Girdaab Episode 18 written by siddiqui

گرداب از قلم صدیقی

قسط نمبر ۱۸

سنان کی گولی چلتے ہی ریپر ایک لمحے کے لیے بھی وہاں نہیں رکا۔
گولی اُس کی ہتھیلی کو چیرتی ہوئی گزر گئی تھی، مگر درد کی پروا کیے بغیر وہ فوراً پلٹا اور پوری رفتار سے کمرے سے باہر بھاگ نکلا۔
سنان بھی ایک لمحے کی دیر کیے بغیر گن ہاتھ میں لیے اُس کے پیچھے لپکا۔
راہداری میں تیز قدموں کی آواز گونجنے لگی۔
ریپر اپنی زخمی ہتھیلی کو دوسرے ہاتھ سے دبائے آگے بڑھ رہا تھا۔
خون انگلیوں کے درمیان سے رس رہا تھا۔
اور اُس کے پیچھے… فرش پر ایک کے بعد ایک سرخ قطرے گرتے جا رہے تھے۔
سنان کی نظر اُن قطروں پر پڑی تو اُس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
وہ دوڑتے ہوئے پکارا،
ریپر!  مگر ریپر نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔
وہ بس بھاگتا رہا۔
اُس کی سانسیں تیز ہو چکی تھیں، قدم لڑکھڑا رہے تھے، مگر رکنے کا سوال ہی نہیں تھا۔
سنان نے دوڑتے دوڑتے گن دوبارہ سیدھی کی۔
اس بار اُس کا نشانہ ریپر کے پاؤں تھے۔
اور سنان نے بنا کِسی دیر کے گولی چلا دی۔۔
گولی فرش کو چیرتی ہوئی ریپر کے بالکل قریب سے گزری۔
ریپر ایک لمحے کو لڑکھڑایا۔
اُس کا قدم ڈگمگایا، مگر اُس نے فوراً خود کو سنبھالا اور مزید تیزی سے آگے بڑھ گیا۔
سنان نے دوبارہ گن اٹھائی۔
مگر تب تک ریپر بیرونی دروازے تک پہنچ چکا تھا۔
گیٹ کے باہر ایک گاڑی پہلے ہی اُس کے انتظار میں کھڑی تھی،
ریپر نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے گاڑی کا دروازہ کھولا، اندر جا بیٹھا اور دروازہ زور سے بند کر دیا۔
اگلے ہی لمحے گاڑی کے ٹائر چیختے ہوئے گھومے۔
گاڑی پوری رفتار سے وہاں سے نکل گئی۔
سنان بھی دوڑتا ہوا باہر آ گیا۔
مگر اب اُس کے سامنے صرف تیزی سے دور ہوتی گاڑی تھی۔
وہ چند لمحے وہیں کھڑا اُسے دیکھتا رہا۔
پھر اُس نے اپنی گن کی طرف دیکھا۔
اُس نے آہستہ سے سانس خارج کی اور زیرِلب بولا،
بچ گیا..

+++++++++++++

دادا اور ابا کی اونچی آوازیں اُس کے کمرے تک صاف آ رہی تھیں۔
امن بیڈ پر بیٹھا اپنی کاپی کھولے اسکول کا ہوم ورک کر رہا تھا۔
پنسل اُس کی انگلیوں کے درمیان رکی ہوئی تھی۔
وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا اُن آوازوں کو سنتا رہا۔
بحث کافی دیر سے چل رہی تھی۔
اور عجیب بات یہ تھی کہ ہر چند لمحوں بعد ایک ہی نام اُس کے کانوں سے ٹکرا رہا تھا۔
امن۔
وہ آخرکار ہوم ورک ایک طرف رکھ کر بیڈ سے نیچے اترا۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا وہ دادا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
جیسے ہی وہ دروازے کے قریب پہنچا، اندر سے ابا کی بلند آواز سنائی دی۔
مرتضیٰ صاحب غصے میں تھے۔
اور بحث کا موضوع… خود امن تھا۔
اُس نے دروازے کے باہر ہی قدم روک لیے۔
اندر افتخار صاحب کی گرج دار آواز گونجی۔
ہم بول دیے تو بول دیے۔ امن ہمارا پوتا ہے۔
اُس پر ہمارا فیصلہ چلے گا۔
مرتضیٰ صاحب نے فوراً جواب دیا۔
آپ جو بھی بول لیں، ابا…
لیکن میں اپنے بیٹے کو اس جہنم میں داخل نہیں ہونے دوں گا۔
افتخار صاحب کی آواز میں فخر صاف جھلک رہا تھا۔
تم نے دیکھا ہے اُسے؟ ابھی سے کتنا ذہین ہے۔ بالکل ہم پر گیا ہے۔ ہمارا پوتا ہے… ہمارا وارث۔
مرتضیٰ صاحب نے سخت لہجے میں کہا،
لیکن وہ آپ کے تخت کا وارث نہیں بنے گا۔
پھر افتخار صاحب کی آواز پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھری۔
وہ ہمارا پوتا ہے۔ اور یہ تخت اُس کا ہے۔ اور ہمارے بعد…
اسی تخت کا وارث بھی وہی بنے گا۔
مرتضیٰ صاحب کا ضبط ایک بار پھر جواب دے گیا۔
ابا… میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔
افتخار صاحب نے طنزیہ انداز میں ہنکارا بھرا۔
ایک تو تم نے ہمارے خلاف جا کر اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ اُس کے بعد اُس کی حالت دیکھو… صرف ایک وارث دیا ہمیں۔ اور اب وہ کسی کام کی نہیں رہی۔
یہ سنتے ہی مورتضیٰ صاحب کی آنکھوں میں غصہ بھڑک اٹھا۔
ابا…
وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئے۔۔۔
مگر افتخار صاحب نے بات جاری رکھی۔
اور اُس ایک وارث پر بھی تمہارا ہی حکم چلے گا؟
نہیں۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
مرتضیٰ صاحب نے دانت بھینچ کر کہا،
اپنی عورت کے خلاف ایک لفظ بھی میں نہیں سنوں گا۔
افتخار صاحب نے فوراً جواب دیا۔
ہم تمہاری عورت کو کچھ نہیں کہہ رہے۔ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بعد… امن اس وراثت کا مالک ہوگا۔
مرتضیٰ صاحب نے چند لمحے اُنہیں دیکھا۔
پھر نہایت دوٹوک لہجے میں بولے،
میں بھی دیکھتا ہوں… کیسے۔ جب تک میں زندہ ہوں، میں ہرگز ایسا نہیں ہونے دونگا۔۔۔
دروازے کے باہر کھڑا ننھا امن خاموشی سے سب کچھ سن رہا تھا۔
وہ عمر…
جس میں اُسے اپنے مستقبل کے بارے میں نہیں، بس اپنے کھلونوں کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔
جس عمر میں بچے اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر گھر میں دوڑتے ہیں، کھلونوں کے لیے ضد کرتے ہیں اور رات کو سونے سے پہلے اگلے دن کے کھیل کے منصوبے بناتے ہیں…
اُس عمر میں امن کے سامنے اُس کی وراثت کا فیصلہ ہو رہا تھا۔
تخت کی باتیں ہو رہی تھیں۔
اور اُسے…
اُس تخت کا وارث بنایا جا رہا تھا، جس کا مطلب بھی وہ نہیں جانتا تھا۔
امن نے اپنی چھوٹی سی مٹھی میں پنسل کو اور مضبوطی سے پکڑ لیا۔
اُسے ابھی واپس جا کر اپنا ہوم ورک مکمل کرنا تھا۔
مگر آج پہلی بار…
اُس کے نام کے ساتھ جڑا لفظ وارث اُسے عجیب سا لگا تھا۔

+++++++++++++

ریپر کی ہتھیلی سے خون کی سرخ بوندیں مسلسل رس رہی تھیں۔ گولی کا زخم گہرا تھا، مگر اس کے چہرے پر تکلیف یا بےچینی کا کوئی نشان نہیں تھا۔ وہ نہایت سکون سے بیٹھا اپنی زخمی ہتھیلی پر پٹی باندھ رہا تھا۔
کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
کیٹی نے بےیقینی سے ریپر کی طرف دیکھا۔ اُس کے چہرے پر تشویش کے آثار نمایاں تھے۔
آخر یہ لڑکا ہے کون؟ دوسری مرتبہ گولی چلائی ہے اُس نے آپ پر…
ریپر نے پٹی کو مضبوطی سے باندھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے نظریں اٹھائیں۔
امن کا کوئی بھائی ہے شاید…
کیٹی نے فوراً سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا۔
اِس کا کچھ کرنا پڑے گا…
ریپر خاموش رہا۔
گولی لگنے کے باوجود وہ اسی سکون سے بیٹھا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
کچھ لمحوں بعد اُس نے دھیمے لہجے میں کہا،
جو بھی ہے… گولی چلانے سے گھبراتا بھی نہیں ہے۔
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر پٹی کی گرہ مضبوط کرتے ہوئے بولا،
نہ مہلت دیتا ہے… جو بھی کچھ کرتا ہے، اچانک کرتا ہے۔
کیٹی نے بےچینی سے سانس خارج کی۔
مجھے کوئی عام انسان نہیں لگ رہا یہ…
مجھے بھی نہیں…
اُس نے نظریں جھکا کر اپنی زخمی ہتھیلی کو دیکھا، پھر قدرے پراسرار انداز میں بولا،
لیکن تم اُسے دیکھو گی تو تمہیں وہ عام سا ہی لگے گا۔
کیٹی کچھ لمحے خاموش رہی، پھر دوبارہ پوچھا،
کچھ کرنا ہے اِس کا؟
ریپر نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… فی الحال نہیں۔
اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا اطمینان تھا۔
دیکھیں گے اُسے… بعد میں۔
ریپر کچھ لمحے خاموش بیٹھا رہا۔ اُس کی نظریں اپنی زخمی ہتھیلی پر جمی تھیں، مگر ذہن میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔
اچانک اُس نے سر اٹھایا۔ اُس کی آنکھوں میں الجھن کی ہلکی سی جھلک نمایاں ہوئی۔
لیکن یسریٰ نے تو سب کو نیند کی گولی دی تھی، پھر یہ کیسے اُٹھ رہا ہے؟
کیٹی نے ایک لمحے کو سوچا، پھر قدرے محتاط لہجے میں بولی،
ہو سکتا ہے اُس نے رات کا کھانا نہیں کھایا ہو؟
ریپر کی نظریں فوراً کیٹی پر اٹھ گئیں۔
ہاں… وہ کھانا نہیں کھائے گا، اور یسریٰ کو پتا نہیں چلے گا، کیا؟
اُس کے لہجے میں اب تجسس نمایاں تھا۔
فون کرو اُسے اور پوچھو اُس سے…
کیٹی نے فوراً سر ہلایا۔
جی… میں پوچھتی ہوں۔
ریپر کچھ لمحے خاموش رہا۔ پھر اُس نے اپنی زخمی ہتھیلی پر بندھی پٹی کو دیکھا..
پہلی ملاقات میں بازو میں گولی ماری… اب ہتھیلی میں…
وہ چند لمحے رکا، پھر نظریں اٹھا کر کیٹی کی طرف دیکھا۔
اب اِس سے میں تیسری دفعہ ملا تو سیدھا سینے میں گولی مارے گا۔
کیٹی کے چہرے پر تشویش مزید گہری ہو گئی۔
تبھی تو میں بول رہی ہوں… کم سے کم پہلے ہی ختم کر دیں اِس کو۔
ریپر نے اُس کی بات پر کوئی فوری جواب نہیں دیا۔ اُس کی نظریں ایک بار پھر اپنی زخمی ہتھیلی پر جا ٹھہریں۔
پھر اُس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی، پراسرار مسکراہٹ ابھری۔
نہیں… اُس نے نہایت سکون سے کہا۔ ابھی نہیں۔

++++++++++++++

امن ابھی اپنے خواب میں ہی ڈوبا ہوا تھا کہ اچانک کسی نے اُس کے اوپر پانی پھینک دیا۔
وہ ایک جھٹکے سے چونک کر اٹھ بیٹھا۔
اُس کی سانس تیز ہو چکی تھی اور آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔
سامنے سنان پانی کا جگ لیے کھڑا تھا۔
امن نے بےاختیار اِدھر اُدھر دیکھا تو اُس کی نظر اپنے برابر بیٹھی امل پر پڑی۔
کیا ہوا۔۔؟؟
سنان نے جگ نیچے رکھتے ہوئے بےفکری سے کہا،
اب تو ہو کر ختم بھی ہو گیا…
امن نے الجھن سے اُس کی طرف دیکھا۔
ہوا کیا؟
امل فوراً امن کی طرف متوجہ ہوئی۔ اُس کی آنکھوں میں فکر صاف نظر آ رہی تھی۔
بھائی… آپ ٹھیک ہو؟ بہت پسینہ پسینہ ہو رہے ہیں۔
امن نے اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔
ہاں، میں ٹھیک ہوں…
سنان نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا،
ریپر آیا تھا۔
امن کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
کیا؟ کہاں؟
یہاں… گھر۔
امن فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
پکڑا تم نے اُسے؟
سنان نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں، بھاگ گیا… لیکن گولی مار دی میں نے اُسے۔
سنان اتنے آرام سے بتا رہا تھا جیسے گولی نہیں ماری اُسے بلکہ مٹھائی کھلائی ہو۔۔۔
امن نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
وہ گھر میں کیسے گھس سکتا ہے اتنے گارڈز کے ہونے کے باوجود؟
سنان نے گہری سانس لی۔
وہی تو… تم کہتے ہو نا گھر میں کوئی ریپر کا بندہ چھپا ہے؟
ہاں… امن نے بےچینی سے جواب دیا۔
سنان نے طنزیہ انداز میں کہا، تو بندہ نہیں… بندے چھپے ہیں، وہ بھی بہت سارے۔ گارڈز میں سے بھی… ملازمین میں سے بھی۔
امن کی پیشانی پر شکنیں نمودار ہو گئیں۔
ایسے کیسے؟ سارے ہمارے قابلِ اعتماد پرانے ملازم ہیں…
سنان نے کندھے اچکائے۔
خرید لیا ہوگا ریپر نے۔۔۔ پیسہ اچھے اچھے کو گمراہ کر دیتا ہے۔۔۔۔
پھر اُس نے سنجیدگی سے کہا،
اب میں لسٹ دے رہا ہوں۔ صبح ہوتے ہی سب کو نکال دو۔
امن نے حیرت سے گھڑکی کی طرف دیکھا۔
ابھی صبح نہیں ہوئی؟
سنان نے گھڑی پر ایک نظر ڈالی۔
نہیں ہونے والی ہے…
امن نے فوراً امل کی طرف دیکھا۔
امل… تم ٹھیک ہو؟
امل نے ہلکا سا مسکرا کر سر ہلایا۔
ہاں بھائی۔۔۔
امن پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا،
لیکن میں ایسے کیسے نہیں اٹھا؟ میری نیند تو بہت کچی ہے… میں اُٹھا کیسے نہیں؟
سنان نے فوراً جواب دیا،
کیونکہ کھانے میں نیند کی گولیاں ملائی گئی تھیں۔
امن نے چونک کر اُسے دیکھا۔
تو تم کیسے اُٹھے؟
سنان نے بڑے اطمینان سے جواب دیا،
کیونکہ مجھے سونا ہی نہیں تھا۔ کوئی بھی انسان سنان کو سنان کے مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں کروا سکتا۔۔۔
امن نے آنکھیں سکیڑ کر اُسے دیکھا۔
سنان؟
سنان فوراً صفائی پیش کرنے لگا۔
ارے… مجھے نہیں آئی نیند۔
امن نے حیرت سے پوچھا،
ایسے کیسے؟ تم نے بھی تو کھانا کھایا تھا…
امل نے فوراً بات میں حصہ لیا۔
اور بہت سارا کھایا تھا…
سنان نے فوراً امل کی طرف دیکھا۔
اَے لڑکی! تم میرے کھانے پر نظر رکھتی ہو؟
امل نے بےفکری سے جواب دیا،
ہاں… اور کولڈ ڈرنک پر بھی۔
سنان نے فوراً انگلی اٹھا کر اُسے خبردار کیا۔
کولڈ ڈرنک پہ مت جانا… ورنہ یہاں خون خرابا ہوجائے گا۔۔
امن نے دونوں کو گھورتے ہوئے کہا،
اِدھر میں جو پوچھ رہا ہوں، اُس کا جواب دو۔۔۔
سنان نے بےفکری سے کندھے اچکائے اور انتہائی لاپرواہی سے بولا،
میں نے کوئی کھانا وانا نہیں کھایا… تم لوگ ہی کھائے ہو درندوں کی طرح سارا کھانا۔
یہ کہتے ہوئے وہ ایسے اٹھا جیسے اُس نے کوئی خاص بات کہی ہی نہ ہو، اور بےفکری سے وہاں سے نکل گیا۔
امل نے اُس کے جاتے ہوئے وجود کو دیکھا، پھر حیرت سے امن کی طرف متوجہ ہوئی۔
پر بھائی… یہ ہمارے ساتھ ہی تو بیٹھے تھے؟
امن نے بھی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا۔
ہاں… وہی تو میں بھی سوچ رہا ہوں۔
اُس نے چند لمحے توقف کیا، پھر قدرے سوچتے ہوئے بولا،
کیا پتا کم کھایا ہو… ویسے بھی کولڈ ڈرنک زیادہ پیتا ہے کھاتا کم ہے، اس کی کولڈ ڈرنک پر تو مجھے بینڈ لگوانی ہی پڑے گی۔۔۔
امل نے فوراً بےیقینی سے اُسے دیکھا۔
ایسے کیسے؟
امن نے نرمی سے اُس کی طرف دیکھا۔
تم چھوڑو اُسے… تم پریشان مت ہو۔ میں اُسے ہینڈل کر لوں گا۔
پھر اُس کی نظریں امل کے چہرے پر جم گئیں۔
تم بتاؤ… ریپر نے کچھ کہا تو نہیں؟
امل نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… یہ میرے روم میں پہلے ہی آ گئے تھے۔۔۔

++++++++++++++

اگلی صبح مائرہ ظفر کے آفس میں داخل ہوئی۔ اُس کے ہاتھ میں ایک موٹی سی فائل تھی۔
وہ سیدھا ظفر کی میز کے سامنے گئی اور فائل اُس کے سامنے رکھ دی۔
کیس حل ہو گیا۔ مائرہ نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔
اب آپ اِس مجرم کو خود گرفتار کریں گے یا میں کر لوں؟
ظفر نے فائل پر ایک نظر ڈالی اور پرسکون لہجے میں جواب دیا۔
میں کر لوں گا۔
مائرہ کے چہرے پر اطمینان آیا۔
یہ آپ کے لیے اچھا ہوگا۔
اُس نے فائل کی طرف اشارہ کیا۔
اِس فائل میں سارے ثبوت ہیں۔ اب عدالت کے چکر کی ضرورت نہیں ہوگی۔ سیدھا اُسے گرفتار کریں گے۔
یہ کہتے ہوئے مائرہ وہاں سے چلی گئی۔
دروازہ بند ہوتے ہی ظفر نے فائل اٹھائی اور اپنے قریب کھڑے کانسٹیبل کی طرف بڑھا دی۔
پڑھو۔
کانسٹیبل نے فائل کھولی۔ چند صفحات پلٹنے کے بعد اُس کی نظریں نام پر رک گئیں اور وہ ایک دم گھبرا گیا۔
سر۔۔۔
ظفر نے اُسے دیکھا۔
کیا ہوا؟
کانسٹیبل نے دھیمی آواز میں کہا۔
یہ تو دوسری پارٹی کے اسسٹنٹ کا بیٹا ہے۔
ظفر نے فائل دوبارہ اپنی طرف کھینچ لی۔
سارے ثبوت تو بہت پکے پکے ہیں…
دوسرے کانسٹیبل نے بےیقینی سے پوچھا۔
اب کیا کریں گے، سر؟
ظفر نے چند لمحے سوچنے کے بعد فائل بند کر دی۔
کچھ نہیں۔ اُٹھا لو اس لڑکے کو۔۔۔
کانسٹیبل نے بےیقینی سے ظفر کی طرف دیکھا۔۔۔
لیکن۔۔۔سر۔۔۔
اُس نے بےفکری سے کہا۔
دو دنوں تک اسے جیل میں رکھو، پھر اس کا ابّا آئے گا، پھر اُس کے ابّا سے ملتے ہیں۔ اُن سے بیس لاکھ لیتے ہیں۔
کانسٹیبل خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
ظفر نے بات مکمل کی۔
اُس میں سے دس لاکھ اِس غریب فیملی کو دے دیں گے، باقی سارے اپنے۔
کانسٹیبل نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔
اور سر، اگر انہوں نے پوچھا تو؟
ظفر کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
بول دیں گے… ڈیل ہو گئی دونوں فیملیز کی آپس میں۔
ظفر نے فائل بند کر کے میز کے دراز میں رکھ دی۔
باہر مائرہ کو ابھی تک یہی یقین تھا کہ کیس قانون کے مطابق اپنے انجام تک پہنچے گا۔ اندر، ایک اور ہی سودا طے ہو چکا تھا۔

+++++++++++++

مائرہ اپنے کام میں پوری طرح مصروف تھی۔ میز پر فائلیں پھیلی ہوئی تھیں اور وہ ایک ایک کاغذ کو غور سے دیکھتے ہوئے ضروری نکات نوٹ کر رہی تھی کہ اچانک رشید صاحب اس کے سامنے آ کر رک گئے۔
مائرہ نے فائل سے نظریں اٹھائیں۔
رشید صاحب کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
چلو۔۔۔ آج تمہیں میں ایک خوشی دیتا ہوں۔
مائرہ نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
کیا؟
رشید صاحب نے اطمینان سے کہا
امن صاحبِ کے گھر جا رہا ہوں میں۔
مائرہ کے ہاتھ میں پکڑا ہوا قلم وہیں رک گیا۔
کیا؟
رشید صاحب نے اس کی حیرت دیکھ کر مسکرا دیا۔
چلو گی؟
مائرہ نے ایک لمحے کے لیے جیسے یقین ہی نہ کیا ہو۔
میں۔۔۔ جا سکتی ہوں؟
رشید صاحب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
مائرہ اگلے ہی لمحے اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
چلیں پھر۔۔۔
اس کی آواز میں چھپی خوشی رشید صاحب سے بھی نہ چھپ سکی۔
وہ فائلیں سمیٹنے لگی تو رشید صاحب نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
اتنی جلدی بھی کیا ہے؟
مائرہ نے ایک لمحے کو انہیں دیکھا، پھر نظریں چرا کر فائل ہاتھ میں لے لی۔
بس۔۔۔ کام تو ویسے بھی ہو گیا ہے۔
لیکن کیوں؟؟ بُلایا۔۔۔؟؟
رشید صاحب مسکرا دیے۔
کچھ دیر پہلے ہی فون آیا تھا کہ امن نے اپنے گھر کے چند ملازمین اور گارڈز کو گرفتار کروانے کا حکم دیا ہے۔
ڈی ایس پی صاحب خود جانے سے رہے۔۔۔ اس لیے ہمیں جانا پڑے گا۔
مائرہ نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
اچھا۔۔۔ تو پھر دیر کس بات کی؟
رشید صاحب نے فائل اٹھائی اور دروازے کی طرف چل پڑے۔
مائرہ بھی تقریباً فوراً ان کے پیچھے ہو لی۔
اس کے چہرے پر وہ خوشی تھی جو فائلوں، کیسوں اور مسلسل کام کے بیچ کہیں چھپ گئی تھی۔
آج اسے دوبارہ امن کے گھر جانے کا موقع مل رہا تھا۔۔
اس سے بڑی خوشی کی اور کیا ہی بات تھی۔۔۔

+++++++++++

اگلی صبح امن نے سنان کی دی ہوئی فہرست ایک بار پھر اپنے سامنے پھیلا رکھی تھی۔ رات بھر کی باتیں ابھی تک اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔ اگر واقعی ریپر نے گھر کے اندر اپنے آدمی بٹھا رکھے تھے، تو ان میں سے کسی نہ کسی کو ریپر کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور معلوم ہوگا۔
اس نے فہرست اٹھائی اور سیدھا پولیس کو فون کر دیا۔
کچھ ہی دیر میں گھر کے باہر پولیس کی گاڑیاں آ کر رک گئیں۔
امن نے سنان کی فہرست پولیس افسر کے حوالے کی اور ایک ایک نام کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا
ان سب کو حراست میں لے لیں۔ یہ لوگ کافی عرصے سے ہمارے گھر میں بطور گارڈ اور ملازم کام کر رہے ہیں، لیکن اب ہمارے پاس وجہ ہے یہ سمجھنے کی کہ ان میں سے کچھ ریپر کے لیے کام کر رہے تھے۔
پولیس اہلکار نے فہرست پر نظر دوڑائی اور پھر گھر کے اندر موجود گارڈز کی طرف دیکھا۔
امن کی آواز پہلے سے زیادہ سخت تھی۔
مجھے ان سب سے پوچھ گچھ چاہیے۔ خاص طور پر ریپر کے بارے میں۔ وہ کہاں آتا جاتا تھا، کس سے رابطے میں تھا، گھر کے اندر کس کو استعمال کرتا تھا… جو کچھ بھی انہیں معلوم ہے، سب سامنے آنا چاہیے۔
ایک ایک کر کے گارڈز اور مشکوک ملازمین کو باہر لایا جانے لگا۔
کچھ کے چہروں پر خوف تھا، کچھ مسلسل صفائیاں پیش کر رہے تھے، جبکہ چند ایسے تھے جو خاموش کھڑے تھے جیسے انہیں پہلے ہی اندازہ ہو گیا ہو کہ اب بات صرف نوکری ختم ہونے تک نہیں رہے گی۔
امن دور کھڑا سب کو دیکھتا رہا۔ جبکہ دوسری جانب انیسہ بیگم، افتخار صاحب، امل، یسریٰ، زرقان اور سنان خاموشی سے کھڑے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے۔
انیسہ بیگم کی نظریں بار بار ان چہروں پر جا ٹھہرتی تھیں جنہیں وہ برسوں سے اس گھر کا حصہ سمجھتی آئی تھیں۔
جیسے ہی ایک بہت پرانا ملازم پولیس کے ہاتھ لگا، انیسہ بیگم سے رہا نہ گیا۔ وہ تڑپ کر آگے بڑھیں۔
ایسا نہیں ہو سکتا امن۔۔۔ یہ لوگ تو برسوں سے ہمارے ساتھ ہیں۔ انہیں پولیس کے حوالے کیوں کر رہے ہو؟ ایسے ہی گھر سے نکال دو انہیں۔۔۔ نوکری سے فارغ کر دو، لیکن یوں مت لے جانے دو۔
امن نے پلٹ کر انیسہ بیگم کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر کوئی نرمی نہیں تھی۔
نہیں دادی۔۔۔ ہرگز نہیں۔
اس نے ایک نظر پولیس کی تحویل میں کھڑے ملازمین پر ڈالی اور پھر انیسہ بیگم کی طرف دیکھا۔
دیکھیں انہیں۔۔۔ جس گھر کا نمک کھایا، اسی سے بغاوت کی ہے۔ اچھی بھلی ان کی نوکری تھی، حلال کما رہے تھے۔۔۔ لیکن انہوں نے حلال چھوڑ کر حرام چنا ہے۔
اس کی آواز میں سختی تھی
امن نے قدرے توقف کے بعد کہا
میرے دل میں ان کے لیے کوئی رحم نہیں ہے۔ جو کچھ انہوں نے کیا ہے، اس کے بعد صرف اس لیے نہیں چھوڑ سکتا کہ یہ لوگ ہمارے پرانے ملازم ہیں۔
انیسہ بیگم نے بے بسی سے ان لوگوں کو دیکھا۔
مگر۔۔۔ شاید کسی مجبوری میں کیا ہو انہوں نے۔ آخر برسوں سے جانتی ہوں میں ان سب کو۔
امن نے فوراً جواب نہیں دیا۔
اس کی نگاہ ایک ایسے گارڈ پر جا ٹھہری جو نظریں جھکائے کھڑا تھا۔
اگر مجبوری تھی تو ہمیں بتاتے دادی۔۔۔ ریپر کے لیے کام کرنے کی کیا مجبوری تھی؟
امن کی بات سن یسریٰ کا دل بری طرح لرز گیا۔
رات وہ امن کے کمرے میں موجود تھی، اسی لیے اس کی حقیقت ابھی پردے میں تھی۔۔۔ مگر آخر کب تک؟
ایک نہ ایک دن سچ سامنے آنا ہی تھا۔
اور پھر؟
پھر امن کی آنکھوں میں اپنے لیے کیا دیکھے گی وہ؟
نفرت۔۔۔؟
یا وہ سوال، جس کا جواب دیتے ہوئے شاید اس کی اپنی آواز بھی اس کا ساتھ نہ دے؟
یسریٰ نے بے اختیار نظریں جھکا لیں۔
اسے اچانک محسوس ہوا جیسے پولیس جن لوگوں کو آج لے کر جا رہی تھی، ان کے ساتھ ساتھ اس کا اپنا راز بھی اس گھر سے باہر جا رہا ہو۔
بس فرق اتنا تھا کہ انہیں ہتھکڑیاں لگی تھیں۔۔۔ اور وہ ابھی تک آزاد کھڑی تھی۔
لیکن وہ جانتی تھی، یہ آزادی ہمیشہ کی نہیں۔
جس دن امن کو معلوم ہو گیا کہ ریپر کے بارے میں کچھ باتیں وہ بھی جانتی تھی۔۔۔ اُس دن شاید کوئی صفائی، کوئی مجبوری، کوئی بہانہ اسے امن کی نظروں میں بےقصور ثابت نہ کر سکے۔
اور سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ یسریٰ کو ڈر ریپر سے نہیں لگ رہا تھا۔
اسے ڈر امن کے اُس چہرے سے لگ رہا تھا۔۔۔ جو سچ سامنے آنے کے بعد شاید کبھی اس کے لیے دوبارہ نرم نہ ہو۔
انیسہ بیگم کی آواز میں بے بسی تھی۔
امن صرف گھر سے نکل دے نہ انہیں۔۔۔ ایسے پولیس کے حوالے مت کر۔۔۔ میری بات تو سن لے۔۔۔
امن چند لمحے خاموش رہا۔
پھر اس نے انیسہ بیگم کی طرف دیکھا۔
نہیں دادی۔۔۔ ان پر میں نے بھروسہ کیا تھا۔
انیسہ بیگم کی منت بھری باتیں سن کر بھی امن کے لہجے میں کوئی نرمی نہ آئی۔ اس نے دوٹوک انداز میں انیسہ بیگم کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔
برسوں تک یہ لوگ ہمارے گھر کی حفاظت کرتے رہے۔۔۔ ہمارے دروازوں پر کھڑے رہے، ہمارے رازوں کے امین رہے۔
اور بدلے میں ہم نے بھی ان پر اعتبار کیا۔
لیکن انہوں نے کیا کیا؟
ہمارے بھروسے کو ہی بیچ ڈالا۔۔۔ اور اسی دروازے سے ہمارے دشمن کو اندر آنے دیا جس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم نے انہیں سونپی تھی۔
ایسے لوگوں کے لیے میرے دل میں رحم نہیں ہے دادی۔۔۔
امن دوٹوک انکار پر انیسہ بیگم اب خاموش ہوگئی۔۔۔
ارحم کی نظر اچانک مائرہ پر پڑی تو اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا اس کے قریب آیا اور عین اس کے سامنے رک گیا۔
کبھی پولیس آفیسر۔۔۔ کبھی گارڈ۔۔۔ امن سر کے لیے اور کیا کیا بننے کا ارادہ رکھتی ہیں آپ؟
مائرہ نے ایک نظر اسے دیکھا، پھر بے نیازی سے بولی۔
بہت کچھ۔۔۔ تمہیں ابھی اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہے۔
ارحم کے چہرے کی مسکراہٹ ذرا مدھم پڑ گئی۔ اس نے چند لمحے مائرہ کو دیکھا، پھر قدرے سنجیدہ لہجے میں بولا۔
انسان کو کسی انسان کے پیچھے اس طرح بھی نہیں پڑ جانا چاہیے۔۔۔ کہ آخرکار وہ یہ بھول جائے کہ خود کیا ہے۔
مائرہ کے ماتھے پر ہلکی سی شکن ابھری۔
مطلب؟
ارحم نے نظریں اس کے چہرے سے ہٹائیں اور دھیمی آواز میں بولا۔
مطلب یہ کہ کسی کے لیے فکر کرنا اچھی بات ہے۔۔۔ مگر اتنا بھی نہیں کہ ایک دن آئینے میں اپنا چہرہ دیکھو تو خود سے ہی اجنبی لگنے لگو۔
مائرہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔
ارحم ہلکا سا مسکرایا۔
بس۔۔۔ اتنا ہی کہہ رہا ہوں۔ باقی مطلب آپ خود مجھ سے بہتر سمجھ سکتی ہیں۔
مائرہ نے ارحم کی بات سنتے ہی بے اختیار امن کی طرف دیکھا۔
امن رشید صاحب سے بات کر رہا تھا۔ چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی تھی، جیسے اردگرد کی دنیا میں اس وقت اس کے لیے کوئی اور چیز اہم ہی نہ ہو۔
مائرہ چند لمحے وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی۔
شاید۔۔۔ وہ ایک بار اسے دیکھ لے۔
شاید نظریں اٹھیں اور اچانک اس سے جا ملیں۔
شاید پوچھ لے کہ تم یہاں کیسے؟
اور اگر کچھ نہیں تو۔۔۔ شاید صرف ایک نظر ہی ڈال دے۔
مگر امن نے مائرہ کی طرف دیکھا تک نہیں۔
وہ مسلسل رشید صاحب سے بات کرتا رہا، پھر فائل ان کے ہاتھ میں تھمائی اور کسی دوسرے کام کے لیے اندر چلا گیا۔۔
بس اتنا ہی۔
مائرہ کی آنکھوں میں آئی وہ ہلکی سی چمک آہستہ آہستہ بجھ گئی۔
اس نے نظریں جھکا لیں۔
وہ اتنی دور سے صرف اسے دیکھنے کی خواہش لیے آئی تھی۔۔۔ اور اسے شاید یہ بھی معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ یہاں کھڑی ہے۔
مائرہ نے بے اختیار اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو دیکھا اور ایک گہری سانس لے کر خود کو سنبھالا۔
کیا عجیب بات تھی۔۔۔
جس شخص کی ایک نظر بھر کر دیکھ لینے سے اس کا پورا دن اچھا ہو جاتا تھا۔۔۔ آج وہی شخص اس کی موجودگی سے بےخبر تھا۔
اور شاید سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی نہیں تھی کہ امن نے اسے دیکھا نہیں تھا۔۔۔
تکلیف تو اس بات کی تھی کہ مائرہ کو پہلی بار شدت سے محسوس ہوا تھا کہ شاید اس کے لیے امن کی دنیا میں اس کی کوئی جگہ ہی نہیں تھی۔
مائرہ وہیں سے خاموشی کے ساتھ واپس مڑ گئی۔
جب وہ پولیس اسٹیشن پہنچی تو اندر داخل ہوتے ہی اس کی نظر ظفر پر پڑی، جو رشید صاحب کے عین سامنے کھڑا تھا۔
ظفر کے چہرے پر ہمیشہ والی وہی سختی اور غصہ تھا۔ جب بھی اس کے خلاف کچھ ہوتا، اس کے لہجے میں وہی بےرحم سختی اتر آتی تھی۔۔۔
میں آپ کو آپ کی پوزیشن سے ہٹا دوں گا، رشید صاحب۔
رشید صاحب نے چونک کر اسے دیکھا۔
کیوں؟ کیا ہوا سر؟
ظفر کی نظر فوراً مائرہ کی طرف گئی۔
اسے ساتھ کیوں لے کر گئے تھے آپ؟ میں نے آپ کو اکیلے جانے کا کہا تھا نا؟
رشید صاحب نے قدرے بےبسی سے جواب دیا۔
یہ خود جانا چاہتی تھی۔
مائرہ خاموشی سے ان دونوں کے پاس سے گزر گئی۔ اس وقت اسے کسی بحث میں نہیں پڑنا تھا۔ دل ویسے ہی بوجھل تھا، اس لیے اب کسی بحث یا سوال جواب میں پڑنے کا دل نہیں تھا۔
ظفر کی نظریں اس کے پیچھے اٹھ گئیں۔
کیا ہوا اسے؟
رشید صاحب نے کندھے اچکائے۔
پتا نہیں۔
ظفر نے ایک لمحے کو سوچا، پھر پوچھا۔
امن نے کچھ کہا؟
نہیں۔۔۔ امن سے تو اس کی بات ہی نہیں ہوئی۔
اچھا۔۔۔ ہوا۔ ظفر فوراً مائرہ کے پیچھے ہو لیا۔ کون سا غصّہ کیسا غصّہ سب ہوا ہوگیا تھا،
کیا ہوا؟
مائرہ نے چلتے چلتے ہی جواب دیا۔
کچھ نہیں۔
ظفر اس کے برابر آ گیا۔
آپ ایسے اداس بالکل اچھی نہیں لگتیں۔
مائرہ نے رک کر اسے دیکھا۔
آپ کو کیسے پتا کہ میں اداس ہوں؟
ظفر کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
ایسا تو کبھی ممکن ہی نہیں ہوا نا۔ کہ آفیسر ظفر چیخے اور آفیسر مائرہ خاموشی سے وہاں سے نکل جائے۔۔۔
مائرہ نے اسے گھورا۔
کتے پہ بھونکتے بھونکتے بندہ ایک دن تھک بھی جاتا ہے۔
ظفر نے خود کو کتا کہے جانے کو مکمل نظر انداز کر دیا۔ جیسے یہ جملہ اس کے لیے قابلِ توجہ ہی نہ ہو۔
بس مائرہ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے قدرے نرم لہجے میں بولا۔
تو تھک گئی ہو تم؟ وہ ذرا سا جھکا۔
آرام کی ضرورت ہے؟
مائرہ نے بےدلی سے سر ہلا دیا۔
ہممم۔۔۔
ظفر نے فوراً کہا۔ تو گھر چلی جاؤ پھر۔
مائرہ نے گھور کر اُسے دیکھا میں ڈیوٹی پر ہوں۔
ظفر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
تم آرام سے اپنی مرضیاں کرو۔۔۔ ڈیوٹی اور کیریئر کی فکر مجھ پر چھوڑ دو۔
مائرہ نے اسے دیکھا۔
ظفر کے لہجے میں پہلی بار حکم سے زیادہ اپنائیت تھی۔
مجھے نہیں جانا کہیں۔۔۔ آپ جا کر اپنا کام کریں۔
یہ کہہ کر وہ ظفر کو مزید کوئی موقع دیے بغیر اپنے روم کے اندر چلی گئی۔
ظفر چند لمحے وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ پھر بے اختیار اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
ابھی اتنی بھی حالت خراب نہیں ہوئی اسکی۔۔۔
وہ سر ہلاتا ہوا واپس مڑ گیا، مگر اس کے چہرے سے وہ ہلکی سی مسکراہٹ کافی دیر تک نہیں گئی۔

+++++++++++++

وہ کھڑکی کے پاس کھڑا باہر اندھیرے میں دیکھ رہا تھا۔
ریپر۔۔۔
وہ نام ایک بار پھر اس کے ذہن میں گونجا۔
گھر کے اندر گھسنا۔۔۔ اس کے لوگوں کو استعمال کرنا۔۔۔ اس کے گھر کے رازوں تک پہنچنا۔۔۔
امن کے چہرے پر کوئی غصہ نظر نہیں آ رہا تھا۔
مگر اس کی آنکھیں کچھ اور کہہ رہی تھیں۔
اس نے میز پر پڑی فائل اٹھائی اور آہستہ سے کھولی۔
اندر کچھ نام، کچھ پتے اور چند تصویریں موجود تھیں۔
وہ لوگ جن کے بارے میں ریپر کو شاید یہ یقین تھا کہ امن ابھی ان تک نہیں پہنچ سکتا۔
امن نے ایک ایک صفحہ دیکھا۔ پھر فائل بند کر دی۔
فون اٹھایا اور صرف ایک نمبر ملایا۔
دوسری طرف سے آواز آئی۔
جی، امن بھائی؟
امن چند لمحے خاموش رہا۔
جو جگہیں میں بتا رہا ہوں۔۔۔ وہاں آج رات سے کوئی شور نہیں ہونا چاہیے۔
صرف پیغام جانا چاہیے۔
سمجھ گئے؟
جی۔
امن نے فون بند کر دیا۔
اس کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں خاموشی سے حرکت شروع ہو گئی۔
ریپر کے وہ ٹھکانے جنہیں وہ محفوظ سمجھتا تھا۔۔۔ ایک ایک کرکے نشانے پر آ گئے۔
کہیں اس کے رابطے کا راستہ بند ہوا۔
کہیں اس کے آدمیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
کہیں اس کا جمع کیا ہوا سامان غائب ہو گیا۔
مگر ان سب کارروائیوں کے پیچھے نہ سنان تھا، نہ زرقان۔
امن کے پاس ایک اور ٹیم تھی۔۔۔
ایک ایسی ٹیم جس کے بارے میں گھر میں تقریباً کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔
نہ انیسہ بیگم کو۔۔۔ نہ امل کو۔۔۔ نہ یسریٰ کو۔۔۔ اور شاید نہ ہی ان لوگوں کو جو برسوں سے امن کے قریب رہتے آئے تھے۔
لوگوں کو ہمیشہ یہی لگتا رہا تھا کہ امن کی طاقت سنان، زرقان اور اس کے چند بااعتماد لوگوں تک محدود ہے۔
مگر حقیقت اس سے کہیں مختلف تھی۔
امن نے یہ ٹیم برسوں پہلے خاموشی سے تیار کی تھی۔
ایسے لوگ جو اس کے سامنے نام کے ساتھ نہیں آتے تھے۔۔۔ صرف کام کے ساتھ آتے تھے۔
ان کا کوئی تعلق اس کے گھر سے نظر نہیں آتا تھا۔
نہ وہ اس کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے تھے۔۔۔ نہ اس کے نام کا سہارا لیتے تھے۔
لیکن امن کا ایک اشارہ کافی تھا۔
اور آج۔۔۔۔ وہ اشارہ جا چکا تھا۔
سنان اور زرقان کو بھی صرف اتنا معلوم تھا کہ امن کے پاس کچھ لوگ اور ہیں۔۔۔ مگر کتنے، کہاں اور کون۔۔۔ یہ راز خود امن نے اپنے تک رکھا ہوا تھا۔
ریپر نے ابھی امن کی طاقت کا صرف وہ حصہ دیکھا تھا۔۔۔ جسے امن نے خود اسے دکھایا تھا۔

+++++++++++++

امن نے کال اٹھا لی۔
ہاں؟
دوسری جانب نہات کی جھنجھلائی ہوئی آواز سنائی دی۔
بھائی۔۔۔ اُس لڑکی کا کچھ کرو۔ مجھے اب اسے دیکھ دیکھ کر غصہ آنے لگا ہے۔
امن نے سنجیدگی سے کہا  اب کیا مسئلہ ہو گیا تمہیں اس سے؟ کچھ دن برداشت نہیں کر سکتے اسے؟
نہات نے فوراً جواب دیا۔ نہیں۔۔۔ اب اور نہیں۔ بہت بدتمیز لڑکی ہے وہ۔ میرے منہ پر مجھے ہی دھمکیاں دیتی ہے۔
امن نے بے نیازی سے کہا۔ تو دینے دو۔
پھر نہات نے بےیقینی سے کہا۔ بھائی۔۔۔؟
امن ہلکا سا مسکرایا۔ اچھا بتاؤ، میں کیا کروں؟
نہات نے جھنجھلا کر کہا۔ مجھے نہیں پتا۔۔۔ بس میں اب اس کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔ میرے منہ پر کہتی ہے کہ وہ تمہیں جان سے مار دے گی۔ بتاؤ۔۔۔ کیا یہ بھی برداشت کروں؟
امن بے اختیار ہلکا سا ہنس دیا۔
نہات فوراً بول اٹھا۔ تم ہنس رہے ہو؟
امن نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔ عجیب۔۔۔ تمہیں مرنا ہےکیا اُس کے ہاتھوں؟
امن کا لہجہ قدرے سنجیدہ ہوا۔
اچھا۔۔۔ تمہیں اصل غصہ اس بات پر آ رہا ہے نا کہ اُس نے مجھ پر گولی چلائی؟
ہاں۔
اگر اُس نے ایک بار گولی چلائی ہے۔۔۔ تو دوبارہ بھی چلا سکتی ہے؟
نہات نے فوراً کہا۔ ہاں۔
امن چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا۔ پھر اسے ٹیسٹ کر لیتے ہیں۔
نہات چونکا۔ کیا؟
امن کی آواز میں عجیب سا اطمینان تھا۔
پہلے کسی طرح اُس کے کان تک یہ خبر پہنچائیں گے کہ گھر کے ایک حصے میں گن رکھی ہے۔
پھر ایک رات تم جان بوجھ کر  دروازہ لاک کرنا بھول جانا۔
نہات نے بےیقینی سے پوچھا۔
تو گن اُس کے ہاتھ لگ جائے گی۔
اور پھر؟
پھر میں اُس کے سامنے آ جاؤں گا۔۔۔ دیکھتے ہیں وہ کیا کرتی ہے۔
دوسری طرف اچانک نہات کی آواز بلند ہوئی۔
بھائی، تُم پاگل ہو؟ مرنا ہے تو سیدھا بول دو۔۔۔ میں خود مار دیتا ہوں تمہیں۔۔۔۔
امن ہنس پڑا۔
بےوقوف۔۔۔ جیسے ہی وہ گن لوڈ کرے گی، میں ہٹ جاؤں گا۔ اتنا بھی شوق نہیں مجھے مرنے کا۔
اچھا۔۔۔
تو آزما لیں گے۔
نہات کچھ دیر خاموش رہا، پھر تشویش سے بولا۔
اور اگر اُس نے سچ میں گولی چلا دی تو؟
امن کا لہجہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔
تو تمہاری بات مان لوں گا۔
نہات نے فوراََ کہا پولیس کے حوالے کر دو گے اسے؟
ہرگز نہیں۔
تو پھر؟
کہیں اور منتقل کر دوں گا۔
نہات نے بےبسی سے سانس چھوڑی۔
عجیب ہو بھائی۔۔۔ مرتے رہو اُس لڑکی کو لے کر۔
امن کے ہونٹوں پر پھر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اور اگر اُس نے گولی نہیں چلائی تو۔۔۔ تو وہ یہیں رہے گی۔
کچھ لمحے خاموشی رہی۔
پھر نہات نے کہا۔
ٹھیک ہے۔۔۔ مجھے یقین ہے اُس نے ہی گولی چلائی تھی۔
امن نے پرسکون لہجے میں کہا۔
ٹھیک ہے۔۔۔ دیکھ لیتے ہیں۔
کال ختم ہو گئی۔
امن نے فون آہستہ سے نیچے کیا۔
اس کے چہرے پر اب بھی وہی عجیب سا سکون تھا۔
اس کے چہرے پر ذرا سا بھی اندیشہ نہیں تھا۔۔۔ جیسے اسے اس بات کا خیال ہی نہ آیا ہو کہ سامنے والی لڑکی واقعی گولی چلا سکتی ہے۔

++++++++++++++

رات کافی گزر چکی تھی۔ ارحا اپنے کمرے میں خاموش بیٹھی تھی کہ دروازہ کھلا اور اس بار نہات کے بجائے ایک گارڈ اندر داخل ہوا۔
ارحا نے فوراً چونک کر اسے دیکھا۔
وہ لَڑکا کہاں گیا؟
گارڈ نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہ ہو۔ خاموشی سے کھانا میز پر رکھا اور پلٹے بغیر کمرے سے باہر نکل گیا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تو ارحا کے ماتھے پر بل پڑے۔
وہ چند لمحے وہیں بیٹھی رہی، پھر جیسے ہی باہر سے مدھم آوازیں سنائی دیں، فوراً اٹھ کر دروازے کے قریب گئی اور کان دروازے سے لگا دیے۔
باہر گارڈ کی آواز آئی۔
دروازے کی چابیاں کہاں ہیں؟
دوسرے گارڈ نے قدرے بےفکری سے جواب دیا۔
پتا نہیں۔۔۔ سر کے پاس ہوں گی۔
پہلے گارڈ نے جھنجھلا کر کہا۔
ابے، سر سے لینی چاہیے تھی نا چابی۔
دوسرے گارڈ نے بےبسی سے سانس چھوڑی۔
اب تو ہو گئی غلطی۔۔۔ کیا کریں؟
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر پہلے گارڈ کی آواز دوبارہ سنائی دی۔
چھوڑو۔۔۔ کھلا رہنے دو۔ اس لڑکی کو کیا پتا کہ دروازہ لاک نہیں ہے۔
ارحا کی آنکھیں ذرا سی سکڑ گئیں۔
دوسرے گارڈ نے دھیمی آواز میں کہا۔
لیکن سر کے روم کے دراز میں گن رکھی ہے۔۔۔
پہلا گارڈ غصے سے بولا
ہاں تو؟ میں نے کہا نا۔۔۔ اس لڑکی کو کیسے معلوم ہوگا؟
اب چلو یہاں سے۔
قدموں کی آواز آہستہ آہستہ دور ہوتی چلی گئی۔
دروازے کے ساتھ کھڑی ارحا بالکل ساکت رہ گئی۔
اس کے ذہن میں صرف ایک ہی جملہ گونج رہا تھا۔
سر کے روم کے دراز میں گن رکھی ہے۔۔۔

+++++++++++++++

صبح کے وقت یونیورسٹی کا لان ہمیشہ کی طرح طلبہ کی آوازوں سے بھرا ہوا تھا۔ امل اپنی دوست ہنزہ کے ساتھ گارڈن میں بیٹھی تھی۔ دونوں اپنے نوٹس میں مصروف تھیں کہ ایک لڑکی اچانک ان کے قریب آ کر رک گئی۔
اس نے امل کی طرف ایک کاپی بڑھائی۔
یہ لو۔۔۔ تمہاری کاپی۔
امل نے حیرت سے کاپی تھامی۔
میری کاپی؟
لڑکی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پلٹی اور وہاں سے چلی گئی۔
ہنزہ نے فوراً امل کو دیکھا۔
یہ تم کس کس کو کاپیاں دیتی رہتی ہو اپنی؟
امل نے کاپی کو غور سے دیکھتے ہوئے الجھن سے کہا۔
یار، پتا نہیں۔۔۔ مجھے یاد نہیں۔ میں نے تو کسی کو اپنی کاپی نہیں دی۔
ہنزہ نے بےفکری سے کندھے اچکائے۔
چٹھی سے پہلے دے دی ہوگی کسی کو۔۔۔ اور اب خود ہی بھول گئی ہو گی۔ تمہاری ہی تو کاپی ہے۔
امل نے کاپی کو الٹا پلٹا کر دیکھا۔ وہ واقعی اسی کی تھی۔
اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کاپی کھولی۔
ہنزہ نے بھی ایک نظر کاپی کی طرف ڈالی۔ وہ واقعی امل ہی کی کاپی لگ رہی تھی، اس لیے اسے کوئی خاص بات محسوس نہ ہوئی۔ وہ کندھے اچکا کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی،
امل نے پہلے چند صفحات پلٹے۔۔۔ پھر اچانک اس کی انگلیاں ایک جگہ رک گئیں۔
صفحات کے درمیان ایک تہہ کیا ہوا سفید کاغذ رکھا تھا۔
امل کی بھنویں سکڑ گئیں۔
یہ۔۔۔؟
اس نے آہستہ سے کاغذ نکالا۔
اردگرد نظر دوڑائی۔
ہنزہ اپنے نوٹس میں مصروف تھی، جبکہ کچھ فاصلے پر طلبہ آ جا رہے تھے۔
دوسری طرف کچھ فاصلے پر کھڑی تانیہ، جو امل کی حفاظت پر مامور تھی، خاموشی سے اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی۔
امل نے خط کو دیکھا۔۔۔
اگلے ہی لمحے اس کی سانس جیسے وہیں رک گئی۔
خط کے کونے میں سرخ خون سے صرف ایک حرف لکھا تھا۔
R
امل کی انگلیاں وہیں رک گئیں۔
اس ایک حرف کو دیکھتے ہی اس کے ذہن میں صرف ایک نام آیا۔۔۔
ریپر۔
اس نے بے اختیار ایک نظر اردگرد ڈالی، پھر فوراً کاپی اپنے قریب کر لی۔
ہنزہ اپنی ہی دھن میں مصروف تھی، جبکہ کچھ فاصلے پر کھڑی تانیہ معمول کے مطابق اردگرد نظر رکھے ہوئے تھی۔
اس نے پھر ویسے ہی فوراً کاپی بند کردی۔۔۔
اس نے ایک بار پھر اردگرد دیکھا۔ کسی کی نظر اس پر نہیں تھی۔
امل نے جلدی سے کاپی اپنی بیگ میں ڈال دیا۔۔۔
وہ جانتی تھی، یہ محض ایک حرف نہیں تھا۔۔۔
یہ ریپر کا انداز تھا اُسے یاد دلانے کا کہ
وہ امل سے دور نہیں تھا۔۔۔ بس نظر نہیں آ رہا تھا۔

+++++++++++++-

صبح کے وقت امن نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی، جس کے اوپر سیاہ ویسٹ کوٹ پہنی اور ہمیشہ کی طرح ہاتھ میں سلور گھڑی ناشتے کے بعد وہ سیدھا نہات کے گھر کے لیے روانہ ہوگیا۔
کچھ دیر بعد گاڑی نہات کے گھر کے سامنے جا کر رکی۔ امن گاڑی سے اترا اور اندر داخل ہوگیا۔
نہات پہلے ہی اس کا منتظر تھا۔
امن نے اندر آتے ہی اردگرد ایک نظر ڈالی، پھر پرسکون لہجے میں پوچھا۔
کیا معاملہ ہے؟
نہات نے گہری سانس لی۔
وہ رات کو کمرے سے نکلی تھی۔۔۔
امن نے ابرو ذرا سا اٹھایا۔
اور؟
نہات نے اسے گھورتے ہوئے جواب دیا۔
اور گن بھی اس کے ہاتھ لگ گئی۔۔۔
ناشتہ دیا اسے؟
نہات نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر بےزاری سے بولا۔
مجھے مرنا ہے کیا؟
امن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔۔۔
مجھے نہیں پتا تھا تم اتنے ڈرپوک ہوگے۔۔۔
نہات نے فوراً سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔
دیکھو۔۔۔ میری نصیحت ہے کہ پاگلوں سے ہر کسی کو ڈرنا چاہیے۔ اُس کے سامنے اپنی بہادری دکھانا سب سے بڑی بےوقوفی ہے۔
امن نے اسے گھورا۔
ایک تھپڑ ماروں گا ابھی تمہیں۔
نہات نے فوراً ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔
تمہیں اُس کو لے کر کچھ زیادہ ہی غصہ نہیں آنے لگا؟
امن کی مسکراہٹ ایک لمحے کو غائب ہوئی۔
تو تم اُس کے بارے میں فضول مت بولا کرو۔۔۔ مجھے غصہ نہیں آئے گا۔
نہات نے طنزیہ انداز میں سر ہلایا۔
واہ واہ جی۔۔۔ وہ دن بہ دن فضول فضول حرکتیں کرے، وہ کچھ نہیں۔۔۔ اور میں اُس کے بارے میں فضول بھی نہ بولوں؟
امن نے بےنیازی سے جواب دیا۔
ہاں۔۔۔ نہیں بولو۔
نہات نے اسے گھورا، پھر طنزیہ لہجے میں بولا۔
زیادہ ہی تم اُس کے سگے نہیں ہوتے جا رہے؟
امن ابھی نہات کو کوئی جواب دینے ہی والا تھا کہ اچانک وہ  ارحا دونوں کے سامنے آ کر رک گئی۔
امن کی نظریں بےاختیار اس پر جم گئیں۔
یہ اچانک ایسے سامنے کیسے آگئی۔۔۔
آج بھی وہ شلوار قمیض میں تھی۔۔۔ آدھے بال حسبِ معمول کچر میں لگے ہوئے تھے، مگر آج اس کے چہرے پر ہلکا سا میک اپ بھی تھا۔
اور اس کے ہاتھ میں گن تھی۔
ایک لمحے کے لیے امن کی آنکھوں کے سامنے ان کی پہلی ملاقات کا منظر دوبارہ گھوم گیا۔
وہی لڑکی۔۔۔ وہی بےخوف آنکھیں۔۔۔ اور ہاتھ میں موت لیے اُس کے سامنے کھڑی تھی۔
بس آج ایک فرق تھا۔۔۔ آج تو وہ سنگھار کر کے اُس کی جان لینے آئی تھی۔
نہات نے اسے دیکھا تو فوراً امن کی طرف دیکھا، پھر زیرِ لب بولا۔
لو۔۔۔ آگئی مصیبت۔
امن نے نہات کو گھورا، مگر  ارحا کی نظریں سیدھی امن پر جمی ہوئی تھیں،
اچانک امن نے گن کی طرف دیکھا اور بظاہر گھبرا کر بولا۔
نہات۔۔۔ اس کے پاس گن کہاں سے آئی؟
پھر اس نے جلدی سے باہر کی طرف دیکھا۔
یہ باہر کیسے آگئی؟
نہات، یہ باہر کیسے آئی؟ گن کہاں سے آئی اس کے پاس؟
نہات بھی گھبرا کر ارحا کو دیکھنے لگا۔
مجھے کیا پتا؟ میں تو خود یہی سوچ رہا ہوں۔۔۔
ارحا نے خاموشی سے امن کو دیکھا۔
امن کی نظریں اب بھی گن پر جمی تھیں۔
پھر اچانک۔۔۔ ارحا کی انگلی نے ٹریگر دبا دیا۔

+++++++++++++

امل نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ہنزہ کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر الجھن بھی تھی اور ایک ایسی اداسی بھی، جسے وہ خود بھی ٹھیک سے سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
ہنززو۔۔۔
ہاں؟
مجھے اب یونی میں کچھ عجیب سا لگنے لگا ہے۔
ہنزہ نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
کیا؟
امل نے اردگرد نظر دوڑائی۔ چند طلبہ واقعی ان دونوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کسی کی نگاہ میں تجسس تھا، کسی میں حیرت۔۔۔ اور کچھ لوگ امل کو دیکھتے ہی نظریں چرا لیتے تھے۔
دیکھو نا۔۔۔ اب اسٹوڈنٹس مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ جیسے میں نے کوئی جرم کر دیا ہو۔
وہ چند لمحے رکی، پھر دھیمی آواز میں بولی۔
اور اب تو کوئی مجھ سے بات بھی نہیں کرتا۔
ہنزہ خاموش رہی۔
ہاں، مانتی ہوں کہ اس یونی میں تمہارے علاوہ میرا کوئی دوست نہیں تھا۔۔۔ لیکن پہلے سب میرے کتنے آگے پیچھے گھومتے تھے۔ باتیں کرتے تھے، ہنستے تھے، میرا حال پوچھتے تھے۔
امل کی آواز میں شکوہ اتر آیا۔
اور اب دیکھو۔۔۔ جب سے میں واپس آئی ہوں، کسی نے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ میں کیسی ہوں۔
ہنزہ نے ایک گہری سانس لی۔
کیونکہ تم کڈنیپ ہو گئی تھیں نا۔۔۔
امل نے فوراً اسے دیکھا۔
تو؟
یہ لوگ ابھی تمہیں کچھ نہیں کہہ رہے۔۔۔ صرف اس لیے کہ تم امن بھائی کی بہن ہو۔
امل خاموش ہو گئی۔
اگر تم امن بھائی کی بہن نہ ہوتیں نا۔۔۔ تو شاید یہی لوگ تمہارا یہاں اٹھنا بیٹھنا حرام کر دیتے۔
وہ چند لمحے رکی، پھر اردگرد دیکھتے ہوئے بولی۔
تمہیں بس اس لیے گھورا جا رہا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں تم کون ہو۔۔۔ اور سب کو معلوم ہے کہ تمہارے بھائی کون ہیں۔
امل کے چہرے پر بے بسی ابھر آئی۔
تو میں کڈنیپ ہو گئی تھی تو اس میں میری کیا غلطی تھی؟
اس کی آواز اچانک بلند ہوئی۔
یا میں نے خود کہا کہ آؤ ریپر۔۔۔ مجھے کڈنیپ کرو؟
ہنزہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔
پھر اس کے چہرے پر ایک اداس سی مسکراہٹ آئی۔
یہ دنیا ایسی ہی ہے، ایمو۔۔۔
امل نے خاموشی سے اسے دیکھا۔
ہنزہ نے آہستہ سے کہا۔
یہ ہمیں کبھی نہیں سمجھے گی۔
کبھی کبھی لوگوں کو حقیقت جاننے سے زیادہ۔۔۔ کسی کے بارے میں اپنی رائے بنانا آسان لگتا ہے۔
امل نے نظریں جھکا لیں۔
اسے پہلی بار شدت سے محسوس ہوا کہ کڈنیپ ہونے کے بعد واپس آ جانا شاید سب سے مشکل مرحلہ تھا۔۔۔
کیونکہ لوگ اس سے یہ نہیں پوچھ رہے تھے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔
وہ صرف یہ دیکھ رہے تھے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔۔۔
ہنزہ نے امل کی طرف دیکھا اور قدرے سنجیدہ لہجے میں بولی۔
اوپر سے تمہیں ریپر نے کڈنیپ کیا تھا۔۔۔ اب تو تم یہ بھول ہی جاؤ کہ سب کچھ پہلے جیسا کبھی ہو سکتا ہے۔
امل خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
کیونکہ یہاں ہر کوئی اچھی طرح جانتا ہے۔۔۔ ریپر کسی کو کبھی بھی ایسے ہی نہیں چھوڑتا۔
امل کی آنکھوں میں اچانک ایک سایہ سا لہرایا۔
ایسے ہی نہیں چھوڑتا۔۔۔؟
اس کے ذہن میں نکاح کا وہ خوفناک منظر ایک دم سے تازہ ہو گیا۔۔
وہ نقاب۔۔۔ وہ آواز۔۔
وہ زبردستی مسلط کیا گیا نکاح۔۔۔
امل نے بے اختیار نظریں جھکا لیں۔
واقعی۔۔۔ نہیں چھوڑتا۔
ہنزہ نے اس کے چہرے کی بدلتی ہوئی کیفیت کو محسوس نہیں کیا، وہ بس کہا رہی تھی۔۔۔
شاید لوگوں کو یہ بھی لگتا ہے کہ اگر تم ریپر کے چنگل سے صحیح سلامت واپس آ گئی ہو۔۔۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمہیں بھول گیا ہے۔
امل نے خاموشی سے ہنزہ کی طرف دیکھا۔
وہ اب بھی تمہارے پیچھے ہو سکتا ہے۔۔۔ اور یہی سوچ کر سب ڈرتے ہیں۔
ہنزہ نے اردگرد نظر دوڑائی۔
اسی لیے اب کوئی تمہارے قریب نہیں آتا۔
امل چند لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
لیکن تم تو اب بھی میرے ساتھ بیٹھی ہو۔۔۔ کیا تمہیں ڈر نہیں لگتا ریپر سے۔۔؟؟
ہنزہ کے ہونٹوں پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
لگتا ہے نہ، لیکن میرے بھائی کہتے ہیں۔۔۔
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر امل کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
گڑیا۔۔۔ تم کچھ بھی کرنا، لیکن کبھی دوستی کا ہاتھ مت چھوڑنا۔
چاہے تمہاری دوست صحیح ہو یا غلط۔۔۔ دنیا کے سامنے ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑی رہنا۔
امل چند لمحے بالکل خاموش رہی۔
ہنزہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
بس اسی لیے۔۔۔ سب چلے جائیں تو جائیں۔ میں نہیں جاؤں گی۔
امل نے خفگی سے ہنزہ کو دیکھا۔
تو تم اپنے بھائی کی وجہ سے میرے ساتھ ہو؟
ہنزہ فوراً بولی۔
ارے نہیں! میں تو بس بتا رہی تھی۔۔۔ تم تو میری سب سے اچھی دوست ہو۔
امل نے منہ بنایا۔
چل ہٹ یہاں سے۔۔۔ اپنے بھائی کی سگی…
امل نے کتاب اٹھائی اور ہنزہ کو  مارتے ہوئے اپنا بیگ اٹھا کر کھڑی ہو گئی۔
ہنزہ ہنستے ہوئے بولی ارے! تم ناراض ہو گئی؟
پھر وہ بھی اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔
میں تو اپنے بھائی کی سگی ہوں نا۔۔۔ تم تو اپنے بھائی کی بگڑی اولاد ہو۔۔۔
امل نے فوراً آنکھیں سکیڑیں۔
ہاں۔۔۔ جیسے تم تو بالکل نہیں بگڑی ہوئی۔۔۔ ابھی لوں میتھ کا ٹیسٹ تمہارا؟
ہنزہ نے فوراً منہ بنا لیا۔۔۔
پرسنل اٹیک۔۔۔
ان دونوں کی نوک جھونک دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ یونیورسٹی کی طالبات ہیں۔۔۔ دونوں سہیلیوں سے زیادہ دو معصوم بچیاں لگتی تھیں، جو ہر چھوٹی سی بات پر لڑتی بھی تھیں اور اگلے ہی لمحے ہنس بھی پڑتی تھیں۔

+++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *