Girdaab Episode 14 written by siddiqui

گرداب ( از قلم صدیقی )

باب ششم : دوسری لہر

قسط نمبر ۱۴

امن نے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا۔
بس اُسی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دوبارہ پوچھا،
تُم کون ہو؟
لڑکی  نے گن کی نالی ذرا سا سیدھا کی۔ پھر نہایت پرسکون لہجے میں بولی، آپ کی تباہی۔۔۔
امن کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے حیرت ابھری۔
اگلے ہی لمحے گولی چلنے کی آواز پورے میدان میں گونج گئی۔
ایک لمحے کے لیے جیسے سب کچھ وہیں رک گیا۔
پھر اچانک ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔
لوگ ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے بھاگنے لگے۔
کچھ زمین پر جھک گئے، کچھ نے اپنے بچوں کو سینے سے لگا لیا، جبکہ میڈیا کے کیمرے بھی بےترتیبی سے اِدھر اُدھر گھومنے لگے۔
بھائی۔۔۔ نِہات کی چیخ بلند ہوئی۔
سیکیورٹی اہلکار فوراً امن کی طرف لپکے۔
مگر امن نے اُس ایک لمحے میں صرف ایک چیز دیکھی تھی۔
وہ لڑکی اور اُس کی سیاہ آنکھیں۔۔۔
امن نے بےاختیار اپنے بازو کی طرف دیکھا۔
قمیض پر خون پھیل رہا تھا۔
لڑکی کا نشانہ پکا نہیں تھا، گولی اُس کے سینے کی جگہ اُس کے بازو میں لگی تھی۔۔۔
نِہات اور ارحم اُسے سنبھالنے کے لیے آگے بڑھے۔
بھائی…
مگر امن نے اُنہیں جیسے سنا ہی نہیں۔
اُس کی نظریں اب بھی اُسی لڑکی پر تھیں۔
لڑکی چند قدم پیچھے ہٹی۔
اُس لمحے امن اور اُس لڑکی کی نظریں ایک بار پھر ملیں۔
چند سیکنڈ کے لیے شور جیسے کہیں بہت دور چلا گیا۔
امن نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
اور اُسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ آنکھیں اُس سے کچھ کہہ رہی ہوں۔
پھر اچانک لڑکی پلٹی۔
پکڑو اُسے… کسی سیکیورٹی اہلکار کی آواز گونجی۔
کئی گارڈز اُس کی طرف دوڑے۔
لڑکی نے فوراً بھیڑ کا فائدہ اٹھایا اور لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے تیزی سے پیچھے کی طرف بھاگی۔
میدان میں اب مکمل افراتفری پھیل چکی تھی۔
لوگ جان بچانے کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔
سیکیورٹی اہلکار اُس کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔
مگر وہ لڑکی حیرت انگیز تیزی سے بھیڑ کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔
ایک لمحے بعد وہ میدان کے پچھلے حصے سے باہر نکل گئی۔
گارڈز بھی اُس کے پیچھے باہر پہنچے…
مگر وہاں سڑک پر گاڑیوں کی لمبی قطار موجود تھی۔
وہ لڑکی چند قدم مزید بھاگی۔
اچانک اُس کے سامنے ایک گاڑی آ کر رکی۔
گاڑی کا دروازہ فوراً کھلا۔
اندر ایک دوسری لڑکی موجود تھی۔
جلدی بیٹھو….
بھاگتی ہوئی لڑکی نے ایک لمحے کے لیے پیچھے دیکھا۔
دور سے سیکیورٹی اہلکار اُس کی طرف آ رہے تھے۔
وہ فوراً گاڑی میں جا بیٹھی۔
دروازہ بند ہوا۔
اگلے ہی لمحے گاڑی تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔
چند سیکنڈ بعد اُس کا کوئی نشان باقی نہیں تھا۔
صرف سڑک پر اڑتی ہوئی دھول…
اور اُس میدان میں مچی ہوئی افراتفری اُس کے گزرنے کی گواہی دے رہی تھی۔
ادھر اسٹیج پر امن اب بھی اپنی جگہ کھڑا تھا۔
ایک ہاتھ سے اُس نے زخمی بازو تھام رکھا تھا۔
نِہات اُس کے قریب کھڑا مسلسل سیکیورٹی کو احکامات دے رہا تھا۔
باہر نکلو، ڈھونڈوں اُس لڑکی کو، ہر گاڑی چیک کرو۔۔۔
اُسے کسی صورت میں پکڑو۔۔۔
مگر امن خاموش تھا۔
اُس کی نظریں اب بھی اُس راستے پر جمی ہوئی تھیں جہاں سے وہ لڑکی ابھی ابھی غائب ہوئی تھی۔
اُس کے ذہن میں صرف ایک ہی جملہ گونج رہا تھا۔
آپ کی تباہی…
امن نے آہستہ سے اپنی زخمی بازو کی طرف دیکھا۔
پھر اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی اُتر آئی۔ وہ پہلی بار کسی دشمن کو دیکھ کر پریشان نہیں ہوا تھا…
بلکہ اُس کے ذہن میں صرف ایک سوال پیدا ہوا تھا۔
وہ لڑکی آخر تھی کون؟

++++++++++++++

دریا کے کنارے شام آہستہ آہستہ اُتر رہی تھی۔
ڈوبتے سورج کی مدھم روشنی پانی کی سطح پر بکھری ہوئی تھی، جبکہ دریا کا پرسکون بہاؤ اردگرد کی خاموشی کو اور گہرا کر رہا تھا۔
دریا کے عین کنارے ایک بڑے سے پتھر پر وہ لڑکی بیٹھی تھی۔
وہی لڑکی…
جس نے چند گھنٹے پہلے ہزاروں لوگوں کے سامنے امن پر گولی چلائی تھی۔
اُس کے چہرے پر اب بھی وہی عجیب سا سکون تھا۔
جیسے اُس نے کچھ کیا ہی نہ ہو۔
اُس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پتھر تھا، جسے وہ بار بار انگلیوں کے درمیان گھما رہی تھی اور پھر بےدھیانی سے دریا میں پھینک دیتی۔
یار۔۔۔ کام کرنے جاتی ہوں کانڈ ہو جاتا ہے۔۔۔
اُس کے سامنے ایک دوسری لڑکی بیٹھی تھی۔
گوری رنگت، بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں اور کندھوں تک آتے ہوئے ہلکے بھورے بال، جو ہوا کے ساتھ بار بار اُس کے چہرے پر آ رہے تھے۔
وہ بظاہر نہایت معصوم اور نرم مزاج دکھائی دیتی تھی۔ مگر اِس وقت اُس کے چہرے پر واضح پریشانی تھی۔
اُس کی دوست بےبسی سے اپنی دوست کو دیکھا۔
میں نے تمہیں کہا بھی تھا…
اُس نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا۔
یہ نہیں کرنا تھا۔
سامنے بیٹھی لڑکی نے دریا کی طرف دیکھتے ہوئے بےفکری سے کندھے اچکائے۔
تو اور کیا کرتی؟
اس کی دوست فوراً جواب دیا،
کچھ بھی کرتی… لیکن یہ نہیں۔
تمہیں اندازہ بھی ہے تم نے کیا کر دیا ہے؟
لڑکی نے خاموشی سے اُس کی طرف دیکھا۔
اس کی دوست کی آواز میں تشویش بڑھ گئی۔
اب پورا شہر تمہارے پیچھے لگ جائے گا۔
اُس نے دریا میں ایک اور پتھر پھینکا۔
لگنے دو۔
اس کی دوست نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
تمہیں ذرا بھی ڈر نہیں لگ رہا؟
لڑکی نے پہلی بار سیدھا اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
نہیں۔
اس کی دوست کچھ لمحے اُسے دیکھتی رہی۔
پھر دھیرے سے بولی،
تمہیں اپنی جان کی بھی پروا نہیں ہے؟
لڑکی ہلکا سا مسکرائی۔
جان کی پروا؟؟ ہے نا، تب تک جب تک میں قاتل سے بدلہ نہیں لے لیتی،
اس کی دوست خاموش ہو گئی۔
اُس کے پاس اِس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
دریا کی لہریں مسلسل اُن دونوں کے قدموں سے ٹکرا رہی تھیں۔
اب کہاں کہاں چھپتی پھرو گی؟
لڑکی نے آہستہ سے اُس کی طرف دیکھا۔
چند لمحوں تک اُس کی آنکھوں میں خاموشی رہی۔
پھر اُس نے بےفکری سے کندھے اچکائے۔
جہاں تک ہو سکے گا۔۔۔
اس کی دوست نے بےیقینی سے اُسے دیکھا۔
اور اگر وہ تمہیں ڈھونڈ لیں تو؟
تو پھر… اُس نے نظریں اپنی دوست کی طرف اٹھائیں۔
دیکھیں گے۔
اس کی نے بےبسی سے اُس کی طرف دیکھا۔
ہاں… اور پھر جب جو ہوگا وہ تم سے دیکھا نہیں جائے گا۔
یار… تُو مجھے کیوں توڑ رہی ہے۔ چپ کر کے بیٹھی رہ۔
کب تک؟
لڑکی نے غصے سے کہا
نہیں… تُو جا۔
اُس کی دوست نے اب کوئی جواب نہیں دیا۔

+++++++++++++

پارک سے واپسی کا وقت تھا۔۔۔
شام آہستہ آہستہ ڈھل رہی تھی۔
سڑک کے کنارے لگے درختوں سے چھن کر آتی سورج کی آخری روشنی ہر چیز کو سنہری سا رنگ دے رہی تھی۔
وہ اپنی ماں کا ہاتھ تھامے سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔
اُس کی نظریں بار بار سامنے موجود پارکنگ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔
پاپا ابھی تک نہیں آئے؟
اُس نے معصومیت سے پوچھا۔
اُس کی ماں نے مسکرا کر اُس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔
بس آتے ہی ہوں گے۔
اُس نے دوبارہ سڑک کی طرف دیکھا۔
اچانک…
دور سے ایک بچہ بھاگتا ہوا اُن کی طرف آتا دکھائی دیا۔ نیلی پینٹ اور سفید شرٹ پہنے ہوئے تھا۔
کندھے پر اسکول کا بیگ لٹک رہا تھا اور شاید جلدی میں تھا۔ وہ بغیر اِدھر اُدھر دیکھے سڑک پار کرنے لگا۔
امن کی نظریں اُس بچے پر جم گئیں۔
اور اُسی لمحے…
دوسری طرف سے ایک گاڑی تیزی سے آتی دکھائی دی۔
بچے۔۔۔ روکو۔۔۔ اُس کی ماں کی چیخ نکلی۔
اگلے ہی لمحے اُس نے کچھ سوچے بغیر اپنی ماں کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
وہ پوری طاقت سے آگے بڑھا۔
رکو۔۔۔
مگر اُس کی آواز سے پہلے ہی اُس کے قدم اُسے سڑک کے بیچ لے جا چکے تھے۔
اُس نے بچے کو پکڑ کر پوری قوت سے اپنی طرف کھینچا۔
ایک زوردار بریک کی آواز فضا میں گونجی۔
پھر…
سب کچھ جیسے ایک لمحے کے لیے سفید ہو گیا۔
وہ اور وہ بچہ سڑک کے کنارے جا گرے۔
اس کے بعد… خاموشی۔
دور کہیں کسی کے چیخنے کی آواز…
کسی کے دوڑتے ہوئے قدم…
اور پھر سب کچھ دھندلا ہوتا چلا گیا۔
امن۔۔۔ کسی کی آواز بہت دور سے آ رہی تھی۔
امن نے مشکل سے پلکیں اٹھائیں۔
سفید چھت اُس کی آنکھوں کے سامنے تھی۔
چند لمحوں تک وہ خالی نظروں سے اُسے دیکھتا رہا۔
پھر آہستہ آہستہ اُسے احساس ہوا کہ وہ اسپتال کے بستر پر لیٹا ہوا ہے۔
اُس نے ذرا سا سر گھمایا۔
اور سامنے کا منظر دیکھ کر اُس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔
نِہات… اور دادا۔
دونوں ایک ہی جگہ بیٹھے تھے۔ خاموش۔
بالکل خاموش۔ نہ کوئی بحث… نہ کوئی تلخی… نہ ایک دوسرے کی طرف غصے بھری نظر۔
بس دونوں خاموشی سے اُس کے بستر کے پاس بیٹھے اُسے دیکھ رہے تھے۔
امن نے چند لمحے اُن دونوں کو دیکھا۔
اُس کے لبوں پر بےاختیار ایک ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
یہ منظر… اُسے بہت کم دیکھنے کو ملتا تھا۔
نِہات اور دادا کا یوں ایک ساتھ بیٹھنا۔
وہ بھی بغیر لڑے، بغیر ایک دوسرے پر غصہ کیے۔
اور اُسے اچھی طرح معلوم تھا…
یہ دونوں جب بھی ایک جگہ یوں خاموش بیٹھے ہوتے تھے… تو وجہ ہمیشہ وہی ہوتا تھا۔
دل میں ایک عجیب سا سکون اُتر آیا۔
شاید… اُسے زخمی دیکھ کر ہی سہی، کچھ لمحوں کے لیے دونوں اپنے اختلاف بھول گئے تھے۔
نِہات نے اُسے آنکھیں کھولتے دیکھا تو فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
اُٹھ گئے، بھائی؟
امن نے چند لمحے چھت کو دیکھا۔ پھر اچانک اُس کی نظریں نِہات پر ٹھہر گئیں۔
تمہیں پتا ہے… میں نے کیا دیکھا؟
نِہات کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے سنجیدگی آئی۔
کیا؟
امن نے دھیرے سے کہا،
ہماری پہلی ملاقات… وہ ایک لمحے کو رُکا۔
تمہاری اور میری۔
یہ سنتے ہی نِہات نے بےاختیار اپنی نظریں سامنے بیٹھے افتخار صاحب کی طرف اٹھا دیں۔
افتخار صاحب کے چہرے پر جیسے ایک دم غصہ چھا گیا تھا۔
اُن کی پیشانی پر غصے کی رگیں تن گئیں۔
کُچھ تھا ان کے بیچ جس کا علم امن کو نہیں تھا۔۔
اگلے ہی لمحے افتخار صاحب غصے سے بول پڑے،
کہا بھی تھا ہم نے، اِسے بےہوش مت ہونے دینا…
اُن کی آواز کمرے میں گونج گئی۔
جب یہ بےہوش ہوتا ہے، اِسے ایسی ہی چیزیں یاد آنے لگتی ہیں… اور پھر دوبارہ اِس کی پرانی میڈیسن شروع کروانی پڑتی ہے۔۔۔
اُنہوں نے غصے سے نِہات کی طرف دیکھا۔
جب گولی لگی تھی تو کہاں تھے سب؟ ہاں؟ فوراً ہسپتال کیوں نہیں لے کر آئے اِسے؟ کیوں بےہوش ہونے دیا اسے۔۔۔
یہ ارحم کہاں ہے؟ اِس سے تو ہم ابھی بات کرتے ہیں۔۔
اور اُس لڑکی کی اتنی ہمت کیسے ہوئی کہ میرے پوتے امن حنان پر بندوق تانی، تو تانی، چلا بھی دی! اُسے تو میں جان سے مار دوں گا۔ اُسے زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ ایک دفعہ وہ بس میرے ہاتھ لگ جائے۔
وہ غصے سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔
دادا…امن کی آواز قدرے کمزور تھی۔
افتخار صاحب رُکے۔
ریلیکس…
اچانک اُس کے ذہن میں وہی لڑکی دوبارہ گردش کرنے لگی۔۔۔ وہی بے خوف آنکھیں، وہی لہجہ، وہی غصہ۔۔۔ اور وہی ہاتھ میں تھمی بندوق، جس کا رُخ امن کی طرف تھا۔
امن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
سر درد نہیں کر رہا میرا۔ ٹھیک ہوں میں… مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔
مگر افتخار صاحب کے چہرے کی سختی کم نہ ہوئی۔
اُدھر نِہات بھی بالکل خاموش بیٹھا تھا۔
جس شدت سے افتخار صاحب کو غصہ آیا تھا، اُس کے برعکس نِہات عجیب حد تک پُرسکون تھا۔
بھائی…؟ اور کچھ یاد آیا؟
نہات کا اِتنا کہنا تھا کہ افتخار صاحب فوراً پلٹے۔
تمہیں ایک بار میں ہماری بات سمجھ نہیں آتی؟
اُن کی آواز پھر سخت ہوگئی۔
اِس سے بار بار پوچھ کر اِس کے ذہن پر زور مت ڈالو۔
وہ نِہات کی طرف بڑھے۔
دیکھو…
پھر ایک لمحے کو رُکے اور سیدھا امن کی طرف دیکھتے ہوئے بولے،
اِسے اچھی طرح سمجھا دو۔ اگر یہ تمہاری حفاظت نہیں کر سکتا تو اِسے یہاں تمہارے ساتھ کام کرنے کی ایسے کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اُن کی نظریں دوبارہ نِہات پر جم گئیں۔
یہ جہاں سے آیا تھا واپس وہیں جا سکتا ہے۔
لہجہ مزید سخت ہوگیا۔
ورنہ ہم سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔
نِہات نے آہستہ سے سر اُٹھایا۔
اُس کی آواز میں اب بھی وہی ٹھنڈک تھی، مگر لہجہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت تھا۔
میں امن کا اسسٹنٹ ہوں۔ اُس نے بہت سکون سے کہا،
نِہات خان نام ہے میرا۔ اُس کا گارڈ نہیں ہوں۔
اُس کی نظریں افتخار صاحب سے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ہٹیں۔
اِس کی حفاظت کی مجھ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
پھر اُس نے انتہائی بےنیازی سے کہا،
اور رہی بات آپ کی فکر کی…
اُس کے لبوں پر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
اگر آپ کو اتنی ہی فکر ہے تو سو گارڈ اِس کے آگے پیچھے اور رکھوا دیں۔ لیکن آپ مجھ پر حکم نہیں چلا سکتے، افتخار صاحب۔
اُس نے آخری جملہ بھی اُسی سکون سے کہا۔
امن خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
اُس نے نِہات کو اتنا سخت اور بےرحم انداز صرف دو لوگوں کے سامنے دیکھا تھا…
ایک دادا کے سامنے۔ اور دوسرا اُن لوگوں کے سامنے جو اُس کے لیے کام کرتے تھے۔
باقی دنیا کے لیے نِہات ہمیشہ نرم لہجے میں بات کرتا تھا۔ پُرسکون… متوازن… اور حد درجہ شائستہ۔
مگر آج اُس کی آواز میں نرمی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے اگر اُس کا بس چلتا تو زبان سے ہی آگ لگا دیتا۔
امن نے بےبسی سے دونوں کو دیکھا۔
کیا ہوگیا ہے دونوں کو؟
پھر اُس نے افتخار صاحب کی طرف دیکھا۔
اُس کی آنکھوں میں ایک خاموش سی التجا تھی۔
دادا… بس کریں۔
افتخار صاحب نے بھی امن کی وہ نظریں دیکھ لیں۔
اور شاید یہی اُن کی سب سے بڑی مجبوری تھی۔
ورنہ اُن کا بس چلتا تو اُسی وقت نِہات کو امن کی زندگی سے نکال باہر کرتے۔
امن نے ایک گہری سانس لی۔ پھر نِہات کی طرف دیکھ کر بولا، تُم بھی نہ، شروع ہوجاتے جو بس۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔
نِہات نے اُس کی طرف دیکھا۔
تمہیں پتہ ہے مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اُس دن تم نے کس رنگ کی پینٹ اور شرٹ پہن رکھی تھی۔
نِہات کے چہرے پر پہلی بار ایک ہلکی سی سنجیدگی نمودار ہوئی۔
مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا…
افتخار صاحب نے غصے سے کہا،
ہمیں تمہاری میڈیسن دوبارہ شروع کروانی پڑے گی۔
امن نے اُن کی طرف دیکھا۔
افتخار صاحب نے مزید کچھ نہیں کہا۔
وہ غصے سے مڑے اور کمرے سے باہر نکل گئے۔
دروازہ بند ہونے کی آواز کے بعد کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی رہ گئی۔
چند لمحوں تک نِہات بھی کچھ نہیں بولا۔
پھر اُس نے دھیرے سے کہا،
میڈیسن مت لینا۔
امن نے نظریں اُس کی طرف اٹھائیں۔
نِہات کی آواز اب پہلے جیسی سخت نہیں تھی۔
تم ٹھیک ہو چکے ہو۔
امن نے چند لمحے اُسے دیکھا۔
پھر آنکھیں بند کر کے ہلکے سے سر ہلا دیا۔
نِہات کچھ دیر اُسے دیکھتا رہا۔
پھر کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا،
اچھا…اب بتاؤ۔ اور کیا کیا دیکھا۔۔؟؟

++++++++++++++

ریپر ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا۔
ٹی وی اسکرین پر مسلسل بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔
امن پر قاتلانہ حملہ…
جلسے کے دوران نامعلوم لڑکی نے فائرنگ کر دی…
ریپر بڑے سکون سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا اُن خبروں کو دیکھ رہا تھا۔
اُس کے پاس ہی کیٹی کھڑی تھی۔
ریپر نے ٹی وی سے نظریں ہٹائے کہا
جو بھی کہو…
میرا سالا قسمت بہت اچھی لے کر پیدا ہوا ہے۔
اُس نے سر ہلا کر جیسے اپنی بات کی تصدیق کی۔
اس بار بھی بچ گیا۔
کیٹی خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی۔
ریپر نے ریموٹ ہاتھ میں گھماتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا،
کتنی کوششیں کر چکا ہوں میں اِسے مروا نے کی…
لیکن یہ مر کے ہی نہیں دیتا۔ ہر دفعہ کسی نہ کسی طرح بچ جاتا ہے۔
کیٹی نے ٹی وی اسکرین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
مجھے تو لگا تھا اِس دفعہ نہیں بچے گا۔
وہی نا…قسمت کا کھیل ہے۔
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
پھر اُس کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
میں پہلے قسمت پر یقین نہیں کرتا تھا۔
اُس نے ٹی وی پر امن کی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا،
لیکن اِس سے ملنے کے بعد کرنے لگا ہوں۔ اتنے دشمن ہونے کے باوجود ہر بار موت کے منہ سے واپس آ جاتا ہے۔
کیٹی نے قدرے سنجیدگی سے پوچھا،
اب کیا کریں گے، سر؟
ریپر نے کندھے اچکائے۔
کچھ نہیں۔
پھر اُس نے ٹی وی کی آواز ذرا سی بڑھا دی۔
اب تو بس اِس لڑکی کا تماشا دیکھو۔
کیٹی نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
ویسے یہ لڑکی ہے کون؟
اور اِس میں اتنی ہمت آئی کہاں سے کہ سب کے سامنے امن پر گن تان دی؟
ریپر نے آہستہ سے گردن موڑی اور مسکراتے ہوئے کیٹی کی طرف دیکھا۔ پھر بڑے اطمینان سے بولا،
امن کی تباہی۔
کیٹی کی آنکھیں پھیل گئیں۔
ہیں؟
ریپر نے مُسکراتے ہوئے کہا
ارے، یہی تو اُس نے مجموعے کے سامنے کھڑے ہو کر کہا تھا۔۔۔
اُس نے لڑکی کی آواز کی نقل کرتے ہوئے کہا،
آپ کی تباہی۔۔۔
پھر چند لمحے اُسے یاد کر کے ہنسا۔
اور کس دلیری سے کہا۔۔۔
کیٹی نے بےتاثر نظروں سے اُسے دیکھا۔
آئی ایم امپریسڈ۔ ایسا تو کبھی میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں کیا۔۔۔
ریپر نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
کیٹی نے طنزیہ انداز میں کہا،
ویسے آپ ہر دوسری لڑکی سے امپریسڈ ہو جاتے ہیں۔
ریپر کی مسکراہٹ ذرا سی گہری ہوگئی۔
کس نے کہا میں ہر دوسری لڑکی سے امپریس ہو جاتا ہوں؟
کیٹی نے بےتاثر انداز میں جواب دیا،
یسریٰ؟ کیٹی کو یسریٰ سے الگ ہی جلن ہوتی تھی۔۔۔
ریپر ایک لمحے کو خاموش ہوا۔ پھر جواب دیا
یسریٰ میں امپریس ہونے والی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ وہ بھی تم سب جیسی ہی ہے۔
کیٹی نے بھنویں سکیڑیں۔
تم سب لڑکیاں بہت بےوقوف ہوتی ہو چاہے جتنی مرضی بہادر بن جاؤ،  رہو گی بےوقوف ہی۔
پھر اُس نے کیٹی کی طرف دیکھا۔
یہ لڑکی، تم، یسریٰ…تم سب کی سب بےوقوف ہو۔
کیٹی نے فوراً سوال داغ دیا،
اور آپ ہماری اسی بےوقوفی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں؟
کیوں نہ اُٹھاؤں؟ وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر ٹی وی اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے بولا،
تم سب سے زیادہ بہادر بھی تو کوئی نہیں ہوتا۔۔۔
کیٹی نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
ایک طرف تعریف، دوسری طرف بےعزتی۔
تعریف اور بےعزتی والی کوئی بات نہیں ہے۔ میں تو بس ریئلٹی چیک دے رہا ہوں۔
پھر اُس کی نظر دوبارہ ٹی وی پر چلتی خبر کی طرف چلی گئی۔
ریپر کی نظر میں عورتوں سے زیادہ بہادر کوئی نہیں، ہم مرد بھی نہیں، بہادری میں تم سب کا کوئی مقابلہ نہیں۔
کیٹی چند لمحے اُسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔
ریپر کے عورتوں کے بارے میں خیالات باقی تمام مردوں سے کہیں مختلف تھے۔
وہ عورت کو کبھی کمزور نہیں سمجھتا تھا۔
بلکہ اُس کے نزدیک عورت کی سب سے بڑی طاقت ہی اُس کی سب سے بڑی خامی بھی تھی۔
وہ خطرے کے سامنے کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتی تھیں۔
اکثر وہ اُس مقام تک چلی جاتی تھیں جہاں ایک عام انسان پہنچنے سے پہلے کئی بار اپنے انجام کے بارے میں سوچتا۔
اور شاید ریپر اسی لیے انہیں “بےوقوف” کہتا تھا۔
اُس کے نزدیک بےوقوفی کا مطلب کم عقل ہونا نہیں تھا… بلکہ یہ تھا کہ انسان خطرہ دیکھتے ہوئے بھی اُس کے سامنے کھڑا ہو جائے، یہ سوچے بغیر کہ اُس کے بعد کیا ہوگا۔
اور عورتیں…
ریپر کے تجربے میں ایسی بےوقوفی کرنے میں سب سے آگے تھیں۔
وہ عورتوں کی عزت بھی باقی لوگوں سے کہیں زیادہ کرتا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ اُس کے گروہ میں آدھے سے زیادہ افراد عورتیں تھیں۔
کیونکہ اُس کے نزدیک…
ایک بےخوف عورت کو قابو کرنا کسی طاقتور مرد کو قابو کرنے سے کہیں زیادہ مشکل تھا۔

++++++++++++++-

اس وقت رات کے گیارہ بج رہے تھے،  گھر میں امل کا دل بالکل نہیں لگ رہا تھا۔
امن کی حالت اب پہلے سے بہتر تھی، آپریشن بھی ہو چکا تھا، مگر ڈاکٹر نے اُسے اگلی شام ڈسچارج کرنے کا کہا تھا۔ اِس وقت وہ ہسپتال میں تھا اور رات بھر اُس کے ساتھ نِہات کو رکنا تھا۔
افتخار صاحب اور انیسہ بیگم شام ہی میں امن سے مل کر واپس جا چکے تھے۔
نِہات خود بھی زخموں سے محفوظ نہیں تھا، مگر اُس نے ہسپتال میں امن کے علاوہ اپنے ساتھ کسی اور کو رکنے ہی نہیں دیا تھا۔
امل سے آخرکار برداشت نہ ہوا۔
اُس نے کھانے کا ٹفن تیار کروایا، ڈرائیور کو ساتھ لیا اور خود امن کے لیے کھانا لے کر ہسپتال پہنچ گئی۔
رات خاصی گہری ہو چکی تھی۔
امل نے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی تو امن اور نِہات دونوں کی نظریں ایک ساتھ دروازے کی طرف اٹھیں۔
دونوں کے چہروں پر ایک ہی جیسی حیرت تھی۔
امن نے حیران ہو کر پوچھا،
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟
نِہات نے فوراً موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔
اپنی مخصوص شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
اپنی بلیوں جیسی آنکھوں سے گھر بیٹھتے بیٹھتے آنسو بہاتے بہاتے تھک گئی ہوگی… تو سوچا یہاں آ کر تھوڑے سے اور بہا لوں۔
امل نے گھور کر اُسے دیکھا۔
نِہات بھائی… چماٹ کھانی ہے؟
نہیں، میرا پیٹ بھرا ہوا ہے۔ اپنے بھائی سے پوچھ لو۔
امل امن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی،
میں کھانا لائی ہوں، بھائی۔
نِہات نے فوراً مصنوعی صدمے سے امن کی طرف دیکھا۔
لو جی۔۔ پھر امل کی طرف دیکھ کر بولا،
دیکھ رہے ہو؟ میرے ساتھ سوتیلا برتاؤ…
اُس نے انگلی سے پہلے خود کی طرف اشارہ کیا۔
مجھے چماٹ…
پھر امل کے ہاتھ میں پکڑے ٹفن کی طرف دیکھا۔
اور بھائی کو کھانا۔۔۔ وہ بڑی سنجیدگی سے بولا،
آج کے بعد مجھے بھائی نہیں کہنا تم۔
امل نے بےتاثر انداز میں کہا،
آپ کا ہو گیا ہو تو… بیٹھ جائیں۔
نِہات نے فوراً سر ہلایا۔
اوکے۔۔۔
وہ صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔
امل نے ٹفن کھولا اور روٹی سالن نکال کر امن کے پاس آ گئی۔
دوسری طرف نِہات بھی اپنے حصے کا کھانا کھانے لگا۔
امن نے امل کو دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا،
تم یہ ڈرائیور کے ہاتھ بھیج دیتیں۔ تمہیں خود آنے کی کیا ضرورت تھی؟
امل نے بےساختہ جواب دیا،
بھائی… میرا دل کر رہا تھا۔
نِہات نے منہ میں نوالہ لیے ہی فوراً کہا،
میں نے ابھی تو بتایا تھا کہ یہاں آ کر آنسو بہانا چاہتی تھی۔
امل نے غصے سے اُسے دیکھا۔
چپ کر کے کھانا کھائیں، نہیں تو چھین لوں گی۔
نِہات نے فوراً دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔
سوری، سوری… continued
امن کے چہرے پر بھی بےاختیار مسکراہٹ آ گئی۔
کچھ دیر تک کمرے میں اُن تینوں کی ہلکی پھلکی باتیں اور نِہات کی شرارتیں چلتی رہیں۔
رات کا بوجھل پن کچھ دیر کے لیے جیسے ہلکا ہو گیا تھا۔
امل جب واپس جانے لگی تو اُس نے امن کو اور نہات کو دونوں کو اپنا خیال رکھنے کی تاکید کی۔۔۔ اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
ہسپتال کے باہر ڈرائیور اُس کے انتظار میں کھڑا تھا۔
امل تیزی سے گاڑی میں بیٹھی اور دروازہ بند کر دیا۔
گاڑی کچھ دیر بعد ہسپتال کی حدود سے باہر نکل آئی۔
سڑک نسبتاً سنسان تھی۔
امل نے اپنا سر سیٹ سے ٹکایا ہی تھا کہ اچانک…
گریملِن…
ایک آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی۔
امل کا پورا جسم جیسے ایک دم ساکت ہو گیا۔
اُس نے جھٹکے سے سامنے دیکھا۔
ڈرائیونگ سیٹ کے شیشے کے پیچھے سے دو آنکھیں اُسے مسلسل دیکھ رہی تھیں۔
ریپر۔
امل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اوہ گاڈ…
اُس نے بےاختیار شیشے سے باہر دیکھا۔
پھر دوبارہ سامنے ریپر اُسے دیکھ رہا تھا۔
وہ کیسے یہاں تھا؟ اور ڈرائیور کہاں ہے۔۔۔
اور وہ یہ گاڑی خود کیوں چلا رہا ہے؟
امل نے فوراً خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
Calm down…
اُس نے آہستہ سے خود کو سمجھایا۔
Calm down…
خوف کو کبھی بھی خود پر حاوی مت ہونے دینا۔۔۔
اُس نے دھیرے سے اپنے بھائی کی بات دوہرائی۔۔۔
وہ جانتی تھی، ریپر کے سامنے ذرا سی گھبراہٹ بھی اُسے کمزور ظاہر کر دے گی۔
اُس نے گہری سانس لی۔
پھر غصے سے ریپر کی طرف دیکھا۔
یہ انسان میری زندگی جہنم بنا کر ہی چھوڑے گا۔
اُس نے سامنے شیشے میں ریپر کی طرف دیکھتے کہا
کیا ہے؟
یہاں کیا کر رہے ہیں؟
پھر اُس نے طنزیہ انداز میں کہا،
اپنا کالا دھندے کا کام چھوڑ دیا کیا؟
ریپر کی بھنویں ذرا سی اوپر اٹھیں۔
کالا دھندا؟
ہاں۔۔۔ امل نے فوراً جواب دیا۔
یہ سب جو آپ کرتے ہیں… کالا دھندا ہی تو کہتے ہیں اِسے۔
ریپر کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
نہیں تو۔
امل نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
پھر اتنی فرصت کہاں سے مل رہی ہے آپ کو؟
جو یوں ڈرائیور بنے پھر رہے ہیں؟
پھر اچانک اُس کی آنکھوں میں شرارت چمکی۔
اوہ، ایک منٹ… وہ ذرا آگے جھکی۔
I guess…
کہیں آپ وہ سب کام چھوڑ کر ہمارے ڈرائیور تو نہیں بن گئے؟ امن بھائی نے کہیں آپ کو ڈرائیور کی نوکری پر تو نہیں رکھ لیا؟
ریپر کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
اوہ، واٹ ربش۔۔۔ اُس نے قدرے سخت لہجے میں کہا،
کیا بکواس کر رہی ہو تم؟
اُس کی اتنی اوقات ہے میرے سامنے؟
امل کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
اوقات؟ اُس نے غصے سے کہا،
بھائی ہیں وہ میرے۔
ریپر نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھا۔
معلوم ہے۔
امل نے فوراً کہا،
تو تمیز سے بات کریں۔
ریپر نے بھنویں سکیڑیں۔
تم مجھے تمیز سکھا رہی ہو؟
جی ہاں۔۔۔
اگلے ہی لمحے ریپر نے اچانک گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔
امل کا جسم سیٹ سے جھٹکا کھا کر پیچھے لگا۔
آہ
اُس کے منہ سے بےاختیار چیخ نکلی۔
اُسے سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ گاڑی تیزی سے بائیں جانب مڑی۔
امل کا پورا جسم ایک طرف کو جھول گیا۔
ریپر۔۔۔
اُس نے گھبرا کر سیٹ کا کنارہ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
مگر ریپر جیسے اُس کی آواز سن ہی نہیں رہا تھا۔
اگلے ہی لمحے اُس نے گاڑی اچانک دائیں طرف موڑ دی۔
آہ۔۔۔
امل دوبارہ دوسری طرف جا گری۔
اُس کے کھلے ہوئے بال ہوا کے جھونکوں اور مسلسل جھٹکوں سے اُس کے چہرے پر بکھر گئے تھے۔ اُس نے ایک ہاتھ سے بال پیچھے کرنے کی کوشش کی، مگر دوسرے ہی لمحے گاڑی پھر تیزی سے مڑی تو وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی۔
ریپر ۔۔۔۔
پاگل ہو گئے ہیں آپ؟!
ریپر کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
اُس نے ایک لمحے کے لیے بھی اُس کی طرف نہیں دیکھا۔
بس سڑک پر نظریں جمائے، پوری بےفکری سے گاڑی چلاتا رہا۔
بس کریں۔۔۔۔ امل چیخی۔۔۔
ریپر نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اُس نے اچانک ایک اور موڑ کاٹا۔
امل کا جسم پھر سے ایک طرف جھٹکا کھا گیا۔
رفتہ رفتہ گاڑی کی رفتار کم ہونے لگی اور چند لمحوں بعد ریپر نے گاڑی بالکل سیدھی سڑک پر لے آیا۔
امل نے ایک گہری سانس لی۔
کچھ لمحوں تک وہ خاموش بیٹھی رہی، جیسے ابھی تک پچھلے چند منٹوں کے جھٹکوں سے خود کو سنبھال رہی ہو۔
ریپر نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھا، پھر سڑک پر نظریں جماتے ہوئے بڑے اطمینان سے پوچھا،
مزہ آیا؟
امل نے فوراً اُسے گھورا۔
بہت۔۔۔ وہ طنزیہ انداز میں بولی۔
پھر اُس نے چہرے پر بکھرے بالوں کو ہاتھ سے سمیٹنا شروع کر دیا۔
بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اُس کی نظر اُن میں الجھی ہوئی مٹی پر پڑی جو گاڑی کے اچانک جھٹکوں کی وجہ سے کہیں سڑک سے اُڑ کر اُس کے بالوں میں آ پھنسی تھی۔
امل نے ناگواری سے منہ بنایا۔
یہ بھی آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔ پورا بال گندا کردیا میرا۔۔۔
ریپر نے بےفکری سے بھنویں اٹھائیں۔
اور جھولے چاہئیں؟
امل نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ خاموشی سے اپنے بالوں میں لگی مٹی صاف کرنے لگی۔ کبھی ایک لٹ کو انگلیوں کے درمیان پکڑ کر جھاڑتی اور کبھی دوسری طرف کے بالوں سے مٹی نکالتی۔
ریپر نے اُسے ایک نظر دیکھا۔
اُس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
اتنی بھی بری رائیڈ نہیں تھی۔
امل نے اُس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔
وہ بالکل بےفکری سے اپنے بالوں میں الجھے ہوئی تھی،
ریپر کو اُس کی یہی بےفکری اندر ہی اندر کھلنے لگی۔
اُس نے دوبارہ سڑک پر نظریں جما لیں اور قدرے سخت لہجے میں بولا،
تمہیں مجھ سے خوف نہیں آ رہا؟
امل نے بالوں سے نظریں ہٹائے بغیر پوچھا،
کیوں؟
ریپر نے ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
میں تمہیں یہاں سے کہیں بھی لے جا سکتا ہوں۔
امل نے بےتکلفی سے کندھے اچکائے۔
لے جائیں۔
ریپر کی گرفت اسٹیئرنگ پر ذرا مضبوط ہو گئی۔
اُس نے ایک نظر امل کی طرف دیکھا۔
رات کا وقت ہے… اُس نے آہستہ مگر گہری آواز میں کہا، اور تم اکیلی میرے ساتھ گاڑی میں ہو۔
امل خاموش رہی۔
ریپر نے جان بوجھ کر اپنی آواز مزید سنجیدہ کر لی۔
میں کچھ بھی غلط کر سکتا ہوں… تمہارے ساتھ۔
امل نے بالکل سادہ لہجے میں جواب دیا،
کر دیں۔
ریپر کے چہرے کے تاثرات ایک لمحے کے لیے بدل گئے۔
اُسے توقع تھی کہ امل ڈرے گی۔
کم از کم اُس کی آنکھوں میں خوف تو نظر آئے گا۔
مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹا تھا۔
وہ ایک لمحے کو خاموش ہوا، پھر جیسے اُس کی بےخوفی کو توڑنے کی ضد میں بولا،
تمہارے قریب بھی آ سکتا ہوں میں…
اُس نے دانستہ طور پر لفظوں کے درمیان وقفہ رکھا۔
مگر امل کی آنکھوں میں پھر بھی خوف نہ آیا۔
وہ چند لمحے خاموشی سے اُسے ديکھتی رہی۔
پھر اچانک سیٹ پر ذرا آگے ہو کر بیٹھی۔
ایک بات تو بتائیں؟ ریپر نے اُسے دیکھا۔
کیا؟
امل نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا،
آپ کو مجھ سے گھن نہیں آتی؟
ریپر کے ماتھے پر ہلکی سی شکن آئی۔
گھن؟ کیوں آئے گی؟
امل نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا،
میں آپ کے دشمن کی بہن ہوں۔۔۔ لوگ تو اپنے دشمنوں کی طرف دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے، اور آپ ہیں کہ میرے قریب آنے کی بات کر رہے ہیں۔
وہ ذرا رکی، پھر بےساختہ بولی،
آپ کو گھن نہیں آتی مجھ سے؟
ریپر نے بھنویں اٹھائیں۔
امل نے فوراً نظریں پھیر لیں۔
کیونکہ مجھے تو آپ سے بہت گھن آتی ہے۔
ریپر کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
اوہ… اُس نے سڑک پر نظریں جمائے ہوئے کہا،
ابھی تمہیں مجھ سے بہت گھن آ رہی ہے؟
پھر اُس نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھا۔
نکاح کرتے وقت نہیں آئی تھی گھن؟
جب بڑے شوق سے امن کے مانا کرنے کے باوجود نکاح کے پیپرس پر سائن کیا تھا۔۔۔
امل نے فوراً اُس کی بات کاٹ دی۔
میں نے اپنے بھائی کو بچانے کے لیے ایسا کیا تھا۔۔۔
اُس کی آواز میں غصہ نمایاں تھا۔
پھر اُس نے ریپر کو گھور کر کہا،
اور بھولیں نہیں… وہ نکاح کا پلان کس کا تھا۔۔۔
ریپر نے اُس کی طرف دیکھا، مگر امل نے مزید کچھ کہنے کے بجائے اچانک اپنا چہرہ اُس کے قریب کر لیا۔
اُس کے لب ریپر کے کان کے قریب پہنچے اور اُس نے نہایت دھیمی آواز میں سرگوشی کی،
ویسے۔۔۔ آپ کو پتا ہے؟
ریپر نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھا۔
امل کے ہونٹوں پر ہلکی سی پراسرار مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
آپ جب جب املِ ایمان کے پاس آئیں گے نا۔۔۔
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر اُس کی آواز مزید دھیمی ہوگئی۔
تب تب آپ کو املِ ایمان سے خطرہ ہی ہوگا۔۔۔
ریپر کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے الجھن ابھری۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
گاڑی کے پچھلے شیشے سے اُسے اچانک تیز روشنی دکھائی دی۔
ایک نہیں… دو نہیں…
کئی گاڑیاں تیزی سے اُن کی طرف بڑھ رہی تھیں۔
چند ہی سیکنڈز میں سیاہ رنگ کی مرسڈیز نے ریپر کی گاڑی کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔
اچانک سامنے ایک گاڑی آ کر رکی، دائیں طرف سے دوسری گاڑی نے راستہ بند کر دیا، جبکہ پیچھے آنے والی گاڑی نے بھی ریپر کے لیے واپسی کا راستہ ختم کر دیا۔
ریپر نے فوراً گاڑی روک دی۔
اُس کی نظریں سامنے کھڑی گاڑیوں پر جم گئیں۔
چہرے پر اب وہ بےفکری نہیں تھی جو چند لمحے پہلے تھی۔
اُس نے آہستہ سے گردن موڑ کر امل کی طرف دیکھا۔
اور اُسے دیکھتے ہی چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گیا۔
امل اپنی نشست پر بالکل اطمینان سے بیٹھی تھی۔
اُس کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جس میں فتح کا عجیب سا اطمینان جھلک رہا تھا۔
جیسے اُسے پہلے ہی معلوم ہو کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔
ریپر کی نظریں اُس مسکراہٹ پر جم گئیں۔
اُسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا…
یہ لڑکی صرف باتیں نہیں کرتی تھی۔
یہ واقعی اُس کے لیے خطرہ مند ثابت ہو رہی تھی۔

+++++++++++++++

امن ہسپتال کے بستر پر نیم دراز تھا جبکہ اُس کے سامنے دیوار پر لگی ٹی وی اسکرین پر مسلسل بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔
اسکرین پر بار بار اُسی لڑکی کا چہرہ دکھایا جا رہا تھا۔
وہی سیاہ آنکھیں… وہی بےخوف چہرہ…
وہی لڑکی، جس نے چند گھنٹے پہلے ہزاروں لوگوں کے سامنے امن پر گولی چلائی تھی۔
امن کی نظریں مسلسل اسکرین پر جمی ہوئی تھیں۔
کچھ دیر بعد اُس نے خاموشی توڑتے ہوئے پوچھا،
یہ لڑکی مل گئی؟
نِہات، جو کمرے کے دوسرے کونے میں بیٹھا موبائل دیکھ رہا تھا، اُس نے سر اٹھایا۔
نہیں۔ پولیس ڈھونڈ رہی ہے۔
امن نے چند لمحے دوبارہ ٹی وی کی طرف دیکھا۔
پتا چلا یہ لڑکی کون ہے؟
نِہات نے اُسے غور سے دیکھا، پھر بےفکری سے بولا،
وہ تو تمہیں پتا ہوگا۔؟
امن نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
مجھے کیسے پتا ہوگا؟
نِہات نے شرارتی انداز میں آنکھیں سکیڑیں۔
جیسے وہ اچانک آئی تھی، مجھے تو کوئی جانی پہچانی ہی لگ رہی تھی…
وہ ذرا رکا۔
کہیں…
امن نے اُس کی بات وہیں کاٹ دی۔
نِہات، کوئی فضول بکواس نہیں کرنا۔
نِہات کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔
مجھے تو یہی لگ رہا ہے کہیں تم نے اِسے پیار اور شادی کا خواب دکھا کر چھوڑ تو نہیں دیا۔
امن نے گھور کر اُسے دیکھا۔
نِہات۔۔۔
یار، مذاق کر رہا ہوں۔۔۔ نِہات نے فوراً ہاتھ اٹھا دیے۔
تم ایک دم سیریس ہو جاتے ہو۔
امن نے ایک بار پھر ٹی وی کی طرف دیکھا۔
اُس کے چہرے پر اب مسکراہٹ کا نام و نشان نہیں تھا۔
مجھے نہیں لگتا کہ اِس لڑکی نے گولی چلائی تھی۔
نِہات نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر بےساختہ بولا،
لو! تو میں نے چلائی تھی؟
امن نے قدرے سخت لہجے میں کہا،
میں سیریس ہوں، نِہات۔
میں بھی سیریس ہوں،تمہیں دِکھ نہیں رہا؟ اندھے ہو؟ سب کے سامنے گولی چلائی ہے اُس لڑکی نے اور تم…
میں نے کہا نا… امن کی آواز میں اب بےچینی صاف محسوس ہو رہی تھی۔
میرا دل نہیں مانتا کہ اِس لڑکی نے گولی چلائی۔
نِہات نے چند لمحے اُسے خاموشی سے دیکھا۔
پھر اُس نے بےبسی سے سر ہلایا۔
بھائی، تم سو جاؤ۔
امن نے اُسے گھورا۔
دوا کا اثر ہو رہا ہے تم پر۔ نِہات نے زیرِلب کہا،
امن نے پِھر ایک اور سوال کیا۔۔
ویسے اب یہ لڑکی کہاں ہوگی؟
نہات نے فوراً جواب دیا،
چھپی ہوئی ہوگی کہیں۔ اِتنا بڑا کام جو سر انجام دیا ہے۔۔۔
اِسے ڈھونڈو۔
امن نے اتنا کہا کہ نِہات کے چہرے پر حیرت ابھری۔
کیا؟
امن نے قدرے سنجیدگی سے کہا،
ہاں۔ اِسے ڈھونڈو۔
پھر؟
اغوا کرو۔
نِہات چند لمحے اُسے دیکھتا رہ گیا۔
کیااا؟
امن نے بےتاثر انداز میں کہا،
پولیس کے ہاتھ نہیں لگنی چاہیے یہ لڑکی۔
نِہات نے حیرت سے آنکھیں جھپکائیں۔
لیکن کیوں؟
امن کی آواز سنجیدہ ہو گئی۔
تمہیں پولیس والوں کا نہیں پتا؟
اُس نے ٹی وی کی طرف دیکھا جہاں ابھی بھی اُس لڑکی کی تصویر دکھائی جا رہی تھی۔
اس کا حال بےحال کر دیں گے۔
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
اور میں نہیں چاہتا ایسا ہو۔
نِہات کی آنکھیں کچھ پھیل گئیں۔
امن نے فوراً کہا،
اِسی لیے جلد از جلد اپنے بندے بھیج کر اسے ڈھونڈو…
پھر جیسے اچانک اُسے کچھ یاد آیا۔
بلکہ رکو… تم رہنے دو۔
میں سِنان کو بولوں گا۔
پھر اُس کے لہجے میں یقین آگیا۔
اُس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اس لڑکی کو ڈھونڈنا۔
وہ اس سب کام میں ماسٹر ہے۔۔۔
نِہات فوراً اپنی جگہ سے اٹھا اور سیدھا امن کے پاس آ گیا۔
اُس نے جھک کر امن کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔
امن نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
کیا کر رہے ہو؟
نِہات نے نہایت سنجیدہ شکل بنا کر کہا،
چیک کر رہا ہوں کہیں تمہیں بخار وخار تو نہیں ہو گیا۔
امن نے اُس کا ہاتھ ہٹایا۔
ہاں، پہلے تم اپنی یہ نوٹنکی کر لو۔
نِہات واپس سیدھا ہو کر کھڑا ہوا۔
پھر ٹی وی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا،
بھائی، مجھے اِس وقت اُس لڑکی پر اتنا غصہ آ رہا ہے نا…
امن نے فوراً بات کاٹ دی۔
پورے شہر کو آ رہا ہے۔ لیکن مجھے نہیں آرہا۔۔
اُس کی نظریں اب بھی ٹی وی اسکرین پر تھیں۔
دیکھو، نیوز میں کیسی کیسی باتیں کر رہے ہیں اُس کے بارے میں۔
امن کے لہجے میں ناگواری تھی۔
مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔
نِہات نے بےیقینی سے اُسے دیکھا۔
اوہ بھائی…
اُس نے زخمی بازو کی طرف اشارہ کیا۔
اُس نے گولی ماری ہے تمہیں۔۔۔
پھر حیرت سے بولا،
گولی۔۔۔ یہ گولی تُمہارے سینے میں بھی لگ سکتی تُم مر سکتے تھے بھائی۔۔۔ مر سکتے تھے،
دیکھو، میں نے کہا نا…امن کی آواز میں اب ضد نمایاں تھی۔ مجھے نہیں لگ رہا اُس لڑکی نے گولی چلائی۔
نِہات نے چند لمحے اُسے گھورا۔
عجیب آدمی ہو تم بھی۔۔۔
اُس نے ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے کہا،
مجھے لگتا ہے گولی تُمہارے بازو میں نہیں دِماغ میں لگ گئی، آنکھوں دیکھا جھٹلا رہے ہو۔۔۔
امن نے قدرے سخت لہجے میں کہا،
مجھے سب دکھائی دے رہا ہے۔ تمہیں نہیں دکھائی دے رہا، بس۔
پھر اُس نے حکم دیتے ہوئے کہا،
میں جو کہہ رہا ہوں، وہی کرو۔
نِہات نے بازو سینے پر باندھ لیے۔
نہیں کروں تو کیا کر لوگے؟
امن نے ایک لمحے کے لیے اُسے دیکھا۔
پھر بالکل سنجیدہ چہرے کے ساتھ بولا،
ایک لگاؤں گا۔
نِہات کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ آگئی۔
لگا کے دکھاؤ۔۔۔
امن نے تکیہ اٹھا کر اُس کی طرف پھینکنے کی کوشش کی، مگر بازو میں درد کی ایک ہلکی سی ٹیس اٹھی۔
وہ فوراً رک گیا۔
نِہات نے اُسے دیکھا اور ہنس پڑا۔
بس، بس…
وہ دوبارہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا،
تم آرام کرو۔ لڑکی بھی ڈھونڈ لیں گے، تمہاری یہ عجیب سی تفتیش بھی کر لیں گے۔
امن نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اُس کی نظریں ایک بار پھر ٹی وی اسکرین پر جا ٹھہری تھیں۔
اُس لڑکی کا چہرہ ابھی بھی اسکرین پر تھا۔
اور نہ جانے کیوں…
امن کو بار بار اُس کی وہ سیاہ آنکھیں یاد آ رہی تھیں۔
نِہات نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹکا۔
اگر تم ایسے ہی سب کے لیے نرم پڑتے رہو گے نا… تو سیاست میں ٹکے رہنا تمہارے لیے بہت مشکل ہو جائے گا۔
امن نے بغیر کسی پریشانی کے اُسے دیکھا۔
کوئی مشکل نہیں ہوگا۔ کیونکہ میں اگر سب کے لیے نرم پڑوں گا… تو تم سخت ہو جانا۔
نِہات چند لمحے اُسے دیکھتا رہا، پھر بےاختیار ہنس دیا۔
واہ بھائی… یعنی تُم سب سے تعریف لو اور میں سخت بن کر سب سے گالیاں کھاؤں۔۔
امن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
تمہیں کونسا فرق پڑنا ہے۔۔۔
نِہات نے اچانک سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا،
اچھا، ابھی اِس لڑکی کے ساتھ سخت بنوں؟
امن نے فوراً اُسے گھورا۔
تھپڑ ماروں گا۔
یہ ہماری پارٹی کی کارکن نہیں ہے۔
نِہات نے فوراً بات پکڑی۔
دشمن تو ہے نا؟
امن نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر پرسکون لہجے میں بولا،
ہاں۔۔۔
اُس کی نظریں ایک بار پھر ٹی وی اسکرین پر جا ٹھہریں جہاں اُسی لڑکی کی تصویر دکھائی جا رہی تھی۔
اِس دشمن کو میں خود ہینڈل کر لوں گا۔
پھر اُس نے نِہات کی طرف دیکھ کر کہا،
تم باقیوں کو دیکھو۔
نِہات نے کچھ لمحے اُسے گھورا، پھر سر ہلاتے ہوئے بڑبڑایا،
وہ تو میں دیکھ ہی رہا ہوں…
اُس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی۔
امن نے بھنویں سکیڑیں۔
کیا؟
نِہات نے ہنستے ہوئے کہا،
کہ اِسے کیسے سنبھالنے والے ہو تم۔
امن نے اُسے ایک گھوری سے نوازا۔
نِہات…
اچھا بابا، خاموش۔
نِہات نے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔
امن نے تھکن سے آنکھیں بند کیں اور چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولا،
نِہات، اب مجھے نیند آ رہی ہے۔
اُس نے ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی پر چلتی اُس لڑکی کی خبر بند کر دی۔
اسکرین سیاہ ہوئی تو کمرے میں اچانک خاموشی چھا گئی۔
اور پھر اُس نے آنکھیں بند کر لیں۔
نِہات خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔ پھر خود صوفے پر آکر لیٹ گیا۔۔۔۔

++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *