SUKOOT BY UFFAQ HASHMI LAST EPISODE.

سکوت آخری قسط 

ازقلم اُفق ہاشمی۔

اختتام سفر

ہر اختتام میں لرزتا ہوا ایک خواب چھپا ہے ،
خواب کے پیچھے ایک ان کہی دعا سسکتی ہے ۔

سکوت اپنی باہوں میں صدا چھپائے بیٹھا ہے ،
اور صدا کے اندر خدا کی سرگوشی گونجتی ہے ۔

سائے روشنی کا پیچھا کرتے ہیں ،
اور روشنی اندھیروں میں اپنا چہرہ ڈھونڈتی ہے ۔

راہیں ہمیں ہم تک لے آتی ہیں ،
اور ہم خود سے بھاگتے رہتے ہیں ۔

وقت اپنے دامن میں آئنے سمیٹے ہے ،
ہر آئنے میں ہم اپنے ہی دو روپ دیکھتے ہیں ۔

یہ صرف ایک اختتام ہے ،
مگر ہر اختتام اپنے اندر آغاز کا راز رکھتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چار ماہ بعد۔
استنبول۔
استنبول پر صبح اتر آئی تھی۔ سورج کی تیز روشنی ہر شے کو تازگی بخش رہی تھی۔
اس تنگ گلی کے چھوٹے سے گھر میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ دلارے نے سوپ کا باؤل اٹھایا اور اس کے کمرے کی طرف چل دی۔
سلیم صاحب اپنے کمرے میں آرام کر رہے تھے۔
دلارے نے مدھم آواز سے دروازہ کھٹکھٹایا اور اسے کھول کر اندر داخل ہوئی۔
وہ وہی بیڈ پر نیم دراز سا بیٹھا تھا۔ آنکھوں تلے حلقے تھے جبکہ آنکھیں متورم تھیں۔
وہ پچھلے ایک روز سے ترکی آیا ہوا تھا۔ اس کی طبیعت خراب تھی۔ دلارے اسے اس حال میں دیکھ کر اندر سے تڑپ اٹھی تھی۔
“حاکم، یہ سوپ پی لو۔”
وہ ابھی ابھی فریش ہو کر بیڈ پر بیٹھا تھا۔ دلارے کو آتا دیکھ مسکرا دیا۔
“تمہارا بہت شکریہ، دلارے۔”
دلارے کرسی کھینچ کر وہاں بیٹھ گئی۔
“اب کیسا فیل کر رہے ہو؟”
مرزا کرب سے مسکرایا۔
“اندر تکلیف ہے، دلارے۔ یک طرفہ محبتیں کہاں سکون دیتی ہیں؟”
دلارے کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔ وہ مرزا کی تکلیف سمجھ سکتی تھی۔
“تم اس سے ایک بار پھر کہہ کر دیکھتے۔” دلارے نے نرمی سے کہا۔
“میرا محبوب کسی اور کو پسند کرتا ہے، دلارے۔ میں کس طرح اس کے دل سے اس شخص کو نکالوں؟” مرزا نے آنچ دیتے لہجے میں کہا۔
“میں سمجھ سکتی ہوں۔” بے اختیار دلارے کے منہ سے نکلا۔
تو مرزا نے نفی میں سر ہلایا۔
“تم نہیں سمجھ سکتی دلارے۔”
“جب آپ کا محبوب کسی اور سے محبت کرتا ہو، کتنی تکلیف ہوتی ہے تم نہیں جان سکتی۔”
دلارے مسکرائی۔
“ہاں، میں نہیں جان سکتی۔”
“جب آپ یک طرفہ محبت کی آگ میں جلتے ہو۔۔۔”
“واقعی میں نہیں جان سکتی۔”
“جب آپ کا محبوب آپ کے سامنے کسی اور کے بارے میں بات کرتا ہے۔۔۔”
دلارے کے دل میں درد اٹھا تھا۔
“بالکل، میں اس تکلیف کو نہیں سمجھ سکتی۔”
مرزا نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔
دلارے نے بمشکل گہرا سانس بھرا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
“تم سوپ ختم کر لو، میں پھر آؤں گی۔”
وہ وہاں سے اٹھ گئی۔ اسے صاحبہ کی بات یاد آئی۔ ایک ماہ پہلے وہ اسلام آباد اس سے ملنے گئی تھی۔ وہ ملاقات اس کے آگے گھوم کر رہ گئی ۔
دو ماہ پہلے ۔
سورج کی کرنیں گلاس وال سے چھن کر آ رہی تھیں اور اس کی بھوری آنکھوں کو مزید روشن کر رہی تھیں۔ ریسٹورنٹ میں اکا دکا ہی لوگ موجود تھے۔ نیلی آنکھوں والی لڑکی نے اسے یہاں بلایا تھا۔ اسلام آباد آئے اسے ایک دن ہو گیا تھا اور آج ہی اسے یہاں سے چلے جانا تھا۔ بس وہ جانے سے پہلے اس سے ملنا چاہتی تھی۔
نیلی آنکھیں بھوری آنکھوں والی لڑکی کا طواف کر رہی تھیں۔
“آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے؟” صاحبہ نے شائستگی سے پوچھا۔
دلارے مسکرائی۔ اسے مرزا نے بتا دیا تھا کہ اس کی محبت بھی یک طرفہ ثابت ہوئی تھی، اور اس نے مرزا سے نمبر لے کر کال پر اسے یہاں بلایا تھا۔ صاحبہ پہلے تو نہیں آنا چاہتی تھی مگر ارادہ ترک کرتی ایک آخری بار چلی آئی تھی۔
“میں بس آپ سے ملنا چاہتی تھی۔”
وہ شستہ انگریزی میں بولتی صاحبہ کو چونکا گئی۔
“صرف ملنا؟ مگر کیوں؟”
اس نے سوالیہ انداز میں ابرو اٹھاتے پوچھا۔
“حاکم آپ سے بہت محبت کرتا ہے۔”
دلارے کی آواز میں کرب محسوس کرتے صاحبہ چونک گئی۔ پھر اسے سارا معمہ سمجھ میں آ گیا۔ اسے بے اختیار سامنے بیٹھی کم عمر، معصوم لڑکی پر ترس آیا۔
“واقعی مرزا حاکم مجھ سے بہت محبت کرتا ہے، اور۔۔۔ آپ مرزا حاکم سے۔ رائٹ؟”
اس نے نرمی سے پوچھا۔
“میں کیا محسوس کرتی ہوں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟”
دلارے نے سر جھٹک کر کہا، پھر گہرا سانس بھرا۔
“آپ اس کی محبت کو قبول کر لیں صاحبہ۔ وہ اپنے جذبات میں سچا ہے۔ آپ اس کی انمول محبت ہیں۔”
اس نے بھاری ہوتے دل سے کہا۔
صاحبہ چند پل اسے دیکھتی رہی، پھر مسکرائی۔
“مجھے کسی نے بڑی شدت سے انمول کر کے بے مول کیا تھا، دلارے سلیم۔”
دلارے تھم گئی۔
“مجھے کسی نے اتنا چاہا تھا کہ میں سوچ کر رہ جاتی تھی، کوئی اتنا کیسے چاہ سکتا ہے؟ پھر اسی نے مجھے ایسے چھوڑا کہ میں ہل کر رہ گئی۔”
دلارے کو حیرت ہوئی تھی۔
“مجھے کسی نے عرش پر بٹھا کر فرش پر پٹخا تھا۔”
بھوری آنکھیں بے تاثر تھیں۔ دلارے اس کے بے تاثر چہرے سے اس کی تکلیف کا اندازہ نہیں لگا پائی۔
“میں محبت کے ان دنوں سے بھی واقف ہوں جب سانسیں مہک جاتی ہیں، اور ان دنوں سے بھی واقف ہوں جب۔۔۔ ج۔۔۔ جب سانسیں محال ہو جاتی ہیں۔”
آخر میں صاحبہ کی آواز ٹوٹی تو دلارے سانس روک گئی۔ اس آخری جملے میں کتنی تکلیف، کتنی بے بسی تھی، دلارے محسوس کر سکتی تھی۔
صاحبہ نے دھیرے سے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“دلارے، تم بہت معصوم، بہت خوبصورت اور بہادر لڑکی ہو کیونکہ تم یک طرفہ محبت سے لڑ رہی ہو، اور یہ آسان نہیں ہوتا۔”
دلارے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“ابھی یہ جنگ تمہیں مشکل لگے گی۔ تکلیف ہو گی۔ سانس بھاری ہو جائے گی اور تم خود کو ایک گہرے کنویں میں گرتا محسوس کرو گی، مگر۔۔۔”
وہ ایک پل کو رکی۔
“مگر جب تم اس سے موو آن کر جاؤ گی تب تم ایک نئی دلارے سلیم ہو گی، جو محبت کی جنگوں سے لڑنا جانتی ہو گی۔ جسے یہ جنگیں توڑیں گی نہیں بلکہ نئے سرے سے کھڑا کریں گی۔”
صاحبہ کی آواز میں نرمی تھی۔ وہ بالکل نحل کی طرح اسے سمجھا رہی تھی۔
“یہ نہیں ہو گا کہ تمہیں تمہاری یادیں گھائل نہیں کریں گی۔ نہیں۔ موو آن کر جانے کے بعد بھی تمہیں یادیں آئیں گی، پھر تکلیف ہو گی، پھر ٹوٹو گی، پھر یادیں آئیں گی۔ یہ سائیکل چلتا رہے گا۔ بس وقت کے ساتھ ساتھ شدت کم ہوتی جائے گی، تکلیف ختم ہوتی جائے گی، تم بہتر ہوتی جاؤ گی۔ اور ایک وقت ایسا آئے گا جب صرف یادیں رہ جائیں گی اور ایک سرد آہ۔۔۔ بس۔”
دلارے مسکرائی۔ اس کی آنکھیں نم تھیں۔ صاحبہ بھی مسکرا رہی تھی۔
“تم بہادر لڑکی ہو، اور بہادر لڑکیاں باطنی جنگوں سے لڑنا جانتی ہیں۔ ہممم؟”
“ہممم۔”
دلارے نے اثبات میں سر ہلایا۔
صاحبہ اٹھی اور اس تک گئی، پھر بازو پھیلا دیے۔
نیلی آنکھیں ایک پل کو اس کی بھوری آنکھوں سے ٹکرائیں۔
دلارے کھڑی ہوتی اس کے گرد حصار باندھ گئی۔
گلاس ڈور سے آتی روشنی ان دونوں پر پڑ رہی تھی اور انہیں روشن کر رہی تھی۔
حال ۔
دلارے مسکرائی ۔ اس ملاقات کے بعد دلارے نے جانا تھا کہ صاحبہ بھی کتنے کرب سے گزری تھی۔ ہر انسان تکلیف سہتا ہے، ہر انسان گرتا ہے، مگر مضبوط وہ ہوتا ہے جو گرنے کے بعد اٹھتا ہے۔ اور دلارے اٹھی تھی۔ اس نے اپنے کیریئر کی شروعات کی تھی، اس نے صاحبہ سے موو آن کرنا سیکھا تھا۔
ترکی کے آسمان نے اسے مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چترال کی وادیوں میں داخل ہوتے ہی منظر یکسر بدل گیا تھا۔ بلند و بالا پہاڑ آسمان سے باتیں کرتے محسوس ہوتے تھے، جن کی چوٹیوں پر جمی برف شام کی مدھم دھوپ میں چاندی کی مانند چمک رہی تھی۔ سڑک بل کھاتی ہوئی پہاڑوں کے درمیان آگے بڑھ رہی تھی جبکہ نیچے بہتا دریا اپنی بے قرار لہروں کے ساتھ خاموش فضا میں ایک مسلسل نغمہ بکھیر رہا تھا۔ دور دور تک پھیلے سبزہ زار، پھلوں سے لدے درخت اور پہاڑی ڈھلوانوں سے چمٹے چھوٹے چھوٹے گھر کسی مصور کے کینوس کا حصہ معلوم ہوتے تھے۔ گاڑی دھیرے دھیرے اس دلکش وادی کے اندر اتر رہی تھی اور ہر گزرتا لمحہ چترال کی خوبصورتی کا ایک نیا راز آشکار کر رہا تھا۔
وہ گاڑی کے شیشے سے ٹیک لگائے محو سی پہاڑوں کو دیکھ رہی تھی، جبکہ ذہن کے پردوں پر کچھ عرصہ پہلے کی یادیں گردش کر رہی تھیں۔
(وہ اس کی اسٹڈی میں کھڑی تھی۔ وہ اور دائم دعوت پر آئے تھے اور ازمیر اسے اپنا کمرہ دکھا رہا تھا، جب صاحبہ کمرے سے ملحقہ اس کی اسٹڈی میں گھس گئی۔
“اوہ مائی گاڈ! مسٹر ازمیر تو شاعر ہیں!”
وہ اس کی میز پر پڑی اس کی ڈائری اٹھاتے مسکراہٹ ضبط کرتی اونچی آواز میں بولی تو وہ چونک کر مڑا۔
اس کے ہاتھ میں اپنی ٹین ایج کی ڈائری دیکھ کر وہ بوکھلا گیا۔
“صاحبہ نہیں، پڑھنا!” وہ بھاگ کر اس تک آیا، وہ میز کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔
“پڑھنے تو دو، آخر کیا کیا لکھتے رہے ہو تم؟” وہ اس کا لکھا ایک شعر مسکراتے ہوئے پڑھتی ہے، ازمیر شرم سے پانی پانی ہو گیا۔
“ادھر واپس دو مجھے!” وہ اس تک جاتے ہوئے بولا، جبکہ صاحبہ بھاگ کر ایک بار پھر اس سے دور جا کھڑی ہوئی۔
ازمیر اس کے پیچھے بھاگا۔
“مجھے واپس دو!”
“لے لو!”
“صاحبہ!”
“ہاہاہاہا…”
اس کے قہقہے ہر طرف ساز بکھیر رہے تھے۔ وہ ڈاکٹر طاہر کی طرح اس کی زندگی میں سکون بن کر آیا تھا۔)
صاحبہ نے ایک نظر مسکرا کر ازمیر کو دیکھا۔
وہ بھی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے مسکرا رہا تھا اور دھیرے دھیرے پچھلے دنوں میں گم ہوتا جا رہا تھا۔
(وہ دونوں لان میں بیٹھے تھے۔
“تم میرے لیے ڈسٹرکشن تھی، صاحبہ۔” اس نے کئی پل بعد کہا تو وہ چونکی تھی۔
“کیا مطلب؟”
“مطلب یہ کہ تمہارے اردگرد ایسی قوت تھی جو مجھے تمہاری طرف کھینچتی تھی اور میں ہر شے سے بے نیاز ہوتا کھنچا چلا آتا تھا۔ تم میرے دل کا مسئلہ بن گئی تھی، اور دل کے مسئلے حل کرنا مجھے کبھی نہیں آئے۔”
صاحبہ مسکرائی تھی۔
“اب تم بتاؤ، تم میرے لیے کیا محسوس کرتی تھی؟” وہ اشتیاق سے پوچھتا ہے۔
“کچھ بھی نہیں۔” اس نے رسانیت سے جواب دیا تو وہ منہ کھول کر رہ گیا۔
“کیا مطلب، صاحبہ؟” اس نے افسوسناک تاثرات سے پوچھا۔
“مطلب یہ کہ تمہارے اردگرد کوئی قوت نہیں تھی جو مجھے تمہاری طرف کھینچتی۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو ازمیر اسے گھور کر رہ گیا۔
صاحبہ کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔
“تم میری سیف پلیس بنتے جا رہے تھے۔” کچھ وقت بعد وہ بولی تو ازمیر کا رواں رواں سماعت بن گیا۔
“تمہارے اردگرد میں خود کو محفوظ سمجھتی تھی کیونکہ تم میری حفاظت کر لیتے تھے۔ تم صاحبہ کی سیف پلیس ہو۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو۔۔۔
“تم ازمیر عباس علی کی پہلی اور آخری محبت ہو صاحبہ۔” ازمیر نے سنجیدگی سے بتایا تو وہ سانس روک گئی۔
“میں۔۔۔ میں تمہارے جتنی محبت نہیں کر پاؤں گی ازمیر، کیونکہ اب میں اپنے اندر محبت کرنے کی ہمت نہیں رکھتی۔” اس نے نم آواز میں کہا تو ازمیر مسکرایا۔
“میں نے تم سے محبت مانگی ہی کب ہے،صاحبہ؟”
اس کے ایک جملے نے اسے تھمنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے دل پر بھاری بوجھ ہٹ گیا۔
صاحبہ کئی پل اسے دیکھتی رہی تھی۔
“میں جو کچھ تمہارے لیے محسوس کرتی ہوں وہ محبت سے کہیں زیادہ ہے۔”
ازمیر ساکت ہوا تھا۔
“عشق؟” اس نے یک لفظی سوال پوچھا۔
“اس سے بھی زیادہ۔” اس نے آہستہ آواز میں جواب دیا۔
“کیا؟”
صاحبہ اسے کئی پل دیکھتی رہی، پھر اس کی سیاہ آنکھوں میں اپنی بھوری آنکھیں گاڑتے بولی:
“بعد میں بتاؤں گی۔”)
ازمیر علی اس بعد کا انتظار کر رہا تھا۔باہر موسم ابر آلود ہوتا جا رہا تھا۔ گاڑی میں بجتی ہلکی دھن ساز بکھیر رہی تھی۔
صاحبہ کی نظر دور پہاڑ پر بنے درختوں پر جمی تھی جب وہ مسکرائی۔
(وہ دونوں اسٹیج پر بیٹھے تھے۔ آج ان کی منگنی تھی۔ صاحبہ نے سلور رنگ کی میکسی زیب تن کر رکھی تھی اور ازمیر نے سیاہ تھری پیس سوٹ پہن رکھا تھا۔ اسٹیج پر بیٹھے وہ دونوں بے انتہا خوبصورت لگ رہے تھے۔)
ازمیر نے پہاڑی پر سے موڑ کاٹا تھا۔ وہ چترال میں موجود آیون علاقے کی حدود میں داخل ہو رہے تھے۔
(وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی بالوں میں برش پھیر رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔
ان کی منگنی کو دو ماہ ہو گئے تھے۔
“آپ نے بلایا میڈم؟” ازمیر بازو سینے پر باندھے دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔
صاحبہ مسکراتے ہوئے پلٹی۔ وہ اسے دیکھ کر آج بھی پہلی بار کی طرح مسمرائز ہوا تھا۔
“بابا کے دوست کی بیٹی کی شادی ہے۔”
“ٹھیک ہے۔”
“وہ چترال میں رہتے ہیں۔”
“اوکے۔”
“میں نے چترال جانا ہے۔”
ازمیر نے مسکراہٹ ضبط کی۔
“ہممم۔”
“تو مجھے ڈرائیور کی ضرورت ہے۔”
ازمیر کا دل زور سے دھڑکا تھا۔
“تو؟”
“کیا تم میرے ڈرائیور بننے کا شرف حاصل کرنا چاہو گے؟” صاحبہ نے جتاتی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔
“ریکوئسٹ ہے یا حکم؟” وہ ابرو اچکاتے پوچھتا ہے۔
“حکم۔”
وہ ایک دو پل اسے دیکھتا رہا پھر سینے پر ہاتھ رکھ کر نیچے جھکا۔
“ہم تعبدار۔”
صاحبہ ہنس دی۔)
صاحبہ نے دور نظر آتے باغات کو دیکھا اور اس کے سامنے ایک منظر گھوم گیا۔
(وہ دونوں ٹیرس پر بیٹھے تھے۔ دونوں کے ہاتھ میں کافی کے کپ تھے۔
“اس دنیا میں ہمارا ساتھ ہو یا نہ ہو، میں جنت میں تمہیں اپنا ساتھی چنوں گی، ازمیر۔”
ازمیر اس کی بات پر تھم گیا تھا۔ وہ اسے کتنی شدت سے چاہنے لگی تھی، وہ حیران رہ گیا۔
“یہ دنیا ابدی نہیں ہے۔ اس لیے میں اس دنیا میں تمہیں ملوں یا نہ ملوں، اس دُنیا میں تمہارا ساتھ اپنے رب سے مانگوں گی۔”)
صاحبہ مسکرا کر رہ گئی۔
ان کی شادی اگلے ماہ تھی، اور ازمیر یہ سوچ سوچ کر ہی اللہ کا جتنا شکر ادا کرتا تھا وہ کم تھا۔
اس نے سائفر کی کھوج کو ترک کر دیا تھا۔ اب بس وہ زندگی میں سکون چاہتا تھا۔ وہ صاحبہ کے ساتھ ایک اچھی اور پُرسکون زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ اس نے سائفر کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا۔
آیون سرسبز پہاڑوں سے ڈھکا ایک خوبصورت علاقہ تھا۔ اس وقت اس علاقے میں شام کا اندھیرا چھانے لگا تھا۔
انہوں نے گھر کے سامنے گاڑی روکی۔ ازمیر نے سیٹ بیلٹ اتارا اور گاڑی سے اتر کر اس کی طرف آیا۔ وہ گاڑی میں ہی سو چکی تھی۔ ازمیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے جگانا چاہا۔
“صاحبہ۔۔۔ صاحبہ اٹھو، ہم پہنچ گئے ہیں۔”
صاحبہ نیند میں کسمسائی اور آہستگی سے آنکھیں وا کیں۔ وہ لوگ صبح سے سفر کر رہے تھے، نیند اس پر غالب آنے لگی تھی۔
وہ بے اختیار خود پر جھکے ازمیر کے سینے پر ہاتھ رکھتی اٹھی۔ ازمیر کا دل شدت سے دھڑکا تھا۔ صاحبہ یوں ہی ہاتھ رکھے باہر آئی اور اندر کی جانب چل دی۔
“کالم ڈاؤن ازمیر، تمہاری ہی ہونے والی ہے وہ۔” ازمیر نے دل پر قابو پاتے خود کو ریلیکس کیا۔
چترال کے آسمان نے قہقہہ لگاتے اسے دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاونج سفید بلب سے روشن تھا۔ وہ مشروب کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لیتا دلاور کی بات سن رہا تھا۔
“یہ ہے وہ شخص جس نے تمہارے باپ کو جیل بھجوایا ہے۔”
دلاور نے اس کے سامنے ایک تصویر رکھی۔ مرزا نے گلاس میز پر رکھا اور تصویر اٹھا کر دیکھی تو وہی تھم گیا۔
تصویر میں نظر آتا چہرہ ازمیر علی کا تھا۔
“کیا تم واقعی سچ کہہ رہے ہو؟”
“ہاں، میں سچ کہہ رہا ہوں۔ ائیرپورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہی شخص نظر آیا تھا۔”
مرزا حاکم نے حیرت سے دوبارہ تصویر کو دیکھا۔
“یہ کیوں بابا کے پیچھے پڑے گا؟”
“حارث علی اس کا باپ تھا۔”
مرزا حاکم ساکت رہ گیا۔
“اس نے باپ کا بدلہ لیا ہے۔ اس کا اصل نشانہ اسٹیفن نہیں، تم ہو۔ یہ تو اس نے بس ایک وار کیا ہے سائفر کو سامنے لانے کے لیے۔”
مرزا حاکم مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔ بے اختیار اسے اس رات ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ازمیر اور صاحبہ یاد آئے۔ مرزا کی آنکھیں جلنے لگیں۔ بے اختیار اس پر غصہ حاوی ہوا۔ اسے رقابت محسوس ہوئی۔ حسد محسوس ہوا۔
“اپنے رقیب کو کیا سزا دینی چاہیے؟” اس نے خود سے سوال پوچھا اور اگلے ہی پل اسے جواب مل گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایون کی وادی آج جشن کی چادر اوڑھے ہوئے تھی۔ برف سے ڈھکی چوٹیوں کے سائے تلے آباد گاؤں میں صبح ہی سے غیر معمولی رونق تھی۔ دور دور کے رشتہ دار اور مہمان روایتی چترالی لباس زیبِ تن کیے شادی میں شرکت کے لیے پہنچ رہے تھے۔ کشادہ صحنوں میں رنگ برنگے قالین بچھائے گئے تھے، جبکہ ایک طرف بڑی دیگوں میں مہمانوں کے لیے کھانے تیار ہو رہے تھے۔ ہوا میں مقامی موسیقی کی مدھم دھنیں گھلی ہوئی تھیں اور نوجوان خوشی سے ایک دوسرے کے گرد جمع تھے۔ بزرگ روایتی انداز میں مہمانوں کی خاطر مدارت کر رہے تھے، عورتوں کے حصے میں ہنسی، گیت اور تیاریوں کی چہل پہل تھی۔ پورا گاؤں اس شادی کا حصہ محسوس ہوتا تھا، جیسے یہ صرف دو لوگوں کا نہیں بلکہ پوری وادی کی خوشی ہو۔ شام ڈھلتے ہی پہاڑوں پر سنہری روشنی بکھر گئی اور ایون کی پُرسکون فضا خوشیوں، دعاؤں اور قہقہوں سے گونج اٹھی۔
وہ بھی انہی مہمانوں میں شامل تھے۔ ان دونوں نے روایتی چترالی لباس پہن رکھا تھا۔
ازمیر صاحبہ کو اس لباس میں دیکھ کر مسمرائز ہو گیا تھا۔ وہ بالکل خوبصورت پٹھانی کی طرح لگ رہی تھی۔
ان دونوں نے وہاں بہت مزے کیے تھے۔پورے فنکشن میں ازمیر کی نظر بلا ارادہ ہی صاحبہ پر ٹکی رہتی تھی ۔کچھ عرصے سے وہ اسے یوں ہی دیکھتا رہتا تھا ۔ مسکراتی نظروں سے ،یک ٹک ۔اکثر تو صاحبہ خود بھی اس کی نظروں سے خائف ہو جاتی تھی مگر وہ نظریں نہیں ہٹاتا تھا۔ وہ ازمیر عباس علی کو دنیا سے بیگانہ کر دیتی تھی ۔
صاحبہ لڑکیوں کے ساتھ بیٹھی تالیاں بجاتی، سامنے ڈھیر سارے مردوں کے ساتھ رقص کرتے ازمیر کو دیکھ رہی تھی۔ وہ بے انتہا وجیہہ لگ رہا تھا۔
ان کا یہ سفر ان دونوں کے لیے یادگار ثابت ہوا تھا۔
“کیسا لگ رہا تھا میں؟”
وہ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھتا ہے۔
صاحبہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اوسط کہا تو وہ منہ بنا کر رہ گیا۔
“کیسا ہو اگر میں وہ پھولوں کا تاج تمہیں پہناؤں اور کہوں کہ تم میری جان ہو؟”
صاحبہ نے دونوں ابرو اٹھا کر اسے دیکھا۔
“اور کیسا ہو میں آگے سے جھاپڑ ماروں اور کہوں زیادہ کرنج نہ ہوں اور اپنی حد میں رہیے؟”
ازمیر کا قہقہہ گونجا تھا۔
وہ اکثر اس سے ٹین ایج لڑکوں کی طرح بات کر کے اسے چھیڑتا تھا۔یہ اور بار تھی ان باتوں میں صدق ہوا کرتی تھی ۔
“خیر آج رات روانگی ہے اس لیے جلدی کرنا، ورنہ تمہارے باپ کو ہول اٹھیں گے کہ میری بیٹی بھگا لے گیا ہے۔”
صاحبہ نے اس کے کندھے پر چت رسید کی تھی۔
“بدتمیز!”
وہ دونوں ہی ہنس دیے۔
ازمیر نے فرصت سے اسے ہنستا دیکھا تھا۔ زہن میں کچھ دن پہلے کا منظر ابھرا۔۔۔۔
(بارش جل تھل برس رہی تھی ۔پارک میں ان دونوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔
زمین کے ساتھ نسب بینچ پر وہ دونوں بیٹھے تھے ۔ ان کے پیچھے استادہ درخت بارش کی شدت سے لہلہا رہا تھا ۔
بارش ان کے وجود پر پڑتی انہیں بھیگا رہا تھا ۔
صاحبہ دھیرے لہجے میں اس سے کچھ کہہ رہی تھی اور وہ یک ٹک اسے دیکھتا اسے سن رہا تھا ۔
اس نے بلیک تھری پیس سوٹ پہن رکھا تھا جبکہ صاحبہ نے سفید سکرٹ کے ساتھ بلیک شرٹ اور سفید اوور کوٹ پہن رکھا تھا۔
اب صاحبہ ہنس رہی تھی اور وہ اسے دیکھتا مسکرا رہا تھا۔
اس کے چہرے پر پھسلتے بارش کے قطرے ایک حسین منظر پیش کر رہے تھے۔ )
ازمیر کے چہرے پر گہری مسکراہٹ آ گئی ۔ازمیر نے اسی خاطر بارشوں کو انجوائے کرنا شروع کر دیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے رنگ میں ڈھلتے جا رہے تھے۔
صرف ایک ساتھ تھا۔ ۔۔۔۔اور وہ دونوں مکمل ہو گئے تھے۔ ہنستے تھے ۔ قہقہے لگاتے تھے ۔ جیتے تھے ۔۔۔ کیونکہ وہ دونوں ساتھ تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاہ آسمان پر بے شمار ستارے جگمگاتے جھلملا رہے تھے۔ ہلکی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں ان دونوں کے وجود سے مس ہو کر انہیں تازگی بخش رہی تھیں۔
وہ دونوں کار کی ڈگی کھول کر اس میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے تھے۔ پہاڑ ان کے دائیں طرف تھے اور ستاروں بھرا آسمان ان کے بالکل سامنے تھا۔ بالکل خاموشی میں اس کی نسوانی آواز کسی ساز کی طرح سنائی دیتی تھی۔
“جب تم پہلی بار میرے لیے اس کنسٹرکشن سائٹ پر آئے تھے، مجھے تم میں ڈاکٹر طاہر کی جھلک دکھائی دی تھی۔ اور پھر تم یکے بعد دیگرے میری مدد کے لیے آتے تھے۔”
وہ مسکرا کر بتا رہی تھی اور وہ مسکرا کر سن رہا تھا۔
“میں تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ سکتی تھی۔ تم میرے سامنے بالکل انہی کے انداز میں جھکتے تھے۔”
“کیا اسے میں اپنا اعزاز سمجھوں؟”
صاحبہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
“بالکل۔”
“ہم تعبدار۔” ازمیر نے سینے پر ہاتھ رکھا اور سر کے خم سے کہا۔
وہ ہنس دی۔کچھ پل ان دونوں کے بیچ خاموشی ہی رہی ۔
“جب میں نے پہلی بار تمہیں دیکھا تھا میرا دل وہی پر باغی بن گیا تھا۔” صاحبہ آسمان پر نظر آتے تارے دیکھ رہی تھی اور وہ اسے دیکھتا کہہ رہا تھا۔
“میں ڈر گیا تھا ۔” صاحبہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ “مجھے لگا اگر تمہارے پیچھے محبت کی راہ پر چلا تو ہر شے سے بیگانہ ہو جاؤ گا۔”
صاحبہ اور ازمیر ایک دوسرے کو ہی دیکھ رہے تھے۔
“مگر اب تم اس راہ کے راہی ہو ۔” صاحبہ جتاتی مسکراہٹ سے بولی ۔ ازمیر ہنس دیا ۔
“اور یہ میری پسندیدہ راہ ہے۔” صاحبہ کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
“لیکن میں نے تمہیں ہر شے سے بیگانہ کر دیا ہے ۔ تم نے سائفر کی تلاش چھوڑ دی ہے۔”
ازمیر چند پل اسے دیکھتا رہا ۔ “تمہارے بعد اب مجھے کسی شے کی تمنا نہیں رہی صاحبہ ۔ کسی بھی شے کی ۔”
ازمیر کی آواز مضبوط تھی۔ “تم میری فرسٹ پرائیورٹی ہو ۔”
صاحبہ مدھم سا مسکرا دی ۔ پھر چہرہ دوبارہ آسمان کی جانب موڑ دیا۔
ازمیر نے ہوا کی وجہ سے اس کے لہراتے بالوں کو دیکھا۔
“مجھے تمہارے بال بہت پسند ہیں۔” اس نے بے اختیار کہا تو وہ چونکی۔
“کیا کہا؟”
“مجھے تمہارے بال بہت پسند ہیں۔ میں انہیں چھونا چاہتا ہوں۔”
“مگر ابھی لمس کا اختیار حاصل نہیں ہے تمہیں۔” صاحبہ نے نرم مسکراہٹ سے کہا تو وہ مسکرا دیا۔ اسے بہت جلد یہ اختیار ملنے والا تھا۔
“صاحبہ، ایک بات تو بتاؤ؟”
“پوچھو۔”
“تمہیں مجھ میں سب سے زیادہ کیا اچھا لگتا ہے؟”
صاحبہ نے دھیرے سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
دونوں کے درمیان کئی پل خاموشی رہی۔ تارے دم سادھے بھوری آنکھوں والی لڑکی کو دیکھ رہے تھے۔
صاحبہ نے اس کی سیاہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنا شروع کیا تو ازمیر کا رواں رواں سماعت بن گیا۔

سحر کی آس میں ڈوبتی ہوئی سیاہ آنکھیں،
ستارے توڑ کر لاتی ہیں یہ بے نور آنکھیں۔

ہزاروں خواب جو دفن ہیں بے تعبیر اب تک،
انہیں کی قبروں پر روتی ہیں یہ حساس آنکھیں۔

عجب تضاد ہے ان کا، عجب ہی منظر ہے،
سکوتِ شب میں بھی دھڑکتی ہیں یہ بے جان آنکھیں۔

کسی کے قدموں کی چاپ کسی کی آہٹ پر،
دیے کی لو کی طرح جلتی ہیں یہ حیراں آنکھیں۔

ہوائے دہر نے چھین لی سب خوشیاں،
خزاں کی دھول میں اٹتی ہیں یہ ویراں آنکھیں۔

بہت سے رنگ جو اجڑے ہیں ان کی پلکوں پر،
کہانیاں درد کی سناتی ہیں یہ بے درد آنکھیں۔

کسی کے لمس کی خواہش کسی کے وصل کی پیاس،
سرابِ ہجر میں بھٹکتی ہیں یہ تشنہ آنکھیں۔

نہ کوئی حرفِ تسلی نہ کوئی ہمدردِ سفر،
بس خود سے ہمکلام رہتی ہیں یہ تنہا آنکھیں۔

فریبِ ذات کے سائے ہوں یا غمِ دوراں،
ہر ایک دکھ کو سہتی ہیں یہ صابر آنکھیں۔

انہیں خبر ہے کہ سورج ابھرنے والا نہیں،
پھر بھی افق کو تکتی ہیں یہ پتھرائی آنکھیں۔

ناز! قیامتیں کئی گزری ہیں ان نگاہوں پر،
مگر اب بھی مسکراتی ہیں یہ بیتاب آنکھیں۔

صاحبہ کہہ کر خاموش ہو گئی جبکہ وہ تو اب تک ساکت بیٹھا تھا۔ اس کا ایک ایک لفظ ازمیر کے ماضی، حال اور مستقبل کو کھول کر رکھ گیا تھا۔
اس کا اندازِ بیان سن کر ازمیر حیرت زدہ ہو کر رہ گیا تھا۔
ستارے خاموشی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
اب وہ کسی بات پر ہنس رہے تھے۔ ازمیر نے کچھ کہا جبکہ صاحبہ کے جواب پر اس کا قہقہہ گونجا تھا۔
آسمان نے کئی بار ان کے لیے دعا کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترکی
کنسٹرکشن سائٹ پر کام جاری تھا۔ وہ دونوں ایک طرف کھڑی تھیں۔
“تم بہت آگے جاؤ گی۔”
نورے نے خوشی سے کہا تھا۔ وہ نرمی سے مسکرا دی۔
وہ اپنی ڈائمنڈ کمپنی بنا رہی تھی جس میں آتیس انکل اس کی بہت مدد کر رہے تھے۔
“دلارے۔”
“ہمم۔”
نورے نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔
“کیا وہ چلا گیا ہے؟”
“ہمم، کل چلا گیا تھا۔” دلارے نے بے تاثر چہرے سے اسے دیکھا تھا۔
نورے بنا کچھ کہے اس کے گلے لگ گئی۔
کئی پل بعد نورے اس سے الگ ہوئی تو دلارے مسکرا دی۔
“میں ٹھیک ہوں۔”
“میں جانتی ہوں۔”
وہ دونوں ہی مسکرا دیں۔
دلارے سلیم اپنی ناکام محبت سے موو آن ہو رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روشن دن پولیس موبائل کے اندر کے اندھیرے کو کم کرنے سے قاصر تھا۔ فیض حاکم کو دوسری جیل میں لے جایا جا رہا تھا۔ وہ چپ چاپ ایک طرف سر جھکائے بیٹھا تھا۔
اس کے دماغ میں دو آپشن تھے ۔ فرار یا قید ۔ اور وہ انہیں میں الجھتا جا رہا تھا۔
فیض نے دھیرے سے نظریں اٹھا کر سامنے بیٹھے پولیس اہلکار کو دیکھا۔ اس نے انتخاب کر لیا تھا ۔
اور وہ تھا ۔۔۔۔فرار ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج کو طلوع ہوئے کئی گھنٹے بیت گئے تھے۔ آج موسم حبس آلود تھا۔ ایک گھٹن تھی جو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔
اس وقت وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا۔ اسے شدید تھکن ہو رہی تھی۔ سر تھا کہ بے حد بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ بھوری آنکھوں میں اذیت ہی اذیت چھائی تھی۔
مایوسی کے کئی گڑھے اسے نگلنے کو بے تاب تھے۔ دل میں رب کے خلاف ہزاروں شکوے تھے۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی شکوہ زبان پر لاتا، اس کا فون چھنگاڑنے لگا۔ مرزا نے کراہ کر آنکھیں میچیں اور فون کال آنسر کی۔
“ہمم، بولو۔”
“فیض نے جیل سے بھاگنے کی کوشش کی ہے۔”
دلاور نے اجلت میں خبر دی تو مرزا حاکم چونکا۔
“پھر؟”
دلاور ایک دو پل کے لیے خاموش ہو گیا۔
“اسے گولیاں لگیں ہیں۔ اس وقت وہ سٹی ہسپتال میں ہ۔۔۔۔”
مرزا نے پوری بات نہیں سنی۔ فون ہاتھ سے نیچے گر گیا۔ وہ ایک دو پل ساکت سا بیٹھا رہا پھر فوراً دروازے کی جانب بھاگا۔
اگر آج اس کا رب اسے مایوس کرتا تو وہ مر جاتا۔
وہ اگلے پندرہ منٹوں میں ہسپتال پہنچا تھا۔ اس نے ریش ڈرائیونگ کی تھی۔ دو بار اس کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے رہ گیا۔
ہسپتال کے باہر میڈیا کے لوگوں اور پولیس اہلکاروں کا رش تھا۔ وہ ان سب کو چیرتے ہوئے ہسپتال کے اندر داخل ہوا۔
اسے اس وقت کسی کا ہوش نہیں تھا۔ فکر تھی تو باپ کی تھی۔
وہ راہداری میں بھاگ رہا تھا جب اسے ڈاکٹر ایک آفیسر سے کچھ کہتے دکھائی دیے۔
وہ بھاگ کر ان تک گیا۔
“کیا ہوا ہے؟” اس نے حواس باختگی سے ڈاکٹر سے پوچھا۔
ڈاکٹر نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“آپ کون؟”
“یُو بلڈی، میں نے پوچھا کیا ہوا ہے میرے باپ کو!”
پولیس آفیسر کو سانپ سونگھ گیا۔ پیچھے سے آتے دلاور کی بھی رنگت یکدم بدلی۔
“ہی از نو مور۔” ڈاکٹر نے خوف سے پیچھے ہوتے ہوئے کہا۔
مرزا حاکم تھم گیا۔ اس کے اندر باہر خاموشی پھیل گئی۔ اندر سے کوئی وجود دم توڑ گیا۔فیض کا فرار موت تھی۔
“کیا مطلب وہ نہیں رہے؟” وہ دھاڑتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔
“وہ میرا باپ ہے! سائفر کا باپ ہے وہ! وہ نہیں مر سکتا!” وہ رو دیا۔ “اسے زندہ کرو! میں تمہارے ہسپتال کو آگ لگا دوں گا ورنہ مجھے میرا باپ زندہ لا کر دو!”
دلاور منہ کھولے اسے چلاتے دیکھ رہا تھا۔
پیچھے کھڑا میڈیا اور اہلکاروں کو حیرت کے جھٹکے لگ رہے تھے جبکہ وہ چیخ چیخ کر ہر راز سے پردہ اٹھا رہا تھا۔
“وہ میرا باپ تھا۔۔۔ اس کے لہجہ میں کرب ہی کرب تھا۔۔۔ وہ کیسے مجھے چھوڑ کر جا سکتا ہے؟ میں نے اس کی خاطر سب داؤ پر لگایا۔۔۔ اس رب کو چھوڑا۔۔۔ وہ کیسے مجھے ایک پل میں چھوڑ کر جا سکتا ہے؟” وہ زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔
دلاور نے تھوک نگلتے اس کی جانب قدم بڑھائے۔
“وہ میرا باپ تھا۔۔۔ وہ سائفر کا باپ تھا۔۔۔”
دلاور اس کے ساتھ بیٹھا۔
“سائفر سب سن رہے ہیں۔”
“سننے دو۔” وہ غرایا تھا۔ شدتِ غم اس پر حاوی ہو گیا تھا ۔
وہ اٹھا اور پولیس آفیسر کی طرف مڑا۔ میڈیا اس کی ویڈیوز بنا رہا تھا۔
“میں۔۔۔ میں مرزا حاکم ہی سائفر ہوں۔ لو مار دو مجھے!” وہ دھاڑا تھا۔
“میری زندگی بھی ختم کر دو! میں تھک گیا ہوں اس زندگی سے! غم سہے سہے کر میں تھک گیا ہوں! مجھے بھی مار دو! میری زندگی سے مجھے رہائی دلواؤ!”
چھتیس سالہ مرد اب رو رہا تھا۔
اپنے گھر کی ٹی وی پر نظر آتے منظر کو وہ یک ٹک دیکھ رہا تھا۔ ازمیر علی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سائفر مرزا حاکم ہو گا۔ اس کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا تھا۔
اگلے کئی لمحے سلو موشن میں گزرے تھے۔ پولیس والے اسے ہتھکڑی لگا کر پولیس موبائل میں بٹھا رہے تھے۔
ازمیر علی نے اس کا معاملہ اپنے رب پر چھوڑ دیا تھا تو اللہ نے اسے انعام بھی دیا تھا۔ایک کا انعام اور دوسرے کا زوال تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا حاکم ہی سائفر ہے یہ جاننا عوام کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا ۔ پوری عوام سڑکوں پر نکلتی اسے سزا دلوانے کے لیے جوش میں تھی ۔ مرزا حاکم کی ساری ساکھ روند دی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ بعد۔
مرزا حاکم کو عمر قید سزا سنائی گئی تھی۔ وہ خاموش رہا تھا ۔ اس کے پاس اب کچھ بھی ہمت نہیں بچی تھی ۔ وہ تھک گیا تھا ۔
ملاقات والے کمرے میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ نیم اندھیرے میں بھی تم اس کی کملائی رنگت اور بے نور آنکھیں دیکھ سکتے تھے۔ وہ جب سے آئی تھی خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“تم کیا کہنے آئی ہو؟” مرزا نے تھک کر سوال پوچھا۔
“میں اپنے محسن کو شکریہ کہنے آئی ہوں۔”
مرزا کرب سے مسکرایا۔ “کس بات کا شکریہ؟”
صاحبہ کئی پل اسے دیکھتی رہی۔ پھر اس کی جانب جھکی۔
“اس رات کے لیے۔”
مرزا حاکم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔ “کون سی را۔۔۔”
وہ رک گیا۔ تھم گیا۔ اسے یاد آ گیا تھا۔ بیک وقت اسے اپنا ماضی یاد آیا تھا۔ وہ کیا تھا؟ اور کہاں آ گیا تھا؟
“وہ تم تھی؟” اس نے آہستگی سے پوچھا۔
“ہاں” ۔ وہ کہہ کر چپ ہوئی ۔ دونوں کے درمیان حائل خاموشی میں گھڑی کی سوئیاں پیچھے کی جانب حرکت کرنے لگی ۔
ماضی
اس رات تبریز اور اس کے دوست کلب سے واپس آ رہے تھے جب ان کی نظر دور سڑک کنارے کھڑی ایک دلہن پر گئی۔ دلہن بنی پلویشا بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ تبریز کی نیت اس پر خراب ہوئی تھی اور چاروں نے مل کر اسے اغوا کر لیا تھا۔
پلویشا روتی رہی، چیختی رہی مگر وہ لوگ اسے تبریز کے فارم ہاؤس لے گئے تھے۔
وہ اپنے لاونج میں بیٹھا کافی پی رہا تھا جب دلاور نے آ کر اسے خبر دی کہ تبریز فارم ہاؤس پر کچھ دوستوں کے ساتھ لڑکی کو اغوا کر کے لایا ہے۔
مرزا حاکم کی سٹی گم ہو گئی تھیں۔ وہ فوراً فارم ہاؤس کی طرف گاڑی بھگا لے گیا۔
اس کے آس پاس کی دنیا اسے ویران ہوتی نظر آ رہی تھی۔
اس نے بوٹ کی ٹھوکر سے فارم ہاؤس کا دروازہ کھولا۔
اندر سے کسی لڑکی کے چیخنے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔
“تبریز حاکم!”
وہ دھاڑتے ہوئے لاونج میں آیا۔
صوفے پر بیٹھے اس کے دوست اچھل کر کھڑے ہوئے تھے۔
اندر بند کمرے سے پلویشا کی چیخ و پکار جاری تھی۔
مرزا انہیں سمجھنے کا موقع دیے بغیر کمرے کے دروازے کو ٹانگ مارتے ہوئے کھول چکا تھا۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر تبریز نے فوراً پلویشا کو ایک طرف دھکا دیا۔ اس کا سر دیوار سے جا لگا۔ درد کی ایک تیز لہر اس کے دماغ میں دوڑ گئی تھی۔ وہ اوندھے منہ گری پڑی تھی۔ مرزا تبریز کی طرف بڑھتے ہوئے اسے مارنا شروع کر چکا تھا۔
“گھٹیا انسان! تم ایک نمبر کے گدھے ہو!” وہ اسے مارتے ہوئے چلاتا جا رہا تھا۔ تبریز کے دوست موقع دیکھتے ہی بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔
جب مرزا تبریز کو چھوڑ ہی نہیں رہا تھا تو دلاور نے پیچھے سے آ کر اسے پکڑا۔
“سائفر بس کرو!”
صاحبہ نے بند ہوتی آنکھوں سے اس کی وہ نام سنا تھا جو اس کے دماغ پر نقش ہو گیا تھا۔
حال ۔
مرزا ہنس دیا۔ “چلو شکر ہے، میں کسی کے لیے تو محسن ثابت ہوا۔” اس کے لہجے میں کرب تھا۔
“تم نے اپنے لیے مایوسی کیوں چنی؟” اس نے بے اختیار سوال پوچھا۔
مرزا کئی پل اسے دیکھتا رہا۔ آنکھوں میں کرچیاں چبھنے لگی تھیں۔
“اس رب نے ہمیشہ میرے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ وہ کبھی میرا رب تھا ہی نہیں۔”
صاحبہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔
وہ آج بھی شکوے کر رہا تھا۔ اگر وہ یہ شکوے ختم کر دے اور شکر کو شامل کر دے، غموں کو نہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو دیکھ لے تو اس کی زندگی کتنی خوبصورت ہو جاتی۔
صاحبہ نے افسوس سے سوچا تھا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
مرزا نے ڈوبتے دل کے ساتھ اسے آخری بار دیکھا تھا۔ دل میں درد اٹھا تھا۔
“کاش تم میرا مقدر بنتی۔” اس نے اس کی دور جاتی پشت دیکھی اور کرب سے سوچا۔

میرے نہیں ہو پر میرے لگتے ہو ،
جو سچ میں ہوتے ،تو قیامت ہوتی ۔

تیرا اک نظر کا دیکھنا مجھے تباہ کر گیا ،
وہ جیسے کہتے ہیں نہ روح رخصت ہوتی ۔

بڑا جنوں لٹایا ہم نے تیرے پیچھے ،
کاش تمہیں بھی ہم سے محبت ہوتی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دن بعد۔
سیاہ آسمان پر فائر ورکس ہو رہے تھے اور بے انتہا خوبصورت نظارہ پیش کر رہے تھے۔
آج ازمیر نے زریاب کی برتھ ڈے کی خوشی میں پارٹی ارینج کی تھی۔
لان روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ بلیک اینڈ وائٹ تھیم میں ارینج شدہ پارٹی پچھلے آدھے گھنٹے سے شروع تھی۔
کیک کٹ ہو چکا تھا۔ زریاب، ازمیر، دائم اور صاحبہ نے مل کر فیملی پکس بھی لی تھی۔ وہ چاروں بہت خوش تھے۔
“تم بتاؤ کب اپنی مما کو تمہارے گھر لے کر آؤ؟” مزاحم نے راہمہ کے پاس آتے شوخ لہجے میں پوچھا۔
راہمہ مسکرا دی۔ “کل لے آؤ تو زیادہ بہتر ہے۔”
“سچی؟” مزاحم نے خوشی سے پوچھا۔
“ہاں مچی۔” راہمہ ہنس دی۔ پھر اس نے دور ایک ساتھ کھڑے ازمیر اور صاحبہ کو دیکھا۔
“اللّٰہ ان دونوں کی زندگیوں میں خوشحالی لائے۔” اس نے دل سے دعا دی تھی۔
مزاحم نے بھی آمین کہتے انہیں دیکھا۔
وہ سلور رنگ کی سلک کی ساڑھی میں ملبوس تھی، گلے میں نفیس سا ڈائمنڈ پینڈنٹ اور ٹاپس پہن رکھے تھے۔ بالوں کو اس نے مانگ نکال کر کھلا چھوڑ دیا تھا۔اور دائیں کان کے ساتھ ایک وائٹ ٹیول لگا رہا تھا ۔ یہ اسے ازمیر نے لگانے کے لیے کہا تھا۔
اس کی ساڑھی پر ایک نفیس سا ڈائمنڈ کا بروچ لگا ہوا تھا۔ بروچ کھردرے پہاڑ کی شیپ کا تھا اور اس پر “Mystique” لفظ کندہ تھا۔ یہ اسے ازمیر نے تحفہ دیا تھا۔
ازمیر بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس بے انتہا وجیہہ لگ رہا تھا۔
“خوبصورت لگ رہی ہو۔”
“میں جانتی ہوں۔” صاحبہ مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بولی۔
ازمیر کا قہقہہ گونجا تھا۔
“کیا تمہیں میں نے بتایا کہ کل میں نے کیا دیکھا؟”
صاحبہ نے سنجیدگی سے پوچھا تو وہ چونکا۔
“کیا دیکھا؟”
وہ چند پل اسے دیکھتی رہی۔
“میں نے اپنی ڈریسنگ پر دیکھا کہ وہاں لکھا ہوا ہے:
اکھڑ، بدتمیز، سڑیل اور بے مروت بیٹی پلویشا دائم۔ اور نیچے لکھاری ازمیر عباس علی کے سائن بھی تھے۔”
“اب پتہ نہیں اتنا مینرز والا ازمیر علی کون ہے۔”
صاحبہ نے جتنی سنجیدگی سے بتایا تھا، ازمیر اتنا ہی خائف ہوا تھا۔
“سوری۔” اس نے شرمندگی سے کہا۔ یہ اس نے کچھ ماہ پہلے دائم کی حالت سے تنگ آ کر لکھا تھا۔
اسے خائف ہوتا دیکھ وہ ہنس دی۔
پھر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
“کچھ کہنا ہے کیا؟” صاحبہ نے اس کی طرف دیکھتے پوچھا ۔ وہ مسکرا دیا۔
“ایک شعر۔” ۔ صاحبہ نے منہ کے زاویے بگاڑے۔ وہ اسے اکثر انسٹا گرام سے یاد کر کر کہ شعر سناتا تھا اور ہمیشہ ہی درمیان میں بھول جاتا تھا۔ مزاحم ٹھیک کہتا تھا وہ ڈیفیکٹو میموری ہے۔
“اہہم ۔عرض کیا ہے ۔کسی کو اپنا بنانا ہنر ہی سہی” ۔۔۔۔۔۔وہ رکا ۔ “اگلی لائین کیا تھی۔” اس نے اچھنبے سے سوچا۔
صاحبہ نے مسکراہٹ ضبط کی ۔
“کسی کو اپنا بنانا ہنر ہی سہی ۔” اس نے پھر وہی لائن دہرائی تو صاحبہ کا قہقہہ گونجا ۔ ازمیر اسے گھور کر رہ گیا پھر یک۔دم دماغ میں کچھ کلک ہوا ۔
“ہاں یاد آ گیا ۔”
“کسی کو اپنا بنانا ہنر ہی سہی ،
کسی کا بن کر رہنا کمال ہوتا ہے ۔ “
“واہ واہ واہ ۔ آج میموری جلدی کام کر گئی ۔”
ازمیر نے تیورہ کر اسے دیکھا۔ “مت بھولو اسی میموری سے تمہیں حفظ کیا ہے ۔ “
صاحبہ تھم گئی۔ ازمیر خود بھی اپنی بے ساختگی پر خائف ہوا ۔
دونوں چند پل ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر ۔۔۔۔ان کے قہقہے گونج اٹھے۔
وہ دونوں ایک ساتھ کھڑے ہنستے ہوئے خوبصورت نظارہ پیش کر رہے تھے۔ لوگ ستائشی نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملاقات والے کمرے میں اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ صرف پیلے بلب کی روشنی ہی ان دونوں کے چہروں کو واضح کر رہی تھی۔
“تم کیا چاہتے ہو، سائفر؟” دلاور نے اس کی طرف جھکتے ہوئے کہا۔
“مجھے اس سے بدلہ چاہیے۔ میرا باپ اسی کی وجہ سے مرا ہے۔”
سائفر کی آواز میں بدلے کی آگ تھی۔ جیل میں قیدی بن کر رہنا اسے پل پل مار رہا تھا، اوپر سے ازمیر اور صاحبہ کا ساتھ سوچنا اسے زندہ درگور کر رہا تھا۔
“مجھے کیا کرنا ہو گا؟”
“اسے ختم کر دو۔”
دلاور کو حیرت ہوئی تھی۔
“سائفر، تم قاتل نہیں تھے۔”
“مگر اب بن رہا ہوں۔ جب میرا رب میری نہیں سنتا تو مجھے کیا پڑی ہے کہ میں اس کی سنوں؟ مجھے ازمیر علی آج رات تک ختم چاہیے۔”
دلاور اس کی بات پر کچھ نہ بولا۔ اسے پہلے سے پتہ تھا کہ صاحبہ اور مرزا کی راہیں الگ ہیں۔ کئی سال پہلے بھی صاحبہ کہاں مرزا کو ملی تھی؟ جو اب ملتی؟ دلاور افسوس سے سوچ کر رہ گیا۔
پیلے بلب نے اس کے فیصلے پر دم سادھ لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پورچ میں ٹہرا تھا۔
“میں کچھ دیر تک واپس آ جاؤں گی۔” صاحبہ نے آہستگی سے کہا تھا۔ وہ نحل کے پاس جا رہی تھی۔ دائم اور زریاب اندر لاونج میں بیٹھے تھے جبکہ ازمیر اسے پارکنگ تک چھوڑنے آیا تھا۔
ازمیر نے سر ہلا دیا، وہ اس کی بھوری آنکھوں میں اپنی سیاہ آنکھوں کا عکس دیکھ سکتا تھا۔
صاحبہ دھیرے سے مڑی اور گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
“صاحبہ۔”
اپنے عقب سے اس کی پکار پر وہ وہیں ٹھہر گئی اور مڑی۔
“تمہیں مجھ سے کیا ہے؟” ازمیر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“بتا دوں؟”
“بتا دو۔” اس کے لہجے میں منت تھی۔
“واقعی بتا دوں؟” صاحبہ نے ایک ابرو اچکاتے پوچھا۔
ازمیر نے اثبات میں سر ہلایا۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں کئی پل تک دیکھتے رہے۔
“بعد میں۔” اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
ازمیر سر جھٹک کر رہ گیا۔
“بعد کبھی نہیں آتا۔” وہ اس کی دور جاتی ہوئی پشت کو دیکھ کر چلایا۔
صاحبہ ان سنی کرتے گاڑی میں بیٹھ گئی۔
“جلدی واپس آنا۔” وہ پھر بولا ۔
صاحبہ نے شیشہ نیچے کیا اور اسے دیکھا۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے اور وہ گاڑی اسٹارٹ کر گئی۔ وہ ازمیر کی گاڑی پر جا رہی تھی۔
ازمیر نے گاڑی کو گھر کی حدود سے دور جاتے دیکھا۔
کاش وہ تھوڑی دیر مزید ٹھہر جاتی۔ اس نے گہرا سانس بھرا۔ وہ جلد واپس آ جائے گی۔ ازمیر نے خود کو تسلی دیتے ہوئے سوچا اور لاونج کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لاونج میں بیٹھا تھا۔ دائم اور زریاب باتیں کر رہے تھے جبکہ اس کے اندر بے چینی پھیلتی جا رہی تھی۔ نہ جانے کیوں اسے عجیب قسم کے خدشات محسوس ہو رہے تھے۔ وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا تھا مگر بے چینی تھی کہ ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔
وہ دو دفعہ کافی پی چکا تھا مگر پھر بھی اندر کی بے چینی ختم نہیں ہو رہی تھی۔
اس نے جیب سے فون نکالا اور صاحبہ کو کال کی۔
اس کا فون بند جا رہا تھا۔ ازمیر کو حیرت ہوئی۔ ابھی وہ دوبارہ کال کرنے ہی والا تھا کہ اس کی کال آ گئی۔
ازمیر نے فوراً آنسر کرتے فون کان سے لگایا۔
“صاحبہ تم کہ۔۔۔”
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا، سامنے سے کسی آدمی کی آواز سن کر وہ دنگ رہ گیا۔ فون اس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے کار ڈرائیو کر رہی تھی۔
بھوری آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔ بالآخر سب ٹھیک ہو گیا تھا، سب کچھ سلجھ گیا تھا۔
وہ ابھی مسکراتے ہوئے ڈرائیو کر ہی رہی تھی کہ اسے سامنے سے تیز رفتار سے آتا ٹرک دکھائی دیا۔ صاحبہ نے موڑ کاٹا تو وہ پھر اس کے سامنے آ گیا۔
وہ چونک گئی۔
صاحبہ نے ہارن دینے چاہے مگر ٹرک کی رفتار مزید تیز ہو گئی۔
ٹرک کو اپنی جانب تیزی سے آتا دیکھ کر صاحبہ کے اردگرد خوف پھیل گیا۔ اس کے بدن پر چونٹیاں رینگنے لگیں۔
اس نے ہارن دیتے ہوئے مڑنا ہی چاہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔ٹرک تیزی سے اس کی گاڑی سے ٹکرا کر اسے ایک طرف دھکیل گیا۔
کار بائیں جانب بینڈ ہو کر دائیں جانب سے کچلی گئی۔
دھکے کی شدت کی وجہ سے صاحبہ کی سائیڈ کا دروازہ کھل گیا تھا۔ وہ جھٹکے سے کار سے نیچے گری۔ سر پر گہری چوٹ آئی تھی ،سر سے گاڑھا لال مائع سڑک پر پھیلتا چلا گیا۔ ۔گاڑی جھٹکے سے اس کے نیچلے دھر پر گرتی اس کی ٹانگوں کو کچل گئی ۔کمر میں بے شمار شیشے پیوست ہو گئے تھے۔
ایک لمحہ گزرا۔۔۔۔اور اگلے ہی پل گاڑی میں آگ لگ گئی ۔ اس کا نچلادھڑ آگ کی لپیٹ میں تھا۔ پورا وجود زخمی ہوتا لہولہان ہو گیا ۔ سلور ساڑھی خون سے رنگتی ہوئی لال ہوتی گئی۔
لوگوں کا رش جمع ہو گیا تھا۔ پولیس موبائلز کی آوازیں،ریسکیو ٹیم ۔۔۔ لوگوں کی چیخیں—ہر طرف گونج رہی تھیں۔
ازمیر لوگوں کے رش کو چیرتا ہوا آگے آیا مگر سامنے اوندھے منہ گری لڑکی کو دیکھ کر اس کی پوری دنیا ساکت ہو گئی۔
ریسکیو ٹیم والے اس کی ٹانگوں کے اوپر سے گاڑی کو ہٹا رہے تھے۔
وہ شاک کے عالم میں قدم قدم چلتا اس تک گیا۔لوگ اسے پکڑ کر روک رہے تھے مگر وہ سکتے کے عالم میں انہیں پرے دھکیلتا اس کی جانب بڑھ رہا تھا ۔
وہ کھڑا تھا۔ فرش پر لال مائع پھیلتا جا رہا تھا، شیشے کے ٹکڑے ہر طرف بکھرے پڑے تھے، اور آج وہ لڑکی نیچے پڑی تھی۔ ازمیر گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ آنکھیں خشک بنجر ہو گئی۔
اس کے ریشمی خوبصورت بال خون میں رنگ گئے تھے۔وائٹ ٹیولپ ایک طرف پتہ پتہ بکھرا پڑا تھا ۔ ازمیر کا دل شدتِ غم سے پھٹنے کے قریب تھا ۔
اس نے دھیرے سے کانپتے ہاتھوں سے اس کے بال چھوئے۔ خون اس کی پوروں پر لگ گیا تھا۔ اسے اختیار مل گیا تھا، مگر یہ اختیار اسے اندر سے ہلا کر رکھ گیا۔
صاحبہ آخری سانسیں لے رہی تھی۔ اس کی سماعتوں میں اس کے قہقہے، اس کی چیخیں گونج رہی تھیں، جبکہ نیم وا آنکھوں کے سامنے اس کی پوری زندگی گھوم رہی تھی۔
وہ ڈاکٹر طاہر کے گلے لگ رہی تھی۔۔۔۔
ڈاکٹر طاہر اس کے آنسو پونچھ رہے تھے۔۔۔۔
وہ صائم کو تھپڑ مارتی دور جا رہی تھی۔۔۔۔
وہ اپنے باپ کو مال میں دیکھ کر ساکت ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ ازمیر علی سے دکان صاف کرنے کا کہہ رہی تھی۔۔۔۔
وہ ازمیر کے ساتھ چترال کے سفر پر تھی۔۔۔۔
وہ اس کے ساتھ فائر ورک دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
وہ اسے کہہ رہی تھی کہ وہ اسے بعد میں بتائے گی۔۔۔۔
اور وہ “بعد” اب کبھی نہیں آنا تھا۔
اس کی آنکھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *