Girdaab Episode 19 written by siddiqui

گرداب ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۱۹

لو۔۔۔ آگئی مصیبت۔
امن نے نہات کو گھورا، مگر ارحا کی نظریں سیدھی امن پر جمی ہوئی تھیں،
اچانک امن نے گن کی طرف دیکھا اور بظاہر گھبرا کر بولا۔
نہات۔۔۔ اس کے پاس گن کہاں سے آئی؟
پھر اس نے جلدی سے باہر کی طرف دیکھا۔
یہ باہر کیسے آگئی؟
نہات، یہ باہر کیسے آئی؟ گن کہاں سے آئی اس کے پاس؟
نہات بھی گھبرا کر ارحا کو دیکھنے لگا۔
مجھے کیا پتا؟ میں تو خود یہی سوچ رہا ہوں۔۔۔
ارحا نے خاموشی سے امن کو دیکھا۔
امن کی نظریں اب بھی گن پر جمی تھیں۔
پھر اچانک۔۔۔ ارحا کی انگلی نے ٹریگر دبا دیا۔۔۔
کلک۔
مگر۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔ گولی چلی ہی نہیں۔
امن نے فوراً نہات کی طرف دیکھا، جبکہ نہات نے بھی اسی حیرت کے ساتھ امن کو دیکھا۔
دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ملیں۔
ارحا نے گن لوڈ کیے بغیر ہی ٹریگر دبا دیا تھا، تو گولی کیسے چلتی؟
امن اور نہات ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔  نہات کے چہرے پر  حیرت اور امن کے چہرے  پر اطمینان تھا۔
جس لڑکی کو گن لوڈ کرنا تک نہیں آتا، وہ گولی کیسے چلا سکتی تھی؟
پھر ارحا کے چہرے پر ناگواری ابھری۔
اس نے غصے سے گن کو اپنے ہاتھ میں جھٹکا۔
چلی کیوں نہیں رہی یہ؟
اس نے دوبارہ ٹریگر دبایا۔
کلک۔۔۔ کلک۔ پھر بھی کچھ نہیں ہوا۔
ارحا نے جھنجھلا کر گن کو دیکھا۔
یہ کیوں نہیں چل رہی؟
امن نے کچھ کہنے کے بجائے خاموشی سے اسے دیکھا۔
ارحا نے فوراً دونوں کو گھورا۔
گولی نہیں ڈالی نا آپ لوگوں نے اس میں؟
پھر اُس نے آنکھیں سکیڑیں۔
یہ سب آپ کا کیا دھرا ہے نہ۔۔۔ آپ دونوں کی ملی بھگت ہے نہ یہ۔۔۔ ڈراما کر رہے نہ آپ دونوں میرے ساتھ۔۔۔
اور اوپر سے ایسی معصوم شکل بنا کر ایکٹنگ کر رہے تھے جیسے آپ کو کچھ پتا ہی نہیں۔۔
ساری چالاکی جانتی ہوں میں آپکی۔۔۔ آپ کے چہرے سے ہی مکاری ٹپکتی ہے۔۔۔ شکل سے ہی دھوکے باز لگتے ہیں آپ۔۔۔
مجھے بےوقوف سمجھ کر رکھا ہوا ہے کیا؟
اوپر سے اتنی معصومیت کا ڈرامہ کر رہے، جیسے دنیا کے سب سے شریف انسان آپ ہوں۔
اُس نے امن کو سر سے پاؤں تک دیکھا
لیکن میں آپ کو بتا دوں، آپ جتنا معصوم بننے کی کوشش کرتے ہیں نا، اتنے ہی زیادہ مکار لگتے ہیں۔
نہات نے آہستہ سے امن کی طرف دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں صاف لکھا تھا۔۔۔ اتنی انسَلٹنگ۔۔۔ اتنی بےعزتی۔۔۔
امن نے بس ابرو اٹھا دیے۔
ارحا نے ایک بار پھر گن کو چلانے کی کوشش کی، مگر ناکامی پر اُس کا غصہ مزید بڑھ گیا۔
جب ٹریگر دبانے کے باوجود گن نے کوئی جواب نہ دیا تو اُس نے جھنجھلا کر گن ہی امن کی طرف پھینک دی۔
گن تیزی سے امن کی طرف آئی۔
امن کے سر تک پہنچنے ہی والی تھی کہ نہات نے فوراً اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
امن کا توازن بگڑا اور اگلے ہی لمحے دونوں زمین پر جا گرے۔
نہات نیچے تھا۔۔۔ اور امن سیدھا اُس کے اوپر۔
چند لمحوں کے لیے دونوں بالکل ساکت پڑے رہے۔
نہات نے بڑی مشکل سے گردن اٹھائی اور امن کو دیکھا۔
پھر دانت پیستے ہوئے بولا۔
ذرا سا بھی تمہارے اندر بیلنس نہیں ہے؟ میں نے بس کھینچا تھا۔۔۔ اور تم ایک دم سے آ کر میرے اوپر ہی گر گئے…
امن نے اسے گھورتے ہوئے بولا۔
تھوڑے سے پاگل واگل ہو کیا تم؟ بندے کو اچانک سے کھینچو گے تو وہ گرے گا ہی۔۔۔
نہات ابھی جواب دینے ہی والا تھا کہ اچانک ارحا نے ان  دونوں کو یہیں چھوڑ دور لگا دی۔۔۔ ارحا اتنی تیزی سے وہاں سے نکلی کہ جیسے اسے ڈر ہو، اگلے ہی لمحے دونوں اسے پکڑ لیں گے۔
امن کی آنکھیں پھیل گئیں۔
ارے۔۔۔!
وہ فوراً اٹھا اور ارحا کے پیچھے بھاگ پڑا۔
نہات بھی زمین سے اٹھتے ہوئے بڑبڑایا۔
ابے۔۔۔ مصیبت۔۔۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے وہ بھی امن کے پیچھے بھاگنے لگا۔
اگر باہر گھر کے گارڈز موجود نہ ہوتے تو شاید ارحا واقعی گھر سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی۔
نہات نے فوراً اس کا ایک ہاتھ پکڑ لیا جبکہ امن نے دوسرے ہاتھ سے اس کی کلائی مضبوطی سے تھام لی۔
ارحا پوری طاقت سے خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔
مگر دونوں نے اس کی ایک نہ چلنے دی۔
وہ اسے پکڑے ہوئے دوبارہ گھر کے اندر کی طرف لے جانے لگے۔
ارحا نے جھنجھلا کر کہا۔ چھوڑیں میرا ہاتھ..
امن نے اس کی طرف دیکھا۔ تم بھاگ کہاں رہی تھی؟
ارحا پوری طاقت سے خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر دونوں نے اسے گھسیٹتے ہوئے دوبارہ گھر کے اندر لا کھڑا کیا۔
آگئی۔۔ نہ میں اندر اب ہاتھ چھوڑے میرا۔۔۔۔
امن نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تو ارحا کا صبر جواب دے گیا۔
اگلے ہی لمحے اس نے جھک کر امن کے ہاتھ میں اپنے دانت گاڑ دیے۔
اور پھر کاٹا اُس نے امن کے ہاتھ میں تھا اور ہاتھ یہاں نہات کا چھوٹا تھا،
امن نے ابھی بھی ارحا کا ہاتھ ویسے ہی پکڑ رکھا تھا۔ جب کے نہات کا ہاتھ اتنی اچانک اور تیزی سے چھوٹا تھا کہ دونوں حیرانی سے نہات ہی کو دیکھنے لگے۔
امن نے اپنے ہاتھ میں اٹھتے چبھتے درد کو نظرانداز کیا اور آنکھیں سکیڑ کر نہات کو گھورا۔۔۔
حد ہوتی ہے، نہات۔۔۔ بزدلی کی بھی۔
نہات نے فوراً کہا  میں نہات نہیں۔۔۔ نومی ہوں۔
امن نے اسے گھورا۔
ارحا بھی امن ہی طرح نہات کو ہی گھور رہی تھی۔
نہات نے اسے گھورتے دیکھا تو فوراً پوچھا۔
تم کیوں گھور رہی ہو مجھے؟
امن نے خشک لہجے میں جواب دیا۔
اس نے آج سے پہلے اتنا بزدل مرد نہیں دیکھا۔۔۔ تبھی ایسے گھور رہی ہے۔
نہات کا منہ کھل گیا۔
بھائی۔۔۔ اب زیادہ ہو رہا ہے۔
ارحا نے جھنجھلا کر دوبارہ کہا۔
ہاتھ چھوڑو میرا۔۔۔
اس بار امن نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
وہ ایک قدم پیچھے ہٹا اور سخت نظروں سے ارحا کو دیکھتے ہوئے بولا۔
یہ پورا گھر تمہارا ہے۔۔۔
امن اپنی بات مکمل کرتا، اس سے پہلے ہی نہات بول پڑا۔
اس کا کہاں سے میرا گھر ہے؟
امن نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں، جیسے اپنا ضبط آزما رہا ہو۔
پھر دانت بھینچ کر بولا۔
مجھے بولنے دو گے؟
نہات فوراً سیدھا ہو گیا۔
بولو۔۔۔ بولو۔
امن نے ارحا کی طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ کہا۔
یہ پورا گھر تمہارا ہے۔۔۔
نہات نے فوراً درمیان میں لقمہ دیا۔
یہ پورا گھر نہات کا ہے۔۔۔ یہ بولو۔
امن نے اسے ایسی نظر سے دیکھا کہ نہات کی مسکراہٹ فوراً غائب ہو گئی۔
اب میں تمہیں تھپڑ مار دوں گا۔۔
اچھا۔۔۔ سوری۔
ارحا نے نہات کو دیکھتے ہوئے بےساختہ کہا۔
مار کے دکھائے۔
نہات نے فوراً اپنی آنکھیں باہر نکل کر گھورا کر اسے دیکھا۔
اوئے۔۔۔
امن نے دونوں کو ایک ساتھ گھورا۔
دونوں چپ کر کے میری سنو۔۔۔
نہات نے فوراً صفائی پیش کی۔
تم مجھے نہیں۔۔۔ اسے بول رہے تھے۔
امن نے کچھ نہیں کہا۔ بس ایک لمبی، خاموش اور خطرناک نظر نہات پر ڈالی۔
نہات نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
امن نے دوبارہ ارحا کی طرف رخ کیا۔
ہاں تو۔۔۔ ارحا، تم۔
اس کی آواز اب پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدہ تھی۔
اس گھر سے ایک قدم بھی باہر مت نکالنا۔۔۔
ارحا نے خاموشی سے امن کے چہرے کو دیکھا۔
وہ چند لمحوں تک اسے سمجھنے کی کوشش کرتی رہی۔
یہ کیسا غصہ تھا؟ جب اس نے پہلی بار اس پر گن تانی تھی۔۔۔ امن اتنا غصے میں نہیں آیا تھا۔ جب اس نے اس پر چیز پھینکی تھی۔۔۔ تب بھی نہیں۔ دوبارہ گن اس کے سامنے تان دی تھی۔۔۔ تب بھی امن نے اپنا وہ سکون نہیں چھوڑا تھا۔ یہاں تک کہ جب اس نے اس پر بندوق پھینکی تھی۔۔۔ تب بھی اس کے چہرے پر ایسا غصہ نہیں آیا تھا۔
مگر آج۔۔۔ صرف اس لیے کہ وہ گھر سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی، امن کی آنکھوں میں ایسی سختی کیوں تھی؟
ارحا کی نظریں بےاختیار امن کے زخمی ہاتھ پر گئیں۔۔۔ جہاں اُس کے دانتوں کے نشان تھے، پھر اس کے چہرے پر آ کر ٹھہر گئیں۔
کاٹنے پر بھی کچھ نہیں کہا۔۔۔؟ وہ حیرانی سے اسے دیکھتی رہی۔ غصہ بھی نہیں کیا۔۔۔
صِرف بھاگنے پر اتنا غصہ کر رہا ہے، اس کا مطلب کیا ہے؟
ارحا جتنا امن کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی، اتنا ہی الجھتی جا رہی تھی۔
آخر۔۔۔ ارادہ کیا ہے امن کا؟ وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی۔
امن نے سپاٹ لہجے میں اسے دیکھا اور بولا۔
اس گھر میں جہاں مرضی ہے جاؤ، چاہو تو پورا گھر گھومو۔۔۔ لیکن گیٹ سے باہر ایک قدم بھی مت نکالنا۔
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر اپنے زخمی ہاتھ کی طرف دیکھا پِھر نہات کی طرف۔۔ پِھر دوبارہ اُس کی طرف متوجہ ہوا
اور ہاں۔۔۔ آئندہ کبھی مجھے مارنے کا یا مجھے کاٹنے کا ارادہ ہو نا، تو پہلے اسے بتا دینا۔۔۔
یہ کہتے ہوئے وہ غصے میں گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
نہات نے ایک نظر ارحا کو دیکھا، پھر فوراً امن کے پیچھے لپکا۔ ارے بھئی۔۔۔ سنو تو۔۔۔

++++++++++++++++

کیٹی نے خاموشی سے پوری رپورٹ ریپر کے سامنے رکھ دی۔
پھر کیٹی نے محتاط لہجے میں کہا۔
اصل نقصان تو اب ہوا ہے، باس۔۔۔؟
ریپر نے کیٹی کی طرف دیکھا پِھر سگریٹ کا دھواں چھوڑتا بولا،
مجھے جب جب لگتا ہے کہ امن کے پاس اب کُچھ نہیں بچا، تب تب وہ مجھے غلط ثابت کر دیتا ہے۔
اس نے چند لمحے خاموش رہ کر کیٹی کی طرف دیکھا۔
مجھے بتاؤ، کیٹی۔۔۔ مُجھے بتاؤ ۔۔ آخر اُس کے پاس ایسی کون سی طاقت ہے جو میرے پاس نہیں ہے؟
کیٹی نے فوراً جواب دیا۔
امن کے سارے نیٹ ورک ہمارے سامنے ہیں، باس۔۔۔
وہی تو مسئلہ ہے۔
اس نے میز پر انگلی سے ہلکی سی ضرب لگائی۔
سب کچھ ہمارے سامنے ہے۔۔۔ پھر بھی وہ ایسا کیسے کر رہا ہے؟
وہ ایک لمحے کو رکا۔
اور اسے میری اتنی معلومات آخر کہاں سے مل رہی ہیں؟
ریپر کی نظریں اچانک کیٹی پر جم گئیں۔
ہاں؟ کیا ہماری طرف سے کوئی خبر باہر جا رہی ہے؟
کیٹی نے کچھ سوچ کر کہا۔
مجھے یسریٰ کے علاوہ کسی پر شک نہیں ہے۔
ریپر نے بےتاثر لہجے میں کہا۔
یسریٰ؟
میں نے اُس کی جو ٹیوننگ کی ہے، اُس کے بعد تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ میرے سامنے کھڑی ہو سکے۔
پھر اس کی آواز میں جھنجھلاہٹ در آئی۔
تُم اُس کی جان چھوڑو اور امن کا پتا لگاؤ۔
وہ کھولی کتاب کی طرح پورا کھولا ہوا ہے ہمارے سامنے، اُس کا پورا نیٹ ورک ہمارے سامنے ہے، پھر بھی وہ ہر بار ہم سے ایک قدم آگے کیسے نکل جاتا ہے؟
کون اُس کی مدد کر رہا ہے؟
وہ کیا کر رہا ہے؟
اور سب سے بڑھ کر۔۔۔
ریپر چند لمحے خاموش رہا۔
وہ اتنا پُرسکون کیسے رہ سکتا ہے؟
اس کے چہرے پر پہلی بار غصے کی ہلکی سی لکیر ابھری۔
مجھے اُس کا یہ سکون برداشت نہیں ہوتا۔
پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا۔
اُس لڑکی کا پتا چلا؟
کیٹی نے الجھن سے پوچھا۔
کون سی لڑکی کا؟
وہی۔۔۔ جس نے امن پر گولی چلائی تھی۔
کیٹی نے بےساختہ جواب دیا۔
گولی تو میں نے چلائی تھی، باس۔۔۔ وہ تو بس مہرہ بنی تھی۔
ریپر کی آنکھیں ذرا سکڑیں۔
ہاں۔۔۔ وہی۔
کہاں ہے؟
کیٹی نے نظریں جھکا لیں۔
پتا نہیں۔
وہ اغوا ہو گئی ہے۔
ریپر فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
کس نے اغوا کیا؟
کیٹی نے قدرے بےنیازی سے کہا۔
آوارہ لڑکوں نے۔
ریپر نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیا؟
وہ پولیس سے بچنے کے لیے اورنگی کے ایک چھوٹے سے علاقے میں رہ رہی تھی۔ پھر کچھ آوارہ لڑکوں نے اسے گھر سے نکلتے ہی اغوا کر لیا۔
ریپر چند لمحے خاموش رہا۔
لیکن کیوں؟
کیٹی نے کندھے اچکائے۔
ہوگی حواس اُن میں۔۔۔ ہمیں کیا؟
ریپر کی نظریں اچانک سخت ہو گئیں۔
آہ۔۔۔ برا ہوا اُس کے ساتھ۔
کیٹی خاموش رہی۔
وہ لڑکی دنیا داری نہیں جانتی تھی۔۔۔ پھر کیا تھا؟
دنیا نے اُسے نگل لیا۔
ریپر نے چند لمحے سوچا، پھر سرد لہجے میں کہا۔
اُن لڑکوں کا پتا لگاؤ۔
کیٹی نے چونک کر اسے دیکھا۔
باس۔۔۔؟
ریپر کی آواز پہلے سے زیادہ سخت تھی۔
اور اُنہیں موت کے گھاٹ اُتار دو، ایسے مرد دنیا میں رہنا ڈیزرو نہیں کرتے۔
کیٹی نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
باس۔۔۔ یہ بہت مشکل ہے۔
ریپر نے فوراً پوچھا۔ کیوں؟
ہمیں نہیں پتا کون لڑکے تھے۔۔۔ اورنگی کے تو سارے لڑکے ایک جیسے ہیں۔
زُوزی کو وہاں بھیجو۔
کیٹی نے حیرت سے پوچھا۔
زُوزی؟
ریپر نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں وہ پتا لگا لے گی۔
کیٹی کچھ لمحے خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی۔
یہ ضروری ہے، باس؟
ریپر نے اس کی طرف دیکھا۔
بہت۔۔۔

+++++++++++++++

یونیورسٹی سے واپس آنے کے بعد امل نے اپنا بیگ کھولا۔
اس کی نظر فوراً اسی خط پر پڑی۔
وہی خط۔۔۔ جسے وہ سارا دن چھپا کر بیٹھی رہی تھی۔
امل نے فوراً اسے نکالا اور جلدی سے کھول لیا۔
مگر اگلے ہی لمحے اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
پورا صفحہ بالکل خالی تھا۔
نہ کوئی لفظ۔۔۔ نہ کوئی پیغام۔۔۔ نہ کوئی نام۔
بس صفحے کے عین بیچ میں ایک بہت بڑا سا ایموجی بنا ہوا تھا۔۔۔
گول سا زرد چہرہ، آنکھیں زور سے میچی ہوئی، بھنویں ہلکی سی سکڑی ہوئی، اور ناک پر دھرا ہوا سفید ٹشو،
امل چند سیکنڈز تک اس عجیب سے ایموجی کو گھورتی رہی۔
یہ وہی چھینکتا ہوا چہرہ تھا جو فون کے کی بورڈ میں کہیں کونے میں پڑا رہتا ہے،
پھر اس کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
یہ۔۔۔ کیا عجیب سا ایموجی ہے؟
وہ کچھ لمحے اسی صفحے کو گھورتی رہی۔
صرف ایک ایموجی دیکھنے کے لیے وہ یہ خط چھپا کر گھر لائی تھی؟
اور پورا یونیورسٹی ٹائم یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوتی رہی تھی کہ آخر اس میں لکھا کیا ہے۔۔۔
امل کے اندر غصہ آہستہ آہستہ چڑھنے لگا۔
ریپر!
اس نے دانت بھینچ کر خط کو دیکھا۔
حد ہوتی ہے۔۔۔ جاہل کہیں کے۔۔۔
اس نے غصے سے کاغذ کو مروڑا، پھر چِمَوڑ کر سیدھا ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔
پورا دن خراب کر دیا میرا۔۔۔ صرف یہ بکواس سا ایموجی دیکھنے کے لیے۔۔۔

+++++++++++++++

امن گارڈ کو سخت لہجے میں ہدایات دے رہا تھا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی اور آواز میں ایسی سختی کہ سامنے کھڑا گارڈ سر جھکائے خاموشی سے اس کی ہر بات سن رہا تھا۔
لڑکی پر خاص نظر رکھنا۔ اس کی ذرا سی بھی لاپرواہی برداشت نہیں کروں گا۔ وہ گھر سے باہر نہیں جانی چاہیے۔ سمجھ رہے ہو نا میری بات؟ کوئی بھی غلطی نہیں ہونی چاہیے…
گارڈ نے فوراً سر ہلایا۔
جی سر، آپ بے فکر رہیں۔ میں پوری طرح خیال رکھوں گا۔
گارڈ کے جانے کے بعد امن نے ایک گہری سانس لی اور نہات کی طرف دیکھا، جو کافی دیر سے خاموش کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
اور کیا کہا تھا میں نے تم سے؟
نہات نے بے زاری سے اسے دیکھا۔
ہاں بھائی، سمجھ گیا میں! لیکن ایک بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی۔ اگر اس نے گولی نہیں چلائی تو پھر چلائی کس نے؟
امن نے کندھے اچکائے۔
چلا دی ہوگی کسی نے۔
نہات نے فوراً سوال کیا۔
اس کے پیچھے سے؟
ہاں، ہو سکتا ہے۔ امن نے ایسے اطمینان سے جواب دیا، جیسے اس میں کوئی خاص بات ہی نہ ہو۔
خیر، میری بات تو سچ ثابت ہوئی نا؟ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اس نے گولی نہیں چلائی ہوگی۔۔۔
نہات منہ بناتے ہوئے بولا۔
بہت گندے لگ رہے ہو، مت کرو۔۔۔
امن نے ناگواری سے اسے گھورا۔
تم اب بھی اس لڑکی سے چڑو گے؟
ہاں تو اور کیا کروں؟ عجیب پاگل لڑکی ہے۔۔ جب گن لوڈ کرنا تک نہیں آتا تو پھر بیچ مجمعے میں گن تان کر کیوں کھڑی ہوگئی تھی؟
نہات کے لہجے میں اب بھی حیرت اور جھنجھلاہٹ تھی۔
امن چند لمحے خاموش رہا، پھر سوچتے ہوئے بولا۔
شاید اسے کسی نے استعمال کیا ہو۔
نہات نے فوراً اس کی بات کاٹی۔
وہ کوئی مشین نہیں ہے کہ جس کا دل چاہے، اسے استعمال کر لے! چلتی پھرتی انسان ہے، اس کی بھی اپنی مرضی اور اپنا دماغ ہے۔
امن نے اس کی طرف دیکھا، پھر ہلکا سا سر ہلایا۔
آج کل مشینوں سے زیادہ انسان استعمال ہوتے ہیں…
وہ چند لمحے رکا، جیسے ذہن میں کسی بات کو ترتیب دے رہا ہو، پھر سنجیدہ لہجے میں بولا۔
خیر، پتا لگا لیں گے نا ہم اس بارے میں۔

++++++++++++

زرقان امن کے سامنے بیٹھا اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔
بھائی۔۔۔ تمہارے پاس ہمارے علاوہ بھی کوئی ٹیم موجود ہے؟
امن نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
کیوں؟
تم نے ریپر کی پوری ڈرگس ٹیم کو نہ صرف ڈھونڈنا۔۔۔ بلکہ اٹھا بھی لیا۔ اور اس کے پیچھے نہ میں ہوں، نہ سنان۔۔۔ پھر کون ہے؟
امن کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
ارے۔۔۔ وہ تو تمہیں معلوم ہے، سیکرٹ ایجنٹ۔
زرقان نے فوراً آنکھیں گھمائیں۔
ہاں، مجھے معلوم ہے کہ آپ کا رابطہ ہمارے کرنل صاحب سے ہے۔۔۔ لیکن یہ کون سی ٹیم ہے جس کا مجھے آج تک علم نہیں؟ میں اپنے ہر ٹیم کے ہر بندے کو جانتا ہوں۔
امن نے سنجیدگی سے کہا کرنل صاحب کے اندر اور بھی لوگ کام کرتے ہیں۔۔۔ تم ہر ایک کو نہیں جانتے۔ اور تم اتنا پریشان کیوں ہو رہے ہو؟
زرقان نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
پریشان نہیں ہو رہا۔۔۔ پوچھ رہا ہوں۔ جب آپ کے پاس اپنی الگ ٹیم موجود ہے تو پھر ہم کیوں ہیں؟
امن نے اسے چند لمحے دیکھا، پھر قدرے سنجیدہ ہو کر بولا۔
تم نے یسریٰ سے پوچھا نہیں؟
زرقان کی نظریں فوراً اس کے چہرے پر جم گئیں۔
تم نے جیسا کہا تھا، میں نے ویسا ہی اس سے بات کی تھی۔۔۔ اور جو تم نے اسے کہنے کو کہا تھا، وہ بھی کہہ دیا۔
زرقان نے سر ہلایا۔
ہاں، میں نے اس سے بات کی تھی۔ اگر وہ تم سے جھوٹ بولتی۔۔۔ تو میرے ساتھ بات کرنے کے بعد دوبارہ تم سے ضرور پوچھتی کہ تم نے اسے وہ بات کیوں کہنے کو کہا تھا۔  لیکن وہ بالکل نارمل تھی۔ پھر اس نے تم سے دوبارہ اس بات کا ذکر بھی نہیں کیا۔ تو تم فکر نہ کرو۔۔۔ وہ بالکل سیف ہے۔ ہم اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔
امن کچھ لمحے خاموش رہا۔ پھر بولا
لیکن مجھے اب بھی اس پر شک ہے۔
زرقان نے فوراً بھنویں سکیڑ لیں۔
مطلب؟
امن نے اسے بالکل سپاٹ نظروں سے دیکھا۔
شک کا بھی کوئی مطلب ہوتا ہے؟
تو پھر؟
امن کرسی سے ذرا پیچھے ہوا۔
شک ہے۔۔۔ تو شک ہے۔
امن کچھ لمحے خاموش رہا۔۔۔ پھر نظریں جھکا کر دھیمی آواز میں بولا۔
لیکن۔۔۔ کبھی کبھی مجھے اُس سے پازیٹو وائب بھی آتی ہے۔
زرقان نے فوراً اسے دیکھا۔
پھر امن نے کندھے اچکائے۔
کبھی اُس کا رویہ دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ واقعی سیدھی ہے۔۔۔ اور کبھی دل کہتا ہے کہ وہ اتنی سیدھی نہیں جتنی نظر آ رہی ہے۔
امن چند لمحے خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا۔
لیکن ہر دفعہ اُس کی سادگی دیکھ کر مار کھا جاتا ہوں میں۔۔۔
زرقان خاموش ہو گیا۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ امن واقعی یسریٰ پر شک کر رہا ہے۔۔۔ یا پھر خود بھی اُس کے رویے کو سمجھنے کی کوشش میں الجھا ہوا ہے۔
کمرے میں چند لمحوں تک خاموشی رہی۔
پھر زرقان نے دھیرے سے کہا۔
لیکن بھائی۔۔۔ اگر آپ کو اُس پر اتنا شک ہے، تو پھر آپ نے اسے اپنے اتنے قریب رکھا ہی کیوں ہوا ہے؟
امن نے چند لمحے خاموش رہ کر زرقان کی طرف دیکھا۔
اگر وہ واقعی ویسی ہے جیسی نظر آتی ہے۔۔۔ تو میں اُسے وہ مقام دوں گا، جو میں نے آج تک کسی لڑکی کو نہیں دیا۔

++++++++++++++++

امل تیز قدموں سے امن کے کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کافی چڑی ہوئی ہے۔
بھائی۔۔۔ آپ ریپر کا کچھ کریں گے بھی یا نہیں؟
امن نے فائل سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
کیوں؟ کیا ہوا؟
امل اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ چند لمحے خاموش رہی، پھر ہچکچاتے ہوئے بولی۔
بھائی۔۔۔ کیا سچ میں میرا نکاح ریپر سے ہو گیا ہے؟
امن نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں۔
امل نے حیرت سے اسے دیکھا۔
لیکن میں نے خود نکاح کے پیپرز پر سائن کیے تھے۔
امن نے گہری سانس لی اور سنجیدگی سے بولا۔
دیکھو امل۔۔۔ میں خود یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ وہ نکاح شرعی طور پر ہوا بھی ہے یا نہیں۔ یہ معاملہ کسی مستند مفتی کے سامنے رکھنا ہوگا۔ وہ یہ دیکھے گا کہ تم نے کن حالات میں دستخط کیے، تمہاری رضامندی کیا تھی، اور نکاح کی باقی شرائط پوری ہوئی تھیں یا نہیں۔۔۔ پھر ہی اس کی شرعی حیثیت واضح ہو سکے گی۔
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر قدرے یقین سے بولا۔
ویسے۔۔۔ جتنا میں اس معاملے کو سمجھتا ہوں، ان حالات میں اسے ایک عام اور رضامندی سے ہونے والے نکاح جیسا نہیں سمجھا جا سکتا۔
امل کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتی رہی، پھر بےچینی سے بولی۔
تو پھر۔۔۔ ہم یہ بات سب سے چھپا کیوں رہے ہیں؟ کچھ تو کریں بھائی۔۔۔ ایسے کب تک یہ مسئلہ چھپا کر رکھیں گے؟ کوئی راستہ نکالیں۔۔۔ اس معاملے کو حل کیوں نہیں کرتے؟
امن نے نظریں جھکا کر چند لمحے سوچا، پھر پرسکون لہجے میں بولا۔
کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ حقیقت کیا ہے۔۔۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ اسے کیسے دیکھیں گے۔
وہ امل کی طرف متوجہ ہوا۔
تم نے نکاح کے کاغذ پر دستخط کیے ہیں، امل۔ اگر ریپر نے وہ کاغذات سب کے سامنے رکھ دیے تو لوگ صرف کاغذ دیکھیں گے۔
وہ تمہاری پوری کہانی نہیں سنیں گے۔۔۔ یہ نہیں سوچیں گے کہ تم نے کن حالات میں دستخط کیے، تم پر کیا دباؤ تھا، یا تم نے اپنی مرضی سے وہ دستخط کیے بھی تھے یا نہیں۔
لوگ بس یہی دیکھیں گے کہ نکاح کا کاغذ موجود ہے۔۔۔ اور پھر اپنی طرف سے نتیجہ نکال لیں گے۔
کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ اس وقت تم کس حالت میں تھیں۔۔۔ کس خوف میں تھیں۔۔۔ تمہارے پاس انکار کرنے کا کتنا اختیار تھا۔
وہ بس یہ کہیں گے۔۔۔ اس نے خود سائن کیے تھے۔
امن کی آواز آخری جملے پر کچھ بھاری ہو گئی۔
اور سب سے تکلیف دہ بات جانتی ہو کیا ہے؟
امل نے خاموشی سے سر اٹھایا۔
امن نے اسے دیکھا۔
دنیا اکثر زبردستی کو صرف تب زبردستی مانتی ہے جب اس کا نشان جسم پر نظر آئے۔
امل کی آنکھوں میں بےبسی اتر آئی۔
تو پھر میں کیا کروں، بھائی؟
امن نے اس کی طرف دیکھا۔ اس بار اس کے لہجے میں نرمی تھی۔
ابھی تم کچھ نہیں کرو گی۔
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر دھیرے سے بولا۔
جب تک میں ریپر کو پکڑ نہیں لیتا، تم خاموش رہو گی۔ کسی کے سامنے اس معاملے کو خود سے نہیں چھیڑو گی۔۔۔ اور نہ ہی ریپر کو کوئی ایسا موقع دو گی کہ وہ تمہاری مجبوری کو تمہارے خلاف استعمال کر سکے۔
امل کچھ لمحے خاموش بیٹھی امن کو دیکھتی رہی، پھر جیسے دل میں دبی ہوئی سب سے بڑی الجھن زبان پر آ گئی۔
لیکن بھائی۔۔۔ ریپر تو مجھے اپنی بیوی سمجھتا ہے۔ اُس کے نزدیک تو ہمارا نکاح واقعی ہو چکا ہے۔
امن نے گہری سانس لی اور سنجیدہ لہجے میں بولا۔
ہاں، امل۔۔۔ اور مسئلہ یہی ہے۔ قانونی طور پر اس کے پاس تمہارے دستخط شدہ نکاح نامے کی صورت میں ایک مضبوط ثبوت موجود ہے۔ اگر میں اس معاملے کو عدالت میں لے کر جاتا ہوں تو وہ اسی کاغذ کو اپنے حق میں پیش کرے گا، اور ہمارے لیے اسے چیلنج کرنا آسان نہیں ہوگا۔
امل نے بےیقینی سے اسے دیکھا۔
تو کیا وہ کیس جیت جائے گا؟
امن نے چند لمحے امل کو دیکھا، پھر دھیرے سے بولا۔
ہمم۔۔۔ شاید۔ کیونکہ تمہارے سامنے دو صورتیں رکھی گئی تھیں، امل۔ یا تو تم ریپر سے نکاح قبول کرتیں یا میں سیاست چھوڑ دیتا۔ اور تم نے خود اپنے ہاتھوں سے نکاح نامے پر دستخط کیے تھے۔ عدالت میں ریپر یہی مؤقف اختیار کرے گا کہ تم نے اپنی مرضی سے دستخط کیے تھے۔
امل نے بےچینی سے پوچھا۔
لیکن بھائی، وہ میری مرضی نہیں تھی۔۔ میں نے آپ کو بچانے کے لیے ایسا کیا تھا۔۔
امن نے گہری سانس لی اور نرمی سے بولا۔
میں جانتا ہوں، امل۔۔۔ لیکن عدالت میں ریپر یہی کہے گا کہ تم نے خود دستخط کیے تھے۔ اِسی لیے میں کوئی بھی غلط قدم نہیں اُٹھا سکتا۔۔ جس سے ہمارا نقصان ہو۔۔
اسی دوران دروازہ دستک دیے بغیر ہی نہات کمرے میں داخل ہو گیا۔ وہ ہمیشہ کی طرح بغیر ناک کیے اندر آیا تھا۔ آخر امن کا کمرہ اس کے لیے کوئی اجنبی جگہ تو تھا نہیں۔۔۔ وہ تو اسے تقریباً اپنا ہی کمرہ سمجھتا تھا۔ وہ ہر بار بنا ناک کیے ہی اُس کے کمرے میں گھس آیا تھا۔۔۔
نہات نے اندر آتے ہی دونوں کو دیکھا، پھر اچانک رک گیا۔
اووپس۔۔۔ مجھے ناک کر کے آنا چاہیے تھا کیا؟
امن نے اسے گھورا۔
تمہارا۔۔۔ پاؤں تمہارے اپنے گھر میں نہیں ٹکتا کیا؟
نہات نے فوراً پلٹ کر جواب دیا۔
دیکھو تو بول کون رہا ہے۔۔۔ جو سارا دن مجھے یہاں رہنے کا کہتا رہتا ہے۔
پھر اس کی نظر امل پر پڑی۔ وہ چند لمحے اسے غور سے دیکھتا رہا، پھر شرارتی انداز میں بولا۔
آج پھر کس چیز کے سوگ میں اپنی بلیوں جیسی آنکھوں سے آنسو بہا رہی ہو؟
امل نے جلدی سے کہا۔ اُس کی صرف آنکھیں نم تھی رو نہیں رہی تھی وہ۔۔۔
نہیں۔۔۔ میں رو تو نہیں رہی۔
نہات نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
اچھا؟ تو پھر آئینے میں اپنی شکل دیکھو۔۔۔ ایسی لگ رہی ہو جیسے ابھی رو دو گی۔
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر مسکرا کر بولا۔
ایک تو پوری دنیا بڑی ہو جائے گی۔۔۔ لیکن تم بڑی نہیں ہو گی۔
امل نے اسے گھورا، پھر بےاختیار اٹھ کر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور اپنا چہرہ غور سے دیکھنے لگی۔
چند لمحوں بعد وہ دونوں کی طرف مڑی اور بال سنوارتے ہوئے بولی۔
ویسے۔۔۔ میں روتے ہوئے بھی بہت پیاری لگتی ہوں نا؟
نہات نے فوراً دونوں کانوں کو ہاتھ لگایا۔۔۔
استغفراللہ۔۔۔!
اپنے رونے کو اب ایسے justify نہیں کرنا۔
نہات نے امل کو دیکھتے ہوئے کہا۔
روتے ہوئے بھلا کون حسین لگتا ہے۔۔۔؟ بتاؤ بھائی۔
امن نے بےتکلفی سے امل کی طرف دیکھا۔
ہاں۔۔۔
امل فوراً خوش ہو کر بولی۔
لیکن میں لگتی ہوں! دیکھیں تو ذرا۔۔۔ ہائے…
وہ آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے مسکرائی، پھر دونوں کی طرف دیکھ کر ناک چڑھائی۔
آپ دونوں کی آنکھیں ہی خراب ہیں۔
نہات نے فوراً امن کی طرف دیکھا۔
ویسے بھائی۔۔۔ تم ذرا رو کر دکھاؤ، میں چیک کروں ذرا کہ تم روتے ہوئے کیسے لگتے ہو؟
امن نے اسے گھورا۔
نہات۔۔۔ پاگل ہو گئے ہو تم؟
امل فوراً ہنس پڑی۔
قسم سے نہات بھائی۔۔۔ آپ کی جو بھی بیوی ہوگی نہ وہ امن بھائی سے بہت جیلس ہوگی۔
نہات نے بڑے اطمینان سے کندھے اچکائے۔
ہونے دو۔۔۔ لڑکیاں جیلس نہیں ہوں گی تو اور کون ہوگا؟ مجھے تو مزہ آئے گا اسے جیلس کرنے میں۔
امن نے فوراً بات پکڑ لی۔
جیسے یسریٰ کو تنگ کرنے میں تمہیں مزہ آتا ہے؟
نہات نے ایک دم اسے دیکھا۔
ابھی وہ کہاں سے آ گئی ہمارے بیچ؟
امل نے شرارت سے مسکرا کر کہا۔
بلاؤں میں اسے؟
امل کی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
امن نے فوراً کہا۔
آ جاؤ۔
دروازہ کھلا اور یسریٰ اندر آ گئی۔
نہات نے اسے دیکھتے ہی بڑبڑایا
لو۔۔۔ ہو گئی لمبی عمر اس کی۔
یسریٰ نے فوراً جواب دیا۔
نہیں، میری عمر چھوٹی ہے۔۔۔ بس تئیس سال کی ہوں میں۔
ایک لمحے کے لیے کمرے میں خاموشی چھائی۔۔۔ پھر امل اور امن دونوں بےاختیار ہنس پڑے۔ اور نہات بے بسی سے یسریٰ کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔
نہات نے یسریٰ کو دیکھتے ہوئے حیرت سے سر ہلایا۔
کوئی اتنا معصوم کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔
امل بھی فوراً بولی
اور پھر سارا کا سارا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔
امن نے بھی یسریٰ کی طرف دیکھتے ہوئے بالکل سنجیدہ انداز میں کہا۔
دیکھو۔۔۔ ایسے ہو سکتا ہے۔
اگلے ہی لمحے تینوں ایک ساتھ ہنس پڑے۔
یسریٰ نے تینوں کو باری باری دیکھا، پھر قدرے خفگی سے بولی۔
کیا میں آپ تینوں کے لیے انٹرٹینمنٹ ہوں؟
امل فوراً بولی ارے نہیں تو۔۔۔
یسریٰ نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
تو پھر؟
امن نے  سنجیدی سے کہا۔
تو پھر کچھ نہیں۔۔۔ بتاؤ، کس لیے آئی تھی؟
یسریٰ کو جیسے اچانک اپنی آمد کا مقصد یاد آیا۔
دادی جان آپ لوگوں کو کھانے پر بلا رہی ہیں۔۔۔ اسی لیے آئی تھی میں۔
نہات کو جیسے اچانک کچھ یاد آیا۔ وہ فوراً بولا۔
اوہ ہاں۔۔۔ میں بھی اسی لیے آیا تھا۔
امل نے حیرت سے اسے دیکھا۔
ہمیں بلانے؟
نہات نے فوراً سر ہلایا۔
ہمیں نہیں۔۔۔ صرف امن بھائی کو۔
امل نے آنکھیں گھما کر  طنزیہ انداز میں کہا
لیکن امن بھائی کو دیکھتے ہی بھول گئے؟
نہات نے بےساختہ امل کی طرف دیکھا۔
نہیں۔۔۔ تمہیں روتے دیکھا تو بھول گیا۔
امن نے دونوں کو گھورتے ہوئے کہا۔
ہو گیا دونوں کا؟ تو چلو اب۔۔۔
نہات جیسے ہی کمرے سے نکلنے لگا، اچانک پلٹا اور یسریٰ کے پاس پہنچ کر رک گیا۔
آؤ۔۔۔ نیچے باقی کی انٹرٹینمنٹ وہاں کریں گے۔
یسریٰ نے خفگی سے اسے گھورا، مگر نہات مسکراتا ہوا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
امل فوراً یسریٰ کے پاس آئی اور ہنستے ہوئے بولی۔
ارے۔۔۔ مذاق کر رہے۔۔
یہ کہتے ہوئے امل نے یسریٰ کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ لے گئی۔۔۔
یسریٰ ابھی بھی خفگی سے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی، جبکہ امل اسے ساتھ لیے ہنستی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

+++++++++++++++

ڈائننگ ٹیبل پر سب ہی موجود تھے۔ گھر کا ماحول عام دنوں کی نسبت کچھ ہلکا پھلکا تھا۔
امن نے ذرا سا نہات کی طرف جھک کر اس کے کان کے قریب دھیمی آواز میں پوچھا۔
اسے کھانا دے کر آئے ہو؟
نہات نے بےفکری سے جواب دیا۔
آپ کی مہربانی سے آپ میرے گھر کو اس کے نام کر چکے ہیں۔۔۔ اب وہ پورے گھر میں گھوم رہی ہے، خود لے لے گی۔
امن نے اسے گھور کر دیکھا۔
تم بھی نا۔۔۔
اتنے میں سنان کی آواز آئی۔ وہ پاس کھڑے ملازم سے کہہ رہا تھا۔۔۔
بس ایک کولڈ ڈرنک۔۔۔
امن نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
ہاں۔۔۔ ایک سے زیادہ نہیں ملے گی۔
سنان نے فوراً منہ بنایا۔
نہیں بھائی۔۔۔ ایک میں میرا گزارا نہیں ہوتا۔
زرقان نے کھانا کھاتے ہوئے بےنیازی سے کہا۔
ابھی جو مل رہا ہے نا۔۔۔ اسے اللہ کی نعمت سمجھ۔
سنان نے فوراً ضد کی۔
میں نہیں کھا رہا کھانا۔۔۔ ایک اور کولڈ ڈرنک لا کر دو مجھے۔
امن نے بغیر کسی تاثر کے کہا۔
اٹھاؤ۔۔۔ اس کے سامنے سے یہ کولڈ ڈرنک بھی لے جاؤ۔
سنان فوراً سیدھا ہو کر بولا۔
ارے نہیں، نہیں۔۔۔ رہنے دو۔ ایک میں ہی گزارا کر لوں گا۔
زرقان کے منہ سے اچانک ہنسی نکل گئی۔
سنان نے اسے گھورا۔
تجھے زیادہ ہنسی آ رہی ہے؟
زرقان نے جان بوجھ کر ہنسی اور بڑھا دی۔
ہاں۔۔۔ دیکھ، ہاہاہاہا۔۔۔
امن نے دونوں کو سخت نظروں سے دیکھا۔
خاموشی سے کھانا کھاؤ، دونوں۔ کھاتے وقت باتیں نہیں کرتے۔
دونوں چند لمحوں کے لیے خاموش ہوئے ہی تھے کہ زرقان نے دوبارہ سنان کی طرف دیکھ کر کہا۔
اور ہاں بھائی۔۔۔ اس کو سمجھا لو، یہ میرے کام کے اندر نہ گھسا کرے۔
سنان نے فوراً جواب دیا۔۔
ابے، ہاتھ! مجھے کوئی شوق نہیں تیرے کام کے اندر گھسوں۔۔۔ تو خود میرے کام کے اندر گھستا ہے۔
زرقان نے بھنویں چڑھائیں۔
اور تو مجھے آرڈر دیتا ہے۔۔۔
سنان نے پورے اعتماد سے کہا۔
ہاں۔۔۔ میں آرڈر دیتا ہوں تجھے کہ تو میرے کام کے اندر نہ گھسا کر۔
زرقان نے بڑے فخر سے کرسی سے ٹیک لگائی۔
میں نا۔۔۔ اپنی زندگی کا بادشاہ ہوں۔ خود ہی خود کو آرڈر دیتا ہوں۔ کسی اور کے آرڈر کی میرے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔
امن نے دونوں کو گھور کر دیکھا۔
دونوں پاگل تو نہیں ہو؟
سنان نے فوراً زرقان کی طرف اشارہ کیا۔
میں تو نہیں ہوں۔۔۔ یہ ہوگا۔
زرقان نے بھی دیر نہیں کی۔
تو ہے پاگل۔
امن نے دونوں کو ایسی نظروں سے گھورا کہ اگلے ہی لمحے دونوں خاموش ہو گئے۔
اور پھر سب دوبارہ خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے۔۔۔

+++++++++++++++

امن اُس وقت صرف دس سال کا تھا۔۔۔
ہسپتال کی راہداری میں سفید روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ دیواروں پر لگی مدھم روشنیاں، دور کہیں مشینوں کی مسلسل بیپ۔۔۔ اور اس سب کے درمیان ایک بینچ پر افتخار صاحب اور مرتضیٰ صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔
دونوں اب بھی بحث میں مصروف تھے۔
امن انہی کے قریب بینچ پر خاموش بیٹھا تھا۔۔۔ مگر دونوں اس کی موجودگی سے بےخبر تھے۔
افتخار صاحب نے قدرے شکوہ بھرے لہجے میں کہا۔
آٹھ سال بعد تمہاری بیوی نے خوشخبری دی بھی تو اس کی۔۔۔
مرتضیٰ صاحب نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
آپ کو پوتا بھی تو اسی نے دیا ہے۔
افتخار صاحب نے فوراً کہا۔
ایک اور دے دیتی تو ہمارے بیچ یہ لڑائی ختم ہو جاتی۔
مرتضیٰ صاحب نے بےزاری سے انہیں دیکھا۔ چہرے پر صاف پریشانی تھی، اور اس وقت وہ کسی بحث کے موڈ میں بالکل نہیں تھے۔
ہم ہسپتال میں ہیں اس وقت۔۔۔ ابھی تو خیال کر لیں۔ بیٹا، بیٹی میں فرق کر رہے ہیں۔
افتخار صاحب نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
ہم نے کب بیٹا، بیٹی میں فرق کیا ہے؟ بیٹیاں بھی اللہ کی رحمت ہوتی ہیں۔
مرتضیٰ صاحب کی آواز میں اس بار تھکن کے ساتھ دکھ بھی شامل ہو گیا۔
صرف یہ کہہ دینے سے کام نہیں چل جاتا کہ بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں۔۔۔ اپنے رویے میں بھی دکھانا پڑتا ہے۔
افتخار صاحب چند لمحے خاموش رہے، پھر قدرے نرم لہجے میں بولے۔
ہم بہت خوش ہیں کہ تم پر اللہ کی رحمت ہے۔۔۔
وہ ایک لمحے کو رکے۔
ہم بس چاہتے تھے تمہارے گھر ایک اور اولاد، بیٹا ہو۔۔۔ تاکہ امن ہمارا وارث بن سکے۔
امن کے ننھے چہرے پر الجھن پھیل گئی۔
وہ خاموشی سے اپنے باپ اور دادا کو دیکھتا رہا۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ خود کس چیز کا وارث تھا۔۔۔ اور کیوں؟
دونوں بڑے اپنی گفتگو میں مصروف تھے، جبکہ آٹھ سالہ امن خاموشی سے ان کی ہر بات سنتا رہا۔
اچانک ہسپتال کی راہداری کی آوازیں مدھم ہونے لگیں۔۔۔
مشینوں کی بیپ دور ہوتی گئی۔۔۔
افتخار صاحب اور مرتضیٰ صاحب کی آوازیں بھی جیسے کسی گہرے کنویں سے آنے لگیں۔
امن نے انہیں پکارنے کے لیے منہ کھولا۔۔۔
مگر آواز ہی نہیں نکلی۔
اگلے ہی لمحے سب کچھ دھندلا گیا۔۔۔
امن نے دھند میں ہاتھ بڑھایا۔۔۔ جیسے افتخار صاحب کو روکنا چاہتا ہو۔
دادا۔۔۔
مگر اس بار بھی آواز اس کے حلق سے باہر نہ نکل سکی۔
اچانک ہسپتال کے دوسرے سرے سے ایک ننھی سی رونے کی آواز سنائی دی۔
امن نے چونک کر ادھر دیکھا۔
وہ آہستہ آہستہ اس آواز کی طرف بڑھنے لگا۔
راہداری پہلے سے زیادہ لمبی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ قدم آگے بڑھ رہے تھے، مگر وہ آواز جیسے ہر بار اس سے کچھ اور دور ہوتی جا رہی تھی۔
امن نے پھر اپنے پیچھے دیکھا۔
افتخار صاحب اور مرتضیٰ صاحب اب وہاں نہیں تھے۔
بینچ خالی تھا۔۔۔
وہ گھبرا کر دوبارہ آگے بڑھا۔
پھر ایک کمرے کے دروازے کے سامنے جا کر رک گیا۔
دروازہ آدھا کھلا تھا۔
اندر سے کسی عورت کی مدھم آواز آ رہی تھی۔
بیٹا ہو یا بیٹی۔۔۔ اولاد تو اولاد ہوتی ہے۔
امن دروازے کے قریب گیا۔
اس نے اندر جھانکا، مگر اندر موجود چہرے صاف دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ سب کچھ دھندلا تھا۔۔۔ جیسے کسی نے جان بوجھ کر منظر پر پردہ ڈال دیا ہو۔
پھر افتخار صاحب کی آواز دوبارہ سنائی دی۔
امن ہمارا وارث بنے گا۔۔۔
امن نے بےاختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
میں۔۔۔؟
اس کی ننھی آواز اس بار خود اسے سنائی دی۔
میں کس چیز کا وارث ہوں؟
اچانک کمرے کے اندر موجود تمام آوازیں خاموش ہو گئیں۔
ایک لمحے کے لیے مکمل سکوت چھا گیا۔
پھر کسی نے بہت دھیمی آواز میں کہا۔
وارث بننے کے لیے صرف نام کافی نہیں ہوتا۔۔۔
امن نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا۔
کون۔۔؟
کوئی جواب نہیں آیا۔
وہ دوبارہ دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اچانک اندر سے ایک زور دار آواز آئی۔
امن۔۔۔
وہ ایک دم رک گیا۔
یہ آواز کس کی تھی؟
امن۔۔۔
اس بار آواز زیادہ قریب تھی۔
وہ پلٹ کر دیکھنے لگا۔۔۔
اور اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔
امن نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں۔
سانس تیز چل رہی تھی۔۔۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
چند لمحے وہ خاموشی سے چھت کو دیکھتا رہا، جیسے ابھی تک خواب اور حقیقت کے درمیان فرق سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اچانک اس کے سر میں ایک تیز درد اٹھا۔۔۔
امن نے بےاختیار اپنی آنکھیں بھینچ لیں۔
آہ۔۔۔
درد جیسے اگلے ہی لمحے کئی گنا بڑھ گیا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیے۔ کنپٹیاں جیسے پھٹنے لگی تھیں۔۔۔ آنکھوں کے پیچھے بھی شدید دباؤ محسوس ہو رہا تھا۔
وہ تڑپ کر ایک طرف پلٹا۔
اہ۔۔۔
اس کے ہونٹ ہلے، مگر آواز حلق سے باہر نہ نکل سکی۔
امن نے پوری قوت سے چیخنے کی کوشش کی۔
آ۔۔۔
مگر صرف بےآواز سانس اس کے سینے سے نکلی۔
اس نے دوبارہ چیخنے کی کوشش کی۔
مگر اس کی آواز جیسے اس کے اپنے گلے میں کہیں قید ہو گئی تھی۔
وہ بستر پر بےچینی سے کروٹیں بدلنے لگا۔ کبھی ایک طرف پلٹتا، کبھی دوسری طرف۔۔۔ دونوں ہاتھ سر پر رکھے کبھی اسے دباتا اور کبھی انگلیاں بالوں میں گاڑ دیتا۔
درد۔۔۔ بہت زیادہ تھا۔
اتنا کہ آنکھوں سے بےاختیار آنسو نکل آئے۔
امن نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی، مگر سامنے سب کچھ دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔
وہ کسی کو بلانا چاہتا تھا۔۔۔
کسی بھی شخص کو مگر زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
اس نے پھر پوری قوت سے چیخنے کی کوشش کی۔
مگر آواز پھر بھی نہ نکلی۔
صرف اس کے سینے سے ایک گھٹی ہوئی سسکی نکلی۔
آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
وہ بےبسی سے سر ہلاتا رہا، جیسے خود کو یقین دلانا چاہتا ہو کہ سر ہلانے سے درد ختم ہوجائے گا۔۔۔
اس نے آنکھیں زور سے بند کر لیں۔
ایک آنسو اس کی کنپٹی سے پھسلتا ہوا تکیے میں جذب ہو گیا۔
وہ تڑپتا رہا۔۔۔ کسی کو پکارنے کی کوشش کرتا رہا۔۔۔
امن نے چند لمحوں بعد خود کو اٹھانے کی کوشش کی۔
ایک ہاتھ بستر پر ٹکایا اور دوسرے سے سر مضبوطی سے پکڑ لیا۔
آہ۔۔۔!
جیسے ہی اس نے ذرا سا جسم اٹھایا، سر میں درد کی ایک اور شدید لہر دوڑ گئی۔
وہ فوراً رک گیا۔
نہیں۔۔۔
اس نے آنکھیں زور سے بند کر لیں اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔ انگلیاں بالوں میں الجھ گئیں، جیسے وہ اس درد کو اپنے ہاتھوں سے دبا کر روک دینا چاہتا ہو۔
لیکن درد رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
وہ دوبارہ اٹھنے کی کوشش کرتا۔۔۔ پھر درد کے مارے جھک جاتا۔
سانس بےترتیب ہو چکی تھی۔
اس نے سر کو دونوں ہتھیلیوں کے درمیان دبا لیا، ماتھے کو گھٹنوں سے لگانے کی کوشش کی۔۔۔ مگر کسی پوزیشن میں سکون نہیں مل رہا تھا۔
آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
وہ کسی کو بلانا چاہتا تھا۔
مدد مانگنا چاہتا تھا۔
مگر گلا اب بھی آواز دینے سے انکار کر رہا تھا۔
امن نے لرزتے ہوئے ہونٹ کھولے۔
ک۔۔۔ کوئی۔۔۔
صرف ایک بےآواز سی سانس نکلی۔
وہ بےبسی سے آنکھیں بند کر کے دوبارہ سر کو دونوں ہاتھوں میں دبا کر لیٹ گیا۔
درد اتنا شدید تھا کہ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ پہلے سر پکڑے، سانس سنبھالے یا خود کو اس تکلیف سے بچائے۔

کاش۔۔۔ کوئی اس تکلیف کے وقت اُس کے پاس فرشتہ بن کر آجائے۔۔۔ کاش کوئی بنا بلائے اس کے پاس آجائے۔۔۔

مگر کیسی بے بسی تھی کہ وہ کسی کو بلانا بھی چاہتا تھا۔۔۔ اور بلا بھی نہیں پا رہا تھا۔
وہ چیخنا چاہتا تھا۔۔۔ کسی کو پکارنا چاہتا تھا۔۔۔ بس چاہتا تھا کہ کوئی آ جائے۔
مگر اُس کے گلے سے آواز تک نہیں نکل رہی تھی۔
وہ اسی طرح کافی دیر تک تڑپتا رہا۔۔۔
کبھی سر دونوں ہاتھوں میں دبا لیتا۔۔۔ کبھی آنکھیں زور سے بند کر لیتا۔۔۔ مگر درد کم ہونے کے بجائے اور بڑھتا گیا۔
آخرکار اس کی ہمت جواب دے گئی۔
پلکیں بوجھل ہوئیں۔۔۔
سانس بےترتیب ہوئی۔۔۔
اور پھر۔۔۔ وہ بے ہوش ہو گیا۔

++++++++++++++

جب امن نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں تو سب سے پہلے سفید چھت اس کی نظروں کے سامنے ابھری۔
سر بھاری تھا۔۔۔ مگر وہ شدید درد، جس نے کچھ دیر پہلے اسے بےبس کر دیا تھا، اب کہیں غائب ہو چکا تھا۔
اس نے پلکیں جھپکائیں، نگاہ ذرا سی گھمائی تو احساس ہوا کہ وہ اکیلا نہیں تھا۔
اس کے اردگرد اُس کے اپنے لوگ موجود تھے۔
وہ لوگ۔۔۔ جنہیں ایک ساتھ اتنا فکرمند دیکھنے کا موقع شاید صرف ایسے ہی حالات میں ملتا تھا۔
اس کے دائیں جانب انیسہ بیگم بیٹھی تھیں۔ ایک ہاتھ امن کے سر پر رکھے مسلسل کچھ پڑھ رہی تھیں، جیسے ان کی دعاؤں میں ہی اس کے ٹھیک ہونے کی ضمانت چھپی ہو۔ ان کے ساتھ امل بیٹھی تھی، جس کی آنکھوں میں فکر اب بھی صاف دکھائی دے رہی تھی، جبکہ ان دونوں کے پیچھے یسریٰ خاموش کھڑی تھی۔
بائیں طرف نہات اس کا ہاتھ تھامے بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر وہ معمول کی شوخی نہیں تھی۔۔۔ اس وقت وہ واقعی پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے ساتھ افتخار صاحب بیٹھے تھے، جن کی نظریں بار بار امن کے چہرے پر اٹھ رہی تھیں۔
اور بستر کے قریب، اس کے پاؤں کی طرف زرقان اور سنان بھی موجود تھے۔
دونوں کے چہروں پر بظاہر معمول کی سنجیدگی تھی، مگر ان کی نظریں بار بار امن کی طرف اٹھ رہی تھیں۔
جیسے ہی امن کی آنکھیں پوری طرح کھلیں، سب کی توجہ فوراً اس کی طرف ہو گئی۔
ان چہروں پر جیسے ایک ساتھ زندگی لوٹ آئی۔
نہات نے بےاختیار اس کا ہاتھ مزید مضبوطی سے تھام لیا۔
بھائی۔۔۔ ہوش آ گیا؟
امن نے اسے دیکھا، پھر اٹھنے کی کوشش کی۔ اس بار سر میں درد نہیں تھا، البتہ جسم میں کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے ہاتھ کا سہارا لے کر خود کو اٹھایا اور بستر کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
انیسہ بیگم فوراً اس کی طرف جھکیں۔
ارے، کیا ہوا تھا تجھے؟ اچانک بےہوش کیسے ہو گیا تھا؟
سنان نے ایک لمبی سانس خارج کی۔
مجھے تو لگا تھا تم گئے۔۔۔ اوپر…
زرقان نے فوراً اسے گھورا۔
ابے پاگل! چپ کر۔
سنان نے اسے دیکھا، مگر اس بار بحث کرنے کے بجائے خاموش ہو گیا۔
افتخار صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔
تم آٹھ گھنٹے سے بےہوش تھے، امن۔
امن کی نگاہ اپنے ہاتھ کی طرف گئی تو اسے وہاں ڈرِپ لگی نظر آئی۔ اس نے چند لمحے اسے دیکھا،
امل فوراً اس کے قریب ہوئی۔
بھائی۔۔۔ آپ کو کچھ یاد آیا؟
امن کی نگاہ اس کے چہرے پر ٹھہر گئی۔
ہاں۔
صرف ایک لفظ تھا۔
مگر اس ایک لفظ نے کمرے میں موجود کئی لوگوں کی سانسیں جیسے روک دی تھیں۔
انیسہ بیگم کے ہونٹوں پر جاری دعا رک گئی۔ افتخار صاحب کے چہرے پر تناؤ ابھر آیا، جبکہ نہات نے بےیقینی سے امن کو دیکھا۔
افتخار صاحب نے فوراً پوچھا۔
کیا۔۔۔ کیا یاد آیا؟
سنان نے حیرت سے سب کو دیکھا۔
کیوں؟ تمہاری یادداشت کب گئی۔۔؟؟
امل نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
نہیں نا، سنان بھائی۔۔۔ امن بھائی کو اپنے بچپن کا کچھ بھی یاد نہیں ہے۔
زرقان نے الجھن سے پوچھا۔
کیوں؟
افتخار صاحب نے فوراً بات کاٹ دی۔
اس سے زیادہ سوال نہیں کرو۔ اگر اس نے زبردستی یاد کرنے کی کوشش کی تو اس کے دماغ پر اثر پڑ سکتا ہے۔۔۔ حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔
یہ سنتے ہی فوراََ سنان بول پڑا۔۔
ارے، چھوڑو بھی! جو گزر گیا، سو گزر گیا۔ اب یاد کر کے کیا فائدہ؟ اور ویسے بھی یاد آئے گا تو بھی وہی ٹیچر اور ٹیچر سے مار کھاتے ہوئے تم۔۔۔
امن نے فوراً اسے دیکھا۔
میں اپنی کلاس کا برلینٹ اسٹوڈنٹ تھا۔
زرقان نے بےتاثر انداز میں لقمہ دیا۔
دیکھ۔۔۔ صرف تو ہی نالائق تھا۔
امن نے اسے گھورا۔
سنان نے فوراً پھر سے بول پڑا۔۔۔
او ہیلو! جس نے ٹیچر سے مار نہیں کھائی، اس نے اپنا بچپن برباد کیا۔
امن نے ایک ابرو اٹھائی۔
اچھا۔۔۔؟
زرقان نے سنان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
سیکھ لو سب اس سے۔۔۔ اپنی ہر بات کو جسٹیفائی کیسے کرتے ہیں۔
امل کے ہونٹوں پر ہنسی آ گئی۔ نہات بھی اپنی مسکراہٹ نہ روک سکا، حتیٰ کہ کمرے میں پھیلی پریشانی کے درمیان افتخار صاحب کے چہرے پر بھی ہلکی سی نرمی آ گئی۔
چند لمحوں کے لیے ماحول معمول پر لوٹتا محسوس ہوا۔
پھر نہات نے امن کی طرف دیکھا۔
لیکن بھائی۔۔۔ یاد کیا آیا تھا آپ کو؟
امن کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ مدھم پڑ گئی۔
اس کی نظریں چند لمحوں کے لیے کہیں دور جا ٹھہریں۔۔۔ جیسے وہ ذہن میں ابھرتے ایک دھندلے منظر کو دوبارہ دیکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
وہ۔۔۔ ہسپتال۔
امن نے افتخار صاحب کی طرف دیکھا۔
دادا۔۔۔ ہم ہسپتال میں کیا کر رہے تھے؟
افتخار صاحب کے چہرے کے تاثرات ایک لمحے کے لیے بدلے، مگر انہوں نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔
میں۔۔۔ آپ اور پاپا؟ امن کی آواز میں الجھن بڑھ گئی۔
اور وارث؟
یہ لفظ سنتے ہی افتخار صاحب کی انگلیاں بےاختیار ایک دوسرے میں الجھ گئیں۔
امن نے ان کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
آپ لوگ وارث کی باتیں کیوں کر رہے تھے؟ کس چیز کے وارث؟
وہ ذرا سا آگے ہوا۔
آپ کی جائیداد کا وارث تو میں ہی بنتا تھا نا۔۔۔ پھر آپ پاپا سے اس بات پر بحث کیوں کر رہے تھے؟
چند لمحوں کے لیے افتخار صاحب کے پاس جواب نہیں تھا۔
پھر انہوں نے ہلکی سی بےنیازی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
ارے، وہ کوئی خاص بات نہیں تھی۔ مرتضیٰ کہہ رہا تھا کہ وہ تمہیں لے کر باہر چلا جائے گا۔ ہم اسے یہی سمجھا رہے تھے کہ تم ہمارے وارث ہو۔۔۔ ہماری اتنی ساری جائیداد ہے، اس کا وارث کون بنے گا پھر؟
سنان نے فوراً بات پکڑ لی۔
تو بڑے ہو کر واپس آ جاتے نا، بھائی! کون سا وہ بھائی کو باہر لے جا کر دفن کر دیتے۔۔
افتخار صاحب نے غصے سے اس کی طرف دیکھا، مگر اگلے ہی لمحے خود پر قابو پا لیا۔
وہ۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ہم باہر ہی سیٹل ہو جائیں گے۔ واپس نہیں آئیں گے۔۔۔ اسی لیے بات بڑھ گئی تھی۔
امن خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔
سنان پِھر فوراََ بولا کیوں۔۔۔؟؟؟
پھر آہستہ سے بولا۔
کیونکہ انہیں سیاست سے نفرت تھی۔
نہات نے حیرت سے اسے دیکھا۔
تمہیں یہ بات یاد ہے، بھائی؟
امن نے اثبات میں سر ہلایا۔
یہ بات میں کبھی بھولا ہی نہیں تھا۔
مجھے اپنے پاپا کی ایک ایک پسند اور ناپسند اچھی طرح یاد ہے۔
اس نے نظریں جھکا لیں۔
ان کی ہر بات۔۔۔ ہر عادت۔
امل خاموشی سے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی۔ شاید اسے پہلی بار احساس ہو رہا تھا کہ امن کے اندر اس کے والد کی کتنی یادیں اب بھی محفوظ تھیں، چاہے بچپن کے بہت سے دوسرے حصے اس کے ذہن سے مٹ چکے تھے۔
سنان نے فوراً ماحول ہلکا کرنے کی کوشش کی۔
اور۔۔۔ اور کیا یاد آیا؟
افتخار صاحب نے اسے گھورا۔
ایک تو تمہیں سب کچھ جاننا ہوتا ہے۔۔۔
سنان نے کندھے اچکائے۔
ہاں تو۔۔۔
امن نے دوبارہ افتخار صاحب کی طرف دیکھا۔
لیکن دادا۔۔۔ میں ہسپتال میں کیوں تھا؟
افتخار صاحب نے ایک لمحے کے لیے نظریں چرائیں، پھر جواب دیا۔
ارے، یکم نومبر کا دن تھا۔۔۔ تمہاری بہن کی پیدائش کا دن۔ تم مرتضیٰ کے ساتھ باہر گئے ہوئے تھے۔ پھر اچانک ایمرجنسی ہو گئی تو مرتضیٰ وہیں سے ہسپتال آ گیا تھا۔ بس، کوئی بڑی بات نہیں تھی۔
امل کی آنکھیں پھیل گئیں۔
اوہ۔۔۔
نہات نے امن کی طرف دیکھا۔
بس؟ اتنا ہی یاد آیا؟
امن نے سر ہلایا۔
ہاں۔۔۔ پھر سر میں درد ہونے لگا تھا۔
انیسہ بیگم فوراً اس کے قریب ہوئیں۔
زیادہ زور تو نہیں پڑ رہا تھا نا؟ میں کہتی ہوں، نہ یاد کیا کر یہ سب۔ چھوڑ دے جو بھول گیا۔۔۔ بھول گیا۔
امل نے بھی فوراً بولی
ہاں بھائی۔۔۔ ہمیں وہ سب یاد نہیں کرنا۔ ہمارے لیے آپ کا ٹھیک رہنا زیادہ ضروری ہے۔
امن نے امل کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
پھر اس نے اچانک پوچھا۔
کتنا وقت ہوا ہے؟ مُجھے ابھی بہت کام بھی ہے۔۔۔
سنان نے فوراً جواب دیا۔
دو بجنے والے ہیں۔
پھر اپنی نیند کا ماتم کرتے ہوئے بولا۔
اور سنان صبح نو بجے سے اٹھا ہوا ہے۔۔۔ صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔
زرقان نے اسے گھورا۔
سب کام چھوڑو، بھائی۔۔۔ پہلے اس کا دکھ دیکھ لو۔ تمہارے دکھ سے بڑا اس کا دکھ ہے۔
سنان نے فوراً احتجاج کیا۔
ہاں تو۔۔۔
امن نے اس کی طرف دیکھا۔
کیوں؟ کیا دکھ ہے تمہیں، سنان؟
زرقان نے جواب دینے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔
اس کا دکھ یہ ہے کہ تمہاری وجہ سے اسے صبح نو بجے اٹھنا پڑا۔۔۔ کیونکہ تم بےہوش ہو گئے تھے۔
امن نے سنان کو دیکھا۔
تو اسے اٹھایا کس نے تھا؟
سنان نے بےحد معصومیت سے جواب دیا۔
وہ۔۔۔ مجھے لگا تم ٹپک گئے۔
امل نے اپنا ماتھا پیٹنے سے خود کو بمشکل روکا۔
بھائی، چھوڑ دیں ان دونوں کو۔۔۔ پاگل ہیں یہ۔۔۔
زرقان فوراً اس کی طرف مڑا۔
میں نے کیا کیا؟ مجھے کیوں پاگل بولا؟
امن نے تنگ آ کر ہاتھ اٹھایا۔
بس! تم سب یہاں سے مجھے جانے دو۔ پھر آرام سے بیٹھ کر لڑتے رہنا۔
نہات نے فوراً اسے دیکھا۔
کہاں جا رہے ہو؟
امن نے جیسے یہ سوال سنا ہی نہ ہو۔
مجھے ہزار کام ہیں ابھی۔ ویسے ہی میرا اتنا وقت ضائع ہو گیا ہے۔
انیسہ بیگم کا چہرہ فوراً سخت ہو گیا۔
ارے! آج آرام کر لے۔ کہیں نہیں جانا تو نے۔
امن نے ان کی طرف دیکھا۔
نہیں، دادی۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔
بالکل ٹھیک؟
انہوں نے بےیقینی سے اسے دیکھا۔
آٹھ گھنٹے بےہوش رہنے کے بعد بھی تجھے آرام کی فکر نہیں۔۔
امن نے ان کی بات نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔
مجھے ابھی پولیس اسٹیشن جانا ہے۔
نہات فوراً آگے ہوا۔
کیا کام ہے؟ مجھے بتاؤ، میں کر دوں گا۔
امن نے اسے ایسی گھوری ڈالی کہ نہات کی بات وہیں رک گئی۔
پھر اس نے قدرے بےبسی سے کہا۔
یار، کام کے علاوہ اپنی health بھی دیکھنی ہوتی ہے۔
امن نے ہاتھ میں لگی ڈرِپ کی طرف دیکھا، پھر نہات کو۔
حیدر علی۔۔۔ جاؤ، تم دونوں بھی اپنا کام کرو۔
اس کے بعد اس نے امل کی طرف دیکھا۔
امل، تم یونیورسٹی نہیں گئی؟
امل نے سر ہلا دیا۔۔
نہیں۔
امن کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
پڑھائی کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہو نا اب تم؟
امل نے فوراً منہ بنایا۔
بھائی۔۔۔
نمبر کم آیا نا، پھر بتاؤں گا تمہیں۔
سنان نے فوراً موقع غنیمت جانا۔
بھاگ جاؤ، بھاگ جاؤ! اس سے پہلے کہ تشدد شروع ہو جائے۔۔۔
یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
زرقان نے بھی اٹھتے ہوئے امن کو دیکھا۔
ویسے میرا مشورہ ہے کہ آج گھر پر رہ کر آرام کر لو۔ باقی تمہاری مرضی۔
وہ بھی باہر نکل گیا۔
امن نے ان کے پیچھے دیکھ کر سر جھٹکا، پھر افتخار صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔
دادا۔۔۔
افتخار صاحب سمجھ گئے کہ اب انہیں بھی جانا چاہیے۔
چلو، انیسہ۔ اب امن ٹھیک ہے۔
انیسہ بیگم نے ناگواری سے امن کو دیکھا۔
یہ ایک نہیں سنتا ہماری۔۔۔
افتخار صاحب نے انہیں تسلی دی۔
ارے، ٹھیک ہے۔ ڈاکٹر نے کہا تھا نا کہ ہوش آنے کے بعد طبیعت بہتر ہو جائے گی۔
وہ انیسہ بیگم کو ساتھ لے کر کمرے سے نکل گئے۔ امل بھی جاتے جاتے پلٹی اور اپنے بھائی کو ایک آخری فکر بھری نظر سے دیکھ کر ان کے پیچھے چلی گئی۔
یسریٰ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی۔
پھر آہستگی سے بولی۔
میں آپ کے لیے ناشتہ لے آؤں؟
امن نے سر ہلایا۔
ہاں، لے آؤ۔
یسریٰ بھی خاموشی سے کمرے سے نکل گئی۔
اب کمرے میں صرف امن اور نہات رہ گئے تھے۔
امن نے آہستہ سے نہات کی طرف گردن گھمائی۔
تمہیں جانے کے لیے الگ سے invitation card دوں؟
نہات نے جواب دینے کے بجائے اس کے ہاتھ میں لگی ڈرِپ کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا۔
یہ دیکھو۔
امن کی نظر ڈرِپ کی بوتل پر گئی۔ اس میں اب تھوڑا سا محلول باقی تھا۔
بس تھوڑی سی رہ گئی ہے۔۔۔ میں ناشتہ کرتے کرتے ختم ہوجائے گا۔۔۔
تب تک بیٹھ سکتا ہوں میں۔
امن نے اسے گھورا۔
نہات نے بےنیازی سے کندھے اچکائے۔
کیا ہے؟ تم ناشتہ کر لو۔۔۔ میں کوئی تمہارا ناشتہ تو نہیں کھا رہا۔
امن نے ایک گہری سانس لی اور سر تکیے سے ٹکا دیا۔
اس گھر میں سکون نام کی کوئی چیز باقی نہیں تھی۔
اور شاید۔۔۔ اسے سکون سے رہنے بھی کون دیتا؟

++++++++++++++++

زرقان اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔
بھائی، بہت اِنوسنٹ ہیں۔۔۔ انسان کو اتنا بھی اِنوسنٹ نہیں ہونا چاہیے۔
سنان اُس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا.
کیوں؟
بھائی، ہر انسان کے سامنے کھلی کتاب کی طرح بن جاتے ہیں۔
تو کیا نہیں بننا چاہیے؟
نہیں۔۔۔ تبھی تو اُنہیں اتنا خطرہ رہتا ہے۔
سنان نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد جواب دیا۔
وہ اسی لیے۔۔۔ کیونکہ آج تک اُنہیں کسی اپنے سے خطرہ نہیں رہا۔
زرقان نے چلتے چلتے اُس کی طرف دیکھا۔
مطلب؟
مطلب یہ کہ اُنہیں آج تک کبھی کسی اپنے سے دھوکا نہیں ملا۔
زرقان خاموش ہو گیا۔
شاید سنان کی بات درست تھی۔۔۔
امن دنیا کے لیے خطرہ ہو سکتا تھا، لیکن اپنوں کے معاملے میں خود کو خطرے سے محفوظ سمجھتا تھا۔…

++++++++++++++

نہات امن کے کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ افتخار صاحب، جیسے اُسی کے انتظار میں کھڑے تھے، اُسے دیکھتے ہی برس پڑے۔
تمہیں تو بڑا مزہ آ رہا ہوگا نا امن کی یہ حالت دیکھ کر؟ دل کی مراد پوری ہو رہی ہوگی تمہاری! یہی تو چاہتے تھے نا تم کہ وہ اس حال میں پہنچ جائے؟
نہات نے ایک نظر اُنہیں دیکھا اور آگے بڑھنے لگا۔
میں ابھی آپ سے بحث کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں۔
افتخار صاحب طنزیہ انداز میں بولے
تمہاری اوقات بھی کیا ہے کہ مجھ سے بحث کرو گے؟ پتا نہیں کس گندی نالی سے امن تمہیں اٹھا لایا تھا! نہ ماں کا پتا، نہ باپ کا، نہ خاندان کا نام، نہ کوئی پوچھنے والا! سڑک پر پڑے ہوئے تھے، امن کو ترس آ گیا تو تمہیں اٹھا کر اپنے ساتھ لگا لیا۔
نہات کے قدم ایک لمحے کے لیے رُکے، مگر اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
افتخار صاحب کی زبان جیسے رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
بڑے آئے امن کے دوست! دوست نہیں ہو تم اُس کے، اُس کی زندگی پر بوجھ ہو! جسے اپنے ماں باپ نے قبول نہیں کیا، وہ دوسروں کے رشتوں میں کیا وفا نبھائے گا؟ ارے، تمہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ تمہاری رگوں میں کس کا خون دوڑ رہا ہے، اور چلے ہو ایک سید کے برابر کھڑے ہونے…
نہات آہستہ سے پلٹا۔ اُس کے چہرے پر اب بےزاری نہیں، ایک سرد سا سکون تھا۔
ہو گیا؟ یا ابھی میرے ماں باپ کو بھی دو چار گالیاں دینی باقی ہیں؟
افتخار صاحب اُس کے لہجے پر مزید بھڑک اٹھے۔
زبان سنبھال کر بات کرو۔۔۔ تم جیسے بےنام و نشان لوگوں کو ہم جیسے خاندانوں کے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہونا چاہیے۔۔ نام کے آگے خان لگانے سے کوئی خان نہیں بن جاتا، سمجھ آئے؟ تمہارا تو نام لینے والا بھی کوئی نہیں۔۔۔
نہات کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ پھیل گئی۔
نام لینے والا کوئی نہیں؟ ذرا گھر سے باہر نکل کر دیکھیے ، پتا چل جائے گا کہ نہات خان کون ہے اور اُس کی کیا حیثیت ہے۔ نام اور عزت وراثت میں نہیں ملتے، کمانے پڑتے ہیں۔۔۔ اور میں نے دونوں اپنے بل پر کمائے ہیں۔ مجھے اپنی پہچان کے لیے کسی خاندان کے نام کی ضرورت نہیں۔
افتخار صاحب کچھ کہتے، اُس سے پہلے ہی نہات نے اُن کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بات جاری رکھی۔
اور رہی بات امن کی۔۔۔ تو یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لیجیے کہ امن ہی۔۔۔ صِرف امن ہی مجھے اٹھا کر لایا تھا، اور وہ میرا دوست ہے، میرا بھائی ہے۔۔۔ تو میں جو چاہوں اُس کے ساتھ کروں۔۔۔ آپ کا مسئلہ نہیں ہے یہ۔۔۔
افتخار صاحب کا چہرہ غصے سے سرخ پڑ گیا۔
اور اگر آپ کو اتنی ہی تکلیف ہو رہی ہے نا، تو روک لیجیے مجھے۔۔۔ اگر روک سکتے ہیں تو۔
یہ کہتے ہوئے وہ اُن کے پاس سے گزرنے لگا، مگر پھر رُک کر ایک آخری بات کہی۔
اور ہاں، آپ کی اطلاع کے لیے بتا دوں۔۔۔ نہات کے آگے خان میں نے خود نہیں لگایا، لوگوں نے دیا ہے مجھے یہ نام۔ کیونکہ خانوں والی بات ہے مجھ میں، وہی اکھڑ مزاجی، وہی اپنی مرضی کا مالک ہونا، اور وہی سر کٹ سکتا ہے، جھک نہیں سکتا۔۔۔۔
پھر اُس نے افتخار صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سخت لہجے میں کہا،
اور میری پرسنالٹی بولتی ہے، افتخار صاحب۔۔۔ مجھے اپنا تعارف کروانے کے لیے کسی خاندانی نام یا کسی بڑے سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
یہ کہتا ہوا نہات وہاں سے نکل گیا، جبکہ افتخار صاحب ہکا بکا اُسے جاتے ہوئے دیکھتے رہ گئے۔ اُن کی زبان جیسے لمحہ بھر کے لیے گنگ ہو گئی تھی۔
وہ نہات، جسے کبھی وہ ایک بےنام و نشان لڑکا سمجھ کر حقیر جانتے تھے، آج اُن کے سامنے سر اُٹھا کر کھڑا تھا۔۔۔ اپنی پہچان، اپنے اعتماد اور اپنے رعب کے ساتھ۔
افتخار صاحب کی نگاہیں اُس کے جاتے ہوئے وجود پر جمی رہ گئیں۔

++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *