو ماموں کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر ایک دم چونک گئی۔ اس کے قدم وہیں تھم گئے۔
“یہ یہاں کیوں آئے ہیں؟ کہیں مجھے واپس لے جانے کے لیے تو نہیں آئے؟”
یہ خیال آتے ہی وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
“آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟”
اس کے والد نے سکون سے جواب دیا، “میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ آخر کب تک تم یہاں رہو گی؟”
منال نے فوراً سخت لہجے میں کہا، “مجھے اس گھر میں واپس نہیں جانا۔ آپ یہاں سے چلے جائیں، میں یہاں بالکل ٹھیک ہوں۔”
اس کی بات سن کر ماموں نے مداخلت کی۔
“رہنے دو اسے۔ اگر بچی یہاں خوش ہے تو زبردستی کیوں کر رہے ہو؟ جب اس کا دل کرے گا، خود چلی جائے گی۔”
پھر انہوں نے منال کے والد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، “ویسے تم کس کام سے آئے تھے؟”
انہوں نے کچھ جھجکتے ہوئے جواب دیا، “کاروبار میں بہت نقصان ہو گیا ہے۔ دکان بھی پہلے کی طرح نہیں چل رہی، اس لیے کچھ مدد کی ضرورت تھی۔”
ماموں نے سر ہلاتے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے، فکر نہ کرو۔ تمہارا کام ہو جائے گا۔”
یہ سن کر وہ ممنونیت سے بولے، “بہت شکریہ۔”
ماموں نے دراز سے ایک لفافہ نکالا اور ان کی طرف بڑھا دیا۔
“یہ رکھ لو، ابھی کام آ جائے گا۔”
انہوں نے تشکر کے ساتھ لفافہ لے لیا، پھر اپنی بیٹی کی طرف دیکھ کر نرمی سے بولے،
“زیادہ دیر یہاں نہ رہا کرو۔ جب بھی ہو سکے، گھر آ جایا کرو۔ تمہاری ماں ہر وقت تمہارا انتظار کرتی رہتی ہے۔”
منال نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا، جیسے اس بات سے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو۔ حقیقت تو یہ تھی کہ وہ اس گھر میں واپس جانا ہی نہیں چاہتی تھی۔ یہاں ماموں کے گھر اسے ہر آسائش، ہر سہولت اور بےحد لاڈ پیار ملتا تھا، اسی لیے وہ خود کو یہیں زیادہ خوش محسوس کرتی تھی۔
کچھ دیر بعد اس کے والد وہاں سے چلے گئے۔
ان کے جانے کے بعد منال ماموں کے قریب آ کر صوفے پر بیٹھ گئی اور مسکراتے ہوئے بولی،
“ماموں! آپ کب آئے؟ آپ تو گھر میں ہوتے ہی نہیں، ہمیں بالکل وقت نہیں دیتے۔”
ماموں ہنس پڑے۔
“کچھ ضروری کام تھے۔ تم سناؤ، سب کیسا چل رہا ہے؟”
“سب بالکل ٹھیک ہے، آپ بتائیں؟”
ماموں نے جیب سے کچھ نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیے۔
منال نے فوراً ہاتھ پیچھے کر لیے۔
“ارے نہیں ماموں، ابھی ضرورت نہیں ہے۔”
انہوں نے مسکرا کر اس کے ہاتھ میں پیسے تھما دیے۔
“رکھ لو۔ مجھے معلوم ہے، کبھی نہ کبھی کام آ ہی جاتے ہیں۔ اور اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک مجھے بتا دینا۔”جبکہ ان کا ہاتھ منال کی ٹانگ پر تھا اور وہ ہاتھ کو آگے پیچھے کر رہے تھے۔۔
مناہل کے لیے یہ کچھ نیا نہیں تھا اس کے مامو اکثر اسے ٹچ کرتے رہتے تھے اور اسے سی سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔
منال کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔ اس نے مسکراتے ہوئے پیسے لے لیے۔
اسی دوران ماموں کا بیٹا ہال میں داخل ہوا۔
اسے دیکھتے ہی ماموں بولے،
“کہاں آوارہ گردیاں کرتے رہتے ہو؟ کبھی گھر پر بھی ٹک جایا کرو۔”
وہ بےفکری سے ہنسا۔تو آپ کون سا گھر میں نظر آتے ہیں جس پر اسےکا باپ غصے سے گھورتا ہے۔۔
“ارے ڈیڈ، آپ کو تو پتا ہے۔ ابھی تو موج مستی اور انجوائے کرنے کے دن ہیں۔”
“یہ تو سچ ہے۔ تمہاری عمر میں میں نے بھی خوب موج مستی کی تھی۔ خیر، جو بھی کرو، لیکن ہمیشہ احتیاط سے رہنا۔”
“اوکے، ڈیڈ!”
وہ مسکراتے ہوئے بولا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔
ماموں نے دونوں کی طرف دیکھا اور سنجیدہ لہجے میں کہا،
“اچھا، مجھے تم دونوں سے ایک ضروری کام ہے۔”
دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
“ہم دونوں سے؟”
“ہاں، تم دونوں سے۔”اب وقت اگیا ہے تم دونوں میرا ساتھ دو۔۔
وہ دونوں خاموشی سے ان کی بات سننے لگے۔
“بتائیے، کیا کام ہے؟”
اس کے بعد کافی دیر تک ان کے درمیان مختلف باتیں ہوتی رہیں۔ ماموں نے انہیں مستقبل کے اپنے منصوبوں سے آگاہ کیا، کون کس کے ساتھ کیا کرے گا، کس وقت کیا کرنا ہوگا، اور آخر میں اپنی اصل بات بتاتے ہوئے بولے،
“یہ کام تم دونوں نے میرے لیے کرنا ہے۔”
منال نے فوراً پریشان ہو کر کہا،
“ماموں… یہ تو کافی مشکل لگ رہا ہے۔”
ماموں نے پُراعتماد انداز میں مسکراتے ہوئے جواب دیا،
“مشکل کچھ بھی نہیں ہے۔ ہر قدم پر میری مکمل سپورٹ تم دونوں کے ساتھ ہوگی۔ بس تمہیں یہ ذمہ داری پوری کرنی ہے۔”
منال نے اپنے کزن کی طرف دیکھا۔ اس نے خاموشی سے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا کہ فکر نہ کرو، سب سنبھال لیں گے۔
پھر دونوں نے ایک ساتھ سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے، ہو جائے گا۔”
ماموں مطمئن ہو کر بولے،
“بہت اچھا۔ پھر آج سے یہ ذمہ داری تم دونوں کی ہے۔ کل کا مال تم نے خود پہنچانا ہے۔”
دونوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“جی، ٹھیک ہے۔”
ماموں انہیں آخری بار دیکھ کر وہاں سے چلے گئے۔
ان کے جاتے ہی منال نے گہرا سانس لیا اور اپنے کزن کی طرف دیکھ کر دھیمی آواز میں بولی،
“تمہیں واقعی لگتا ہے کہ ہم یہ کام کر لیں گے؟”۔۔
سہیل ہلکا سا مسکرایا اور بولا،
“وہ سب تم مجھ پر چھوڑ دو۔ تمہیں صرف ایک کام کرنا ہے۔”
منال نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“کون سا کام؟”
“عائشہ کا اعتماد جیتنا ہے۔ اسے اپنے قابو میں کرنا ہوگا۔”
منال نے چند لمحے سوچا، پھر اعتماد سے بولی،
“ٹھیک ہے، میں دیکھتی ہوں۔”
سہیل نے سنجیدہ لہجے میں کہا،
“جتنا جلدی ہو سکے ۔۔۔ جتنی جلدی وہ ہمارے ساتھ ہوگی، اتنی ہی جلدی ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔”
منال نے اثبات میں سر ہلایا۔
“فکر نہ کرو، میں پوری کوشش کروں گی۔۔۔۔
کون جانے وہ کس کی زندگی برباد کرنے چلے تھے۔۔۔۔
منال نے مسکراتے ہوئے پوچھا،
“اور تمہاری ٹک ٹاک کا کیا بنا؟ آج کل کوئی ویڈیو پوسٹ نہیں کر رہے؟”
سہیل نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا،
“ہاں، وقت ہی نہیں ملا، لیکن آج ضرور ایک ویڈیو پوسٹ کروں گا۔”آج ویڈیو بنائی ہے نیو لڑکیوں کے ساتھ بہت ریکویسٹ کر رہی تھی۔۔۔۔
پھر وہ ہلکی سی خود پسندی سے مسکرایا۔
“ویسے بھی میری ٹک ٹاک کی وجہ سے نہ جانے کتنی لڑکیاں مجھ پر فدا ہیں۔”
منال ہنس پڑی۔
“ہاں، عائشہ بھی تو تمہاری ٹک ٹاک دیکھ کر ہی تمہیں پسند کرنے لگی تھی۔ پھر تو وہ تمہارے پیچھے ہی پاگل ہو گئی تھی۔”
سہیل بھی مسکرا دیا۔
“ہاں، لیکن صرف وہی نہیں۔ بہت سی لڑکیاں مجھے پسند کرتی ہیں، اور یہی تو میرے لیے فائدے کی بات ہے۔ جتنی زیادہ لوگ مجھے پسند کریں گے، اتنا ہی میں مشہور ہوتا جاؤں گا۔میرا کام آسان ہوتا جائے گا۔۔۔
منال نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا، مگر کچھ نہ کہا۔
——————————————————
ہال میں سب لڑکیاں ٹی وی دیکھنے میں مگن تھیں۔ اسی دوران ہنی کے موبائل کی رنگ بجی۔ اس نے فون اٹھا کر دیکھا تو اسکرین پر “ڈیڈی کالنگ” لکھا ہوا تھا۔ اس کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ پھیل گئی اور اس نے جلدی سے کال ریسیو کر لی۔
“السلام علیکم، ڈیڈی! میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ کیسے ہیں؟ اور کب تک واپس آئیں گے؟”
دوسری طرف سے خان صاحب کی محبت بھری آواز سنائی دی۔
“وعلیکم السلام، بیٹا۔ میں بھی بالکل خیریت سے ہوں۔ ان شاء اللہ دو دن میں واپس آ جاؤں گا۔ اور سناؤ، زیادہ مستیاں تو نہیں کر رہیں؟”
ہنی ہنس پڑی۔
“نہیں تو، ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔”
وہ ابھی ان سے بات ہی کر رہی تھی کہ اسی لمحے پری گھر کے اندر داخل ہوئی۔ اس نے خاموشی سے اپنے موبائل اور گاڑی کی چابیاں سینٹر ٹیبل پر رکھیں اور آ کر ہنی کے برابر صوفے پر بیٹھ گئی۔ ایک نظر ہنی پر ڈالی جو ابھی تک فون پر مصروف تھی۔
اُدھر خان صاحب نے پوچھا، “اور پری کہاں ہے؟”
ہنی نے فوراً جواب دیا، “وہ ابھی میرے پاس ہی بیٹھی ہے۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے موبائل پری کی طرف بڑھا دیا۔ پری نے فون پکڑا اور مسکراتے ہوئے بولی،
“السلام علیکم، خان بابا “کیسے ہیں آپ؟”
“وعلیکم السلام، بیٹا۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ سب خیریت ہے نہ۔۔ اور یہ ہنی تمہیں زیادہ تنگ تو نہیں کر رہی؟”
پری نے ہنی کی طرف دیکھا، پھر مصنوعی سنجیدگی سے بولی،
ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ مجھے تنگ نہ کرے؟ یہ تو روز ہی مجھے تنگ کرتی ہے۔”
پری کی بات سنتے ہی ہنی نے اسے گھور کر دیکھا، جبکہ پری نے بےفکری سے اسے آنکھیں دکھا دیں۔۔۔
دوسری طرف خان صاحب ان دونوں کی نوک جھونک سن کر ہنس پڑے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ پری صرف مذاق کر رہی ہے، اور اپنی شرارتی بیٹی کی عادتوں سے بھی خوب واقف تھے۔
ہنستے ہوئے بولے، “اچھا، تم دونوں اپنا بہت خیال رکھنا۔ میں دو دن میں واپس آ جاؤں گا۔”
“جی، ۔ آپ بھی اپنا خیال رکھیے گا۔ اللہ حافظ۔”
“اللہ حافظ، بیٹا۔”
کال ختم ہوتے ہی پری نے موبائل ہنی کی طرف بڑھا دیا۔ ہنی نے فون لیتے ہوئے مصنوعی ناراضی سے اسے گھورا، جبکہ پری دیکھا ہی نہیں نظر انداز کر دیا۔۔۔
ہنی نے موبائل ہاتھ میں لیا پب جی گیم کھول کر کھیلنا شروع کر دیا۔
جب کہ سامنے والے صوفے پر اینا آرام سے لیٹی اپنے موبائل میں گیم کھیلنے میں مصروف تھی۔ دوسری طرف ماہی عائشہ اور سہرش کی توجہ ٹی وی کی طرح تھی۔۔۔
پری نے ایک نظر سب پر ڈالی۔۔کہ ابھی افی نہیں آئی جس پر ہنی کہتی ہے نہیں ابھی تک تو نہیں۔۔
اسی ٹائم رومی، میر خان کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئی۔ میر خان بھاگتا ہوا پری کے پاس پہنچا تو پری نے فوراً اسے اپنی گود میں اٹھا لیا۔ وہ پیار سے اسے لاڈ کرنے لگی اور پھر اس کے ساتھ کھیلنے لگی۔
اسی وقت ٹی وی دیکھتی ہوئی ماہی کو یاد آیا کہ اس نے ہنی سے پوچھا ؟؟؟
“ہنی، تمہیں برتھ ڈے گفٹ میں کیا چاہیے؟”
ہنی حیرت سے اسے دیکھا۔۔،
“ہاں، میری بھی تو برتھ ڈے آنے والی ہے۔ سوچنا پڑے گا کہ مجھے کیا چاہیے۔ پہلے سب کو بتاؤں گی میں۔۔ ایسے کوئی منہ اٹھا کر مجھے گفٹ مت دے دینا!”
ماہی اس کی بات سن کر ہنس پڑی۔
رومی ہنی کی بات سن کر فوراً بولی،
“ایسا کیسے؟ تم بتاؤ گی اور ہم وہی گفٹ لیں گے؟ ایسا کب سے ہونے لگا؟ اور ایسا کون کرتا ہے کہ پہلے گفٹ بتا کر پھر گفٹ دیا جائے؟”
ہنی نے فوراً دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بڑے اعتماد سے کہا،
“میں۔۔۔۔۔۔میں کہتی ہوں نا! اور میں بتاؤں گی تو گفٹ بھی وہی ملیں گے۔ میں نے ٹھیک کہا نا؟ہنی نے پری کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
رومی کے سوال پر ہنی نے شرارتی انداز میں مسکرا کر پری کے کان کے قریب جھک کر آہستہ سے کچھ کہا۔
پری نے سنتے ہی اسے گھور کر دیکھا اور آنکھیں دکھائیں۔
“ہاں ہاں… میں تو کچھ بھی مانگ سکتی ہوں نا!” ہنی نے معصوم سا چہرہ بنا کر کہا۔
پھر اس نے سیدھی ہو کر مسکراتے ہوئے پوچھا،
“اچھا پری، میرے برتھ ڈے پر آپ مجھے کیا گفٹ دیں گی؟”
پری نے بےنیازی سے جواب دیا،
“تم کیا چاہیے؟؟۔۔
،”آف کورس مجھے ایک بائیک چاہیے… وہ بھی اینا والی!”
یہ سنتے ہی سامنے صوفے پر لیٹی اینا ایک دم سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
“خبردار!” اس نے انگلی اٹھا کر ہنی کو وارننگ دی۔ “جو میری بائیک پر نظر ڈالی!”
ہنی نے ہنسی دباتے ہوئے پری کی طرف دیکھا۔
“تو… کیا میں لے سکتی ہوں؟”
پری نے سکون سے سر ہلا دیا۔
یہ منظر دیکھ کر رومی حیران رہ گئی۔ وہ پری کو دیکھنے لگی۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا ؟؟پری کبھی اس بات کے لیے راضی نہیں ہوگی۔۔
لیکن آج… اس نے اتنی آسانی سے ہاں کیسے کر دی؟
اینا بھی بےیقینی سے پری کو گھورنے لگی۔
“کیا؟ وہ… وہ میری بائیک ہے! تم اسے میری بائیک کیسے دے سکتی ہو؟”
ہنی نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا،
“کیوں نہیں؟ آخر مسئلہ کیا ہے؟ ویسے بھی تم بعد میں دوسری لے لینا۔”
“بالکل بھی نہیں!” آئینہ فوراً بولی۔ “سوچنا بھی مت۔ میری بائیک پر نظر رکھنا چھوڑ دو۔ تمہارے پاس اتنے پیسے ہیں، تم خود نئی خرید سکتی ہو۔ میری بائیک نہیں ملنے والی۔”
ہنی اس کی بات سن کر قہقہہ لگا کر ہنس پڑی اور پھر جان بوجھ کر پری کی طرف دیکھنے لگی۔
پری نے خاموشی سے اینا کو گھورا۔
آئینہ نے فوراً شکایتی انداز میں کہا،
“تم… تم ہمیشہ اسی کا ساتھ کیوں دیتی ہو؟”
پری نے بےتاثر لہجے میں جواب دیا،
“میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا۔”اینا کو ابھی بھی امید تھی کہ پری منا کر دے گی وہ اس بات کی اجازت کبھی بھی ہنی کو نہیں دے گی۔۔۔
جبکہ آئنا اور ہنی آپس میں بحث کر رہی تھیں، اسی وقت میر خان نے پری کی طرف دیکھتے ہوئے معصومیت سے کہا،
“موم! آئس کریم کھانے چلیں۔”
پری نے پیار سے میر خان کی طرف دیکھا، اس کے گال کھینچتے ہوئے مسکرا کر بولی،
“کیا میرا بیٹا آئس کریم کھانا چاہتا ہے؟”
میر خان نے فوراً زور زور سے سر ہلایا۔
“مجھے بھی کھانی ہے!” ہنی نے فوراً اپنی فرمائش شامل کر دی۔
،
“ٹھیک ہے، تم سب لوگوں کے پاس پانچ منٹ ہیں۔ میں فریش ہو کر آتی ہوں۔”
یہ کہہ کر وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر چلی گئی۔
اینا ہنی کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے کہتی ہے۔۔۔
“میں تمہیں اپنی بائیک نہیں دوں گی!” آئنا نے صاف الفاظ میں کہا۔
“میں لوں گی!” ہنی بھی ضد پر قائم تھی۔
رومی ان دونوں کی باتیں سن کر سمجھ گئی کہ ہنی صرف آئنا کو تنگ کر رہی ہے، کیونکہ ہنی کو بائیک سے بہت ڈر لگتا تھا۔ وہ تو کبھی بائیک چلا ہی نہیں سکتی تھی، بس آئنا کو چھیڑنے کے لیے جان بوجھ کر اس کی بائیک مانگ رہی تھی۔
پیچھے ہنی اور آئینہ کی نوک جھونک بدستور جاری تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے بحث کیے جا رہی تھیں، جبکہ باقی سب لڑکیاں ان کی باتوں پر ہنس رہی تھیں۔
پری نے بےبسی سے سر ہلایا، سیڑھیاں چڑھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی، جبکہ نیچے ہال میں ان دونوں کی بحث ابھی بھی پورے زور و شور سے جاری تھی۔۔۔۔
———————————————
