ناول کا نام: میرا مقدر میرا اثاثہ
قلم از:ملائکہ مقبول احمد
انیسہ نے انوشے کے سر پر ہاتھ پھیرا اوراقی سب کو لے کر عظیم کے گھر چلی گئیں۔
ویسے تمھیں بات کر نے کی تمیز ہے نہیں یا پھر تم جان بوجھ کر ایسے کرتی ہو؟ زے نے اب انگلی کا اشارہ انوشے کی طرف کیا ۔
اہم ۔۔۔۔مجھے تو ہے پر لگتا ہے کہ تمھیں نہیں ہے کہ اپنے سے بڑوں کو سے ایسے بات کرتے ہیں ۔انہیں تم کہہ کر بلانا ہے یا پھر آپ ۔
انوشے نے اب اُس کی طرف دیکھ کر اپنے دونوں بازوں کو سمیٹ کر کہا ۔
اچھا اچھا اب تم دونوں بس کرو گی کیا؟ عکاشہ نے اُن دونوں کے درمیان میں کھڑی ہو کر کہا ۔
عکاشہ شکل وصورت سے یہ تو تم پر گئی ہے لیکن زبان درازی میں یہ کس پر گئی ہے ؟
انوشے نے اب کمرے میں واپس جاتے ہوئے کہا۔
جو جیسا ہوتا ہے میں اُس کے ساتھ بالکل ویسی ہی رہتی ہوں زے نے اُسے کمرے میں جاتے دیکھ کر کہا
اچھا اب بس بھی کر دو ۔ وہ تو مہمان ہے تم ہی تھوڑی شرم کر لو –
عکاشہ اب پوری طرح سے زے سے مخاطب تھی ۔
ہمممم …. زے نے اب عکاشہ کو کوئی جواب نہیں دیا ۔
زے دیکھو میری بات سنو – عکاشہ نے ایک لمبی اور گہری سانس بھر کر زے سے کہا۔ ہمم … بولو زے نے صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ کر کہا۔
دیکھو وہ مہمان ہیں وہ چاہئے تو ہمیں کچھ بھی کہہ سکتی ہیں لیکن ہمارا حق ہے کہ ہم عاجزی اور انکساری سے صرف اُن کی مہمان نوازی کریں نہ کہ اُن سے بد تمیزی کریں ۔
عکاشہ نے اب اُس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اُس کے برابر بیٹھ کر کہا ۔
ہم اچھا – زے نے اب اپنی بھوری آنکھوں کو گھما کر کہا ۔
اہم – – امید ہے کہ تم میری بات کو سمجھ گئی ہوگی تو چلواب میرے ساتھ چل کر انوشے سے معافی مانگو –
عکاشہ نے کھڑی ہو کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ کر کہا۔
کیوں؟ میں کیوں مانگو معافی ؟ میری کونسی غلطی ہے؟ میں نے تو ۔۔۔
عکاشہ نے اب اُسے گھورا تو وہ رکی۔
کیا — زے بے بسی سے بولی ۔ دیکھو وہ دوسرے ملک سے آئی یعنی کہ وہاں آپ جس سے چاہیں جیسے مرضی بات کریں ۔
اِس میں اُس کا تو کوئی قصور نہیں ہے اس لئے تم اُس سے معافی مانگو گی –
عکاشہ نے اب “تم” پر زور ڈالا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
عکاشہ – – – زے نے اپنا ایک پیر زمین پر پٹخا اور اُس کے پیچھے چلی گئی۔
و ہیں باقی سب اُن کے چچا کے گھر پہنچ چکے تھے۔
گھر میں کام کرنے کے لئے ملاز مین رکھے گئے تھے جو کہ جیسے جیسے مہمان آں یاں پھر اُٹھ رہے تھے اُنہیں ناشتہ کروا رہے تھے ۔
اسلام علیکم – – – ابلاج جب وہ لوگ گھر میں داخل ہونے لگے تو باسط نے اُسے دیکھ کر سلام کیا۔
او ہ۔۔۔۔ وعلیکم اسلام ابلاج نے اُسے دیکھ کر ہاتھ ملالیا ۔
ار زہن جو کہ اُن سب کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ گیا تھا اب ابلاج اور زائشان کے بیک وقت آواز دینے پر رُکا۔
آکف بھی اُن کے یوں آواز دینے پر رُک گیا۔
جی بھائی – آکف نے جوشیلے انداز میں ابلاج سے پوچھا۔
وہ میں بتانا بھول گیا تھا کہ ہم سب کے لئے ناشتے کا انتظام یہاں اس گھر میں کیا گیاہے۔
اس نےاُم ہالہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا ۔
پر کیوں باقی سب تو اس گھر میں گئے ہیں ناں؟
اازہن نے انگلش میں کہا۔
تو باسط نے بھی میں انگلش میں ہی جواب دیا ۔
دیکھو تمام لڑکیوں اور بڑوں کے لئے ناشتے کا انتظام ولیم کے گھر میں ہے
اور ہم سب لڑکوں کے لئے ناشتے کا انتظام یہاں کیا گیا ہے۔ ابلاج نے اُسے سمجھایا ۔
ہم — ٹھیک ہے چلو ۔ اُس نے گھر کی طرف بڑھ کر کہا ۔
اگلے ہی لمحے زے بھی عکاشہ کے پیچھے اُس کے کمرے میں تھی اور انوشے ابھی نہا کر نکلی ہی تھی ۔
لمبے اور کالے رنگ کے کھلے بال نیلی آنکھیں رنگت صاف زے نے کمرے میں داخل ہوتےہوئے پوری طرح اُس کا جائزہ لیا ۔
اُس کا قد تقریبا عکاشہ جتنا ہی تھا۔
ہمم ۔۔۔زے نے اپنا گلا صاف کیا تاکہ انوشے اُس کی طرف متوجہ ہو ۔
لیکن اُس نے زے کو پوری طرح سے نظر انداز کر دیا ۔
اممم ۔۔۔میں آپ کو کیا کہوں ۔ زے نے اب انوشے سے پوچھا جو کہ اپنے گیلے بال ٹاول سے نکال رہی تھی۔
جو مرضی کہہ لو و یسے ابھی تو تم مجھے” تم” کہہ رہی تھی اور ابھی —
انوشے نے تولیے کو پلنگ کے ایک کونے پر ٹکّا کر اب ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ کر کہا۔
دیکھیے مجھے معاف کر دیں آپی ۔ زے نے اب نظریں زمین پر جما کر انوشے سے کہا۔
او ہیلو یہ آپی کچھ زیادہ ہی نہیں ہو گیا میری عمر بھی عکاشہ جتنی ہی ہے سو تم جیسے اُسے بلاتی ہو ویسے ہی مجھے بلاؤ۔
اور رہی بات معافی کی تو کوئی بات نہیں تم بھی غصّے میں تھی اور میں بھی سو کوئی بات نہیں ۔
انوشے نے اپنے بالوں کو اسے دیکھتے دیکھتے ہی سیدھے کر لیا ۔
او – واؤ- انوشے تمہارے بال کتنے سلکی او اور سمودھ ہیں۔
عکاشہ نے اس کے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کیا ۔
ہمم — شکریہ ۔ انوشے نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
ویسے ایک بات پوچھوں انوشے – زے نےججھک کر اسے انوشے کہا ۔
ہمم – – بالکل پوچھو۔ انوشے جو کہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی تھی اُس نے اب ڈر یسنگ ٹیبل کے ساتھ ٹیک لگا کرزے کو دیکھا
جو کہ پلنگ آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی ۔
عام طور پر غیر ملکی لوگوں کے بال تو چھوٹے ہوتے ہیں یہاں یہاں تک اور تمھارے اتنے لمبے۔۔۔۔۔زے نے اپنے کندھے پر اپنے بائیں ہاتھ کو رکھ کر پوچھا ۔
ہممم۔۔۔۔ بات تو تمھاری بالکل درست ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے لیکن دیکھو میرے بابا اور میرے بھائیوں کو ایسے بال بالکل بھی پسند نہیں ہے اُن لوگوں کو لمبے بال ہی پسند ہیں ۔
انوشے نے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ زے کے برابر بیٹھ کر کہا۔
تم لوگوں کو دیکھ کر ایسا بالکل بھی نہیں لگتا کہ تم لوگ گاؤں میں رہتے ہو بالکل شہری ماحول ہے اور سکون الگ ۔
انوشے نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے کہا ۔
ہممم ۔۔۔ بالکل ٹھیک کہا ۔ انوشے آج کل کے گاؤں گاؤں رہے ہی نہیں ۔۔بالکل شہر بن چکے ہیں ہر چیز دستیاب اور میسر ہوتی ہے۔
لیکن یہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو پرانے زمانہ دستور سے باہر نہیں نکل سکے ۔
زے نے انوشے اور عکاشہ کی بات کو کاٹ کر کہا جو کہ آپس میں باتیں کرنے میں مگن تھیں۔
ویسے انوشے تمھیں پہلی دفعہ یعنی کہ کل رات دیکھ کر تو مجھے ایسا لگا تھا کہ تم میں تو بہت گھمنڈ ہے۔
زے نے اپنے برابر بیٹھی انوشے سے کہا۔
دیکھو ہر شخص اندر سے ویسا بالکل نہیں ہوتا جیسا وہ باہر سے دکھائی دیتا ہے زے ۔
ہممم ۔۔۔۔ ویسے یہ کیسا نام ہے اور کس نے رکھا ہے ؟
انوشے نے نام لے کر اُس سے پوچھا ۔
ارے یار یہ ہر کسی کو میرے نام سے مسئلہ کیوں ہے؟
زے اب چڑی تھی ۔
کیا ہوا ؟ میں نے تو بس — انوشے نے عکاشہ کی طرف دیکھا جو کہ مشکیوں میں مسکرائے جارہی تھی ۔
دیکھو انوشے اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔
جب سے ولیم بھائی کی شادی ہونے والی ہے نا تو جو کوئی مہمان بھی ہمارے گھر یا اُن کے گھر اس سے ملتا ہے تو وہ اس کے نام کے متعلق ہی پوچھے جا رہا ہے بس اسی لیے ۔
عکاشہ نے اب زے کو پھر سے گھورا –
اوه — مجھے معاف کرنا ایک تو نہ مجھے غصّہ بہت جلدی آجاتا ہے–
اور چلا بھی جاتا ہے۔ انوشے نے اُس کی بات کو کاٹا۔
ہممم ۔۔۔زے نے اپنا منہ سکوڑا ۔
دیکھو اگر غصہ آتا ہے تو یا تو اُسے کنٹرول یعنی اس پر قابو رکھو نہیں تو پھر دکھاؤ۔۔زے نے انوشے کی بات کو کاٹا تو اُس نے مسکرا کر اس کی ناک پر سے اپنی انگلی پھیری۔
ہمممم — تو جہاں سب کو بتایا ہے وہاں آپ بھی سُن لیں ۔
میرا پور نام ” پری زے ” ہے ۔ اُس نے اپنے سینے پر اپنا دایاں ہاتھ رکھ کر بیڈ پر کھڑی ہو کر کہا۔
اُس کی اس حرکت پر وہ دونوں مسکرائی۔
ویسے تم دونوں کے بال کیسے اور کتنے ہیں ؟ انوشے نے اُن دونوں کے حجاب کو دیکھ کر کہا جو کہانھوں نے باہر جانے کے لیے کیے تھے ۔
ہمارے بھی لمبے ہیں ۔ زے نے مسکرا کر کہا۔
پر کتنے لمبے؟ انوشے نے اُن کی طرف دیکھ پوچھا ۔
یہ تو آپ تب دیکھ لیجیے گا جب ہم انہیں کھولیں گی فی الحال کے لئے ہم کھانا کھانے چلیں ۔ زے نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔
ہمم ۔۔۔ضرور۔۔
ایک منٹ ۔۔ اب کیا ہوا؟زے کے انہیں اس طرح روکنے پر عکاشہ نے پوچھا ۔
تو اب کیا آپ ہم دونوں سے دوستی کرنا پسند کریں گی! زے نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر عکاشہ اور انوشے کی طرف دیکھا ۔
ضرور انوشے نے اُس کی ہتھیلی کو سیدھا کر کے اُس پر اپنی ہتھیلی رکھی اور پھر عکاشہ نے بھی ایسا ہی کیا ۔
اِس کے بعد وہ تینوں ولیم یعنی اپنے چچا کے گھر جانے کے لیے باہر نے انوشے کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا ۔
اورباقی سب کو لے کر عظیم کے گھر چلی گئیں۔
ویسے تمھیں بات کر نے کی تمیز ہے نہیں یا پھر تم جان بوجھ کر ایسے کرتی ہو؟ زے نے اب انگلی کا اشارہ انوشے کی طرف کیا ۔
اہم ۔۔۔۔مجھے تو ہے پر لگتا ہے کہ تمھیں نہیں ہے کہ اپنے سے بڑوں کو سے ایسے بات کرتے ہیں ۔انہیں تم کہہ کر بلانا ہے یا پھر آپ ۔
انوشے نے اب اُس کی طرف دیکھ کر اپنے دونوں بازوں کو سمیٹ کر کہا ۔
اچھا اچھا اب تم دونوں بس کرو گی کیا؟ عکاشہ نے اُن دونوں کے درمیان میں کھڑی ہو کر کہا ۔
عکاشہ شکل وصورت سے یہ تو تم پر گئی ہے لیکن زبان درازی میں یہ کس پر گئی ہے ؟
انوشے نے اب کمرے میں واپس جاتے ہوئے کہا۔
جو جیسا ہوتا ہے میں اُس کے ساتھ بالکل ویسی ہی رہتی ہوں زے نے اُسے کمرے میں جاتے دیکھ کر کہا
اچھا اب بس بھی کر دو ۔ وہ تو مہمان ہے تم ہی تھوڑی شرم کر لو –
عکاشہ اب پوری طرح سے زے سے مخاطب تھی ۔
ہمممم …. زے نے اب عکاشہ کو کوئی جواب نہیں دیا ۔
زے دیکھو میری بات سنو – عکاشہ نے ایک لمبی اور گہری سانس بھر کر زے سے کہا۔ ہمم … بولو زے نے صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ کر کہا۔
دیکھو وہ مہمان ہیں وہ چاہئے تو ہمیں کچھ بھی کہہ سکتی ہیں لیکن ہمارا حق ہے کہ ہم عاجزی اور انکساری سے صرف اُن کی مہمان نوازی کریں نہ کہ اُن سے بد تمیزی کریں ۔
عکاشہ نے اب اُس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اُس کے برابر بیٹھ کر کہا ۔
ہم اچھا – زے نے اب اپنی بھوری آنکھوں کو گھما کر کہا ۔
اہم – – امید ہے کہ تم میری بات کو سمجھ گئی ہوگی تو چلواب میرے ساتھ چل کر انوشے سے معافی مانگو –
عکاشہ نے کھڑی ہو کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ کر کہا۔
کیوں؟ میں کیوں مانگو معافی ؟ میری کونسی غلطی ہے؟ میں نے تو ۔۔۔
عکاشہ نے اب اُسے گھورا تو وہ رکی۔
کیا — زے بے بسی سے بولی ۔ دیکھو وہ دوسرے ملک سے آئی یعنی کہ وہاں آپ جس سے چاہیں جیسے مرضی بات کریں ۔
اِس میں اُس کا تو کوئی قصور نہیں ہے اس لئے تم اُس سے معافی مانگو گی –
عکاشہ نے اب “تم” پر زور ڈالا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
عکاشہ – – – زے نے اپنا ایک پیر زمین پر پٹخا اور اُس کے پیچھے چلی گئی۔
و ہیں باقی سب اُن کے چچا کے گھر پہنچ چکے تھے۔
گھر میں کام کرنے کے لئے ملاز مین رکھے گئے تھے جو کہ جیسے جیسے مہمان آں یاں پھر اُٹھ رہے تھے اُنہیں ناشتہ کروا رہے تھے ۔
اسلام علیکم – – – ابلاج جب وہ لوگ گھر میں داخل ہونے لگے تو باسط نے اُسے دیکھ کر سلام کیا۔
او ہ۔۔۔۔ وعلیکم اسلام ابلاج نے اُسے دیکھ کر ہاتھ ملالیا ۔
ار زہن جو کہ اُن سب کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ گیا تھا اب ابلاج اور زائشان کے بیک وقت آواز دینے پر رُکا۔
آکف بھی اُن کے یوں آواز دینے پر رُک گیا۔
جی بھائی – آکف نے جوشیلے انداز میں ابلاج سے پوچھا۔
وہ میں بتانا بھول گیا تھا کہ ہم سب کے لئے ناشتے کا انتظام یہاں اس گھر میں کیا گیاہے۔
اس نےاُم ہالہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا ۔
پر کیوں باقی سب تو اس گھر میں گئے ہیں ناں؟
اازہن نے انگلش میں کہا۔
تو باسط نے بھی میں انگلش میں ہی جواب دیا ۔
دیکھو تمام لڑکیوں اور بڑوں کے لئے ناشتے کا انتظام ولیم کے گھر میں ہے
اور ہم سب لڑکوں کے لئے ناشتے کا انتظام یہاں کیا گیا ہے۔ ابلاج نے اُسے سمجھایا ۔
ہم — ٹھیک ہے چلو ۔ اُس نے گھر کی طرف بڑھ کر کہا ۔
اگلے ہی لمحے زے بھی عکاشہ کے پیچھے اُس کے کمرے میں تھی اور انوشے ابھی نہا کر نکلی ہی تھی ۔
لمبے اور کالے رنگ کے کھلے بال نیلی آنکھیں رنگت صاف زے نے کمرے میں داخل ہوتےہوئے پوری طرح اُس کا جائزہ لیا ۔
اُس کا قد تقریبا عکاشہ جتنا ہی تھا۔
ہمم ۔۔۔زے نے اپنا گلا صاف کیا تاکہ انوشے اُس کی طرف متوجہ ہو ۔
لیکن اُس نے زے کو پوری طرح سے نظر انداز کر دیا ۔
اممم ۔۔۔میں آپ کو کیا کہوں ۔ زے نے اب انوشے سے پوچھا جو کہ اپنے گیلے بال ٹاول سے نکال رہی تھی۔
جو مرضی کہہ لو و یسے ابھی تو تم مجھے” تم” کہہ رہی تھی اور ابھی —
انوشے نے تولیے کو پلنگ کے ایک کونے پر ٹکّا کر اب ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ کر کہا۔
دیکھیے مجھے معاف کر دیں آپی ۔ زے نے اب نظریں زمین پر جما کر انوشے سے کہا۔
او ہیلو یہ آپی کچھ زیادہ ہی نہیں ہو گیا میری عمر بھی عکاشہ جتنی ہی ہے سو تم جیسے اُسے بلاتی ہو ویسے ہی مجھے بلاؤ۔
اور رہی بات معافی کی تو کوئی بات نہیں تم بھی غصّے میں تھی اور میں بھی سو کوئی بات نہیں ۔
انوشے نے اپنے بالوں کو اسے دیکھتے دیکھتے ہی سیدھے کر لیا ۔
او – واؤ- انوشے تمہارے بال کتنے سلکی او اور سمودھ ہیں۔
عکاشہ نے اس کے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کیا ۔
ہمم — شکریہ ۔ انوشے نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
ویسے ایک بات پوچھوں انوشے – زے نےججھک کر اسے انوشے کہا ۔
ہمم – – بالکل پوچھو۔ انوشے جو کہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی تھی اُس نے اب ڈر یسنگ ٹیبل کے ساتھ ٹیک لگا کرزے کو دیکھا
جو کہ پلنگ آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی ۔
عام طور پر غیر ملکی لوگوں کے بال تو چھوٹے ہوتے ہیں یہاں یہاں تک اور تمھارے اتنے لمبے۔۔۔۔۔زے نے اپنے کندھے پر اپنے بائیں ہاتھ کو رکھ کر پوچھا ۔
ہممم۔۔۔۔ بات تو تمھاری بالکل درست ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے لیکن دیکھو میرے بابا اور میرے بھائیوں کو ایسے بال بالکل بھی پسند نہیں ہے اُن لوگوں کو لمبے بال ہی پسند ہیں ۔
انوشے نے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ زے کے برابر بیٹھ کر کہا۔
تم لوگوں کو دیکھ کر ایسا بالکل بھی نہیں لگتا کہ تم لوگ گاؤں میں رہتے ہو بالکل شہری ماحول ہے اور سکون الگ ۔
انوشے نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے کہا ۔
ہممم ۔۔۔ بالکل ٹھیک کہا ۔ انوشے آج کل کے گاؤں گاؤں رہے ہی نہیں ۔۔بالکل شہر بن چکے ہیں ہر چیز دستیاب اور میسر ہوتی ہے۔
لیکن یہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو پرانے زمانہ دستور سے باہر نہیں نکل سکے ۔
زے نے انوشے اور عکاشہ کی بات کو کاٹ کر کہا جو کہ آپس میں باتیں کرنے میں مگن تھیں۔
ویسے انوشے تمھیں پہلی دفعہ یعنی کہ کل رات دیکھ کر تو مجھے ایسا لگا تھا کہ تم میں تو بہت گھمنڈ ہے۔
زے نے اپنے برابر بیٹھی انوشے سے کہا۔
دیکھو ہر شخص اندر سے ویسا بالکل نہیں ہوتا جیسا وہ باہر سے دکھائی دیتا ہے زے ۔
ہممم ۔۔۔۔ ویسے یہ کیسا نام ہے اور کس نے رکھا ہے ؟
انوشے نے نام لے کر اُس سے پوچھا ۔
ارے یار یہ ہر کسی کو میرے نام سے مسئلہ کیوں ہے؟
زے اب چڑی تھی ۔
کیا ہوا ؟ میں نے تو بس — انوشے نے عکاشہ کی طرف دیکھا جو کہ مشکیوں میں مسکرائے جارہی تھی ۔
دیکھو انوشے اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔
جب سے ولیم بھائی کی شادی ہونے والی ہے نا تو جو کوئی مہمان بھی ہمارے گھر یا اُن کے گھر اس سے ملتا ہے تو وہ اس کے نام کے متعلق ہی پوچھے جا رہا ہے بس اسی لیے ۔
عکاشہ نے اب زے کو پھر سے گھورا –
اوه — مجھے معاف کرنا ایک تو نہ مجھے غصّہ بہت جلدی آجاتا ہے–
اور چلا بھی جاتا ہے۔ انوشے نے اُس کی بات کو کاٹا۔
ہممم ۔۔۔زے نے اپنا منہ سکوڑا ۔
دیکھو اگر غصہ آتا ہے تو یا تو اُسے کنٹرول یعنی اس پر قابو رکھو نہیں تو پھر دکھاؤ۔۔زے نے انوشے کی بات کو کاٹا تو اُس نے مسکرا کر اس کی ناک پر سے اپنی انگلی پھیری۔
ہمممم — تو جہاں سب کو بتایا ہے وہاں آپ بھی سُن لیں ۔
میرا پور نام ” پری زے ” ہے ۔ اُس نے اپنے سینے پر اپنا دایاں ہاتھ رکھ کر بیڈ پر کھڑی ہو کر کہا۔
اُس کی اس حرکت پر وہ دونوں مسکرائی۔
ویسے تم دونوں کے بال کیسے اور کتنے ہیں ؟ انوشے نے اُن دونوں کے حجاب کو دیکھ کر کہا جو کہانھوں نے باہر جانے کے لیے کیے تھے ۔
ہمارے بھی لمبے ہیں ۔ زے نے مسکرا کر کہا۔
پر کتنے لمبے؟ انوشے نے اُن کی طرف دیکھ پوچھا ۔
یہ تو آپ تب دیکھ لیجیے گا جب ہم انہیں کھولیں گی فی الحال کے لئے ہم کھانا کھانے چلیں ۔ زے نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔
ہمم ۔۔۔ضرور۔۔
ایک منٹ ۔۔ اب کیا ہوا؟زے کے انہیں اس طرح روکنے پر عکاشہ نے پوچھا ۔
تو اب کیا آپ ہم دونوں سے دوستی کرنا پسند کریں گی! زے نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر عکاشہ اور انوشے کی طرف دیکھا ۔
ضرور انوشے نے اُس کی ہتھیلی کو سیدھا کر کے اُس پر اپنی ہتھیلی رکھی اور پھر عکاشہ نے بھی ایسا ہی کیا ۔
اِس کے بعد وہ تینوں ولیم یعنی اپنے چچا کے گھر جانے کے لیے باہر نکل گئی۔
باقی انشاءاللہ آئندہ شمارے میں ۔
