سات رنگِ حیات
از قلم حفظہ مرزا
قسط نمبر 8
سڑک پر پارکنگ کی کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی، اس لیے پری نے سب کو آئس کریم پارلر کے باہر ہی آتار دیا اور خود گاڑی پارک کرنے کے لیے آگے چلی گئی۔
ہنی ابھی پارلر کے دروازے کے قریب ہی کھڑی تھی کہ اچانک اندر سے ایک لڑکی آئس کریم لیے باہر نکلی۔
وہ دونوں ہاتھوں میں آئس کریم لیے باہر آرہی تھی۔۔ وہ پیچھے مڑ کر کسی سے بات کرتے ہوئے چل رہی تھی، اسی دوران بے دھیانی میں ہنی سے ٹکرا گئی۔
ایک آئس کریم لڑکی کے اپنے کپڑوں پر جا گری، جبکہ دوسری سیدھی ہنی کے اوپر جا گری۔
ہنی ایک لمحے کے لیے بالکل ساکت کھڑی رہ گئی، پھر اپنے کپڑوں پر لگی آئس کریم کو دیکھ کر حیرت سے آنکھیں پھیلا دیں۔
ہنی کچھ سمجھ پاتی، اس سے پہلے ہی لڑکی غصے سے چیخ اٹھی۔
“کیا تم اندھی ہو؟ تمہیں نظر نہیں آتا؟”
ہنی نے حیرت سے اسے دیکھا۔ غلطی دراصل لڑکی کی تھی، کیونکہ وہ خود پیچھے دیکھتے ہوئے چل رہی تھی۔
ہنی نے قدرے سخت لہجے میں کہا، “ایکسکیوز می، میڈم! غلطی آپ کی ہے۔ آپ نے سامنے دیکھ کر چلنے کے بجائے پیچھے دیکھتے ہوئے چلنا پسند کیا اور اب الٹا مجھ پر ہی چیخ رہی ہیں۔ انسان آگے دیکھ کر چلتا ہے، پیچھے دیکھ کر نہیں۔۔۔
لڑکی ہنی کی بات سن کر مزید بھڑک اٹھی۔
“تمہیں بات کرنے کی ذرا بھی تمیز نہیں ہے! تمہیں پتا بھی ہے یہ کتنی مہنگی شرٹ تھی؟ تم نے میرے سارے کپڑے خراب کر دیے!”
ہنی نے بے یقینی سے اسے دیکھا، پھر اپنے آئس کریم سے خراب ہوئے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا۔
“آپ کے کپڑے؟ میری شرٹ دیکھیں، پوری آئس کریم میرے کپڑوں پر گری ہے اور میں نے تو آپ سے کچھ نہیں کہا۔ غلطی بھی آپ کی ہے اور غصہ بھی آپ ہی دکھا رہی ہیں!”
لڑکی نے غصے سے ہنی کو گھورا، جیسے ابھی بھی اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔۔۔۔۔
ایزل زیشان سے باتیں کرتے ہوئے آ رہی تھی اور اپنی غلطی ماننے کے بجائے الٹا ہنی کو ہی ڈانٹ رہی تھی۔
“تمہیں بات کرنے کی ذرا بھی تمیز نہیں ہے!” ایزل نے غصے سے کہا۔
ہنی نے اس کی بات سنی تو ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر بے نیازی سے بولی، “نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے۔ تم سکھا دو۔۔۔
ہنی کے جواب پر ایزل ایک لمحے کے لیے خاموش رہ گئی۔
زیشان، جو ایزل کے ساتھ کھڑا تھا، حیرت سے ہنی کو دیکھنے لگا۔ اس کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی تھی۔ ہنی کا جواب سن کر اسے ہنسی آ رہی تھی، مگر وہ بمشکل اپنی ہنسی روک رہا تھا۔
دوسری طرف عائشہ، سرش اور ماہی بھی حیرت سے ہنی کو دیکھ رہی تھیں، جیسے انہیں اس کے اتنے بے باک جواب کی بالکل توقع نہ ہو۔
میر خان نے بھی کھیلتے کھیلتے اپنا سر اٹھایا اور ہنی کی طرف دیکھنے لگا۔
ہنی نے سب کی نظروں سے بے نیاز ہو کر اپنے کپڑوں پر لگی آئس کریم دیکھی ۔۔۔”ویسے تمہاری آئس کریم دیکھ کر لگتا ہے کہ تمہاری پسند بھی تمہاری طرح کڑوی ہے، بالکل تم جیسی!” 😏
ایزل نے اس کی بات سنی تو فوراً غصے سے اسے گھورنے لگی۔ 😠
ایزل نے غصے سے ہنی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“تمہیں سوری بولنا چاہیے۔”
ہنی نے فوراً جواب دیا، “مجھے کیوں سوری بولنا چاہیے؟ غلطی تمہاری ہے، سوری بھی تمہیں ہی بولنا چاہیے۔”
ماہی نے معاملہ بڑھتا دیکھ کر بیچ میں آتے ہوئے کہا، “اوکے میم، سوری! ہم سے غلطی ہو گئی۔ بس بات کو یہیں ختم کرتے ہیں۔”
ہنی نے فوراً غصے سے ماہی کو گھورا۔۔۔۔۔
ماہی کی بات سنتے ہی ذیشان نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس نے اس لڑکی کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہو۔ 🤔
اسے یاد ہی نہیں آ رہا تھا کہ آخر اس نے ماہی کو کہاں دیکھا تھا۔
“تم کیوں سوری بول رہی ہو؟ غلطی ان کی ہے، سوری بھی انہیں ہی بولنا چاہیے!”
زیشان نے بھی محسوس کیا کہ بات بلاوجہ لمبی ہوتی جا رہی ہے، تو اس نے ایزل سے کہا، “بس کرو، بات کو یہی ختم کرتے ہیں۔ کافی زیادہ ہو رہا ہے۔”
ایزل نے غصے سے زیشان کو دیکھا، پھر جھنجھلا کر بولی، “بھاڑ میں جاؤ! میری طرف سے ۔۔۔
یہ کہہ کر وہ غصے سے پلٹی اور دوبارہ آئس کریم پارلر کے اندر چلی گئی۔
زیشان بھی اس کے ساتھ اندر بڑھ گیا۔۔۔
ہنی نے ایزل کو غصے میں اندر جاتے ہوئے دیکھا تو بڑبڑاتے ہوئے بولی،
“عجیب لڑکی ہے! غلطی بھی اپنی ہے اور سوری بھی نہیں بول رہی، الٹا ہم پر ہی غصہ کیے جا رہی ہے۔”
اتنے میں پیچھے سے پری آ گئی۔
“کیا ہوا؟” پری نے حیرت سے پوچھا۔
ہنی نے فوراً خود کو سنبھالا اور کہا، “ہاں، کچھ نہیں۔ بس ایک پاگل سے ٹکراؤ ہو گیا تھا۔”
یہ کہہ کر وہ اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔اندر جا کر سب ایک کارنر کی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئے اور آئس کریم آرڈر کر دی۔ میر خان بھی پری کے ساتھ بیٹھا کھیل رہا تھا۔ پری نے اسے بالون لے کر دیا۔۔۔
پری کی نظریں میر خان پر ہی تھیں۔
میر خان اچانک معصومیت سے بولا،
“ویسے مما، یہ ہنی آنٹی کو بات کرنے کی تمیزسے بات کرنی نہیں آتی؟”
پری نے حیرت سے فوراً میر خان کی طرف دیکھا۔
“کیا مطلب؟”
ہنی بھی اس کی بات سن کر حیرت سے میر خان کو دیکھنے لگی، جبکہ باقی سب بھی اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔
میر خان نے معصومیت سے کہا۔
“انہوں نے خود کہا ہے کہ انہیں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے، تو کیا ہم انہیں سکھائیں؟”
میر خان کی بات سنتے ہی پری تو حیرت سے ہنی کو دیکھنے لگی۔۔۔۔، جبکہ عائشہ، ماہی اور سحرش ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر اپنی ہنسی چھپانے لگیں۔ 😂
ہنی البتہ اسے غصے سے گھور رہی تھی۔
ہنی نے فوراً اپنے دفاع میں کہا،
“ارے، میں نے تو ایسے ہی مذاق میں کہا تھا، تم تو سیریس ہی ہو گئے۔ہنی فوراً بات سنبھالتے ہوئے بولی،
“وہ تو میں نے اُس لڑکی کو کہا تھا، اُسے ضرورت تھی۔”
مگر دل ہی دل میں وہ سوچ رہی تھی،
“اس چھوٹے چوہے سے بچ کر رہنا پڑے گا، یہ تو بہت چالاک ہے!” 😏
پری نے حیرت سے ہنی کی طرف دیکھا، جیسے خاموشی سے پوچھ رہی ہو کہ آخر یہ سب کیا ماجرا ہے۔
ہنی نے فوراً کہا،
“یہ ایسے ہی… بس مذاق کر رہے تھے ہم لوگ۔”اس کے بعد ہنی نے فوراً واش روم جانے کا بہانہ بنایا اور وہاں سے نکل گئی۔۔
جبکہ پری کا دھیان رومی کی بازو پر چلا گیا اس نے پوچھا کیا وہ ٹھیک ہے جس پر اس نے کہا ہاں وہ ٹھیک ہے اس نے اپنے زخم کورٹ کے اندر کور کیا ہوا تھا کس وجہ سے سامنے نظر نہیں ا رہا تھا ۔۔۔۔
پھر میر خان ایک بڑے سے غبارے کے ساتھ کھیلنے لگا۔ اس نے غبارے کو ہوا میں اچھالا تو وہ اچھلتا ہوا آگے جا کر فرش پر لڑھکنے لگا۔ 🎈
میر خان ہنستے ہوئے اس کے پیچھے بھاگا اور اسے دوبارہ پکڑنے لگا۔
غبارہ تھوڑا سا آگے لڑھکتا ہوا گیا اور جا کر عرشمان کے پاؤں سے ٹکرا گیا۔ میر خان فوراً بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا۔
عرشمان نے جھک کر غبارہ اٹھایا اور میر خان کی طرف بڑھا دیا۔ میر خان نے فوراً غبارہ پکڑ لیا۔
اسی وقت زرنش بھی عرشمان کے پاس آ گئی۔ اس نے میر خان کے گال پر پیار کیا اور مسکراتے ہوئے بولی،
“کتنا کیوٹ ہے!” 🥰
میر خان نے معصومیت سے مسکراتے ہوئے کہا،
“تھینک یو، انکل!”
اسی وقت پیچھے سے اس کی ماما کی آواز آئی،
“میر خان! واپس آؤ!”
ماما کی آواز سنتے ہی میر خان فوراً غبارہ سنبھالتا ہوا ان کی طرف بھاگ گیا۔۔۔
پری کی پیٹھ زرنش کی طرف تھی، اس لیے وہ پیچھے نہیں دیکھ سکی۔
عرشمان اور زرنش بھی آگے بڑھتے ہوئے پری کے ٹیبل کے بالکل پاس سے گزرے اور سامنے والے حصے میں جا کر بیٹھ گئے۔
لیکن پری کی آواز سنتے ہی زرنش کے قدم ایک لمحے کو ٹھٹکے۔ اسے عجیب سا احساس ہوا۔
“یہ آواز… میں نے کہیں سنی ہے۔”
وہ کچھ سوچتی رہی، پھر اپنے ٹیبل کی طرف بڑھ گئی۔
وہ ابھی جا کر بیٹھی ہی تھی کہ اس کی نظر سامنے پڑی اور وہ چونک گئی۔
سامنے پری بیٹھی ہوئی تھی۔
ادھر زیشان اور ایزل نے پھر سے ائس کریم اپنی ارڈر کی تھی ”
زرنش نے سامنے پری کو دیکھا تو فوراً بولی۔۔۔آپ لوگ بیٹھو میں بھی ائی۔۔۔
“میری ایک فرینڈ ہے، میں ابھی اس سے مل کر آتی ہوں۔”
یہ کہہ کر وہ پری کی طرف بڑھ گئی۔
پری اس وقت میر خان کو آئس کریم کھلا رہی تھی، ۔۔
زرنش پری کے پاس پہنچی تو اسے آواز دی،
“پری!”
پری نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے زرنش کھڑی تھی۔
“تم یہاں؟”
زرنش مسکرا کر بولی،
“ہاں، میں بھی اپنے بھائی کے ساتھ آئی ہوں۔”
“اوہ، اچھا!”، پری کی پیٹھ ان کی طرف تھی، اس لیے وہ انہیں دیکھ نہیں سکی۔
پری نے مسکرا کر زرنش کا اپنی بہنوں سے تعارف کروایا۔
“یہ میری سسٹر عائشہ سحرش ہے، یہ رومی ہے، اور ہنی ابھی ریسٹ روم گئی ہوئی ہے۔”
زرنش نے رومی کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا،
“ہاں، تم لوگوں کے بارے میں میں نے بہت سنا ہے۔ تم لوگوں سے ملنے کا مجھے بہت شوق تھا۔ آج مل کر مجھے واقعی بہت خوشی ہوئی۔”
پری نے زرنش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“آؤ، ہمارے ساتھ بیٹھو، جوائن کرو۔”
پیچھے سے زیشان نے زرنش کو آواز دی،
“زرنش، چلو!”
زرنش نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ لوگ پہلے ہی کھانا کھا چکے تھے اور اب واپس جانے کے لیے تیار تھے۔
زرنش نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں ۔لیکن پھر کبھی سہی۔ہنی سے بھی ملوں گی۔۔۔۔
پری نے مسکرا کر سر ہلایا۔
“اوکے، کوئی بات نہیں۔ پھر کبھی سہی۔”
“اللہ حافظ!” زرنش نے سب کو کہا۔
“اللہ حافظ!” پری نے بھی جواب دیا۔
زرنش وہاں سے پلٹ کر اپنے گھر والوں کی طرف چلی گئی۔
وہ سب کھانا کھا چکے تھے اور اب آئس کریم گاڑی میں بیٹھ کر کھانے کا ارادہ تھا، مگر راستے میں آئس کریم گر جانے کی وجہ سے انہیں دوبارہ واپس آنا پڑا۔
انہوں نے دوبارہ آئس کریم آرڈر کی اور کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد سب اپنی اپنی آئس کریم لے کر گاڑی کی طرف چل پڑے۔ 🍦
زرنش واپس آ کر عرشمان کے پاس کھڑی ہو گئی تھی، جبکہ ایزل کی نظر اس پر پڑی تو وہ فوراً بولی،
“تمہاری آج بھی فرینڈز کی چوائس بہت بری ہے۔”
زرنش نے حیرت سے ایزل کی طرف دیکھا۔
“کیا مطلب؟”
ایزل نے قدرے طنزیہ انداز میں کہا،
“وہ جو تمہاری فرینڈز ہیں۔”
“کیا مطلب؟” زرنش نے دوبارہ پوچھا۔
ایزل نے فوراً جواب دیا،
“بہت ہی بدتمیز ہیں!”
اور یہ کہہ کر اگے بڑھ گئی۔۔۔
پھر اس نے زیشان کی طرف دیکھا، جیسے اس سے تصدیق چاہ رہی ہو۔
زیشان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا اور اسے پورا واقعہ آرام سے بتا دیا۔
کچھ دیر پہلے آئس کریم پارلر کے باہر پیش آنے والا واقعہ اسے بتانا شروع کر دیا، کہ کیسے اس لڑکی پر آئس کریم کے کپڑوں پر گری اور کیسے اس لڑکی نے الٹا اسے ہی جواب دینا شروع کر دیا تھا۔
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بھی زیشان نے زرنش کو پوری کہانی سنائی اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ آگے سے ایزل کو کیا جواب دیا تھا۔
زیشان کی بات سنتے ہی زرنش بے اختیار ہنسنے لگی۔
ایزل نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“کیا ہوا؟ تم اتنا ہنس کیوں رہی ہو؟”
زرنش نے فوراً اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا،
“نہیں، کوئی بات نہیں۔ کچھ نہیں، ہم تو بس ایسے ہی بات کر رہے تھے۔”
عرشمان نے گاڑی کے شیشے سے اپنے بہن بھائیوں کو دیکھا۔ وہ آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے اور ہنس بھی رہے تھے۔
وہ انہیں دیکھ کر سمجھا گیا” ان کے درمیان کوئی مستی چل رہی ہے؟”۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد ہنی بھی ریسٹ روم سے واپس آ گئی۔ دور سے اس کی نظر پڑی تو اس نے دیکھا کہ پری کے پاس ابھی ابھی ایک لڑکی کھڑی تھی، جو اب وہاں سے جا رہی تھی۔
ہنی نے قریب آ کر پری سے پوچھا،
“یہ کون تھی؟”پری نے معمول کے انداز میں جواب دیا،
زرنش تھی۔۔ وہ تم سے بھی ملنا چاہتی تھی، لیکن تم ریسٹ روم میں تھیں۔ کوئی بات نہیں، پھر کبھی سہی۔”
ہنی نے سر ہلا دیا اور سب کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔
ہنی ریسٹ روم جانے کے بہانے باہر نکلی تھی۔ ایزل کی باتیں ابھی تک اس کے ذہن میں گھوم رہی تھیں اور وہ دل ہی دل میں اس لڑکی سے خاصی خفا تھی۔
اس کی نظر اتفاقاً سامنے کھڑی گاڑی پر پڑی تو اس کے ذہن میں ایک شرارتی خیال آیا۔
وہ آس پاس دیکھتے ہوئے ایک طرف گئی اور کچھ دیر بعد واپس گاڑی کے قریب آئی۔
ہنی نے گاڑی کے آگے پیچھے دیکھا، پھر آس پاس نظر دوڑائی۔ اچانک اس کی نظر ایک طرف زمین پر پڑے ٹوٹے ہوئے شیشے کے ٹکڑوں پر پڑی۔ شاید وہ کسی کھڑکی کے شیشے کے ٹکڑے تھے۔
اس نے وہ شیشے اٹھائے اور گاڑی کے پچھلے دونوں ٹائروں کے پاس کھڑے کر دیے بالکل ٹائر کے ساتھ اندر گھسا دیے۔۔
اس نے ایسی شرارت کر دی کہ اسے یقین تھا اب ایزل کو اپنی بدتمیزی کا مزہ ضرور چکھنا پڑے گا۔
ہاتھ جھاڑتے ہوئے وہ زیرِلب بڑبڑائی،
“اب مزا آئے گا مجھے سوری نہ بولنے کا اور مجھے بدتمیز کہنے کا۔ بڑی آئی مجھے بدتمیز بولنے والی!”
پھر وہ ایسے ظاہر کرتے ہوئے واپس اندر چلی گئی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور آ کر دوبارہ پری کے ساتھ بیٹھ گئی۔
رومی نے اسے دیکھ کر حیرت سے کہا،
“تمہارا موڈ تو بڑا اچھا ہو گیا ہے!”
ہنی نے فوراً آئس کریم کا چمچ اٹھاتے ہوئے کہا،
“ہاں! اپنی فیورٹ آئس کریم کھاتے ہوئے تو خوشی ہوگی ہی نا۔”
پری نے ایک لمحے کے لیے اسے غور سے دیکھا۔ ہنی کے چہرے پر غیر معمولی سی خوشی تھی، مگر پری نے یہی سمجھا کہ شاید واقعی اسے اپنی پسندیدہ آئس کریم کھانے کی خوشی ہو رہی ہے۔
کچھ دیر بعد سب نے آئس کریم ختم کی۔ میر خان نے معصومیت سے پری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“ماما، مجھے آپ والی آئس کریم بھی کھانی ہے۔”
پری مسکرا دی ۔نہیں بچوں کے لیے زیادہ ائس کریم اچھی نہیں ہوتی گلا خراب ہو جائے گا چلو اب پھر کبھی کھائیں گے۔۔۔
کچھ دیر بعد سب پارلر سے باہر نکل آئے۔ سب گاڑی کی طرف بڑھ ہی رہے تھے ۔۔۔۔
گاڑی ابھی کچھ ہی دور گئی تھی کہ اچانک جھٹکا کھا کر رک گئی۔
چاروں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
“کیا ہوا؟” ایزل نے پریشانی سے پوچھا۔
عرشمان نے بھی گاڑی کو دیکھتے ہوئے کہا،
“مجھے کیا پتا، میں دیکھتا ہوں۔”
وہ فوراً گاڑی سے نیچے اترا اور پیچھے جا کر ٹائرز کو چیک کیا۔ دونوں پچھلے ٹائرز میں بالکل ہوا نہیں تھی۔
عرشمان نے حیرت سے دونوں ٹائرز کو دیکھا۔
“یہ کیسے ہو گیا؟ دونوں ٹائرز کی ہوا ایک ساتھ کیسے نکل گئی؟”
زرنش زیشان اور ایزل بھی گاڑی سے اتر آئے اور اس کے پاس آ گئے۔
تینوں نے ٹائرز کو غور سے دیکھا تو ایک ٹائر میں کانچ کا ٹکڑا پھنسا ہوا نظر آیا۔
ذیشان نے جھک کر اسے دیکھا، پھر حیرت سے بولا،
“یہ دیکھو… اس میں کانچ پھنسا ہوا ہے۔”
سب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔ ایک ہی وقت میں دونوں پچھلے ٹائرز کا پنکچر ہونا کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔
وہ لوگ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ یہ کس نے کیا۔۔۔
گاڑی میں بیٹھ کر وہ لوگ ابھی تھوڑا ہی آگے بڑھے تھے کہ راستے میں انہیں ایک گاڑی کھڑی نظر آئی۔
ہنی کی نظر جیسے ہی اس گاڑی پر پڑی، وہ چونک گئی۔
“شیشہ نیچے کرو، شیشہ نیچے کرو!”
پری نے فوراً شیشہ نیچے کیا۔
ہنی نے ذرا سا باہر جھانک کر سامنے کھڑی ایزل کو دیکھا، پھر شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے بولی،
“کیا مزا آیا؟ اور بولو مجھے بدتمیز؟ اب کھڑی رہو یہی پر!”
زیشان اور عرشمان نے حیرت سے ہنی کی طرف دیکھا، جبکہ ایزل بھی اسے گھور رہی تھی۔
پری نے اندر سے حیرت سے ہنی کو دیکھا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے، ہنی؟”
ہنی نے بالکل اطمینان سے جواب دیا،
“ان کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا!”
پری نے حیرت سے پوچھا،
کیا کیا ہے؟”
ہنی نے آخرکار اپنی پوری شرارت بتا دی۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد رومی، عائشہ اور سحرش کی ہنسی چھوٹ گئی۔ ، جبکہ پری نے بھی ہنی کو حیرت سے دیکھا ۔۔۔۔
ادھر عرشمان حیرت سے زیشان اور ایزل کو دیکھ رہا تھا، جبکہ زرنش ساری بات سمجھ چکی تھی۔ زیشان اسے پہلے ہی پوری کہانی بتا چکا تھا، اسی لیے جیسے ہی اسے لڑکی کی شرارت کی اصل وجہ سمجھ آئی، وہ بھی بے اختیار اور کھل کر ہنسنے لگی۔زیشان بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا۔۔۔
عرشمان نے سر جھٹکتے ہوئے اپنے بہن بھائیوں کو دیکھا۔
“تم لوگوں کا واقعی کوئی علاج نہیں ہے!”
۔۔۔
ایزل کا غصے سے برا حال تھا۔ وہ غصے میں بولی،
“میں ان پر کیس کروں گی۔۔۔میری گاڑی کا انہوں نے کیا حال کر دیا۔۔۔ وہ گاڑی بھی ایزل کی لائے تھے کیونکہ اس کی گاڑی باہر ہی کھڑی تھی۔۔
ایزل نے فوراً غصے سے اسے دیکھا۔جانے دوں۔
“کیوں جانے دوں؟ آج انہوں نے یہ کیا ہے، سبق تو سکھانا پڑے گا۔۔ ان کے ساتھ یہی ہونا چاہیے۔ ان پر کیس کرنا چاہیے!”
وہ دل ہی دل میں فیصلہ کر چکی تھی کہ وہ لازمی ان کے خلاف کیس کرے گی۔
عرشمان نے اپنے بھائی کو فون کرکے وہاں بلا لیا۔ کچھ ہی دیر بعد اس کا بھائی انہیں لینے آ گیا۔ گاڑی کی حالت دیکھ کر وہ بھی ایک لمحے کو حیران ہوا، پھر ہنسی اس کے چہرے پر آ گئی۔
راستے میں جب اسے سارا واقعہ معلوم ہوا تو وہ دل ہی دل میں خوب محظوظ ہوا ۔۔۔۔۔
وہ سب کو ساتھ لے کر گھر آ گیا، مگر ایزل کا غصہ ابھی بھی کم نہیں ہوا تھا۔
گھر پہنچتے ہی وہ سیدھی اپنے کمرے میں گئی اور غصے سے بڑبڑاتے ہوئے بولی،
“صبح ہوتے ہی میں لازمی ان پر کیس کروں گی… اور اُس لڑکی کو بھی سبق سکھاؤں گی!”
یہ کہتے ہوئے وہ غصے سے بستر پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
سب گھر واپس آ چکے تھے۔ میر خان رومی کی گود میں سو رہا تھا۔ رومی نے اسے احتیاط سے اٹھایا اور اسے کمرے میں لے گئی ۔۔۔
پری بھی گاڑی سے باہر نکلی تو اس نے ہنی کو آواز دی،
“ہنی، رکو!”
ہنی فوراً رک گئی اور پلٹ کر پری کی طرف دیکھا۔ پری اس کے پاس آئی اور سنجیدگی سے بولی،
مجھے ذرا بتاؤ کہ تم نے یہ کیوں کیا۔۔۔۔
ہنی نے حیرت سے اسے دیکھا،
“کیا؟”
پری نے اسے گھورتے ہوئے کہا،
“تمہیں پتا بھی ہے تم نے کیا کیا ہے؟ تمہیں اندازہ ہے اس کا نتیجہ کیا ہو سکتا تھا؟ اگر گاڑی رش والی سڑک پر ہوتی یا تیز رفتاری سے آ رہی ہوتی تو کیا نقصان ہو سکتا تھا؟ تم نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ تم کیا کر رہی ہو؟”
پری نے بہت دیمل لہجے میں اور سنجیدہ انداز میں کہا۔۔۔
ہنی خاموش ہو گئی۔۔
وہ نظریں جھکا کر بولی،
“سوری۔۔۔”
پری نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
“سوری بولنے سے کیا ہوگا؟ آج خوش قسمتی سے سڑک پر زیادہ رش نہیں تھا اور گاڑی بھی آہستہ چل رہی تھی، اسی لیے کوئی بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ لیکن ہمیں کیا پتا آگے کیا ہو سکتا تھا؟ ہمارا ایک چھوٹا سا مذاق کسی کی جان کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔ تم یہ بات جانتی ہو، پھر تم نے بغیر سوچے سمجھے یہ سب کیوں کیا؟”
ہنی کو اپنی جلد بازی پر شرمندگی محسوس ہوئی۔۔۔
“ذرا سوچو، اگر انہوں نے تم پر کوئی کیس کر دیا۔۔۔تو تم کیا کرو گی۔۔۔
اور اگر ڈیڈی کو اس بارے میں پتا چل جاتا تو تم انہیں کیا جواب دوگی۔۔۔۔”
ہنی خاموش ہو گئی۔ پری کی باتیں سن کر وہ بھی سوچ میں پڑ گئی۔
پری نے مزید کہا،
“اور تم نے یہ بھی نہیں سوچا کہ وہاں جگہ جگہ سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ تمہاری یہ حرکت یقیناً کیمروں میں ریکارڈ ہوئی ہوگی۔ تم نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ تم کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔
ہنی کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ اب اسے اپنی جلد بازی کا احساس ہونے لگا تھا اور وہ نظریں جھکائے خاموش کھڑی تھی۔
پری نے قدرے نرم مگر سنجیدہ لہجے میں کہا،
“میں تمہیں اچھے کاموں میں سپورٹ کرتی ہوں، ہنی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تمہیں غلط کاموں میں بھی سپورٹ کروں گی۔ اگلی بار اگر میں نے تمہیں کسی بھی کام میں بغیر سوچے سمجھے کودتے ہوئے دیکھا نا، تو پھر دیکھنا۔”
ہنی نے فوراً سر ہلا دیا۔
“سوری… اب نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہوگا۔”
پری نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا،
” جاؤ اب۔”
ہنی خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔
پری نے فون نکالا اور زرنش کے نمبر پر ایک مختصر سا پیغام بھیجا۔ پیغام بھیجنے کے بعد اس نے فون واپس رکھا اور خاموشی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔
——————————————–
وہ گاڑی میں آ کر بیٹھ افی نے اقراء کو دیکھتے ہوئے کہا،
“سوری، تھوڑی لیٹ ہو گئی۔”
“کوئی بات نہیں۔” اقراء نے مسکرا کر جواب دیا۔
افی نے گاڑی اسٹارٹ کی اور دونوں وہاں سے نکل گئیں۔
گاڑی چلاتے ہوئے افی کے ذہن میں بار بار یہی خیال آ رہا تھا کہ آخر اس پولیس والے کے پاس کوئی ثبوت ہوگا بھی یا نہیں۔ اگر واقعی اس کے پاس کوئی ثبوت ہوتا تو وہ اسی وقت اسے دکھا دیتا۔ مگر اس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔
وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ ۔۔۔اسی دوران اقراء نے اسے کچھ کہا، مگر افی کا دھیان اس کی بات کی طرف نہیں تھا۔
“افی میم!” اقراء نے دوبارہ اسے آواز دی۔
افی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
“ہاں؟ تم نے کیا کہا؟”
اقراءنے اسے غور سے دیکھا اور کہا،
“کچھ نہیں… آپ ٹھیک ہیں؟”
“ہاں، میں ٹھیک ہوں۔” افی نے جواب دیا۔
پھر افی نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور پوچھا،
“کیا گھر میں سب ٹھیک ہے؟”
“ہاں، سب ٹھیک ہے۔”
“والدین نے تو کچھ نہیں کہا؟”
اقراء نے بے بسی سے اسے دیکھا۔
“انہوں نے کیا کہنا ہے؟ آپ کو تو پتا ہی ہے، فی الحال وہ چپ ہیں۔”
افی نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ اقراء کے گھر کے حالات کیسے ہوں گے۔
“میں سمجھ سکتی ہوں۔۔۔ ہمارے ماں باپ بھی ہمیں یہی کہتے رہتے ہیں کہ سمجھوتہ کرو، برداشت کرو۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔”
“ہمارے معاشرے میں ہمارے ماں باپ ہمیں یہی تو سمجھاتے ہیں کہ شادی کے بعد گھر میں جو بھی ہو، خاموش رہو… برداشت کرو۔ چاہے حالات جیسے بھی ہوں، بس سمجھوتہ کرو، سمجھوتہ کرو۔”
اس کی آواز میں دکھ نمایاں تھا۔
“لیکن آخر ایک عورت کتنا سمجھوتہ کرے؟ اپنی عزتِ نفس تک قربان کر دے؟ اگر اس کا شوہر اسے عزت نہ دے، اس کے ساتھ بدسلوکی کرے، اسے تکلیف پہنچاتا رہے، تو کیا صرف شادی بچانے کے لیے وہ سب کچھ برداشت کرتی رہے؟”
وہ ایک لمحے کے لیے رکی، پھر تلخی سے مسکرائی۔
“اور سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب اپنے ہی ماں باپ ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے یہ کہیں کہ اگر تم طلاق لے کر واپس آ گئی تو تمہاری چھوٹی بہن کا کیا ہوگا؟ لوگ کیا کہیں گے؟ خاندان کی عزت کا کیا ہوگا؟”
اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
“اگر آج وہ اپنی بیٹی کا ساتھ دیتے… اگر وقت پر اس کا ہاتھ تھام لیتے، تو شاید آج حالات یہاں تک نہ پہنچتے۔ شاید آج اس کا بچہ اس کی گود میں زندہ ہوتا۔”
وہ گہری سانس لے کر بولی۔
“لیکن نہیں… ہمارے معاشرے میں اکثر چار لوگوں کی بات اتنی اہم بنا دی جاتی ہے کہ ایک بیٹی کی تکلیف بھی چھوٹی لگنے لگتی ہے۔ لوگ کیا کہیں گے؟ لوگ کیا سوچیں گے؟”
اس نے نم آنکھوں سے سامنے دیکھا۔۔۔۔
“ان چار لوگوں کی عزت بچاتے بچاتے وہ اپنی بیٹی کی عزتِ نفس، اس کا سکون اور اس کی زندگی تک داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ آخر کیوں؟ صرف اس لیے کہ بیٹی واپس نہ آئے، طلاق نہ لے، چاہے وہ اندر ہی اندر کتنی ہی ٹوٹ جائے۔”
وہ خاموش ہوئی، پھر دھیمی آواز میں بولی،۔۔۔
“اور پھر یہی سب برداشت کرتے کرتے ایک دن وہ بیٹی دنیا سے چلی جاتی ہے… تب وہی ماں باپ اس کی تصویر سینے سے لگا کر روتے ہیں، ماتم کرتے ہیں، اور کہتے ہیں… کاش! ہم نے اپنی بیٹی کا ساتھ دیا ہوتا۔ کاش! ہم نے وقت پر اسے اس تکلیف سے نکال لیا ہوتا۔”
افی نے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے سوچا۔۔
“لیکن تب پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ نہ بیٹی واپس آتی ہے، نہ وہ وقت… صرف ایک سوال رہ جاتا ہے کہ اگر اُس وقت چار لوگوں کی بات سے زیادہ اپنی بیٹی کی زندگی کو اہمیت دی ہوتی، تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔.۔۔۔۔”
“مجھ سے کسی نے کہا تھا کہ لڑکیوں کو اپنی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے، کیونکہ ہر کوئی ان کا ساتھ دینے نہیں آتا۔ اس لیے ہمیں خود ہی اپنے لیے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔”
“آج میں بھی اپنی جنگ خود لڑ کر یہاں تک پہنچی ہوں۔ اس لیے تم بالکل ٹینشن مت لو۔ میں تمہارا پورا ساتھ دوں گی، جتنا میرے بس میں ہوگا۔ تمہیں کسی بھی قسم کا مسئلہ ہو تو تم بلا جھجھک مجھ سے رابطہ کر سکتی ہو۔”
اقراء کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔ پھر ہمت کر کے بولی،
“کیا میں… پھر سے جاب شروع کر سکتی ہوں؟”
افی نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں، بالکل۔ کیوں نہیں؟”
پھر اس نے ذرا غور سے اقراء کو دیکھا اور پوچھا،
“تمہارا آگے کا کیا پلان ہے؟”
اقرا نے ایک گہری سانس لی۔
“میں دوبارہ جاب شروع کرنا چاہتی ہوں… اور یہاں سے شفٹ بھی ہونا چاہتی ہوں۔ “۔ میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے میرے ماں باپ یا میری بہن کو کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑے۔ یہاں کے لوگ بہت باتیں بناتے ہیں، اور خاص طور پر میری بہن کے لیے یہ سب برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔۔۔”
افی نےاس کی بات سنتے ہوئے کہا۔۔۔
لوگ کبھی باتیں کرنا نہیں چھوڑتے، چاہے ہم کچھ بھی کر لیں۔ کبھی کبھی سکون کے لیے لوگوں سے بحث کرنے کے بجائے ان سے کنارہ کر لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔۔۔۔
اِفی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمی مگر پُراعتماد آواز میں کہا،
“بس ہمت مت ہارنا، ہر حال میں کھڑی رہنا۔ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، خود کو کمزور مت پڑنے دینا۔”
اقراء نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
کچھ دیر بعد افی نے اسے اس کے گھر کے باہر اتارا۔ اقراء کی بہن نے دروازہ کھولا۔ جیسے ہی اس کی نظر افی پر پڑی، وہ چند لمحوں کے لیے حیران رہ گئی۔
وہ سوچ رہی تھی کہ اقراء اس کے پاس آ گئی۔
افی نے اقراء سے کہا،
“اگر کوئی ضرورت پڑے تو مجھے کال کرنا۔ اور زیادہ گھر سے باہر مت نکلنا، خاص طور پر اکیلے۔”
اقراء نے سر ہلایا اور اندر جاتے ہوئے کہا،
“آپ بھی اپنا خیال رکھیے گا۔”
افی نے بھی سر ہلایا اور وہاں سے فوراً اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔
گھر پہنچ کر افی اندر داخل ہوئی تو گھر میں کوئی نظر نہیں آیا۔ اس نے نُور سے پوچھا،
“سب کہاں گئے ہیں؟”
نُور نے جواب دیا،
“وہ سب پری کے ساتھ آئس کریم کھانے گئے ہیں۔”
افی نے سر ہلایا اور اوپر جانے لگی تو نُور کی نظر اس کے ہاتھ پر پڑ گئی۔
“تمہارے ہاتھ کو کیا ہوا؟”
افی نے فوراً اپنا ہاتھ چھپاتے ہوئے کہا،
“کچھ نہیں، چھوٹی سی چوٹ ہے۔”
یہ کہہ کر وہ جلدی سے اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
کمرے میں پہنچ کر بھی اس کے ذہن سے وہی بات نہیں نکل رہی تھی۔
کیا واقعی اس پولیس والے کے پاس کوئی ثبوت ہے؟ یا وہ صرف ایسے ہی مجھ سے کہہ رہا تھا؟
وہ چند لمحے سوچتی رہی، پھر خود ہی بولی،
“چلو، اگر ثبوت ہوا تو دیکھ لیں گے۔”
اس نے بات کو وہیں جھٹکا اور فریش ہونے چلی گئی۔
فریش ہونے کے بعد اس نے اپنے ہاتھ پر دوبارہ پٹی کی ۔۔۔
اِفی کو اچانک بہت زور کی بھوک محسوس ہوئی تو وہ نیچے کچن کی طرف آ گئی۔ کچن میں نور چولہے کے پاس کھڑی دودھ گرم کر رہی تھی۔ اِفی کو دیکھتے ہی اس نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“تمہیں بھوک لگی ہے؟ تمہارے لیے کھانا لگاؤں؟”
اِفی نے فوراً سر ہلایا۔
“ہاں، مجھے بہت زور کی بھوک لگی ہے۔ صبح سے کچھ نہیں کھایا۔”
نور نے کچھ کہے بغیر کھانا نکالا اور اسے گرم کرنے لگی۔ اِفی وہیں کرسی پر بیٹھ گئی۔ دونوں کے درمیان ہلکی پھلکی باتیں ہونے لگیں۔ نور بار بار جیسے کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر ہر بار الفاظ اس کے ہونٹوں تک آ کر رک جاتے۔ وہ ایک نظر اِفی کو دیکھتی اور پھر خاموشی سے اپنے کام میں مصروف ہو جاتی۔
کچھ دیر بعد نور نے اِفی کے سامنے کھانا لگا دیا۔
“لو، پہلے یہ کھا لو۔”
“شکریہ۔”
اِفی نے پلیٹ اپنی طرف کی اور کھانا شروع کر دیا۔ نور کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر پلٹ کر پوچھنے لگی،
“تم کافی یا چائے پیو گی؟”
اِفی نے کھاتے ہوئے جواب دیا،
“ہاں، کافی پیوں گی۔”
نور نے سر ہلایا اور کافی بنانے لگی، جبکہ اِفی پوری توجہ سے کھانے میں مصروف ہو گئی۔
کافی بناتے ہوئے بھی دونوں کے درمیان بات چیت چلتی رہی۔ کچن میں ان دونوں کی ہلکی آوازیں اور چمچوں کی آواز ایک مانوس سی فضا بنا رہی تھیں۔
نور کبھی کافی کے کپ کی طرف دیکھتی، کبھی اِفی کی طرف۔ اس کے دل میں اب بھی کچھ تھا جو وہ کہنا چاہ رہی تھی، مگر نہ جانے کیوں اسے الفاظ دینے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
نور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی کافی پی رہی تھی۔ اِفی بھی اس کے سامنے بیٹھی کھانا کھا رہی تھی۔ نور کی نظر اچانک اِفی کے ہاتھ پر پڑی تو وہ کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر فکر مندی سے پوچھنے لگی،
“کیا گہری چوٹ ہے؟”
اِفی نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی،
“نہیں، بس ہلکی سی چوٹ ہے۔ پلیز، پری کو مت بتانا۔”
نور نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
“ٹھیک ہے۔”
کچھ دیر بعد اِفی نے کھانا ختم کیا تو وہ اپنی پلیٹ اور باقی برتن اٹھا کر سنک کی طرف جانے لگی۔ ابھی وہ برتن دھونے ہی لگی تھی کہ نور فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔
“رہنے دو، میں خود دھو لوں گی۔ تمہارے ہاتھ پر چوٹ ہے، پانی میں ہاتھ ڈالو گی تو تکلیف ہو سکتی ہے۔”
اِفی نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
“ہاں، تھینک یو سو مچ۔”
نور نے مسکرا کر کہا،
“کوئی بات نہیں۔”
اِفی نے سر ہلایا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔ نور خاموشی سے اسے اوپر جاتا دیکھتی رہی۔
اس کے دل میں ایک ہی خیال آ رہا تھا کہ وہ آج اِفی سے بات ہی نہیں کر پائی تھی۔۔ وہ پری سے کیسے بات کرے گی؟
نور نے گہری سانس لی اور دوبارہ سنک کی طرف متوجہ ہو گئی، مگر اس کے ذہن میں اب بھی وہی سوال گردش کر رہا تھا۔
اسے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی لیٹے ہوئے کہ۔۔
اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور پری اندر آ گئی۔
افی نے فوراً آنکھیں بند کر لیں اور سونے کا ڈرامہ کرنے لگی۔
وہ جانتی تھی کہ اگر پری نے اس کا ہاتھ دیکھ لیا تو سوالوں کی بوچھاڑ کر دے گی۔
یہ ہاتھ کو کیا ہوا؟ چوٹ کیسے لگی؟ کس نے لگائی؟
اسی لیے افی جان بوجھ کر ایسے ہی لیٹی رہی، جیسے وہ گہری نیند میں ہو۔۔۔۔
پری نے آگے بڑھ کر اسے چیک کیا، پھر اس کے اوپر کمبل ٹھیک کیا ۔۔۔
پر اسے دیکھتے ہوئے واپس مڑ گئی۔۔۔
صبح وہ تیار ہونے کے لیے آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے ہلکے بیج رنگ کا عبایا زیبِ تن کر رکھا تھا، جو اس کے پورے وجود کو خوبصورتی سے ڈھانپے ہوئے تھا۔ اسی رنگ کا حجاب لیے وہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنے حجاب کی پلیٹس درست کر رہی تھی۔
تیار ہونے کے بعد اس نے ایک بار پھر آئینے میں اپنا فائنل لک دیکھا۔ سب کچھ ٹھیک دیکھ کر اس نے اپنا موبائل اور چھڑی اٹھائی اور کمرے سے باہر نکلنے لگی۔
کمرے سے نکلتے ہوئے اس کی نظر سب سے پہلے افی کے کمرے کی طرف گئی۔ وہ ابھی تک سو رہی تھی۔ وہ چند لمحے رکی، پھر افی کے کمرے میں داخل ہوئی۔
“تم ابھی تک سو رہی ہو؟”
فی نے کمبل میں ہی کروٹ بدلتے ہوئے جواب دیا،
“نہیں بس ۔، میرا موڈ نہیں ہے اٹھنے کا۔”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی،
“کل تم پورا دن اقرار کے کیس میں بزی تھی۔”
“ہاں۔”
وہ ہلکا سا سر ہلاتے ہوئے بولی،”ہاں، آج میں گھر سے کام کروں گی۔۔۔
افی نے پری کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
“اچھا، ٹھیک ہے۔ آج ریسٹ کرو، شام کو بات ہوگی۔”
،
وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔۔خدا حافظ
اوکے خدا حافظ۔۔
*************************
ناشتے کی میز پر سب خاموشی سے اپنے ناشتے میں مصروف تھے۔ ہر کوئی اپنے سامنے رکھی پلیٹ کی طرف متوجہ تھا، کسی کی خاص توجہ ایک دوسرے کی طرف نہیں تھی۔
اسی دوران زرنش نے چپکے سے عرشمان کی طرف دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے کچھ اشارہ کرنے لگی۔
عرشمان نے پہلے تو اسے نظر انداز کیا، مگر جب زرنش نے دوبارہ اشارہ کیا تو اس نے نظریں اٹھا کر اسے گھورا۔
عرشمان کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔ اسے ذرا بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کی بہن آخر کہنا کیا چاہ رہی ہے۔
سامنے بیٹھا عرشیان بھی اب ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ کبھی زرنش کو دیکھتا اور کبھی عرشمان کو، جیسے خاموشی سے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو کہ آخر دونوں کے درمیان چل کیا رہا ہے۔
مگر باقی سب اپنے ناشتے میں مصروف تھے، کسی کا دھیان ان دونوں کی طرف نہیں گیا۔
کچھ دیر بعد ناشتہ ختم ہوا تو عرشمان اپنی جگہ سے اٹھا۔
“اچھا، میں چلتا ہوں۔”
وہ سب کو خدا حافظ کہتا ہوا دادی کے پاس گیا، ان سے پیار لیا اور پھر باہر کی طرف بڑھ گیا۔
وہ دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ زرنش بھی فوراً اس کے پیچھے آ گئی۔
“بھائی!”
عرشمان نے قدم روک دیے اور پلٹ کر اسے دیکھا۔
“کیا بات ہے؟”
زرنش اس کے قریب آتے ہوئے بولی۔
“بھائی، آپ سے ایک بات کرنی ہے۔”
عرشمان نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
“بولو۔”
زرنش نے ایک لمحے کو جھجک کر کہا۔
“کیا آپ ایزل کو کیس کرنے سے روک سکتے ہیں؟”
عرشمان کے چہرے پر حیرت ابھری۔
“کیا مطلب؟ کون سا کیس؟”
“رات والی گاڑی کی وجہ سے۔”
اس نے بے تاثر لہجے میں کہا۔
“میں کیوں روکوں گا؟ گاڑی اس کی تھی، خراب بھی اس کی ہوئی ہے۔۔۔”
“پلیز بھائی…” زرنش فوراً بولی، “وہ آپ کی بات مانتی ہے۔ پلیز، آپ اسے روک دیں۔”
عرشمان نے اسے غور سے دیکھا۔
“وہ میری بات کیوں مانے گی؟”
“مانے گی بھائی۔”
وہ آپ کی ہر بات مانتی ہے بھائی۔ آپ کو پسند کرتی ہے، وہ انکار نہیں کرے گی۔ میں اسے کہوں گی تو وہ نہیں مانے گی۔ پلیز، آپ اسے بولیں کہ وہ کیس نہ کرے۔۔۔
عرشمان نے اس کی بات سنی تو ’’پسند کرتی ہے‘‘ والے جملے پر اسے غصے سے گھور کر دیکھا، جبکہ اس کی بہن زرنش نے فوراً ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا،
’’پلیز… پلیز! بعد میں جتنا غصہ کرنا ہو کر لینا، ابھی بس پلیز، آپ اسے روکیں۔‘‘
عرشمان چند لمحے خاموش اسے دیکھنے لگا۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے اس نے ہلکا سا سر ہلایا ۔۔۔
’’اوکے، ٹھیک ہے۔‘‘
کیا”تم اسے جانتی ہو؟”
زرنش نے فوراً سر ہلایا۔
” ہاں وہ وہ کچھ بولنے والی تھی پھر چپ کر گئی ۔۔ہاں جانتی ہوں۔۔۔
عرشمان نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔
“تم آج اسے سپورٹ کرو گی، کل اگر وہ دوبارہ کوئی غلطی کرے گی تو پھر بھی تم ہی اس کا ساتھ دینا پڑے گا۔”
“نہیں بھائی، ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہے، معافی بھی مانگ رہی ہے۔ بس آپ پلیز ایزل سے بات کر لیں۔”
“اوکے!” ۔”اور اب جاؤ، مجھے دیر ہو رہی ہے۔”
“اوکے بھائی، ٹھیک ہے۔”
گاڑی میں بیٹھا اور وہاں سے روانہ ہو گیا۔
زرنش اسے جاتا دیکھتی رہی، پھر بے اختیار مسکرا کر بولی۔
“شکر ہے، بھائی مان تو گئے۔”
اس کے بعد وہ بھی واپس اندر چلی گئی تاکہ آفس جانے کے لیے تیار ہو سکے۔۔۔۔
عرشمان اپنے سامنے رکھی فائل کو دیکھتے ہوئے اپنے سیکرٹری اذان سے مخاطب ہوا۔
“اذان، ڈرافٹ بھیج دیا ہے؟”
“جی سر، بھیج دیا ہے۔”
عرشمان نے فائل کے چند صفحات پلٹتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
“باقی کمپنیز کا بھی اپلوڈ ہو گیا؟”
،جی پر ائی جی کمپنی کا ابھی تک نہیں ہوا۔”
عرشمان نے فوراً نظریں اٹھائیں۔
“کیا وجہ ہے؟”
“پتا نہیں سر، ابھی تک ان لوگوں نے اپلوڈ نہیں کیا۔”
“ٹھیک ہے۔۔”
عرشمان نے ٹیبلٹ اٹھا کر دیکھا۔ باقی تمام کمپنیز کے ڈرافٹس آ چکے تھے، مگر ائی جی کمپنی کی فائل ابھی تک نہیں تھا۔۔
وہ چند لمحے خاموشی سے اسکرین کو دیکھتا رہا، پھر اذان کی آواز پر اس کی توجہ دوبارہ اس کی طرف ہوئی۔
“سر، کوئی احتشام صاحب باہر آپ کا ویٹ کر رہا ہے۔”
نے قدرے حیرت سے اسے دیکھا۔
“کون ہے؟””وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟”
اذان نے فوراً جواب دیا۔
“سر، وہ پہلے آئی جی کمپنی کے ساتھ کانٹریکٹ میں تھے۔ اب وہ ان کے ساتھ کام ختم کرکے ہماری کمپنی کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں۔ شاید اسی سلسلے میں آپ سے ملنے آئے ہیں۔”
عرشمان نے چند لمحے خاموش رہ کر سوچا۔
جو ایک کے وفادار نہیں رہے، وہ ہمارے ساتھ کتنے وفادار ہوں گے؟
مگر اگلے ہی لمحے اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
“خیر، انہیں اندر بھیجو۔ دیکھتے ہیں وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔”
اذان نے سر ہلایا۔”جی سر۔”وہ یہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
کچھ ہی دیر بعد دروازہ دوبارہ کھلا اور تقریباً چالیس سالہ ایک شخص اندر داخل ہوا۔ اس نے اندر آتے ہی سلام کیا۔
“السلام علیکم۔”
عرشمان اس وقت اپنی چیر کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
“وعلیکم السلام۔ بیٹھیں۔”
وہ شخص کرسی پر بیٹھ گیا، جبکہ عرشمان نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“جی، میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟”
اس شخص کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“آپ کے بارے میں بہت سنا تھا، لیکن آج آپ کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ واقعی آپ کافی ینگ اور قابل ہیں۔ اتنی کم عمر میں آپ نے جس طرح اپنی کمپنی کو سنبھالا ہے، وہ قابلِ تعریف ہے۔”
عرشمان خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ اس کی نگاہیں سامنے بیٹھے شخص کے چہرے کے تاثرات کو بغور پرکھ رہی تھیں، جیسے وہ اس کی ہر بات کے پیچھے چھپی نیت سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“تھینک یو۔”
عرشمان نے مختصر سا جواب دیا اور پھر خاموش ہوگیا، جیسے اب وہ دیکھنا چاہتا ہو کہ اس شخص کا اصل مقصد کیا ہے۔
آخرکار وہ شخص اپنی بات کی طرف آیا۔
“دراصل،میں سیدھی بات کروں گا۔۔۔ میں آپ کی کمپنی کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں۔”
عرشمان کی بھنویں ذرا سی بلند ہوئیں۔
“اور ایسا کیوں؟”
وہ شخص مسکرایا۔
“آپ ینگ ہیں، نئی سوچ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر آپ کا نام ہے۔
وہ عرشمان کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا۔
“آپ کے ساتھ جڑ کر ہمیں خوشی ہوگی۔ مجھے یقین ہے کہ ہم مل کر اپنی کمپنی کو مزید بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں، اور اس کا فائدہ یقیناً آپ کو بھی ہوگا۔”
پھر آخر کون آپ کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہے گا؟”
عرشمان نے ایک بار پھر اسے غور سے دیکھا، مگر اس کے چہرے پر کسی قسم کے تاثر کا اظہار نہیں ہوا۔۔۔۔
عرشمان نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد میز پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“دیکھیے مسٹر، ابھی میں کسی کے ساتھ کوئی بھی کانٹریکٹ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔”
اس شخص کے چہرے پر حیرت ابھری۔
“لیکن کیوں؟”
عرشمان نے پرسکون مگر دوٹوک لہجے میں جواب دیا۔
“کیونکہ یہ میری مرضی ہے۔ میری کمپنی کس کے ساتھ کام کرے گی، یہ فیصلہ میں کروں گا، کوئی اور نہیں۔ اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مجھے آپ کے ساتھ کام نہیں کرنا۔”
وہ شخص کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر دوبارہ بات سنبھالتے ہوئے بولا۔
—”شاید آپ میری کمپنی کے بارے میں ابھی ٹھیک سے نہیں جانتے۔ اس لیے میں چاہوں گا کہ آپ پہلے اچھی طرح سوچ لیں اور سمجھ لیں۔ آپ کو ابھی جواب دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے ابھی نیا نیا بزنس شروع کیا ہے، ایسے میں آپ کو بہت سے لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ ہم بھی آپ کو مکمل تعاون دینے کے لیے تیار ہیں۔””
عرشمان نے چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی۔
“آپ کی آفر کا شکریہ، لیکن ایک بات واضح ہے… میں نے یہ بزنس کسی کے سہارے پر شروع نہیں کیا۔ مجھے معلوم ہے کہ مجھے کہاں جانا ہے اور وہاں تک کیسے پہنچنا ہے۔”
وہ کرسی سے ذرا پیچھے ہوتے ہوئے بولا۔
“رہی بات آپ کے ساتھ کام کرنے کی، تو فیصلہ میں جلد بازی میں نہیں کرتا۔ پہلے آپ کی کمپنی، آپ کے کام اور آپ کے مقصد کو سمجھوں گا۔ اگر مجھے لگا کہ ہمارا ساتھ دونوں کے لیے فائدہ مند ہے، تو میں خود آپ سے رابطہ کر لوں گا۔”
اس نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔۔فی الحال آپ اسے میری طرف سے نہ ہی ہے”
اس شخص نے غصے سے عرشمان کو دیکھا، جیسے اسے اس جواب کی بالکل توقع نہ ہو۔ چند لمحے دونوں کے درمیان خاموشی رہی، پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور بغیر کچھ کہے غصے میں کمرے سے باہر نکل گیا۔
عرشمان نے اسے جاتے ہوئے دیکھا اور پھر دوبارہ اپنی فائلز کی طرف متوجہ ہوگیا، جیسے ابھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
عرشمان اپنے وقار اور اصولوں کا پکا انسان تھا۔ وہ اپنے فیصلوں پر ہمیشہ ڈٹ کر قائم رہتا تھا اور اسے بھی ایسے ہی اصول پسند لوگ پسند تھے، جو اپنے کام کے ساتھ مخلص ہوں اور ایک بار کوئی فیصلہ کر لیں تو حالات جیسے بھی ہوں، اس پر قائم رہیں۔ اس کے لیے وفاداری اور اپنے اصولوں پر قائم رہنا سب سے زیادہ اہم تھا۔۔۔۔۔
عرشمان ابھی اپنے کام میں مصروف تھا کہ اچانک آفس کا دروازہ کھلا اور ایزل اندر داخل ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی عرشمان نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’تم یہاں؟‘‘
وہ مسکراتے ہوئے بولی، ’’ہیلو!‘‘
آج ایزل نے بلیو جینز کے ساتھ وائٹ شرٹ پہن رکھی تھی۔ کھلے بال، ہاتھ میں بیگ لیے وہ عرشمان کے پاس آئی اور سامنے والی چیئر پر بیٹھ گئی۔
وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس کی شخصیت میں ایسی کشش تھی کہ وہ باآسانی کسی بھی مرد کو اپنی طرف مائل کر سکتی تھی، مگر عرشمان ایسا شخص نہیں تھا۔ اس نے اسے ایک بار دیکھا اور پھر دوبارہ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔
’’ہاں، آج ہی میں نے آفس جوائن کیا ہے، تو سوچا راستے میں تم سے بھی ملتی چلوں۔‘‘
عرشمان نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا، ’’تو تم جوائن کر رہی ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
عرشمان کو اچانک زرنش کی بات یاد آئی۔ اس نے کچھ لمحے ایزل کو دیکھا، پھر پوچھا، ’’کیا تم نے اس لڑکی کے خلاف کیس کیا؟‘‘
ایزل نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
“ابھی نہیں، کیا تم میرے ساتھ کیس کرنے چلو گے؟”
جس پر عرشمان نے سپاٹ لہجے میں کہا،
“نہیں، جانے دیتے ہیں۔”
وہ اس کی بات سن کر فوراً بولی،
“کیوں جانے دوں؟ دیکھو یہ ویڈیو۔ میں ابھی ہوٹل والوں سے ہی مل کر آ رہی ہوں۔ انہوں نے یہ ویڈیو کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کی ہے۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا فون نکالا اور عرشمان کو ویڈیو دکھانے لگی۔
عرشمان نے ویڈیو ایک بار پھر غور سے دیکھی، پھر فون اس کی طرف بڑھاتے ہوئے قدرے نرم لہجے میں بولا،
“تم میری بات مانو، اس معاملے کو ابھی یہیں چھوڑ دو۔”
وہ فوراً بولی،
“لیکن کیوں؟ جب ہمارے پاس ثبوت موجود ہے تو میں خاموش کیوں رہوں؟”
عرشمان نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر آہستہ سے کہا،
“کیونکہ ۔۔عرشمان ابھی کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ ایزل بول پڑی،
“کیا تم اپنی بہن کی وجہ سے مجھے یہ کیس کرنے سے منع کر رہے ہو؟”
عرشمان نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔۔ پھر چند لمحوں بعد خاموشی سے سر ہلا دیا۔
ایزل نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“تمہاری بہن کی چوائس آج بھی غلط ہے، خاص طور پر دوستوں کے معاملے میں۔”
عرشمان نے سنجیدگی سے جواب دیا،
“یہ اس کی چوائس ہے۔ وہ جس سے چاہے دوستی کرے، اسے اچھے اور برے کی سمجھ ہے۔ یقیناً اس نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی دوستی کی ہوگی۔”
پھر اس نے بات بدلتے ہوئے کہا،
“لیکن ابھی ہم اس کیس کے بارے میں بات کر رہے ہیں، اس لیے اسے جانے دو۔”
ایزل نے کچھ لمحے سوچا، پھر بولی،
“ٹھیک ہے، تم کہہ رہے ہو تو میں تمہاری بات مان لیتی ہوں، لیکن ایک شرط پر۔”
عرشمان نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا،
“کیا شرط ہے؟”
ایزل نے مسکراتے ہوئے کہا،
“تم مجھے لنچ بھی کرواؤ گے، گھمانے بھی لے کر جاؤ گے اور شاپنگ بھی کرواؤ گے۔ کافی عرصے سے ہم کہیں گھومنے نہیں گئے۔”
عرشمان نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
“یہ تین شرطیں ہیں یا ایک؟”
ایزل ہنس پڑی،
“میرے لیے تو ایک ہی شرط ہے۔”
عرشمان نے بے اختیار سر جھٹکا۔ وہ جانتا تھا کہ اپنی بہن کی خاطر اسے یہ ماننا ہی پڑے گا۔
“اچھا، ٹھیک ہے۔۔۔”
ہیزل کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ پھیل گئی۔
“پکا؟”
عرشمان نے قدرے بے زاری سے کہا،
“ہاں بھئی، پکا۔ اب کیس نہیں کرو گی نا؟”
وہ مسکراتے ہوئے بولی،
“نہیں کروں گی۔ ابھی کے لیے۔۔۔۔۔”
وہ عرشمان کے ساتھ وقت گزارنے کا کوئی اچھا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتی تھی۔ اسی لیے اس کے لیے فی الحال کیس چھوڑ دینا بڑی بات نہیں تھی۔ البتہ دل ہی دل میں وہ سوچ رہی تھی کہ اگر زندگی میں دوبارہ کبھی موقع ملا تو ا س لڑکی کو، تو وہ اسے ہرگز نہیں چھوڑے گی۔
عرشمان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا،
“اوکے، مجھے ذرا کچھ کام ہے۔ کام ختم کر لوں، پھر چلتے ہیں۔”
ایزل نے فوراً مسکرا کر کہا،
“کوئی بات نہیں، میں ویٹ کر سکتی ہوں۔”
عرشمان نے سر ہلایا اور دوبارہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گیا، جبکہ ایزل خاموشی سے وہیں بیٹھ کر اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
عرشمان نے اسے اپنی جگہ بیٹھے انتظار کرتے دیکھا تو بولا،
“اگر تم بور ہو رہی ہو تو آفس دیکھ سکتی ہو۔”
ایزل نے فوراً اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“ہاں، یہ اچھا ہے۔۔۔”
یہ کہتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور مسکراتے ہوئے آفس سے باہر نکل گئی، جبکہ عرشمان دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
************************************
بلیک بائیک سڑک پر تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ آفس کے باہر آ کر رکی۔ بائیک کا انجن بند کرتے ہوئے اس نے ایک نظر سامنے عمارت پر ڈالی۔
وہ مکمل طور پر سیاہ لباس میں ملبوس تھی۔ سیاہ جیکٹ، سیاہ پینٹ، سیاہ بوٹس اور ہاتھوں میں دستانے، جبکہ سر پر بھی بلیک ہیلمٹ تھا۔
وہ بائیک سے اتری اور ہاتھ بڑھا کر ہیلمٹ اتارا۔
ہیلمٹ اترتے ہی اس کے شارٹ، سیدھے سیاہ بال چہرے کے گرد بکھر گئے۔ اس کے چہرے کے نقوش نفیس اور پُراعتماد تھے، جبکہ آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی نمایاں تھی۔۔۔
ایک خوبصورت اور پُرکشش چہرے کی مالک تھی۔ چہرے کی رنگت صاف اور نرم تھی، گالوں پر ہلکی سی سرخی اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔
سیاہ، گھنے بال چہرے کے گرد بکھرے ہوئے تھے، جو اس کے نین نقش کو اور نمایاں کر رہے تھے۔۔اس کی سیاہ آنکھیں گہری اور پُرکشش تھیں، جن میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ ہلکے سے پھولے ہوئے گال اس کے چہرے کو مزید معصوم اور دلکش بنا رہے تھی۔۔۔
خوبصورت متناسب نقوش، نازک ناک اور ہلکے گلابی ہونٹ اس کے چہرے کو ایک معصوم اور دلکش تاثر دے رہے۔۔۔
اس نے دونوں ہاتھ بالوں میں لے جا کر انہیں پیچھے کیا اور ایک لمحے کے لیے انہیں درست کیا۔ پھر ہیلمٹ ہاتھ میں تھاما اور بائیک کو وہیں لاک کر کے آفس کے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
اس کے قدموں میں اعتماد تھا۔ وہ بغیر کسی کی طرف خاص توجہ دیے سیدھی آفس کے اندر داخل ہو گئی۔۔۔۔
راستے میں چند اسٹاف ممبرز سے اس کی نظر ملی تو سب نے اسے مسکرا کر سلام کیا۔
“ہیلو!”
وہ بھی ہلکے سے سر ہلا کر جواب دیتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
آفس میں موجود تقریباً ہر شخص اسے جانتا تھا۔ اس کے اعتماد بھرے انداز اور منفرد شخصیت کی وجہ سے وہ جہاں سے گزرتی، لوگوں کی نظریں بے اختیار اس کی طرف اٹھ جاتیں۔ ہر کوئی اسے پلٹ کر دیکھتا۔۔اس کی اونچی ایڑیوں کی ٹک ٹک پورے کوریڈور میں گونج رہی تھی، جبکہ وہ بے فکری سے سیدھی آگے بڑھ رہی تھی۔
اس کے گزرنے کے بعد چند لڑکیاں بھی پلٹ کر اسے دیکھنے لگیں۔
“کیا کمال کی لڑکی ہے یار۔”
دوسری نے بھی مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
وہ کسی کی بات پر دھیان دیے بغیر سیدھی پری کے آفس کے سامنے جا رکی۔
بغیر دستک دیے اس نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔۔۔۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارا ڈرافٹ کسی دوسری کمپنی تک پہنچ گیا؟”
کمرے میں موجود سب لوگ پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
پری نے میز پر زور سے ہاتھ مارا۔
“میں پوچھ رہی ہوں تم سب سے، کس نے کیا یہ؟”
پری اپنے اسٹاف پر سخت غصہ ہو رہی تھی۔ اس کی آواز میں غصہ صاف جھلک رہا تھا۔ اینا چلتی ہوئی آرزو کے پاس گئی اور اس کے قریب رک کر پوچھا،
“کیا ہوا؟”
آرزو نے اسے آرام سے ساری بات بتائی تو اینا بھی اس کے ساتھ کھڑی ہو کر معاملہ دیکھنے لگی،۔۔
اس کی آواز پورے کمرے میں گونج گئی۔
“آج تک ہماری کمپنی سے ایک بھی چیز باہر نہیں گئی۔ پھر آج اچانک ہمارا ڈرافٹ کسی اور کمپنی کے پاس کیسے پہنچ گیا؟”
“میڈم، ہمیں نہیں معلوم…” ایک ملازم نے فوراً جواب دیا۔ “ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔”
“جی میڈم، ہمیں واقعی کچھ نہیں پتا۔”
پری غصے سے ایک ایک کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ کسی میں ہمت نہیں تھی کہ مزید کچھ کہہ سکے۔
“بہتر ہوگا کہ جس شخص نے یہ کیا ہے، وہ خود سامنے آ جائے۔”
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر سرد لہجے میں بولی۔
“اگر مجھے خود وہ شخص ڈھونڈنا پڑا، تو پھر مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔”
کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔
“آج آخری دن تھا۔ سب نے اپنے اپنے پروجیکٹ کے ڈرافٹس جمع کروانے تھے، لیکن ہماری ڈرافٹ ایک دوسری کمپنی ایچ ار کے ڈرافٹ کے ساتھ بالکل میچ کر رہا ہے۔”
پری کے لیے مسئلہ صرف ڈرافٹ کے باہر جانے کا نہیں تھا۔ آج اسے بھی اپنا ڈرافٹ جمع کروانا تھا، اور اب وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالا جائے۔
اینا اور آرزو بھی خاصی پریشان تھیں۔
آخرکار پری نے غصے میں سب کی طرف دیکھا۔
“جاؤ! سب یہاں سے۔”
سب خاموشی سے اپنی اپنی جگہ سے اٹھنے لگے۔
پری نے فوراً آرزو کی طرف دیکھا
فورا پتہ لگاؤ کہ یہ سب کس نے کیا ہے۔ ۔”
“میں کوشش کرتی ہوں۔”آرزو بھی خاموشی سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
جبکہ اینا سامنے والی کرسی پر خاموشی سے بیٹھی پری کو دیکھ رہی تھی، جو بے چینی کے عالم میں اس کے سامنے چکر پر چکر لگا رہی تھی۔ پری کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس معاملے کو لے کر کس قدر پریشان اور غصے میں تھی۔۔۔
اینا نے پری کو مسلسل چکر لگاتے دیکھا تو آخرکار بول پڑی۔
“پلیز، بیٹھ جاؤ۔”
پری نے اس کی بات سنی تو خاموشی سے آ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ پھر اس نے اینا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا:
“کیا ہوا؟”
اینا نے اپنی جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک کاغذ نکال کر پری کی طرف بڑھا دیا۔
“میں تمہارے پاس اسی لیے آئی تھی۔”
پری نے حیرت سے کاغذ اس کے ہاتھ سے لیا اور اسے کھول کر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
پری نے کاغذات ہاتھ میں لیے اور ایک ایک صفحہ غور سے دیکھنے لگی۔ چند لمحوں بعد اس کے چہرے پر مایوسی کے آثار نمایاں ہوئے۔
“پھر سے ناکامی…” وہ دھیمی آواز میں بولی۔
اینا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا، “تم آخر کب تک یہ سب کرتی رہو گی؟”
پری نے فوراً نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“کیا مطلب؟”
“میں نے پورے لاہور کے ڈاکٹروں کا معائنہ کر لیا ہے۔ جتنے بھی متعلقہ ڈاکٹرز تھے، سب کے ڈی این اے ٹیسٹ تک کروا چکی ہوں، لیکن ان میں سے کوئی بھی وہ شخص نہیں نکلا جسے تم ڈھونڈ رہی ہو۔ آخر یہ کب تک چلے گا؟”
پری چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی، پھر کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر گہری سانس لی۔
“جب تک وہ انسان ہمیں مل نہیں جاتا، ہماری کوشش جاری رہے گی۔”
اس کی آواز میں عجیب سا عزم تھا۔
“ایک نہ ایک دن وہ شخص ضرور ملے گا۔”
سامنے بیٹھی لڑکی نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
اسی وقت آفس کا دروازہ کھلا اور پری کی سیکریٹری، آرزو تیزی سے اندر داخل ہوئی۔۔۔۔
پری فوراً اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
“کچھ پتا چلا؟”
آرزو نے لیپ ٹاپ اس کی طرف کرتے ہوئے کہا۔
“ہاں۔ ڈرافٹ جس کمپیوٹر سے بھیجا گیا ہے، وہ ہماری نئی ورکر کے کمپیوٹر سے بھیجا گیا تھا۔”
پری کی آنکھوں میں غصہ مزید بڑھ گیا۔
“اسے بلاؤ۔ ابھی۔”
کچھ ہی دیر بعد دروازہ دوبارہ کھلا اور ایک نئی لڑکی گھبرائی ہوئی حالت میں اندر داخل ہوئی۔
“میڈم، آپ نے بلایا؟”
وہ لڑکی ابھی وہیں کھڑی تھی کہ پری نے لیپ ٹاپ کا رخ اس کی طرف موڑ دیا اور خود بھی اس کی جانب متوجہ ہو گئی۔
“یہ کیا ہے؟”
پری نے اسکرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا۔
لڑکی نے حیرت سے لیپ ٹاپ کی اسکرین کو دیکھا، پھر پری کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس کے چہرے پر بھی الجھن صاف نظر آ رہی تھی۔
“تم نے ایسا کیوں کیا؟”
وہ حیرت سے پری کو دیکھنے لگی۔
“جی؟”
پری نے سخت لہجے میں کہا۔
“وہ ڈرافٹ تمہارے کمپیوٹر سے بھیجا گیا ہے۔”
لڑکی کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
“نہیں میڈم! میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ پلیز، آپ میرا یقین کریں۔”
اس کی آواز میں گھبراہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی۔
“میں نئی ضرور ہوں، لیکن میں بے ایمان نہیں ہوں۔ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔”
پری اسے غصے سے گھورتی رہی۔
اینا بھی خاموشی سے اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے لہجے اور چہرے کے تاثرات دیکھ کر اینا کو کہیں نہ کہیں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید وہ سچ کہہ رہی ہے۔
اس نے پری کی طرف دیکھا۔
“پری، مجھے تھوڑا سا وقت دو۔ میں خود چیک کرتی ہوں کہ اصل میں ہوا کیا ہے۔”۔۔۔
پری نے اینا کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا:
“یہ کام میں تم پر چھوڑتی ہوں۔”
اینا نے خاموشی سے سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے۔”
وہ پری کی بات سمجھتے ہوئے فوراً پلٹی اور آفس سے باہر نکل گئی ساتھ میں اس لڑکی کو بھی لے گئی، ۔۔
جبکہ پری ایک بار پھر لیپ ٹاپ کی اسکرین کی طرف متوجہ ہو گئی۔۔
پری نے آرزو کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا:
“اور اس بارے میں افی کو کچھ مت بتانا۔ وہ پہلے ہی ایک کیس میں الجھی ہوئی ہے۔ اسے اس معاملے کے بارے میں ابھی کچھ نہیں پتا چلنا چاہیے۔”
آرزو نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
“جی۔۔وہ اپنا لیپ ٹاپ لے کر باہر چلی گئی۔۔
پری کو اب اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا تھا۔ اس نے دوبارہ اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد ایک ای میل ٹائپ کر کے بھیج دی۔
اب اسے صرف اس ای میل کے جواب کا انتظار تھا۔
وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر خاموشی اپنی انکھیں بند کر لی۔۔۔
*************************************
