MAFII MANGNA ITNA MUSHKIL Q HAI (ARTICLE).

صنف: کالم
عنوان: معافی مانگنا اتنا مشکل کیوں ہے؟
از قلم: جویریہ ارشد عظیمی

ہم میں سے اکثر لوگ غلطی کرتے ہیں، کسی کا دل دکھاتے ہیں، کسی کے جذبات کو نظرانداز کر دیتے ہیں، کسی سے سخت لہجے میں بات کر بیٹھتے ہیں؛ مگر جب وقت آتا ہے اپنی غلطی تسلیم کرنے کا تو ہمارے الفاظ جیسے گم ہو جاتے ہیں۔ زبان پر ایک چھوٹا سا جملہ آتا ہے، مگر انا اسے روک دیتی ہے: “مجھے معاف کر دو۔”
آخر معافی مانگنا اتنا مشکل کیوں؟
شاید اس لیے کہ ہم معافی مانگنے کو اپنی شکست سمجھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم نے اپنی غلطی تسلیم کر لی تو ہم چھوٹے ہو جائیں گے، ہماری عزت کم ہو جائے گی یا سامنے والا ہمیں کمزور سمجھنے لگے گا۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اپنی غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ کردار کی مضبوطی کی علامت ہے۔
انا انسان کو عجیب دھوکا دیتی ہے۔ وہ کہتی ہے، “پہلے وہ معافی مانگے”، “غلطی صرف تمہاری نہیں تھی”، “تم کیوں جھکو؟” اور ہم ان جملوں کے پیچھے اپنی قیمتی محبتیں، خوبصورت رشتے اور برسوں کی قربتیں کھو دیتے ہیں۔ کبھی کبھی مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا ہماری خاموشی اسے بنا دیتی ہے۔
رشتوں میں سب سے زیادہ تکلیف غلطی سے نہیں، بے حسی سے ہوتی ہے۔ اگر کوئی انسان اپنی غلطی کے بعد یہ کہہ دے کہ “ہاں، مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے افسوس ہے”، تو دل کے اندر جمی ہوئی بہت سی برف پگھل سکتی ہے۔ مگر جب وہ اپنی غلطی دیکھنے کے باوجود خاموش رہے، تو سامنے والے کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شاید اس کے جذبات کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔
معافی مانگنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بار قصور صرف ہمارا ہی تھا۔ بعض اوقات دونوں طرف غلطی ہوتی ہے، مگر پھر بھی کوئی ایک شخص رشتہ بچانے کے لیے پہل کر لیتا ہے۔ یہ پہل شکست نہیں ہوتی؛ یہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ انسان اپنی انا سے زیادہ رشتے کو اہمیت دیتا ہے۔
ہم اکثر یہ بھی سوچتے ہیں کہ “وہ خود سمجھ جائے گا۔” مگر ہر شخص دل پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جس طرح ہمیں دوسرے کی خاموشی کا مطلب سمجھ نہیں آتا، اسی طرح دوسرے بھی ہماری خاموشی نہیں سمجھ سکتے۔ دل کی بات دل میں رکھنے سے غلط فہمیاں ختم نہیں ہوتیں، بڑھتی ہیں۔
کبھی کبھی ایک معافی برسوں کی دوری ختم کر سکتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ صرف زبان سے نہ ہو، دل سے ہو۔ “معاف کر دو” کہنا آسان ہے، مگر اپنی غلطی کو دوبارہ نہ دہرانا اصل معافی ہے۔ اگر الفاظ معذرت کے ہوں اور رویہ وہی پرانا، تو ایسی معافی صرف ایک رسم بن کر رہ جاتی ہے۔
زندگی بہت مختصر ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے پاس کسی اپنے کو منانے کے لیے کتنا وقت باقی ہے۔ کتنے لوگ صرف اس انتظار میں دور ہو جاتے ہیں کہ شاید ہم ایک دن اپنی انا چھوڑ کر ان کے پاس آئیں گے۔ مگر وہ دن کبھی نہیں آتا، اور پھر ہمارے پاس صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔
اس لیے اگر آپ سے کسی کا دل دکھا ہے، تو پہل کرنے میں دیر نہ کریں۔ ایک پیغام بھیج دیں، ایک فون کر لیں، سامنے بیٹھ کر صرف اتنا کہہ دیں: “مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے افسوس ہے۔”
یاد رکھیے، معافی مانگنے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا؛ وہ اپنے کردار میں بڑا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ رشتہ توڑ دینا آسان ہے، مگر اپنی انا توڑ کر رشتہ بچانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
کبھی کبھی زندگی میں سب سے خوبصورت جملہ “میں صحیح تھا” نہیں، بلکہ “مجھ سے غلطی ہوئی” ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *