KOHE TOOR BY BISMA IJAZ CHAPTER 1.

کوہِ طور 

ازقلم بسمہ اعجاز 

باب اول 
گاڑی خالی سڑک پر تیزی سے دوڑ رہی تھی یکدم ٹائروں کے چڑچڑانے کی آواز کے ساتھ رکی ۔ کوئی عجلت میں گاڑی سے باہر نکلا آسمان کی طرف نگاہ ڈالی تو فجر کا پھیلتا نور آسمان کو نیلے رنگ میں گھول رہا تھا اس نے تنفر سے منہ موڑا تو نظر قریب موجود جہلم پر جا ٹہری جس کے شفاف پانی پر فجر کا نیلا نور پڑ رہا تھا جو ساکن تھا پر سکون کوئی ہلچل نہیں تھی ۔اسے شدید کوفت ہوئی ۔جہلم سے منہ موڑ کر وہ گاڑی کے شیشے کی طرف پلٹا ،سامنے عکس پر نظر پڑی تو پرچھائی نے سفید شرٹ کے ساتھ سفید ہی ٹراؤزر پہن رکھا تھا چہرے کے نقوش سفید نقاب کے پیچھے تھے اس نے گہری سانس لے کر کیپ کو سر پر درست کیا ۔۔وہ سفیدی کا بادشاہ گمان ہوتا تھا ۔۔۔مگر اس کی آنکھیں ۔۔ہاں وہ کچھ مختلف تھی ۔۔کیا تھا ان کا رنگ؟
ان میں تپش تھی ،آگ تھی ۔اس نے رخ دریا کی مخالف سمت کیا تو کچھ دور ایک سفید عمارت کھڑی تھی جس پر بھی فجر کا نیلا نور پڑ رہا تھا ۔وہ تیزی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا عمارت کی جانب بڑھا ۔
“کوئی کسی کا سب کچھ کیسے ختم کر سکتا ہے ۔۔۔”
وہ بپھرے ہوۓ شیر کی طرح عمارت کی جانب بڑھ رہا تھا چند لمحوں میں وہ عمارت کے داخلی دروازے پر تھا جہاں آٹومیٹک لاک سسٹم نصب تھا ۔دروازے کے ساتھ موجود سکرین پر پاسورڈ کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اس نے کی پیڈ پر غصے سے انگلیاں ماری ،
“رونگ پاسورڈ” سر خ رنگ میں الفاظ ابھرے اس نے زور دار ضرب کی پیڈ پر ماری اور اپنی مخروطی انگلیوں سے پھر پاسورڈ ڈائل کیا شیشے کا دروازہ کھلا اس نے گردن اکڑا لی ۔وہ اس کی ریاست تھی ،اس کی سلطنت ۔اور وہ پھر کسی مغرور بادشاہ کی سی چال چلنے لگا ۔نقصان بڑا تھا مگر انا ، غرور سب سے اونچا تھا ۔اندر داخل ہوا تو دونوں اطراف کیبن بنے ہوۓ تھے اس وقت ہر سو خاموشی کا راج تھا کھڑکیوں سے آتی ہلکی نیلاہٹ والی روشنی نے ہر شے پر بسیرا کر رکھا تھا ۔اس کا دل کیا سب کو آگ لگا دے وہ غصہ اپنے اندر جمع کرتے ہوۓ لفٹ کی جانب بڑھا اور ٹاپ فلور کا بٹن پریس کیا ۔خاموشی بہت گہری تھی اس کو اپنی دھڑکن کانوں میں پڑتی محسوس ہوئی ۔ سب کھو دینے کے خوف نے اسے آن گھیرا تھا یکدم لفٹ رکی اس نے لفٹ سے باہر قدم رکھا وہاں کوئی کیبن نہیں تھا لمبی راہداری کے پار بس ایک دروازہ تھا وہ تیز قدم اُٹھا کر دروازے کی جانب بڑھا کچھ فاصلے پر پہنچا تو اسے محسور کن آواز کچھ گنگناتی محسوس ہوئی الفاظ سمجھ نہیں آرہے تھے زباں تو جانی پہچانی تھی مگر اس کا دماغ کچھ پروسیس نہیں کر رہا تھا ۔ اس نے دروازے پر پہنچ کر فنگر پرنٹ لاک سے دروازہ کھولا۔ شیشے کے پٹ کھلے اس نے آنکھیں سکیڑ کر یقین کرنا چاہا کوئی اس کے سکیورٹی سسٹم کو مات دےکر بادشاہ کے تخت پر براجمان تھا سراپے پر نیلی روشنی پڑ رہی تھی مگر چہرہ۔
اس نے آنکھیں سکیڑی اس کے پیر میز پر تھے ہاں اس کا چہرہ نیلے رنگ کے جاگرز کے پیچھے تھا مگر مدہور آواز اب بھی کمرے میں گونج رہی تھی ۔سفیدی کے بادشاہ نے بنا پلٹے سویچ بورڈ پر بٹن پریس کیا تو تخت کے عین اوپر سفید روشنی چمکی تخت نشین نے پیروں کے درمیان فاصلہ بڑھایا ۔ سفیدی کے بادشاہ کا چہرہ زرد پر گیا ۔۔لمحے کے ہزارویں حصے میں بادشاہ نے خود کو سنبھالا
“تم مجھ سے تخت چھینو گے ؟؟ وہ استہزیہ ہنسی ہنسا اور پھر ہنستا چلا گیا تخت نشین نے پیر میز سے نیچے کو لیے اور اُٹھ کھڑا ہوا گہرے نیلے رنگ کے لباس میں ملبوس اس کی سیاہ آنکھوں میں فتح کی چمک تھی۔ وہ مسرور چال چلتا سفیدی کے بادشاہ کے قریب آیا پھر کان کے قدرے قریب ہو کر بولا
” چھینوں گا نہیں چھین چکا ہوں “۔اور کہہ کر چند قدم پیچھے کو لیے
“تم سےپہلے بھی کوئی اسی ذعم میں آیا تھا ۔۔ مگر آج مٹی کے نیچے ہے”۔۔اس نے ہنسی روک کر غیر انسانی آواز میں کہا ۔
”مجھ سے پہلے جو آیا تھا وہ اپنا ہارون ساتھ نہیں لایا تھا ۔۔لیکن آج جو موسٰی آیا ہے اپنا ہارون ساتھ لایا ہے “
اس نے کمرے ایک تاریک حصے کی طرف اشارہ کیا ایک اور نفوس چلتا ہوا سفید روشنی میں آیا جونہی اس کی سنہری آنکھوں سے سفید روشنی ٹکرائی کمرا ایک اور رنگ سے متعارف ہوا گمان ہوا کہ سورج کی کرنیں ہر سو پھیل گئی ہیں وہ چلتا ہوا تخت نشین کے ساتھ آن کھڑا ہوا ۔دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کے خیال گردا ہوا کہ ایک آگ ہے تو دوسرا برف ۔۔ایک آسمان ہے تو دوسرا زمین ۔۔ایک سمندر ہے تو دوسرا پہاڑ ۔۔
موسٰی سنہری آنکھوں والے نے تخت نشین کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
ہارون اس نے اپنے سینے پر انگلی رکھی ۔
فرعون اور ہاتھ پھیلا کر سفیدی کے بادشاہ کی طرف بڑھایا۔ بساط بچھ چکی تھی ،مہرے کھل کر سامنے آگۓ ۔شطرنج تو اب شروع ہوئی تھی۔۔۔۔

مگر رکو یہ ایسے تو شروع نہیں ہوا تھا ۔۔ چلو پھر سے شروع کرتے ہیں۔۔۔

باب نمبر1 :
شہر چارلسٹن
رنگوں کا شہر،
آرٹ کا شہر،
سحر کا شہر ،
سیراب کا شہر،
نیلے سمندرسے اٹھتی ٹھنڈی ہوا کے سنگ اگر چلو تو شہر چارلسٹن سفید ستاروں سے بھرے گہرے نیلے آسمان تلے اپنی پوری شان سے کھڑا تھا ۔ساحل سے چلتی ہوا کے ساتھ سفر یوں ہی جاری رکھیں تو چارلسٹن(Charleston) کے تاریخی علاقے فرینچ کوارٹر french) (quarterکی سڑک پر اس وقت خوب رونق تھی ہجوم میں ذرا آنکھیں سکیڑ کر دیکھوں تو ایک نوارد بھورا چمڑے کا بیگ تھامےچاروں طرف نظر دوڑاتاسڑک پر چلے جا رہا تھا۔اس کی چال پر اعتماد مگر ،قدم مشکوک تھے جیسے وہ خود بھی اپنے اگلے لائحہ عمل سے لاعلم ہو بلآخر وہ فرینچ کوارٹر کے مشہور ترین ہوٹل The Vendue کے سامنے آن رکا ۔جس کی بیرونی دیواریں گہرے سرمئی رنگ کی تھی ۔یہ ہوٹل 18 ویں صدی کے پرانے گداموں کی عمارتوں کو ملا کر بنا یا گیا ہے ۔یہ چارلسٹن کا پہلا اور واحد ہوٹل ہے جو مکمل طور پر آرٹ کے لیے وقف ہے ۔یا اس لیے اس کو ،”زندہ میوزیم “بھی کہتے ہے جہاں تاریخ اور جدید آرٹ کا بہترین ملاپ ہے۔ نوارد ہوٹل میں داخل ہو کر سیدھا کاؤنٹر پر جا پہنچا۔
”ایکسکیوزمی “! اس نے کاؤنٹر پر جھکے لڑکے کو مخاطب کیا جو کمپیوٹر پر بزی تھا ۔
”یس سر “ کہہ کر کاونٹر والا لڑکا کھڑا ہوا تو اس کے سینے پر دائیں جانب سیاہ بیچ پر سنہرے رنگ سے ”John “ لکھا ہوا تھا ۔
”مسٹر اطہر سے ملنا ہے ۔“جون نے اس کی بات پر سر اٹھایا تو سامنے ایک بائیس ،تئیس سالہ نوجوان ،چہرے پر ماسک اور سر پر پی کیپ پہنے کھڑا تھا ۔
”اپویمنٹ لیٹر ؟؟“ جون نے اس کو آنکھیں سکیڑ کر دیکھتے ہوۓ کہا ۔نوارد نے اپنے فون کی سکرین اس کے سامنے کی ۔
”ڈیانا! Rose ma’am کہاں ہیں “؟اس نے قریب موجود ایک لڑکی سے پوچھا ۔
کیوں “َ؟ اس نے جواباً سوال کیا ۔
”اطہر سر سے ملنے وہ لڑکا آیا ہے “۔وہ اکتا کر بولا اگر وہ اس سے جونئیر نہ ہوتا تو کبھی جواب نہ دیتا ۔۔
”روزکو ایمرجینسی تھی گھر چلی گئی ہے ،تم اس کو اینکلیو لے جاؤ اطہر سر وہیں ہیں“۔ڈیانا نے گویا حکم چلایا ۔
”اوکے۔“وہ پھر سے لڑکے کی جانب پلٹا جو اپنے موبائل پر مصروف تھا ” آپ میرے ساتھ آئیں۔“کہہ کر جون کاؤنٹر سے باہر نکلا ۔اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔جون ہوٹل سے باہر کے راستے کی طرف ہو دیا تو نوارد کو ڈھیرون حیرت ہوئی ۔
”ہم ابھی اطہر سے نہیں ملے “ اس نے جیسے باور کر وایا ۔
”جی سر ۔ہم وہی جا رہے ہیں یہ ہوٹل دو حصوں میں منقسم ہے ایک مرکزی عمارت وینڈیو19جس میں ہم اس وقت موجود ہیں اور ایک سڑک کے اس پار وینڈیو 26 دی اینکلیو( The Enclave )،جہاں اس وقت مسٹر اطہر موجود ہیں“ جون سڑک پار کرتے ہوۓ بولے جارہا تھا ۔نوارد خاموش رہا ۔اینکلیو مقابل عمارت سے ہٹ کر تھا ہو شوخ نہیں ،پر سکون تھا ۔وہ اس کو لے کر ایک کمرے میں چلا گیا۔
”آپ یہاں ویٹ کریں ،میں اطہر سر کو بلواتا ہوں “ یہ کہہ کر جون پلٹ گیا ۔نوارد نے بیگ شیشے کی میز پر رکھااورکمرے کاجائزہ لینا شروع کر دیا ۔بلیک اینڈ وائٹ تھیم کے کمرے میں گولڈن یلو کشنز اور آرٹ پیسز ،لکڑی کا فرش اور فرنیچر ،ہلکی نیلی لائیٹس ایک کلاسی لوک دے رہی تھی ۔وہ متاثر ہوۓبنا نا رہ سکا ۔کچھ دیر وہ یوں ہی ہر شے کو جانچتی نگاہوں سے دیکھتا رہا ایک دم دروازاہ کھلا تو دہلیز پر ایک چالیس سالہ شخص کھڑا تھا جس کے سر کے بال سیاہ تھے مگر قلمیں سفید ہوچکی تھی ،اس کو دیکھ کرنوارد نے ماسک اتارا۔
“Long time Mr Abdul Hadi “
وہ مسکرا کر بولا اور بانہیں پھیلا لی جسے اس کا استقبال کر رہا ہو۔ہادی گویا خاموش رہا ۔
“بیٹھو یار ! تمھارے چاچو کا ہوٹل ہے “اطہر نے اس کا موڈ لائٹ کرناچاہا ۔وہ جانتا تھا کہ ہادی ٹینشن میں ہے ۔
”ابو کا کزن “ہادی نے تصیحح کی ۔ کیپ اور کوٹ اتار کر صوفے پر پھینک دیے ۔اور دھڑام سے صوفوں پر نیم دراز ہو گیا ،آنکھوں پر بازو رکھ لیا وہ تھک چکا تھا جہاز کا سفر تھکا دینے والا ہوتا ہے ۔
”چاچوسسر۔۔اطہر نے اس کو ایک اور رشتہ باور کروایا تو ہادی نےسلگ کر آنکھون سے بازو ہٹایا۔
”کم آن “اس نے اکتا کر بولا ،تو اطہر ہنس دیا۔
”اوکے اوکے بیگ لے آۓ۔؟اطہر نے صوفے پربیٹھتے ہوۓ پوچھا ۔ہادی نے پھر سے آنکھیں موند لی ۔
”ظاہر ہے “اس نے دو لفظ کا جواب دیا وہ چڑچڑا ہو رہا تھا ۔
”اگر تم کمفرٹیبل فیل نہیں کر رہے تو ہم بعد میں بات کر لیتے ہیں اطہر نے اس کو آرام کا مشورہ دینا چاہا۔
”نہیں ۔میں ٹھیک ہوں “ ہادی اٹھ بیٹھا ۔اطہر کو اس کا رویہ عجیب محسوس ہوا ۔دروازے پر ناک کے ساتھ جون کافی لے کر داخل ہوا اور کافی رکھ کر چلا گیا ۔
” تم صرف امریکہ تونہیں آنا چاہتے تھے کیونکہ اگر تمھارا صرف یہ مقصدہوتا تو تم یہ طریقہ نہ اپناتے ۔تم اچھے بچے تھے یار !ایک طویل خاموشی کے بعد اطہر نے اندازہ لگایا ۔اس کو ہادی کی اس حرکت پر شدید دکھ ہو رہا تھا کیا کر لیا تھا اس نے اپنے ساتھ ۔
” آپ کو کس نےکہا کے میں اچھا بچہ تھا ،؟ ہادی نے کافی کا مگ رکھتے ہوۓ پوچھا۔
” تم نماز پڑھتے تھے ۔۔مذہبی تھے ۔ “اطہر نے گویا الفاظ جمع کرنا چاہے ۔
” دین صرف داڑھی ،تسبیح ،نماز کا نام نہیں ہے ،اس میں اور بہت کچھ ہے جو ہم اگنور کرتے ہیں“ہادی نے جلے دل سے کہا ۔”ضروری نہیں جو نماز پڑھے بڑا ہی اچھا ہو۔نماز پڑھنے والے بھی سیاہ کار ہوتے ہے میں بھی ہوں۔ “اس نے گہرا سانس خارج کیا ۔”میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں “ہادی نے کاف مگ کو میز پر رکھ دیا
”کیا؟”اطہر نے کہا ۔
”میری سیاہ کاری کی داستان “ اب سفید دیواریں انھیں سننے لگی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں سے ہم اگر راولپنڈی کو دیکھے تو فجر کو گزرے کئ ساعتیں گزر گئی ہر سو سنہری کرنیں بکھری ہوئی تھی۔ ایک محلے کی پکی گلی میں دو منزلہ گھر تھا جس کی نچلی منزل پرانے طرز کی بنی تھی مگر بلائی منزل کو جدید طر ز میں بنا یا گیا تھا ۔لکڑی کے بھورے اسٹائلش دروازے کو دھکیل اندر آؤ تو صحن میں ایک طرف کیاری تھی ،بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ کیاری کے نام پر بس گلاب اور رات کی رانی ہی تھے ۔جس کے ساتھ کرسیاں پڑی تھی ، برآمدے میں آؤ تو دائیں جانب ایک کچن تھا ،جہاں زبیدہ بیگم کھڑی چاۓ کم اور اپنی بیٹی کو صلواتیں زیادہ سنا رہی تھی۔پتہ نہیں ماؤں کو کیوں لگتا ہے کہ ان کی آواز کچن سے دنیا کے کسی بھی کونے میں جاسکتی ہے ۔”دعا ! اٹھ جاؤں کالج کو لیٹ ہو رہی ہے۔۔۔۔۔سجل جا کر جگانا اُس کو۔۔نکمی پھر ہمیں کہے گی لیٹ کروا دی ۔“اب کی بار ان نے اپنی بڑی بیٹی کو مخاطب کر کے کہا ۔
سجل برآمدے میں اپنی بیٹی کے شو لیز باندھ رہی تھی وہ پچیس سال کے لگ بھگ کی لڑکی مسٹرڈ کلر کے فراک میں ملبوس ،بالوں کو ڈھیلے جوڑے میں باندھے ہوئی تھے
“اُٹھاتی ہوں۔۔۔۔”یہ کہہ کر کھڑی ہوئی تو اس کے نقوش واضح ہوۓ اس کے چہرے کے نقوش عام تھے مگر کتئھی رنگ کی آنکھوں کے سبب وہ مختلف لگتی تھی ۔اس نے رخ صحن سے دوسری جانب کیا تو وہاں دو کمرے تھے سجل نے دروازے پر دستک دی،اور دروازے کو ہلکا سا کھولا کمرے میں عین سامنے بیڈ تھا جس پر بیٹھی دعا کالج کے یونیفارم میں موبائل پر تیزی سے انگلیاں چلا رہی تھی بیڈ کے ساتھ ایک طرف الماری بنی تھی جس سے کپڑے نیچے کو لٹک رہے تھے اور دوسری طرف رائیٹنگ ٹیبل پراس کی کتابیں بکھری پڑی تھی سجل نے کمرے کی حالت دیکھ بے اختیار آبرو اوپر کو اٹھے۔
“میڈم۔۔۔۔۔۔ہم پر رحم کریں اور کالج کے لیے تیار ہو جائیں ۔“سجل کمرے میں داخل ہوئی اور کتابیں ایک طرف ترتیب سے رکھنا شروع کی ۔جن میں زیادہ تر میڈیا ماس اینڈ کمیونیکیشن کی تھی ۔جبکہ دعا ہنوز موبائل پر بزی تھی ۔
”آپی یار “دعا نے اپنے کھلے سیاہ بالوں کو پیچھے کیا ۔”یہ دیکھیں اور بیڈ پر گھٹنوں کے بل چلتی سکرین سجل کے آگے کی سجل نے سکرین پر دیکھا تو وہاں کسی انجان نمبر سے میسج آیا ہوا تھا اُس نے بھنویں سکیڑیں اور سوالیہ انداز میں دعا کو دیکھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہیں “دعا نے کندھے اچکاۓ اور جا کر سنگہار میز کے سامنے کھڑی ہوگئی ۔اس کی آنکھیں بڑی تھی پلکیں مڑی ہوئی اور سیاہ رنگ کی ،اس کے چہرے کی ساری خوبصورتی اس کی آنکوں اور تھوڑی پر موجود تل کی وجہ سے تھی ۔
“کس کا نمبر ہے؟“سجل نے تفتیشی انداز میں پوچھا ۔دعا نے کنگھی اٹھائی اور اپنے بالوں میں پھیرنا شروع کی وہ زیادہ لمبے نہیں تھے کہنی سے اوپر تک تھے
“کس کا ہو سکتا ہے؟”دعا نے اپنے سارے بال سیدھے کیے پہلے ایک لٹ اٹھائی پھر نفی میں سر جھٹک کر اسے چھوڑ کر بالوں میں دوبارہ برش پھیرا ۔
”دعا شاہزیب میں پہلیاں بجھانے کے موڈ میں نہیں ہو ں”سجل نے اس کا فون بستر پر پھینک دیا ۔
”یار آپ تو غصہ ہوگئی ہے ۔بالوں کو چھوڑ اب وہ اپنی آنکھوں پر آئی لائینر لگا رہی تھی ۔کیا نہیں پڑا ہوا تھا اس کے سنگھار میز پر ؟”ہادی کا ہے ،اور حیرت کی بات اس نے خود رابطہ کیا ہے “ اس نے کہہ کر ،ماہرانہ انداز میں آنکھ بند کر کے ایک ہی بار میں کالی لکیر کھینچی ۔باہر کی طرف جاتی سجل کرنٹ کھا کر مڑی
“کنفرم”۔دعا کی طرف سے جواب نہ آیا وہ اپنی دوسری آنکھ پر آئی لائینر لگا رہی تھی ۔
”نی آجاؤ دونوں “امی کی آوازاب کی بار کمرے میں آئی شاید وہ ناشتہ بنا چکی تھی ۔سجل نے کوفت سے جھرجھری لی اور اس سے آئی لائینر کھینچ لیا ،سیاہ لکیر اس کی انکھ کے پاس سے گال تک آگئی ۔
”ہاا ہ یہ کیا کر دیا “دعا تیزی سے میکاپ ریمور اس پر رگڑتےہوۓ بولی ۔
”تم پیس کیپر ہو “سجل نے گویا اسے باور کرویا ۔
”ہاں تو “۔اس نے پھاڑ کھانے والے انداز میں بولا اور پھر سے گال رگڑنے لگی ۔
”تم باقی لڑکیوں کو کس منہ سے منع کرو گی کہ رولز نہ توڑیں “ اس نے دعا کا پہلو میں پڑا ہاتھ سامنے کیا جس کے ناخن بڑے تھے اینسٹا سے دیکھا کوئی نیل آرٹ بھی اپلاۓ کیا گیاتھا ،یہ ہاتھ لے کر تم باقی سب کو کہو گی کہ ناخن نہ رکھے ، میک اپ کر کے تم باقی لڑکیوں کو منع کرو گی کہ وہ میک اپ نہ کریں ،رائٹ ؟“اس نے آبرو اٹھایا ۔
”یار آپی ! ابھی لیکچر نہیں۔“اس نے چڑ کر کہا
”تم اپنے عہدے کاناجائز فائدہ اٹھاتی ہو “سجل پھر سے بولی ۔
”سب کرتے ہیں صرف میں نہیں کرتی “دعا نے بونگی سی وجہ بتائی
”سب کنویں میں چھلانگ لگائیں گے تم بھی لگا دینا ۔۔ تمھیں کیسے پتہ کے ہادی کا نمبر ہے “سجل نے اس سے بات کرنافضول سمجھی ۔
”صالح روز رات کو اس نمبر پر اپنے فون سے کال کرتا ہے مگر ہمیں نہیں بتاتا ہادی کو گۓ 3دن ہوگئے ہے آپی وہ جہاز پر گیا تھا،پیدل تو تھا نہیں ۔تین دن صالح سے مسلسل رابطے میں تھا اور اس نے ہم سے آج رابطہ کیا ہے “دعا غصے میں پھٹ پڑی ۔
”تمھیں کیسے پتہ صالح اس سے رابطے میں ہے “؟سجل کو ابھی بھی یقین نہ آیا ۔
”صالح کا فون چیک “اس نے مسکرا کر آبرو اچکایا ۔
”غیر مہذب حرکت “سجل نے تین لفظی جواب دیا ۔
”کیوں ہم لڑکیوں کی فون چیکنگ ،چیک اینڈ بیلنس اور لڑکوں کی باری غیرمہذب حرکت “دعا نے سر جھٹکا “میں تو سارے ثبوت واپس آکر امی کے سامنے رکھوں گی “دعا نے اپنے بالوں میں آدھا جوڑا بنا کر کیچر ڈالا یوں جیسے بالوں کی ٹیل پونی کندھوں تک آرہی تھی ۔
“ سنسنی بی “سجل نے اسے تنبیہانہ لہجے میں کہا اور موبائل بیڈ سے اچک لیا ۔
”رپورٹر دعا شاہزیب “اس نے گویا بال کندھے سے پیچھے جھٹک کر اس کی تصیحح کرؤائی ۔
”اچھا جو مرضی کرو۔تمھارا فون میں رکھوں گی آج ۔اور کمرا ٹھیک کر کے باہر آنا “سجل نے سیٹ کی ہوئی کتابیں ہاتھ مار کر دوبارہ خراب کردی ۔۔
”آپییی۔۔“دعا چلا کر بولی ۔
”دعا تجھے اٹھانے کے لیے کتنے نیوتے بھیجو ں ۔“کان کے پیچھے دوپٹہ اڑساتی زبیدہ بیگم اس کے کمرے میں آئی ،کمرے کی حالت دیکھ انھیں غش آگیا ۔”اۓ ہاۓ گندی اولاد “زبیدہ بیگم اسے اب ڈانٹنتے ہوۓ کمرہ سیٹ کرنے لگی دعا بیگ اٹھا کر کمرے سے باہر بھاگ آئی ۔اب جتنی دیرمیں کمرہ سیٹ ہونا تھا دعا نے کالج کے لیے نکل جانا تھا ۔
……………………………………………….

TEXSAS
ٹیکساز میں اس وقت صبح کے آٹھ بج رہے تھے ہر طرف چہل پہل تھی ایسےمیں السٹر پیلیس کے مکین ناشتے کے ٹیبل پر جمع ہوے تھے سربراہی کُرسی پر مسٹر ولیم براجمان تھے اُنھوں نے نگاہ دوڑائی تو اُن کے ٹھیک سامنے اُن کی بیٹی کیتھرین تھی ان کے دائیں جانب اُن کی بیوی ایما اور بائیں جانب اٗن کا بیٹا لوکس تھا۔
ولیم نے جوس کا گلاس تھاما۔
“جیسیکا کہا ں ہے ؟“
ایما کے ہاتھ سے کانٹا گرتے گرتے بچا”وہ”۔۔۔۔” اس نے اپنی کنپٹی کو چھوا۔۔۔۔۔ ولیم ۔۔۔ “
“ اوہ آپ کو اتنی دِکت پیش ہو رہی ہے تو میں بتا دیتی ہوں”ایما نے بےبسی اُسے دیکھا؛کیتھ نے اُس کی اُڑتی رنگت پے ایک محظوظ نگاہ ڈالی پھر سلسلہ کلام جوڑا “جیس کل پھر لیٹ نائٹ کلب میں تھی اور تھوڑا بہت نشہہہ۔۔۔۔” اس نے سر جھٹکا خداوند بچاۓ ایسے کاموں سے ۔۔ اُس نے کافی مگ اُٹھایا “دادا بھی تو کہتے تھے نا کہ بُرے کاموں کا بُرا انجام۔ “
ایما نےکانٹا پھینکا “زبان سنبھال کر بات کرو کیتھ !”وہ چِلّائی” میری بیٹی کے بارے میں کیسی باتیں کر رہی ہو”وہ ولیم کی جانب مُڑی “آپ اسے کچھ نہیں کہے گے؟؟”
“کیتھ ! سوری بولو مام کو”ولیم نے حد درجہ سکون سے بولا
“اس میں سوری والی کیا بات ہے آپ نے پوچھا اور میں نےبتادیا ۔۔۔۔ کے جیسس کیوں نہیں آئی “کیتھ نے معصوم بنتے ہوے کہا اور آنکھیں پٹپٹائی۔
“ تم آرام سے بھی بتا سکتی تھی یہ کوئی طریقہ نہیں ہے” ایما جل کر بولا۔
“واہ بھائی طریقے کی بات کون کر رہا ہے”وہ کھلکھلا کر ہنس دی “جو جیس کو طریقہ نہیں سکھا سکی “اس نے تالی بجائی “گریٹ ہے”ولیم نے زور سے ہاتھ میز پر مارا “کیتھ ! تمھیں کوئی تمیز ہے تمھاری مامم۔۔۔۔۔۔
“سٹیپ مام “ کیتھ نے بات کاٹی اور اُٹھ کھڑی ہوئی “یہاں تو ناشتا بھی عذاب بن جاتا ہے”
ایما نے شدید صدمے میں ولیم کو دیکھا ۔ لوکس نے گھڑی کو دیکھا ” کام ڈاؤن باۓ مام ڈیڈ “اور اُٹھ کر چلا گیا۔
“وہ لڑکی میری برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہے تم اس کو خود سمجھا لو ورنہ بعد میں سب سے زیادہ درد تمھیں ہی ہو گا “
ایما کہ کر جونہی اُٹھی تو ولیم نے سختی سے اس کا بازو پکڑا”خبردار ! جو میری بیٹی کے بارے میں دوبارہ ایسا بولا اور جیس کی حرکتیں تو واقعی بہت خراب ہے کیتھ کے بجاۓ اس کو سمجھاؤ تاکہ مجھے ۔۔ نا ۔۔تمھیں تکلیف نہ ہو”اس نے ایک ایک لفظ چُبا کر بولا جھڑک کر اس کا بازو چھوڑا اور اپنا کوٹ اُٹھا کرباہر کی طرف ہو گیا۔ولیم نے جونہی دہلیز کوپار کیا تو ایما نے گلدان اٹھا کر دیوار پر دے مارا ” اس کیتھ کو تو چھوڑوں گی نہیں میں“ وہ غصّہ میں پھنکاری ۔
اور ایک بار پھر پیلس کا سکون غارت ہو گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَالَّذِینَ جَاھَدُوآ فِینَالَنَھدِیَنَّھُم سُبُلَنَا طوَاِنَّاللّہَ لَمَعَ المُحسِنِینَ ۔سورۃ العنکبوت69
“ماشااللہ صالح بیٹا بہت خوب۔۔۔۔۔آج آپ لوگوں نے سورۃ العنکبوت ریوائیس کر لی ہے “ انھوں نے گہرا سانس لیا “آپ سب کو عنکبوت کا مطلب پتہ ہے؟”صالح کے ساتھ بیٹھے ایک بچّے نے ہاتھ اُٹھایا مولانا صاحب مُسکراۓ “جی زین بیٹا ۔”
“عنکبوت کا مطلب مکڑی ہے اس سورۃ کی آیت نمبر 21 میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔”
“شاباش بلکُل دُرست۔۔۔۔یہ لفظ کیوں استعمال ہوا ہے ؟۔۔ کوئی بتا سکتا ہے “ کلاس میں سکوت چھا گیا ۔
“ہمم ۔۔۔ تو میں بتاتا ہوں ۔۔ان کی مثال جنھوں نے اللہ کے سِوّا دوسروں کو مدد گار بنایا مکڑی کی جیسی ہے اس نے ایک گھر بنایا اور سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے کاش یہ لوگ جانتے،یہ سور ۃعنکبوت آیت نمبر 21 کا ترجمہ ہے اب کوئی بتا سکتا ہے؟”
“یہ بات کافروں کی لیے ہے کہ اُنھوں نے خُدا کو چھوڑ کر اور معبود بنا لیے ۔۔ یہ سوچ کر کہ ہم اپنے لیے ایک مضبوط گھر بنا رہے ہیں ،جیسے مکڑی جال بُنتی ہے ۔۔مگر جس طرح مکڑی کا جال کمزور ہوتا ہے اسی طرح انکا عقیدہ بھی کمزور ہے جس کی کوئی دلیل نہیں”۔ صالح نے خاموشی کا سلسلہ توڑا ۔
”شاباش درُست۔۔۔۔ یہ کُفار کی بات ہو گئی اب یہ آیت مُسلمانوں کے لیے کیسے ہے ؟، چلیں یہ بات میں بتاتا ہوں آ پ نے یہ آیت پڑھی اس میں خدا کا نہیں اُولیا کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اُولیا ولی کی جمع ہے جس کا مطلب دوست ہے اللہ تعالی نے یہاں واضح طور پر کہا ہے کہ مددگارنہ بناؤ یہاں دوست بنانے سے منع نہیں فرمایا مگر مددگار بنانے سے کیا ہے دوست بنائیں مگر سہارا کسی کو نہ بنائیں ،آپ خُدا کے علاوہ کسی سے اُمید نہ رکھیں کے کوئی آپ کی مدد کرے گا ۔۔اسی طرح جب کوئی مزاروں پر جا کر دعا یا منتیں مانگتا ہے یہ بھی شرک میں شمار ہوتا ہے اس آیت کے خلاف ہے یہ بات ۔۔۔ اگر آیت کے خلاف ہے تو اسلام کے دائرے سے باہر ہے ۔ اب آپ سب کا فرض ہے کہ یہ بات پھیلائیں تاکہ لوگ اِس شرک والی عادت کو ترک کر دیں “۔ مولانا صاحب نے اپنی بات مکمل کی ۔
“کیا لوگ ہماری بات کو سمجھیں گے؟”صالح نے تجسّ میں پوچھا۔
“ہہہم ۔۔۔ لوگوں کو سمجھانے کا نا طریقہ ہوتا ہےبچےاشاعتِ اسلام میں بھی حضرت مُحمدﷺ کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرناپڑا پتہ ہے کیوں ؟ کیونکہ جہاں بات کو سمجھنے والےہوتے ہیں وہاں مخالفت کرنےوالے بھی ہوتے ہے اگر اللہ کے رسول ﷺ بھی یہی بات سوچتے تو آ ج ہم عالم نہ ہوتے ۔ اس لیے آ پ یہ نہ سوچیں کہ لوگ سمجھے گے یا نہیں آپ اپنا فرض ادا کریں پھر جس کو اللہ ہدایت دیں ۔۔۔” وہ صالح کو دیکھ کر بولے ۔صالح نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا ۔۔
“اگر آپ سب کو کوئی بھی سوال ہو تو بنا جھجکے پوچھا کریں ۔۔۔ اب ہم آج کا سبق پڑھتے ہے “۔مولانا صاحب نے سبق آگے پڑھانا شُروع کردیا مگر صالح کا ذہن وہیں اٹک گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔”تم کن چکروں میں پڑ گئے ہو،دفعہ کرو “اطہر کو اس کی ایک ایک بات فضول لگی وہ پیچھے کو ہوگیا ۔
”لوگ مر جاتے ہے اب تم اپنی زندگی کو تباہ کرو گے بائیس سال کی عمر میں تم کیا سمجھ رہے ہو ہا ں کیا کر لو گے یہاں گدھ ہیں سب ماس نوچ لیں گے تمھارا “اطہر غصے میں بولا ۔”تم کل ہی پاکستان واپس جا رہے ہو ۔“ اس نے گویا فیصلہ سنایا ۔
”نہ جاؤں تو ؟،اگر یہ گدھ ہیں ۔۔ تو میں راج گدھ ،بورو ہے تو میں گوک بورو “ہےہادی گویا ڈھیٹ ہوگیا ۔
”میں ابھی باری کو اور پھر زبیدہ آپا کو کال کرتا ہوں “اس نے اپنا کوٹ کی جیب سے اپنا آئی فون نکالا سیاہ اور سفید دیواریں اطہر کی طرف مڑی ۔
”اور میں افشاں کو “ہادی نے اپنا فون نکالا تو وہ ہادی کو دیکھنے لگی ۔اطہر کی زبان گنگ رہ گئی ۔
”افشاں ؟“۔۔اطہر کے منہ سے صرف ایک لفظ نکلا ۔
”ہاں ۔“ہادی نے فون سے ایک نمبر نکال کے اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا ۔اطہر کو لگا وہ ہل نہیں پاۓ گا اس نے اپنا فون ٹیبل پر پھینکا ۔
”کیا بتاو گے تم افشاں کو ؟اطہر ایک ایک لفظ چبا کر بولا ۔
”دیکھاؤں گا “ وہ کھل کر مسکرایا گال پر دائیں جانب ایک گڑھابنا،اس نے ایک ویڈیو پلے کی جس میں اطہر مختلف مقامات پر مختلف لڑکیوں کے ساتھ تھا ۔
”میں ۔۔تمھارا چچا ہوں “۔اطہر نے حیرانی سے کہا وہ بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔
”میں آپ سے فیور مانگنے نہیں ڈیل کرنے آیا ہوں ، میں مدد کے بجاۓ ڈیل پر بھروسہ رکھتا ہوں ،برابری کی بات پر ۔“ہادی اٹھ کھڑا ہوا ۔
”کون سی کورین سریز دیکھ کر یہ سب کر رہے ہوں۔تمھارے ساتھ جو کچھ ہوا نیچرل تھا ۔۔“اطہر سب جانتا تھا مگر پھر بھی منکر ہورہا تھا ۔
”پہلی بات کورین مجھے آپ کی طرح زہر لگتے ہیں اور دوسری بات اگر یہ سب نیچرل ہے تو مجھے کرنے دیں تحقیق سب پتہ چل جاۓ گا “ہادی کھڑکی کے سامنے جا کھڑا ہوا ۔
”اوہ ماۓ گاڈ سائز تو دیکھو مسٹر کا جو تحقیق کریں گے ۔“اطہر نے پھر بات مذاق میں اڑانا چاہی ۔
”ڈیل یہ ہے کہ میں آپ کی وائف افشاں سلاور کو کچھ نہیں بتاو ں گا “اس نے سلاور پر زور دیا ۔کیونکہ سلاور اس وقت پاکستان حکومت کے اعلی عہدے پر فائز ہیں۔”اور بدلے میں مجھے یہاں فل سپور ٹ چاہیے “سب باتوں کو نظر انداز کر کے ہادی نے ایک پیشکش اسے دی ۔
”اوہو سپورٹ کرو ں میں تمھہیں ہاں ؟اطہر نے تھوڑی تلے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
” میں پیسے یا رہائش کی بات نہیں کر رہا میں اور طرح سے سپورٹ چاہیے “ہادی یک ٹک آسمان کو دیکھ رہا تھا ۔
”تم میرے بھتیجے اور زویا کے منگیتر نہ ہوتے تو میں تمھیں۔۔“
”میں دھمکی سننے کے موڈ میں نہیں ہو ں “ہادی نے اس کی بات کاٹی ایک تارا تیزی سے باقی تاروں سے جدا ہوا ۔
”ٹھیک ہے تم وہ یڈیوز ڈلیٹ کرو۔ “ اطہر نے اسے پھسلانا چاہا ۔
”نہیں کام پورا ہونے تک کبھی نہیں ۔اور صرف یہ ہی نہیں ہے اور میرے پاس آپ کے خلاف ا ور بہت کچھ ہے چچا جی !“اس نے آخرمیں چچاجی کہا تو اطہر سلگ اٹھا ۔ تارا اب ہادی کی نظروں سے اوجھل ہوگیا تو وہ پیچھے کو مڑا ۔
”ایک منٹ رکوجوشخص تمھیں یہاں تک لایا ہے تم اس کوبھی تو آفر کرواسکتے تھے نا انفارمیشن تو تم نے میری بھی نکالی ہے اس کی بھی نکلو ا سکتے تھے ۔“اطہر نے آبرو اٹھاۓ ۔
”دراصل وہ نا میرا چچا ہے نا ہی چچا سسر یعنی کے میری منگیتر کا چچا ۔اور نہ ہی میرے ابو کا کزن ہے ،یہ آفر اور رعایت آپ کے لیے ہے “ہادی نے اسی کے الفاظ اسے لٹا دیے اور اپنی کیپ اور کوٹ کو بازو پر ڈالا ۔”اور ایک بات ،میں جب انتقامی کاروائی شروع کروں گا تو آپ کو خصوصی رعایت تب بھی دوں گا “ہادی نے اس کی طرف دیکھ آنکھ دبائی اس کا یہ روپ اطہر کے لیے بلکل نیا تھا ۔
”اچھا ٹھیک ہے ۔“بیٹا تو نے کر ہی کیا لینا ہے ہمم وہ من ہی من سوچتے ہوۓ حامی بھر گیا ،ہادی اب کمرے سے باہر کی طرف ہو گیا ۔
”ہادی اگر اس سب میں تمھارا کوئی رشتے دار ملوث ہوا تو ؟“دروازہ کھولتا ہادی پیچھے کو مڑا ۔
”میرےخاندان میں کوئی اور اتنا گھٹیا نہیں ہے “کہہ کر وہ مسکرا کر باہر چلا گیا ۔اطہر کو یہ الفاظ پراسیس کرنے میں تھوڑا وقت لگا ،”کوئی اور کا کیا مطلب ہے ؟“یہ تو ہادی خان کا اصول ہے جواب ایسا دو اگلاآپ کے گھر جانے تک یہی سوچتا رہے بھئی اس نے کہا کیا تھا ؟اور ہادی نے بھی کیا کہا تھا ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایما کا موڈ خراب کرنے کے بعد کیتھرین اپنے کمرے میں چلی گئی تھی ۔ اس نے ابھی ابھی اے لیول کیا تھا جس کی وجہ سے وہ زیادہ ترگھر ہی ہوتی تھی ۔کمرے میں آتے ہی اُس نے کہنی تک آتے بھورے بالوں کو باندھا ۔ اور اپنے رائٹنگ ٹیبل کے پاس گئ۔
“اب کیا کروں؟”بین اور جولی سے تو شام میں ملنے جانا ہے ۔
وہ کُرسی پر بیٹھ گئی یکدم اس نے کسی خیال کے تحت ڈرار کھولا اور گلابی ڈائری نکالی ۔ اور اسے کھولا وہاں مختلف قسم کے نمبرز کے سوا کچھ نہیں لکھا تھا ۔ پہلے صفحے پر آنٹ ہینا لکھا تھا اور ساتھ میں کچھ میل کھاتے پاکستان کے نمبر تھے اس نے چارج پر موجود فون اتارا اور نمبر ڈائل کیا وہ اکثر فارغ ہوتی تو یہی کرتی تھی ۔۔۔فون بجتا رہا مگر کسی نے نہیں اٹھایا وہ دوبارہ نمبر ڈائل کرتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئ نیچلا لب دانتوں میں دباۓ وہ انتظار کر رہی تھی کہ کوئی کال اٹھاۓ 3 رنگ کے بعد فون اٹھا لیا گیا
“ہیلو!it’s CETH service “اس نے مسکراہٹ دباٰٰئ۔
“رات کے اس وقت آپ امریکہ والوں نے کون سی سروس کا آغاز کر دیا ہے”دوسری طرف سے اکتائی ہوئی آواز ابھری ۔
“اگر آپ کو اس بارے میں مزید تفصیلات چاہئیں تو پر سکون ہو کر سنیں “کیتھ ضبط سے بولی۔
“آپ کو آواز آ رہی ہے” دوسری طرف بلکل سکوت چھایا ہوا تھا کیتھ کو لگا جیسے وہ سن ہی نہیں رہا ۔
” محترمہ! رات کے اس پہر آپ نے میرے کان چیک کرنے کے لیۓکال کی ہے” کیتھ کو کبھی ایسا جواب موصول نہیں ہوا تھا ۔
“آپ تو غصہ ہو رہے ہیں”
” لگتا ہے آپ کی عادت ہے رونگ نمبر ڈائل کرنے کی اورلوگوں کو تنگ کرنے کی مہربانی کر کے اپنے جیسے کسی فارغ شخص کو کال کیا کریں تاکہ وہ فرصت سے آپ کی بکواس سن سکے ۔”
“میں آپ سے آرام سے بات کر رہی ہوں اور ایک آپ ہیں ،یہ کوئی ایتھکس نہیں ہیں “وہ جل کر بولی ۔
“تو آپ کو کس نے کہا کے کہ مجھے اخلاقیات کا درس دیں فون کاٹ دیں ناآپ “
“تم اس قابل ہی نہیں ہو کے تمھیں کیتھ سروس دی جاۓ” اس کا صبر کا پیمانا لبریز ہو گیا –
وہ جونہی کال کاٹنے لگی تو دوسری طرف سےآنے والی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
“عجیب بے وقوف عورت ہے”اور فون کھٹ سے بند ہو گیا
“کوئی کسی کو ایسے عورت کہتا ہے بھلا ۔” اس نے فون بیڈ پر پھینکا ۔
“ابھی تو میں صرف ساڑھے اٹھارا سال کی ہوں ۔۔۔۔۔ بتمیز آدمی “اور غصے سے پیر پٹخا ۔
اب حساب برابرہو گیا تھا کیتھ نے ایما کا موڈ خراب کیا اور اس بتمیز آدمی نے کیتھ کا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہسپتال میں معمول کے مطابق رش لگا ہوا تھا سٹریچر گھسیٹے جا رہے تھے فنائل اور دوائیوں کی بو نتھوں سے مسلسل ٹکرا رہی تھی ۔مریضوں نے ڈاکٹروں کے کمروں کے باہر رش لگا رکھا تھا ایسے میں سرجن عبدل الباری کے کمرے کےباہر بھی رش لگا ہوا تھا ۔
”بی بی آپ بیٹھ جائیں آپ کی باری پر آپ کو بُلا لیا جاۓ گا “پیون صبح سے چیخ چیخ کر مریضوں کو بیٹھنے کا کہہ رہا تھا۔مگر کوئی اُس کی بات پر کان دہرنے کو تیار نہیں تھا ۔ایسے میں دروازے کو دھکیل کر ذرا اندر جھانکو تو ڈاکٹر عبدل الباری مریض معائنہ کر رہے تھے۔
” آپ ابھی یہی دوائی جاری رکھیں آپ کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کے آپریٹ کیا جاۓ اگر شوگر اور بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہو ا تو آپریٹ کرنا مشکل ہو جاۓ گا “وہ کاغذ پر پین گھسیٹتےہوے بولا اور پرچی مریض کی طرف برھائی۔
“نذیر!”باری نے پین میز پر پھینکا اور پیون کو آواز دی ۔مریض کمرے سے جونہی باہر نکلا تو باہر موجود مریضوں نے کمرے میں داخل ہونے کے لیۓ دھکم پیل شروع کر دی ۔نذیر کمرے میں داخل ہوا اور دروازے کو لاک کر دیا ۔
” جاہل عوام “وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا ۔” جی سر! نیکسٹ پیشنٹ کو بھیجو ں” ۔ اندر داخل ہوتے ہی اس نے پوچھا۔
” نہیں ابھی میں میٹنگ میں جا رہا ہوں” باری نےفون اٹھایا اور روکنگ چیئر پر پیچھے ہو کر بیٹھا کھڑکی سے آتی سورج کی کرنیں سنہری آنکھوں سے ٹکرائی تو اس کی آنکھیں اور خوبصورت ہو گئی ۔
“مگر آج تو کسی میٹنگ کا نوٹیفکیشن نہیں آیا” وہ فورا بولا۔
” مرحوم شاہزیب خان کی جگہ لینے کے بجائے جا کر مریضوں کو کمرے کے آگے سے ہٹاؤ” اس نے سکرین سے نگاہ اٹھا کر دیکھا اور غصے سے بولا۔نذیر خاموشی سے باہر کی طرف ہو گیا ” لگتا ہے بیوی سے لڑ کر آیا ہے سہی ذلیل کر کے بھیجا ہے ” وہ دروازہ کھولتے ہوئے بڑبڑایا ۔
”ڈاکٹرصاحب ابھی میٹنگ میں جانے لگے ہیں آپ سب اگلے جمعے اور ہفتے کو آئیےگا “۔
’’ہا ہائے اے کے گل ہوئی صبح دے لین وے کھلوتے آ ۔۔ تہ ہُن چلے جُلا “بھیڑ میں مو جود ایک بوڑھی عورت بولی۔
“بی بی اگر ا تنا ہی ہے تو پرائیویٹ علاج کروا لیں سرکاری کاموں میں ایسے ہی ہوتا ہے” پیون نے اپنا غصہ اس عورت پر اتارا ۔
مجمع جھٹنے لگا ۔وہ سب ڈاکٹر پیون اور سرکار پر لعن تان کرتے جھٹ رہے تھے۔جبکہ کمرے میں موجود سرجن صاحب آرام سے بیٹھے تھے ۔
” ہٹ گئے مریض ؟” نذیر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی ڈاکٹر نے پوچھا۔
“جی” بس اس نے ایک لفظ کہا۔باری نے کال ملائی اور اسے ہاتھ کے اشارے سے جانے کا کہا۔
”ریاض سر میں آپ سے مل سکتا ہوں “؟ کال پک ہوتے ہی باری نے سوال کیا۔
”کس سلسلے میں؟ “جوابا پھر سوال ہوا۔
”آپ اچھے سے جانتے ہیں ۔۔ ڈیل قبول ہے مجھے ۔“وہ تھوڑا جھجھک کر بولا۔
”واہ مجھے امید نہیں تھی کہ آپ اتنی جلدی قائل ہو جائے گے ۔“مقابل حیرانی سے بولا۔”ایسا کرو کہ میرے آفس آ جاؤ پھر بات کرتے ہیں۔“
” ٹھیک ہے میں آتا ہوں ۔“باری نے ہامی بھر کر فون کاٹ دیا ۔یکدم اس کو پسینہ آنے لگا اس نے فورا ہیٹر بند کیا مگر ابھی بھی اس کے دل کی دھڑکن تیز تھی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسمبلی کے بعد سب بچے اپنی کلاسوں میں چلے گئے تھے ۔ ہر کلاس سے یا تو ٹیچر کی آواز آرہی تھی یا بچوں کے پڑھنےکی ۔ گراؤنڈ میں مکمل خامؤشی تھی مسز فرزانہ معمول کے مطابق راؤنڈ لگا رہی تھی ۔ جونہی وہ گراؤنڈ سے اندر کی جانب ایک تنگ رہداری میں گئی جہاں قطار میں بیت الخلا تھے انھیں ایک بچی کی پشت دکھی جو ایک بھاری پتھر پر بیٹھی کام لکھ رہی تھی ۔
” کیا کر رہی ہو یہاں ؟؟” وہ سخت لہجے میں بولی۔
ان کو شدید غصہ آیا کیونکہ اس وقت کلاسوں سے نکلنا منع تھا ۔ بچی نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔اس کے نیلے یونیفارم پر جا بجا شکنیں پڑ ی ہوئیں تھی ، یوں جیسے کبھی استری کیا ہی نہ ہو۔
” میم میں۔۔“ وہ شدید گھبرا گئی ۔گلے میں گلٹی بن کر معدوم ہوگئی الفاظ کہیں کھو سے گئے۔
” کون سی کلاس ہے ؟” ان کا لہجہ حد درجہ سخت تھا ۔
” تھ ۔۔ر۔ی۔” اس کی آنکھوں میں آنسوں بھر آئے اور آواز رندھیانی ہو گئی۔
” چلو۔۔ دیکھتے ہے آج مس سجل اپنے سٹوڈنٹ کو کیسے ڈیفنڈ کرتی ہے ۔”اس کےلب استہزیاں مسکراہٹ میں ڈھل گئے۔
بچی خاموشی سے ان کے پیچھے چل دی ۔ تنگ راہداری سے گراؤنڈ کی جانب واپس آئی اور خدیجہ بلاک میں داخل ہو گئی۔برآمدے میں داخل ہوتے ہی ٹکر پر ایک کلاس تھی جہاں ایک ٹیچر وائٹ بورڈ پر کام لکھ رہی تھی اور سجل بچوں کی کاپیز پر لائنز لگا کر بیک بینچرز کی ہیلپ کر رہی تھی ۔
” آمنہ آپ کو آئی سیڈ ایشو ہے آپ آگے چلے جاؤ۔ ” اس نے سیکنڈ لاسٹ بینچ پر بیٹھی بچی کو کہا جو سر ہلاتی اٹھ کر آگے چلی گئی۔ مسز فرزانہ کلاس میں داخل ہوئی تو بچیاں اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ٹیچر جییی اسلامم علیکممم ورحمۃاللہ ہی وبرٰکہ ۔” سب بچوں نے ہم کلام ہو کر اپنے روایتی انداز میں سلام کیا ۔ بورڈ پر کام کرتی ٹیچر رک کر مسز فرزانہ کی جانب متوجہ ہو گئی ۔سجل کے کام کرتے ہاتھ رک گئے ۔اس کی نظر پیچھے کھڑی مستبشرہ پر پڑی جو انگلیاں چٹخ رہی تھی اور گالو ں پر رونے کے سبب سیاہ نشان پڑے ہوئے تھے سجل نے آنکھیں موند لی ۔”پھر سے تماشہ ” اس کے لب ہولے سے ہلے۔
“وعلیکم سلام ۔۔بیٹھ جائیں۔”مسز فرزانہ نے قدم اٹھائے اور ٹیچر ٹیبل کے پاس آ رکی ۔اور سجل پر نگاہیں گاڑلی ۔
”مس رابعہ ۔۔ آپ کی کلاس کی یہ سٹونڈ کلاس کے وقت واشرومز کے پاس بیٹھی ملی ہے ۔۔ آیا یہ کس کی ذمہ داری ہے کے اسمبلی سے پہلے سب بچوں کی قطار بنواۓ اور ان کی اٹینڈس مارک کر کے سب بچوں کو اسمبلی میں لے جائے اور وہاں سے انہیں واپس لائے ؟”انھوں نے سجل سے نظر ہٹائے بغیر پوچھا ۔
“مس سجل کی۔۔۔” مس رابعہ نے جھجھک کر بولا ۔اس نے سجل کی صفائی دینا چاہی مگر مسز فرزانہ نے ہاتھ ہوا میں جھلا دیا ۔
” مس سجل اس بچی کو لے کر پرنسپل آفس آئیں فورا ۔” وہ تحکمانہ لہجے میں کہ کر پلٹ گئی۔ مس رابعہ مستبشرہ کی طرف مڑی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی ” آپ وہاں کیا کر رہے تھے؟”
سجل وہی کھڑی دیکھتی رہی ۔بچی کے ہاتھ میں کاپی تھی جو سینے سے لگائے کھڑی تھی اور ایک کندھے پر بیگ پہن رکھا تھا۔
وہ خاموش رہی کچھ نا بولی۔۔ “کاپی دومجھے ۔” مس رابعہ نے نرمی سے اس کےہاتھ سے کاپی لی اور کھولی۔وہ سائنس کی کاپی تھی جس کے صفحے آخر سے مڑے ہوئے تھے وہاں نا مکمل کام لکھا ہوا تھا۔
“آپ کام کمپلیٹ کر رہے تھے“؟پھر سے سوال کیا گیا
مستبشرہ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
مس رابعہ نےپلٹ کرسجل کو دیکھا ۔”تم اسے پرنسپل کے آفس لے جا ؤ ۔” یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
سجل نے اثبات میں سر ہلایا ۔”اگر صبح جلدی آ جاتی تو یہ مسئلہ نہیں ہوتا۔” اس نے من ہی من سوچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریضوں کا مجمع چھٹتے ہی باری ایم ایس ریاض الحسن کے آفس کی جانب چلا گیا ۔ اس نے دھیرے سے آفس کے دروازے کو دھکیلا باہر کی خنکی کے سبب اندر کے ماحول کی گرم ہوا نے اس کے چہرے کو چھوا تو اس کو اپنے ماتھے پر پھر سے پسینے کے قطرے محسوس ہوئے جن کو وہ بار بار ٹشو سے پونچھ رہا تھا ۔ آفس میں سامنے نظر پڑے تو سربراہی کرسی پر ریاض الحسن براجمان تھا ۔باری دروازے پر دستک دیے بغیر اندر چلا گیا ۔
“اوہ ! عبدل الباری خان ۔۔ آؤ بیٹھو۔” اس نے اپنے سامنے موجود کرسی پر اشارہ کیا ۔باری کرسی پر بیٹھ گیا اس کے چہرے سے پریشانی عیاں تھی
کیا ہوا پریشان کیوں ہو؟؟” ریاض نے آبرو اُچکایا۔
” ک۔کچھ نہیں ۔۔۔ایسے ہی طبیعت بوجھل ہو رہی ہے ۔” اس نے بے اختیار ماتھے کو چھوا ۔
“کوئی نہیں ۔۔ شروع شروع میں ایمانداری غالب آنے کی کوشش کرتی ہے ۔۔پھر جب تمھاری گرفت اس فیلڈ پر مضبوط ہو جاۓ گی پھر تم دیکھنا کچھ بھی نہیں ہو گا ۔۔۔ نا ہو پریشان یارر،،ابھی تو تم نے کچھ نہیں دیکھا ایسے ایسے لوگ ہے اس فیلڈ میں سوچ ہے تمھاری۔”وہ ہسا ا ور ایک پیپر نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا ۔ ” لو یہاں سائن کرو۔”
” مگر یہ غیرقانونی ہے ۔۔۔ کسی کی زندگی بھی تباہ ہو سکتی ہے ” اس نے یکدم سوال پوچھا ۔ اس کے وجود میں بے چینی پھیل گئی ۔۔
“ڈاکٹر ۔۔۔ڈاکٹر بات کو سمجھو ۔۔۔دیکھو ہم کیا کر رہے ضرورت مند لوگوں کو آرگن فراہم کرتے ہیں ۔۔“
” مگر جن لوگوں کے آرگن ہم دھوکے سے نکال لیتے ہیں اُن کا کیا ؟؟۔۔۔۔” باری واقع ہی نروس لگ رہا تھا ۔
“یاررررر! تمھیں سمجھ کیوں نہیں آ رہی یہ سرکاری ہسپتال ہے۔۔ یہاں صرف غریب لوگ ہی علاج کے لیے آتے ہیں نہ تو ان لوگوں کے پاس دوائی کے پیسے ہوتے ہیں نہ ہی کھانے کے لیے پیسے ہوتے ہیں ۔اگر ان کا کوئی آرگن کسی اور کے کام آجاۓ تو اس میں کیا برائی ؟۔۔ ویسے بھی یہ دنیا رحم کے قابل نہیں ہے اگر تم رحم کرو گے تو پاؤں تلے کچلے جاؤ گے۔۔پوری زندگی جوتیاں گھسیٹتے رہو گے سرکاری نوکری کے چکر میں ۔۔ویسے بھی تم لکی ہو۔۔ ہٹوکری نےتمھیں خود چُنا ہے ۔”اُس نے رشک کرتے ہوۓ کہا ۔
عبدل الباری کے پاس الفظ ختم ہو گۓاُس کا نفس ضمیر پر غالب آرہا تھا ضمیر کی آواز آہستہ آہستہ دب گئی نفس کی سیاہی ہر طرف چھا گئی ۔باری نے پیپرز اُٹھاۓلمحے بھر کو وہ ٹھٹکا مگر اُس کو صبح صبا سے ہوئی لڑائی یاد آئی جس کی وجہ ان کے بیٹے کا اچھا فیوچر تھا۔۔۔قاتل نے قتل کی جانب پہلا قدم بڑھایا اور پہلا قتل اُس نے اپنے ضمیر کا کیا ۔۔قلم اُٹھا کر فائل پر جھک گیا اور اب فائل کے ایک کونے میں ڈاکٹر عبدل الباری کے سیگنیچر تھے۔۔۔ لمحے بھر میں وہ انسان سے حیوان بن گیا ضمیر اب مر چُکا تھا نفس تخت پر بیٹھا قہقے لگا رہا تھا یہ نفس ہی تو تھا جس نے عزازیل کو ابلیس بنا دیا جس نے آدم کو جنت سے نکلوایا اور اب باری کو انسان سے حیوان بنا دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد سجل مستبشرا کو لے کر پرنسپل آفس پہنچ گئی ۔ پرنسپل صاحبہ کے پاس پہلے سے ہی مسز فرزانہ موجود تھی سجل نے ڈور نوک کیا ” میں آئی کم ان میم ” سجل نے اجازت چاہی ۔
”جی بیٹا آئیں ۔“پرنسپل نے مسکرا کر کہا ۔
سجل نے مستبشرا کو اندر جانے کا اشارہ کیا وہ شدید گھبراہٹ کا شکار تھی ۔
” میم فرزانہ نے مجھے بتایا ہے کے مستبشرا واشروم کے پاس بیٹھی تھی کلاس ٹائم میں ۔۔یہ آپ کی رسپونسبلیٹی ہے نا؟ یہ وہاں کیاکر رہی تھی
اگر خدا نا خواستہ کوئی حادثہ پیش آ جاۓ “پرنسپل صاحبہ نے نرمی سے پوچھا ۔
”میم مستبشرا کا سائنس کا ہوم ورک نہیں ہوا تھا ۔۔ تو وہ وہاں وہ کمپلیٹ کر رہی تھی ۔”سجل نے کاپی پرنسپل کو دی ۔
“اور آج مجھے تھوڑی دیر ہو گی تھی سکول آتے ہوۓ تو آسمبلی سٹارٹ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے پتا نہیں کب یہ وہاں چلی گئی ۔۔۔ میں بہت شرمندا ہو آج کے بعد ایسا نہیں ہو گا ” ۔۔سجل نے سر جھکا لیا ۔
” ہمم ! اوکے آگے سے خیال رکھیے گا ۔۔غلطی سب سے ہوتی ہے اچھی بات یہ ہے کہ آپ سچ بولیں اور اسے تسلیم کر لیں۔۔ اور مستبشرا بچے کام مکمل نہیں ہے تو آپ ٹیچر سے ہیلپ لیں اس طرح نہیں کرتے آج کے بعد دوبارہ آپ کی کمپلین نہ آۓ یہ پہلی بار ہے تو میں چھوڑ رہی ہوں ۔” پرنسپل صاحبہ نے سجل کی طرفداری کی ۔
”تھینک یو میم ۔“ مستبشرا کی جان میں جان آئی
” چلیں اب کلاس میں جائیں ۔۔مس سجل آپ رکیں ذرا ” پرنسپل نے کاپی مستبشرا کو دی ۔ وہ آفس سے باہر چلی گئی ۔
“مسز ز فرزانہ مسئلہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنا آپ نے پیش کیا ہے ۔۔” مسز فررزانہ نے جونہی کچھ کہنے کے لیے لب کھولے تو پرنسپل نے ہوا میں ہاتھ جھلایا ۔” میں نے پہلے بھی کہا غلطی سب سے ہوتی ہے آپ بھی ذرا چشم پؤشی سے کام لیا کریں اب آپ جا سکتی ۔۔”پرنسپل کو مسز فرزانہ کا یہ رویہ بہت برا لگا تھا ان کے لہجے میں سختی واضح تھی ۔ مسز فرزانہ شرمندہ سی اٹھ کر چلی گئی ۔
“سجل بچے میں آپ سے مع۔۔”
” نہیں میم کوئی بات نہیں ۔ مسز فرزانہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے ۔ مگر آپ کا بہت شکریہ آپ ہر بار میری اتنی مدد کرتی ہے ” سجل نے انھیں معذرت نہ کرنے دی ۔
” جزاک اللہ بچے ! ہمیشہ خوش رہو“
”میں کلاس کو جا کر دیکھتی ہو ںمس رابعہ اکیلی ہیں“ سجل نے اجازت چاہی ۔
” ٹھیک ہے بیٹا جاؤں ۔”
سجل آفس سےباہر نکلی ” اتنا مسئلہ پرنسپل کو نہیں ہوتا جتنا ان چمچوں کو ہوتا ہے” اس نےدل ہی دل میں سوچا سر جھٹکا یکدم اسے اپنے ہاتھ میں موجود فون میں تھرتھراہٹ محسوس ہوئی سکرین پر پھر سے وہی نمبر جگمگا رہا تھا وہ دعا کا فون آج ساتھ لے آئی تھی اور اپنا گھر ہی چھوڑ دیا تھا۔ اس نے فوراً کال پک کی ۔
” ہیلو! ” دوسری جانب سےآنے والی آوزسن کر سجل نے گہرا سانس لیا۔
” جی خان صاحب ہوش آگئی آپ کو ۔۔ مل گی فرصت گھر کال کرنے کی ” سجل نے اسے چڑانے والے انداز میں بولا ۔
” جی الحمداللہ مل گئی فرصت ۔۔ دعا کا فون آپ کے پاس؟” وہ حیران ہوا دعا کو تو فون کے بغیر سانس نہیں آتا تھا ۔
“ظاہر سی بات ہے صالح کے نمبر کے علاوہ تمھیں اور کوئی نمبر یاد نہیں رہتا ” وہ ہنس کر بولی ۔
” ارے یارر ‍ آپی آپ بھی نہ میری ٹانگیں کھینچ لیں” اس نے مصنوعی ناراضگی سے بولا ۔
” شکر کرو ٹانگیں کھینچ رہی ہو ں ماما نے تو تمھارے کان کھینچنےہے بغیر کسی وجہ کے تم جو اتنی دور جا بیٹھے ہو” وہ ہنس دی ۔
” ہمممم” اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔
” اچھا چھوڑو کون سے شہر میں ہو کیسا ہے امریکہ ؟” وہ کلاس کی جانب بڑھنے لگی
” شہر چارلسٹن میں ہو ں ۔۔” اسی کی آواز خالی سی محسوس ہوئی ۔”
“ہمم چلوں ٹھیک ہے میں سکول میں ہوں ، تو گھر جا کر میں تمھاری بات کرؤا دہ گی سب سے۔۔ ” سجل کلاس کے قریب پہنچ گئی تھی وہ کال منطقع کرنا چاہتی تو نہیں تھی مگر مجبوری تھی ۔۔
” اچھا جی اللہ حافظ ” ہادی نے دھیرے سے کہا
” اللہ حافظ ۔۔اللہ کے امان میں رہوں ” کال منطقع ہو گئی سجل نے لمبا سانس باہر کو چھوڑا” کچھ تو اچھا ہوا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کانفرس روم کی لائٹس آف تھیں سکرین پر مختلف طرح کی سلائیڈز چل رہی تھی اور مسٹر رابرٹ پرزینٹیشن دے رہے تھے ۔آج ان کے لیے بہت خاص دن تھا کیونکہ السٹر آرٹ کے مالک ولیم چارلسٹن میں آرٹ گیلری بنوانا چاہتے تھے جس کےلیے انھوں نے اپنے پر اعتماد ساتھی رابرٹ کو چنا تھا کہ وہ شیئر ہولڈرز اور فنڈرز کو راضی کرے۔ اس وقت رابرٹ نے کانفرس روم میں سحر طاری کیا ہوا تھا وائٹ شرٹ کے کف فولڈ تھے ماتھے پر سنہرے بال بکھرےپڑے تھے، وہ اپنی سرمئی آنکھیں لیے بولےجا رہا تھا “اس پروجیکٹ کے ذریعے ہم بہت فائدے میں رہیں گے جیسا کہ ہماری دیگر کمپنیز اور فیکٹریز پینٹینگ پروڈکٹس سے ریلیٹڈ ہے تو ہم انہیں بھی ایک اچھی سطح پر لے جاسکتے ہے ، اس طرح نیا ٹیلنٹ سامنے آۓ گا۔۔ ۔۔ ہم پینٹرز کو پے پر رکھیں گے اور جو پینٹینگز بیچی جائیں گی اس کا منافع کمپنی کو ہو گا اس طرح باقی بزنس بھی فائدے میں جائے گے ” اس نے اپنی پریزنٹیشن کے اختمام پر سمری بیاں کی ۔
” تو کیا کوئی آرٹسٹ یہ جانتے ہوئے کہ اس کے آرٹ کی قیمت کیا ہے پے پر کام کرے گا” مسٹر ہیری نے سوال کیا۔
“مسٹر آپ یہ بات جانتے ہیں کہ چھوٹے موٹے آرٹسٹ دھکے کھاتے پھر رہے ہوتے ہے ان میں سے کچھ تو اپنا ایک سٹوڈیو بھی نہیں بنا سکتے ۔۔ پھر ان میں سے زیادہ تر اپنا پیشن چھوڑ کر جاب کرتے ہے پے پر۔۔۔۔ “وہ رکا اس کی آنکھوں میں الواہی چمک تھی ۔”پھر جب ہم یہ آفر دیں کہ میٹریل سارا آرٹ گیلری دےگی تو معقول تنخوا پر آپ صرف پینٹ کریں تو کون نا کریں گا ” ؟ اس نے آبرو اچکائے۔ سب لوگ اس سے امپرس تھے ولیم نے اسے مسکرا کر دیکھا وہ اس کی آدھی مشکلات حل کر دیتا تھا ۔
” ہمم ہمیں یہ آئیڈیا پسند ہے ہم سب کو کوئی اعتراض نہیں ہے”فنڈنگ گروپ کے سینیر اور شیئر ہولڈرز نے رضا مندی ظاہر کر دی ۔
وہاں بیٹھا کوئی بھی شخص اب سوال پوچھنے کے موڈ میں نہیں تھاکیونکہ سب جانتے تھے کہ رابرٹ جہاں بھی جاتا ہے پوری تیاری کے ساتھ جاتا ہے اور اس کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہےَ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیتھ اب ہم کیا کریں گئے ؟ اے لیول تو ہو گیا ہے ۔۔ جیولی نے جوس کا سپ لیا ۔ شام ہوتے ہی وہ اپنے بچپن کے دوستوں سے ملنے ریسٹورینٹ آگئی ۔
”کیا کیا کریں گے آگے پڑھیں گے ۔کیتھ نے کندھے اچکاۓ ۔
” ہم تو پڑھیں گے جولی تم کیا کروں گی تم نے تو اے لیول رو رو کے کیا ہے ” بین نے مصنوعی فکر سے کہا ۔
” جو بھی ہے تم سےاچھے ہی گریڈز ہے تم اپنی فکر کرو بابا تمھارے تمھیں ڈاکٹر بنانا چاہتے ہے اور حر کتیں تمھاری مسخروں والی ہے ” جولی تن کر بولی ۔
” اگر میں مسخرا ہو ں تو آپ یقیناً ہیلووین پر بچوں کی کینڈیزچھین کر کھانے والی چڑیل ہیں ۔۔ میں ہنسانے والا آپ ڈرانے والی ” اس نے اپنی ہیزل آئیز معصومیت سے پٹپٹائی ۔۔
کیتھ کا قہقہ چھوٹا تو جولی نے اسے غصے سے دیکھا ” میں نیوٹرل ہوں ” کیتھ نے ہنسی پر قابو پانے کی کوشش کی ۔
” اس کی باتوں پر ہنس ہنس کر اسے شوخا کر رہی ہو اور پھر کہ رہی ہوں میں نیوٹرل ہوں ” جولی غصے سے بولی۔
” ناظرین آپ کو براہ راست لیے چلتے ہیں دی جیولی ڈرامہ میں جہاں جیولی کے توپوں کا رُخ کیتھی کی طرف مڑ گیا ہے ۔”بین نے اینکر پرسن بنتے ہوۓ اُس کو چرایا
“میں تمھارا سر پھاڑ دوں گی نکمے آدمی ۔”جیولی کو غصہ آگیا ۔
“ہاں ہاں! جس طرح انھوں نے تو رکارڈ توڑے ہوۓ ہیں سر پھاڑنے کے یہ ساتھ والا قبرستان تم نے ہی بھرا تھا نا ؟جیولی دی گینگسٹر۔ “وہ مصنوعی بھاری آواز بناتے ہوے بولا اور قہقے لگا کر ہسنے لگا۔
جیولی نے کچھ کہنا چاہا مگر کیتھ نے اپنا ہاتھ میز پر مارا ۔
” بس بس بہت ہو گیا سیز فائر ! مجھے تم لوگوں کو کچھ بتانا ہے۔”اس نے سیریس ہوتے ہوۓ بولا ۔
جی !ارشاد ارشاد ۔”بین نے کہا ۔
جیولی ناک چڑھاۓ بیٹھی رہی ۔
“میں اے۔لیول کرنے کے لیے چارلسٹن جاؤں گی ماما کے پاس یہاں رہ کر پڑھنا مُشکل ہے میرے لیے ۔تم لوگوں کو پتا تو ہے فیملی پولیٹکس۔” کیتھ نے کہ کر کرسی کے ساتھ ٹیک لگا لی بین لب کاٹنے لگا جیولی کے چہرے پر سایہ لہرایا ان تینوں کو ایک ہی ڈر تھا کہ ان کا ٹرائیو نا ٹوٹ جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وینڈیو کی مرکزی عمارت میں رہائش پزیر تھا ،اطہر نے اپنی سیکرٹری روز کو ہادی کے لیے گائیڈ مقرر کردیا تھا ،روز نے اسے صبح ملنے کی ہدایت دی تھی ،اس کی انکھ کھلی تو فجر قضا ہونے میں کچھ وقت رہ گیا تھا اس نے تیزی سے اٹھ کر وضو کیا اور نماز ادا کی ، نماز ادا کرتے ہی اس نے اپنا موبائل اٹھایا تو ممی کی صلاواتیں یاد آگئی ” فون تو نماز کے فوراً بعد ایسے اٹھاتا ہے جیسے فرشتوں نے قبولیت کا میسج کیا ہو گا “اس نے مسکرا کر سر جھٹکا ۔ اور موبائل میں سر گھسا کر نیم دراز ہو گیا ایک ڈیرھ گھنٹے بعد اس کا فون ذور سے تھرتھرایا تو وہ بونکھلا کر بیٹھ گیا دعا کے نمبر سے کالز لگی ہوئی تھی ۔۔وہ پھر سے نیم دراز ہوا اور نمبر ڈائل کیا جونہی کال دوسری طرف سے اٹھائی گئی تو وہ چھوٹتے ہی بولا ”ہیلوووو سنسنی بی!”
“آرام تجھے ادھر جا کر بھی نہیں ہے ” ماں کی آواز سن کر ھادی کے اوسان خطا ہو گئے ۔
” اسلام علیکم !۔۔۔کیسی ہیں آپ؟” لمحہ لگا اس کو لہجہ بدلنے میں۔۔
” میں ٹھیک ہوں ۔۔ تم سناؤ ؟ کیا بدلاؤ لایا ہے دنیا میں وہاں جا کر ” طنز ابھرا تو ھادی کا دل موسوم ہو گیا۔
” صالح کی سنائیں؟ نمل اور باسل کیسے ہیں ؟” اس نے بات گھما دی
”الحمداللہ سب اچھے ہے۔۔ “پھر سے نپاتلا جواب آیا ۔
”اگر ایسے ہی بات کرنی تھی تو کال کیوں کی ؟ “ اس نے صرف سوچا ۔ اس نے موبائل سپکیر پر لگا کر اپنے پاس فون رکھ دیا ۔
دونوں طرف خاموشی چھا گئی کوئی کچھ نہ بولا نا کال کاٹی ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد کال منطقع ہو گئی وہ نہیں جانتا تھا خود ہوئی تھی یا ممی نے کاٹی اتھی۔۔۔ وہ وہی آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹ گیا ۔۔
اچانک اسے یاد آیا کے روز سے ملنا ہے وہ جھٹکے سے اٹھا اور فون اٹھا کر نیچے چلا گیا زینے اترتے ہوۓ اس کی نظر سامنے پڑی تو چھبیس ستائیس سالہ خوش شکل لڑکی جس کے سنہرے بال ڈھیلے ڈھالے جوڑے میں بندھے تھے اور وہ غصے سے ہاتھ ہلا ہلا کر عملے کی سرزنش کر رہی تھی ۔
“تم لوگوں کو کتنی بار یہ بات سمجھانی پڑے گی کہ ان ویٹرز کو جاب پر رکھنے سے پہلے ان کی بول چال کا ڈ ھنگ دیکھ لیا کرو۔۔ کسٹمرز سے بات کرنے کا کوئی طریقہ ہوتا ہے ۔۔ ریستوران کی ویلیو گرتی ہے اور تم جون۔۔۔۔ “وہ اس کی طرف گھومی ” تم نے رکھا تھا نا اس نکمے کو۔۔ آج کے بعد ہوش کے ناخن لینا” سب آہستہ آہستہ کھسک گئے جون وہی سر جھکائے کھڑا تھا ” اب کس کو بلواؤ ں کے جو مسٹر جون کو یہاں سے وی آئی پی پروٹکول کے ساتھ کاؤنٹر پر دوبارہ تعینات کریں” ؟ اس نے مصنوعی لہجہ بنایا۔۔اور مسکراتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے کاؤنٹر کی طرف اشارہ کیا ۔
”سوری میم ! “اس بیچارے کے کان سرخ ہو گئے ۔
” پتہ نہیں یہ سوری ایجاد کس نے کیا تھا ” اور آنکھیں گھمائی ۔تابعداری سے سر ہلاتا چلا گیا ۔۔اس کو جھاڑ پلانے کے بعد
وہ پلٹی تو اس کی نظر آخری زینے پر ریلنگ کے ساتھ کھڑے بائیس تئیس سالہ لڑکے پر پڑی اُس نے گول گلے والی لوینڈر کلر کی سوئیٹر پہن رکھی تھی چھوٹی بھبھوا ناک سردی کے سبب سرخ ہو گئی تھی ۔۔ گندمی رنگت کے چہرے پر ہلکی داڑھی اور کالی خم دار پلکوں والی آنکھیں اچھی لگ رہی تھی ۔ روز اسے دیکھ کر مسکرائی “کیوٹ” اس نے من ہی من سوچا ۔ عبدالہادی ؟روز نے سوالیہ انداز میں پوچھا
ہادی نے اثبات میں سر ہلایا ۔” مجھے آپ سے کچھ معلومات چاہیے ۔“وہ دھیرے سے آخری زینے سے نیچے اُترا ۔
” ایسا کرتے ہیں کہ ہم کہی بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔“وہ لابی کی طرف بڑھ گئے جہاں مختلف رنگوں کی پینٹینگ ہر ایک پر نظر رکھی ہوۓ تھی ۔روز نے پرائیویٹ روم کا دروازہ کھولا ،وہ اندر داخل ہوئی اور لائٹز آن کی ۔کمرے کی مین تھیم وائٹ تھی جو اندر داخل ہوتے ہی پر سکون تاثر دیتی تھی ۔
” ہاں اب بولو۔۔” ہادی کمرے میں داخل ہوا وہاں بیڈنہیں تھا ،وہ کمرہ یقیناً مہمانون کے لیے استعمال ہوتا تھا ۔
” میں یہاں قانونی طور پر مضبوط ہونا چاہتا ہوں ” وہ کچھ سوچتے ہوئے بغیر کوئی تمہید باندھتے ہوۓ بولا ۔
”مطلب۔۔” روز نے آبرو اچکایا اورسنگل صوفے پر بیٹھ گئی ۔ہادی بھی اس سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوۓ صوفے پر براجمان ہوگیا ۔
”مطلب کہ پولیس فوراًٍ مجھ پر ہاتھ نا ڈال سکےمیرے کچھ پرسنل گرجیز ہے ۔۔ تو وہ لوگ مجھے ہر حال میں گرانا چاہیں گے “اس شخص کا سوچ کر ہی ہادی کے چہرے پر بیزاری چھا گئی ۔اس کو پورا یقین تھا کہ وہ آدمی کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔
”ہمم تو یہ بات ہے۔۔ ایک راستہ ہے ۔” روز نے پر سوچ انداز میں کہا ،اس نے بات کو زیادہ کریدنا مناسب نہ سمجھا ۔
”کیا ؟“ ہادی نے پوچھا۔
”تم کسی امیرکن سے شادی کرلو۔“ وہ ٹھر ٹھر کر بولی تو ہادی کا سر گھوم گیا،گھر والے تو واویلا مچا دیں گے ۔
”لڑکی سے ۔“ وہ حیرت سے بولا ۔
”ظاہر سی بات ہے اور کس سے کرو گے۔“ ہادی لب کاٹنے لگا ۔
اور کوئی طریقہ ؟” اس نے ابرو کو انگھوٹے سے مسلہ ۔
نہیں ہے۔۔” روز نے کندھے اچکائے۔”
” پھر مجھے سوچنے دیں ،میں آپ کو کل تک بتاتا ہوں۔“وہ الجھ سا گیا۔ “جاب؟”
میں کچھ کرتی ہوں ابھی تو آۓ ہو تھوڑا چِل کرو۔۔ اگر اطہر سر جیسے میزبان مجھے ملے تو میں کوئی کام ہی نہ کروں ” وہ ہولے سے ہنس دی ۔
“ہاں تاکہ تنگ آکر اٹھا کر باہر پھینک دیں ” ہادی مسکرایا تو دائیں گال پر گڑھا نمایاں ہوا۔
” ہمم یہ بھی ہے ۔۔۔ چلو میں جاب کا کچھ کر کے تمہیں بتاتی ہوں”
“اوکے۔۔ تھینک یو” اس نے سر خم کیا اور کھڑا ہوا ۔ اور کمرے سے باہر چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“پتہ نہیں کون سے گھر ہوتے ہے ، جہاں اتوار کو سب لیٹ اٹھتے ہے ،گھومنے جاتے ہے مزے کرتے ہیں ۔۔۔ یہاں تو سارے کام اتوار کے لیے رکھ دیتے ہیں ” دعا جمائی روکتے ہوئے بولی چاروں طرف چیزیں بکھری ہوئی تھی آج گھر کے ہر کونے کی صفائی ہو رہی تھی
” یہ فیری ٹیل بعد میں سنا لینا جا کر کمرا صاف کرو اماں آگئی نا اگر رشیدہ آنٹی کے گھر سے تمھاری خیر نہیں ہے ” مشین سے کپڑے نکالتی سجل نے دعا کو تنبیہ کی ۔
” ارے ابھی کہاں آئیں گی پہلے وہ بیٹھ کر باتیں کریں گی، پھر کھڑے ہو کر ،پھر دروازے میں آکر ، پھر گلی میں ۔۔۔ ابھی تو بیٹھ کر باتیں کر رہی ہو نگی “کچن میں پتیلا مانجتے ہوئے صالح سنجیدگی سے بولا۔
” تم دونوں منہ بند کر کے اپنا اپنا کام کرو گے۔۔ یا امی کے ہاتھوں ذلیل ہو گے ” سجل ہنسی چھپاتے ہوئے مصنوعی غصے سے بولی ۔
“امی جو کرتیں ہیں بے عزتی تو نہیں ہوتی ۔۔۔ ” اب کی بار دعا برآمدے میں موجود کرسیوں پر براجمان ہوگئی اسے تقریر کے لیے نیا موضوع مل گیا تھا ۔
” اچھا پھر کیا ہوتا ہے؟” صالح نے تجسس میں پوچھا ۔
“سعدی یوسف کہتے ہیں کہ ” وہ سیدھی ہو کر بیٹھی اور شاعرانہ انداز میں بولی “ماؤں کی بےعزتی بیک گراؤنڈ میوزک ہوتی ہے ” اور پھر سے نیم دراز ہو گئی۔
” اس سے پہلے یہ بیک گراؤنڈ میوزک نصرت فتح علی خان کی قوالی میں بدلے کمرا صاف کر لو جا کے ” اب کی بار صالح نے تنبیہ کی ۔
” اُفف تم لوگ مجھ سے کتنا جلتے ہو۔۔۔۔ آرام سے بیٹھا دیکھ ہی نہیں سکتے ۔۔اللہ جی میں کدھر جاؤں۔۔۔”
“کمرا صاف کرنے ۔۔۔” صالح پھر سے بولا
” تم بہت برے ہو۔۔۔۔”وہ روہانسی ہو کربولی اور آنکھوں پر ہا تھ رکھ لیا ۔
” دعاااااا۔۔۔۔” امی کی آواز سن کر دعا ڈرامے کی دنیا سے باہر آئی اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔
” ابھی تک تم سے کمرا صاف نہیں ہوا ۔۔۔اللہ اللہ میں اس لڑکی کا کیا کروں ۔۔۔ “امی جونہی گھر میں داخل ہوئی دعا کو بیٹھا دیکھ ان کا پارا ہائی ہو گیا ۔۔
” اس لڑکی کا اچار بھی نہیں ڈال سکتے اوو شٹ ” تولیے سے ہاتھ صاف کرتا صالح کچن سے باہر آتے ہوئے تاسف سے بولا ۔سجل ہنسی ۔ دعا کا دل کیا اس کی گردن مڑور دے مگر ابھی وہ تمام توپوں کی زد میں تھی ۔
” ایک صفیہ ہے وہ اگلے دو مہینوں کا کہہ رہی کے اس کی شادی کر کے دیں اور یہ ہے کہ ایک کمرا نہیں سنبھال سکتی ” زبیدہ بیگم پریشانی سے بولی ۔
” ایسی بھی کیا جلدی ہے اسے؟” سجل نے مشین چلاتے ہوئے بڑبڑائی ۔
” اس کی طبیعت نہیں ٹھیک ۔۔ بیمار ہے وہ اس لیے چاہتی ہے کے فرحان کی شادی جلداز جلد ہو جائے”۔ زبیدہ کرسی پر بیٹھ گئی۔
” اِن کی طبیعتیں صرف شادی تک خراب رہتی ہیں پھر بعد میں۔۔۔۔” سجل نے آنکھیں گھمائی ۔
” سجل بری بات ” زبیدہ بیگم نے اس کو ٹوکا ۔
” امی آپ دعا کو پڑھنے دیں ۔۔ اس کو بی ۔ایس تو کرنے دیں ۔۔۔ میری شادی بھی تو کی تھی ناجلدی کیا ملا طلاق لے کر دو بچوں سمیت پھر آپ پر بوجھ بنے بیٹھی ہو ں آپ لوگ ایک واقع سے سبق کیوں نہیں سیکھتے ؟” سجل کو ان کی کم عقلی پر حیرت ہوئی ۔
” بس سجل مجھے لیکچر نہ دو جا کر بہن کو سمجھاؤکے گھر کی ذمے داریاں سنبھالنا سیکھے ” زبیدہ بیگم جیسے سب جانتے ہوئے بھی آنکھیں بند کیے ہوئے تھیں ۔
” صبا کو بڑا گھر سنبھالنے آتا ہے ” سجل پھر سے بولی ۔
” سجل زبان نہ چلاؤ بھابھی ہے وہ تمھاری ۔۔۔ ایک بات سمجھ نہیں آتی۔۔ تمھیں طلاق ہوئی تو ضروری ہے سب کو ہو صبا کو اور دعا کو بھی۔۔ ” زبیدا بیگم بات کو دوسری طرف لے گئی ۔
” مجھے گھر سنبھالنے آتا تھا امی ۔۔۔آگے میں آپ کو کیا ہی سمجھاؤ ں” سجل نے تاسف سے سر جھٹکا اور باسل کے رونے کی آواز سن کر کمرے میں چلی گئی یکدم اسے اپنے گال گیلے محسوس ہوئے اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا ۔
” ہادی سے بات ہوئی آپ کی ” صالح نے موضوع بدلانا چاہا ۔
” آج باری اور صبا آئیں گے تو رات کے کھانے کے لیے کچھ اچھا سا لے کر آؤ ۔۔ اور دعا شیر خوارما بنا دینا باری کو بہت پسند ہے ” وہ مسکرائی ۔
صالح نے آبرو اٹھائے اور لب اوہ میں سکیڑے ” ناگ ناگن کا جوڑا آرہا ہے ” وہ ہولے سے بڑبڑایا ۔۔اور مسکرادیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روز سے بات کرنے کے بعد ہادی الجھ گیا تھا ۔ ریستوران سے نکلنے کے بعد وہ سڑکوں پر بے مقصد گھومنے لگا ۔
“ممی سے پوچھنے سے پہلے میں زویا سے پوچھ لیتا ہوں (وہ ہادی کی منگیتر اور خالہ زاد تھی)۔۔ وہ راضی ہو گی تو ہی میں یہ قدم اٹھاؤ گا” بلآخر وہ کسی فیصلے پر پہنچ ہی گیا ۔۔
اس نے موبائل آن کیا اور بنچ پر بیٹھ گیا درختوں کے جھنڈ میں بنچ پر جا بیٹھا وہ خاموش اور پر سکون جگہ تھی ماحول کافی حد تک ٹھنڈاتھا ۔اس ۔نے نمبر ڈائل کیا ۔پہلی ہی رنگ پر کال اٹھالی گئی
“اسلام و علیکم !” ہادی نے آنکھیں موند لی
“وعلیکم سلام خان صاحب آج ہماری یاد کیسے آگئی “مقابل کو لمحہ نا لگا اسے پہچاننے میں ۔۔وہ خوشگوار حیرت سے بولی ۔
“ارے آپ تو ہر وقت یادوں میں ہیں۔۔ یہ آج اور کل کی کیا بات ہے؟”ہادی نے بینچ پر پیچھے کو ہو گیا ۔
” ہممم مسکا ۔۔” وہ ہنس کر بولی
” مسکا وسکا کسی کو نہیں مارتا میں” ہادی مصنوعی خفگی سے بولا
” تم تو ناراض ہو رہے ہو لڑکے ۔۔” وہ ہنس کر بولی
”اور سناؤسٹڈیز کی کیسی جارہی ہے ؟“ہادی کو تو اس سے بات کرتے وقت ان تمہیدوں کی ضرورت تو نہیں پڑتی تھی ۔آج کیا ہوگیا تھا؟
” اچھا !تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔ مگر یہ بات کسی سے مت کرنا ” وہ بینچ کو ایک ہاتھ سے کھرچتے ہوئے بولا ۔۔
” ہاں بولو ” زویا نے کہا۔
” میری بات کو سمجھنا برا مت منانا ” اس نے اُنگلی سے زور سے بنچ کو پھر سے کھرچا ، نگاہ آسمان پر ٹکی ہوئی تھی وہ صاف تھا بادلوں کا نام تک نا تھا مگر پھر بھی مبہم تھا ۔
” ہممم”
“زویا ۔۔۔میں ۔۔مجھے یہاں قانونی طور پر مضبوط ہونے کے لیے ۔۔ کسی امیرکن سے۔۔کانٹریکٹ میرج کرنی ہو گی ۔۔” وہ رک رک کر بولا ۔ اس کو اپنی انگلیوں پر کچھ گیلا چپچپا محسوس ہوا اس نے نیچے دیکھا تو بینچ کی کیل اس کے ناخنوں میں گھس گئی تھی اس نے دھیرے سے ہاتھ پیچھے کو لیا
” اوہ ۔۔” مقابل نے بامشکل کہا ۔ اس کے گلے میں آنسوں پھنس سے گئے اگر وہ اس سے پوچھ رہا تھا تو یقیناً فیصلہ لے چکا تھا ۔
” تم ٹھیک ہو؟” ہادی نے نیچلا لب دانتوں تلے دبا لیا وہ جانتا تھا کہ زویا کو دکھ ہو گا ۔
” ہاں ۔۔” اس کے لیے ایک لفظ کہنا بھی عذاب بن گیا وہ اسے کیا ہی کہتی ،اس کے نام سے منسوب تھی اب جو وہ ایسے کرہاتھا غم تو بنتا تھا ۔
” تم اگر ڈسٹرب ہو تو میں نہیں کروں گا ۔۔تمہاری رضامندی کے بغیر کچھ نہیں کروں گا ” خون کے قطرے کچی مٹی میں جذب ہونے لگے۔
” نہیں ۔۔ اگر یہ تمھارے لیے ضروری ہے تو کر لو، میں اعتراض نہیں کروں گی ” اس کا دل کر رہا تھا ہر لفظ الٹ کہے آنسوں گالوں پر سے تیزی سے پھنسل رہے تھے مگر وہ کافی پر سکوں انداز میں بولی تھی ۔
” تو رو کیوں رہی ہو؟”اس نے انگھوٹے کے پور سے زخمی انگلیوں کو چھوا ۔
“م۔میں نہیں ۔۔رو رہی ” لب حیرت سے کھل گۓ اسے کیسے پتا چلا ۔
” تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں۔۔” وہ ہولے سے مسکرا دیا ۔
” تم کر لو کانٹریکٹ میرج مجھے اعتراض نہیں ہے ۔۔ ویسے بھی تم مجھے کتنا ہوم ورک لکھ کے دیتے رہے ہو۔۔” وہ زبردستی ہنسی اور موضوع بدلنے کی کوشش کی ۔
” اچھا ۔۔اگر ہوم ورک نہ کر کے دیتا تو تم اجازت بھی نہ دیتی ” وہ صدمے سے بولا ٖخون اب بھی نکل رہا تھا مگر زویا کے آنسوں تھم گۓتھے
” ہمم پھر میں سوچتی ۔۔” اس نے پر سوچ اندز میں کہا
” یہ بھی سہی ہے ۔۔ ” وہ ہنس دیا
”زویا سالن دیکھ لےجل گیا ہے ۔۔“ شہناز کی آواز پر زویا کو ہوش آیا۔
” ہادی ۔۔ تمھاری وجہ سے ہانڈی جل گئی ہے میری میں بعد میں بات کرتی ہوں ” وہ جلدی میں بولی اور ہادی کےکچھ کہنے سے پہلے ہی کال کاٹ دی ۔
” میری وجہ سے۔۔؟” ہادی نے سینے پر انگلی رکھی اور سر جھٹکا “کیا کروں اس لڑکی کا ۔۔ ” اور ہنس دیا ہاتھ میں اب بھی درد تھا مگر اب وہ سکون میں تھا ۔۔۔بسس ممی کو راضی کرنا ہے۔۔اور بینچ سے اٹھ کر پھر سے ٹہلنے لگا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باری جب سے آیا تھا تب سے زبیدہ بیگم کے چہرے پر بہار آئی ہوئی تھی وہ اپنے بڑے بیٹے کے صدقے واری جا رہی تھی ۔۔
” سجل ! چاۓ لے آؤ بیٹا ” جب سے وہ آۓ تھے زبیدہ بیگم تیسری دفعہ سجل کو کہہ رہی تھی۔
” آرہی ہوں ۔۔ ” وہ کوفت بھرے لہجے میں بولی اور چاۓ کپوں میں انڈیلنے لگی ۔
” بیٹااااا ! اچھے سے لے کر جاؤ۔۔ اور چاۓ کیوں لے کر جارہی ہو ناگن کو تو دودھ پسند ہے ” الزومات کو سجاتا صالح ڈرمائی انداز میں بولا
” یہ ساری چاۓ تمھارے منہ پر گرا دوں گی چپ کرو” وہ چاۓ ڈالتے ہوۓ پلٹی اور پھنکاری ۔
“نہیں پھر میرے سے شادی کون کرے گا۔۔”صالح ہنس کر بولا۔
” مرے ہوۓ انسان سے بھلا کسی نے شادی کی ہے؟” سجل نے یکدم چھری اٹھا کر اس کے سامنے کی۔
” اوہو معملہ گھمبیر ہو گیا ۔۔۔ کام ڈاؤن ۔۔” وہ دیوار سے لگ کر دونوں ہاتھ اٹھا کر بولا۔سجل غصے سے ٹرے اٹھا کر باہر چلی گئ۔
” افف بال بال بچے نہیں تو ہلاکو خان کی جانشین مجھے کھا جاتی ” اس نے ماتھے سے مصنوعی پسینہ ہٹایا ۔
سجل ٹی وی لاونچ میں گئی تو سامنے باری اور زبیدا بیگم بیٹھے تھے اور ساتھ والے سائیڈصوفے پر صبا ٹانگ پر ٹانگ جماۓ بیٹھی تھی سجل نے چاۓمیز پر رکھی اور کرسی پر بیٹھی دعا کو آنکھوں سے چاۓ پروسنے کا کہا ۔وہ منہ بسورتی سب کو چاۓ دینے لگی اور سجل آرام سے بیٹھ گئی ۔
”باری بھائی ! ہادی نے آپ کو کال کی ۔۔ میں نے نمبر بھیجا تھا اس کو ” دعا نے اس کو چاۓ دی ۔
” نہیں بھئی ! وہ ہمیں کال کیوں کرے گا اللہ واسطے کا بیر ڈالا ہوا ہے اس نے “باری کے بولنے سے پہلے ہی صبا منہ بناتے ہوۓ بولی۔
“تو باری بھائی خود کال کر لیں وہ ہمیں بھی زیادہ کال نہیں کرتا ۔۔ بزی ہوتا ہے ابھی سیٹل تو نہیں ہوا نا۔۔۔” سجل اپنے غصے کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوۓ جواب دیا ۔
” ہمم جس طرح باری کو کوئی کام ہی نہیں ہے ان فضول لوگوں کے پیچھے بھاگتا رہے ” صبا نے کپ غصے سے دعا سے لیا۔”کیا کر دیا میں نے” اس نے دل میں سوچا ۔
” اس۔۔۔” ۔۔” بس سجل ۔۔ بھابھی سے ایسے بات نہیں کرتے ” زبیدہ بیگم نے سجل کو روک دیا ۔
” سجل نے دعا کو گھوری ڈالی اس نے سر جھکا لیا ۔۔یکدم زبیدا بیگم کے پاس پڑا دعا کا فون تھرتھرایا انھوں نے فون اٹھایا تو سکرین پر ہادی کا نمبر جگمگا رہا تھا۔ زبیدہ نے فوراً کال کاٹ دی وہ باری کی موجودگی میں کال نہیں اٹھانا چاہتی تھی ۔
(“افف دعا کال اٹھاؤپوسٹ بعد میں کر لینا ” ،ہادی ہوٹل کے کمرے میں ٹہلتے ہوۓ پھر سے نمبر ڈائل کرنے لگا ۔ )
” باری تمہاری جاب کیسی جا رہی ہے ؟ اور کلینک؟ زبیدہ بیگم کی آنکھیں اسے دیکھتے ہوئے الگ سی چمک تھی ان کے ہاتھ میں پھر تھرتھراہت ہوئی انھوں نے بغیر دیکھے کال کاٹ دی ۔
” اچھی جا رہی ہے جاب ۔۔ کلینک پر بھی اب الحمدللہ اچھا خاصا کام ہوتا ہے۔۔ ” باری نے مسکرا کر کہا ساتھ ہی سر ہلا کر دائیں بائیں دیکھا
(ہادی نے غصے سے فون کو دیکھا اس دعا کو میں بعد میں سیدھا کرتا ہوں )
” یہ صالح کہا ں ہے؟ ” اس نے آبرو اٹھایا ۔
” نماز کو گیا ہے “۔۔ سجل نے جبراً مسکرا کر کہا اور صبا کو دیکھا ۔
“اوہ! اور اس کی پڑھائی ؟” باری نے پھر سوال کیا ۔
” ماشااللہ سے بی ایس کے فورتھ سیمسٹر میں ہے عالم کی پڑھا ئی بھی کر رہاہے ” سجل اس کا ذکر کرتے ہوۓ واقع ہی خوش ہوئی
” عالم کب تک بن جاۓ گا ” باری نے پوری توجہ سجل کی جانب کر لی ۔
” جی بس دو سال رہ گۓ ہیں ۔ عمل کرنے والا عالم بناۓ اللہ تعالی اسے ۔۔ کچھ لوگ تو عالم بن کر بھی جاہل رہ جاتے ہے۔ ” سجل نے صبا کو دیکھ کر تنز کیا (صبا عالمہ تھی )۔ اس نے بے چینی کا پہلو بدلا ۔
( آپی کو کال کرتا ہوں میں بھی کس نکمی کو کال کر رہاتھا ۔ ہادی غصے میں بڑبڑایا ۔۔ اور سجل کو کال ملائی کال فوراً اٹھا لی گی ۔۔ “ہیلو ! آپی ۔۔”
” میں آپی نہیں ہوں ۔” نمل ہنس کر بولی ۔
” اوہ یہ تو میرا کاکا ہے ۔۔ کیسی ہو” غصہ جیسے ہوا ہو گیا کبھی تھا ہی نہیں ۔
” میں ٹھیک ہوں ۔ آپ کہا ں ہیں۔۔ہم کرکٹ کھیلنے کب جائیں گے؟ ” اس نے معصومیت سے پوچھا ۔
” میں نا شہر چارلسٹن میں ہوں بچے ۔۔ ہم جلد جائیں گے کرکٹ کھیلنے ۔ اب ماما کو فون دو یا نانو کو ؟ہادی مسکرا کر بولا ۔
” ماما اور نانو آنٹی کے پاس بیٹھے ہے ” نمل نے ہاتھ ہلا کر اسے بتایا۔
“اچھا نا بلاؤ۔۔ ماما کو بلاؤ ” ہادی نے پھر اسرار کیا ۔
” کس کی ماما کو ؟ آپ کی میری؟ ” نمل نے پھر سے سوال کیا ۔
”اپنی کو بلا لو۔۔ صالح کو دعا کو کوئی تو ہو گا ” اس نے ہنس کر بول۔
” ہمم صالح ماموں نا مسجد ہے ۔۔اور اور آنی نا ۔۔” اس نے دروازے سے باہر جھانکا۔” انھوں نے بےبی کو اٹھایا ہوا ہے ۔” اور تسلی سے پیچھے ہو کر بیٹھ گئی ۔
” ہممم سب بزی ہیں گندے لوگوں نے نمل جانی کو اکیلا چھوڑا ہوا ہے؟” ہادی کو واقعی ہی برا لگا ۔
” میرے ساتھ آپ ہیں نا” نمل بے دھیانی میں بولی مگر ہادی نے بہت محسوس کیا ۔
” اچھا میں ممی کو جا کہ ۔۔ فون دیتی ہوں “اور بیڈ سے نیچے اتر گئی ۔ )
” چچی ! دعا کی شادی کب ہے؟” صبا نے موضوع بدلایا ۔
” بیٹا صفیہ کہہ رہی ہے کہ دو مہینے میں شادی کر دیں ۔۔ بس جب اس کی شادی ہو گی توتم لوگ پورا مہینہ یہاں رکو گے” زبیدہ بیگم نے جیسے ان کو حکم دیا ۔
” جی جی کیوں نہیں ۔۔” وہ ہنسی ۔ نمل دروازے میں کھڑی تھی سجل نے جونہی اسے دیکھا تو اس نے ہا تھ کے اشارے سے اسے باہر بلایا ۔
” کیا ہوا ” اس نے آہستگی سے کہا ۔
” ہادی خان ماموں کی کال آئی ہے ” نمل بھی سرگوشی میں بولی ۔ سجل بے اختیار ہنس دی اور فون اس سے لے لیا ۔” ہیلو! ۔۔ ” وہ نمل کو لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
“ہیلو آپی” ہادی سنجیدہ ہوگیا ۔” ماموں ابھی آپ کو ڈانٹے گے ” نمل نے لقمہ دیا ۔
“کیوں بھئی ! ماموں بھانجی نے کیا سازش کی ہے ” سجل نے دونوں کو چڑایا ۔
” آپ لوگ نمل کو اکیلا چھوڑ کر کس آنٹی کے پاس تھے ؟۔۔ ہمم میری گڑیا کو اکیلا چھوڑا ہواتھا ” ہادی مصنوعی لہجہ بنا کر ڈانٹا ۔
” ہائے ماما کا گڈا آیا ہوا ہے اس لیے آپ کی گڈی اکیلی تھی ” وہ ہنس کر بولی ۔
” ممی کا گڈا ؟ ۔۔اوہ باری۔ ” پہلے وہ نہیں سمجھا پھر اس کے ذہن میں جھماکا ہوا “اور یہ دعا کہاں ہے ؟ ویسے فون کے بغیر اسے سانس نہیں آتا ۔۔ابھی کال نہیں اٹھا رہی ” ہادی پھر سے تپ گیا ۔
” دعا کا فون تو صبح سے ماما کے پاس ہے ۔۔” سجل کو سمجھ نہ آئی کیا کہے ۔
“رکھ کر بھول گئی ہو نگی آپ ان سے ابھی بات کروا سکتی ہیں ؟” ہادی نے منہ بسورا ۔
” فون ان کے ہاتھ میں ہے بلکہ میرے سامنے ان کو کال آرہی تھی ۔۔ انھوں نے کاٹی ” سجل نے اپنےمؤقف کا دفع کیا۔
” مجھے ان سے بات کرنی تھی۔۔ اب ؟۔ ان کو باری سے ہی فرصت نہیں ایسی بھی کیا خفگی” ہادی کو شدید غصہ آیا ۔” اچھا اب آپ سن لیں ان کو پھر بعد میں بتا دوں گا ” اس نے آنکھیں بند کر لی اور کراؤن سے ٹیک لگا لی ۔
” ہہم بولو” سجل دھیرے سے بولی ۔
” مجھے اپنی قانونی حیثیت مضبوط کرنی ہے ۔ اس نے ٹہر کر سانس لیا ۔۔ اس کے لیے مجھے یہاں شادی کرنی ہو گی ۔۔کانٹریکٹ میرج ” ہادی نے بند کی آنکھیں کھولی ۔۔
” اب زویا کا کیا ہوگیا ؟ کتنی اٹیچ ہے تم سے وہ ۔۔” سجل کو اس کے لیے افسوس ہوا ۔
” میں نے سب سے پہلےاس سے ہی پوچھا تھا ۔۔”ہادی نے گہری سانس خارج کی ۔
” تم کرو گے ؟” سجل نے پھر سے پوچھا ۔
” ہاں ” بس ایک لفظ کا جواب ۔
” چلیں میں بات کرتا ہوں ۔۔ ” اسے کوئی بات نہ ملی کیا کہتااب وہ ۔۔
“اللہ حافظ ۔۔” سجل نے کال کاٹ دی کیا آفت آنے لگی تھی ۔
ہادی بیڈ پر پیچھے کو گر گیا ۔۔۔ اور آنکھیں موند لی ۔وہ جانتا تک نا تھا کہ اس نے کیا فیصلہ لے لیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولیم آفس میں بیٹھا فائلز سٹڈیز کر رہا تھا آفس کی دیواروں پر مختلف پینٹینگز لگی ہوئی تھی جن کی مین تھیم گہرا نیلا رنگ تھی سیاہی کے قریب کا گہرا نیلارنگ جن میں سب سے خوبصورت رات کی منظر کشی کرتی وہ پینٹنگ گہرے نیلے رنگ کی تھی جس پر چھوٹے چھوٹے ستارے تھے ۔۔
“میں آئی کم ان سر ؟”ہلکا سا دروازہ کھول کر سرمئی آنکھوں سے اندر جھانکا جن میں شرارت واضح تھی ۔
” یس کم ان ” ولیم نے سر اٹھا کر رابرٹ کو نارضگی سے دیکھا ۔
” کیا ہے؟ ادب سے پیش آرہا ہوں ۔۔” اس نے سر کو خم کیا ااور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا ۔
” خیریت کیا کھا لیا ہے آج؟” ولیم اس کی حرکتیں دیکھ کر ہنسا ۔
” آج تو آپ کھلائیں گے ہمیں وہ بھی لنچ کیونکہ ہم نے شئیر ہولڈرز کو راضی کر لیا ہے” وہ تحکمانہ انداز میں بولا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ لی وہ تیس اکتیس سال کا لگتا تھا
” جو آپ کہیں ” ولیم مسکرایا ۔
” اچھا رابرٹ مجھے تم سے کیتھ کے بارے میں بات کرنی ہے ۔۔ میں اس کونن بنانا چاہتا ہوں ۔اسی لیے چارلسٹن بھیج رہا ہوں “وہ پریشان سا ہو گیا ۔
” نن ؟ پر کیتھ نے مجھے صرف یہ بولا کہ آپ اسے اس کی مما کے پاس پڑھنے کے لیے بھیج رہے ہیں۔۔” وہ سیدھا ہو کر بیٹھا ” اسے پتہ ہے ؟ ” ” ن۔ نہیں۔” ولیم مشکل سے بولا ۔
” کیوں ” ؟ رابرٹ نے سوالیہ انداز میں آبرو اچکاۓ ۔
” وہ باغی ہے ۔۔ ابھی نہیں بتانا۔۔ اورمیں اسے بین سے بھی دور بھیجنا چاہتا ہوں ۔۔ تم سمجھ رہے ہو نا؟” ولیم نے اسے صرف اشاروں سے سمجھانا چاہا ۔
” کیتھ ایسی نہیں ہے ۔۔” رابرٹ کو لمحے بھر کے لیے برا لگا ۔
” مجھے پتا ہے مگر میں نہیں چاہتا آگے چل کر بھی اس کے ذہن میں ایسی کوئی بات آئے ۔” وہ اس کے لیے بہت پریشان تھے ” تمہیں تو پتا ہے نا کہ میں نے کیتھ کو بغیر ماں کے پالا ہے ۔ ایما کا رویہ اس کے ساتھ ہتک آمیز ہوتا ہے ۔ میں چاہتا ہوں وہ سکون سے نن بنے ” ولیم کی آنکھوں میں اس کا ذکر کرتے ہوۓ الواہی چمک تھی ۔
” ہمم اسے چارلسٹن جانے میں مسئلہ نہیں ہے مگر میں نہیں جانتا نن بننے والی بات پر اس کا ری ایکشن کیا ہو گا ۔۔ابھی اس کو سٹڈیز کانٹنیو کرنے دیں ۔۔ پریشان نہ ہو یار میں بات کروں گا ” رابرٹ نے مسکرا کر اسے یقین دلایا ۔کیتھ کو صرف یہی سمجھ سکتاتھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“لوسیا! لوسیا !” ایما داخلی دروازہ سے لانچ کی طرف چلتی آرہی تھی کہنی پہ ہینڈبیگ لگاۓ سر پہ سیاہ گاگلز اڑساۓ وہ پینتالیس کے ہندسے کو چھوتی عورت تیس سال کی لگتی تھی کچن میں مصروف لوسیا بھاگ کر آئی ۔
” جی میم ” اور مودبانہ انداز میں ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوگئی۔
” جیس گھر سے باہر تونہیں گئی ؟” اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ پانی کی طرف اشارہ کیا ۔ہلکے سبز رنگ کے صوفوں کے سامنے ٹیبل پر اس نے اپنا بیگ رکھا اور پیچھے کو ہو کر بیٹھ گئی ۔
” نہیں ابھی تک سو رہی ہے ” وہ پانی گلاس میں انڈیلتے ہوۓ بولی۔
” اففف میں کیا کروں اس کا لوسیا ” اس نے دونوں ہاتھوں میں سر گرا لیا ۔لوسیا نے گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
” میں کیا کروں ۔۔مجھے سمجھ نہیں آ رہی ؟ “ اس نے سر آٹھا کر دونوں ہاتھوں سے گلاس کو تھاما۔ وہ روندھ سی گئی ۔
” میم ! آپ پریشان نہ ہو بچی ہے اسے پیار سے سمجھائیں بچوں کو ماں باپ کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے آپ اور سر بزی رہتے ہیں ، بچوں کو ٹائم نہیں دیتے اس لیے وہ غلط سرگرمیوں میں پڑ گۓ ہیں ۔” لوسیا نے اسے سمجھانا چاہا ۔
“مگر لوکس تو ایسا نہیں ہوا ؟” ایما نے پھر سے سوال کیا ۔
” کچھ بچے حساس ہوتے ہیں جیسا کہ جیس اس نے بہت محسوس کر لیا ہے آپ لوگوں کا رویہ ۔۔لوکس بھی فیل کرتا ہے مگر ریکور ہوجاتا ہے ” لوسیا نے نرم مسکراہٹ سے کہا ۔
” تو جیس کو ریکور ہونا کیوں نہیں آیا؟” وہ پانی کا گلاس یونہی ہاتھوں میں لیے بیٹھی رہی ۔
” ریکور ہونا آسان نہیں ہوتا میم! بچے گھر کے جھگڑے دیکھتے ہیں ماں باپ کا غصہ دیکھتے ہیں سکول ۔کالجز کے دوستوں کے مسائل دیکھتے ہیں ۔۔ہم اپنے غلط رویے کے بعد بچے سے یہ توقع نہیں رکھ سکتے کے وہ ریکور کرے ۔۔بلکہ ہم تو انہیں ریکور کرنا سکھاتے بھی نہیں ہیں ۔۔”ایما نے پانی کا گلاس میز پر رکھ دیا اور چہرے پر ہاتھ پھیرا ۔
” تو لوکس کیسے ریکور کرتا ہے ” وہ بے چین ہو گئی۔ ” اگر میں نے جیس کو نہیں سکھایا تو لوکس کو تو بھی نہیں سکھایا نا”
” اسکی مینٹور کیتھ ہے ،اس نے سکھایا ہے لوکس کو کہ ریکور کیسے کرنا ہے “ لوسیا دھیرے سے مسکرائی ۔
لوکس ٹیرس پر بیٹھا خاموشی سے آنسو بہا رہا تھا تھوڑی دیر قبل ایما اور ولیم کی لڑائی کہ سبب وہ شدید ڈسٹرب تھا لوسیا قریب موجود پودوں کو پانی دیتے ہوۓ بار بار اسے تسلی دے رہی تھی ۔
”نینی !کرس مجھے تنگ کرتا ہے میں ماما ،پاپا کو کیسے بتاؤں وہ غصے میں ہیں ۔۔“ اس نے گھٹنوں سے سر اٹھایا اور آنکھیں ڑگڑتے ہوۓ بولا
”انھیں بتا کہ کیا کرو گے لوکس ۔۔“ عقب سے کیتھ کی آواز ابھری ۔”اپنے مسئلے خود حل کرنا سیکھو ان دونوں کو لڑنے کے سوا کچھ نہیں آتا “۔اس نے نیلی پینٹ کے ساتھ وائٹ ٹاپ پہن رکھی تھی بال حسب معمول کھلے ہوۓ تھے ”خود ریکور کرنا سیکھو ۔۔اصل مسئلہ بتاؤں لوکس ۔۔کرس کو تو تم نے بھی مارا تھا نا “۔وہ اس کے قریب آکر بیٹھ گئی
”ما ما پاپا مجھے ٹائم نہیں دیتے میں ان سے کچھ چاہ کر بھی ڈسکس نہیں کر سکتا “۔اس نے اپنے آخری آنسو آستین سے صاف کیے ۔
”موم ڈیڈ کی لڑائیوں کو اعصابوں پر سوار نہیں کرنا۔۔وہ ٹائم نہ دیں تو ان کی مشکلات کو سمجھنا چاہیے وہ بھی انسان ہیں ہمیں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیں “وہ لمحے بھر کو رکی۔ ”ضروری نہیں ہے ہمارے پیرینٹس ہی ہمیں سمجھیں ہمیں بھی ان کو سمجھنا چاہیے “
”یہ سب ہم ہی کیوں برداشت کریں ؟ “وہ بے چین ہوگیا ۔
”یہ بات ہمارے والدین بھی کہتے ہیں کہ سب کچھ ہم کیوں پرداشت کریں آفس ،گھر ،فیملی ، دوست ان سب کی باتیں رویے ۔۔ انھیں بھی سپیس دینی چاہیں ایک وقت تک پیرینٹس ہمیں اچھے سےہدیکھتے ہے مگر پھر وہ اکتا جاتے ہے ۔۔نفرت نہیں کرتے بس تھک جاتے ہیں ایسے میں ہم بھی اگر وہی سب کچھ کریں پھر نتیجہ نکلتا ہے گھریلو کرائسس کی صورت میں جہاں کوئی کسی کو سمجھتا نہیں ہے سب کو بس اپنی پڑی ہوتی ہے اور یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ سب سے زیادہ صفر ہم کر رہے ہیں “
”پھر ہم اپنی باتیں کس سے شیئر کریں “۔لوکس نے تجسس سے پوچھا ۔
”کسی سنسیر انسان سے جو آپ کی اصلح کرتا ہو ۔۔غلط پر ٹوکتاہو اور سہی کام پر ہمت بڑھاتا ہو۔ جو آپ کو جج نہ کریں ۔۔بس سمجھے ۔۔ پھر وہ آپ کا بیسٹ فرینڈ بھی ہوسکتا ہے ٹیچر بھی اور بڑے بہن بھائی بھی “۔کیتھ نے اس کے بالوں کو سہلایا
”سب سے سیف آپشن ؟ “۔ لوکس نے پھر سے پوچھا
”میں تمھارے لیے سب سے سیف آپشن میں ہوں ۔۔کیونکے جن بچوں کے بڑے بہن بھائی اچھے نہیں ہوتے وہ بونے رہ جاتے ہے “
”میں بونا نہیں ہو “ لوکس نے منہ بگاڑا
”میں تمہیں بونا بننے بھی نہیں دوں گی “
”پرامس “لوکس نے اپنی مٹھی کا بند کر کہ کیتھ کی جانب بڑھائی کیتھ نے بھی اپنی مٹھی اس کی مٹھی سے ٹکرائی ۔
”پرامس “ اب وہ دونوں دنیا جہاں کی باتیں کر رہے تھے ۔۔تبصرے کر رہے تھے ۔۔ ڈھلتی شام خوبصورت ہو گئی تھی۔
ایما عجیب ویران نظروں سے کسی خلا میں دیکھتی گئی ۔کیا وہ اچھی ماں نہیں تھی؟ بلکہ اسے تو فکر بھی نہیں تھی کہ وہ اچھی ماں ہے یا نہیں ۔
”جیس وقت آنے پر سمجھ جاۓ گی۔ “لوسیا نے اس کو تسلی دی ۔
”بہاڑ میں جاۓ جیس ! مجھے میری کریڈیبلیٹی کی فکر ہے ،میرے حلقہ احباب میں ولیم کے سامنے عجیب شرمندگی ہے وہ “ ۔ لوسیا کو حیرت ہوئی کہ کیسی خودغرض عورت ہے ؟ جاؤ ذرا بلا کر لاؤ اسے ۔
لوسیا خاموشی سے جیس کے روم کی طرف چلی گئی ۔ایما کو کیتھ سے اور نفرت ہو گئی جو وہ اپنے بچوں کو نہیں سکھا سکی اس کو رہ رہ کر غصہ آرہا تھا
کچھ لمحوں کے بعد لوسیا باہر آئی اور اس کے ہمراہ ایک لڑکی تھی چہرے کی رنگت زرد آنکھوں کے گرد حلقے بال سخت اور بے جان تھے ۔۔ پہلے تو وہ ایسی نہیں تھی ایما نے اس پر ایک بےزار نگاہ ڈالی مسئلہ کیا ہے ۔
”جیس یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟ “وہ دبے د بے غصے سے بولی ۔جیس ڈگمگاتے ہوۓ صوفے کے قریب پہنچی کیا ہے ۔
”میری حالت کو “؟ پھر مڑ کر شیشے کو دیکھا ۔”اس حالت کی بات کر رہی ہے “؟ اس نے شیشے میں دیکھتے ہوۓ خود کی طرف اشارہ کیا ایما ناگوار تاثرات چہرے پر لیے اسے دیکھتی رہی ،”اس حال کی ذمہ دارہیں۔۔۔۔
وہ شیشے کے سامنے سے ہٹی اپنی مٹھی کا مائیک بنایا جیسے کوئی ایوارڈ انونس کرنے لگی ہو اور ساتھ میں دوسرا ہاتھ بڑھا کر ایک گلدان اٹھایا
”ایما جارج “اور گلدان ایما کی طرف بڑھایا ۔ ایما سخت تاثرات لیے اسے دیکھتی رہ گئی ۔
”کیا ہوا سابقہ مس ورڈ کو ایوارڈ نہیں لینا آپ کو تو بہت پسند ہے نا ایوارڈ لینا ۔۔ لیں نا “ یکدم جیسیکا کے لہجے میں بلا کی سختی آ گئی ۔
”جیس ماں ہو میں تمھاری “۔
”مس ایما یہ بات آپ بھول رہی ہیں “۔جیسیکا اسی لہجے میں بولی ۔”
تمہیں کیا لگ رہا ہے یہ سب کر کہ تم مجھے ڈیڈ لوکس یا کیتھ کو کوئی نقصان پہنچا رہی ہو؟ جیسیکا السٹر تم خود کو تباہ کر رہی ہو۔۔ ایک بات تمہیں سمجھ کیوں نہیں آرہی ؟؟ چھوڑ کیوں نہیں دیتی یہ نشہ گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہو نا اگلی جا رہی ہو نا نگلی “۔ایما چلاتے ہوۓبولی ،
”اگل دیں نا “۔۔ایما نے یسے ادھ کھولے لبوں کے ساتھ دیکھا وہ اب صوفے پہ ڈھے چکی تھی ۔”کس نے کہا ہے ہڈی کو رکھے اگل دیں ۔دوبارہ اگر میں سو رہی ہوں تو مجھے ڈسٹرب مت کی جئیں گا “کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور کمرے کی جانب دوبارہ چلی گئی شاید کیتھ ٹھیک ہی کہتی ہے کہ ایما کو پہلے جیس کی تربیت کرنی چاہیے ۔۔ایما صوفے پے حق دق بیٹھی رہ گئی اولاد ماں باپ کو کس دھانے پے لا کھڑا کر دیتی ہیں ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سجل سے بات کرنے کے بعد ہادی اوندھے منہ بلینکٹ سر تا پیر لیے سو رہا تھا موبائل کی بپ بجی تو اس نے بلینکٹ سے ہاتھ باہر نکال کر آف کیا ۔چند لمحوں بعد بپ پھر بجی اس نے پھر سے کال کاٹ دی ۔اور موبائل کو بلینکٹ کے اندر کر لیا موندی موندی آنکھوں سے دیکھا تو ممی کی کالز لگی ہوئی تھی فرطِ جذبات میں آکر وہ جونہی نمبر ڈائل کرنے لگا تو اس کے ذہن میں چار گھنٹے پہلے والا واقع گھوم گیا اس نے چیٹ کھولنی چاہی مگر یکدم اس کے ذہن کی سکین پر جھماکا ہوا۔
شام کے وقت سب بیٹھ کر صحن میں چاۓ پی رہے تھے ۔تب کیاری ویران نہیں تھی وہاں سورج مکھی اور رات کی رانی کے علاوہ اور بھی پودےتھے ۔کوئی اس کا خاص خیال رکھتا تھا گلاب کی خوشبو بھی اس کیاری سے جھانکتی ہوئی ہلکی ہوا سے ساز باز کر کے نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی ۔باری اور شاہزیب کسی موضوع پر گفتگو کر رہے تھے ۔کچھ دیر پہلے ہی باری یونیورسٹی سے اور وہ ہاسپٹل سے واپس آئیں تھے (شاہزیب ہاسپٹل کی ایڈمنسٹریشن میں جاب کرتے تھے ) اماں کی نگاہیں باری کے صدقےاتار رہی تھی ان سب سے بے فکر چاۓ سرکی جارہا تھا اوردعا اپنی دوست کے ہاں گئی ہوئی تھی ۔ہادی کمرے سے باہر آیا اس کا چہرہ ستا ہوا تھا ۔
”اسلام وعلیکم ابو “ہادی نے پلر سے ٹیک لگا لی ۔
” پاس بیٹھا بھائی نظر نہیں آرہا “؟ ان نے سخت لہجے میں کہا ۔
”اسلام علیکم بھائی گستاخی معاف پہلی بار میں نوکر نے آپ کو سلام نہیں کیا “۔اس نے آنکھیں گھما کر طنزیہ بولا ۔
”دیکھا ابو کتنا بد تمیز ہے یہ ، میٹرک کا رزلٹ کیا آج آ گیا ہے ہواؤں میں اڑ رہا ہے “۔باری تپ کر بولا ۔
”ہاں جیسے رزلٹ بہت شاندار آیا ہے ۔۔691 نمبر لے کر خود کو طرم خان سمجھ رہا ہے ۔“زیبدہ بیگم کو جب سے اس کا رزلٹ پتہ چلا تھا گویا ان کو تو کسی نے انگاروں پر لٹا دیا تھا ۔
”اچھا خیر ہے بچہ ہے ہو جاتا ہے کبھی کبھی ۔“چاۓ پیتے صالح نے دادا بابا کی طرح اس کی طرف داری کی ۔وہ اور ہادی ایک دوسرے کا ساتھ ہر حال میں دیتے تھے ،ہر جرم میں برابر کے قصوروار ہوتے تھے دونوں کو ایک ہی تصور کیا جاتا تھا ۔
”تم چپ رہوں ہوم ورک کیا ؟ جاؤ جا کر وہ کرو ۔“باری نے فورا اسے جھڑک دیا صالح پھر سے پیچھے کو ہو کر بیٹھ گیا ۔
”ہن اتنی بڑی بات نہیں تھی جتنا اس نے بنا لی ہے “صالح نے صرف سوچا۔
”پتہ ہے ابو میں اپنے فرینڈ کے ساتھ تھا جب اس کا رزلٹ آیا ۔اتنی شرمندگی ہوئی میں نے کور کرنے کے لیے فورا احان کا رزلٹ نکالا ۔1060 نمبر ہیں اس کے پھر کچھ بہتر لگا ۔“باری نے ہادی کی طرف دیکھ کر بولا ۔
” تو آپ کو کس نے کہا تھا اس کے سامنے نکالے ہمارے خان نے آپ کو شرمندگی سے بچانے کے لیے پیپر تھوڑی دیے تھے ۔“صالح سے بولے بغیر رہا نا گیا ۔”گود لیں لے احان کو پھر “اس نے آخری بات صرف سوچی ۔
”صالح دفع ہو یہاں سے ۔“اماں غصے سے بولی۔
”جج صاحب مجھے میرے موکل کی صفائی دینے سے روکا جا رہا ہے کیا یہ کھلا اعتزات نہیں “اس نے شاہزیب کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا ۔
”صالححح “ شاہزیب غصے سے بولے تو صالح چپ ہو گیا ۔
”وللہ ظالم سماج جج بھی خرید لیا ہے ۔“کہہ کر وہ کمرے میں بھاگ گیا ۔”اب یہ جنگ تو خود ہی لڑ بھائی ۔“ایک اور ہانک کمرے سے ہادی کے لیے لگائی ۔
”بے غیرت “زبیدہ بیگم کانوں کے پیچھے دوپٹہ اڑساتی ہوئی بولی ۔
”اب میں کیا کروں گی شہناز کو سائرہ کو کیا بتاؤں گی صبح سے کوئی نا کوئی کال کر کر کے پوچھ رہا اس کے رزلٹ کا وہ تو میں نے موبائل دعا کو دے دیا جو بھی کال کریں اس کو کہو امی کی طبیعت نہیں ٹھیک اور کال کاٹ دو “وہ فکر مند ہو کر بولی۔ یہی تو چھوٹۓ چھوٹے جھوٹ ہم بچوں کو خود سکھاتے ہے بعد میں ہمارے ہی گلے پڑ جاتے ہیں ۔
”ہمم “باری نے چاۓ کا سپ لیا ۔”سیفی کے بھی 967 نمبر ہے ۔“ہادی کے تو گویا تن بدن میں آگ لگ گئی ۔
”اس سیفی کو تو رہنے دے آرٹس میں اتنے نمبر لیے ہے ،میں آرٹس رکھتا تو پورے 1100 لے لیتا ۔“ہادی نے کھا جانے والے انداز میں کہا۔
”اچھا سائنس میں کون سے کیڑے تھے۔”زبیدہ بیگم نے پھر سے طنز کیا ۔
”میں بتاتا ہوں سائنس میں نہیں اس کے دماغ میں کیڑے ہے ، ناچ نا جانے ، آنگن ٹیڑھا ۔“باری نے غصے سے بولا ۔
”رعب جھاڑنے کے لیے کچھ اور ڈھونڈھ لے بھئی !“سینے پر ہاتھ باندھے پلر سے ٹیک لگاۓ ہادی نے تاریک پڑتے چہرے سے کہا ۔
”بس عبدالہادی ۔“شاہزیب نے ہاتھ جھلایا ۔”تمھارے نمبر شرمندگی کے مقام پر ہے اور تم زبان چلا رہے ہو باری کے 1077 نمبر تھے عش عش کر اٹھے تھے سب ۔“
”میری برتھ ڈے کب آتی ہے ؟ “صالح لہک لہک کر بولا وہ اوپری منزل کی ریلنگ سے ٹانگیں لٹکا بیٹھا تھا ہادی کے چہرے پر مسکان آئی تو گال پر گڑھا پڑا اس کی آواز پر باقی تین نفوس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا زبیدا بیگم نے چپل اٹھا کر صالح کو ماری۔
”کیچ آوٹ “صالح چپل کیچ کر چکا تھا اور لمحے کے ہزارویں حصے میں وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا ۔۔
”ابو دیکھیں کیا سکھاتا رہتا ہے اس کو ۔“باری نے پھر سے شکایت لگائی
”ابو میں نے آپ کو پہلے کہا تھا مجھے سائنس نہیں پڑھنی ۔۔ میں آرٹ میں انٹرسٹڈ تھا تب زبردستی کی اب نمبر کم ہے تو میرا کیا قصور ٹھیک ہے نہیں ہوں میں لیجینڈری عبدالباری یا احان یا پھر وہ نوبل پرائز یافتہ سیفی ۔“اس نے ہاتھ جھلا جھلا کر کہا ۔
”میں عبدالہادی خان ہوں سب سے منفرد ۔“اس نے آخری جملہ زور دے کر بولا ۔زبیدہ بیگم نے دوسری چپل اٹھا کر ھادی کی طرف پھینکی ۔
”ادھر آ منفرد عبدالہادی تجھے میں بتاتی ہوں”ہادی پلر کی اوٹ میں ہو گیا نشانہ پھر خالی گیا ۔
”ناک کٹوا دے گا کسی دن یہ ہماری ۔“
”امی آپ کا بلڈپریشر ہائی ہو جایے گا دفع کریں باری نے اماں کے ہاتھ پے ہاتھ رکھا “
”اس کا ایڈمشن پھر کروا دو کسی چھوٹے موٹے کالج میں ۔دیکھتے ہیں پھر کون سے تیر مارتا ہے ۔“شاھزیب کی طرف سے ایک اور طنز ابھرا ۔
”ہاں ہاں ہمارا خان آپ کی بیگم کی طرح کچا نشانے باز نہیں ہے ۔” ان سب نے پھر اوپر دیکھا مگر کوئی نا تھا پتہ نہیں کہا سے نظر رکھی ہوئی تھی صالح نے ان پر ۔
”تیری میں ٹیونگ کرتی ہوں تھوڑی دیر صبر کر بس تو ۔“اماں نے اسے سخت لہجے میں تنبیہ کی ۔پلر کی اوٹ میں کھڑا ہادی کمرے کی جانب سونے چلا گیا ۔آفٹرآل سونا اس کا محبوب مشغلہ جو تھا۔بہاڑ میں گیا رزلٹ ،باری ،ان کے طعنے اسے بس زبیدہ بیگم کے رویہ ،شاھزیب کی سختی ۔اور باری کا محفل میں بیٹھ کر اس پے طنز کرنا اپنے سے حقیر جاننا برا لگتا تھا ۔
حال میں واپس آو تو اس نے وائس سین کیے بغیر پوری چیٹ ڈیلیٹ کر دی پھر روز کی چیٹ اوپن کر کے اسے ”اوکے “کا میسج کردیا
“میں تیار ہوں “لکھ کر سینڈ کیا وہ ہمیشہ باری کی موجودگی میں اس کو نظر انداز کرتی تھی مگر وہ بھی اپنے نام کا ایک ہی تھا سنتا سب کی تھا کرتا من کی تھا ۔فلحال بھی زبیدہ بیگم اور اس کی ناراضگی چل رہی تھی کہ وہ امریکہ بغیر کسی وجہ کے چلا گیا تھا ۔اس کو ہمیشہ اماں کا یہ رویہ بہت برا لگتا تھا اس نے موبائل کو ڈونوٹ ڈسٹرب موڈ پر لگا کر ایک طرف کردیا اور پھر سے بلینکٹ میں منہ دے دیا۔ایک عرصہ ہوا تھا اس نے لوگوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن چڑھا تو ہادی فریش ہو کے زینوں سے نیچے اترتا آرہا تھا ریستوران میں خوب چہل پہل تھی سرمئی تھیم کی دیواریں ویٹرز کو آرڈر بُک کرتا ہوا دیکھ رہی تھیں ایسے میں اس نے متلاشی نگاہیں دوڑائی روز کاؤنٹر پر موجود جون کو ہدایات دے رہی تھی ،اس نے ہادی کو آج ایک جگہ انٹرویو کےلیے لے کر جانا تھا ۔ہادی موبائل آن کیا اور پھر اسے پیغام بھیجا
”انٹرویو کے لیےجانا ہے؟ “کاونٹر کے پاس کھڑی روز کا فون بجا اس نے دیکھا تو ہادی کا میسج جگمگا رہا تھا ۔
”ہاں تم آجاؤ۔ “اس نے ٹائپ کر کےبھیجا ،اور پھر ڈیانا کو کچھ کہنے لگی ۔
”ہم چلیں پھر ۔“اسے عقب سے ہادی کی آواز آئی تو وہ پلٹی ۔اس نے گرے شرٹ کے اوپر بلیک جیکٹ پہن رکھی تھی بال آج بھی ماتھے پر پڑے ہوۓ تھے روز نے اثبات میں سر ہلایا اور وہ دونوںریستوران سے نکلنے کے پچیس منٹ بعد ایک بلڈنگ کے باہر موجود تھے آف وائٹ رنگ کی اونچی عمارت کے ماتھے پر سیاہ ماربلز سے ،
”اِقرَا بِسمِ رَبُک َالذِی خَلق “لکھا تھا نیچے کو زرا دیکھوں تو اسی آیت کا ترجمہ قلم بند تھا ۔
“پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے تمھیں پیدا کیا ” لمحے بھر کو اسے یقین نا آیا کے یہ ایک اسلامک انسٹیٹیوٹ ہے اس نے انسٹیٹیوٹ کے نام پر نگاہ ڈالی ،
“جامعہ صفہ “زیر ِلب کہا نبی کریم ﷺ کی بنائی گی پہلی ہونیورسٹی کے نام پر رکھا یہ نام جلی حروف میں جگمگا رہا تھا وہ حیران تھا کہ امریکہ جیسے ملک میں اسلامی تعلیمات دی جا رہی ہے؟دین کو پھیلانے والے ،تبلیغ کرنے والے اب بھی موجود ہیں وہ متاثر ہوۓ بنا نہ رہ سکا اور خاموشی سے روز کے پیچھے چلتا داخلی دروازے سے اندار آیا تو اردگرد سبززار اور درختوں کے درمیان پتھریلی روش تھی وہ انسٹیٹیوٹ کی مین عمارت میں داخل ہوگئےجہاں کم ہی لوگ تھے ۔کچھ ان میں سے اوپری زینوں کی طرف بڑھ رہی تھے ۔
” میں پروفیسر کو دکھتی ہوں تم یہی انتظار کرو ” روز کہہ کر بائیں جانب بڑھ گئی اور آفس کا دروازہ کھولا ،پھر پیچھے کو ہوگئی ۔ہادی نے آبرو اچکایا جیسے پوچھ رہا ہو کیا؟
”یہاں نہیں ہے تم رکوں میں آگے دیکھ کر آتی ہوں۔ “وہ کہہ کر موبائل کی سکرین پر مصروف ہو گئی اور دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگی۔پانچ منٹ انتظار کے بعد وہ اُٹھا اور اردگرد کا جائزہ لینے لگا ۔ نیچے بہت کم لوگ تھے ار عجیب سی خاموشی تھی ۔اس کی نظر سامنے زینوں پر پڑی وہ ان کی جانب بڑھا ۔زینوں کے اختتام پر بائیں جانب ایک دروازہ تھا جو ہلکا سا کھلا تھا ۔
”تو آج کا لیسن شروع کرتے ہیں ۔“وہاں کسی کے بولنے کی آواز آرہی تھی ۔اس نے دروازہ کھولا تو اندار کا منظر صاف ہوا ۔تو اس نے دیکھا کے سامنے اسٹیج پر ایک رعب دار شخصیت کے حامل شخص کھڑے تھے ،
”تو آج ہم سورۃ لقمان کی ایت نمبر تیرہ پر بات کریں گے ۔“انھوں نے اپنا کالر مائیک ٹھیک کیا ۔ہادی خاموشی سے داخل ہوا اور پچھلی خالی نشستوں کر جا کر بیٹھ گیا ۔
“اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا اور وہ اسے نصحیت کر رہے تھے کہ اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی جسے اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرتے ہوۓ اٹھاۓ اور دو سال میں اس کا دودھ چھوڑانا ہے کہ تم میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا اور تمھیں میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اور تم پر دباؤ ڈالیں اس پر کہ تم میرے ساتھ اسے شریک کرو جس کا تمھیں علم نہیں ۔تو ان کا کہا نہ مانو اور دنیا میں ان ددونوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اور پیروی کرو اس شخص کی جس نے میری طرف رجوع کیا پھر میری ہی طرف واپس آنا ہے میں تمھیں بتاؤں گا کہ جوتم کیا کرتے تھے”( لقمان 13، 14 )
”تو اس آیت میں کیا فرمایا گیا ہے،؟ انھوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا ۔
”پروفیسر اس آیت میں اللہ تعالی نے ہمیں ہر حل میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے “اگلی نشستوں میں سے کسی لڑکی کی آواز گونجی ۔
”اور شرک کے بارے میں بھی تو ہے “ہادی نے صرف سوچا ۔
” ہمم بلکل صرف والدین نہیں ، شرک بھی ۔“وہ روسٹر سے ہٹ کر سامنے آۓ ۔
“تو پہلے شرک کو اللہ تعالی نے پہلے بیان کیا ہے تو ہم بھی پہلے شرک کو ڈسکس کریں گے ،تو شرک کیا ہے ؟”اب ان کی نظر ہال پر ٹکی تھی ۔
“اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود بنانا ” ایک جواب ابھرا ۔پروفیسر نے اشبات میں سر ہلایا ۔
” ہمم ! اور کچھ ؟ ” ہادی کو محسوس ہوا کہ انھیں مطلوبہ جواب نہیں ملا ۔
” اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنا ۔اپنا نجات دہندہ سمجھنا ۔” ایک اور جواب موصول ہوا ۔
” شاباش باسط ! تو شرک اصطلاحی معنی ہے شامل کرنا ۔سانجھی ٹھرانا ۔اور یہ لفظ اللہ کی الوہیت ، ربوبیت اور اسماء و صفات میں کسی کو شامل کرنے والے کو واضح کرنے کے لیے مخصوص ہے ۔بچوں ! شرک شرک بہت نازک معملہ ہے ہم صرف زبانی کلامی کلمہ پڑھتے ہیں لیکن اپنی بہت سے معملات میں کچھ غلطیاں کرتے ہیں ۔“وہ لمحے بھر کو رکیں ۔
” کوئی کلمہ طیبہ سناۓ مجھے ” اور دھیمے سے مسکراۓ ہال میں سناٹا چھا گیا ہادی کو یہ خاموشی آکورڈ لگی تو اس نے گہرا سانس لے کر پڑھنا شروع کیا ۔
”لاالہ الا للہ محمد رسول اللہ “ہادی کی آواز پر سب نے مڑ کر اس کو دیکھا ، پروفیسر مسکراۓ ۔
”شاباش بیٹا ،متوجہ ہو سب ۔“جیساکہ انھوں نے ابھی کلمہ پڑھا ۔ان نے کہا ،
لا نہیں ،
الہ کوئی معبود،
الا مگر سواۓ،
اللہ اللہ کے ۔
تو کلمہ طیبہ نے کیا فرمایا کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ کے سوا ۔۔تو اگلا سوال یہ ہوا کہ معبود کون ہے؟ معبود وہ ہے جس کی ہم عبادت کرتے ہیں،جس کو ہم اپنے کاموں کے لیے پکارتے ہیں ،جس کو ہم مشکل وقت میں یاد کرتے ہیں ۔جس کو ہم کائنات کا خالق ومالک مانتے ہیں جو میری ،آپ کی ہم سب کی تقدیر لکھتا ہے اور پھر اس تقدیر کو بدلنے پر بھی قادر ہے ۔بیسیکلی معبود کی ڈیفینیشن بہت ڈائورس ہے ۔“وہ سانس لینے کو روکیں ۔
”آپ سب کو یہ تو معلوم ہے کہ اسلام کے علاوہ ہر مذہب میں شرک اور شر ہے مگر آج کل ہم مسلمان بھی شرک کرتے ہیں ۔“انھوں نے مائیک کو سیٹ کیا ہال میں سکوت چھایا ہوا تھا ۔
” پروفیسر! پر ہم مسلمان کیسے کرتے ہیں ؟“ہال سے ایک سوال ابھرا ۔
” ہم میں سے بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں “۔ وہ لمحے بھر کو رکے ۔
” پہلے تو ایک عام مثال لیتے ہیں ۔ جو ہم میں سے بہت کہتے ہیں کہ یار اسے دیکھ لیا نا ۔۔ سارا دن خراب ۔۔ اگر دن کو اچھا بہی گزرنا ہوگا نا یہ کہنے کے بعد دن کو برا ہی گزرنا ہے ۔ کیونکہ اللہ کو یہ چیز پسند نہیں ہے ایسا کہنے تو کھلا شرک ہے آپ کے کہنے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس کی وجہ سے ۔۔۔۔ اللہ پر یقین کدر گیا؟؟ بچوں یہ لمحہ فکریہ ہے قرآن واضح کہہ رہا کے اللہ کے علاوہ کوئی بھی کسی قسم کا نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا “انھوں نے افسوس سے گہرا سانس لیا ۔
”تو پھر ہمارے گمان کے مطابق ہوتا بھی تو ہے پروفیسر ۔وہ کیا ہے ؟“ ھادی نے الجھے انداز میں پوچھا ،انھوں نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا ۔
”جیسا کہ آپ نے گمان کا کہا بچے ۔۔قرآن میں آتا ہے جیسا تم گمان کرو گے ویسا ہو جائے گا۔ اور یہ تو ایک سئیکلوجیکل فیکٹ بھی ہے ۔ ہمارا دماغ انا پرست ہے وہ ہر چیز اپنے مطابق چاہتا ہے۔ ایک آسان سی مثال لیتے ہیں ، آپ انٹرویو کے لیے جا رہے ہیں اور کوئی ایسی چیز جس کو آپ برا سمجھتے ہیں آپ نے دیکھ لی تو فورََا سوچا ارے یار! اب تو گئے ۔ دن گیا۔۔ برا ہی گزرے گا ۔” ہادی کو ان کی نگاہیں مسلسل خود پر محسوس ہوئی کہ جیسے وہ صرف اسے ہی سمجھا رہے تھے ۔
” پھر آپ انٹرویو کے لیے گئے لیکن فیل ہو گئے تو آپ کا دماغ آپ کو یہ کمانڈ دے گا کے اس چیز کی وجہ سے۔۔ آپ کا دماغ ہر نیگیٹو چیز پر کو اس چیز کی طرف لے جائے گا جو آپ کے مطابق بری ہے اب ہو سکتا ہے آپ اپنی نااہلی کے باعث فیل کر گئے ہو ۔۔۔۔ لیکن دماغ اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہے وہ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا ۔اگر آپ وہ چیز نہ دیکھتے جو بُری لگتی ہے تو آپ کا دماغ کوئی اور وجہ ڈھونڈ لے گا مگر اپنی غلطی ،نااہلی نہیں مانے گا یا پھر خدا کی بنائی ہوئی تقدیر پر سوال اُٹھاۓ گا ۔۔جو کہ گناہ میں آتا ہے “۔وہ غیر محسوس انداز میں صرف اسی کو دیکھ رہے تھے ۔
”امید ہے آپ سمجھ گئے ہونگے “ہادی نے اثبات میں سر ہلایا ۔”میں اور صالح تو ہر روز یہ سب کرتے تھے “۔اس نے دل میں سوچا ۔
”اب ہم دوسری قسم کے شرک پر جاتے ہیں جب ہم اللہ کے سوا کسی اور سے مدد مانگتے ہیں ۔آج کل ٹرینڈ ہے کہ لوگ درباروں پر جا کر منتیں مانگتیں ہیں اولیاء اکرام کے مزاروں پر جا کر دعا مانگ رہے ہیں۔ لمحے بھر کو سوچیں کے یہ لوگ کس سے مانگ رہے ہیں ؟ وہاں تو قبروں کے سوا کچھ نہیں ہے ۔کیا مساجد ،مصلے کم پڑ گۓ ہیں جو مزاروں پر قبروں پر جانا پڑرہا ہے ؟ حضرت محمدﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ قبروں کو سجدہ گاہ نہ بناؤں۔ہمارے نبی کے صاحبہ اکرام کے دور میں تو مزار نہیں تھے ۔ سب سے مقدس ہستی کون ہے ؟ حضرت محمد ﷺ ۔۔ مگر صحابہ اکرام تو کبھی ان کی آخری آرام گاہ پر جا کر دعا نہی مانگتے تھے ۔ ان اولیا کے حق میں دوا مانگ سکتے ہیں آپ مگر ان سے نہ مانگیں ۔یہ مت سوچیں کے اس مزار پر جا کر منت مانگیں گے تو پوری ہوگی آپ کو کیا لگتا ہے صرف وہاں اللہ تعالی آپ کی بات سن سکتے ہے ؟ اولیا تو بزرگان دین ہیں انھوں نے اپنی حیات میں اسلام کو اصل حالت میں رکھنے کی کوشش کی لیکن ہم نے ان کے نام پر اسلام کو بگاڑ دیا اب اگر کوئی ان کی قبور پر جا کر سجدیں کرے ،منتیں مانگیں ۔۔اس میں اولیا کی غلطی نہیں ہے یہ تو ہم نے خود سے ہی بدعت بنا لی ہے ۔آپ ان کے لیے دعا تو کر سکتے ہیں مگر منت یا دعا مانگ نہیں سکتے ۔ دعا تو خاص عمل ہے جو صرف رب کی ذات کے ساتھ مشروط ہے۔
ان نے ڈائس سے بوتل اٹھا کر پانی پیا ۔
” اب آتے ہےنیکسٹ پارٹ پر ۔کیا ہے وہ ؟ “وہ بوتل پر ڈھکن لگاتے ہوۓ بولے ۔
”والدین سے حسن سلوک “ سب نے ہم آواز ہوکر جواب دیا
” جی ماں باپ اللہ کے بعد جو ہمیں اس دنیا میں لاتے ہیں ،اللہ اور اس کے نبی ﷺ کے بعد جو ہم پر سب سے زیادہ احسانات کرتے ہیں ۔ ہماری والدہ ہمیں اس دنیا میں لانے کے لیے نو مہینے تک تکلیف برداشت کرتی ہیں بلکہ اس آیت میں آیا ہے کہ تکلیف پر تکلیف برداشت کرتی ہیں یہ دور ایک عورت کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے پھر وہ ماں آپ کو پیدا کرنے کا بھی درد برداشت کرتی ہیں “
ھادی نے آنکھیں موندی وہ اپنی ماں سے ناراض تھا ۔
” کیا آپ سوچ سکتے ہیں کے کوئی آپ کے لیے تکلیف اٹھا سکتا ہے نبی ہیں ایک جنھوں نے ہمارے لیے تکلیف اٹھائی تھی اور ایک ہماری والدہ ہیں جو ہمارے لیے پتہ نہیں کیا کیا برداشت کرتی ہیں دو سال تک مسلسل دودھ پلاتی ہیں ۔ کافی مشکل پروسس ہوتا ہے “
ہادی کا سر جھک گیا وہ بہت غلط کر رہا رتھا ۔
“آہم اس سب کا احسان کبھی بھی نہیں اتار سکتے اگر ہم اپنے والدین کو کندھے پر بٹھا کر حج و عمرہ بھی کروائیں تو وہ بھی کم ہے ۔۔ اگر ہم ان کے احسانات پر کتاب بھی لکھیں تو ہم نہیں لکھ سکتے اور ایون تو آدھے احسان ہم بھول جائے گےآج کل کی اولادیں اتنی اتنی سی بات پر والدین سے ناراض ہو جاتے ہین بدتمیزی کرتے ہیں ۔”
ہادی کے دل میں کچھ چبھا ہادی نے بھی تو بدتمیزی ہی کی تھی وائس نہیں سنے تھے وہیں سے ہی چیٹ کو ڈیلیٹ کر دیا تھا پھر دوبارا کوئی رابطہ بھی نھیں کیا تھا اس نے دھیرے سے موبائل نکالا ۔
” ماں کے قدموں تلے تو جنت ہے نا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی بات مانی جائے “
اس نے واٹس ایپ کھولی اور دعا کا نمبر نکالا،
”پھر جی ہمارے والد محترم بے تحاشہ مشکلات برداشت کرتے ہیں اور اپنی آسائشوں کی پرواہ کے بغیر بس ہر وقت بچوں کی فکر کرتے رہتے ہیں ۔“
” جی ممی وائس ڈاونلوڈ نہیں ہو رہی آپ کے “ اس نے ٹاٰئپ کر کے مسج بھیجا ۔
“باپ وہ ہستی ہے جو اپنے بچوں کو پالنے کے لیے ہر طرح کی تکلیف اٹھاتے ہیں پر جب باپ بڑھاپے میں پہنچتا ہے تو اولاد ان کو جھڑکنے لگتی ہے ۔ آنکھیں دکھاتے ہیں انھیں ،اکڑتے ہیں سوچ سکتے ہیں ان کے لیے کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے آپ لوگ یہ نہیں سمجھ سکتے جب تک آپ پر وہ نہیں گزریں گی ۔میں بد دعا نہیں د ے رہا جسٹ ایک فطری عمل بتا رہا ہوں۔ “ہادی کو باری بابا کی تلخ کلامی یاد آگئی ۔”باپ چار ،پانچ ،چھ اولادوں کو اکیلے پالتا ہے مگر یہ پانچ ، چھ مل کر ایک بوڑھے باپ کو نہیں رکھ سکتے یہ لمحہ فکریہ ہے ان آیات میں اللہ نے یہ تک فرما دیا ہے کہ اگر ماں باپ شرک کا کہیں تو ان کا کہا نہ مانو یا کوئی اورمذہب کے خلاف بات جو آپ کے علم نہ ہو تو بات کو نہ مانے لیکن ان سے بدتمیزی نہ کریں اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہیں ۔“وہ سانس لینے کو رکے ،
”اب آج کے موضوع کے آخری حصہ کی طرف آتے ہیں جو ہے کہ پیروی کرو اس شخص کی جس نے میری طرف رجوع کیا ۔۔ایک تو یہ آیت کا مطلب ہم حضرت محمد ﷺ کے لیے ہے ،کہ ہم ان کی پیروی کریں کیونکہ تمام بنی نوع انسانی میں اللہ کے سب سے زیادہ قریب اور ان کی طرف رجوع کرنے والے تھے ،ان کے بعد ہمارے باقی انبیاء اکرام ،اصحاب اور صحابیات ِ رسول ،مجاہدین جیسے طارق بن زیاد ،عثمان غازی ،سلطان محمت فاتح ،صلاح الدین ایوبی اور بے شمار جن نے اسلام کو پھیلایا ،اس کی خاطر اپنا جان و مال خطرے میں ڈالا ۔اب اگر ہم اس آیت کو غور سے پڑھے تو یہ آج کے دور پر بھی فٹ ب یٹھتی ہے ۔میں اکثر نوجوانوں کو دیکھتا ہوں ،غلط کام میں پڑے ہوتے ہیں ، جیسے گانے سننا ،غیبت کرنا اور باقی معاشرتی برائیاں ۔پوچھنے پر یہ نسل ہمیں بتاتی ہے کہ بھئی وہ بھی کر رہا ہے اس لیے ہم بھی کر رہے ۔نان سینس ۔ان کی آواز میں غصہ ابھر اقرآن کیا کہہ رہا ہے ؟ وہ شدت سے بولے کہ پیروی کرو اس شخص کی جس نے میری طرف رجوع کیا ۔وہ انسان جو بھلائی کرہا ہو ،اللہ کے حکم کا پاس رکھتا ہو ۔اب اللہ تعالی نے آپ کو دماغ دیا ،یہ آیت دی ایک شخص کو آئیڈیل بنایا ۔مگر آپ ،میں ہم سب بس وہی کرتے ہے جو سب کر رہے ہے ۔یہ نہیں دیکھتے وہ سب سہی کر رہے ہے یا غلط ۔ بس وہ کرہا ہے تو میں بھی کرو ں گا ۔آپ ینگ ہے ،آپ کے پاس انرجی ہے ،سب مخلوقات سے افضل دماغ ہے ،نبی ﷺ ہے ،قرآن ہے ۔پھر تم کہا پھرے جاتے ہوں؟ یہ جان کر بھی فلاں چیز غلط ہے تو کیوں وہ کرتے ہوں ؟ ہے کوئی جواب ؟ نہیں ۔۔۔تو پیروی کریں سہی انسان کی ،سوشل میڈیا پر ہر انسان کو دیکھ کر اس کی طرح تو آپ لوگ ڈریسنگ کی کوشش کریں گے ،مگر نبی کو پڑھ کر کیا انھیں فالو کریں گے ،نہیں بلکہ مجھے آپ لوگوں کاجواب بھی پتہ ہے ان جیساکون ہوسکتا ہے ؟ان کے رتبے کو کوئی نہیں پہنچ سکتا لیکن آپ کوشش تو کریں نا اللہ تعالیٰ نے جب کہا ہے کہ نبی فرشتہ نہیں ہوتا تمہی میں سے انسان ہوتا ہے جانتے ہے کیوں ،للہ تعالی ٰ یہ بتا رہے ہے کہ اگر وہ اطاعت کر سکتا ہے تمھاری طرح انسان ہی ہے نا ۔؟وہ کر رہا ہے تو تم کیوں نہیں ؟
“تو اج کا لیکچر ختم کرتے ہیں امید ہے آپ سب کو سمجھ آگئی ہو گی اور آپ سب عمل بھی کریں گے نکسٹ لیکچر تک کے لیے اللہ حافظ ۔”
ہادی کا دل ہلکا ہوا سب سٹوڈنٹس باہر جا رہے تھے ہال خالی ہو رہا تھا جونہی ہادی اٹھا تو ایک لڑکا اس کے پاس چلتا ہوا آیا ۔
”آپ کی آواز بہت خوبصورت ہے ۔ پروفیسر آپ کو بلا رہے ہیں ۔“ہادی شدید گڑبڑا گیا وہ تو کلاس کا حصہ نہیں تھا اب سہی والی ڈانٹ پڑے گی ہال تقریبا خالی ہو گیا تھا ہادی اس کے ہمراہ سٹیج کی طرف گیا لڑکے نے سر کو خم کیا ،
”پروفیسر! “باسط کی پکار پر پروفیسر کھڑے ہوئے ۔
”ٹھیک ہے باسط آپ جاؤ قراءت کی کلاس اٹینڈ کرو “ہادی نے ماسک پہن لیا وہ گھبرا گیا ۔
“اب ذلالت ہو گی سہی والی اور جاب بھی نہیں ملے گی ” ہادی نے سوچا ۔
” تو موصوف آپ کون ہیں ؟میں اپنے ایک ایک سٹوڈنٹ کو نام اور شکل سے پہچانتا ہوں ۔ آپ کی صورت کبھی نہیں دیکھی ۔“ پروفیسر ہادی کو سر تا پیر دیکھتے ہوے بولے ۔
”جی ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔ میں ۔۔۔ “یک دم ہال کا دروازا کھلا روز اندر آئی ۔
” تو جناب آپ یہاں ہیں پورے انسٹیٹیوٹ میں ڈھونڈ آئی ہوں “ اس کا سانس پھولا ہوا تھا ۔
” اوہ روز آپ ۔۔ یہ آپ کے ساتھ ہیں اوہ آئی سی یہ وہ لڑکا ہے جس کو آپ جاب کے لیے لانے والی تھی “۔ پروفیسر نے اپنا نظریا پیش کیا
ہادی نے زور سے آنکھیں میچی ” افففف اللہ ” بلا اجازت اسے اندر نہیں آنا چاہیے تھا اس کو نہیں پتہ تھا کے پروفیسر کی نظر اتنی تیز ہے ۔
” جی وہی ہے مجھ سے پہلے پہنچ گیا “۔روز مسکرا کر بولی۔
”جی جی انھوں نےپورا لیکچر سنا ہے “ وہ پھر سے اس کو دیکھتے ہوے بولے۔
”تو یہ پروفیسر ذوالقرنین ہیں یہاں کے ہیڈ اور فاؤنڈر ۔۔ “روز نے پروفیسر کا تعارف کروایا ۔
”اور یہ۔۔
”ایک منٹ میں ان سے پوچھ رہا ہوں “ انھوں نے روز کو ٹوکا ۔”جی تو آپ کون ہے “؟
”عبدالہادی خان ،روز مجھے یہاں جاب کے لیے لائیں ہیں۔“اس نے روز کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا ۔
”اوہ نائس نیم ،کیا سٹدیز ہے آپ کی “؟ پروفیسر نے پھر سے سوال کیا ۔
”میں نے ایف -اے کیا ہوا ہے۔“ وہ دھیمے سے بولا ۔
”ہمم کمپیوٹر آپریٹ کر لیتے ہو؟ “پروفیسر یک ٹک اسے ہی دیکھے جا رہے تھے ۔
”جی “۔یک لفطی جواب موصول ہوا ۔
” تو آپ ایسا کریں میرے آفس کے ٹھیک سامنے رمیز کا آفس ہے اس سے کہیں کے آپ کو کام سمجھا دے ،سیلری پیکج اور ٹائمنگ بھی اوکے “؟ انھوں نے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔ہادی اثبات میں سر ہلا کر پلٹ گیا ،پروفیسر کی نگاہ نےاس کے منظر سے غائب ہونے تک تعاقب کیا ۔
”خیریت ہے “روز نے ا ن کے آگے ہاتھ جھلایا ۔وہ جھٹکے سے ہوش میں آۓ ۔
” میرے ایک عزیز اس سے بہت مماثلت رکھتے ہیں “۔پروفیسر نے سر جھکا لیا ۔
”کون ہے وہ “؟ روز نے پر تجسس انداز میں پوچھا ۔
”ہے کوئی ۔۔آپ نہیں جانتی “ان کی نگاہیں خالی ہو گئی ۔
”چلیں ٹھیک ہے میں چلتی ہو ۔اظہر سر جاپان ہیں تو ریسٹوران کو بھی دیکھنا ہے ۔گڈ باۓ “ روز کہہ کر پلٹ گئی ۔حسبِ معمول پروفیسر نے آج اسے اللہ حافظ نہیں کہا ۔وہ پیچھے کرسی پر بیٹھ گۓ ،آنکھیں بھی نم تھی ۔شاید ان کے عزیز سے ان کی گہری یادیں وابستہ تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے سائیں گہرے ہوۓ تو پنڈی کی سڑکیں اور بازار مصنوعی روشنیوں سے جگمگا اٹھے ۔دسمبر کی سرد ہوائیں ،بڑھتی ٹھنڈ ،راولپنڈی کی خوبصورتی اس کے جو بن پر تھی ۔اور دسمبر میں تو پنڈی شہر کی رونقیں ہی الگ ہو تی ہے ۔ایسے میں دو منزلہ شاہزیب ہاوس کی طرف آؤ تو گھر کے سب افراد ایک ہی کمرے میں بیٹھے مونگ پھلی کھا رہے تھے ،ہادی کی طرف سے کوئی پیغام موصول نہ ہوۓ آج اچوتھا دن تھا ۔
”امی دعا چھلکے پھر مونگ پھلیوں میں مکس کر رہی ہے “ صالح پچھلے آدھے گھنٹے سے دعا کی مختلف شکایتیں لگا رہا تھا ۔
”صالح چپ کر جا ۔۔تم پر پہلے ہی بہت غصہ ہے مجھے “ زبیدہ بیگم غصے سے بولی ۔ اب پھر سے ایک نئی بحث شروع جب سے ہادی چارلسٹن گیا تھا ،زبیدہ بیگم ہادی کے ساتھ ساتھ صالح سے بھی روٹھی ہوئی تھی چارلسٹن صالح کے لیے بھی فاک ثابت ہوا تھا ۔
” میں نے کیا کیا ہے؟ صالح نے حیرانی سے پوچھا اور سارے چھلے ہوۓ دانے نمل کے باؤل میں ڈال دیے ۔
” کیا کیا ہے ؟ یہ بھی میں بتاؤں “؟ اماں کا لہجہ اور تیز ہو گیا ۔ “ہادی کیوں گیاہے چارلسٹن؟ ایک دم سے کون سا امیر ہونے کا بھوت سوار ہے اس کے سر پر ؟ اور اب چار دن سے میسج کیا ہوا ہے نخرے دکھا رہا ہے۔“ زبیدہ بیگم کا لہجہ مزید سخت ہو گیا ۔
”بزی ہو گا ۔“ صالح نے اس کی صفائی دینا چاہی ۔مگر الفاظ کہی کھو سے گۓ ۔
’’ ایسا کیا بزی ہے ایک میسج نہیں دیکھا ویسے تو موبائل کے بغیر سانس نہیں آتا اسے “پھر سے مخالفت کی گئی ۔
” اب مجھے کیا پتہ اسے کیسے سانس آرہا ہے امی ۔اور آپ ہر بات کا الزام مجھے کیوں دے رہی ہے ؟ میں نے کوئی اسے بھیجا ہے ؟اور آپ کو نہیں پتہ تو مجھے کیوں بتاۓ گا ؟ “ صالح کا صبر جواب دینے لگا اس کو پتہ بھی نا چلا اس کا لہجہ تیز ہو گیا ہے ۔
” بس صالح امی ہیں وہ۔ “دعا نے غصے سے کہا ۔”اور ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہیں “ اس نے زبیدہ کی طرف داری کی ۔
”نہیں نہیں یہ اس کی سائیڈ کیوں نا لےماں تو وہ ہے اس کی ۔۔ چار جماعتیں پڑھ کر ماؤں کے گلے پڑتے ہیں “ زبیدا بیگم روہانسی ہو گئی ۔کیا کارڈ کھیلتے ہے والدین غلط بات کہہ کر ایموشنل ڈائیلوگ بول دیتے ہے۔
” امی میں یہ نہیں کہہ رہا بس نہیں پتہ مجھے کیوں گیا ہے ہادی وہاں “ صالح نے جان چھڑوانی چاہی ۔
” تبھی روز رات کو تیری اور اس کی گھنٹوں کی کال ملی ہوتی ہے ،ہمیں تو میسج کرنے کی فرصت نہیں ہے اور تجھ سے گھنٹوں کی کال کر سکتا ہے۔“ زبیدہ بیگم کاایک اور کاری وار ۔دسمبر کی سردی ،حبس میں بدلنے لگی ۔صالح نے ماتھے پر آتا پسیہ صاف کیا ۔وہ یہ بھول گیا تھا اگر یہ ینگ جنریشن ہے تو سامنے انھی کے ماں باپ ہے ۔
”یوں ہی صرف حفظ کر کے عالم بن کر ،جنت نہیں مل جاتی ماں کا دل دکھا کر نہیں ملتی “ ایک اور وار ۔صالح کو اپنا آپ چھوٹا لگنے لگا چہرہ تاریک پڑ گیا ۔آنکھوں میں آنسو آگۓ ۔
” میں آپ کو اب اور صفائیاں نہیں دے سکتا،سمجھے جو سمجھنا ہے ۔“ وہ کہہ کر کمرے سے باہر چلا گیا ۔راز پتہ ہونا بھی کتنی بڑی اذیت ہے صالح کو آج پتہ چلا تھا ۔دعا نے اپنا سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھا یا ، اس کے آبرو اوپر کی طرف اٹھ گۓ ۔
”کیا ہوا “ سجل اس سب میں پہلی بار بولی ۔نمل اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی ،آج کل اس کا صلح کے ساتھ بڑا جوڑ تھا۔
” ہادی نے میسج کیا ہے وائس ڈاونلوڈ نہیں ہو رہے “ دعا نے میسج پڑھ کر سنایا ۔
” چار دن بعد اس کو یاد آیا ہے کے میسج ڈاونلوڈ نہیں ہو رہا “اماں نے سر جھٹکا ۔” کہہ دے ٹھیک ہے ۔۔کرے جو دل میں آۓ وہ کرے “ اماں غصے سے بولی ۔دعا نے میسج بھیجا تو فوراً بلو ٹک ہوگیا ۔میسج کی بپ بجی ۔
” مجھے بات کرنی ہے “ ہادی کی طرف سے میسج آیا ، دعا نے پھر سے اعلان کیا ۔
”کہہ دے میں سو رہی ہو “زبیدہ بیگم کے الفاظ ابھی مکمل نہیں ہوۓ تھے کے کال آنے لگی ۔اس نے فوراًکال پیک کی ۔
” ہاں کیا ہوا ہے؟ “ دعا نے کال چھوٹتے ہی بولا ۔زبیدہ بیگم منہ موڑے اب باسل کو گود میں لے چکی تھی ۔
” مجھے ممی سے بات کرنی ہے “ سپیکر سے آواز گونجی ۔زبیدہ بیگم نے ہاتھ جھلا دیا گویا وہ بات نہیں کرنا چاہتی ۔
”امی سو گئی ہیں ۔مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے ۔؟دعا نے کور کرنا چاہا ۔
”جھوٹییییی ابھی تو رات کا کھانا بھی نہیں کھایاہو گا تم لوگوں نے ۔۔کہا ں ہےیں بات کرواؤ۔“ ہادی نے پھر سے ضد کی ۔
”وہ تم سے بات نہیں کرنا چاہتی “ دعا نے بلآخر سچ بول ہی دیا ۔زبیدہ بیگم نے اپنا ماتھا پیٹ لیا ۔ کس نکمی کو فون دے دیا تھا انھوں نے بھی ۔سجل ہنس دی ۔مگر ایک زبردست گھوری سے چپ لگ گئی اسے ۔
” کیا مطلب ؟ ایسا کیا ہو گیا ؟ کال اس دن بھی میں نے کی تھی مگر باری بھائی کی وجہ سے نہیں اٹھائی ، اور اب خود ناراٖض ہو گئی ہے ،وللہ کمال “ ہادی تپ کر بولا ۔” نہیں کرنی بات نہ کریں بٹ ان کو بتا دینا کہ میں ۔شادی ۔کرنے ۔لگا ۔ہوں۔“ اس نے آخری جملہ ٹہر ٹہر کر بولا ایک ایک لفظ جدا کر کے ۔گویا صور پھونک رہا ہو ،پھر کال کاٹ دی ۔دعا کا منہ کھل گیا ،زبیدہ بیگم حق دق رہ گئی ۔
”بس اسی وجہ سے گیا تھا ،یہ کسی لڑکی کے چکر میں گیا تھا ،وہ صالح بڑا مولوی بنتا ہے اور اس کے کالے کرتوتوں میں اس کا ساتھ دیتا ہے ۔۔ہاۓ میری بھانجی اس کا کیا ہو گا ،مجھے سمجھ کیوں نہیں آئی کے لڑکی کا چکر ہے ۔میری تو ناک کٹ جاۓ گی ۔مر جاۓ اللہ کرے یہ عبدالہادی مر جائے وہیں مر جاۓ “ ۔زبیدہ بیگم رونے لگی ،چھاتی پیٹنے لگی ۔۔”مر جاۓ ،مر جاۓ “ وہ بار بار یہی کہہ رہی تھی ۔
”بس امی کیا ہو گیا ؟ “ سجل کے دل پر گویا کسی نے پیر رکھ دیا ہو وہ نہیں جانتی تھی ہادی یہ سب کیوں کر رہا ہےمگر جو کر رہا ہے بلکل ٹھیک کر رہا ہے ۔دعا نے فوراً اٹھ کر زبیدہ کو پانی دیا ۔
”سجل ایک تو ،صالح اور ہادی تم تینوں نافرمان ہو۔ صرف دعا اور باری ہی مجھے سمجھتے ہیں “ وہ پانی کا گلاس لیتے ہوۓ بولی ۔
” صالح کی کیا غلطی ہے ، چلیں مجھ سے تو طلاق کی وجہ سے ناراض ہیں ۔۔اس کے گلے میں آنسوں کاحلقہ پھنس گیا ۔
”دفع ہو جا یہاں سے اسی زبان کی وجہ سے طلاق ہوئی ہے تجھے “ وہ پھر سے چیخ کر بولی ۔سجل جہاں تھی وہہی تھم گئی ااسےاندازہ رکھنا چاہیے تھا کے طلاق کے بعد طعنے دور تک پیچھا کرتے ہیں۔آج پھر کھانا سب کے کمروں میں جاناتھا ۔ہادی کے جانے کے بعد شازوناذر ہی ان نے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا ہوگا ۔کیا ساری غلطیاں ہادی کی ہی تھی ؟ کیا باقی سب فرشتے تھے جو غلطی ہی نہیں کرتے تھی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل کیتھ کی چارلسٹن کی فلائیٹ تھی ،تو آج وہ سارا دن رابرٹ کےساتھ گزارنے کے لیےالسٹر کمپنی آن پہنچی تھی ۔اس کا ناشتہ تو آٹھ ہی بجے ہوجاتا تھا مگر دن 12 سے پہلے شروع نہیں ہوتا تھا ۔ٹیکساز کی مصروف سڑک پر السٹر پیلس کی نیلی شیشوں والی بلڈنگ کھڑی تھی ، وائن کلر کی ٹاپ کے ساتھ اس نے کریم کلر کا کھلے پائنچوں والی ٹراؤزر پہن رکھی تھی ،کندھے پر چاکلیٹ براؤن کلر کا بیگ لٹکاۓ ،پیر سفید جاگرز میں مقید وہ بلڈمیں داخل ہوئی تو بہت سی ستائیشی نگاہوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا ،ہر کوئی رک رک کر اس سے علیک سلیک ضرور کرتا ،باقی ایلیٹ کلاس کی لڑکیوں سے ذرا ہٹ کر اس میں یہ خوبی تھی کہ ہر ایک کو اچھے سے ملتی تھی ،نہیں تو سر خم لازمی کرتی تھی،مگر رک کر غیر ضروری گفتگو کسی سے نہیں کرتی تھی آہ کیتھ اور اس کی عادتیں ۔۔۔
وہ ٹاپ فلور پر پہنچی تو وہاں الگ ہی ہلچل تھی سب لوگ پریزینٹیشن روم کی طرف جا رہے تھے ورکرز کی تعداد کم ہوگئی ،جو تھے وہ اپنے کیبنز میں بزی تھے یا پھر پریزینٹیشن روم میں جا رہے تھے جو رابرٹ کی مصروفیت کا ثبوت دے رہی تھی ،کیتھ رابرٹ کےآفس کے جانب بڑھی تو جیمز اس کے سامنے کھڑا تھا اور اس کا سر تا پیر جائزہ لے رہا تھا ۔اس کو یکدم یاد آیا کے جب وہ آئی تھی تو وہ گراونڈ فلور پر تھا ،”جی “؟ کیتھ نے سخت لہجے میں کہا ۔
”وہ ولیم سر بزی ہیں۔ “ اس نے مسکرا کر کہا ۔وہ خوش شکل تھا مگر کیتھ کو زہر لگا کرتا تھا ۔
”تم سے مطلب؟َوہ غصے میں کہتی دوسری جانب کو سرکی ۔جیمز تیزی سے حرکت میں آیا اور دوبارہ اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔
” میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ بزی ہیں آپ میرے آفس میں آجائیں “ اس نے خباثت سے مسکراتے ہوۓ اپنے آفس کی طرف اشارہ کیا ۔
” منہ سلامت چاہیے تو راستے سے ہٹو اور دفع ہو یہاں سے “ وہ غصے میں بولی تو گال سرخ ہوگۓ ۔
”ارے ارے نہیں تو آپ اپنے بابا کو شکایت لگا ئیں گی ،یاد کریں میڈم جی میرے بابا کااس کمپنی میں تیس فیصد شئیرز ہے “ اس کی آنکھوں کے نیلے رنگ سے کیتھ کو گہن آنے لگی ۔
”کمپنی میں ہے ، مجھ میں نہیں ۔اور تم جیسے ذلیل لوگوں کے لیے مجھے بابا کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر اپنی شان میں اور کچھ نہیں سننا تو پرے مرو ۔“وہ چبا چبا کر بولی ۔
” اور نہ ہٹو تو ۔کیسے ڈیل کرو گی تم مجھے ،تھپڑ مارو گی ؟دیکھو ۔“ اس نے اشارہ کیا ۔
”یہاں کوئی بھی نہیں ہے ۔چھوٹی سی تو ہو”وہ قدم بڑھاتا آگے آیا تو کیتھ نے پیچھے ہونے کے بجاۓ اپنا پرس اس کے منہ پے دےمارا ۔اس نے کراہ کر منہ پر ہاتھ رکھا تو کیتھ نے اسے سمبھلنے کا موقع دیے بغیر ڈسپنسر سے گلاس اٹھا کر اس کے سر پر دے ماراکانچ کے ٹکڑے اس کے سر میں پیوست ہو گۓ وہ لڑکھڑا گیا اس نے بےساختہ سر پر ہاتھ رکھا سرخ سیال تیزی سے اس کے چہرے سے ٹپکنے لگا کانچ کے ٹکڑے زمین پر بکھر گۓ ۔ ۔
” اگرتم نے پریکٹیل دیکھ لیا ہے تو میں جا رہی ہوں “ یہ کہہ کر وہ آفس کی جانب بڑھی ۔” ویسے بابا کو شکایت تو اب تم لگاؤ گے “ اور پلٹ کر معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائی ۔
” میں تمھیں چھوڑو ں گا نہیں “جیمز حلق کے بل چلایا ۔درد کی شدید ٹیسے اٹھنے لگی ۔
”آہستہ بولو جیمز یہ آفس تمھارے باپ کی میراث نہیں ہے اور نہ ہی میں تمھاری زر خرید غلام ہوں “ وہ مستحکم آواز میں ،رعب دار انداز میں غرائی ۔
” ڈیانا کو کہو مرہم پٹی کر دے گی “ کیتھ نے ااس کی ایکس کا نام لیا اور رابرٹ کے آفس کی جانب بڑھ گئی دروازہ ہلکے سے کھول کر ناک کیا ۔
” یس کم ان “ کیتھ آفس میں داخل ہوئی تو رابرٹ لیپ ٹاپ پر بزی تھا ،ہیڈ چئیر کی پچھلی دیوار پر بلیک پینٹ تھا جس پر پیٹننگ آویزہ تھی جبکے باقی سب پر براؤن پینٹ تھا ۔
”اوہ خدایا آپ بزی ہیں ؟ “ کیتھ نے اکتاکر کہا ۔اس کو مصروف رابرٹ بہت برا لگتا تھا۔
”نہیں تو کس نے کہا رابرٹ بزی ہے ۔؟اس نے لیپ ٹاپ کی سکرین بند کر دی اور فرصت سے پیچھے ہوکر بیٹھ گیا ۔”اور تم نے جیمز کا سر کیوں پھاڑا “؟ اس کی سرمئی آنکھوں میں شرارت ابھری ۔
”تو کیا کرتی ؟ آپ سب کچھ دیکھتے ہوۓبھی آفس میں بیٹھے رہے تو میں نے خود ہی کچھ کرنا تھا نا “ کیتھ آگے آکرچئیر پر بیٹھی ۔اور اپنا بیگ سامنے ٹیبل پر رکھ کر بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کیا ۔
”پکا کام کرتی نا ۔۔اور میں اس لیے نہیں آیا کیونکہ مجھے تمھاری قابلیت پر پورا بھروسہ ہے “ وہ تھوڑی تلے ہاتھ رکھ کر آگے کو ہوۓ ۔وہ رازدرانہ طور پر آگے کو ہو بیٹھی
” یار میرے پاس نہ چھری تھی ،نا پستول “اور پپیچھے ہو کر بیٹھ گئی ۔”نہیں تو پکا کام کرتی “۔اس نے دونوں ہاتھوں کو جھاڑا ۔ رابرٹ کھل کر مسکرا دیا ۔
”ڈان صاحبہ کافی منگواؤں ؟۔اور انٹر کام کا ریسور اٹھا لیا ۔
”میں تو پورا دن آپ کے ساتھ رہنے آئی ہوں ، آپ کافی پر ٹراخا رہے ہے “؟ اس نے مصنوعی ناراضگی سے کہا ۔
”ایسی بات تو نہیں ہے آج کا پورا دن تو میں تمھارے ساتھ ہی ہوں “رابرٹ نے انٹرکام رکھ دیا اور اپنی صفائی پیش کی ۔
”لگ تو نہیں رہاایک کافی تک تو پلائی نہیں “ رابرٹ نے اپنا سر پکڑ لیا ۔
”میم کیتھرین السٹر آپ کے لیے کیپاچینو آرڈر کر دی ہے آپ کس ہوٹل میں کھانا کھانا پسند کریں گی ۔”اس نے بیرے کی طرح کہاکیتھ کھلکھلا کر ہنس دی۔
”اوکے اوکے بابا “ رابرٹ نے ہنستے ہوۓ انٹر کام کا ریسور اٹھا کر کافی آرڈر کی ۔
”ویسے تمھیں اتنی چلاکیاں سکھاتا کون ہے “؟ رابرٹ نے بھنویں سکیڑ کر اسے پھر سے چھیڑ دیا ۔
” میرے ایک خطرناک قسم کے ماموں ہیں وہ سکھاتے ہیں “کیتھ نےبھی شانِ بے نیازی سے اسی کا نام دے دیا ۔
”اوہ خداوند !کیسی لڑکی ہے معصوم آدمی پر الزام لگا رہی ہے “۔ اس نے باقاعدہ اپنے دونوں کانوں کو چھو کر ہاتھ جوڑے ۔
”معصوم آدمی ! نظر نہیں آرہا ؟ ۔دیکھائیں نا کافی عرصہ ہو گیا ہے کوئی معصوم نہیں دیکھا “ ۔کیتھ نے آنکھیں گھماتے ہوۓ کہا ۔
” اب تمھاری نظر کمزور ہے اس میں میرا کیا قصور ہے ،میں تو ہر وقت تمھارے سامنے ہی ہوتا ہوں “۔رابرٹ بھی اسے چڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا تھا ۔
”اوہ پلیز !“ کیتھ اب کی بار واقعی تپ گئی تھی ،اس کو غصہ بہت جلدی آجاتا تھا ۔
”یار تم تو غصہ کر رہی ہو،اچھا چلوچھوڑو اسے ۔چارلسٹن جانے کی تیاری کر لی؟ “ رابرٹ نے بات گھما دی اس سے پہلے کے کیتھ اس کا بھی سر پھاڑ دیتی ۔
”کیا تیاری کر لی ،میں تو یہاں سے کچھ نہیں لے کر جارہی ،سب کچھ نیا لوں گی ۔مسٹر ولیم کو بھی آۓ روز نئے شوق چڑھ آتے ہے “کیتھ کا موڈ سخت خراب ہوگیا ۔
” کم آان کیتھ ! ڈیڈ ہیں وہ تمھارے کیسے ان کا نام لیتی ہو۔۔۔“
”زبان سے “وہ جلے کٹے انداز میں بات کاٹتے ہوۓ بولی ۔
”کیتھھھھ۔۔“رابرٹ نے اس کانام کھینچ کر تنبیہ کی ۔
”اچھاااا تقریر پوری کریں “کیتھ نے بھی اسی انداز میں کہا ۔
”چارلسٹن جانے میں کوئی مسئلہ ہے ؟ “ رابرٹ کو یکدم ولیم کے ساتھ ہوئی بین کے متعلق گفتگو یاد آگئی ۔
”جی ہاں ! وہاں پر آپ کی بہن مارتھا کین اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہتی ہے اور ولیم نے مجھے کہا تم نے ان کے ساتھ جا کے رہنا ہے “ آخر میں اس نے ولیم کی نقل اتاری “ رابرٹ جھینپ کر ہنس دیا ۔
” میری بہن تمھاری ماں ؟ہیں نا ؟ “ رابرٹ نے اسے باور کروانا چاہا ۔
”کم آن ایسی ماں سے بہتر ہے میں کسی انات حاشرم میں پیدا ہوتی “اس نے منہ بسورا ۔
”کیا مسئلہ ہے مارتھا کے پاس کیوں نہیں جانا جب ولیم کو بھی اعتراض نہیں ہے ؟ اور نہ تمھیں ولیم سے اتنی محبت ہے کہ اس کے بغیررہ سکو،یا ا سکی وجہ سے مارتھا سے ناراض ہو؟“۔رابرٹ نے ایک سانس میں اس کے بارے میں سب بتا دیا ۔
”بابا کیا ہوگیا آپ کو ؟ میں جا کر مارتھا اور اس کےبچوں کے ساتھ اب ایڈجسٹ کروں ؟سیریسلی ۔ڈیڑھ سال کی تھی جب مسز مارتھا مجھے چھوڑ کر گئی تھی اور آج ایک دم ان دونوں عظیم شخصیات نے فیصلہ کیا ہے کہ میں مارتھا کے پاس جاؤں جس سے میں نے کبھی آدھے گھنٹے سے زیادہ بات نہیں کی ۔“اس نے ہاتھ جھلا جھلا کر سوال پر سوال دے مارا ۔ان کی نوک جھوک اب سیریس ایشو میں بدل گئی ۔رابرٹ نے ٹائی کی ناپ کھینچ کے ڈھیلی کی کہہ تو کیتھ بھی سہی رہی ہے ۔
”اب۔۔؟رابرٹ نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ اس کی راۓ جاننا چاہی ۔
”میں چارلسٹن جاؤں گی لیکن مارتھا کے ساتھ نہیں رہوں گی “ بلآخر ملکہ نے فیصلہ سنایا ۔
” تو ؟ولیم کبھی نہیں مانے گا ،وہ جتنا مرضی امیر آدمی ہومگر اس کے خیالات ابھی بھی مشرقی مردوں والے ہے ۔“ رابرٹ نے اس بات کی تردید کی ۔
”آپ بتائیں گے ولیم کو ؟ میں بتاؤں گی ؟ ،۔۔اہمم نہیں “ اس نے چئیر پر پیچھے ہوتے ہوۓ ٹانگ پر ٹانگ رکھی ۔”تو کون بتاۓ گا “ ؟ابرو اٹھا کر سوال کیا تو رابرٹ نے شاکی نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
” تو کیا چارلسٹن میں اور کسی کے پاس زبان نہیں ہے ؟ اس کا اشارہ مارتھا کی طرف تھا ۔
”بابا ۔۔۔یہ آپ بھی جانتے ہے اور میں بھی جن کے پاس آنکھیں ہے ان کے پاس دماغ نہیں ہے “ وہ پرسکون لہجے میں ہر بات کا جواب دیتی جارہی تھی ۔
” اچھا ٹھیک ہے پھر تم کہاں رہو گی ؟ کوئی جگہ ہے “؟ رابرٹ کو پھر سے شک ہوا کہ شاید بین اس کے ساتھ نا جاۓ ۔
”ہاسٹل کس لیے ہوتے ہیں ؟“کیتھ مسئلے کا حل پیش کیا تو رابرٹ کا سر چکرا گیا ۔
” اوککےٹھیک ہے “ وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی مان گیا کم ازکم وہ کیتھ کی ناراضگی مول نہیں لے سکتا تھا ۔”ملکہ کا حکم سر آنکھوں پر “۔ رابرٹ نے مسکرا کر اسے یقین دلایا ۔کیتھ کے اندر تک شانتی اتر گئی ۔یہی تو وہ چاہتی تھی ،کہ ولیم کو پتہ چلے بغیر اس کا کام ہوجاۓ ۔ولیم کی عزت کرتی ہو یا نہ لیکن اس سےپھر بھی ڈرتی تھی کیونکہ وہ unexpected تھا ۔
”اور تو کوئی مسئلہ نہیں ہے نا “؟اس کا دیہا ن پھر سے بین کی جانب گیا ۔
”اور کوئی مسئلہ نہیں ہے ،میں تو شکر کروں گی اس ایما سے جان چھوٹے گی “ اس نے شکر کا کلمہ پڑھا تو رابرٹ ہنس دیا ۔یکدم دروازے پر دستک ہوئی ۔
”یس کم ان ۔“ رابرٹ نے کہا ۔ ایک لڑکی کافی لے کر اندر آئی ۔”اتنی لیٹ لیانا !۔“ رابرٹ نے مصنوعی خفگی سے کہا ۔
”سر میٹنگ کی تیاریاں ہو رہی ہیں اس لیے ۔۔سو سوری “ لیانا نے مسکرا کر معزرت کی ۔
”آپ میٹنگ میں نہیں آئیں گے ؟“ اس نے کیتھ کی پشت پر نگاہ ڈالی ۔
”نہیں ! “ رابرٹ نے کافی کا مگ اٹھاتے یک لفظی جواب دیا ۔حیران کن بات یہ تھی کے کیتھ پورا وقت خاموش رہی ۔لیانا چپ چاپ باہر چلی گئی ۔
”آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے “؟کیتھ کے ذہن میں لیانا کو دیکھ کر فوراً خیال آیا کس کو نہیں معلوم تھا کہ لیانا روز اتنا تیار ہو کر کیوں آتی ہے ۔
”ابھی کوئی ملی ہی نہیں ہے ۔“ رابرٹ نے بات کو ختم کرنا چاہا ۔
”لیانا ہے نا “۔کیتھ نے پیشکش کی ۔
”کم آن کیتھ ! اس کی لیپسٹک کے شیڈ مجھے بلکل نہیں پسند “رابرٹ کا اشارہ اس کی آ ج کی گہری جا منی لپسٹک کی طرف تھا اس نے آنکھیں گھما کر بولا ۔
”تو کیسی لڑکی چاہیں آپ کو ؟کیتھ نے تجسس میں سوال پوچھا ۔
”تمھارا باپ مجھے کام کے علاوہ کچھ سوچنے دیتاہے جو میں لڑکیوں کے خا کیں بناتا گھوموں “وہ جل کر بولا اس کا فون بجنے لگا ،اس نے سکرین دیکھی تو وہاں.” Egyptian mummy “.لکھا تھا یقیناًوہ ولیم کا نمبر تھا ۔اس نے کال کاٹ کر میسج ٹئپ کیا ۔
”بیسٹ آف لک میں بزی ہوں “اور فون کو آف کر دیا ۔”بھٹکتی رہے اب مصر کی ممی “رابرٹ ہنس کر بولا تو کیتھ بھی ہنس دی ۔وہ ہر بار ایسے ہی کرتا تھا کیتھ کی موجودگی میں وہ کوئی کال کوئی میٹنگ اٹینڈ نہیں کرتا تھا ،یہی تو چاہتے ہے بچے کے ان کے گارڈین ،پیرینٹس ان کے لیے ہر وقت موجود رہیں ، ان کی باتوں پر منہ نا بنائیں انھیں ،جج کیے بغیر سنیں،کیا زیادہ مانگتے ہیں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہزیب ہاؤس کے لاونچ روم میں آؤ تو وہاں گھر کے افراد کے علاوہ کچھ اضافی لوگ بھی تھے ۔آج دعا کے سسرال والے اس کی شادی کی تاریخ طے کرنے آۓ تھے مگر دعا منظر سے غائب تھی کیونکہ وہ میڈز ٹرم ایکزام کی تیاری کے لیے اپنی بیسٹ فرینڈ فاریہ کے گھر گئی ہوئی تھی اور سجل کی زبیدہ بیگم سے چلتی ناراضگی کے سبب وہ بھی اپنے کمرے میں ہی تھی ۔سنگل صوفوں پر آمنے سا منے دعا کا منگیتر فرحان اور اس کا باپ بیٹھے تھے،اس کی بہن روبینہ اور ماں صفیہ ایک ہی صوفے پر براجمان تھی زبیدہ بیگم ان کے ساتھ کرسی پر اور صالح ان کے پیچھے دیوار سے ٹیک لگاۓ بے زار کھڑا تھا ۔
”اٹھارہ جنوری کو مہندی ہوگی پھر انشااللہ ،انیس کو نکاح اور بارات ،بیس کو ولیمہ ہو گیا ،زبیدہ بہن کارڈ چھپوا لیں آج دسمبر کی بیس ہو گئی ہے “ صفیہ نے ہنستے ہوۓ چاۓ کا کپ اٹھایا ۔
”آپ لوگوں نے بنوا لیے ہیں “ یہ ہمارا پیارا صالح تھا جس کی زبان کو روکنامشکل نہیں نا ممکن ہے ۔
”اےہاۓ ابھی تو تاریخ رکھی ہے “ روبینہ نے ناپسندیدہ نگاہ اس پے ڈالی ۔”جہیز کی تیاری تو آپ نے کر لی ہوگی نا “؟روبینہ ڈھٹائی سے پوچھا تو صالح نے اپنی سنہری آنکھیں سکیڑ لی ۔
”جی ،بس چھوٹی موٹی چیزیں رہ گئی ہیں “ زبیدہ بیگم نے الزوامات کی ٹرے فرحان کے آگے کی ،صالح نے آنکھیں گھمائی ۔”ہم اب تو آپ کا بیٹا امریکہ چلا گیا ہے ،شادی تو بہت شاندار ہوگی نا “ روبینہ نے پھر سے کہا ۔
”امریکہ گیا ہے قارون کا خزانہ نہیں ملا خان کو “ صالح اس کو لوگوں کے سامنے خان ہی کہتا تھا ۔
” کتنی زبان چلتی ہے اس کی “ روبینہ جل کر بولی ۔زبیدہ بیگم تو اسے مخاطب ہی نہیں کر رہی تھی ۔
”بہن دیکھیں جہیز تو آپ اپنی بیٹی کو مرضی سے دے رہی ہیں ،ہم چاہتے ہے آپ دعا کو ایک گاڑی لے دیں ،بچوں کی چیز بن جاۓ گی ۔دعا کی بھی ضرورت ہوگی “۔ صفیہ نے بےشرمی سے اپنی ڈیمانڈ انکےآگے رکھ دی ،فرحان اور اس کے والد خاموش رہے ۔
”دعا کو گاڑی نہیں چاہیے وہ ڈرائیونگ نہیں جانتی ،آپ کا بیٹاخود لے لے اگر اتنی ہی ضرورت ہے تو “ صالح کو ڈیمانڈ سے زیادہ مردوں کی ہٹدھرمی پر غصہ آیا تھا ۔
”دیکھو بچے ،تم چھوٹے ہو چپ رہو ،میری بہنوں کی شادی ہوئی تھی تو ہم نے کیا کچھ نہیں دیا تھا “فرحان کی بے حسی پر صالح ہنسا ۔
”واو ،تو آپ بدلہ ہم سے لیں گے ،ہم گاڑی افورڈ نہیں کر سکتے نہیں تو خود نا رکھ لیتے “ صالح نے انھیں سمجھانا چاہا ۔
”آپ لوگ اسے چھوڑیں ،گاڑی کا بندوبست میں کر لوں گی “۔زبیدہ بیگم نے حامی بھری تو وہ مزید چوڑے ہو گۓ صالح تذباب کاشکار ہوگیا ۔
”پر امی ابھی شادی کی تیاریاں کرنی ہے اتنے پیسے کہاں سے لائیں گے “؟صالح نے شکوہ کیا ۔
”تیرے حصے کی زمین کس دن کام آۓ گی “؟ زبیدہ بیگم کی بات پر صالح چپ ہو گیا اور وہ سب بے شرمی سے چاۓ پیتے رہے کچھ دیر تک وہ یونہی ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہیں کچھ دیر بعد صالح کے ذہن میں جھماکا ہوا ۔
”شرعی لعنت جہیز طے ہو گیا ،تو اب شرعی بات حق مہر کی طرف آتے ہیں ،دس ہزار ماہوار ،پانچ تولہ سونا اور ناچاکی کی صورت میں دس لاکھ “صالح کی بات پر روبینہ کے نکلتے دانت اندر چلے گۓ ، نواز کی انکھوں میں خون اتر آیا، فرحان کا منہ کھل گیا ، صفیہ نے زبیدہ بیگم کی طرف دیکھا جو صالح کوگھور رہی تھی،مگر صالح اپنےبالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ خلا میں دیکھ رہا تھا
”مگر دس لاکھ ؟ اور پانچ تولے سونا زیادہ ہے ۔“نواز اس سب میں پہلی بار بولا ۔
” ہم بھی تو جہیز اور گاڑی دے گے نا ۔اگر دس لاکھ نہیں تو ایک گھر دعا کے نام ڈالیں ۔کیا بھروسہ کل کو گاڑی اور جہیز لے کر آپ لوگ کیا کریں ؟“صالح نے مدعہ اٹھایا ۔
”دیکھو بچے گھر چیزو ں سے نہیں بستے ۔“صفیہ بیگم نے اسے سمجھانا چاہا ۔
”پھر ٹھیک ہے نا حق مہر نا جہیز “ صالح کی پیشکش پر روبینہ کو غصہ آگیا ۔
”لگتا ہے کہ تم اتنا حق مہر لکھوا کر بہن کو طلاق دلواو گے پھر اس کی کمائی کھاؤگے ،جیسے سجل کے ساتھ کیا تمھارے اس ہادی بھائی نے “زبیدہ بیگم کا منہ کھل گیا ۔
”خان نے پھوٹی کوڑی بھی نہیں لی تھی اس گھٹیا آدمی سے ،تم جیسا ہی گھٹیا تھا وہ ،دوبارہ آپی اور خان کانام مت لینا ۔۔اور چاۓ پی کر رخصت ہو جائیں ،ہمیں یہ رشتہ منظور نہیں ہے “ صالح کے اعلان پر وہ سب حق دق رہ گۓ ۔زبیدہ بیگم خود بھی یہی کرنا چاہتی تھی مگر صالح کی وجہ سے چپ ہوگئی وہ اتنا کچھ بول جو رہا تھا ۔
”کیسے نخرے دیکھا رہا ہے یہ چھوٹا سا ہم بھی نہیں کرتے یہاں سے رشتہ “نواز بلآخر پھٹ پڑا،اور اٹھ کھڑا ہوا ،فرحان بھی باپ کی دیکھا دیکھی اٹھ کھڑا ہوا ۔
”زبیدہ بہن تم تو اس کوذرا باز نہیں کرا رہی ۔۔کیا کچھ کہہ رہا ہے “ صفیہ نے سخت تاثرات لیے کہا ۔
”لڑکی کا ولی میں ہوں آپ کی زبیدہ بہن نہیں ہیں ، جاسکتے ہیں آپ “صالح نے رعب دار انداز میں کہا تو نواز سلگ اٹھا ۔
”چلو صفیہ اب اس کی اور باتیں سننی ہےکیا ؟ “ وہ پھر سے چیخ کر بولا اور کمرے سے باہر چلاگیا ۔
”صالح تم سے یہ امید نہیں تھی “فرحان نے شکوہ کیا ۔
”اور مجھے بھی نہیں تھی کے تم ایسے لالچی نکلو گے “۔صالح نے چبا چبا کر بولا ۔
”فرحان بیٹا چلو “صفیہ نے آگے بڑھ کر اس کا بازو تھاما اور باہر کو ہو دیے ۔زبیدہ بیگم وہی گم صم بیٹھی رہی ،صحن سے وہ لوگ کچھ بولتے ہوۓ جا رہے تھے اور صالح بھی ان کو ایک ایک بات کا جواب دے رہا تھا پر وہ کہی اور ہی کھو گئی تھی چند ثانیے بعد بلکل خاموشی چھا گئی تو انھوں نے صالح کو اپنے سامنے بیٹھا گھٹنوں کے بل بیٹھا پایا ۔صالح نے دعا کا رشتہ توڑوایا ، ہادی کے بارے میں ان سے سب کچھ جانتے ہوۓ چھپایا ۔اس وقت ان کو ہر شے کا ذمےدار وہ لگ رہا تھا ۔یکدم کمرا چٹاخ کی آواز سے گونجا صالح کی سپید رنگت والے گال پر سرخ انگلیوں کے نشان پڑ گئے ۔
”تیری وجہ سے سب ہوا ہے “صالح شاک میں وہی بیٹھا رہ گیا اس سے پہلے زبیدہ اس کو اور مارتی سجل درمیان میں آگئی ۔سجل پر نظر پڑتے ہی وہ بھڑک اٹھی شاید پروفیسر نے سہی کہا تھا کہ انسانی دماغ انا کا مارا ہے انتہا تک دوسروں کو قصور وار سمجھتا ہے ۔”تیری وجہ سے سب ہوا ہے سجل کیا پٹیاں چڑھا کر میرے سر پر سوار کیاتھا تو نے اسے “ وہ سجل سے لڑ رہی تھی صالح چپ چاپ وہا ں سے اٹھ کھڑا ہوا اور جا کر آئینے میں چہرہ دیکھا تو وہاں انگلیاں چھپ چکی تھی باہر سے لڑنے کے بجاۓ بددعاؤں کی آوازیں آرہی تھی،سجل کی ہچکیاں ،زبیدہ کے طعنے ۔۔بدعائیں ۔جن کے حصار میں سب سے زیادہ ہادی تھا ۔صالح نے باتھ روم کی جانب رخ کیا اور شاور کھول دیا ،پانی تڑ تڑ اس کے اوپر پڑنے لگا ،دسمبر ،ٹھنڈا پانی ،صالح کو آج معلوم ہوا تھا حق کے لیے بولنا کیسا عذاب ہے باہر سے آتی ہچکیاں ،طعنیں ،بددعائیں سب گل ہو گۓ صرف پانی کے تڑتڑانے کی آواز اس کے کانوں میں پڑنے لگی جسم مکمل بھیگ چکا تھا ،لب نیلے پڑنے لگے ،کپکپاہٹ طاری ہونے لگی ،اس نے شاور بند کیا باہر سکوت چھا چکا تھا ،اب پھر سے سرد جنگ شروع ہو گئی ۔کیا آسیب چمٹ چکا تھا ان کے خاندان کے ساتھ؟ صالح کا حق کا سفر یہی سے شروع ہوا جاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی کو چارلسٹن آۓ تین ہفتے ہوچکے تھے ،اور گھر سے صرف صالح کی طرف سے سپورٹ تھی سجل زبیدہ کے سامنے توطرفداری کرتی تھی مگر کال یا میسجز پر دونوں لڑ پڑتے تھے ۔گھر میں سب کو یقین آگیا تھا کہ وہ صرف لڑکی کی وجہ سے امریکہ گیا ہے صالح نے ہادی کو یہ بات بتا دی تھی مگر ہادی نے اب ان کو صفائی دینا چھوڑ دی کیونکہ وہ ان کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ یہاں کیوں آیا ہے ،اگر بتا بھی دیتا کو اس کو سیرئیس کون لیتا ؟ ہادی وینڈیو کو چھوڑ ایک گھرمیں کراۓ پر رہائش اختیار کر لی تھی کیونکہ بقول اس کے ہوٹل میں وہ آسانی سے ٹریس ہو جاۓ گا ۔مسٹر سٹیورڈ اس گھر کے مالک مکان تھے ،ان کے بیٹے دوسرے شہروں میں کام کرتے تھے اس لیے وہ اپنے بھتیجے ایون کے ساتھ رہتے تھے ۔ہادی اس وقت اپنے اور ایون کے مشترکہ کمرے میں لائٹ آف کر کے نیم دراز ہوا ہوا تھا ۔اس کے اوپرچھو ٹی سفیدبلی سو رہی تھی ۔وہ پالتو تو سٹیورڈ کی تھی مگر ان سب سے چڑتی تھی صرف ہادی کے ساتھ ہی رہتی تھی کہ دفعتاًاس کا فون بجا ۔وہ کرنٹ کھا کر اٹھ بیٹھا بلی کی نیند کھلنے ہی لگی تھی کہ ہادی نے اس کو پھر سے تھپک دیا ۔فون کی سکرین کو یکھا تو دعا کالنگ لکھا آرہا تھا اس نے کال اٹینڈ کی ۔
”ہیلو “دوسری طرف سے دعا کی آواز آئی ۔
”ہمم کیا ہے ؟ہادی نے لیے دیے انداز میں کہا ۔
”کیا ہوگیا ہے اپنے بھائی کو کال نہیں کر سکتی “دعا نے ایموشنل بیلکمیلنگ شروع کر دی ۔
”سوری یہ باری بھائی کا نمبر نہیں ہے “ہادی نے ٹکا سا جواب دیا ۔
”ہادی کیا ہوگیا ہے؟تم کیوں ایسے کر رہے ہو،فیملی ٹوٹ رہی ہے ہماری ۔میرا رشتہ ٹوٹ گیا ہے امی ،صالح ،آپی ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے ،باری بھائی نے گھر چھوڑ دیا ،ابا ہمیں چھوڑ کر چلے گۓ اور تم ایک لڑکی کے لیے۔۔“ دعا نے ایک سانس میں اتنا کچھ کہہ دیا اس کی آواز میں لرزش آنے لگی ۔”تم واپس آجاؤ سب ٹھیک ہو جاۓ گا پلیز “اس نے آخر میں گویا منت کی ۔دوسری جانب ہادی بیڈ پر بیٹھا لب کاٹنےلگا ۔
”سب کچھ میں کیوں قربان کروں ؟ ہممم کبھی باری کو کال کر کے کہا ہے کہ دو تھپڑ مار کر اس صبا کو گھرواپس لاۓ ؟ میں سب کچھ جھیلو ں؟میں ہمیشہ سب کچھ چھوڑتا رہا اپنا دل مارتا رہا مگر تم سب اتنے نا شکرے ہو ۔۔مجھے ہی جینے نہیں دیتے میراآرٹ مجھ سے دور کیا ،مجھے لوگوں میں ۔محفل میں بیٹھ کر ابو نے ،ممی نے ،بھائی نے ذلیل کیا سب بھول جاؤں ،اور دوبارہ بیوقوفوں کی طرح تم لوگوں کے پاس آجاؤ ں قسمت نے مجھے چانس دیا ہے دعا ! میں نہیں چھوڑوں گا “۔ہادی اس پر برس پڑ ا کتنے عرصے کا غصہ وہ آج نکال رہا تھا ،اس کو احساس ہو گیا تھا جو لوگ ہر وقت ایولبیل رہتے ہے وہ کبھی کسی کی پرائیورٹی نہیں بن سکتے ۔ہمیں اپنے آپ کو خاص رکھنا پرتا ہے ۔
”چانس نہیں لڑکی ہے جسے تم چھوڑنا نہیں چاہتے۔“ دعا چیخ کر بولی ۔وہ بھول گئی تھی کہ وہ اس کا مسیحا ہے ،برے وقتوں کا ساتھی ،اس کا رازدار ،اس کا محافظ ۔۔
”ہاں بلکل کبھی نہیں چھوڑوں گا اسے اور تم لوگوں کے لیے تو کبھی بھی نہیں ۔وہ میری شریک حیات بنے گی ۔میری اور صرف میری ہو گی “ہادی خود بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ باتیں کس کے بارے میں بول رہا ہے بس ایک انا تھی ضد تھی ایک خار جو اس نے باندھ رکھی تھی ۔
”تم ہوہی بے شرم کیسے ایک لڑکی کے ساتھ انوالورہے “ وہ بھول گئی تھی کہ ہادی نے کبھی اس سے اس طرح بات نہیں کی تھی ۔سیچوئیشن تو دونوں کی ایک سی تھی ہادی نے سب سن کر دفنا دیا تھا اور دعا نے اگل دیا تھا ۔ہر کوئی آپ کا بھرم نہیں رکھتا ۔
”ہمم میں بہت بے شرم ہو ں سہی کہا ۔میرے بارے میں اور کچھ بتانا ہے یا میں سو جاؤ اب ؟ہادی کو دور اندر کہی بہت برا لگا مگر وہ کر بھی کیا سکتا تھا ۔
”امی ٹھیک کہتی ہیں تمہیں مر جانا چاہیے “کال کھٹ سے کٹ گئی کیا وہ سب اس کی حق میں بددعائیں کرتے رہتے تھے ؟ ممی بھی؟ اس کی آنکھوں کے کنارے نم ہو گۓ ۔شہر چارلسٹن نے ہادی کولوگوں کے کیا کیا رخ دکھاۓ تھے ۔۔صالح کی وفاداری ،ممی کی بے حسی اور دعا کی احسان فراموشی ۔کیا تھا یہ شہر ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کیتھ کی چارسٹن کی فلائیٹ تھی حسبِ معمول ولیم بزی تھا اور نہیں آیا،جبکہ رابرٹ تمام تر مصروفیات ترک کر کے اس کے ساتھ موجود تھا ۔ائیرپورٹ پر خوب رش تھا ،فلائیٹس کی مسلسل آناؤسمنٹس ہو رہی تھی ۔کیتھ ،جیولی ،بین رابرٹ ویٹنگ ایریا میں بیٹھے تھے ۔
”اب تو ہم دور ہوجاۓ گے گیدرینگز پر ملنے والے ۔۔مہینوں بعد کال کرنے والے ۔میسج پہلے کرنے پر شرمندگی محسوس کرے گے “بین نے جوس پیتے ہوۓ رنجیدگی سے کہا ۔رابرٹ ان کی میلو ڈراما سے بےنیاز موبائل پر مصروف تھا ۔۔نہیں ایسا وہ لگ رہاتھا اصل میں تو اس کے کان ان کی باتوں پر تھے ۔
”جانتے ہو بین ! وہ دوست جو فاصلہ بڑھنےپر رابطہ بھی کم کردیتے ہےوہ کبھی آپ کے دوست نہیں ہوتے ۔وہ وقتی طور پربس آپ کے ساتھ ہوتے ہے پھر وہ سبسٹیٹوٹ ڈھونڈ لیتے ہے ۔دوستی میں کوئی سبسٹیٹیوٹ نہیں ہوتا ہر ایک کی الگ جگہ ہوتی ہے۔پتہ ہے دوستی کیا ہوتی ہے “؟پیچ کلر کی سکرٹ میں ملبوس اس نے وائٹ شرٹ کے اوپر پپیچ رنگ کا منی کوٹ پہن رکھا تھا
”دوست ۔۔دوست وہ ہوتا ہے جو آپ کو کبھی نہ بھولے ،چاہے آپ جتنے مرضی فاصلے پر ہو،وہ پہلے میسج کرنے کو شرمندگی نہ سمجھے ،وہ آپ کی مصروفیات کی قدر کرے اور آپ بھی اسے نخرے نہ دکھائیں اس کا احترام کریں ۔کیونکہ دوستی میں انائیں نہیں ہوتی اور جہاں انائیں ہو وہا ں دوستی نہیں ہوتی “ جیولی آجکل ادب کا پیکر بنی ہوئی تھی بات بات پر گہری باتیں کہتی تھی ۔
”واہ بھائی کون سے ناول کی لائنز ہیں ؟کیتھ نے اسے چڑایا ۔
”میری اپنی ہیں ،پرسنل والی “وہ کندھے سے بال پیچھے جھٹکتے ہوۓ بولی ۔کیتھ کی فلائیٹ کی اناؤسمنٹ ہونے لگی ۔
”چلو کیتھ “رابرٹ نے کھڑے ہو کر آواز لگائی ۔جیولی بیٹھے بیٹھے ہی اس کے گلے لگ گئی ۔”میں تمہیں بہت یاد کروں گی “۔جیولی کی آواز رندھ گئی ۔
”میں بھی “کیتھ نے اس کے بالوں کو سہلایا ۔اور دھیرے سے اس سے دور ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی بین بھی کھڑا ہوا اس نے دھیرے سے اس کے ہاتھ تھام لیے ۔رابرٹ نے آنکھیں نا پسندیدہ انداز میں سکیڑی ۔”مجھ بھول مت جانا “وہ صرف الفاظ نہیں جذبات کہہ رہا تھا ۔کیتھ نے اپنےہاتھ پیچھے کو لیے بین کا چہرہ ویران ہو گیا ،رابرٹ کے اندر تک سکون اتر گیا ۔
”مسخروں کو کون بھولتا ہے ۔؟وہ جبراً مسکرائی ۔بین مسکرا تک نہ سکا ۔
”چلو بچے “ رابرٹ نے کیتھ کو پھر سے کہا ۔
”گڈ باۓ “ اس نے ان دونوںکو الوداع کیا ، وہ اور رابرٹ اب مل رہے تھے لیکن بین کا دل خالی ہوگیا یہ سوچ کر کہ وہ اور دوست بنا لے گی ۔اب کیتھ جہاز کی طرف جا رہی تھی اس نے پیچھے مڑ کر ایک بار دیکھا اور ا ن سب کو ہاتھ ہلایا بین کی آنکھوں میں ڈھیروں آنسو آگئے ۔ان کی کہانی کا کیا ہو گا اب ؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی نے قرات کی کلاسسز بھی شروع کردی تھی صرف ایک گھنٹے کی کلاس ہوتی تھی پھر ہادی دوبارہ اپنے کلرک والی ڈیوٹی پر معمور ہوجاتا ،دو بجے اسے چھٹی ہو جاتی اور وہ پورا شہر گھوم کر یا تو نئے کھانے کھا تا یا پھر گھر جا کر سو جاتا ۔”کھانا اور سونا ،پینٹنگ کے بعد اس کے مرعوب مشغلے تھے “پینٹنگ تو اس نے کچھ وقت سے چھوڑ رکھی تھی ۔مگر کیا تم نے کبھی کوئی آرٹسٹ دیکھا ہے جو اپنا آرٹ بھول جاۓ یا موقع پاتے ہی دوبارہ اس سے منسوب نہ ہو ۔؟قسمت ہادی پر مہربان ہو گئی تھی اسے یہ تب احساس ہوا جب وہ ایون سے ملا ۔
آج بھی ہادی روز کی طرح کیٹی کو گود میں لیے بیٹھے تھا جب ایون کمرے میں داخل ہوا ۔وہ پچیس سالہ نوجوان یونیورسٹی سٹوڈنٹ تھا اور ساتھ ہی پارٹ ٹائم جاب کرتا تھا ۔”تم دو کے بعد فارغ ہوتے ہو ؟ کچھ اور کر لیا کرونا “؟ ہادی اس کی آواز پر فون کی سکرین سے باہر نکلا ۔
”میں تو ٹراۓ کر رہا ہوں لیکن ایک انٹر میڈیٹ پاس کو جاب مشکل سے ہی ملتی ہے “۔اس کی آنکھوں میں بے اختیار چبھن ہوئی اب وہ ایون کو کیا ہی بتا سکتا تھا ۔ایون نے اپنا بیگ ایک سائیڈ پر رکھا اور پر سوچ انداز میں بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولا ۔”تمھارا کوئی ٹیلنٹ نہیں ہے “؟ ۔” ایون اس کے فون میں کافی ساری پینٹینگز دیکھ چکا تھا ۔
“تھا “اس نے آنکھیں موند لی ۔
”کیا مطلب تھا “؟ایون کو تجسس ہوا ۔
”گھر والے کہتے تھے ،تمھاری طرح بے کار ہے “ وہ ہنس کر بولا ۔
”نووے آرٹ بےکار نہیں ہوتا ۔کیا ہے تمھاراآرٹ ۔؟ ایون نے پھر سے پوچھا وہ وہی بات پوچھتا تھا جو پہلے سے اس کے علم ہوتی تھی ” میں پینٹر تھا ۔۔ تمھیں پتہ تو ہے “اس نے پھر تھا لگایا تو ایون کا جی چاہا اسے تھپڑ لگاۓ ۔
”ایک حل ہے میرے پاس ۔۔بوجھو تو “ایون نے آنکھوں میں چمک کیے کہا ۔
”کیا ؟ “ ہادی کو خبطی لگا ۔
”یار میں آرٹ گیلری میں جاب کرتا ہو ں ،وہاں آرٹسٹ لائیو پیٹنگ کرتے ہے اور ہماری کمپنی ان کو پے کرتی ہے ۔تو تم کرو گے ؟؟“ ایون نے اس کے سامنے پیشکش رکھی اور اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر اٹھ کھڑا ہوا ۔
”ہاں کیوں نہیں “ لمحہ ضائع کیے بغیر ہادی نے حامی بھر لی ۔مگر ایک دم سے اس کا چہرہ بجھ گیا ۔
”کیا ہوا ، یہ پھر سے رونی صورت کیوں بنا لی “؟ دروازے کی طرف جاتا ایون رک کر بولا
“میرے پاس تو ڈگڑی ہی نہیں ہے “ہادی نے بجھا بجھا کہا ۔
”آرٹ ڈگری سے نہیں دل سے ہو تا ہے ۔۔کل تیار رہنا “ایون نے اسے مسکرا کر کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔ہادی کا دل ہلکا ہوگیا وہ پھر سے اپنا آرٹ شروع کرے گا ۔وہ بیڈ پر چت لیٹ کر چھت کو دیکھنے لگا ۔اس کے فون کی رنگ بجی تو اس نے فوراًلپک کر کال اٹھائی ۔”ہیلو“ کہہ کر وہ اٹھ بیٹھا ۔
”ہادی سنڈے کوتم آجانا ۔ایک لڑکی راضی ہوگئی ہے “دوسری طرف سے روز کی مصروف آواز آئی ۔
”تو بدلے میں ۔؟ہادی آبرو اچکاتے ہوۓ بولا ۔
”ہاں ہاں ! ہر مہینے تمہیں اسے پے کرنا ہو گا ۔لیکن اس کی ٹینشن نہ لو وہ اطہر سر دیکھ لیں گے “ روز نے اسے تفصیلاً آگاہ کیا ۔
”نہیں میں خود کر لوں گا “۔ہادی نے فورا تردید کردی ۔
”چچا ہیں تمھارے وہ ۔میرے اتنے امیر چاچو ہوتے تو میں جاب بھی نہ کرتی “ اس نے حسرت سے آہ بھری وہ ہادی پر رشک کھاتی تھی ۔
”چچا ہیں باپ نہیں۔“ ہادی نے سیدھا جواب منہ پہ مارا ۔”نہ بننے کی ضرورت ہے ۔کہہ کر اس نے سر جھٹکا ۔
”اوکے کول ڈاؤن “وہ ایک بار پھر غصہ ہوگیا تھا ۔
”چلو ٹھیک ہے پھر سنڈے کو ملیں گے “روز نے الوداعی کلمات کہہ کر کال کاٹ دی ۔
ہادی نے فوراًصالح کو انسٹا پرمیسج کیا ۔”اوۓ کدر ہے ،کنٹریکٹ میرج سنڈے کو ہے “ہادی نے میسج ٹائپ کیا اس سے ہمت کر کے بھی میری نہیں لکھا گیا ۔صالح نے میسج سین کیے اور تین نقطے حرکت کرنے لگے وہ کچھ ٹائپ کر رہا تھا ۔
”کس کی؟میسج شو ہوا ۔ہادی کا دل کیا اس کا سر پھاڑ دے ۔
”تیری ۔۔اس نے پھر سے میسج بھیجا ۔صالح نے ہنسنے کا ری ایکٹ کیا اور پھر لکھنا شروع کیا ۔چند لمحوں بعد میسج دوبارہ آیا ۔
”ابھی میں ذہنی طور پر تیار نہیں ہو ں “ساتھ شرمانے والا ایموجی ۔
ہادی پڑھ کر مسکرایا ۔”مدرسے دفع ہو “ہادی کو یاد آیا کے پاکستان میں صبح کا وقت ہے صالح صبح مدرسے جاتا تھا اور شام کو بی -ایس کیمسٹری کے فورتھ سیمسٹر میں تھا ۔
”شکران لالا۔شرف قبول کیا ۔“ صالح کی جانب سے آخری میسج آیا ہادی نے باقاعدہ لعنت بھیجی ۔اور فون رکھ کر سو گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیتھ اپنی سیٹ ڈھونڈنے کے بعد آرام سے بیٹھ گئی اس نے اپنا فون آن کیا اور سیدھا بک میکر پر چلی گئی ،اس کا ایک اور شوق ااس ایپ پر مختلف لوگوں کی تحریریں اور کتابیں پڑھنا تھا اس نے سیوڈ تحریروں میں جا کر سب سے پہلی تحریر نکالی ۔”خضر “ اس لکھاری کا نام سب سے اوپر چمک رہا تھا ،کیتھ کو وہ تین حرفی لفظ بہت اچھا لگا تھا ،یونیک سا ۔اس نے نام سے نظر ہٹا کر پڑھنا شروع کیا ۔
ہر چیز کو مکمل ہونا ہے، اپنے اصل کی طرف لوٹنا ہے۔خدا نے آدم کو جنت سے نکالا ،وہ جنت جس میں ہر طرح کی آسائشیں تھیں ابن آدم آج بھی وہ آسائشات اور آرام بھلا نہیں سکا ۔ اب بھی وہ دنیا کو جنت بنانے پر تلا ہوا ہے یہ جاننے کے باوجود کہ انسان ایک دن مر جائے گا ، آج جس زمین کے اوپر عمل بنانے کی تگودو میں ہے ، کل اس کے نیچے ہو گا ۔ہم مٹی سے بنے ہیں اورمٹی میں ہی جائیں گے ہر چیز کو مکمل ہونا ہے، اپنے اصل کی طرف لوٹنا ہے ۔ زمین اور مٹی انسانی جسم مٹی سے مکمل ہوتاہے اور یہ ہی ہمارا اصل ہے ، ہماری روح عبادت خدا اور عشق حقیقی سے مکمل ہوتی اور یہ ہماری روح کا اصل ہے ۔اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ انسان مٹی سے کیسے بنا ؟؟ اللہ تعالی نے قرآن کو بڑے ہی خوبصورت انداز میں لکھا ہے,”جس نے جو بھی چیز بنائی نہایت خوب بنائی اور اس نے مٹی سے انسان کی پیدائش کا آغاز فرمایا ۔پھر اس کی نسل بنائی حقیر پانی کے (نطفہ ) کے خلاصہ سے ،پھر اس( کے عضاء )کو درست فرمایا اور اس میں اپنی روح میں سے پھونکا اور تمھیں کان اور آنکھیں اور دل عطا فرماۓ تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔(آیت نمبر 8،9 سورۃ السجدہ )
اگر یہ آیت غور و فکر کر کے پڑھی جاۓ تو ایک قاری کو اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ، اگر وہ غوروفکر اور نذیر کرے تو اللہ نےقرآن میں بار بار فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے،حقیرپانی یعنی نطفہ سے پیدا کیا ۔ اس آیت میں حقیر پانی کا نطفہ سپرم کو کہا گیا ہے جو میل رپروڈکٹو سیل یا خلیاں ہے ،اب اس آیت میں فرمایا گیا ہے حقیر پانی کے خلاصہ سے سارے حقیر پانی سے نہیں سائنس نے اب جا کر یہ معلوم کیا ہے کے جب سپرم فیمل ریپروڈکٹو سیل کے ساتھ جا کر اینٹریکٹ کرتا ہے تو صرف سپرم کا نیوکلیس سیل کی بیرونی دیوار کو پار کر کے داخل ہوتا ہے جس میں ڈی این اے موجود ہوتا ہے جو تمام تر جسمانی عضا کی نشونما اور ان کے کام کرے کی صلاحیتوں کو کنٹرول کرتا ہے سائنسی زبان میں اس عمل کو ”فیرٹیلائزیشن “ کہتے ہے اس کے بعدانسانی عضاء بنتے ہے ۔اس آیت میں سائنس کی بیان کی گئی لمبی چوڑی تحریروں کو کو چند لفطوں میں بیان کیا ہے یہی چیز ظاہر کرتی ہے کہ قرآن کسی انسان کی کتاب نہیں ہو سکتا ،اسے تو اس ذات نے لکھا ہے جو سب کچھ جانتا ہے بھلا جس نے سب بنایا ہو اس سے کچھ راز رہ سکتا ہے ۔تو اب ذرا مٹی کوڈسکس کرتےہیں ۔ مٹی کے پاس بہت سے کمپاؤنڈ ، ایلیمینٹ ہوتے ہیں جہاں تک میری عقل ناقص نے سمجھا ہےاس کے مطابق مٹی میں نائیٹروجن ہوتا ہے جو نائیٹڑیٹ یا نائیٹڑوجن کے طرز میں موجود ہوتا ہے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے ایلیمنٹس ہیں ان سب کو چھوڑ اگرصرف نائیٹروجن کو دیکھا جائےتو ہمارے جسم میں (سیل )خلیوں کے اندرنیوکلیس ہوتا ہے جہاں ڈی این اے DNA موجود ہوتا ہے جس کا بنیادی جزو نائیٹروجن ہوتا ہے اگر یہ ڈی این اے نہ ہو تو انسان کچھ بھی نہیں ہے ڈی این اے کرتا کیا ہے ؟یہ ہماری (heridity information ) وراثتی معلومات ایک نسل سے دوسری نسل کو دیتا ہے ہماری نارمل باڈی فنکشنگ بھی ڈی این اے کی محرونِ منت ہے ۔اب وہ کیسے کام کرتا ہے اسکا بھی اللہ تعالی نے ایک فیکس مکینزم fix machanism) رکھا ہوا ہے ۔ اگر ہم ڈی این اے کو ایک سطر میں بیان کرنا چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کے یہ پروٹین بناتا ہے ،میں نے اس جملے کو ایک قوزے میں بند کیا ہے تفصیل بہت لمبی ہے اب یہ پروٹین بھی amino acid امینو ایسڈ کی بنی ہوتی ہے جن کا بیسک نائیٹروجن ہے یعنی مٹی کا جزو اب جہاں تک میری عقل ناقص نے سمجھا ہے ،اب وللہ عالم جس کے پاس غیب کا علم ہے ۔ جو ہر چیز پر قادر ہے اللہ نے میری عقل ناقص کو جتنا سمجھنے کی بساط دی ہے ۔ اس کے مطابق decomposers کے ذریعے دوبارہ مٹی میں مل جاتے ہیں اور یہ سب نائیٹریٹس دوبارا س دنیا میں آجاتے ہیں اور پودوں اور درختوں کی نشونوما میں مدد کرتے ہیں کتنا پرفیکٹ ہے یہ سب ۔۔۔ اب دیکھیے زرا سوچیں اس کوے کی بابت جس نے قابیل کو بتایا کہ ایسے دفناؤ ،عمل کے ذریعے اس نے بتایا تاکہ زمین کو وہ سب جو اس کا ہے واپس ملے ۔ جو کوئی شخص اپنی زندگی میں جو کچھ زمیں سے لیتا ہے اس کو واپس کرنا بھی پھر فرض بنتا ہے ۔ واپس کیسے ہو گا ۔۔ مر کر ۔۔ ہمیں زمین کا یہ احسان مر کر اتارنا ہے ہمارے جسم کا اصل مٹی اور روح کا اصل علم ارواح یعنی جنت ہے ۔وہ جنت جس کو آج بھی ابن ادم زمیں پر تلاش کر رہا ہے مگر اس قدر بھٹک جاتا ہے کہ گناہ کب کر بیٹھتا ہے ، کب شرک کر جاتا ہے ، کب اس برکت والی ذات کو بھول جاتا ہے ۔۔اسے پتا ہی نہیں چلتا ۔کہ وہ کب اپنی آخرت ، ہمیشہ والی زندگی کو خراب کر بیٹھتا ہے ۔ ہمارے مسلمان لوگ کیا کہتے ہیں کے ہم نے کلمہ پرھ لیا اب ایک نا ایک دن سزا کاٹ کر جنت چلے جائیں گے ۔۔ لیکن اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اللہ کی کتاب قرآن اور سنت رسول ؐ موجود ہے تو آپ کیوں سزا کاٹیں ؟؟ پھر کیوں آپ اتنی ہولناک بات کہتے ہیں اس لیے تو اللہ نے قرآن میں کہا ہے کہ میں کسی پرظلم نہیں کرتا انسان اپنے اپ پر خود ظلم کرتا ہے امید ہے کہ آپ سب میری بات سمجھ گئے ہوگے اور آپ لوگ عمل بھی کریں گے میری اگلی تحریر تک کے لیے اللہ حافظ !
کیتھ ٹرانس کی کیفیت میں چلی گئی اس کو یہ تحریر پڑھ کر اپنے مذہب میں کچھ عجیب لگنے لگا۔۔۔ مطلب کہ قرآن میں ہر چیز کو کتنا کھول کھول کے بیان کیا ہے ۔ اور کون تھا یہ خضر جو اتنی دلچسپ تحریریں لکھتا تھا ؟

………………………………………………………………………….
ہسپتال میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا،مگر بہت سے کالے دھند ایسے تھے جو اگر سامے آجاتے تو زمین میں طوفان برپا ہو جاتا ۔ایسے ہی کالے کرتوتوں کی ابتداء باری نے بھی کی تھی کل اس نے ہسپتال سے بڑی تعداد میں پلاسٹیما اسمگل کروایا تھا، پچھلے چند ہفتوں میں وہ بے شمار اس طرح کے کام کر کے پیسے بٹور چکا تھا ،اس کو پیسے کی حبس سی ہو گی تھی ۔ہم نے تو سنا کالے دھند رات کے اندھیرے میں ہوتے ہیں مگر یہاں دن کے اجالے میں بھی ہوتے ہیں ۔اس وقت باری آپریشن تھیٹر میں کھڑا تھا بیڈ پر ایک تیس کے ہندسے کو چھوتا آدمی لیٹا تھا جس کے عین اوپر آپریشن تھیٹر کی لائٹ تھی ،یہ شخص از خود اپنا گردہ غیر قانونی طور پر بیچنے آیا تھا ،اور باری نے اس کے تمام کاغذات کی کلیرنس کروا کے ،ٹیسٹ رپورٹس میں ردوبدل کررکے اس کے گردے کو ناکارہ ظاہر کیا ۔باری ماسک پہن چکا تھا اس کی سنہری آنکھیں سفاک ہو گئی ۔کہاں سے لگتا تھا یہ صالح شاہزیب کا بھائی ؟ ۔
”سٹاف بی اٹینڈو ! آپ سب جانتے ے ہم کیا کرنے لگے ہے ،کسی بھی صورت یہ بات یہاں سے باہر نہیں جانے چاہیے ۔نہیں تو یہ بات سب کو پتہ ہے کہ سفیدی کا بادشا ہHitokiri (ہٹوکری ) کسی کو سانس لینے قابل نہیں چھوڑے گا “ اس نے ان سب کو تنبیہ کی ۔چند لمحوں بعد آپریشن تھیٹر میں خون کی بدبو تھی ،سفاکیت اور بے رحمی کی انتہا ہوگئی تھی ۔اس کے ادھڑے ہوۓ جسم پر اب ٹانکیں لگاۓ جانے لگیں ۔
”آپریشن سیکس فل “باری کی آواز گونجی ۔اس کے دل کی دھڑکن بتدریج تیز ہوگئی اس کا آرگن ۔۔۔اف خدایا یہ اس نے کیا کر دیا تھا ۔وہ تیزی سے واشروم کی طرف بڑھ گیا اپنےگلوز اتار کر ڈسٹن بن میں پھینکے تیزی سے ماسک اترا اورلمبے لمبے سانس لینے لگا ، پھر نل کھول کر ہاتھ دھونا شروع کیے ۔اس نے گہری سانس خارج کی جونہی اس کی نگاہ شیشے پر پڑی ۔عکس اس پر ہنس پڑیا ۔
”تم تو ابلیس نکلے “ عکس نے آگے ہو کر کہا اور پھر ہنس پڑا ۔باری کو خوف آنے لگا اس نے اپنے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری ،سرخ رنگت والا چہرہ سفید پڑ گیا ۔
”تف ہے تم پر ،تف ۔۔ڈاکٹر کیوں بننے تھے انسانیت کو بچانے کے لیے ،اپنی ہی انسانیت گوا بیٹھے “ عکس نے ہنسی روک کر کہا۔
”میں ۔۔انسانیت کو بچا۔رہا ۔۔ہوں ،ابلیس نہیں ہوںمیں ۔۔وہ اٹک اٹک کر خوف کے حصار میں بولا ۔
”آپ ہے سو تو ہے “عکس رازداری میں بولا ۔
”دفع ہو جاؤ ۔۔یہاں سے دفع ہوجاؤ “وہ چلا کر بولا ۔
”میں تو چلا جاؤں گا ،تم انسان اپنی سیاہ کاریاں لے کے “؟ عکس غائب ہوگیا ۔
”سر آپ ٹھیک ہے ؟جونئیر ڈاکٹر بلال اندر داخل ہوا ۔”ہاں “وہ ہانپتے ہوۓ بولا اور اس کو دکھا دے کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کو ہولیا ۔سوال تو بلکل سہی پوچھا گیا ہے کہ انسان اپنی سیاہ کاریاں لے کے کہاں جاۓ گا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ہفتہ تھا اطہرجاپان سے واپس آگیا تھا اور وہ ذوالقرنین کے اسٹیٹیوٹ آیا ہوا تھا وہ دونوں کافی اچھے دوست تھے اطہر کو چارلسٹن آنے کے بعد سب سے زیادہ مدد اور ساتھ پروفیسر نے ہی دیا تھا ۔اس وقت وہ دونوں آفس میں بیٹھ کر کافی پی رہے تھے اور ہلکی پھلکی گفتگو بھی کر رہے تھے۔
“تو تمھارا جاپان کا دورا کیسا رہا ” ذوالقرنین نے پر تجسس انداز پوچھا ۔
“اچھا رہا ۔ وہاں کے ایک مشہور شیف ہیں ان کو اپنے رستوران آنے پر آمادہ کیا ہےاور ساتھ میں ایک رستوران وہاں کھولنے لگا ہوں ۔”
” ماشااللہ بھائی ” ذوالقرنین مُسکرا کر بولے ۔
” تم سناؤ تمھارا انسٹیٹیوٹ کیسا جا رہا ہے ۔”اطہر ے سوال کیا۔
” اللہ کا شکر ہے بس ایک قرءات سکھانے والے ایک ٹیچر احمد صاحب اب مزید جاب جاری نہیں کر سکتے تو کوئی نظر میں ہوا جو قرائت اچھی کرتا ہو تو بتانا ۔”
” ہممم ۔” اس نے پر سوچ انداز میں ٹھوری کو کھجایا ۔
” ارے یار ! جو لڑکا میرے ریفرینس سے آیا ہے تمھارے پاس جاب کے لیے۔۔۔ عبدل الہادی اس کو بھی قرائت آتی ہے بہت خوبصورت آواز ہے اس کی اکثر مسجد میں تلاوت کرتا تھا مولانا صاحب ہم لوگوں کو غیرت دلانے کے لیے اسے ہر جماعت کے بعد کھڑا کر دیتے تھے۔۔” وہ آخری بات ہنس کر بولا ۔
“مگر پھر بھی تم کو غیرت نہ آئی ” زوالقرنین نےافسوس سے آہ بھری ۔
“اب تم مجھےذلیل کر رہے ہو ۔” اظہر نے مصنوعی خفگی سے کہا ۔
” ارے ارے نہیں ! تعریف کر رہا ہوں کے کتنے بڑے بے غیرت ہیں آپ ” پروفیسر کافی کا مگ اٹھاتے ہوئے بولے ۔
‘ زبان نا چلاؤ ہادی کو بلاؤ ۔” اظہر بات کو گول مول کر گیا ۔ پروفیسر نے انٹرکام کا ریسیور اٹھایا ” ہادی کو بھیجو ۔”
وہ مسکرائے اور کہا ” ماشااللہ سے کافی اچھا بچہ ہے ۔”
“ہممم” اطہر نے کافی کا مگ اٹھایا ۔” یار کافی ٹھنڈی ہو گئی ہے کتنا بولتے ہو تم ۔” اطہر ہنس کر بولا ۔
“ہاں ہاں ! بولتا تو صرف میں ہی ہوں اللہ نے آپ کو تو زبان ہی نہیں دی ۔” اطہر نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے ہی تو دروازے پر دستک ہوئی ۔
” یس کم اِن “دروازاہ کھلا اور کمرے میں عبدالہا دی داخل ہوا بلیو گول گلے والی سویٹر پہنے اور آج بھی ماتھے پر بال بکھرے ہوئے تھے جو کھڑکی سے آنے والی روشنی کے باعث مائل بھورے لگ رہے تھے۔
” اسلام علیکم” اس نے دونوں کو سلام کیا ۔
” وعلیکم اسلام ! بیٹھیں جناب ۔” پروفیسر مسکرا کر بولے ہادی میز کے عین کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا اس کے سامنے پروفیسر ذوالقرنین تھے اور اطہر سائیڈ صوفہ پر براجمان تھا جب کے ہادی کے ساتھ والی کرسی خالی تھی۔
“بڑے چھپے رستم نکلے یار !مجھے بتایا کیوں نہیں کے آپ کو قرائت آتی ہے ہمم”پروفیسر نے کہا۔
” بڑا میسنا ہے یہ سمجھتے کیا ہوں تم اسے ۔۔” اطہر کی آنکھوں کے آگے اس کی اور اپنی پہلی ملاقات گھوم گئی کمال مہارت تھی اس شخص میں ایک پل اتنا معصوم اور اگلے ہی پل بساط کا بادشاہ ۔۔ہادی نے بائیاں آبرو اظہر کو دیکھ کر اُچکایا۔
“میسنا نہیں موقع پرست ۔۔۔۔اور موقع بھی خود پیدا کرنے والا صرف بساط کا بادشاہ نہیں بساط کو سجانے والا بھی۔۔” لمحے کو وہ اسی رات والا عبدالہادی بن گیا۔
“بساط کو بچھانے والا؟” اظہرکو لگا وہ کچھ بڑا کرنے والا ہے،وہ سیدھا ہو کر بیٹھا ۔
“کوئی بھی مہرہ چال خود ہی نہیں چل لیتا ۔۔بادشاہ ،ملکہ، پیادہ ،قلعہ ، گھوڑا ،ہاتھی ۔۔سب بساط بچھانے والے کی مرضی ہوتی ہے وہی بادشاہ ،وہی پیادہ ۔” اس کی آنکھوں میں ایک الگ سی چمک چمکی ۔
“تم کیا سوچ رہے ہوں ؟” لمحے بھر کو اطہر بھول گیا کہ وہ پروفیسر کے آفس بیٹھے ہوۓ ہیں ۔
” بہت جلد آپ واقف ہوگے ” اس نے اطہر کی طرف دیکھ کر آنکھ دبائی پروفیسردل کھول کر ہنسے ۔
”یار تم دونوں کیا باتیں کر رہے ہو۔مجھ معصوم کو سمجھ نہیں آرہی “پروفیسر سر کھجاتے ہوۓ بولے ۔
”کچھ نہیں ،تم چھوڑو جس کام کے لیے بلایا ہے وہ پوچھو اس سے “اطہر کو اس کی باتیں سمجھ نہیں آرہی تھی ۔کیا کرنے لگا ہے وہ ؟
”ہادی بچے ! آپ مجھے اپنی قرات سنا سکتے ہے ،اطہر بہت تعریف کر رہا تھا “پروفیسر نے کہا ۔
”جی کیوں نہیں۔“ ہادی نے حامی بھری۔
ہادی نے گلا کھنکار کر تلاوت شروع کی ۔” اعوذبااللہ من الشیطن ارجیم “وہ دروازا جونھی کھولنے لگی تو ایک خوبصورت آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی ،
” بسم اللہ الرحمن الرحیم “وہ وہیں رک گئی سحر طاری ہوگیا ۔
”وضحی ۔ولیل اذا سجی “۔ اس نے واقعی اس سے پہلے اتنی خوبصورت آواز نہیں سنی تھی ۔
”ما ودعک ربک وما قلی۔ وللاخرۃخیرلک من لاولی “۔وہ ایک ایک لفظ کو کیسے محبت سے اوور لگن سے پڑھ رہا تھا وہ ششدر رہ گئی ۔
” ولسوف یعطیک ربک فترضی ۔الم یجد کا یتیما فاوی ۔ووجدک ضالا فھدی ۔ووجدک عائلا فاغنیا۔“اس نے آج سے پہلے اسے یہاں نہیں دیکھا تھا قاری انجان تھا۔
”فاما الیتیم فلا تقھر۔ واماسائل فلا تنھر ۔واما بنعمت ربک فحدث۔ صدق اللہ العظیم “۔وہ کسی اور طرز میں نہیں پڑھ رہا تھا اس کا لہجہ خاص عربی تھا۔ وہ کسی سحر سے باہر آئی ۔
“جزاک اللہ خیرا کثیر ماشاءاللہ کمال جناب پھر آپ سکھانا پسند کریں گے یہ ہمارے بچوں کو بھی۔” پروفیسر خوش ہوتے ہوے بولے۔
” جی کیوں نہیں ضرور سکھاوں گا ” ہادی نے پانی کا گلاس اٹھایا ۔ دروازے پر دستک ہوئی اس نے دروازا ہلکا سا کھولا ۔
“پروفیسر مے ائی کم ان ؟؟ ”
” اوہ ! آپ اندر آئیں ۔“پروفیسر اٹھ کھڑے ہوئے احتراما ًہادی بھی کھڑا ہو گیا ۔
” ٹھیک ہے ہادی بچے آپ پھر آج سے بچوں کو قرءات اور تجوید شروع کروا دیں ” وہ ہادی کو دیکھتے ہوئے بولے۔
” جی ٹھیک ہے ۔ میں چلتا ہوں ۔” ہادی کمرے سے باہر چلا گیا اس لڑکی کی نظروں اس کا باہر جانے تک تعاقب کیا ہادی نے دروازا بند کیا۔
دروازا بند ہونے کی آواز سے وہ ہوش میں آئی
” میں بھی چلتا ہوں” اطہر اٹھ کھڑا ہوا ۔
” جی جی جناب جائیے اللہ حافظ ” ذوالقرنین مسکرائے ۔ اطہر دفتر سے باہر نکل گیا۔
” کیسی ہیں ہانیہ ؟“ آئیں بیٹھیں پروفیسر نے کرسی کی جانب اشاراہ کیا ۔
” میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ؟“ ۔ وہ بولی ۔
”الحمداللہ میں ٹھیک ہوں ۔“ وہ مسکرا کر بولے
” وہ میں قرآن سیکھنا چاہتی ہوں آپ کو تو پتا ہے کہ میں نے کبھی بھی نہیں پڑھا تو یہ فارم فل کیا ہے ۔” ااس نے بیگ میں سے فارم نکالا اور پروفیسر کی جانب بڑھایا ۔
” یہ تو بہت اچھی بات ہے اللہ آپ کو جزائےخیر دیں اور اس راستے پر استقامت عطا کریں ۔ “ وہ خوش ہوتے ہوئے بولے اور عینک پہنی اس فارم کو پڑھا اور آخر میں اپنے دستخط کیے ۔”ٹھیک ہے بچے پھر کل سے آپ آجائیں ۔ “ انھوں نے اضافہ کیا ۔
” بہت شکریہ آپنے اتناساتھ دیا میرا۔”
” ہمت مت ہارنا ہانیہ ! اتنا دور آکر طارق بن زیاد کی طرح ساری کشتیاں جلا کر آپ کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے،آپ کو ہر حال میں فتح حاصل کرنا ہوگی ۔” پروفیسر اسے نصیحت کرتے ہوئے بولے ۔
” کیا مطلب کس کی طرح؟؟ ” وہ معصومیت سے بولی۔
“اوہ آپ کو تو وہ واقع پتا ہی نہیں ہے چلو میں سناتا ہوں ۔ ” وہ انہماک سے سننے لگ گئی۔
” طارق بن زیاد ایک عظیم اور بہادر مجاہد تھے جنھوں نے اندلس فتح کیا تھا ۔سن سات سو گیارہ 711 کی بات ہے اندلس پر ویزگوٹھوں کی حکومت تھی جو مذہب کے اعتبار سے عیسائی تھے وہاں مسلمانوں اور دیگر مذاہب پر سخت پابندیاں تھی اس وقت عرب پر اموی حکومت تھی اور ولید بن عبدالملک خلیفہ تھے ۔انھوں نے اندلس کی مہم کے لیے اپنے بہادر جرنیل طارق بن زیاد کو بھیجا ۔طارق بن زیاد سات سو فوجی لے کر اندلس کے معرکے کو سر کرنے کے لیے نکل پڑے۔ اندلس جو ابھی حالیہ سپین ہے ایشیا،افریقا اور یورپ کے درمیان واقعہ ہے ، ہسپانیہ حالیہ اسپین ،پرتگال اور جبل طارق وغیرہ پر مشتمل ہے اب یہ شہر ایسا محل وقوع رکھتا ہے کہ مغرب میں بحراوقیانوس ،مشرق میں بحیرہ روم ،شمال میں پیرینس کا پہاڑی سلسلہ ،جنوب میں افریقہ واقع ہے ۔ اس کی سرحدیں شمال میں فرانس سے ، مشرق میں بحیرہ روم سے ، جنوب میں مراکش اور مغرب میں بحیرہ اوقیانوس سے ملتی ہے ۔اب طارق بن زیاد نے بحیرہ روم کو پار کیا اور شمالی افریقہ سے اندلس پر قدم رکھا وہاں جا کر جب آپ کے ساتھیوں نے دشمنوں کی تعدا دیکھی تو وہ گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ “ہم نہیں جیت سکتے “اور واپسی کا سوچنے لگے طارق بن زیاد ایک پہاڑی پر کھڑےہو کر سب کو حکم دیا کہ تمام کشتیاں جلا دی جائیں سب نے ان کے حکم کی پاسداری کرتے ہوئے ساری کشتیاں جلا دی گئی پھر طارق بن زیاد نے ایک زبردست تقریر کی جس سے ان کی فوج کے حوصلے بلند ہو گئے اپ نے کہا ” اے مجاہدوں آگے دشمن ہے اور پیچھے سمندراب میدان جنگ میں شہید ہونے اور اندلس کی فتح کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے “پھر سب نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور اندلس فتح ہونے تک لڑتے رہے اندلس فتح ہوا اور پھر طارق بن زیاد رکے نہیں بلکہ اگلے علاقے توکستا، ایکلا،گراناڈا، قرطبہ کو بھی فتح کیا اور پھر قرطبہ کو دارالحکومت بنا کر یورپ میں اسلامی دور کا آغاز کیا ۔ ہانیہ !آپ بھی انھی مجاہدین اور طارق بن زیاد کی طرح ہو ۔ ہاں نا ؟” اس نے اثبات میں سر ہلایا آنکھوں کے ڈورے گلابی ہو گئے تھے ۔
“آپ نے بھی اندلس فتح کر لیا ہے اب آگے سارا یورپ آپ کا ہے کر لیں فتح ۔ ” ان کی آواز میں جوش تھا ” اور غم نہ کرنا بیشک اللہ اپ کے ساتھ ہے ” وہ دھیرے سے مسکرائے
“شکریہ پروفیسر !!! آپ نہ ہوتے تو میرا دل غم سے پھٹ جاتا میں نے بہت بڑا قدم اٹھا یا ہے “وہ روہانسی ہو گئی ۔
” ارے ارے میں نہیں ،اللہ نا ہوتے تو ۔جو بھی پریشانی ہو سب اللہ پر چھوڑ دیں وہ بہت مہربان ہیں “وہ نرم مسکراہٹ کے ساتھ ہمیشہ سب کو نصیحت کرتے تھے ۔
”شکریہ “ ہانیہ نے بیگ اٹھایا اور کرسی سے اٹھی “اللہ حافظ پھر میں کل سے آؤں گی “
” انشاءللہ ضرور آنا بچے !اللہ حافظ ۔” پروفیسر مسکرائے وہ کمرے سے باہر چلی گئی دل سے ایک بوجھ اور غبار اترا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنڈے کب آیا ہادی کو خبر ہی نا ہوئی ۔آج دس بجے اسے وینڈیو جانا تھا ،وجہ تو آپ کو معلوم ہے ۔ہادی کی تیاری اپنے جوبن پر تھی ،آج وہ لائٹ بلیو کلر شرٹ کے اوپر وائٹ جیکٹ پہنے ہوۓ تھا ۔ اس نے اضطراب کی کیفیت میں گھڑی کو دیکھا 9:30 بج چکے تھے اس کے دل کی دھڑکن بار بار بے ترتیب ہو جاتی تھی ،پھر وہ اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر گہری سانس لیتا تھا۔اور بیڈ پر جا بیٹھا ،عجیب سے احساس نے اسے گھیرا ہوا تھا اس نے اپنے وائٹ جاگرز اٹھاۓ اور جھک کر پہننے لگا کہ یکدم اس کے فون کی بیل بجی تو وہ ڈر گیا ۔اس نے پھر سے گہرا سانس خارج کی ،”کیا ہو گیا ہے مجھے “۔اس نے ہولے سے بڑبڑایا اور فون کی طرف دیکھا ،”پارٹنر “لکھا جگمگا رہا تھا ۔اسے حیرت ہوئی اس نے انگلیوں پر حساب لگایا تو وہاں رات کے ایک کا وقت تھا ۔پھر اس نے کال پک کی ۔
”کیا ہے ؟ ہادی چھوٹتے ہی بولا ۔
”اوہو خان صاحب خلل ڈالنے کے لیے معذرت پر بہت ضروری بات بتانی تھی ۔۔ نہیں سننی ٹھیک ہے بائے۔ “ اس نے کال کاٹ دی ۔
”کیا ڈرامہ ہے یہ صالح بھی “ہادی نے پھر سے نمبر ڈائل کیا ۔
”کیا ہے ؟اب کی بار مقابل بولا ۔
”بہت ضروری بات سننی تھی ۔۔نہیں سننانی “؟ہادی نے اسی کی باتیں اسے لٹا دی ۔وہ اکثر ایسے ہی کرتے تھے۔
”بدتمیز “ صالح غصے سے بولا ۔
”اچھا بتا نا کیا ہوا؟ممی نے پھر سے چماٹ رسید کی ہے ؟؟ “ہادی ہنس کر بولا ۔
”جی نہیں آپ کو جہنم کے آخری درجے میں جانے سے بچانے کے لیے کال کی ہے ۔“صالح پھرتیوں سے بولا ۔
”کیا مطلب ؟“ہادی کو سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔
”کانٹریکٹ میرج میرے بھائی !چوداہ سو سال پہلے اس کو متعہ نکاح کہا گیا تھا جو کہ حرام ہے ۔“ صالح درشتگی سے بولا تو ہادی کے اوپر گویا کسی نے منوں گھڑ پانی انڈیل دیا ۔
”میں حرام کام نہیں کر سکتا ۔۔اوہ خدا صالح تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟“وہ بے چین ہو گیا۔
”مجھے خود آج پتہ چلا مولانا صاحب سے تمھیں کیسے پہلے بتا دیتا ۔“صالح روٹھے انداز میں بولا ۔
”اچھا اب ناراض نہ ہو حل بتاؤ۔“ہادی پریشان ہو گیا وہ کم از کم کوئی حرام کام نہیں کر سکتا تھا ۔
”دیکھوں دو طریقے ہے پہلا کہ تم نکاح نہ کرو۔“ صالح نے ابھی بات پوری نہیں کی تھی کہ ہادی بولا ،”اور دوسرا “ ۔
”صبر اتاولے ۔۔صبر ۔دوسرا یہ ہے کہ تم اللہ رسول کے نزدیک سچے دل سے بغیر کسی کھوٹ یا لالچ کے اس سے نکاح کر لو۔ “صالح نے دوسرا حل پیش کیا ۔
”یار یہ امریکہ ہے زیادہ تر عیسائی ہوتے ہیں،روز نے شاید کوئی عیسائی لڑکی دیکھی ہو۔افف میں کیا کروں “اس کا سر دکھنے لگا ۔
”پھر ایک کام کرو ، اگر لڑ کی عیسائی ہو تو نہ کردینا ۔“صالح نے مشورہ پیش کیا ، اس نےہادی کو کشمکش میں ڈال دیا ۔
”میں کیا کرکروں ؟“ہادی نے لب کاٹنے شروع کردیے ۔
”ہادی وہاں جا کر صورتِحال کے مطابق فیصلہ کرنا ،ابھی کچھ بھی کہنا یا کرنا مشکل ہے ۔“صالح نے اسے مشورہ پیش کیا ۔”ایک منٹ میں بعد میں کال کرتا ہوں ۔شاید ماما اٹھ گئی ہیں “
”اچھا ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں ،اللہ حافظ ۔“ ہادی نے عجلت میں کال کاٹی ،اور گہری سانس خارج کر کے کمرہ لاک کیے وہ باہر نکل گیا ۔تھوڑی ریر بعد وہ ڈیونیو کی مرکزی عمارت میں داخل ہوا ،لابی کی سرمئی دیواروں پر مختلف فن پارے رونما تھے وہاں روز کھڑی کسی لڑکی سے بحث کر رہی تھی ہادی پر نظر پڑتے ہی خاموش ہو گئی ۔
”تم روم نمبر 10 میں جاؤ میں آتی ہوں ۔“وہ اثبات میں سر ہلا کر آگے بڑھ گیا اس ہوٹل کی سیٹنگ دوسری عمارت کے مقابل میں شوخ تھی ،مگر خوبصورت اور پرکشش بھی ۔ہادی کمرے میں گیا تو کمرہ خالی تھا ۔اس نے روز کو میسج کیا
”کیا ہوا ،وہ لڑکی کون تھی؟؟“ ۔روز کو میسج ڈبل ٹک ہوا لیکن سین نہ ہوا وہ سفید رنگ کے صوفوں پر بیٹھ گیا اور سرخ رنگ کا کشن اپنی گود میں رکھ موبائل پر مصروف ہو گیا ۔
”میں آرہی ہو ں تم وہی رہو۔۔“میسج کی بپ بجی ۔
”اوکے ،مجھے بات کرنی ہے ۔“اس نے پھر سے میسج کیا مگر وہ سین نہ ہوا تو لب کاٹنے لگا ،اور کشن پیچھے رکھ کر ،ٹانگ صوفےسے نیچے لٹکا کر لہرانے لگا ۔دروازے پر دستک ہوئی تو وہ گڑبڑا کر بیٹھ گیا ۔
”سر کافی ! “ جون کافی لیے داخل ہوا ۔
”ہمم رکھ دو۔ “کہہ کر پھر نیم دراز ہوگیا ۔
جون وہیں کھڑا اسے دیکھتے ہوۓمسکرا رہا تھا ۔ہادی نے آبرو اٹھا کر اسے دیکھا ۔
”آپ مسٹر اطہر کے بھتیجے ہیں؟“اس نے ستائشی انداز میں پوچھا ۔
”ہاں۔۔بدقسمتی سے “ آخری دو لفظ اس نے بڑبڑاۓ ۔”کوئی کام ہے آپ کو ؟ہادی نے پھر سے پوچھا ۔
”نہیں ،بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا “جون مسکرایا اور پلٹ گیا ۔ہادی نے کندھے اچکائے اور پھر سے نیم دراز ہوگیا ۔ایک گھنٹے تک وہ وہیں رہا ،موبائل کی بیٹری لو ہوئی تو وہ چارج پر لگاکر جونہی باہر جانے کے غرض سے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو دروازہ ا ندر کی جانب کھلا ۔
”سو سوری تمھیں اتناویٹ کروایا ،آؤ بیٹھو “ہادی چارو ناچار پھر بیٹھ گیا ۔روز کے ساتھ وہی لابی والی لڑکی اور ایک حجاب والی لڑکی داخل ہوئی ہادی نے ذہن پر ذور ڈالا یہ لڑکی اس نے کہی دیکھی تھی ۔کہاں ؟اب یہ یاد نہیں تھا ۔
”ہادی یہ ہانیہ گل ہے “روز نے چاکلیٹ براؤن سکرٹ کے ساتھ سفید شرٹ میں ملبوس لڑکی کی طرف اشارہ کیا ،جس نے سر پر چاکلیٹ براؤن کلر کا ہی حجاب لے رکھاتھا ،ہادی کے دل میں اطمینان اترا وہ مسلمان تھی ۔
”اور ہانیہ یہ ہادی ہے ،عبدالہادی تم دونوں کانٹریکٹ میرج کروگے ۔تم ہادی کو قانونی اور ہادی تمھیں ایک سال مالی سپورٹ کرے گا “اس نے ایک سانس میں سب بیان کیا ۔
”مجھے ان سے بات کرنی ہے “ہادی نے اس کا نام لیے بغیر ہانیہ کی طرف اشارہ کیا ۔
”کیا بات کرنی ہے ۔ وکیل آتا ہو گا یہی بیٹھو ۔“ روز کے ساتھ موجود دوسری لڑکی بولی ۔ہادی کو گڑ بڑ لگی ۔اس نے آنکھیں سکیڑی ”میں یہی بیٹھوں گا آپ دونوں باہر جائیں مجھے ان سے بات کرنی ہے “ہادی نے مستحکم آواز میں کہا ۔روز نے اس کی طرف دیکھ کر آنکھیں جھپکا کر اسے یقین دلایا ۔وہ دونوں کمرے سے باہر چلی گئیں ۔
ہادی نے گلا کھنکھارا ۔”میں آپ سے ایک بات کہنے جا رہا ہوں ،غلط مت سمجھیۓ گا “ ہادی نے کہنا شروع کیا ۔اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔”ہم جو کرنے جارہے تھے وہ گناہ ہے ، کنٹریکٹ میرج یا متعہ نکاح حرام ہے ،مجھے خود یہ بات ابھی پتہ چلی “ہادی نے اسے نا چاہتے ہوۓ بھی صفائی دی ۔وہ ابھی بھی یک ٹک حیران نظروں سے اسے دیکھے جا رہی تھی ۔
”تو آپ یہ مجھے کیوں بتا رہے ہیں ؟واک آوٹ کر جائیں ۔ “ اس نے کندھے اچکا کر بے نیازی سے کہا ۔
”دیکھیں ،اگر یہاں کوئی غیر مسلم لڑکی ہوتی تو میں واک آؤٹ کر جاتا ۔مگر آپ مسلمان ہیں میں نہیں چاہتا خود حرام سے بچ جاؤں اور آپ کو نہ بتاؤں ۔آپ کو معلوم ہے ایک بار اللہ تعالی نے حضرت جبریلؑ کو حکم دیا کہ فلاں بستی تباہ کرآؤ۔حضرت جبریلؑ نے حیرت سے کہا”وہاں تو آپ کا ایک نیک بندہ رہتا ہے اس پر بھی؟ اللہ تعالی نے کہا “ہاں اس پر بھی “۔
”پر کیوں ؟“ ہانیہ نے متجسس ہو کر پوچھا ۔
”کیونکہ وہ بندہ نیک اور معقول بات پھیلاتا نہیں تھا ،وہ علم کو روک کر رکھتا تھا ۔۔میں نہیں چاہتا کہ میں بھی علم روکنے والوں میں سے ہوں ۔“
”تو اب ؟نکاح تو تم نے کرنا نہیں ہے مجھے لیکچر کیوں دے رہے ہو؟ “ ہانیہ متاثر ہوکر بھی ماننے سے منکر تھی ۔
”میں اس مسئلہ کا حل چاہتا ہوں ۔آپ مجھ سے نکاح کر لیں۔مگر بغیر کوئی بات یا مدت کے ۔۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی گناہ سے بچ جائیں گناہ گار نہ بنیں “۔ہادی آخر کار تجویز دی ۔
”تمھیں مجھ سے لوان فرسٹ سائیٹ ہوگیا ہے ؟اس نے دائیاں ابرو اٹھا یا ۔
”محترمہ یہاں فلم کی شوٹنگ نہیں چل رہی اور نہ ہی آپ کوئی حور پری ہے ،میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ ہم دونوں ایک معقول بات پر رضامند ہوجاۓ “ہادی نے صاف الفاظ میں کہا تو ہانیہ نے خاموش رہنا جرم سمجھا۔
”پروفیسر کے آفس میں شریف لگے تھے ہو نہیں “۔ہانیہ کی بات پر ہادی کو یا د آیا کہ وہ کہاں ملی تھی ۔
”آپ بھی جتنی بھولی لگتی ہے ،اتنی ہے نہیں “ہادی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔
”مطلب بھولی تو ہوں نا “اسنے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائی ۔
ہادی نے آنکھیں سکیڑی اور چارج پر لگا فون اٹھا کر کھڑا ہوگیا ”میرا کام نصیحت کرنا تھا ،اب عمل کرنا آپ کا کام ہے ۔آپ کو ضرورت تو ہے پیسوں کی اس لیےآپ پھر کسی کے ساتھ متعہ نکاح کا عمل کریں بہتر ہے کہ مجھ سے اصل نکاح کر کے آپ اس کبیرہ گناہ سے بچ جائیں ،مگر آپ۔۔“اس نے گہری سانس خارج کی اور باہر کو ہو دیا ۔
”سنو ! اگر میں تم سے نکاح کر لوں تو فائدہ تو تمھارا ہی ہے قانونی طور پر تم مضبوط ہوجاؤ گے میری فیملی کا کیا۔“ہانیہ اس کو جاتا دیکھ کر کچھ سوچ کے بولی ۔
”میڈم ! آپ نہیں جانتی کیا اسلام نے آپ کے لیے ماہوار اور حق مہر رکھا ہے “اس کی پشت ہانیہ کی طرف تھی ۔
”تو میری فیملی؟“ ہانیہ نے سوالیہ انداز میں آبرو اٹھایا ۔
” تو آپ کی فیملی کو میں سپورٹ کروں گا کسی معائدے کے طے نہیں آپ کے شریک ِ حیات کے طور پر “۔ہادی نے ایک اور پیشکش کی ۔”میں آپ کو کبھی طلاق نہیں دوں گا ،آپ سے صرف آپ سے وفادار رہوں گا ۔ آپ کے علاوہ ہر منظر حرام کر دوں گا “اس نے لمحوں میں زویا کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ۔”نہیں تو خدا حافظ “ ہادی نے ہلکے سے دروازہ کھولا ،دل میں امید باقی تھی وہ صرف ایسی بن رہی تھی ،نہ سیاہ کار تھی ،نہ گنہگار ۔
”ہادی میں تیار ہوں ۔تم پہلے شخص ہو جس نے میرے گناہ گار ہونے کی فکر کی ہے میں تمھیں کھونانہیں چاہتی ۔میں تم سے وفادار رہوںگی آخری سانس تک ،میں بہت اچھی نہیں ہوں مگرتمھارے لیے بدل جاؤ ں گی ،میں ہر حال میں تمھارے ساتھ کھڑی رہوں گی “ہادی کی گرفت ہینڈل پر ڈھیلی پڑ گئی الفاظ تھے یا سحر ۔” تم میرا حرفِ آخر ہو گے “ہانیہ نے آخری جملہ کہا ۔”میں صرف باتیں نہیں بناتی ،نبھا بھی کرتی ہوں ، تم کرو گے ؟ “
ہادی دھیرے سے پیچھے پلٹا اور آنکھیں جھپکا کر سر اثبات میں ہلایا ۔”میں کروں گا ،ہر حال میں ۔“میں کچھ معملات ابھی ہی طے کرنا چاہتا ہوں “ہادی پھر سے بیٹھ گیا تھوڑی دیر وہ اس سے مختلف طرح کی باتیں کرتا رہا ۔”ہم محفل میں ایک دوسرے کو ذلیل نہیں کریں گے “ہادی نے آہستہ آواز میں نرم لہجے میں کہا ۔
”نہ ہی جج کریں گے “ہادی نے اضافہ کیا۔
“نہ ہی ایک دوسرے کے ماضی کو کریدیں گے “ہانیہ نے کہا ۔
”مجھے پتا ہے ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے اور پہلی بار میں یہ باتیں عجیب ہے مگر ہماری بقا کے لیے ضروری ہے “ہادی نے اس کی بات پر سر ہلاتے ہوۓ بولنا شروع کیا ۔
”میں یہ وعدہ تو نہیں کروں گا کہ آپ سے محبت کروں گا ، لیکن میں یہ کوشش ضرور کروں گا کہ تمھیں سمجھو ں ۔میرے نزدیک محبت سے زیادہ سمجھنا ضروری ہوتا ہے ۔اور میری ساری ڈیٹیلز تو روز نےبتا ہی دی ہوگی “ہادی نے کہا ۔
”ہاں “اس نے اتنی لمبی تقریر کے بعد صرف ایک لفظ کہا ۔
”کچھ اور بات کرنی ہے ،یا آپ چاہیں تو سوچنے کا ٹائم لے لے “ہادی نے ا س کی چٹختی انگلیوں پر ایک نگاہ ڈالی ۔
”نہیں “پھر سے یک لفظی جواب
”اوکے میں پھر روز کو بتا دیتا ہوں “اس نے پانی کا گلاس ہانیہ کو دیا اور کمرے سے باہر چلا گیا ۔اسے لگا جیسے وہ کچھ چھپا رہی ہو،یہی رویہ اسے روز کا بھی لگ رہا تھا ،ہادی سر جھٹک کر خیالات کو دفع کیا اس کے لیے یہی جاننا کافی تھا کہ وہ ایک چھوٹے سے گاؤن سے ہے،کرائسس زدہ خاندان ہے ،والدین کے ایکسڈینٹ میں باپ کی موت اور ماں کی ٹانگیں مفلوج ہوچکی ہے جن کا بار بار آپریشن کر کے ٹھیک ہونے کی رمق باقی ہے ،ایک چھوٹا بھائی ہے جو سٹڈیز کرتا ہے اسی لیے اس کو ایک ساتھ زیادہ پیسے چاہیے ۔کچھ دیر بعد ان دونوں کے سامنے کاغذات رکھے گئے ۔
”ہم ایک دوسرے کو محفل میں ذلیل نہیں کریں گے ۔“پہلا ایجاب ۔”قبول ہے “ہادی نے کاغذات پر سائن کیے ۔
”ایک دوسرے کو جج نہیں کریں گے “دوسرا ایجاب ”قبول ہے “اب وہ کاغذات ہانیہ کے پاس تھے وہ بھی سائن کر رہی تھی ۔
”ہم ایک دوسرے کے ماضی کو نہیں کریدے گے حال اور مستقبل بس ۔۔“تیسرا یجاب اطہر نے ان دونوں سے ایجاب کروا رہا تھا۔”قبول ہے “۔جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کی شرائط کو قبول کر رہے تھے
”نہ محفل میں ذلالت کریں گے ،نہ جج کریں گے اور نہ ہی ماضی کو کریدیں گے ۔“شاید یہی تین چیزیں ہوتی ہے جو ہمارے شادی شدہ جوڑوں کو نکاح کے وقت قبول کرنی ہوتی ہے مگر وہ ان کے سوا سب قبول کر لیتے ہے ۔ہادی خان کا نکاح ہانیہ گل سے بغیر کسی متعہ کے ہوگیا تھا ۔چارلسٹن تو ہانیہ گل کے لیے مہربان ہوا تھا ۔”اسے گناہوں سے بچانے والا محافظ مل گیا تھا “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ بعد :
”پھر سامنے سے دشمن چلتا ہوا آیا ،وہ تین تھے اور میں ایک ۔جنگل بیابان کوئی بندہ نہ تھا بس میں نہتا اور سامنے دشمن تھا ۔پھر پتا ہے کیا ہوا ؟ “ مسٹر سٹیورڈ جو آرمی سے رٹائر ڈتھے ایون اور ہادی پچھلے دو گھنٹے سے اپنی کی بہادری کے قصے سنا رہے تھے اور ابھی پہلا پورا نہیں ہوا تھا کیونکہ ہر قصے کو سناتے سناتےوہ نیا شروع کر دیتے تھی ۔
”پھر آپ درخت پر چڑھ گئے ۔“ایون نے ہنس کر بولا اور ہادی کو تالی دی ۔
”تم دونوں نا ہنجاروں ،وہ شدید غصہ ہو گئے”آج کل کی نسل کو پتہ ہی نہیں ہےبہادری اور حب الوطنی کا ۔دفعہ ہو جاؤ،موبائل ،کمپوٹر استعمال کرتے رہتے ہیں بس ۔“وہ چلاتے ہوۓ بولےہادی اور ایون جان چھڑوا کر کمرے میں آگئے مگر ان کی آواز ابھی تک آرہی تھی ۔
”یار ان کی باتوں کا برا نہ منانا،ان کا علاج چل رہا ہے “ایون صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا ۔
”کوئی بات نہیں۔“ ہادی دھیمے سے مسکرایا ۔
”تم تو آتے ہی چھا گئے ہو ۔آرٹ گیلری میں یار ۔ مسٹر کین بہت خوش ہونگے جب وہ تمھارا کام دیکھیں گے ۔“ایون نے اس کےآرٹ کو سراہا ۔
”ہمم مجھے بھی ان سے ملنے کا اشتیاق ہے ،سب ان کو بہت مانتے ہیں ۔“ہادی نے کیٹی کو کھانا ڈالنے لگا ۔
”ابھی وہ ٹیکساس میں ہیں ، جلد آئیں گے ۔اور ان کی پرسنیلٹی ہے ہی ایسی ہر کوئی پسند کرتا ہے “وہ ستائشی انداز میں بولا ۔یکدم ہادی کے فون پر رنگ ہوئی میسج تھا کوئی ہادی کیٹی کے پاس سے اٹھ کر رائیٹنگ ٹیبل کے قریب چلا گیا وہاں اس نے چارج پر موجود فون اتارا ۔
”میٹ می ایٹ بیچ “ ساتھ ہی لوکیشن بھی تھی ،ایک انجان نمبر سے میسج آیا ہوا تھا ۔ہادی کو لمحہ لگا پہچاننے میں کہ کس کا نمبر ہے اس کے چہرے پہ ناگواری پھیل گئی لب بھینچ لیے ۔
”کیا ہوا ؟ایون پریشان ہوگیا ۔”پاکستان میں کوئی مسئلہ ہوا ہے ؟ “ ایون نے فکرمندی سے کہا ۔
”نہیں ،مجھے کسی سے ملنے جانا ہے ۔“ہادی نے الماری کے پٹ کھول کر اپنا جیکٹ نکالا ۔
”اس ٹائم “؟ ایون نے گھڑی کو دیکھا جس پر 11 بج چکے تھے ۔
”ایون ضروری ہے ،میں پچھلے دروازے سے جاؤں گا “ ہادی کو مسٹر سٹیورڈ کے سخت رولز یاد آگئے ۔
”اوکے ٹھیک ہے ۔۔مشن0.2۔۔اور “ آنکھ دبائی ۔ ایون مسکراتے ہوئے بولا ۔
”تھینکس “ہادی اس کودیکھ کر مسکرایا ۔کچھ دیر بعد ایون نے اپنی قربانی دی اور جا کہ مسٹر سٹیورڈ سے قصہ پورا کرنے کی فرمائش کی اور ہادی دھیرے سے گھر سے باہر چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سولیوین آئیلینڈبیچ(Sullivan Island Beach)کے ساحل پر اس وقت اکا دکا لوگ تھے ۔وہ ان سے دور چلتے ہوئے سنسان طرف چلا گیا ،لوکیشن سے تھوڑا دور جا کر وہ رک گیا ۔سمندر اپنے جوبن پر تھا پورے چاند کی رات میں پانی کی لہریں چاند کی طرف کھچی جارہی تھی ۔جیسے وہ اسے چھونا چا ہ رہی ہو،مگر ہر کوشش ناکام ایسے میں وہ ایک طرف کو کھڑا ہوگیا ۔”خود ڈھونڈ سکتا ہے تو ڈھونڈ لے اس کے باپ کا نوکر نہیں ہو “۔اس نے خود کلامی کی اور پھر لہروں کی حرکت کے ساتھ اس کی نگاہیں بھی حرکت کرنے لگی ۔پانی کی لہریں اٹھتی مگر چاند تک رسائی سے پہلے ہی ساحل سے آٹکڑتی اور ریت اپنے ساتھ بہا لے جاتی ۔چند لمحے گزرے تو ہادی کو قدموں کی چاپ محسوس ہوئی وہ ٹس سے مس نہ ہوا وہ جانتا تھا ،اس کے علاوہ کون ہو سکتا ہے ۔اس نے لب بھینچ لیے ۔”مجھے بلانے کی وجہ ؟“ ہادی نے ایک اونچی ہانک لگائی ۔
”تمھیں کیفے کی لوکیشن بھیجی تھی ۔“بھاری مردانہ آواز گونجی اور وہ اس کے ساتھ آن کھڑا ہوا ۔
”میں تمھارا نوکر نہیں ہو ں “ہادی ہنوز ساحل ،چانداور سمندر کو تک رہاتھا۔
”دیکھو!لڑکے مجھے تم ذرا سے بھی نہیں پسند ،پر پتہ نہیں کیوں ہٹوکری کو تمھاری پروفائل سے عشق ہوگیا تھا،تمھیں ہی چنا اس نے “ مقابل کی آواز میں اس کے لیے نفرت تھی ۔
”مجھے کون سا تم شہد لگتے ہو،مدعے پر آؤ۔ہادی نے کاٹ دار لہجے میں کہا ۔
”مدعہ ۔۔”IS YOUR NEXT MISSION “.اس نے پہلو میں رکھا ایک بیگ ہادی کی طرف بڑھایا ۔
”کیا مطلب ؟“ہادی نے آبرو ااٹھایا ۔
”انگلش کمزور ہے ؟ تمھارا نیا مشن ۔“اس نے انھی الفاظ کا ترجمہ کیا ۔
”میری انگلش نہیں ،تمھاری یاداشت کمزور ہے ۔میں نے صرف ایک بار یہ سب کیا تھا اب نہیں کروں گا “ہادی اس کی طرف مکمل طور پر گھوم چکا تھا ۔اب وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ۔مقابل تیس سال کی عمر کا شخص تھا جو خاص پٹھان معلوم ہوتا تھا ۔
”یہاں آپ کی چوائس پر صرف انٹری ہوتی ہے ،ایکزٹ صرف لاش کرتی ہے ،وہ بھی ہٹوکری کی مرضی سے “اس کے لہجے میں بلا کی سفاکیت تھی ۔”سوچ لو ۔شہر چارلسٹن تمھارے لیے قاتل نہ ثابت ہو۔“
”یحییٰ آفریدی ! میں ۔۔عبدالہادی خان۔۔ دوبارہ ۔۔کبھی ۔۔ بھی ۔۔سیاہ کار ۔۔نہیں ۔۔بنوں ۔۔گا ۔۔“ اس نے ایک ایک لفظ جدا کر کے زور دے کر بولا ۔ یحیی ٰکو اسی بات کا تو انتظار تھا ۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں یحیی ٰ نےایک زور دار مکہ اس کی ناک پر دے مارا۔ایک خون کی پھوار اس کی ناک سے بہی اس نے درشتگی سے اس کی سینے پر لات دے ماری ۔اب وہ اس کے سینے پر بیٹھا متواتر اس کی چہرے پر حملے کرنے لگا ۔
”تم مجھے ۔۔۔یحییٰ آفریدی کو نہ کروگے ؟اوقات کیا ہے تمھاری ؟کرپٹ باپ کی اولاد سیاہ کار ہونے سے ڈر رہا ہے ۔“ وہ اس کو مارتے ہوۓ گالیاں بکنے لگا ہادی ریت کی مٹھ بھر کے اس کی طرف اچھالی ۔
” میری آنکھیں ۔۔“ یحییٰ کی بصارت دھندلا گئی ہادی نے اس کا گریبان پکڑ کر اس کی ناک پر ٹکر ماری ۔وہ بھونکلا گیا ، وہ ہر وار کے بدلے گالیاں بکتا رہا ۔وہ پیچھے ہوکر گر گیا ۔اور آنکھیں رگڑتا رہا ۔ہادی نے اپنی ناک سے آتا خون آستین سے صاف کیا ۔یحییٰ نے ریولور نکال کر اس پر تان لی وہ نیچے بیٹھا تھا اور ہادی کھڑا تھا ۔
”قسم سے میں آخری بار تمھارا یہ چہرہ دیکھوں گا ۔“یحییٰ چلاتے ہوۓ بولا ۔ہادی نے اس کے ہاتھ پر زور دار لات ماری ریولور پر اس کی گرفت ڈھیلی پر گئی ۔اس نے پھر اس کے سینے پر وار کیا اور اس کی کلائی پرپیر رکھ کر دبایا۔یحیی ٰنےضبط کر کے چیخیں روکی ۔ ہادی نے جھک کر ریوالور کھینچا ۔اور ٹرگر دبایا گولیاں نال سے نکلتی تیزی سے ریت میں دھنس گئی یحیی ٰکی سانس اٹک گئی ۔
”کیا خیال ہے یحییٰ آفریدی ! آخری بار آپ کو اپنا دیدار کرواؤں ابھی دو گولیاں باقی ہے “۔یحیی ٰ کے گلے میں گلٹی بن کر معدوم ہوئی ۔
”دوبارہ مجھ سے ذرا تمیز سے پیش آنا “ہادی نے کہہ کر اپنا پیر اس کے کلائی سے ہٹایا ایک اور لات اس کی منہ پر ماری ۔اسنے بلک کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھا ۔ہادی نے چند قدم پیچھے کو لیے اور ریوالور کو اچھال کر زور دار لات ماری ، سمندر کی تیز لہر نے ریوالور کو اپنے اندر سمو لیا ۔
”یہ راتیں ۔۔۔ہادی نے اس کی طرف دیکھ کر آنکھ دبائی ۔
”یہ موسممم۔۔یحییٰ اس کو گالیاں نکال رہا تھا مگر ہادی گنگناتا ہوا پلٹ گیا ۔
”ندی کا کنارہ “۔یحییٰ پیچھے کلس کے رہ گیا ،
کیا تھا یہ ہادی آخر؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ْ
۔کیتھ کو چارلسٹن آۓ ابھی کچھ ہی دن ہوۓ تھے اپنی ماں مارتھا سے وہ اس سب کے دوران ایک بار بھی نہیں ملی تھی ،نہ ہی ولیم کی کوئی کال آئی تھی ۔ابھی تک وہ ہاسٹل کے روم میں اکیلی ہی رہ تھی اس کی روم میٹ اپنے گھر گئی ہوئی تھی ۔آج بھی کیتھ یونیورسٹی سے واپس ہاسٹل آرہی تھی کہ اس کا فون بجا ،ایک ہاتھ میں فائلز ،ایک میں کافی مگ ۔اس کا فون پاکٹ میں تھا اس نے بیل کو نظرانداز کیا اور آگے بڑھتی رہی فون پھر بجا تو اس نے قریب موجود ایک گقڑی پر فائلز دھرام سے رکھی ۔”آخر کون ہے یہ “؟ اس نے بڑبڑاتے ہوۓ فون نکالا ۔”ولیم۔۔سکرین پر لکھا جگمگا رہا تھا ۔”اس کو پتہ تو نہیں چل گیا ؟اس نے کال اٹھائی ۔”ہیلو “!
”کیا بدتمیزی ہے یہ کیتھ “ولیم برس پڑا ۔
کیتھ کا دل ڈوب گیا اس نے کافی بھی بونٹ پر رکھ دی ،”بابا وہ ۔۔
”کیا وہ ؟۔۔کسی کا سر پھاڑنے کی وضاحت دو گی تم ؟ “ ولیم نے غصے سے جھڑکا ۔
”اوہ تو آپ اس کی بات کرہے ہیں “کیتھ کی جان میں جان آئی اس نے کافی کا سپ لیا ۔
”کیا مطلب کوئی اور بات بھی ہے “؟ولیم تفتیشی اندازمیں کہا کیتھ گڑبڑا گئی ۔
”نہیں ۔۔بلکل نہیں ۔ “ اس نے فوراً سر نفی میں ہلایا،اور آنکھیں زور سے میچی ۔”افف بیوقوف “اس نے دل میں کہا ۔
”تم مجھے مدعے سے ہٹا رہی ہو ،جیمز کا سر پھاڑنے کی وجہ “ولیم اس کو پھر سے موضوع پر لایا ۔کیتھ نے یہی بات کرنا غنیمت سمجھا ۔
”وہ آپ کیمراز چیک کر لیں “۔کیتھ نےسر سے اتارنا چاہا ۔
”تم جانتی ہو وہ شئیر ہولڈر ،کا بیٹا ہے ،اگر وہ شئیرز واپس لے لیں تو ؟ “ولیم نے ناراضگی سے کہا ۔
”کم آن ،سر پھاڑا ہے ،جان تو نہیں لی نا ۔اور اس کے صرف تیس فیصد شیئرز ہے “وہ کافی پیتے رک کے بولی۔
”کیتھ !اب میں کوئی بھی بچکانہ حرکت برداشت نہیں کروں گا “ولیم نے اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کال کاٹ دی ۔کیتھ نے شکر کا کلمہ پڑھا کہ ولیم کو یہ نہیں پتہ کہ وہ ہاسٹل میں ہے ۔اس نے گہری سانس لے کر چیزیں اٹھائی اور ہاسٹل میں داخل ہو گئی۔
اپر فلور پر پہنچ کر جونہی وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی تو ا س نے دیکھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا ہوا ہے ،وہ آنکھیں سکیڑے کمرے میں داخل ہوئی ،تو سامنے ایک لڑکی کھڑی الماری میں کپڑے لٹکا رہی تھی اس کا سامان اس کے بیڈ پر بکھرا پڑا تھا ۔کیتھ کے داخل ہوتے ہی وہ لڑکی پیچھے مڑی ،اس کے بال کندھوں تک آتے تھے ۔
”ہاۓ! سمینتھا ایڈم “اس نے مسکرا کر اپنا نام بتا یا ۔کیتھ نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنی ساری چیزیںاپنے بیڈ کے ساتھ موجود سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی ۔سمینتھا کو اس کا رویہ عجیب لگا ۔
”آپ کب یہاں آئی ؟ میں تو کافی سالوں سے یہی رہ رہی ہوں “ وہ الماری کے نچلے حصے کو کھولتے ہوۓ بولی ۔”یہاں پہلے جو لڑکی تھی اس کی جاب چھوٹ گئی تھی اس لیے وہ چلی گئی “وہ خود سے ہی اسے بتانے لگی ۔کیتھ اپنی چیزیں سمیٹ کر بیڈ پر بیٹھ گئی ۔سمنتھا اپنے جوتے رکھ کے کھڑی ہوئی اور دوسری جانب کے پٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔
”وہاں میری چیزیں ہے ان کو چھونا بھی مت “کیتھ نے کاٹ دار لہجے میں تنبیہ کی ۔
”آآ!کام ڈاؤن گرل “سمینتھا پیچھے کو مڑ کر بولی ۔”کوئی پرابلم ہے میرے یہاں ہونے سے “وبیڈ پر بیٹھ گئی۔
”مجھے آپ کے ہونے سے کوئی پرابلم نہیں ہے ،جو دل میں آۓ وہ کریں۔ “ کیتھ کہہ کر باہر کی جانب چلی گئی ۔سمنتھا حق دق رہ گئی ۔اتنی بری روم میٹ اسے پہلے کبھی نہیں ملی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یحییٰ کو وہی چھوڑ ہادی واپس گھر آگیا ۔پچھلے دروازے سے داخل ہونے کے بجاۓ وہ پریشانی میں مین ڈور سے اندر آیا ،گارڈن کو پار کر کے اس نے داخلی دروازے کو کھولا تو مسٹر سٹیورڈ کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی شاید وہ ابھی تک ایون کو کہانیاں سنا رہے تھے ۔ہادی قدم اٹھاتالانچ کی جانب بڑھ نے لگا ،سامنے کا منظر وہی تھا جو اس نے سوچا تھا ۔مسٹر سٹیورڈ کے ساتھ تین پولیس آفیسر براجمان تھےاور ایون سائیڈ پر کھڑا تھا ،اس کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی ،ہادی کو دیکھ وہ سیدھا کھڑا ہو گیا ۔مسٹر سٹیورڈ کی نظر اس پر پڑی تو وہ غصے سے بولے ۔
”یہ رہا وہ “اس نے ہادی کی طرف اشارہ کیا ۔
”میرے خیال سے ہمیں ہادی سے پوچھ لینا چاہیے پہلے “ایون اس کی طعرف داری کرتا آگے کو چل کر آیا ۔
”نہیں ! اس کو پولیس سٹیشن لے کر جائیں ۔ “مسٹر سٹیورڈ اونچی آواز میں بولے ۔ہادی خاموشی سے کھڑا لب کاٹنے لگا ۔اب پتہ نہیں یحییٰ نے کیا شکایت لگائی ،اس کو پٹنے کی یا پھر۔۔اس نےدل ہی دل میں سوچا۔انھی سے پوچھ لیتا ہوں ۔
”پر میں نے کیا کیا ہے ؟“ہادی نے معصوم بن کر پوچھا ،چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت لے آیا ۔
”آپ کے خلاف درخواست دائر کروائی گئی ہے “پولیس آفیسر کھڑا ہو گیا ۔
”کس چیز کی ؟ہادی نے آبرو اٹھایا ۔
”اسمگلیگ کی ۔کہ آپ اپنے ملک سے اسمگلنگ کرنے کے لیے یہاں آۓ ہیں “پولیس آفیسر نے رعب دار انداز میں کہا ۔
”یہ بے بنیاد الزام ہے “اس نے چار لفظ کہے ۔
”پھر آپ ثابت کریں مسٹر جو بیگز آپ یہاں لاۓ تھے ان میں کوئی ایسا مواد نہیں تھا ۔آپ کے دوست ایون نے بتایا ہے کہ آپ جب یہاں آۓ تھے تو آپ کے پا س کوئی بھی ویسا بیگ نہیں ہے جبکہ ائیر پورٹ کی فوٹیج میں آپ کے پاس تین بیگز ہے ۔آپ کو اسٹیشن چل کہ بتانا ہوگا کہ بیگز میں کیاتھا ؟ اور اب وہ کہاں ہے ؟،اور ہم نے آپ کے سامان کی تلاشی بھی لی ہے کوئی ایسا بیگ نہیں ملا ۔سب کچھ کلئیر ہونے تک آپ کو کسٹڈی میں رکھا جاۓ گا “۔آفیسر نے ٹہر ٹہر کر کہا تو ہادی کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ۔
”دوبارہ یہاں قدم نہ رکھنا ،اس کا سامان بھی لے کر جائیں سر! میں رٹائیر آرمی آفیسر اپنے گھر میں کسی اسمگلر کو نہیں رکھ سکتا “مسٹر سٹیورڈ پھر بولے ۔
”میری بات سنیں “ہادی نے کچھ کہنا چاہا مگر ایک پولیس آفیسر نے آگے بڑھ کر اس کے سامنے ہتکری کی ۔
”اب آپ سے جو بات ہوگی وہ تھانے میں ہوگی۔ “ آفیسر نے اسے ہتکری لگائی ،یہ سب کچھ اس کے لیے نیا نہیں تھا ۔ہتکری ،جیل یہ سب تو پہلے بھی ہو چکا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *