JUNG E BAQA BY MAHNOOR AWAN EPISODE 6.

جنگِ بقاء
مصنفہ: ماہ نور اعوان
قسط نمبر 6

آغاز

جیکسن اپنے کمرے میں کھڑکی کے سامنے رکھے پیانو پر انگلیاں چلا رہا تھا۔ اس کی انگلیاں کمالِ مہارت سے پیانو کی دھنیں بکھیر رہی تھیں۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ محض ایک ساز تھا، لیکن اس کی دھنوں میں اس کے اندر کا وہ دکھ چھپا تھا جو لفظوں کے بجائے موسیقی کی صورت میں باہر نکل رہا تھا۔
آنکھیں بند کیے وہ پیانو بجاتا ایک الگ ہی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار ایک ہی منظر گردش کر رہا تھا۔ جب وہ میخائل کے ساتھ گھر پہنچا تھا، تو اس کے ڈیڈ نے اس کے ساتھ جو کچھ کیا تھا، وہ سب کسی فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے چل رہا تھا۔
آدھی رات گزر چکی تھی۔ پورے گھر میں پیانو کی آواز گونج رہی تھی۔
آئیے، ماضی میں واپس چلتے ہیں اور وہ منظر دیکھتے ہیں جسے جیکسن نے محسوس کیا تھا۔
چند گھنٹے پہلے
جیکسن جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، اس نے اپنے والد کو لاؤنج میں چکر لگاتے دیکھا۔ اسے دیکھتے ہی وہ چیتے کی طرح اس پر جھپٹے اور اس کا گریبان پکڑ لیا۔
جیکسن نے کچھ نہیں کہا۔ وہ جانتا تھا کہ یہی ہونے والا ہے۔ وہ خود کو اس صورتِ حال کے لیے تیار کرکے آیا تھا۔
“تمہاری وجہ سے مجھے ہمیشہ سب کچھ سہنا پڑتا ہے۔ آخر تم کب ان سب حرکتوں سے باز آؤ گے؟” وہ غصے سے پھنکارتے ہوئے بولے۔
“کبھی بھی نہیں۔”
کیا پُرسکون انداز تھا جو اس کے لہجے میں در آیا تھا!
الیگزینڈر صاحب کے چہرے پر غصے کی شدت پہلے سے بڑھ گئی۔ ان کے جبڑے بھنچ گئے اور انہوں نے جیکسن کے چہرے پر یکے بعد دیگرے دو تھپڑ رسید کر دیے۔
جیکسن کے لبوں پر ایک زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اس نے اپنے ڈیڈ کی طرف دیکھا، پھر اس کی نگاہ زینوں کے پاس کھڑی لیزا پر جا ٹھہری، جو بے یقینی کے عالم میں منہ پر ہاتھ رکھے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
اس کی نظر دوبارہ اپنے ڈیڈ پر پڑی، جو غصے سے کانپ رہے تھے۔
“جتنا مارنا چاہتے ہیں، مار لیں۔ میں اُف تک نہیں کروں گا، لیکن آپ مجھے اب اپنی مرضی کرنے سے نہیں روک سکتے۔” جیکسن نے زخمی لہجے میں کہا۔
“تمہارے لیے سب کچھ کرتے کرتے میں نے اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال دیا، اور تم مجھے دھوکا دے رہے ہو؟” وہ بے یقینی سے بولے۔
“میں آپ کو دھوکا نہیں دے رہا، بلکہ آپ خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔ اب مجھ پر سارا الزام مت ڈالیں، ڈیڈ!” وہ چلاتے ہوئے بولا۔
لیزا زینوں کی ریلنگ کے ساتھ لگی کھڑی سارا تماشا دیکھ رہی تھی۔ اس کے اندر غصے اور بے بسی کی آگ بھڑک رہی تھی۔
“میں تمہیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں، جیکسن! چاہتا ہوں کہ جو ادھورا رہ گیا تھا، اسے تم پورا کر دو۔” ان کے دل کی بات بالآخر زبان پر آ ہی گئی۔
“ڈیڈ! جو ادھورا رہ گیا تھا، وہ اس کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے، اسے ہونے دیں۔ آپ کسی اور کے چھوڑے ہوئے کام مجھ پر کیوں مسلط کرنا چاہتے ہیں؟” وہ شکایت کرتے کرتے سوال کر گیا۔
“جیکسن! میں تمہیں آخری بار کہہ رہا ہوں کہ وہی کرو جو میں چاہتا ہوں، ورنہ۔۔۔!”
انہوں نے بات ادھوری چھوڑتے ہوئے اسے دھمکانے کی کوشش کی۔
جیکسن قدم بہ قدم چلتا اپنے ڈیڈ کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا:
“ذرا سا چہرہ مل جانے سے کوئی ویسا نہیں بن جاتا جیسا دوسرا شخص ہوتا ہے۔ آپ یہ بات سمجھ لیں کہ میں جیکسن ہوں، میری اپنی پہچان ہے، اور وہ۔۔۔!”
وہ بات ادھوری چھوڑ کر پیچھے ہٹا، پھر اپنے ڈیڈ کو دیکھتا ہوا زینوں کی طرف بڑھ گیا۔
لیزا کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ اسے ایک ملامت بھری نظر سے دیکھ کر واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔
جیکسن زینے چڑھتا اوپر چلا گیا۔
پیچھے الیگزینڈر صاحب کا حال یہ تھا کہ گویا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ آج، نہ چاہتے ہوئے بھی، جیکسن ان کے دل پر کاری وار کر گیا تھا۔
حقیقت کا وار، جو کچھ زیادہ ہی کڑوا تھا۔
انہوں نے صوفے کی پشت کو زور سے بھینچا۔ ان کے لب ہلکے سے کھلے اور سرگوشی جیسی آواز نکلی:
“میرا۔۔۔ لی!”
ان کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے، لیکن وہ خود پر ضبط کیے ہوئے تھے۔
حال میں واپسی
ماضی کا منظر ختم ہو گیا، لیکن پیانو پر چلتی انگلیاں نہیں رکیں۔ جیکسن مسلسل دھن بجاتا رہا۔
اتنے میں لیزا دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوئی اور جیکسن کے پیچھے جا کر اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ دیے۔
جیکسن کے پیانو بجاتے ہاتھ رک گئے۔ اس نے آنکھیں کھولیں، لیکن اپنی جگہ سے حرکت کیے بغیر بیٹھا رہا۔
“بھائی! بس کر دیں، انگلیوں میں درد ہو جائے گا۔”
“درد تو رگ رگ میں ہے، بس کبھی ظاہر نہیں کیا۔”
اس کے لبوں پر ایک زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“درد رگ رگ میں ہے تو اسے باہر نکالیں اور دل کا بوجھ ہلکا کریں۔”
بھائیوں کا درد اور ان کی تکلیف بہنوں سے بڑھ کر شاید ہی کوئی سمجھ سکتا ہے۔ بہنیں تو بھائیوں کی ہم راز اور ساتھی ہوتی ہیں، ان کے دکھ سکھ کی شریک۔
“سالوں کا درد ہے، چند لمحوں میں نہیں جاتا۔”
جیکسن کے لبوں سے نکلی زخمی آواز لیزا کے کانوں تک پہنچی تو اس نے آنکھیں بھینچ لیں۔
“بھائی! درد کبھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ نئے سرے سے، نئے انداز میں تازہ ہو جاتے ہیں۔ بس انہیں سہنے کی برداشت ہونی چاہیے۔”
الفاظ کسی اور کے تھے، لیکن انہیں نئے انداز میں ڈھال کر کہا گیا تھا۔
“رات کافی ہو گئی ہے۔ جاؤ، سو جاؤ۔”
پیانو کے سامنے بیٹھا جیکسن اور اس کے پیچھے کندھوں پر ہاتھ رکھے کھڑی لیزا، دونوں کے درمیان بہن بھائی کی محبت کا ایک نرم سا رشتہ جھلک رہا تھا۔
“میں کیسے سو جاؤں؟ آپ جاگ رہے ہیں!”
“مجھے نیند نہیں آئے گی۔ تم جا کر سو جاؤ۔”
وہ اپنی بات پر بضد تھا، تو لیزا بھی کم ضدی نہیں تھی۔
“بھائی! ایک بات کہوں؟”
“کہو۔”
“بھائی، آپ کو ایل بی یاد نہیں آتے؟”
“وہ یاد آتا ہے، لیکن جب اس کے چھوڑے ہوئے ادھورے کام خود پر مسلط دیکھتا ہوں تو پھر وہ یادداشت کے خانوں سے نکل جاتا ہے۔”
لیزا گھوم کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور جیکسن کو غور سے دیکھتی رہی۔ یہاں تک کہ جیکسن خود بول پڑا۔
“ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟”
“دیکھ رہی ہوں کہ آپ کو اس چہرے سے محبت تھی جو ایل بی سے ملتا ہے، لیکن اب اسی چہرے سے بیزاری کیوں ہے؟ یہ سمجھ نہیں آتا۔”
“تھوڑا سا چہرہ مل جانے سے کوئی دوسرے جیسا نہیں بن جاتا۔ یہ بات جتنی جلدی سمجھ جاؤ گی، اتنا ہی آسانی ہو گی۔”
جیکسن خاموش ہوا تو لیزا نے اس کا چہرہ اپنی جانب موڑا اور چند لمحے یونہی اسے دیکھتی رہی۔
“بھائی! آپ ڈیڈ کو ناراض مت کیا کریں۔ وہ آپ سے محبت کرتے ہیں۔”
“مجھے بھی ڈیڈ سے محبت ہے، لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جو چلا گیا، اس کے ساتھ سب کچھ ختم ہو گیا۔ وہ ختم ہو چکے کاموں کو دوبارہ ہم پر مسلط کرکے ہمیں درد میں مبتلا کرتے ہیں۔”
“بھائی، ایسا نہیں ہے۔ وہ۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رک گئی۔ کچھ سوچا، پھر بات بدل کر بولی:
“بھائی! آپ ایل بی سے نفرت کرتے ہیں؟”
جیکسن نے پیانو پر رکھے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں بھینچ لیں۔ اس کے چہرے پر ایک ایسا تاثر ابھرا جسے سمجھنا آسان نہیں تھا۔
لیزا سمجھ نہیں پائی کہ وہ جواب کیوں نہیں دے رہا۔
کبھی کبھی خاموشیاں بھی خود ایک جواب ہوتی ہیں۔
**********
ماضی میں واپس جا کر اسے بدلنے کا موقع ملے تو انسان سب سے پہلے کیا تبدیل کرے گا؟
ماضی میں ملنے والے زخم ناسور کی طرح حال سے چمٹ جاتے ہیں اور تکلیف دیتے رہتے ہیں۔ ماضی کو سنوار دو تو حال سنور جاتا ہے، ورنہ تکلیف دوہری ہو جاتی ہے۔
“ڈیڈ! میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں۔”
الیگزینڈر صاحب کے گلے میں دونوں بازو ڈالے ایک خوش شکل نوجوان کھڑا تھا۔
اس کے چہرے پر داڑھی، بھورے رنگ کے بال اور مسکراتی آنکھیں اسے معصوم بناتی تھیں۔
“میں بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں، میرے پیارے لی!”
الیگزینڈر صاحب نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔
وہ مسکراتے ہوئے پیچھے ہوا تو اسے دیکھ کر الیگزینڈر صاحب کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔
“تم میرے پسندیدہ بیٹے ہو۔
وہ شرما گیا، جیسے کسی لڑکی نے اس سے یہ بات کہہ دی ہو۔
“اوہ، کم آن، ڈیڈ! میں نہیں، جیکو بھی تو آپ کا بیٹا ہے۔ وہ بھی تو آپ کا پسندیدہ ہو سکتا ہے۔”
اسے اپنے بھائی سے محبت تھی۔ اس لیے اس کا دفاع کرنا ضروری سمجھا۔
وہ دونوں الیگزینڈر صاحب کے کمرے میں موجود تھے۔
“وہ ہو سکتا ہے، اگر وہ بھی تم جتنا کامیاب ہو جائے تو۔”
لی کو یہ بات بالکل پسند نہیں آئی، لیکن وہ اپنے ڈیڈ کو یہ کہہ کر تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔
“ڈیڈ! ضروری تو نہیں کہ وہ بھی میری جتنی کامیابی حاصل کرے۔ ہر کسی کا کام کرنے اور کامیاب ہونے کا اپنا انداز ہوتا ہے۔”
وہ کھڑکی کے پاس کھڑا باہر پھیلے سبزے کو دیکھتے ہوئے بولا۔
الیگزینڈر صاحب کی نظریں اسی پر جمی ہوئی تھیں۔ جب وہ ان کے سامنے ہوتا تو اس سے نظریں ہٹانا مشکل ہو جاتا تھا۔
“وہ تو ہے، لیکن تم نہیں جانتے کہ کامیابی تب ملتی ہے جب اس کے لیے کوشش کی جائے۔ فارغ بیٹھنے سے کامیابی نہیں ملتی۔”
“ڈیڈ! وہ ابھی بچہ ہے۔ اسے چھوڑ دیں، وہ خود سدھر جائے گا۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ میں وہ سب حاصل کرکے دوں گا جو آپ چاہتے ہیں۔
میں ہوں نا، ڈیڈ!”
لی کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
وہ اپنے والد کو یقین دلانا چاہتا تھا کہ انہیں کسی بات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
حال میں واپسی
سالوں پہلے بولا گیا یہ جملہ برسوں بعد بھی کانوں میں گونجتا رہتا تھا۔
“میں ہوں نا، ڈیڈ!”
اس دن سے لے کر آج تک الیگزینڈر صاحب اسی جملے کے سہارے جی رہے تھے، اس امید پر کہ شاید وہ لوٹ آئے۔
رات کے گہرے سائے ختم ہونے والے تھے، لیکن بہت سی زندگیوں میں تباہی پھیلا کر جا چکے تھے۔
**********
لونا آپا کی موت ہو چکی تھی۔
یہ خبر لیانا اور سونیلا آنٹی پر قیامت بن کر گری۔
لیانا کا رو رو کر برا حال تھا۔ لونا آپا اور میڈی کے جانے کے بعد آج ان دونوں کا خاندان جیسے ختم ہو گیا تھا۔
لیانا نے جولی کو کال کی، لیکن اس کا فون مسلسل بند جا رہا تھا۔
ایک طرف لیانا خود غم سے نڈھال تھی، تو دوسری طرف سونیلا آنٹی کو سنبھال رہی تھی۔ ان کی بچپن کی دوست آج انہیں چھوڑ کر جا چکی تھی۔
“آپ پلیز خود کو سنبھالیں، آنٹی۔”
لیانا نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے انہیں تسلی دی۔
لیکن دوست بچھڑ جائے تو انسان کن لفظوں میں خود کو سنبھالے؟ جس کے ساتھ زندگی کے اتنے سال گزرے ہوں، اس کے بچھڑنے کا درد الگ ہی ہوتا ہے۔
“لونا میری دوست نہیں، میری سب کچھ تھی۔ وہ آج چلی گئی، لیکن مجھے اکیلا چھوڑ گئی۔
سونیلا آنٹی کی آواز میں بے بسی تھی۔
“آنٹی! آپ روئیں مت۔ آپ ان کے لیے خداوند سے دعا کریں کہ وہ جہاں بھی ہوں، سکون سے ہوں۔”
ہسپتال کے کوریڈور میں دیوار کے ساتھ رکھی کرسیوں پر بیٹھی وہ دونوں ایک دوسرے کو تسلی دے رہی تھیں۔
والس کاغذی کارروائی کے لیے گیا ہوا تھا۔ اس کے بعد انہیں میتیں لے کر آخری رسومات ادا کرنے کے لیے جانا تھا۔
“میڈی اپنے ساتھ میری بہن کو بھی لے گیا۔ اس معصوم بچے کے اندر اس کی ماں کی جان بستی تھی۔ وہ اپنے ساتھ اپنی ماں کو بھی لے گیا، لیکن مجھ سے میری دوست کو چھین گیا۔ اور یہ درد ہر درد پر بھاری ہے۔”
سونیلا آنٹی نے آنکھوں کے سامنے چھائے لونا آپا کے چہرے کو یاد کرتے ہوئے کہا۔
“دوست کے بچھڑنے کا درد میں سمجھ سکتی ہوں، اور کسی اپنے کے دور چلے جانے کا بھی۔ لیکن آنٹی! ان کا جانا قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔”
لیانا نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی، حالاں کہ اس کا اپنا دل بھی غم سے بوجھل تھا۔
وہ اپنا موبائل گھر چھوڑ آئی تھی، لیکن اب اسے اس کی فکر محسوس ہو رہی تھی۔ اس کی ماں اسے فون کر رہی ہو گی اور اس کے کال نہ اٹھانے پر واویلا مچا رہی ہو گی۔
لیکن وہ اپنی ماں سے بعد میں بات کر لے گی۔
فی الحال سونیلا آنٹی کو سنبھالنا اور وہاں موجود معاملات دیکھنا ضروری تھا۔
**********
ماضی کے رازوں سے تھوڑا سا پردہ ہٹا تو قصہ گو ایک اور کہانی سنانے لگا۔
بارش تھی اور ایک خوب صورت منظر۔
“رومیصہ جہانزیب! میں تم سے اپنے پورے دل سے محبت کا اعتراف کرتا ہوں۔”
گلاب کا ایک سوکھا ہوا پھول سفید ٹشو میں لپیٹ کر اسے دیتے ہوئے لو ہنستے ہوئے بولا۔
وسیع و عریض رقبے پر پھیلی قدیم یونیورسٹی کے سبز لان میں گھاس پر بیٹھے وہ دونوں اپنی ہی الگ دنیا میں مگن تھے۔
لو اور رومیصہ!
“یہ کون سا طریقہ ہے، سوکھا پھول دے کر محبت کا اعتراف کرنے کا؟”
پھول لے کر وہ بھنویں اچکاتے ہوئے بولی۔
“یہ میرا طریقۂ کار ہے۔ اگلی بار سوکھا پھول دینے کے بجائے پورا گلاب کا پودا ہی اٹھا کر لے آؤں گا۔”
“تم سے یہی امید ہے۔”
وہ شکایت کرتی ہوئی بولی۔
“ایک بات کہوں؟”
دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنا کر چہرے کے گرد رکھتے ہوئے لو نے شرارتی انداز میں پوچھا۔
“پوچھو۔”
“تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟ کون سی والی؟”
“ہممم۔۔۔ نقلی والی!”
وہ ہنس رہی تھی اور لو کو اس کی ہنسی پھولوں کی کھلتی کلیوں جیسی لگ رہی تھی۔
“سچ بتاؤ، رومی!”
“اچھا، سنو پھر! میں تم سے محبت نہیں کرتی۔”
لو نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔
“میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ عقیدت بھری محبت!”
وہ مسکراتا رہا، وہ شرماتی رہی اور منظر آہستہ آہستہ مدھم ہوتا گیا، یہاں تک کہ ایک اور منظر آنکھوں کے سامنے آ ٹھہرا۔
بارش زور و شور سے جاری تھی۔ طوفان آنے والا تھا۔
جہانزیب مینشن کے پچھلے لان میں دو وجود ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے بارش میں بھیگ رہے تھے۔
ایک نے دوسرے پر پستول تان رکھی تھی۔
“میں تم سے نفرت کرتا ہوں، رومیصہ جہانزیب!”
اس کے لبوں سے نکلی بات رومی تک پہنچی تو اس کے سینے میں سانس اٹک گئی۔
سوکھے پھول کی پہلی پتی ٹوٹ کر گر گئی۔
“تم مجھ سے نفرت کب سے کرنے لگے؟”
اس نے زخمی لہجے میں، اٹکتی سانس کے درمیان پوچھا۔
بارش میں ایک اور وجود بھی موجود تھا، جو بھیگ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بھی پستول تھی، جو اس نے اس لڑکے پر تان رکھی تھی۔
تین لوگ، تین مختلف انداز۔
“میں تم سے نفرت کرتا ہوں، رومیصہ جہانزیب!”
اس بار سوال کے جواب میں جواب نہیں، بلکہ نفرت کا وہی اعلان دہرایا گیا۔
دوسری بار اس کی سانس اٹکی۔
پھول کی ایک اور پتی گر گئی۔
تیسری بار بولا جانے والا جملہ کسی کی جان بچا سکتا تھا یا کسی کی جان لے سکتا تھا۔
جان دینے والا جان لے رہا تھا۔
سوکھے پھول دینے والا اپنی محبت واپس لے رہا تھا۔
وہی محبت، جس کے لیے کبھی خوشی خوشی زندگی تیاگ دینے کا دعویٰ کیا جاتا تھا۔
تیسرا وجود زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ یہ سب دیکھ رہا تھا۔ وہ وہاں تماشا دیکھنے آیا تھا۔
“میں تم سے نفرت کرتا ہوں، رومیصہ جہانزیب!”
تیسری بار یہی الفاظ دہرائے گئے۔
وہی شخص جو کبھی پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتا تھا، اب گولیاں برسا رہا تھا۔
سوکھے پھول کی پتیاں بکھر گئیں۔
ایک سانس جو پہلے ہی تھم چکی تھی، اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔
ایک کے ساتھ دوسرا وجود بھی زمین پر گر پڑا۔
اور زندگی سے بھرپور مسکرانے والی لڑکی، رومیصہ جہانزیب، کھلی آنکھوں کے ساتھ زمین پر گر گئی۔
ایڈنبرا کی فضاؤں میں ایک عجیب سی لہر دوڑ گئی۔ ہوائیں جیسے ساکت ہو گئیں۔ آسمان ان گرے ہوئے وجودوں کو دیکھ کر مزید برسنے لگا۔
تیسرا وجود گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا، درد کی ایک لہر محسوس کرتے ہوئے، انہیں بارش میں بھیگتے دیکھتا رہا۔
وقت نے کروٹ بدلی اور قصہ گو چند لمحوں کے لیے حال میں واپس آ گیا۔
**********
رات کے گہرے سائے مدھم ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئے تھے، البتہ سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔
“جولی! کدھر جا رہی ہو؟”
صبح صبح اسے گھر سے نکلتے دیکھ کر اس کی ماں نے پوچھا۔ وہ کچن میں کھڑی سوپ بنا رہی تھی۔
“اپنے چاچو سے ملنے اور اپنی بلبل واپس لانے۔”
یہ کہتے ہی وہ گھر سے نکل گئی۔
اس سے زیادہ پوچھنا مناسب نہیں تھا اور اس سے زیادہ جواب دینا بھی۔
ماں کچن میں کھڑی ابلتے ہوئے سوپ کو دیکھ رہی تھی، مگر اس کی نگاہوں کے سامنے اپنی زندگی کے گزرے سال گردش کر رہے تھے۔
وہ سال، جن میں وہ، جولی اور اس کے والد ساتھ تھے۔
لیکن پھر۔۔۔!
اس نے ان یادوں کو ذہن سے جھٹکا اور سوپ میں چمچ ہلانے لگی۔
**********
جولی نے سرخ رنگ کا لمبا کوٹ پہن رکھا تھا اور سر پر رومال باندھا ہوا تھا۔
انسٹی ٹیوٹ جانے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے وہ اولڈ ٹاؤن کی گلیوں سے گزرتی ہوئی ایک موڑ مڑ کر تنگ راستے پر چلنے لگی۔
سامنے ایک شیڈ کے نیچے لکڑی کا دروازہ نظر آیا، جو کچھ جگہوں سے ٹوٹا ہوا تھا۔
اس نے گہری سانس خارج کی اور لکڑی کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہو گئی۔
اجازت لینا اس نے شاید سیکھا ہی نہیں تھا۔
چھوٹا سا صحن تھا، جس میں بیٹھنے کے لیے صرف دو صوفے رکھے ہوئے تھے۔
اس نے اردگرد نظر دوڑائی۔ کسی کو نہ پا کر وہ تھوڑا آگے بڑھی۔
صوفوں کے آگے اسے اپنی بلبل نظر آ گئی۔
وہ تیزی سے اس کے پاس پہنچی اور سائیکل کو ہاتھ لگا لگا کر دیکھنے لگی۔ اس لمحے وہ اردگرد سے بالکل بے نیاز ہو گئی تھی۔
“مجھے معلوم ہے کہ اس میں تمہاری جان بستی ہے، اس لیے میں نے اسے بیچنے کے بجائے اس کے مالک تک پہنچانا ضروری سمجھا۔”
پیچھے سے آتی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا تو بوڑھا دکاندار مسکرا رہا تھا۔
جولی سائیکل کو نکال کر اس کی طرف بڑھی اور سر جھکا کر شکریہ ادا کیا۔
“میں جانتی تھی کہ آپ میری سائیکل بیچنے کے بجائے مجھے واپس کر دیں گے، کیونکہ آپ میرے بابا کے دوست رہ چکے ہیں۔”
“تم بہت سمجھ دار ہو، اور تمہاری یہ عادت مجھے بہت پسند ہے۔ اسی لیے تمہارے بابا سے دوستی کا حق ادا کر رہا ہوں، تاکہ کبھی مجھے شرمندگی نہ ہو۔”
“شکریہ! آپ نے میری مدد کی اور مجھے میری بلبل واپس دے دی۔”
وہ سائیکل کے ہینڈل پر ہاتھ رکھے صحن میں کھڑی بولی۔
“یہ میری ذمہ داری تھی۔ آؤ، تمہیں ناشتہ کرواؤں۔”
“نہیں، میں اپنے چاچو کے ساتھ ناشتہ کروں گی۔ وہ میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔”
“چلو، جو تمہاری مرضی۔ اپنے چاچو سے ملنے جا رہی ہو تو انہیں کہنا کہ زالگ کہہ رہا ہے کہ جن کاموں میں تم مصروف ہو، انہیں چھوڑ دو، ورنہ پچھتاؤ گے۔
آخری الفاظ ڈھکے چھپے انداز میں ادا کیے گئے۔
“کیا مطلب؟”
وہ چونک کر بولی۔
“کچھ نہیں، ویسے ہی کہہ رہا تھا۔ تم جاؤ، دیر ہو جائے گی۔”
اگر وہ بتانا نہیں چاہتے تھے تو نہ سہی، وہ اپنے چاچو سے پوچھ لے گی۔
وہ بائے کہتی ہوئی بلبل کو ساتھ لیے ان کے پاس سے گزری اور بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
“میرے پیارے دوست کے جانے کے بعد تمہاری ماں نے اس کی جگہ کسی اور کو دے دی۔ بس خداوند سب اچھا کرے۔”
وہ بڑبڑاتے ہوئے واپس اندر چلے گئے۔
*********
برف باری ہو رہی تھی۔ قدیم سڑکوں پر برف کے ننھے ننھے ذرات گر رہے تھے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، بارش ہو چکی تھی اور موسم سہانا تھا۔
لیکن ضروری نہیں کہ خوب صورت موسم میں ہر دل بھی خوش ہو۔
کچھ کہانیاں بہت خوب صورت ہوتی ہیں، لیکن ان کا انجام بڑا دردناک ہوتا ہے۔
ہاشمی ولا میں صبح صبح سب اپنے اپنے کاموں پر جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ کچھ کی صبح ہو چکی تھی، جبکہ کچھ کی ابھی ہونی تھی۔
عشاء صبح جلدی اٹھ جایا کرتی تھی۔
وہ جوگنگ کا سیاہ لباس پہنے، بالوں کو اونچی پونی ٹیل میں باندھے باہر کی طرف جا رہی تھی۔
کافی عرصے بعد آج اس کا یونہی جوگنگ کرنے کو دل چاہا تھا، ورنہ وہ زندگی میں بہت سی چیزیں چھوڑ چکی تھی۔
ملازمہ ماریہ کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی۔ عشاء زینے پھلانگتی ہوئی نیچے اتری اور سیدھی کچن میں چلی گئی۔
“ماریہ! میرے واپس آنے تک میرا ناشتہ تیار رکھنا۔ میرے لیے بلیک کافی بھی بنا دینا۔”
حکم صادر کرتی ہوئی وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
عشاء نے دروازہ کھول کر باہر قدم رکھا تو ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی۔
اس نے چہرہ دوسری طرف موڑا، پھر گلے میں پڑا مفلر چہرے کے گرد لپیٹ لیا۔
وہ پورچ سے نکل کر سڑک کی طرف بڑھ گئی۔
اوپری منزل پر کھڑی عصر نے اسے بغور جاتے دیکھا، پھر وہاں سے ہٹ گئی۔
کمرے میں واپس آ کر عصر نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور اسے اَن لاک کیا۔ پھر کانٹیکٹس میں سے نمبر نکال کر کال ملا دی۔
بیل جاتی رہی۔ چند گھنٹیوں کے بعد کال اٹھا لی گئی۔
“ہیلو، عصر ہاشمی اسپیکنگ۔”
وہ ابھی شب خوابی کے لباس میں تھی
دوسری جانب سے کچھ کہا گیا تو اس نے غور سے سنا، پھر جواب دیا۔
کمرہ عالیشان انداز میں سجا ہوا تھا۔ بیڈ کے اوپر دیوار پر اس کی پسندیدہ ملکہ کی تصویر لگی تھی، جس میں وہ شاہانہ انداز میں بیٹھی ہوئی تھی۔
“میری بات اب سنو۔ جو کام میں نے تمہیں دیا ہے، اسے جلدی سے پورا کرو۔ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے، اور اب مزید دیر نہیں ہونی چاہیے۔”
وہ رکی، دوسری جانب سے بات سنی، پھر دوبارہ بولی:
“جو کہا ہے، وہ کرو۔ اس بار موقع ہاتھ سے نہیں جانا چاہیے، ورنہ عصر ہاشمی کو جانتے نہیں ہو۔ وہ تمہاری زندگی میں مونسٹر بن کر اترے گی۔ اوکے؟”
اس کے ساتھ ہی کال منقطع ہو گئی۔
اس کی آنکھوں میں عقاب جیسی چمک تھی اور لبوں پر شیطانی مسکراہٹ۔
وہ کسی ایسے شکاری کی مانند لگ رہی تھی جو اپنے شکار پر جھپٹنے کے لیے تیار ہو، مگر شکار اس کے ہاتھ نہ آ رہا ہو۔
**********
عشاء ولا سے نکل کر دائیں جانب آہستہ آہستہ دوڑتی ہوئی جا رہی تھی۔
سڑکوں پر بارش کا پانی ابھی تک موجود تھا۔
وہ اردگرد دیکھتی اور رات کے منظر کو یاد کرتی آگے بڑھتی جا رہی تھی۔
بہت سے گھروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے وہ سڑک کے کنارے چل رہی تھی، جب اس کی نظر سامنے ایڈنبرا کیسل پر پڑی۔
قلعے کو دیکھتے ہوئے اس نے بائیں جانب سر موڑا تو درختوں کے نیچے رکھے ایک بینچ پر اس کی نظر پڑی۔
وہ رک گئی۔
پھر لکڑی کی باڑ سے بنے دروازے کو کھولتی ہوئی بینچ کی طرف بڑھی اور وہاں جا کر بیٹھ گئی۔
برف کے ننھے ننھے ٹکڑے فضا میں تیرتے ہوئے زمین پر گر رہے تھے۔ اس نے اپنی ہتھیلی پھیلا کر ان میں سے چند کو جمع کرنے کی کوشش کی۔
“کاش! میں اس بچے کو بچا پاتی۔”
اس کی آواز میں افسوس تھا۔
“کاش! پروفیسر احتشام نے جو ویڈیو بھیجی تھی، وہ جھوٹ ہوتی۔ لیکن جو ہونا ہوتا ہے، وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔ اس بار نہیں تو اگلی بار سہی۔”
اس نے گہری سانس لی۔
“کاش! میں رومی کو بچا پاتی۔”
کاش بہت تھے۔
لیکن جب وقت گزر جاتا ہے تو انسان پیچھے مڑ کر سوچتا ہے کہ کاش یہ کر لیا ہوتا، کاش وہ کر لیا ہوتا۔
مگر پھر کاش باقی رہ جاتا ہے اور وقت گزر جاتا ہے۔
وہ دونوں ہاتھ بینچ کے ٹھنڈے کناروں پر رکھے سامنے سڑک پر دوڑتی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی۔
رات کے وقت پروفیسر احتشام سے ہونے والی گفتگو اسے یاد آ گئی۔
وہ وہاں بیٹھے بیٹھے دوبارہ اسی منظر میں کھو گئی۔
رات کا منظر
وہ شاک کی کیفیت میں ویڈیو دو سے تین مرتبہ دیکھ چکی تھی اور اس پیغام کو بھی کئی بار پڑھ چکی تھی۔
عشاء نے گہری سانس لی، پھر پروفیسر احتشام کو کال ملا دی۔
کال فوراً اٹھا لی گئی، جیسے وہ بھی اس کی کال کے انتظار میں ہوں۔
“پروفیسر احتشام! کیا یہ سب سچ ہے؟”
اس کے حواس جیسے منجمد ہو گئے تھے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے۔
پروفیسر احتشام نے دوسری جانب سے کچھ کہا تو وہ خاموشی سے سنتی رہی۔
پھر اس نے پُرسوچ آنکھوں سے سامنے دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“صبح انسٹی ٹیوٹ سے واپسی پر آپ میرے ساتھ اس بچے کے گھر چلیں گے۔ ہم اس کے گھر جائیں گے، تعزیت کرنے۔”
وہ خاموش ہوئی، لیکن اس کی آنکھیں جیسے بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔
“اوکے! اس کے گھر والوں کی معلومات بھی میرے ساتھ شیئر کر دیجیے گا۔ گھر میں کون کون ہے، اور اس سے متعلق باقی تمام تفصیلات بھی۔”
عشاء نے یہ کہتے ہی کال منقطع کر دی۔
لیکن اس کے ذہن میں بہت کچھ چل رہا تھا۔
اس کی سوچ کچھ یوں تھی:
“میں آہستہ آہستہ سب تک پہنچوں گی۔ ابھی وقت نہیں آیا۔”
منظر بلبلے کی طرح ختم ہو گیا۔
عشاء اب بھی درخت کے نیچے بینچ پر بیٹھی تھی۔ وہ روئی کی طرح نرم دکھائی دینے والے برف کے گرتے ذرات کو دیکھ رہی تھی۔
اس نے بازو پر بندھی گھڑی دیکھی، پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔
ولا واپس جانے کے لیے وہ قدم قدم چلتی آگے بڑھنے لگی۔
درخت اور بینچ اسے دور جاتا دیکھتے رہے۔
**********
“یغوث! مجھے بھی اپنے ساتھ یونیورسٹی لے چلو گے؟”
شائل نے یغوث کو کمرے سے نکلتے دیکھ کر پوچھا۔
وہ اپنے کمرے سے نکل کر اس کے پاس جا رہی تھی کہ اسے باہر آتے دیکھ کر سوال کر بیٹھی۔
“ہمم، اوکے! لیکن تھوڑا جلدی تیار ہو جانا، ٹھیک ہے؟”
یغوث سرمئی کوٹ اور نیلی جینز پہنے تیار کھڑا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
شائل کے چہرے پر خوشی کے ساتوں رنگ پھیل گئے۔
وہ اپنی خوشی پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہوئی جلدی سے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
“میں جانتا ہوں تمہاری فیلنگز، شائل! اور وہ وقت آ گیا ہے کہ تمہیں بتا دوں کہ میں تمہارے لیے نہیں بنا۔”
اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
وہ شائل کی پشت کو غور سے دیکھتے ہوئے بولا۔
کچھ محبتیں ایک دم سے ختم نہیں ہوتیں۔ جو محبت ایک دن کی نہیں، بلکہ بائیس سال پرانی ہو، وہ محض کہہ دینے سے ختم نہیں ہو جاتی۔
یہ کون سمجھائے اس انسان کو، جس سے آپ محبت کرتے ہوں؟
**********
“چاچو سے ناراض ہو، جولی؟”
اولڈ ٹاؤن کے علاقے میں بنے ایک چھوٹے سے پارک میں درخت کے نیچے رکھے بینچ پر جولی اور اس کا چاچو بیٹھے ہوئے تھے۔
جولی کی بلبل ان کے سامنے موجود تھی۔
صبح صبح کچھ لوگ جوگنگ کرنے کے لیے پارک میں آئے ہوئے تھے، لیکن وہ دونوں اپنی گفتگو میں مصروف تھے۔
“نہ ہوں؟”
جولی نے الٹا سوال کیا۔
“ناراض ہو سکتی ہو، لیکن وجہ بھی تو معلوم ہو کہ ناراض کیوں ہو؟”
“کیونکہ آپ مجھے یاد نہیں کرتے!”
وہ شکوہ کر گئی۔
“میں اپنی بیٹی کو یاد کرتا ہوں۔”
ان کا لہجہ محبت سے بھرپور اور نرم تھا۔
“یاد کرتے ہوتے تو مجھ سے ملنے آتے۔ میں ہی ہر بار کیوں آتی؟”
وہ اپنے چاچو کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
وہ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
“تم جانتی ہو، میں کیوں نہیں آتا؟”
“جانتی ہوں، تبھی تو آپ سے ملنے آتی ہوں۔”
“جانتی ہو، پھر بھی کہتی ہو کہ میں تم سے ملنے آؤں، اس گھر میں جہاں میرے بھائی کو کوئی یاد بھی نہیں کرتا۔”
“میں کرتی ہوں، ہر روز! بابا مجھے بہت یاد آتے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد سب کچھ ختم ہو گیا۔”
جولی کے لہجے میں دکھ تھا۔
“تم کرتی ہو، لیکن تمہاری ماں کرتی ہے؟”
ان کا سوال سن کر جولی کے چہرے پر زہر سا پھیل گیا۔
اس نے بہت کچھ اپنے اندر اتارا اور ہمت مجتمع کرتے ہوئے بولی:
“ان کی بات نہ کریں۔ آپ مجھ سے صرف میرے بابا اور ہماری بات کریں۔”
“ٹھیک ہے، نہیں کرتا۔ لیکن تم مجھے اب زبردستی اس گھر میں آنے کو نہیں کہو گی۔”
انہوں نے یقین دہانی چاہی۔
“نہیں کہتی۔ میں خود آ جایا کروں گی۔”
“تم آج انسٹی ٹیوٹ نہیں آ رہی؟”
جولی نے چہرہ موڑا اور اپنے چاچو، براق، کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
“نہیں، آج چھٹی کر رہی ہوں۔”
“اچھا! اور کیوں؟”
“دل نہیں چاہ رہا۔ جب چاہے گا، تب آ جاؤں گی۔”
“میں جا رہا ہوں۔ آج دو دن کی چھٹی کے بعد واپس جا رہا ہوں، اور آج عشاء ہاشمی کے سوالوں کے جواب بھی دینے ہوں گے۔”
براق کا لہجہ یہ کہتے ہوئے تلخ ہو گیا۔
“آپ ان سے ڈرتے ہیں؟”
جولی پورے وقت میں پہلی بار مسکرائی۔
“ڈرتا نہیں ہوں اس سے۔ بس کسی اور وجہ سے ڈرتا ہوں۔ وہ مجھے نکال دے گی تو میرا کام ادھورا رہ جائے گا۔”
وہ انجانے میں اپنے دل کی بات کہہ گئے۔
ان کی بات پر جولی چونک گئی۔
“کیا مطلب؟ کیسا کام؟”
“ارے، وہ کچھ نہیں۔ تم مت سوچو۔ ویسے ہی کہہ دیا۔”
انہوں نے بات بدل دی۔
“ایک بات پوچھوں؟”
“کہو۔”
“عشاء میم کی عمارت سیاہ اور سرمئی رنگ کی کیوں ہے؟”
“تم کیوں پوچھ رہی ہو؟”
“آپ نے پہلے بتایا تھا، لیکن مختصر۔ اب میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے تفصیل سے بتائیں۔ اور یہ بھی کہ آپ نے مجھے اپنا تعلق آپ سے چھپانے کے لیے کیوں کہا تھا؟”
“اچھا! چلو، پھر سنو۔۔۔”
براق بولنے لگے اور جولی غور سے سننے لگی۔
پارک میں آہستہ آہستہ لوگ آ رہے تھے اور کچھ وہاں سے جا رہے تھے، لیکن وہ دونوں بینچ پر بیٹھے ایک دوسرے کی باتیں سننے میں مصروف تھے۔
برف باری سے ڈھکا درخت اور اس کے نیچے بیٹھے چاچا بھتیجی، دونوں جیسے ایک الگ ہی دنیا کے باسی تھے۔
**********
عصر زینے پھلانگتی ہوئی نیچے اتر رہی تھی کہ عشاء نے بیرونی دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا۔
وہ جوگنگ کا لباس پہنے، گھڑی پر وقت دیکھتی ہوئی سامنے بڑھ رہی تھی کہ عصر کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو رک گئی۔
“تم زندہ ہو؟”
عصر کا اشارہ رات والی بات کی طرف تھا۔
“تم نے میرے لیے دعا کی تھی، اس لیے بچ گئی۔”
عشاء نے پُرسکون انداز میں جواب دیا۔
عصر نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا اور دو قدم نیچے اتر آئی، جبکہ عشاء ابھی پہلے زینے کے قریب کھڑی تھی۔
“میں نے دعا تو کی تھی، لیکن کچھ اور کی تھی۔”
“جانتی ہوں، تم نے کیا دعا کی ہو گی۔”
عشاء نے سنجیدگی سے کہا۔
“اچھا! تو بتاؤ، کیا دعا کی تھی میں نے؟”
عصر اسے مسکراتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
“یہی کہ عشاء کو کچھ نہ ہو، ورنہ مجھے اس کے انسٹی ٹیوٹ سے نئے چہرے نہیں ملیں گے۔ اور پھر عصر کامیاب کیسے ہو گی؟”
عشاء نے طنزیہ انداز میں کہا تو عصر کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
عصر کے چہرے پر نمودار ہونے والے تاثرات عشاء کو صحیح معنوں میں لطف دے گئے۔
عصر کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اوپر ریلنگ سے جھانکتے یغوث کی آواز ابھری۔
دونوں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔
“مما آپ دونوں خواتین کو ناشتے کے لیے بلا رہی ہیں۔ یہ لڑائی بعد میں کر لیجیے گا۔”
یغوث نے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔
“اوکے، چیمپئن! میں تیار ہو کر آ رہی ہوں۔”
عشاء نے انگوٹھا اٹھا کر اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا۔
عصر، عشاء کو گھورتی ہوئی اس کے پاس سے گزری اور ڈائننگ ایریا کی طرف بڑھ گئی۔
یغوث اوپر سے تیزی سے سیڑھیاں اترتا ہوا عشاء تک پہنچا۔
“میری پیاری عشاء بہنا! جائیے جلدی اور تیار ہو کر آئیے۔”
وہ شرارتی انداز میں کہتا ہوا وہاں سے بھاگ گیا۔
پیچھے عشاء مسکراتے ہوئے اوپر چلی گئی۔
وہ کم ہی مسکراتی تھی، لیکن جب مسکراتی تو اسے دیکھ کر نظر اتارنے کو دل کرتا تھا۔
وہ صرف یغوث کی خاطر ہنس لیتی تھی، ورنہ اپنے اصولوں پر سمجھوتا کرنا اسے پسند نہیں تھا۔
**********
ڈین ولیج
لونا آپا اور میڈی کی میتیں لے کر وہ واپس آ چکے تھے۔
گھر میں رشتے داروں کا ہجوم تھا۔ وہ لوگ جو پہلے کہیں نظر نہیں آتے تھے، اب سب اکٹھے ہو رہے تھے۔
لیانا اس سارے وقت میں سونیلا آنٹی کے ساتھ تھی۔
پادری آ چکے تھے، اور اب ان کی آخری رسومات مسیحی طریقے سے ادا کی جانی تھیں۔
لیانا کا دل ہول رہا تھا۔
لونا آپا اور میڈی کے جانے کے بعد اب گھر میں اس کے ساتھ کون رہے گا؟ وہ کس کے ساتھ اپنی باتیں کرے گی؟
اسے مستقبل کی فکر بھی ستا رہی تھی، کیونکہ اب وہ اکیلی رہ گئی تھی۔
کل سے وہ ریسٹورنٹ بھی نہیں گئی تھی، اور آج بھی نہ جاتی تو اسے نوکری سے نکال دیا جاتا۔ یہی سوچیں اسے مسلسل پریشان کر رہی تھیں۔
لیکن اس وقت وہ ان سب باتوں کو ایک طرف رکھ کر سونیلا آنٹی کے ساتھ کھڑی تھی۔
ان کے جانے کے بعد وہ اس گھر میں اکیلی کیسے رہ پائے گی؟
یہ خیال ہی اسے اندر سے توڑ رہا تھا۔

**********
جاری ہے ۔
اگلی چند دنوں بعد

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *