TARIKI SE ROSHNI KI JANIB BY FATIMA SAMAD CHAPTER 1.

جزو: گمراہی

باب : جو تم سے یوں ملے

پہلی نظر میں کیسا اثر ہو گیا تھا
وہ اجنبی بھی دل کا سفر ہو گیا تھا
آنکھوں نے آنکھوں سے جو بات کی تھی
خاموش لمحہ بھی معتبر ہو گیا تھا
ہلکی سی مسکان، جھکی سی پلکیں
دل کا سکون جیسے ادھر ہو گیا تھا
ہم کچھ نہ بولے، وہ کچھ نہ بولا
پھر بھی عجب سا اثر ہو گیا تھا
اس ایک ملاقات کی خوشبو سے
دل عمر بھر کے لیے معطر ہو گیا تھ


گھر میں میوزک زور سے بج رہا تھا۔ ہنسی، قہقہے، تصویریں، شور… ہر طرف زندگی تھی۔ باہر کینیڈا کی سڑکوں پر برف گر رہی تھی، مگر اندر پارٹی کا ماحول گرم تھا۔

وہ سب سے الگ کھڑی تھی۔ سادہ سا لباس، بازو سینے پر بندھے ہوئے، چہرے پر بے نیازی۔

دروازہ کھلا۔ چند لڑکے اندر آئے۔ اونچی آوازیں، بے تکلف ہنسی، خود اعتمادی سے بھرے انداز۔

ایک لڑکا اس کی طرف بڑھا،
آپ کافی خاموش ہیں، سب ٹھیک ہے؟

اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس میز پر رکھا گلاس ایک طرف رکھا، کوٹ اٹھایا۔

روز نے حیرت سے پوچھا،
انا کہاں جا رہی ہو؟ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی


مام اور ڈیڈ کی بہت کالز اچکی ہیں انا مسکراتے ہوئے بولی

Ok dear! Ring me when you get home

(ٹھیک ہے ! گھر پہنچ کر مجھے کال کرنا۔)

وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔
سرد ہوا نے اس کے چہرے کو چھوا۔

موسیقی کا شور پیچھے رہ گیا۔ سامنے خاموش سڑک، گرتی ہوئی برف، اور اس کے قدموں کی آواز۔

کچھ دوری پر پہنچ کر اس نے پرس سے ایئرپوڈز نکالے اور اپنا فیورٹ گانے کنیکٹ کر کے کان میں لگایا

چند منٹ بعد ہی برفباری کا سلسلہ شروع ہو گیا”

” اکتوبر کے مہینے میں برف باری،
سال کی پہلی برف باری خداوند میرا اگلا سال بھی کینیڈا میں اس طرح گزرا ،اپنے مام اور ڈیڈ۔ کے
ساتھ اور کینیڈا کی ان فضاؤں کے ساتھ”

You’re the light, you’re the night
You’re the colour of my blood
You’re the cure, you’re the pain
You’re the only thing I wanna touch
Never knew that it could mean so much, so much

You’re the fear, I don’t care
‘Cause I’ve never been so high
Follow me to the dark
Let me take you past our satellites
You can see the world you brought to life, to life

So love me like you do, la-la-love me like you do
Love me like you do, la-la-love me like you do

وہ گانا گاتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔

میٹرو اسٹیشن کتنا دور ہے، آج سے پہلے تو نہیں لگا۔
خود سے باتیں کرنے کے چکر میں اس کی سامنے سے آنے والے شخص سے ٹکر ہو گئی۔
انا کے کان میں لگا airpod برف پر گر گیا۔

سامنے والا شخص بھی لڑکھڑایا اور اس کا بھی airpodزمین پر گر گیا۔
اب انا کو پہچاننے میں مشکل ہو رہی تھی کہ کون سا اس کا ہے۔
انا نے نیچے جھک کر airpod اٹھایا، گانا ابھی بھی چل رہا تھا۔

“This is mine”
انا یہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔
کچھ قدم چلنے کے بعد گانا رک گیا۔”

اس نے فوراً موبائل کھول کر دیکھا، گانا چل رہا تھا۔
اس نے کان سے airpordنکال لیا
خداوند، آج ہی سارا مسئلہ ہونا ہے۔

“This one is mine.”

سامنے سے کسی نے آ کر اس کے ہاتھ سے ایئرپوڈ اٹھا لیا۔

“My mistake. ویسے آپ بھی یہی گانا سن رہے تھے۔”

“Not interested in your talk.”

کتنا فضول آدمی ہے،
انا نے تھوڑا چلا کر کہا۔
وہ شخص تیزی سے پیچھے مڑا اور اس نے انا کو حیرت سے
دیکھا۔

انا اچانک گھبرا گئی۔
اسے اردو کیسے آتی ہوگی؟”


“رات کے دو بجے بھی میٹرو میں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی، وہ ہینڈل پکڑ کر کھڑی ہو گئی۔
10 منٹ بعد
ٹرین اسٹیشن 4، Yonge street
انا پرس سنبھال کر اتر گئی۔”

Yonge Street کی خوبصورتی اس کی جگمگاتی روشنیاں، مصروف بازار اور ہر وقت زندہ دل ماحول میں چھپی ہوئی ہے۔ یہاں دن ہو یا رات، ہر طرف روشنیوں کا ایک دلکش منظر ہوتا ہے جو اس سڑک کو اور بھی حسین بنا دیتا ہے

۔ اونچی عمارتیں، خوبصورت دکانیں اور چلتے پھرتے لوگ اس جگہ کو ایک جدید اور پرجوش انداز دیتے ہیں۔

یہ سڑک صرف ایک راستہ نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں زندگی ہر وقت رواں دواں نظر آتی ہے، اور یہی اس کی اصل خوبصورتی

خدا وند کا شکر ہے صحیح وقت پر پہنچ گئی۔

انا نے گھڑی کی طرف نظر گھمائی رات کے تین بج رہے تھے۔

ویسے میں جلدی بھی نہیں پہنچی ہوں۔

Delicate key سے وہ خاموشی سے گیٹ کھول کر اندر آئی۔
صوفیہ صوفے پر بیٹھی تھی۔

وہ خاموشی سے سر جھکا کر پیچھے سے جانے لگی۔
سامنے سے اولیور آ گئے۔ انا نے اشاروں سے ان سے مدد مانگی۔
صوفیہ آج بارش جیسا موسم نہیں ہو رہا ہے۔

اولیور نے بہانہ بنایا۔ انا نے ہاتھ سر پر مارا
آنکھوں ہی آنکھوں میں اتنا برا بہانہ بنانے کی تعریف کی۔

انا رک جاؤ۔
Hello mom

چہرے پر آتی لٹ اس نے پیچھے کی۔

انا اس وقت شارٹ ٹاپ لانگ اسکرٹ میں آف وائٹ لانگ کوٹ میں تھی۔

اتنی دیر کہاں ہوئی؟

مام میں روز کے گھر سے نکلی تھی برف باری ہوگئی بس اس وجہ سے دیر ہوئی ہے۔

صوفیہ، بچی کو چھوڑو اب، جاو انا جا کر سو جاؤ۔

تھینکس ڈیڈ، لو یو۔ انا اولیور کو فلائنگ کس دیتی اوپر چلی گئی۔

انا اولیور اور صوفیہ اور اولیور کی اکلوتی بیٹی ہے۔ صوفیہ اور اولیور کی انتہائی محبت نے اسے کافی حد تک بگاڑ دیا ہے۔

اس نے اپنی زندگی کے 9 سال پاکستان میں گزارے۔ اس کے بعد وہ صوفیہ اور اولیور کے ساتھ کینیڈا آ گئی جہاں وہ اپنی زندگی کے 10 سال گزار چکی ہے۔ اس کا تعلق عیسائیت سے ہے اور اسے اپنے مذہب سے بہت لگاؤ ہے۔

ابھی وہ university of Toronto کے دوسرے سال میں ہے۔

ہیلو روز،
روز کا پورا نام روزلائن ہے مگر انا اسے روز بلاتی ہے۔
گھر پہنچ گئی انا؟
ہاں یار، 5 منٹ پہلے پہنچی ہوں
۔
کیا مطلب اتنی دیر؟ روز نے حیرت سے پوچھا
انا نے اس لڑکے سے ملنے کا پورا واقعہ اسے بتایا۔

مجھے نہیں لگ رہا کہ اسے اردو آتی تھی۔

مجھے بھی نہیں لگ رہا۔ انا بالوں سے کھیلتے ہوئے بولی۔

سو جاؤ انا، کل ملتے ہیں۔

Take care and good bye

اے زندگی بتا تو میری کیا لگتی ہے
کبھی مجھ سے راضی تو کبھی خفا لگتی ہے

اتنا درد ہو دیا ہے تو نے میرے سینے میں
سانس لیتا ہوں تو زخموں کو ہوا لگتی ہے

______________________(⁠ ⁠◜⁠‿⁠◝⁠ ⁠)⁠♡____________________

انا اٹھو بیٹا صوفیا نے ا کر انا کو اٹھایا

کیا ہوا mom مجھے سونے دیں

University نہیں جانا

او شٹ

وہ بیڈ سے اتری
اس کا بیڈ کھڑکی کی ساتھ کنارے پر تھا برابر میں شیلف رکھی ہوئی تھی

اس نے اپنے کمرے کو خود ڈیزائن کی تھا
شیلف میں انگلش ناول بھرے ہوئے تھے

انا ۔۔

جلدی گھر اجانا اج

اج جلدی کیوں

انا چرچ جانا ہے

پراج جمعرات ہے

اج سپیشل prayer ہے ویسے بھی کرسمس قریب ہے اس لیے

مام کہاں جانا ہے

مجھے خود بھی نہیں پتہ کہاں جانا ہے

Bye mom take care

Hey anna
Oh rose ..
میں گھر سے جلدی نکل گئی تو میں نے سوچا کہ میں تمہیں گھر سے لے لوں
اچھا کیا ورنہ مجھے اکیلے جانا پڑتا ہے اسٹیشن تک
اج شام prayer ہے church میں تم اؤ گی روز نے سوال کیا

ہاں مگر وہ down town سے کافی دور ہے
چلو پھر ہم ساتھ ہی یونیورسٹی سے نکل جائیں گے
Ok

پتہ ہے نا ہماری یونیورسٹی میں پاکستانی کچھ لوگ آرہے ہیں
مجھے سوچ سوچ کے عجیب ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ پڑھنا پڑے گا
ارے تمہیں کیا مسئلہ ہےrose

عجیب نقاب تعویذ اور سرمہ میں ہوں گے
پاگل ہو روز میں پاکستانی ہوں اپنی زندگی کے نو سال پاکستان میں گزار ہیں
تو وہ سچ میں بالی وڈ جیسے نہیں ہوں گے
نہیں بھئ پاکستان والے کافی ماڈرن ہیں چھوڑو ان سب باتوں کو اب
وہ دونوںstation کی سیڑھیاں اتر کر نیچے ائے کاڑد لگا کے
entry کی
میں تو ابھی my fault دیکھ رہی ہوں روز بولی
خیر اتنے بے ہودگی مجھےسے برداشت نہیں ہوتی اس لئے پاکستانی ڈرامے دیکھتی ہوں

ابھی کوئی دیکھ رہی ہو کیا انا
ارے ہاں ایک دیکھ رہی ہوں بتاؤں گی
اچھا تم نے مجھے ایک korean drama کے بارے میں بتایا تھا
کون سا نام یاد نہیں ا رہا
تم نےthe judge from hellکےبارے میں بتایا تھا

ہاں یار وہ بہت اچھا ڈرامہ ہے وہ thriller سیریز ہے سائیکالوجیکل ہے
سٹوری بتا دو مجھے۔ انا فورا بولی

یہ کہانی ایک جج کی ہے جو دراصل جہنم سے آئی ہوئی مافوق الفطرت ہستی ہوتی ہے۔
وہ ایسے مجرموں کو سزا دیتی ہے جو دنیاوی عدالت سے بچ جاتے ہیں۔
شروع میں وہ بےرحم ہوتی ہے اور صرف سخت انصاف پر یقین رکھتی ہے۔
انسانوں کے درمیان رہ کر وہ ان کے جذبات اور درد کو سمجھنے لگتی ہے۔
ایک اچھے انسان سے مل کر اس کی سوچ بدلتی ہے۔
آخر میں وہ سیکھتی ہے کہ انصاف کے ساتھ رحم بھی ضروری ہے۔

ان کا سٹاپ ا چکا تھا وہ metro station سےباہر نکل ائی
اب تم بتاؤ انا تم کون سا ڈرامہ دیکھ رہی ہو
ان دونوں کی دوستی ایسی ہی تھی جب انا کوئی ڈرامہ دیکھی تو روز کو بتاتی اور روز جب کوئیseries دیکھتی سب سے پہلے انا کو بتاتی
میں ابھی لیڈر دیکھ رہی ہوں اور یہ پالیٹکس پہ ہے پاکستانی پالیٹکس ہے بہت زیادہ اچھی سٹوری ہے

دونوں university پہنچ چکے تھے
خوبصورت طریقےسے پھولوں سے سجا ہوا
رات بھر برف باری کی وجہ سے درختوں نے سفید چادر پہن لی
university of toronto

Canadaکی سب سے بڑی اور خوبصورت یونیورسٹی
سردی کی وجہ سے اس نے لانگ کوٹ پہنا ہوا تھا
بال پونی میں قید تھے۔ براؤن اور بلیک بال اور نیچے سےwavy تھے

روز کینیڈین تھی

روز اور ان کی دوستی سات سال سے زیادہ کی تھی
وہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہا کرتی تھی
انا cristian تھی اور روز کے حساب سے اس کا کوئی مذہب نہ تھا
ان کی دوستی یونیورسٹی میں مشہور تھی
وہ دونوں ساتھ ملیں گی ورنہ الگ کبھی نہیں ملیں گی

لوگ اکثر کہتے ہیں
زندگی رہی تو پھر ملیں گے

مگر ایک دوست کیا خوب کہا ہے
ملتے رہیں گے تو زندگی رہے گی

______________________(⁠◍⁠•⁠ᴗ⁠•⁠◍⁠)⁠✧⁠*⁠。______________

Anna and rose you are late
(انا اور روز، اپ دیر سے آئے ہیں۔)
ابھی وہ دونوں اندر داخل ہوئے تھے تو پروفیسر کی اواز ان کے کان میں پڑی لگتا ہے

پھر انہیں کوئی تب چڑھ گئی ہے
انا کی بات پر روز زور سے ہنسی
Miss roseline am i joking?
(مس روزلین، کیا میں مذاق کر رہا ہوں؟)

No sir
روز نے ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے کہا
Sorry sir
دونوں نے بیک وقت کہا
Okay , Anna you can cone but rosaline stand outside for the whole lecture

But sir…..

No more argumemt rose

Okay sir

ٹھیک ہے انا، تم آ سکتی ہو لیکن روزلین پورا لیکچر باہر کھڑی( رہیں۔
لیکن سر…
مزید بحث نہیں، روز۔
)ٹھیک ہے سر

یہ کہہ کر روز باہر کی طرف بڑھ گئی
Anna just come quickly .i want to start the lecture

Sorry sir
انا یہ کہنے کے بعد رکی نہیں بلکہ روز کے پیچھے چلی گئی

وہاں پیچھے کھڑے سر اور بچے حیران ہو کر انا کو جاتا دیکھ رہے تھے
Any way class lets continue

روز رکو
مجھے پتہ تھا کہ میرے پیچھے اؤ گے
لائبریری چلیں
چلو پھر وہ دونوں بھاگتے ہوئے لائبریری پہنچے
اندر کچھ اسٹوڈنٹس پڑھنے میں مصروف تھے

وہ شیلف کی طرف بڑھ گئی

اج کل کچھ پڑھ رہی ہو انا

ہاں۔ انا نے ناول اٹھاتے ہوئےکہا

مجھے بتاؤ کیا پڑھ رہی ہو

چھوڑو تم بتاو تمہاریtwisted series ختم ہو گئی
نہیں ابھی تو میں twisted liesپڑھ رہی ہوں

اچھی بات ہے تم کیا پڑھ رہی ہو
My heaven flower

But wait a second, this book is written by a muslim

Yes , by mahi bilal

تو تم کیسے پڑھ سکتی ہو

انکھوں اور منہ سے یار

مطلب وہ تو اسلام کے بارے میں ہوگی

اسلامک لائن سکپ کر دیتی ہوں صرف عبداللہ اور فاطمہ کی لائن پڑھتی ہوں

Girl this is the library not your music concert

Sorry mam

وہ دونوں بکس اٹھا کر کنارے پر ا کے بیٹھ گئے

منظر کچھ ایسا تھا کہ وہ خاموشی سے novel پڑھنے میں مصروف تھی
Wohoo
روز ایک دم سے چینخی
وہیں لائبریرین نے انہیں گھورتی ہوئی نظروں سےنوازا

Sorry maam

Roseline its your last time

Okay maam

کیا ہو گیا ہے تم انسانوں کی طرح کیوں نہیں رہتی ہو

Finally cristian and stella are in love

ادھے گھنٹے بعد
انا اٹھو
موم سونے دیں روز نے سامنے بوتل سے پانی اس پہ ڈالا
کیا ہو گیا روز
شکر ہے لائبریرین ان کی طرف متوجہ نہیں تھی ورنہ اب تک ان دونوں کو چھوڑتی نہیں

میرے اوپر پانی ڈالے گی کیا ضرورت تھی
تم اٹھ نہیں رہی تھی

پروفیسر کی کلاس ختم ہو چکی ہوگی اب ہم کلاس میں چلیں
تم سوئی نہیں تھی رات کو

ہاں ہاں تم رات کو پارٹی رکھو پھر مجھ سے پوچھو سوئی کیوں نہیں تھی
I am sorry

چلو اب ورنہ پروفیشن ایڈم سے بھی ڈانٹ کھائیں گے

وہ دونوں کلاس کے باہر پہنچےتو پروفیسر کچھ لکھنے میں مصروف تھے

وہ دونوں خاموشی جا کر اوپر بیٹھ گئے
So students

ان کی نظر روز اور انا پر پڑی

مگر انہوں نے اپنا لیکچر جاری رکھا

اج تو بچ گئے
انا سب تمہاری وجا سے ہوا

میری وجہ سے
کس نے کہا تھا سونے کو

اور تم سے کس نے کہا تھا

ادھی رات کو پارٹی رکھنے کو

معلوم ہوتا ہے دونوں کا ساتھ ختم ہونے کی گنتی شروع ہو چکی تھی

کوئی دوست کبھی پرانا نہیں ہوتا
کچھ دن بات نہ کرنے سے بیگانہ نہیں ہوتا

دوستی میں دوریاں تو اتی ہیں
پر دوری کا مطلب بھلانا نہیں ہوتا


________________♡⁠˖⁠꒰⁠ᵕ⁠༚⁠ᵕ⁠⑅⁠꒱_________


اج ان دونوں نے لاسٹ کلاس چھوڑ دی تھی
روز جلدی بیگ پیک کرو لیٹ ہو رہے ہیں
چلو اب انا نے روز کا ہاتھ پکڑا باہر کی طرف بڑھ گئی
University of toronto
نے انہیں خدا حافظ کہا
اب جلدی چلو مجھے لگ رہا ہے برف باری شروع ہونے والی ہے
وہ دونوں queen street west پر ہاتھ پکڑ کے بھاگ رہی تھی

وہاں پہ موجود لوگ ان کو مر مر ان کو دیکھ رہے تھے
انا بس کرو بھاگنا

اب وہ دونوں اس خوبصورت سڑک کے ساتھ چل رہے تھے

انا اور روز دونوں ارام سے باتیں کر رہی تھیں

وہ دونوں stationکی سیڑھیوں سے نیچے ائے

تبھی metro جو station میں رکی تھی اس کے دروازہ بند ہو رہے تھے
میں نے کہا تھا جلدی چلو
وہ دونوں ایک دوسرے کو الزام دے دے رہیں تھیں

15 منٹ اور انتظار کرنا پڑے گا ایک کام کرتا ہے باہر سے بس لیتے ہیں
مگر تمہارا route تو نہیں ائے گا انا
بس سے میں تمہارے ساتھ چلوں گی وہاں سے yonge street چلی جاؤں گی

اچھا پھر چلو

بس انے پر سٹوڈنٹ کاڑد لگایا وہ اندر کی طرف بڑھ گئی
پانچ منٹ کے انتظار کے بعد وہ دونوں اس وقت موبائل پہ مصروف تھی جب بس اسٹیشن پہ رکی
برف باری پھر سے شروع ہوچکی تھی

شکر ہے وہ دونوں اس وقت کوٹ میں ملبوس تھیں ورنا م ٹھنڈ نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی
وہ دونوں میٹرو اسٹیشن تک ساتھ ائی
چلو اب تم جاؤ انا

تھینک یو یہاں تک انے کے لیے

نیچے پھر سے میٹرو نہ نکل جائے جلدی جاؤ

بائے انا ہاتھ ہلاتی ہوئ نیچےآئ
کاڑد لگا کے اگے برہی ہی تھی کے نو بیلنس شو ہو گیا

پیسے دے کر جلدی سے ٹکٹ خریدا
پانچ منٹ انتظار کرنے کے بعد میٹرو اگئ

انا نے بور ہو کر بیگ سے ایئرپورٹس نکالے اور ایک سونگ سلیکٹ کر کے لگا لیا

Stay with me

everytime I close my eyes
oh I always see those eyes
so i wanted to forget
all the pain since we first met

if this isn’t real
someone wake me from this dream please
is this destiny
are we really meant to be
fall, falling you


like destiny were just falling
you’re calling out to me calling
i can’t escape your love no more
just hold me

the other half of my being
all the while I’ve been waiting
for you to take my heart with you
it’s sinking

(stay with me)
and are you living in my heart within me
(stay with me)
with all the truth i hid so deep


everytime I close my eyes
oh I always see those eyes
so i wanted to forget
all the pain since we first met

if this isn’t real
someone wake me from this dream please
is this destiny
are we really meant to be
fall, falling you

انا نے سیٹ سے ٹیک لگا کر گانا سن رہی تھی مگر نیند نے کب ا لیا اسے پتہ ہی نہیں چلا

ایک دم سے پاؤں پہ کچھگرا انا گھبرا کے اٹھی
خداوند لگتا ہے میرے سٹاپ نکل گیا
Station 4 : yonge street
شکر ہے انا باہر ائ
اور اس شخص کو ڈھونڈنے لگی جس نے اسے اٹھایا تھا

اسے بلیک ہوڈی میں وہ شخص نظر آ گیا
وہ بھیر سے نکل کر اس کی طرف گئ

اپ کا بہت بہت شکریہ اس نے اردو میں کہا
یہ تو کل رات والا ہے
Yes madam

Thank you for waking me up in metro

Okay

وہ شخص وہ یہ کہہ کر اگے بڑھ گیا
عجیب انسان ہے انا غصے میں بولی مگر اواز اسے لڑکے تک پہنچ گئی
Yes وہ گھبرا کے بولی
اپ کو لگتا ہے canada میں اردو صرف اپ ہی کو اتی ہے

وہ لحاظ کےبغیر اردو میں بولا
No i am sorry
یہ کہہ کر انا جلدی سے باہر اگئی خداوند اسے تو اردو اتی تھی اسے کل والا واقعہ بھی یاد ہوگا
انا کو اس وقت منہ چھپانے کے لیے جگہ چاہیے تھی

زندگی پر نہ اعتبار مجھے
ختم لگتا ہے کاروبار مجھے

ہر گھڑی پوری ہو چکی ہے مگر
ہے فقط تیرا انتظار ہے مجھے

پاس رہ کے جو دور جانا تھا کیوں بنایا گلے کا ہار مجھے

وقت رخصت ہے کشمکش ہے ابھی
تم ہی کردو ہمکنار مجھے

یہ میری اخری تمنا ہے
دو گھڑی کر لے تو بھی مجھے

 

________________________(⁠。⁠♡⁠‿⁠♡⁠。⁠)__________________

 

Anna
میں کہتی ہوں وہیں رک جاؤ تم اتنی دیر سے کیوں ائی ہو میں نے جلدی انے کو کہا تھا

انا نے oliver کو مدد خواہ نظروں سے دیکھا
انا تمہارے دوست صحیح ہے
کیا
کون سی دوست صوفیا نے پوچھا

ارے وہی جس کا accident ہو گیا تھا کیا نام بتایا تم نے ہاں وہ ایملی اب وہ کیسی ہے

ہاں یاد ایا مام میری دوست ایملی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا تو میں اور روز ہاسپٹل میں تھے
اب کیسی ہے

خداوند کی مدد سے بہتر ہے

انا oliverکو ہائی فائی کرتی ہوئی اندر چلی گئی

بیگ کو کرسی پر پھنکا اور وہ زور سےبیڈ پر گری

ہیلو روز

تمہیں پتہ ہے روز مجھے وہی لڑکا ملا پھر
کون سا انا
یاد ہے کل میں تمہیں بتایا تھا

یاد ہے کیسےاور کب ملا

میں میٹرو میں بیٹھی تھی اور میری انکھ لگ گئی مگر اس نے اپنا بیگ میری گود پہ رکھا جس کی وجہ سے میرے انکھ کھل گئی اور جب میں نے اس کے پیچھے شکریہ بولنے کے لیے

وہ سانس لینے کی رکی پھر

اس نے کچھ کہے گا بغیر بات ختم کر دی میں نے اس کے منہ پر اسے عجیب کہہ دیا

اور اسے سن لیا اور مجھ سے کہا صرف اپ ہی کو اردو اتی ہے مس
واٹ
ہاں سچ میں اب میں جا رہی ہوں کہ تیار ہونے کے لیے

چرچ میں ملتے ہیں انا
بائے
اس نے فون بیڈ پر پھینکا اور تیار ہونے کے لیے چلی گئی

ٹاپ کے نیچے long skirt اور وائٹ کوٹ بال ہمشہ کی طرح کھولا
ہلکی سی lip gloss لگا کر وہ نیچے اگئی
Mom i am ready
انا تم نے لاکٹ نہیں پہنا
Sorry mom i forgot

یہ لو
اب لا دیا ہے مام تو پہنا ہی دیں
یہ ایک کراس نیکلس تھا

یہ سفید دوپٹا لو اور سر پر اوڑھ لو ایسے اچھا نہیں لگتا

اب جلدی چلو

ادھے گھنٹے کی drive پر وہ لوگ پہنچ چکے تھے

رش ہونے کی وجہ سےoliverنے گاڑی دور پارک کی
St.Micheals cathedral basilica

تاریخی اور قدیم چرچ اپنی مثال میں اپ تھا

انا نے اس سے پہلے اس قدر خوبصورت چرچ نہیں دیکھا تھا

وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اس کی خوبصورتی کو چار چاند چاندنی کا صلیب کا لاکٹ لگا رہا تھا سفید دوپٹہ میں سے کھلے لمبے بال ہوا کی وجہ سے لہلہا رہے تھے

وہ لوگ چرچ کے داخلی پر دروازے پہنچ چکے تھے وہاں پر فادر سب کا استقبال کر رہے تھے

ہیلو الیور اینڈ مسز اولیور انہوں نے انا کی طرف دیکھا
She is my daughter Anna

کیسی ہو پیاری بچی
خداوند کی مہربانی سے صحیح ہوں
چلو خیریت سے جیو انا نے احترام سے سر جھکایا
اندر داخل ہوتے ہی یہ ایک الگ دنیا تھی رنگین شیشوں سے چھنتی روشنی جلتی موم بتیوں کی خوشبو اور بیک گراوند میں music کی ہلکی آواز
یہ چرچ باہر سے اپنی مثال اپ تھا
مگر اندر سے انتہا کاخوبصورت کوئی دیکھے اور متاثر نہ ہو ایسا ممکن نہیں تھا

انا کا خیال تھا کہ دنیا میں اس کے زیادہ خوبصورت کچھ نہیں مگر انے والے سالوں میں یہ خیال غلط ثابت ہونے والا تھا

انا رک کیوں گئی

کچھ نہیں مام
وہ لوگ اگے جا کے سیٹ پر بیٹھ گئے

فادر اسٹیج کی طرف ائے
انہوں نے بائبل پڑھنی شروع کی

سب کے چہرے پر سکون ہو گئے

ان کی گہری اور پر سکون آواز گونجی

وہیں صوفیہ اور الیور کے دل سے ایک دعا نکلی
خداوند ہماری بیٹی کو ہمیشہ اپنے سائے میں رکھی گا

انا خاموش بیٹھی تھی

اس کے سامنے لکڑی کے صلیب تھا جس پر روشنی پڑ رہی تھی
اس نے خاموشی سےانکھیں بند کیں اور سینے پر کراس کے نشان بنایا

God … i don’t know what my life will be , but please guide me where you want me to go

انا نے یہ دعا مانگ کر آنکھیں کھولی

وہیں فادر نے بائبل پڑھ کر بند کر دی

چرچ کی خاموشی میں مدہم سانسوں کی اواز تھی
کسی نے پھر سے گیت گانا شروع کیا

یہ مل کر ایسی کیفیت بنا رہے تھے جہاں آوازوں کی ضرورت نہیں تھی

فادر نے اختتام کیا
Let us pray for peace , for love and for forgiveness

لوگ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے انا بھی ایسے ہی زمین پہ بیٹھ گئی

اس کے چہرے پر اضطراب اور سکون دونوں کی ملی جلی کیفیت تھی
گھنٹی بجی سب آہستہ آہستہ اٹھ کر چلے گئے

چلو انا
Yes , dad coming
اس نے باہر نکل کر اس عظیم وشان چرچ پر آخری نگاہ ڈالی

_____________________♡⁠˖⁠꒰⁠ᵕ⁠༚

⁠ᵕ⁠⑅⁠꒱______________________

 

وہ تینوں چرچ سے باہر نکل ائے

جلدی کریں اولیور

مام ہم اج باہر ڈنر کرتے ہیں

ہاں انا صحیح کہہ رہی ہے

مگر میں نے گھر پہ کھانا پکایا ہے اس کا کیا
اچھا اچھا چلو پھر

ڈیڈ کسں restraunt میں جائیں
یہاں نہیں yonge street کے کسی restraunt میں چلتے ہیں
مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے

بس صحیح ہے چلو اب

چاروں طرف کے درختوں پر برف جمی ہوئ تھی

سورج ڈوبنے کا منظر، برف باری، چرچ پر پڑتی سنہری روشنی ایک خواب سا منظر پیش کر رہی تھی

کاش وقت یہیں تھم سکتا
15 منٹ بعد
15 منٹ کی drive کے بعد وہ لوگ ڈاؤن ٹاؤن پہنچ چکے تھے

ڈیڈ یہ ریسٹورنٹ کیسے ہے
Kellys landing

Oliver نے گاڑی پارکنگ ایریا میں لگائی
یہ کون سا ریسٹورنٹ ہے

Down town most famous
چلو اندر چلتے ہیں

ریسٹورنٹ منی پھولوں سے سجا ہوا تھا
Too elegent

By the way down town is beautiful

مام میں اور روز فرائیڈے کو نائٹ اؤٹ کریں گے
مگر فرائیڈے تو کل ہے
ہاں اس لیے تو اپ کو بتا رہی ہوں
تمہیں کل جانا ہے اور اج بتا رہی ہو
کہاں جا رہی ہو
لٹل کینیڈا اور لیک انٹاریو اور پھر کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں گے
سہی ہے مگر جب تم روز کے گھر پہنچو تو لازمی کال کر دینا
صحیح ہے وہ تینوں ایریا میں بٹھ چکے تھے
انا آڑدر کرو
Okay dad

Dad check the dish prices

Stop looking on the price anna just order

باہر برف کے گولے تیزی سے گر رہے تھے

ہر چیز سفید چادر میں لپٹی ہوئی نظر آرہی تھی

اندر کا ماحول گرم اور خوشگوار تھا
تم دونوں اس طرح بولتے رہو گ تو یہ ہم سے ہیٹنگ چارجز بھی لیں گے

ویٹر ان کی طرف ایا
Any order …..

Yes ! One hot chocolate . Make it lava hot , other wise my teeth will start doing dance

ویٹر بھی ہنسی روک نہ سکا

اوکے میم

اسی دوران باہر برف باری تیز ہو گئ
مجھے لگتا ہے ہم یہاں سے نکل بھی نہیں سکیں گے

ڈیڈ فکر نہیں کرں اگر کوئی مسئلہ ہوگیا تو میں اسٹوری ڈالوں گی
Surviving in snow with drama parents

ریسٹورنٹ میں قہقہوں کی اواز گونج اٹھی

چلو مین کورس ارڈر کر لو انا
Okay dad….

Waiter…..

Yes mam

Write the order

Landing fish tacos
Pistachio gnocchi
Tuna poke bowl
Steak frites

Okay maam

Wait dessert is left

Butter tarts and beaver tails

کچھ دیر بعد ٹیبل پر دیکھا جائے تو انا صوفیا اور اولیور کھانے میں مصروف تھے

تھوڑی دیر بعد انا کھانا کھا چکی
وہ dessert کا انتظار کر رہی تھی

بٹر ٹارٹس انا کے فیورٹ تھے

کھانا ختم کرنے کے بعد وہ لوگ باہر نکلنے کی تو برف کافی جم چکی تھی اور گاڑی نکالنا impossible تھا
چلو پیدل چلتے ہیں
اوکے ڈیڈ
ہلکی پڑتی برف باری اور ایک مکمل فیملی

 

_____________________꒰⁠⑅⁠ᵕ⁠༚⁠ᵕ⁠꒱⁠˖⁠♡______________________


ایک نیا دن اور ایک نئی شروعات
Happy Halloween dear
انا تو نیچے اتر کر کے صوفیا اور الیور نے اسے وش کیا
Happy Halloween to you

گرم مختلف طرح کی چیزوں سے سجا ہوا تھا

The house looks beautiful mom

Thanks dear

وہ تینوں ساتھ تھے مکمل خاندان کے طور پر

انہیں نے ساتھ کیک کاٹا اور ایک دوسرے کو کھلایا

ہم اج ساتھ lunch کریں گے

No problem

انا نے لنچ الیور اور صوفیا کے ساتھ کیا

موم میں جا رہی ہوں اپ پلیز میری بوتل بھر دیں
White top , baggy jeans or black long coat
اس کا شمار ان لڑکیوں میں ہوتا تھا جن کو ایک بار دیکھنے کے بعد دوبارہ دیکھنے کی خواہش کی جائے

خداوند نظر بد سے بچا ئے اج سچ میں بہت پیاری لگ رہی ہو

Thank you mom , take care and byee

وہ میٹرو سےqueen street west پہنچی اس نے روز کو کال کی

Rose i am outside your house .just come quickly

Coming dear

وہ دونوں اب ساتھ چل رہی تھیں

کھانوں کی خوشبو اور holloweenکے ماحول نے ہر چیز کو خوبصورت بنا دیا تھا

وہ دونوں میٹرو میں ا کر بیٹھ گئی
Every thing is damn gorgeous today

More than gorgeous anna

پہلے ہم little canada جائیں گے پھر lake ontarioجائیں گے اور لاسٹ میں ڈنر کرکے کے تمہارے گھر پہ نائٹ سٹے کریں گے

Done

20 minutes later

Station no 8 : ramsey county

کچھ دور چلنے پر گے little canada کا بورڈ نظر ا گیا

اگر اپ کو کینیڈا پورا ایک دفعہ میں ہی گھومنا ہے تو لازمی اپ کو یہاں انا چاہیے

ایک عمارت کے اندر اپ کو کچھ وقت میں پورا کینیڈا دیکھ سکتے ہیں

یہ عمارت کینیڈا کی شان و شوکت کا منہ بولتا ثبوت تھی

یہ علاقہ بہت خوبصورت تھا انا ہم کبھی پہلے یہاں کیوں نہیں ائے

روز اور انا ٹکٹ بوٹ کی طرف بڑھ گئی
Two ticket please

کارڈ سے میمنٹ کرنے کے بعد ٹکٹ لیکر اندر بڑھ گئی

اندر ایک الگ سی دنیا موجود تھی ہر طرف ہیلوین کی سجاوٹ کدوئوں کی لائٹیں ماسک پہنے بچے موجود تھے

دونوں ہنستی اندر بڑھ رہی تھیں

اچانک سے پیچھے سے بچہ زومبی بن کر ایا زور سے بو بولا

انا چیخ کر اچھلی

Jesus christ , i have gotten a heart attack

روز کی ہستے ہنستے بری حالت ہو گئی

خاموش بھی ہو جاو

ان دونوں نے باہر نکل کر ہاٹ چاکلیٹ لی اور بینچ میں بیٹھ گئے

انا جلدی سے یہ پیو پھر ہم lake ontario
چلتے ہیں

اچھا ڈینر کہاں کریں گے روز نے سوال پوچھا

Queen street west

اوکے
روز نے ہامئ بھری اور lake ontarioکی طرف نکل گئے

دھیرے دھیرے لہریں کنارے سے ٹکرا رہی تھیں

روز یہ جگہ کتنی پر سکون ہے یہاں آکر دل کے سارے شور ختم ہو گئے ہیں

ہاں بس تمہاری باتیں ختم نہیں ہوئ ۔ روز ہنستے ہوئے بولی

دو گھنٹے یہاں پر رکنے کے بعد وہ دونوں وہاں سے بھی اٹھ چکی تھیں

ہلکی ہلکی برف باری کا سلسلہ جاری تھا

15 منٹ میں وہ میٹرو سے باہر نکلیں

ریسٹورنٹ کی طرف بڑھیں
Molkagtez mexican cuisine


انہوں نے
Nachos sencillos
Or
Brita ramen
ارڈر کر دیا تھا

وہ باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ کھا رہی تھی

_______________________(⁠ ⁠˘⁠ ⁠³⁠˘⁠)⁠♥______________________


روز اور انا اس وقت لائبری میں بکس واپس کرا کر ا رہی تھی

یونیورسٹی کی صبح ہمیشہ کی طرح مصروف تھی

سٹوڈنٹس مختلف کلاسز کی طرف جا رہے تھے

وہیں انا اور روز باتیں کرتے ہوئے ریسپشن کی طرف سے گزرے

ہوا میں کتابوں اور کافی کی خوشبو گھلی ہوئی تھی

اسی بھیڑ میں ایک نیا چہرہ موجود تھا

فارس دانیال ملک
مہنگا سوٹ ، اور وہی خود اعتمادی جو تکبر کی حد کو چھوتی تھی

ایکسکیوز می مس اسے نے ریسپشن پر جا کر کہا

New admission “Faris daniyal malik” business managment

سٹاف نے فارم پکڑتے ہوئے کہا
Welcome to toronto university

انا اور روز گزر رہے تھے
انا کو وہاں دیکھ کر فارس کو پچھلی دو ملاقاتیں یاد ائیں

Who is that girl
فارس نے انا کی طرف اشارہ کیا
Oh thats anna oliver topper of the year you will probaly meet in business ethics

Business ethics . Intersting subject for me

فارس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ اگئی

فارس سیڑھیاں چلتا ہوا اوپر اگیا

پروفیسر کی اواز باہر تک ا رہی تھی

فارس نے دروازہ کھولا
Sir may i come in
You are late

اوکے ۔وہ یہ کہہ کر جانے کے بجائے اندر کی طرف بڑھ گیا

Tell me your reason for being late on your first day

Traffic sir you know toronto never stops

Go and sit with anna

انا نے جب اپنا نام سنا تو پلٹ کر دیکھا

ہی تو وہی ہے انا وہ اخری ملاقات یاد ائی
Okay sir

وہ تابعداری سے کہتا ہے اگے بڑھ گیا
Your name

Faris daniyal malik and you can call me dangerously charming

وہ انا کے پاس آکر بٹھ گئے

I think you will have no problem partner

As long as you are here to not to show off

Oh i dont study i survive it

Arrogant , careless and hollow … what a waste of mind

فارس نے سنا مگر کچھ نہ بولا بس ہلکا سا مسکرا دیا

شاید یہ لڑکی ایک دن اس کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بننے والی تھی
انا بیگ اٹھا کر روز کے پاس چلی گئی

روز نے فورا انا سے ملتے ہوئے فارس کی تعریف کی

I think he is seriously charming
کینٹین چلو
روز تمہیں ایک لڑکے کے بارے میں بتایا تھا جیسے اردو اتی تھی وہ لڑکا فارس ہی ہے

What i can’t believe

کافی مغرور سا اور عجیب ہے
By the way he is handsome

Rosaline

Okay sorry calm down

روز جلدی جلدی فرائیز کھائی تھی

مگر انا کا ہاتھ ابھی رکا ہوا تھا
اگر تمہیں یہ نہیں کھانا ہے تو مجھے دے دو

کھا رہی ہوں جب دیکھو میرا کھانا کھاتی رہتی ہو

سوری جلدی سے کھاؤ اب

لے لو اب تم نے کھا لیا اپنے تو میں تمہیں کیا ہی منع کروں

اور تمہیں پتہ ہے روز اس فارس کو سر نے میرا پارٹنر بنا دیا ہے میں کیا کروں یار

ناچو
روز
میرا مطلب ہے چھوڑو اس کو انجوائے کرو

ایک کام کرتے ہیں لائبریر ی چلتے ہیں وہاں پہ تھوڑا سکون تو مل جائے گا

کیوں
مجھے بک لینی ہے پھر وہ دونوں اٹھ کر لائبریری کی طرف بڑھ گئے

Mam i want to borrow a book name

Name …

It ends with us

It is in the end of sixth row

Thank you Mrs Sam

بک لینے کے بعد وہ کلاس کی طرف چلے گئے


______________________♥⁠╣⁠[⁠-⁠_⁠-⁠]⁠╠⁠♥___________________


رات ہونے میں بھی کافی وقت باقی تھا

انا اکیلے میٹرو سے باہر نکل چل رہی تھی

Yonge street
تمام تر شان و شوکت کے ساتھ روشنیوں میں الگ منظر پیش کر رہی تھی

انا اج کا واقعہ سوچتے ہوئے چل رہی تھی۔

Hello topper
خداوند وہ چونک کر پیچھے موری

تم یہاں
Yonge street
کے فلیٹ میں رہتا ہوں

میں نے پوچھا نہیں

پارٹنر تم اتنی بدتمیز کیوں ہو

کیا مطلب

پہلی ملاقات میں فالتو بول دیا دوسری میں عجیب اور تیسری میں لمبا چوڑا جملہ بول دیا

اگر اس وقت ضمیر سکندر اس کو دیکھ لیتا تو وہ بے ہوش ہو جاتا پہلی دفعہ فارس نے کسی لڑکی کو خود سے مخاطب کیا تھا

میری رائے بالکل درست ہے تمہارے بارے میں

ویسے تم کرسچن ہو
فارس سوال کیا

ہاں

میں مسلمان ہوں

مجھے کیوں بتا رہے ہو پوچھا ہے کیا میں نے

نہیں تم میری پارٹنر ہو اس لیے بتا رہا ہوں

صرف بزنس کی کلاس میں

جا رہا ہوں

روکا ہے میں نے ایڈیٹ

چوتھی بار بھی وہ لڑکی اسے پھر کسی لقب سے نواز چکی تھی

شکر ہے jesus

وہ گھر کے اندر داخل ہوئے


پانی کی جگہ شیک اتنا پیار کیوں ارہا ہے اپ کو مجھ پر

پی بھی لو انا

اوپر جا کر اپنا روم سیٹ کر لینا

اچھا کرتی ہوں
کرتی ہوں نہیں جا کے کرو

اچھا مام

انا روم صاف کیا

مام مجھے نیند ا رہی ہے میں سورہی ہوں

کھانا تو کھا لو

بعد میں کھا لوں گی

انا بستر پر لیٹ گئے تھوڑی دیر میں نیند نے اسے اپنی اغوش میں لے لیا

صبح وہ بہت دیر سے اٹھی

انا جلدی سے تیار ہوئی اور نیچے گئ

ناشتہ کر لو انا نہیں کنٹین سے کر لوں گی

بائے وہ جلدی سے باہر بھاگتی ہوئی میٹرو گئی

کارڈ لگا کے وہ میٹرو میں داخل ہوئ

جلدی سے روز کو کال کی

ہیلو روز
اتنی صبح کیوں کال کر رہی ہو

پاگل لیکچر کے سٹارٹ ہونے میں پندرہ منٹ ہیں

یار میں نہیں ا رہی مجھے ادھا گھنٹہ لگے گا اس سے بہتر ہے چھٹی کرلوں

صحیح ہے پھر کل ملتے ہیں بائے

وہ میٹرو میں کھڑے ہوکر موبائل استعمال کر رہی تھی

15 منٹ بعد وہ کلاس میں داخل ہوئ

فارس دوستوں کے ساتھ ہنستے ہوا باہر ایا

اس کے لبوں پر وہی فقرہ

Life is short , enjoys it before it kills

انا دروازہ کے قریب کھڑی تھی

اس نے فارس کو دیکھ کر نظریں جھکا لیں

لیکن اب بھی اس کی اوازیں آرہی تھیں

کسی نے ہنستے ہوئے کہا
Bro you are muslim right

فارس نے لاپرواہی سے کہا

Yeah born muslim but not that praying type


سب ہنس پڑے

کسی نے مذاق میں ماشاءاللہ کہا تو کسی نے اسے برا کہا مگر کیا فارس کو ان compliment کی ضرورت تھی

تو جواب نہیں آتا ہے

انا کے دل پر جیسے کسی نے خنجر مارا یہ یہ اسلام ہے اس نے خود سے کہا

اس کے ذہن میں وہ ساری باتیں گونجنے لگی جو اس نے کہیں سے سنی تھیں

اسلام ایک مکمل دین ہے وہ محبت اور امن کا درس دیتا ہے

مگر یہاں

یہ شخص جو خود کو مسلمان کہتا ہے

نہ نماز جانتا ہے نہ احترام

زبان پر خدا کا نام مذاق ہو

اعمال میں غرور لاپرواہی


انر نے گہری سانس لی اور ایک نیا خیال ایا

اگر یہ اسلام ہے ۔۔ تو شاید میرا مذہب ذیادہ بہتر ہے ہم بیچ چوراہے پر عیسائیت کا مذاق تو نہیں بناتے

اگر یہ مذہب انسان کو اتنا بے حس اتنا خالی بنا دیتا ہے تو پھر میں خوش ہوں کے میں اس کا حصہ نہیں


شام کو وہ جلدی گھر اگئی

Is everything is fine dear

Yes mom , i just met someone from another faith and i didnot like what i saw


Not every one represents their faith my dear

صوفیا مسکراتے ہوئے بولی

اچھا ماما میں اوپر جا رہی ہوں رات کو ڈنر پہ ملتے ہیں

وہ کمرے میں ا کر لیٹ گئی اور اج کے بارے میں سوچنے لگی

_____________________(⁠๑⁠♡⁠⌓⁠♡⁠๑⁠)_________________


دسمبر کا مہینہ کے شان و شوکت کے ساتھ شروع ہو چکا تھا

اسلام کے بارے میں انا کی رائے بدتر سے بدتر ہو گئی

وہ ایک شخص کو دیکھ کر پورے مذہب کے بارے میں غلط رائے رکھنے لگی تھی


دن گزرتے جارہے تھے

کسی کے لبوں پر فارس کا نام کبھی تعریف اور کبھی طنز میں موجود ہوتا


انا نے کئی بار اسے دیکھا کبھی کیفے میں تو کبھی دنیا سے بے نیاز


اب فارس کے ساتھ اس کا رویہ اور خراب ہونے لگا تھا

وہ صرف اس کے ساتھ بزنس کی کلاس میں بیٹھتی تھی اور اس کے کسی سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی تھی

وہیں دوسری طرف فارس اس کے رویہ سے تنگ ا چکا تھا

لڑکیاں اس سے بات کرنے کے بہانے سوچی تھی وہیں یہ لڑکی اسے بات کرنے کو ہی تیار نہیں تھی

انا کل پوری رات سوئی نہ تھی

Are you fine anna

Yeah rose , you know that i used to respect islam and muslims

I thought it was about discipline , modesty and devotion
But now it looks like an illusion , every time i see him i lose a little more respect for islam . Maybe faith is not about god any more maybe its just a label people wear

Like fashion
Like faris

انا دفع کرو اس کو

ہاں پتہ نہیں میں اس کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہوں

بزنس کی کلاس شروع ہو چکی تھی

رات کو نہ سونے کی وجہ سے وہ جیسے جمائیاں لے رہی تھی

پارٹنر کیا تم رات کو سوئ نہیں ہو

تم سے مطلب

کبھی تو تمیز سے بات کرلیا کرو

مجھے ضرورت نہیں ہے

ایک کام کرو بولنا بند کرو اور سوجاو

انا اپنا سر ٹیبل پر ٹکا چکی تھی

فارس انا کو دیکھ رہا تھا وہ بلکل معصوم سی لگ رہی تھی

اگر ضمیر سکندر اس کو دیکھ لیتا تو غش کھا کر گر جاتا

پارٹنر لیکچر ختم ہوگیا ہے

فارس نے اسے زور سے ہلایا

فارس کے بچہ ۔ انا زور سے بولی

کیا تم شادی کے لیے راضی ہو
فارس نے ہلکے سے اردو میں بولا

انا اس کی ذومعنی بات نہ سمجھ سکی اور وہاں سے چلی گئ

انا بیگ اٹھا کر کینٹن اگئ
روز کی کلاس چل رہی تھی

اس نے کافی ارڈر کی اور اپنی بک اٹھا لی

وہیں پندہ منٹ بعد فارس وہاں اتا نظر ایا

مس ورلڈ اتنی سنجیدگی سے کتاب دیکھنے کا مقابلہ ہو رہا ہے

No i am just trying studing , something you should try

اوہو تو اپ کو میرے بارے میں بہت معلومات ہے

I am not interested in your type faris

My type? You mean tall , handsome and slightly dangerous ?

No i meant arrogant and over confident

At least you notice me

I notice everything that annoys me

You will smile anna , maybe not for me but because of me

انا نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا تو وہاں پر سب کو اپنی طرف متوجہ پایا

انا نے شہادت کی انگلی سے فارس کے کندھے پر دستک دی

ایسا صرف تم سوچتے ہو ۔۔ یہ کبھی ممکن نہیں جو اسلام سے مجھے تھوڑی بہت محبت ہے تم نے ختم کر دی ہے میں تو تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہوں

کیا بولا

یہ کہ تم انتہائی گھٹیا اور چیپ انسان ہو

انا یہ کہہ کر وہاں سے جانے لگی

وہیں فارس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کردی

اسنے النا کا ہاتھ پکڑ لیا

وہیں انا نے پیچھے موڑ کر بنا کچھ کہے تھپڑ مار دیا
وہ فارس کو عورت ذات سے پڑنے والا پہلا تھپڑ تھا ۔ وہ صدیوں تک اس تھپڑ کو نہیں بھولنے والا تھا

پورے مجموعے کے اندر خاموشی کی لہر دوڑ گئی

تو تم خود کیا ہو انا تم کیا سمجھتی ہو خود کو ایک لڑکی جو انجان لڑکے سے بات کرتی ہے جو رات کو گھر سے باہر نکلتی ہے تم کرسٹن ہو مگر کرسٹینٹی میں یہ بھی تو جائز نہیں ہوتا

فارس تیز اواز میں انگلش میں بول دہا تھا

دوسری طرح انا کا چہرہ زرد پڑ گیا
اس نے فارس کی عزت رکھنے کے لیے اردو میں بات کی جو صرف وہ دو سمجھ سکتے تھے

فارس خدا کرے تم بھی اسے ہی بے عزت ہو

میں خود سے وعدہ کرتی ہوں کے میں تمہیں کہی نہیں دیکھوں گی

انا یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئ

کیا وہ مجھے کرس دے کر گئ ہے ۔ فارس شل کھڑا تھا

اللہ اللہ یہ میں نے کیا کردیا اسا تو نہی تھا میں

فارس نے نیچے گرا ہوا انا کا نیکلیس اٹھایا اور اس کے پیچھے گیا

مگر وہ بھیڑ میں کہیں کھو چکی تھی

انا روتے ہوئے گھر پہنچی

وہیں دروازے پر اس نے صوفیا اور اولیور کو کھڑا دیکھا

مام ڈیڈ کیا ہوا ہے اپ لوگ باہر کیوں ہے

تمہارے چچا کا انتقال ہو گیا انا

کیا چچا کا اپ مذاق کر رہے ہو وہ تو بابا سے بھی چھوٹے تھے

ہم نے ارجنٹ فلیٹ بک کی ہے بس تم جا کے اندر ڈریس چینج کرو

مام اتنی جلدی کیسے

تمہارا سامان پیک ہے جالدی کرو ورنہ فلائٹ مس ہوجائے گی

پاکستان۔۔۔ انا بڑبڑاتے ہوئے اندر بڑھ گئ

گھر سے لے کر جہاز میں بیٹھنے کا وقت کیسے گزارا اسے کچھ یاد نہ رہا

اسے بار بار روز اور اپنی کی باتیں یاد ارہی تھیں

فارس اور خود سے کیا گیا وعدہ پورا ہو چکا تھا

کینیڈا کہیں فٹ نیچے رہ گیا مگر اس کی یادیں ابھی بھی ساتھ تھیں

روز اور اس کی بے مثال اسے تو اخری الوداع کہنے کا موقع بھی نہیں ملا

کھڑکی کے باہر کے مناظر دلکش منظر پیش پیش کر رہے تھے

کوئی غزل سنا کر کیا کرنا
یہ بات بڑھا کر کیا کرنا

تم میرے تھے تم میرے ہو
دنیا کو بتا کر کیا کرنا

تم خفا بھی اچھے لگتے ہو
پھر تم کو منا کر کیا کرنا

تیرے در پر ا کر بیٹھے ہیں
اب گھر بھی جا کر کیا کرنا

_________________________꒰⁠⑅⁠ᵕ⁠༚⁠ᵕ⁠꒱⁠˖⁠♡__________________

ختمِ نبوت کی گواہی

“کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی
اُس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی”

پروین شاکر

“حور العین۔۔۔!” نیچے سے کسی نے بلند آواز میں پکارا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب حور کو محسوس ہوا جیسے اُس کی سانسیں تھم گئی ہوں۔ اُسے کبھی بھی پورے نام سے نہیں پکارا گیا تھا۔

جائے نماز تہہ کر کے اُس نے سر سے دوپٹہ اتارا اور گلے میں ڈال لیا

ڈرتے ڈرتے اُس نے دروازہ کھولا۔
نیچے موجود عمران صاحب کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا۔

“آپ نے بلایا؟” ڈرتے ڈرتے وہ نیچے آئی۔

ابھی اُس نے سوال کیا ہی تھا کہ فریدہ بیگم نے اُس کے منہ پر زور سے تھپڑ مار دیا۔


“امی! کیا کر رہی ہیں ؟” ریان حور العین کے سامنے کھڑا ہوگیا۔

حور کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا۔

“فریدہ ! اپنے ہاتھوں کو قابو میں رکھو!” عمران صاحب کی رعب و دبدبے والی آواز اُس کے کانوں میں پڑی۔


“حور العین!” عمران صاحب نے سخت لہجے میں کہا، “مجھے تم
سے ایک سوال پوچھنا ہے، اور مجھے صحیح جواب چاہیے۔”

“جی بابا، سوال پوچھیں۔” حور نے دھیمی آواز میں کہا۔

“پہلے میری قسم کھاؤ کہ تم جھوٹ نہیں بولو گی۔”

“بابا۔۔۔؟” وہ حیران ہوئی۔

“جو کہہ رہا ہوں وہ کرو!”

“جی۔۔۔ میں آپ کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ جو بولوں گی، سچ بولوں گی۔”

عمران صاحب نے گہری نظروں سے اُسے دیکھا۔

“کیا یہ سچ ہے کہ تم نے حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مان لیا ہے؟”

کئی لمحے حور العین کو یہ جملہ سمجھنے میں لگ گئے۔

“بابا۔۔۔” اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“حور العین! میں نے کچھ پوچھا ہے!”

“بابا، میری بات سنیں۔۔۔”

“مجھے کچھ نہیں سننا، مجھے جواب دو!” عمران صاحب غصے سے بولے۔ “ہاں یا ناں؟”

۔
“بابا، حور جھوٹ نہیں کہہ گی۔۔۔” ریان نے دھیمی آواز میں کہا۔

“جواب دو، حور!” عمران صاحب چلائے۔

حور نے کانپتے لبوں کے ساتھ سر اٹھایا۔

“ہاں۔۔۔ میں نے حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مان لیا ہے۔”
اُسے خود نہیں معلوم تھا کہ اُس کے اندر اتنی ہمت کہاں سے آ گئی تھی۔

اُس ایک جملے نے جیسے عمران صاحب کے اندر بم کی طرح دھماکہ کر دیا۔

“اپ کو بھی موقع ملا تھا کہ اسلام کو چھوڑ کر قادیانیت کو اختیار کرنے کا… اور میں نے بھی وہی کیا جو مجھے صحیح لگا ۔

میں نے اسلام کو بطور مذہب قبول کر لیا ہے۔”

جیسے ہی یہ الفاظ حور العین کے منہ سے نکلے، فریدہ بیگم غصے سے اُٹھ کھڑی ہوئیں۔

“یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟”

پورا کمرہ ساکت ہو گیا۔ سب حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

عمران صاحب نے سخت آواز میں کہا، “فریدہ! رک جاؤ!”
۔
“تم نے سب کچھ برباد کر دیا ہے! ہمارا نام، ہماری عزت، سب کچھ… تم نے یہ کیا کر دیا؟”


حور وہاں کھڑی کانپ رہی تھی، آنکھوں میں آنسو تھے مگر آواز مضبوط تھی۔

اسی لمحے عمران صاحب نے گہری سانس لی اور فیصلہ کن لہجے میں بولے،

“سنو حور! ابھی فوراً اپنے سامان سمیٹو۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

“تیس منٹ ہیں تمہارے پاس۔ جلدی کرو۔ جو ضروری چیزیں ہیں وہ لے لو۔”

ریان نے گھبرا کر پوچھا، “بابا… حور کہاں جا اگی؟”

عمران صاحب نے مختصر جواب دیا، “تمہارا یہاں رہنا محفوظ نہیں۔

میں بندوبست کر رہا ہوں، تم فوراً نکلوگی ۔”

فریدہ بیگم اب بھی غصے اور پریشانی کے بیچ کھڑی تھیں، مگر حالات کی سنگینی نے سب کو خاموش کر دیا تھا۔

حور نے آہستہ سے اپنے آنسو صاف کیے

، “اس سے بھی بہت برا ہو سکتا ہے۔ جلدی سامان سمیٹو اور
اسلام آباد کے لیے نکل جاؤ۔ میں کوئی بندوبست کرتا ہوں۔”

حور العین بھاری قدموں سے اوپر کی طرف چلی گئی۔ کمرے میں پہنچ کر اُس نے دروازہ بند کیا اور وہیں زمین پر بیٹھ کر رونے لگی۔

“یا اللہ… میرے لیے بہتری کی راہ نکال دے، میرے خدایا…”

دس منٹ بعد وہ ایک نئے عزم کے ساتھ کھڑی ہوئی

اُس نے الماری کھولی اور جلدی جلدی اپنے کپڑے ایک سوٹ کیس میں رکھنا شروع کر دیے

اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

وہ خاموشی سے سب کچھ سمیٹتی رہی،

کچھ دیر بعد جب سامان پیک ہو گیا تو وہ باہر آئی۔

سامنے لان میں جھولے پر اس کی نظر پڑی

بچپن کے کچھ لمحے اُس کی آنکھوں کے سامنے تازہ ہو گئے۔ وہ خوش، بےفکر، اور سب کی لاڈلی بچی تھی۔

حور العین اپنے ہی خیالوں میں گم تھی۔

اس کی زندگی ہمیشہ سے محبت اور ناز و نخرے میں گزری تھی۔ وہ اپنے گھر کی سب سے لاڈلی بیٹی تھی۔ خاندان میں اس کی خوبصورتی اور معصومیت کے چرچے تھے۔

مگر آج سب کچھ بدل چکا تھا۔

اسلام قبول کرنے کا خوف اس کے دل میں کہیں گہرا بیٹھا ہوا تھا کہ کہیں اس کے خاندان کو معلوم نہ ہو جائے… کہیں اسے نقصان نہ پہنچایا جائے۔

مگر آج پہلی بار اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی حفاظت صرف انسان نہیں، خدا بھی کر رہا

____________(⁠ ⁠◜⁠‿⁠◝⁠ ⁠)⁠♡_____________

حور گھر سے باہر نکلی کچھ۔ قدم کی دوری پر چلنے کے بعد سامنے سے گاڑی آکر روکی

حور جہاں جانا ہے میں چھوڑ دیتا ہوں ۔ ریان گاڑی سے اتر کر باہر آیا

مجھے ضرورت نہیں ہے

پلیز اخری دفعہ مجھ سے لفٹ لے لو

اسے دیکھنے کے بعد حور فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی

جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ

کئی منٹ گاڑی میں خاموشی نے گھیرا ڈالے رکھا

تمہیں اسلام میں ایسا کیا لگا جو تم نے ہمیں چھوڑ دیا

میں نے نہیں تم لوگوں نے چھوڑا ہے

تم نے پہلے سوال کا جواب نہیں دیا

سنو پھر اسلام میں سکون ہے امن ہے وہ سب کچھ ہے جو ہمارے مذہب میں نہیں ہے

اس کے بعد کہاں جاؤ گی

مجھے نمل یونیورسٹی کی اسکالر شپ ملی ہے میرے پاس موقع ہے کے میں اسلام آباد کے کمپس میں پڑھ سکوں

تم نے بتایا نہیں

کل بتانے والی تھی

کب جا رہی ہو

ویسے اگلے ہفتے جانا تھا مگر اج چلی جاؤں گی

یہیں رک جاو

یہاں رکنے کا کوئی جواز نہیں ہے بابا نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے

میں فورس نہیں کروں گا

کر بھی نہیں سکتے ہو

دو بہن بھائی جو ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے اب الگ ہو رہے تھے

گاڑی ایئرپورٹ کی طرف تھی ایک گھنٹے کے مسافت کے بعد وہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرکھڑی تھی

خدا حافظ وہ مر گئی

ریان نے بھی مرکر کچھ قدم لیے

مگر دونوں ایک دوسرے کی طرف واپس پلٹے

ریان نے اگے بڑھ کر حور کو گلے لگا لیا

حور نے ہچکیوں کے ساتھ رونا شروع کر دیا

ریان کے بھی انکھوں سے انسو بہنا شروع ہوگئے

بے شک کچھ الوداع بہت مشکل ہوتے ہیں دوست بہن بھائیوں کو الوداع کہنا بہت مشکل تھا

اپنا خیال رکھنا

تم بھی

اپنا سامان اٹھا کر وہ اگے کی طرف بڑھی

چیکنگ کے پروسس سے گزرنے کے بعد پھر حور اخری دفعہ پیچھے پلٹی

انکھوں میں انسو لیے حور نے ریان کو دیکھا

خدا حافظ

حور نے ہاتھ ہلا دیا

خوش رہنا حور ریان منہ میں بول کر واپس پلٹ گیا

زندگی نے اسے دو موقع دیے تھے سب کو چھوڑنے کا یا خدا کو چھوڑنے کا اس نے پہلا راستے چنا

اس نے سب کو چھوڑ دیا خدا کی خاطر ، رسول کی خاطر بے شک اسے بھی نوازا جائے گا

کہیں کوئی اپنی جگہ خود چھوڑ ایا تھا کہیں کسی کو زبردستی لایا گیا تھا

مگر قیام کیا تھا ا

یک ملک

ایک شہر

شہر اقتدار

اسلام اباد

دو گھنٹے بعد وہ تمام ترچیکنگ سے پاس ہو کر باہر کی طرف بڑھ گئی

السلام علیکم میم

یس۔۔ حور نے نہ پہچانے والے انداز میں کہا

اپ کا فلیٹ سیٹ ہو چکا ہے

حور پریشان سے گاڑی کی طرف بڑھی

پندرہ منٹ بعد وہ شاندار فلیٹ کے سامنے کھڑی تھی

میم اپ کا فلور نمبر تھری ہے اور ہاؤس نمبر 49

جزاک اللہ

اس نے اوپر ا کر فلیٹ کا دروازہ انلاک کیا

اندر بڑھ کرلائٹ کھولی

کھڑکی سے نمل یونیورسٹی دکھائی دی

شاہ کار اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا

کہیں دور سے مرگلہ ہلز بھی دکھائی دی

بے شک اسلام اباد کراچی سے بہت حسین تھا

اس نے اپنا سامان سیٹ کیا

ریان نے دو گھنٹے کے اندر اس کے رہنے کا بھی انتظام کر دیا تھا

سردی اپنے عروج پر تھی

اسے اج سے کچھ ماہ پہلے کا وقت یاد آیا

_____________(⁠つ⁠✧⁠ω⁠✧⁠)⁠つ___________

چلیں ہم دو ماہ پیچھے چلتے ہیں

حور اٹھو صبح ہو رہی ہے

وہ تو امی ہر روز ہوتی ہے سونے دیں پلیز

دیکھو سورج نکل آیا ا ہے

وہ بھی تو مجھ سے کئی گھنٹے پہلے سوتا ہے

اٹھ جاؤ اپ مجھے اتنا پریشان نہ کرو کہ میرا ہاتھ چپل تک چلا جائے

اچھا اٹھ گئی ہوں

نیچے جاؤ عمران انتظار کر رہے ہیں

بالوں کو ہونی میں قید کیا منہ ہاتھ دھوئے اور نائٹ سوٹ پر دوپٹہ ڈال کر نیچے آئی

جنگلی بلی شکر ہے اٹھ گئی

تمہیں کیا مسئلہ ہے گینڈے

بابا یہ مجھے گینڈا بول رہی ہے

سوری بولو جلدی سے

پہلے اسنے بولا تھا میں کیوں سوری کروں

تمہیں نہیں کہہ رہا ریان سوری بولو

میں۔۔ ریان بے یقینی سے بولا

ریان سوری بولو

سوری

حور خوشی سے میز پر ا کے بیٹھی

میری پری کیسی ہے

صحیح ہوں بابا ، مجھے نا اپ سے کام تھا بابا مجھے تیموریہ لائبری جانا ہے

تو چلی جاؤ کس نے منع کیا ہے

کیسے جاؤں

ریان نکٹو لے جائے گا

صحیح ہے بابا وہ خوشی خوش ناشتہ کرنے لگے

تھوڑی دیر میں ریان اسے لائبریری کے باہر چھوڑ کر چلا گیا

السلام علیکم

وعلیکم السلام ہاؤ کین ائی ہیلپ یو

ائی وانٹ ا بک ان اسلامک لٹریچر

اس نے لائبریرین کی بتائی ہوئی جگہ سے بک اٹھائی اور کنارے والی کرسی پر بیٹھ گئے

کیا میں اپنے گھر والوں کو دھوکا تو نہیں دے رہی ہوں

بس حور ایک کتاب کی تو ہے پڑھ لو

اسے ابھی پڑھتے ہوئے تھوڑی دیر ہوئی تھی کے سامنے سے کوئی شخص آیا

ایکسکیوز می میم

یس

ایکچولی میں نے یہ بک کی تھی لائبریرین نے غلطی سے آپ کو دے دی

اپ کو کیا ضرورت ہے پڑھنے کی حور نے سوال پوچھا

بندے کو اپنے مذہب کے بارے میں پڑھنا چاہیے

مگر کیوں

تاکہ اسے یاد رہے کہ وہ کون ہے اور کس وجہ سے وہ اس دنیا میں لایا گیا ہے ویسے اپ کیوں پڑھ رہی ہیں

قادیانی ہوں اسلام کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں

یہ بہترین کتاب ہے اپ کے لیں شاید اپ بھی ہدایت کی راہ پر چل سکیں وہ یہ کہہ کر اگے بڑھ گیا

کوئی اتنا خوبصورت کیسے بول سکتا تھا

وہ کافی دیر تک وہ کتاب پڑھتی رہی

حور کیا پڑھ رہی ہو

انگلش ناول ہے ۔ کوئی مسئلہ ہے

لگ تو نہیں رہا

اس وقت تم جاؤ

اچھا جلدی باہر آؤ

ہاں آرہی ہوں

بک کو بیگ میں ڈال کر وہ باہر نکل ائ

تم سے کس نے کہا تھا کہ مجھے لینے آو

بابا نے کہا تھا

ہاں ورنہ میں خود سوچوں کہ ریان عمران خود سے مجھے لینے کیسا اگیا

بابا نے مجھے زبردستی بھیجا تھا ورنہ میں ریان تمہیں شکل بھی نہ دکھاتا۔ شکل دیکھی ہے آئنہ میں

ہاں بہت خوبصورت ہوں جانتی ہوں

خوبصورت ۔۔۔۔۔۔چڑیل لگتی ہو

گیندے منہ بند کرو

حور گاڑی کے اندر ا کے بیٹھی

تمیز سے گاڑی چلانا

کیوں

میں نے کہا ہے

تم کون ہوتی ہو کہنے والی

تمہارے باپ کی اکلوتی بیٹی ۔۔ حور مسکراتے ہوئے بولی

یہی تو میں پھنس جاتا ہوں

گیندے

تم نے مجھے ایک دفعہ اور گندا بولا تو قسم سے گاڑی کیسی درخت میں ٹھوک دوں گا

کراچی میں درخت کہاں سے اگئی گینڈے تھوڑا تو دیکھ لیا کرو

بڑی مشکل سے ان کی بحث ختم ہوئی

______________(⁠っ⁠.⁠❛⁠ ⁠ᴗ⁠ ⁠❛⁠.⁠)⁠っ___________

رات کی سیاہی میں بارش کی بوندیں نرم لہجے میں زمین سے باتیں کر رہی تھیں۔

کھڑکی کے شیشے پر قطرے ٹکرا کر پھیل رہے تھے،

حور کی نظریں بار بار ایک ہی آیت پر جا کر رک جاتیں

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍۢ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّۦنَ

“محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔”
📖 (الاحزاب: 40)

وہ آیت جیسے اس کے وجود کو ہلا رہی تھی۔

“اگر قرآن سچ کہہ رہا ہے تو میں جھوٹ پر کیوں قائم ہوں؟”
اس نے خود سے کہا

“میں قادیانی پیدا ہوئی تھی، مگر کیا غلط عقیدہ لے کر مروں گی؟ کیا کبھی میں نے سچ کو تلاش بھی کیا ہے؟”

کچھ لمحوں بعد وہ اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی تھی۔
یوٹیوب کھولا۔

سرچ کیا: “Islam and Khatam e Nabuwwat Truth”
پہلا ویڈیو کلک کی

“Dr. Ayesha Binte Farooq The Finality of Prophethood in Islam”

حور نے پلے دبایا۔
ڈاکٹر عائشہ کی آواز آئی:
“ اللہ نے محمد ﷺ کو آخری نبی بنا کر دین کو مکمل کر دیا۔
اب کوئی نبی، کوئی وحی، کوئی وحی والا خواب باقی نہیں۔
جو کوئی یہ کہے کہ وہ نبی ہے، وہ دراصل اللہ کے کلام کا منکر ہے۔”

حور کے دل پر جیسے کوئی بھاری بوجھ اُترنے لگا۔
ڈاکٹر عائشہ نے اگلی آیت تلاوت کی:
اللّٰهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
“اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔”
حور کے آنسو بہنے لگے۔

یہی نور شاید مجھے حق کی بلا رہا ہے…

ویڈیو ختم ہوا، مگر ایک بات اس کے ذہن میں ٹھہر گئی

“خاتم النبیین” آخری نبی ﷺ
اسکرین پر ایک نمبر چمک رہا تھا:

“Contact for Islamic Guidance: Dr. Ayesha Binte Farooq

دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔
اس نے فون اٹھایا۔

کچھ لمحے ہاتھ کانپتے رہے، مگر آخر اس نے ہمت کی
نمبروں پر انگلیاں پھریں، اور فون کان سے لگا لیا۔
رِنگ…

پھر ایک نرم، پرامن آواز سنائی دی

“السلام علیکم، میں ڈاکٹر عائشہ بول رہی ہوں۔”

حور کے ہونٹ خشک تھے، آواز کانپ گئی

“وعلیکم السلام… میں حور ہوں۔ میں… میں آپ کا ویڈیو دیکھ رہی تھی۔ میں قادیانی ہوں، لیکن اب… دل بہت بے چین ہے۔ میں سمجھ نہیں پا رہی کہ میں سچ پہ ہوں یا نہیں…”

ڈاکٹر عائشہ کی آواز میں نرمی تھی
“بیٹی، اللہ جسے چاہے ہدایت دے دیتا ہے۔
تمہارا دل جاگ اٹھا ہے یہ پہلی نشانی ہے کہ اللہ تمہیں روشنی دکھانا چاہتا ہے۔”

حور کے آنسو بہنے لگے۔
“میں نے ہمیشہ سنا کہ نبی ﷺ کے بعد بھی نبی آ سکتے ہیں، لیکن اب جب قرآن خود کہتا ہے کہ وہ آخری نبی ہیں تو میرا ضمیر مجھے سونے نہیں دیتا…”

ڈاکٹر عائشہ نے کہا
“یہی ایمان کی بیداری ہے، حور۔
جو سوال اللہ کے لیے اٹھے، وہ تمہیں اُس تک پہنچا دیتا ہے۔
تم چاہو تو کل ہم تفصیل سے بات کریں۔ میں تمہیں قرآن اور حدیث سے سب کچھ سمجھاؤں گی۔ تم خود فیصلہ کرو گی، میں کچھ مسلط نہیں کروں گی۔”

حور نے سانس بھری
“کل؟ میں انتظار کروں گی…”

ڈاکٹر عائشہ کی مسکراہٹ لہجے سے محسوس ہوئی
“اللہ تمہیں سکون عطا کرے، بیٹی۔ یاد رکھو، اسلام زبردستی نہیں، محبت ہے۔”

کال بند ہوئی۔

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

“یا اللہ، اگر یہ سچ ہے… تو مجھے راستہ دکھا دے۔”

“شاید یہ میری زندگی کی پہلی روشنی ہے…”

حور پوری رات جاگ کر قرآن پڑھتی رہی

حور کیا تم پوری رات سوئی نہیں ہو عمران صاحب نے ناشتے کی ٹیبل پر پوچھا

بابا کام کر رہی تھی

اچھا مگر نیند کا خیال رکھا کرو

جی بابا

ریان انکھیں ملتا نیچے ایا

دیکھو اس نکھٹو کو سو اوازیں دو تو جا کے سنتا ہے

بابا ۔۔۔۔ ریان نے پھر اپنی بےعزتی دیکھی تو چلایا

یونیورسٹی نہیں جانا

اج چھٹی کروں گا

کیوں تمہارے باپ کا ولیمہ ہے کیا

نہیں مگرمیں یہی بات امی کو بتاؤں کے آپ دوسری شادی کی باتیں کر رہے ہیں تو

میں تمہیں sue کر دوں گا

ایز یو وش بابا وہ مزے سے کہتا ہے ناشتے کی طرف بڑھا

وہیں دوسری طرف حور کے چہرے پر مسکان پھیل گئی

جہاں حور بابا کی انکھ کا تارا تھی وہیں نے ریان فریدہ بیگم کا لاڈلا تھا

ان کی وجہ سے گھر میں خوشی کا ماحول رہتے تھا

ان کی فیملی ایک پرفیکٹ فیملی تھی

______________(⁠✧⁠ω⁠✧)____________

ایک مہینہ گزر چکا تھا حور ہر رات ڈاکٹر عائشہ سے بات کرتی تھی

حور نے رات بھر ایک لمحے کے لیے بھی آنکھ بند نہیں کی تھی۔

بار بار وہی آواز کانوں میں گونجتی رہی

تمہارا دل جاگ گیا ہے، بیٹی۔ اللہ تمہیں روشنی دکھانا چاہتا ہے

احور نے وضو کیا، جو شاید اس کی زندگی کا پہلا خالص وضو تھا۔

پانی کے ہر قطرے کے ساتھ دل جیسے صاف ہوتا جا رہا تھا۔

پھر اس نے موبائل اٹھایا

ڈاکٹر عائشہ بنتِ فاروق کا نمبر اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔

حور نے ڈاکٹر عائشہ کو کال کی

السلام علیکم، حور

وعلیکم السلام جی، میں تیار ہوں سچ سننے کے لیے
کل رات میں نے بہت کچھ سوچا۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے بتائیں کیا واقعی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں؟

ڈاکٹر عائشہ نے نرمی سے کہا
حور سنو، اللہ کا کلام سب سے بڑی دلیل ہے۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍۢ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّۦنَ
“محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔”
(سورۃ الاحزاب: 40)


اللہ نے خود کہہ دیا ‘خاتم النبیین آخری نبی۔
اگر کوئی اس کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے، وہ قرآن کے مقابل کھڑا ہے۔

اسلام کا دروازہ بند نہیں ہوا، نبوت کا سلسلہ مکمل ہوا ہے۔”

حور خاموشی سے سن رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

لیکن عائشہ میں نے بچپن سے کچھ اور سنا انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی وحی آ سکتی ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا:
‘میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔’
(صحیح بخاری)


اور ایک اور حدیث میں فرمایا:
‘میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک عمارت جس کی ایک اینٹ باقی تھی، میں وہ آخری اینٹ ہوں۔’
(صحیح مسلم)”


حور، کیا تم سوچ سکتی ہو کہ جو نبی ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے، وہ دراصل ان کی رسالت کو ناقص کہہ رہا ہے؟

حور نے کانپتے ہوئے لہجے میں کہا
نہیں… وہ تو سب سے کامل نبی ہیں

تو پھر سوچو، اللہ کیوں کہے گا کہ دین مکمل ہوا،
اگر کوئی نیا نبی آنے والا ہوتا؟

ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَٰمَ دِينًا
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی،
اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔”
(سورۃ المائدہ: 3)

یہ آیت سنتے ہی حور کے آنسو رکے نہیں۔
دل جیسے برسوں کے پردے توڑ کر روشنی میں نکل آیا ہوا۔

میں نے ساری زندگی جھوٹ سنا۔
میں نے کبھی قرآن کو خود نہیں پڑھا، بس دوسروں کی باتوں پہ یقین کیا۔

آج دل گواہی دیتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی آخری نبی ہیں۔

تو پھر، حور آؤ، کلمہ پڑھو جس سے سب اندھیرے ختم ہو جاتے ہیں

حور نے سانس روکا، آنکھیں بند کیں، دل کانپ رہا تھا۔

‘اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ’

کمرے میں ایک عجب سکون پھیل گیا۔

ایسا لگا جیسے برسوں بعد وہ اپنے رب سے مل گئی

مبارک ہو آج تم نے زندگی نہیں، آخرت بھی جیت لی ہے۔

حور کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔

______________(⁠っ⁠.⁠❛⁠ ⁠ᴗ⁠ ⁠❛⁠.⁠)⁠っ___________

چلیں واپس حال کی طرف لوٹتے ہیں

حور کو اسلام اباد میں سیٹل ہوئے ایک ہفتے سے اوپر گزر چکا تھا

درازے پر بیل بجی

کون ہے

ا میں ہوں ریان

کیوں ائے ہو ریان

نہیں ا سکتا

تمہیں نہیں انا چاہیے تھا

ریان نے آگے بڑھ کر حور کو گلے لگایا

میں نے تمہیں بہت یاد کیا حور

میں نے اپنی ہماری لڑائیوں کو مس کیا

حور میں نے پہلی بار بار بابا کو روتے ہوئے دیکھا

حور نے سر اٹھا کر اسے دیکھا

کیا بولا ریان

بابا کو میں نے پہلی بار روتے ہوئی دیکھا

اب کیوں رو رہے ہیں مجھے تو گھر سے نکال دیا

تمہاری بہتری کے لیے یہ قدم کیا تھا

گھر سے بیٹی کو نکال دینا کہاں کا اچھا فیصلہ ہے

اگر تم وہیں رہتی تو برادری والے تمہیں مجبور کرتے واپس مذہب میں انے کے لیے

کیا مطلب

تمہاری زبردستی شادی کروائی جاتی بابا نے حور تمہیں یہاں بھیج کرصحیح فیصلہ کیا یہ فلیٹ بابا کا ہے

نو وے

ان کو کیسے پتہ چلا کہ مجھے اسلام اباد جانا تھا

وہ باپ ہیں ان کو پتہ ہوتا ہے انہوں نے مجھے تمہارے لیے فلیٹ کو صاف کروانے کا کہا اور صرف دو گھنٹوں میں 10 سال سے بند فلیٹ کو میں نے رہنے کے قابل بنایا

اور تم بابا کو قصوروار کہہ رہی ہو

مطلب بابا نے یہ سب کیوں کیا

بابا نے جب مذہب بدلا تو دادا نے ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا

انسان کو اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے

حور رونا بند کرو ۔

میں چائے بنا کر لاتی ہوں

صرف چائے لاؤ کی چڑیل

گیندے کیا کچھ اور بھی کھانا ہے۔

تمہاری و عادت نہیں بدلی گیندے بولنے کی ۔

تم نہیں سدھرے

ابھی مجھے سدھر کر کیا کرتا ہے ۔ بعد میں mature ہو جاؤں گا۔ وہ لٹھ مارنے والے انداز میں بولا

– اچھا جی — حور بولی ۔

ایسا ہے کیا ریان نے trend کو کم پلیٹ کرنے کی کوشش کی

ایسا ہی ہے ۔۔۔۔

اس کے بعد وہ دونوں ہاتھ مار کر ہسنے لگے ۔

وہ واپس ساتھ تھے ۔ ایک دوسرے کا مکمل خاندان –

چلو اب رونا مت

میں کچھ بنا کر لاتی ہوں

پندرہ منٹ بعد حور کمرہ میں داخل ہوئی۔

سامنے ٹیبل پر چیزوں رکھی ۔

دس منٹ کے اندر سارا کھانے ختم ہوچکا تھا۔

مسیح میں تمہیں گیندا کہتی ہوں ۔

اور میں تمہیں چڑیل

بابا اگر یہاں ہوتے نہ تو میں تمہیں بتائی ۔

ریان کا فون بجنے لگا ۔

حور نے ٹبیل پر سے کھانے اُٹھایا اور کچن کی طرف بڑھ گئی ۔

جی بابا ۔۔۔۔۔۔ریان فون پر بات کر رہا تھا ۔

حور کیسی ہے ۔ ۔ سوال کیا گیا ۔

رو رہی تھی ، آپ کو یاد ہو کر رہی تھی۔ یہاں کے لوگ اُسے پسند نہیں۔ اُسے کراچی یاد آتا ہے۔

اُسے رونے مت دینا ریان …

جی بابا ، آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ وہ مذاق میں بولا

اتنی تعبداری مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی ہے ریان عمران صاحب ہنسے ہوئے بولے

بات نہ سنو تو مسئلہ ، بات تعبداری سے منو تو پھر آپ کو ہضم نہیں ہوتی ، کیا کروں میں۔

ریان کے بچے ۔۔۔ حور کمرے میں آکر بولی

ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی ۔۔

اب اپنے گھر نکلو ..

کیوں بھئی ، یہ مجھے میرے بھی باپ کا گھر ہے۔ کیوں جاؤ یہاں سے

بابا نے مجھے دیا ہے یہ فلیٹ

بابا اس کی بات سن لیں ، یہ سب پر قبضہ کر رہی ہے۔ اُس نے فون کو واپس کان کی طرف لگا کر کہا۔

بابا فون پر تھے حور کو حیرت کا جھٹکا لگا

باب آپ نے اپنی لاڈلی کی بات سن لی نہ – ریان بھی مزے لے کر بولا۔

گیندے آج میرے ہاتھوں سے مارو گے

بابا اس چڑیل نے مجھے گیندا کہا ۔۔

معافی مانگو — فون پر سے آواز گونجی

میں نہیں مانگ رہی اس گیندے سے معافی

میں اپنی بیٹی سے کیوں معافی مانگواوں گا۔

ریان معافی مانگو

بابا آپ ہمیشہ مجھے کیوں بولتے ہیں معافی مانگی کے لیے اپنی بیٹی کو بھی کہا کریں۔

ررررر یا ااا ن ن ن ۔۔۔۔۔۔

اچھا چینخے تو نہیں ۔

سوری میری پیاری سڑی ہوئی بہن

Never mind — حور نے کا ندھے اچکائے

اب گھر نکلو ریان –

نوبجے کی فلایٹ ہے میری

تو نکلو اب یہاں سے —

گھر سے نکل رہی ہے –چلیں بابا نے اب میں فون بند کرتا ہوں۔ آپ کی لاڈلی مجھے گھر سے نکال رہی ہے

الله حافظ بابا – حور نے پیچھے سے بولا ۔

اپنا خیال رکھنا حور – فون میں سے آواز آئی ۔

یہ کہہ کر عمران صاحب نے فون رکھ رہا ۔

چلو گیندے اپنا سامان سمیٹو اور نکلو.

بھائی ہوں تمہارا تھوڑی شرم کرلو۔۔

بھائی ہو تو یہاں کھڑے ہو ورنہ دروازہ کے اندر ایک قدم ایک قدم بھی رکھنے دیتی ۔

حور نے ہنستے ہوئے کہا ۔

مہینہ میں ایک سے دو دفعہ آیا کروں گا۔

مہینہ میں نہیں آنا ۔۔

چلو اتنا فورس کر رہی ہو تو ہفتہ میں آجایا کروں گا ۔ ریان احسان کرنے والے انداز میں بول –


Oh hello کون سی خوش فہمی پال رہے ہو میں کہہ رہی ہوں کہ سال میں ایک دفعہ اپنی شکل دیکھانا ۔

وہ بھی کہاں خاموش رہتی تھی ۔

حور کالے رنگ کے عبادیہ اور نقاب میں ملبوس تھی

لفٹ میں داخل ہوکر گرویند فلور کا بٹن دبایا۔

عبایہ میں زیادہ اچھی لگتی ہو

مجھے ہر چیز میں تم گیندے لگتے ہو-

کبھی تو تعریف کر دیا کرو۔ ریان دکھ بھرے انداز میں بولا

شکل بھی قابل ہونی چاہیے

نیچے پہنچ کر وہ ریان کے گلے لگی

اپنا خیال رکھنا حور- ریان بولا

 

جب بھی مسکرایا، دل میں روشنی سی ہوئی
ہر ایک شام میری جیسے چاندنی سی ہوئی

میں اُس کے نام کی خوشبو میں کھو گئی ایسے
کہ میری ذات بھی مجھ سے اجنبی سی ہوئی

وہ ایک شخص جو دل کے بہت قریب رہا
اسی کے بعد یہ دنیا بھی اجنبی سی ہوئی

نظر ملی تو زمانے کا شور تھم سا گیا
ہوا بھی رک گئی، فضا بھی خامشی سی ہوئی

وہ میرے ساتھ رہا تو سفر سہل نکلا
جدائی آئی تو ہر راہ بے کسی سی ہوئی

میں اُس کو سوچتی رہتی تھی رات بھر تنہا
اور ایک یاد تھی جو زندگی سی ہوئی

کبھی جو اُس نے پکارا تو دل نے یہ جانا
محبت ایک دعا ہے جو لازمی سی ہوئی

_____________~⁠(⁠つ⁠ˆ⁠Д⁠ˆ⁠)⁠つ⁠。⁠☆_________

راہ راست

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
میں کیوں اُس کو فون کروں
اُس کے بھی تو علم میں ہوگا
کل شب موسم کی پہلی بارش تھی
دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں
دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی
انتظار اُس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے


ضمیر اٹھیں

ارے کون منہوس انسان ہے جس کو دیکھو وہ سکون سے سونے ہی نہیں دیتا

ضمیر نے سر اٹھا کر دیکھا اور سامنے اس کے سر کھڑے تھے

گیٹ آؤٹ آف مائی کلاس ضمیر سکندر

ضمیر وہاں سے بیگ اٹھا کر باہر کی طرف بڑھا

ضمیر نے پیچھے دیکھا تو فارس قہقہے لگا کر ہنس رہا تھا

ضمیر اسے گھورتا ہوا کنٹین کی طرف چل دیا

کلاس ختم ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی فارس بھی کنٹین اگیا

میں نہیں بات کررہا ہوں شکل گم کرو اپنی فارس

ارے میں بھی سورہا تھا وہ تو بس پیچھے علی نے اٹھا دیا

مجھے اٹھانے میں موت آرہی تھی

سر۔ سر پر ہی آگئ تھے

بہت منہوس ہو تم

میں کینیڈا جارہا ہوں

کب اور کیوں

ایک ہفتے بعد

کیوں جا رہے ہو۔ ضمیر نے سوال کیا۔

بس پاکستان سے تنگ آگیا ہوں ۔ اس لیے جا رہا ہوں ۔

مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گے ۔ میں کیا کروں گا اکیلے ۔ تمہارے بغیر تو میرا دل بھی نہیں لگے گا۔

جس طرح ضمیر نے بولا تھا۔ فارس کی ہنسی بلند ہوئی جس نے وہاں بیٹھے سب لوگوں کو متوجہ کیا۔

آہستہ ہنس کمینے سب ہمیں دیکھ رہے ہیں ۔

دفعہ ہوجانا –

تم بھی چلو ۔ میرے ساتھ چلو نہ ضمیر –

canada کے ساتھ بہت بری یادیں جوڑی ہیں۔

علیزہ —

ضمیر کی آنکھوں میں نمی تیر گئی ۔

پندرہ سال گزر گئے ہیں فارس – مگر علیزہ نہیں ملی ۔

امی کو پارٹی سے اور ابو کو افس کے علاوہ کسی سے سروکار نہیں تھا۔

ضمیر تم یہاں غلط ہو ۔

مامو اور مامی علیزہ کے بعد بہت اکیلے ہوگئے ہیں تم خود بتاتے ہو کے مامی رات کو اٹھ جاتی تھیں ۔

علیزہ کے جانے کے بعد ہماری فیملی بدل گئی ہے۔

ہم جہاں خدا کو نہیں مانتے تھے فارس – ہم بدل ہے

علیزہ کے جانے کے بعد ہم بدل گئے فارس – خدا سے رابطہ جوڑ لیا۔ میں پانچوں وقت کی نمازیں نہیں پڑھ پاتا ۔ قرآن باقاعدگی سے نہیں پڑھتا مگر یار میری زندگی اب بے سکون نہیں رہی امی بھی بدل گئی ۔ ان کا لباس ، ان کا رہن سہن بدل گیا وہ خدا کے قریب ہوگئی ۔۔

جب ضمیر پانچ سال کا تھا تو علیزہ دنیا میں آئی ، علیزہ کے آنے پر اسے تو ایک پیاری سی گڑیا مل گئی تھی ۔ اس کے بغیر میری صبح نہیں ہوتی تھی۔ مگر جب وہ دس سال کا ہوا ۔ وہ پانچ سال کی ہونے والی تھی۔ ہم کینیڈا جارہے تھے ویکیشن کے لیے مگر اُسے اغواہ کر لیا گیا

علیزہ نہیں ملی ۔ شاید وہ زندہ ہے یا شاید نہیں ۔ مگر مجھے اتنے سالوں بعد بھی یہ امید ہے کہ وہ زندہ ہوگئی۔ انیس سال کی ہوگئی ہوگی مگر مگر شاید اسے میں یاد نہ ہوں ۔

Calm down Zameer.

اچھا تم canada جاؤ اور enjoy کرنا ۔

پھر چھ مہینے بعد کے ساتھ ملیں گے۔

ابھی ایک مہینہ ہفتہ ہے۔ ضمیر –

چلو فارس آج جلدی چلتے ہیں

وہ باہر نکل آئے۔

“Namal University”

ا ایک شاہ کار University – جس کی بنیاد ایک بہادر اور بہترین شخص نے رکھی تھی ۔

_______________ʕ⁠っ⁠•⁠ᴥ⁠•⁠ʔ⁠っ___________

اسلام و علیکم امی۔

وعلیکم اسلام میرا بیٹا آگیا

تمہاری آج پسند کا کھانا بنا ہے

آرہا ہوں

ضمیر سب صحیح ہے

جی امی کیوں کیا ہوا ہے۔

تمہیں دیکھ کر نہیں لگ رہا۔

علیزہ یاد آرہی تھی – –

اُس کی یاد کب نہیں آئی۔ رحمت سکندر کے اندھی ہوئی آواز میں کہا۔

رحمت اور عزمت سکندر کی پسند کی شادی تھی
شادی کے کے دو سال بعد ضمیر دنیا میں آیا ۔ ضمیر کی پیدائش پر بہت خوشیاں منائی ۔ ضمیر کی پیدائش کے پانچ سال بعد رحمت اور عزمت سکندر کی سات سالہ
زندگی کے بعد علیزہ ان کے گھر رحمت بن کر آئی ۔۔۔

وہ سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔ گھر میں اس کی وجہ سے ہر وقت شور رہتا جو اس خاموش گھر میں زندگی کے رنگ بھر دیتا ۔۔

مگر حادثہ نے ان کے چہکتے گھر کو مرجھا دیا

عليزہ ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی۔

اُن کا ہستا بستا گھر اُجڑ گیا ۔

شاید علیزہ واپس آسکے ۔ شاید وہ واپس سے مل جائے ایک بار یہ گھر اور اس کے مکین پھر سے کھل اٹھے ۔

چلو کھانا کھا لو۔۔

جی امی آرہا ہوں ۔ ضمیر یہ کہہ کر اوپر چلا گیا ..


وہ اسلام آباد کے ایلیٹ گھرانوں میں سے تھے مگر ہے وہ لوگ اللہ سے بہت قریب تھے ۔

دروازوں سے عزمت سکندر اندر داخل ہوئے

چوڑی پیشانی اور خوب صورتی کا پیکر ۔ وہ کبھی کبھی سوچتا تھا کہ اس کے باپ میں ایسا کیا تھا جو اس کی ماں ان کے پیچھے پڑی تھی اور جب وہ اپنے باپ کو دیکھا کرتا تو اُسے سمجھ آجاتا تھا۔ کہ جب وہ 50 کے قریب پہنچ کر اسے دیکھتے ہیں تو جوانی میں کیسے دیکھتے ہوں گے۔

کیسے ہو بر خود دار —

انہوں نے اندر داخل ہو کر ایک کانڈھے سے رحمت سکندر کو گلے لگایا اور ضمیر سے سوال کیا ۔

میں تو صحیح ہوں مگر آپ کچھ زیادہ ہی صحیح لگ رہے ہیں۔

شادی کب کر رہے ہو ۔

آپ لوگوں کی محبت تو ہضم کرلوں ۔ اس نے سوچا مگر بولا نہیں مرنا تھوڑی تھا

تمہاری عمر میں ایک بچہ کا باپ تھا ۔

تو کیا بغیر شادی کے بن جاؤ ۔ وہ یہ کہہ کر جلدی سے اٹھ کر اندر بھاگا

ویسے بات صحیح کر کے گیا ہے ۔ رحمت سکندر ہنستے ہوئے بولیں ۔

سنبھالو اسے رحمت

آپ کا بیٹا ہے خود دیکھ لیں ۔ رحمت بیگم نے ابھی بھی نہیں رہی تھیں۔

تمہارا بھی تو ہے ۔ حرمت صاحب بولے ۔

علیزہ یاد آرہی تھی ۔۔

ماں باپ کو اگر پتہ چل جائے ہے یہ کہ ان کا بچہ دنیا چھوڑ چکا ہے تو شاید ان کو پھر بھی صبر آجائے مگر جب ان کو یہ ہی نہ معلوم ہو کہ کہ ان کا لاڈلا بچہ زندہ بھی ہے یا مرگیا اگر زندہ ہے تو کیسی زندگی گزار رہا ہے وہ ہر پل مرتے ہیں ، ہر پل خون کے آنسو روتے ہیں


یہی معاملہ ان کے ساتھ تھا۔ پندرہ سال گزر جانے کے بعد بھی وہ ہر لمحہ علیزہ کی یاد میں تڑہتے تھے ۔

ضمیر —

عزمت صاحب نے ضمیر کو آواز دی تھے ۔

جی بابا —

فارس آج کل کہاں ہے۔

ایک ہفتے بعد Canada جا رہا ہے۔

کیوں ۔ عزمت سکندر نے سوال کیا

پاکستان سے تنگ کو آپکا ہے ۔۔

یہ کوئی بات ہے۔


اور ضمیر کان کھول کر میری بات سن لو اگر اس دفعہ . فیل ہوئے تو چھوڑوں گا نہیں۔ دو سال سے تم اور فارس فیل ہو رہے ہو۔ تمہارے ساتھ کے بچے اسٹیبلش ہو چکے ہیں۔

اچھا صحیح ہے بابا۔

اسے تابعداری سے بول رہے ہو کہ میری بات پر عمل کرو گے ۔

اس دفعہ فیل ہوئے تو شادی کروا دوں گا ۔

کیا یہ لڑکیوں کو نہیں بولا جاتا۔

بولا جاتا ہوگا ، مگر ابھی ضروری یہ ہے کہ میں تمہیں بول رہا ہوں

اچھا بابا ، نہیں ہوتا فیل – ضمیر بولا ۔

سنو تمہاری یونی
میں کوئی پیاری لڑکی نہیں ہے۔۔ رحمت سکندر بولی ۔


بہت ساری ہیں۔ مگر ہماری ہمارے معیار پر پوری نہیں۔ آتی۔

کیا مطلب —


مطلب یہ کہ سب ویسٹرن ڈریسنگ کرتی ہیے

جس ا دن مجھے اپنے مطلب کی کوئی لڑکی مل گئی تو میں فوراً شادی کر لوں گا۔

ضمیر کے سامنے ایک لڑکی کا چہرہ آیا

وہ ایک دم مسکرانا لگا ۔۔

وہ لڑکی کون ہے ؟ عزمت سکندر نے سوال کیا

کون

جس کو سوچ کر تم مسکرا رہے ہو ۔۔


بابا

بتاؤ بھی ۔ رحمت سکندر بھی نے بھی اپنا حصہ ڈالا ۔


اچھا –

میں کراچی گیا تھا دو ہفتے پہلے ، وہاں لائبرری کے اندر گیا تھا ۔ میری بک ایک لڑکی نے اشو کروائی تھی ۔ میں اُس کے پاس گیا ۔ وہ بہترین عبایہ اور نقاب میں تھی۔ ایک لمے تو میں صرف اُسے دیکھتا رہ گیا۔ مگر ایک مسئلہ ہے ۔

کیا مسئلہ ہے۔ عزمت اور رحمت سکندر نے ساتھ سوال کیا ۔

وہ قادیانی ہے۔

کیا۔ وہ ایک ساتھ بولنے نہیں چلائے تھے ۔

مگر وہ اسلام کو پڑھ رہی تھی اور کہ رہی تھی کہ عنقریب اسلام قبول کرے گی۔

چلو یہ تو اچھا ہوا ۔ ان دونوں کے سکون کی سانس ہیں ۔

اچھا اُس کا نام بتاؤ

پتہ نہیں ۔

گھر کا پتہ

پتہ نہیں

مگر پھر بھی اس اُلو کے پٹھے کو محبت ہوگئی ہے ۔۔

عزمت سکندر نے اپنا سر پکڑ لیا ۔۔

نہیں پہلی نظر کا عشق کا ہو گیا ہے بابا ۔ .

– ضمیر سوچتے ہوئے بولا۔

اُلو کے بیٹھنے نکو یہاں سے ۔ عزمت سکندر کا ہاتھ جوتے تک جا چکا تھا۔

ضمیر نے وہاں سے بھاگنے کو غنیمت جانا ۔۔

_____________༼⁠ ⁠つ⁠ ⁠◕⁠‿⁠◕⁠ ⁠༽⁠つ__________

فارس کو گئے ہوئے دو ہفتہ ہوگئے تھے ۔

ابھی وہ رحمت سکندر سے باتیں کر رہا تھا کہ اس کا فون بجا۔

فارس کالنگ ۔ ۔

شکر ہے تم نے یاد تو کیا مجھے ۔ ۔ ضمیر بولا

تمہیں بھول سکتا ہوں یار – فارس نے جواب دیا ۔

جانتا ہوں تم مجھے نہیں بھول سکتا ۔ آخر پندرہ سال کی دوستی ہے۔

دو ہفتے بعد کال کی تم نے اب بھی نہ کرتے۔ ضمیر نے شکوہ کیا

یار ، میں نے کال کی پھر یاد آیا کہ دن رات کا فرق ہے اور آج پوری رات سے جاگ رہا ہوں تاکہ تم سے بات ہو جائے ۔

canada کیسا ہے فارس —

بہت خوب صورت مگر پاکستانیوں والی بات نہیں ہے ۔ مجھے پاکستان یاد آرہا ہے ضمیر –

اب آئے نہ لائن پر ۔ ضمیر ہنستے ہوئے بولا ۔

اچھا تم کو پتہ ہے – فارس آگے بولنے لگا۔

کہ ضمیر نے بات کاٹی ۔

مجھے مجھے کیسے پتہ پتہ چلے تم کینیڈا میں اور میں پاکستان میں

اچھا سنو ۔ ایک لڑکی ہے

– فارس دانیال مالک ایک لڑکی میں انولو ہے۔

مجھے یقین نہیں آرہا – ضمیر کی تو حالات خراب ہو چکی تھی ۔

منہوس آدمی پہلے پوری بات سن لو ۔


– اُس کا نام انا الیور ہے اور وہ کرسٹن ہے مگر مجال ہے جو کبھی کیسی لڑکے سے بات کرے ۔

وہ مجھے لفٹ نہیں کرواتی اور مجھے کیرلیس اور اروگنٹ کہتی ہے

نہیں کرو مجھے یقین نہیں آرہا ۔

کس بات کا یقین نہیں آرہا- فارس نے پوچھا

کوئی لڑکی تمہیں کیسے اگنورکر سکتی ہے ۔

یہی تو مسئلہ ہے ۔

ایک سیکنڈ کیا تمہیں اُس سے محبت تو نہیں ہوئی۔

محبت مائی فٹ تمہیں لگتا ہے ۔ فارس چڑھ کر بولا ۔

مگر جیسے تم بولا رہے ہو ایسا محسوس ہوتا ہے۔

بالکل نہیں ، وہ میری ٹائپ کی نہیں ہے

خیر میں تیاری کرتا ہوں ۔

کس کی ۔ فارس نے پوچھا

تمہاری اور بھابھی کی شادی کی ۔ –

کون بھابھی — فارس نے پوچھا ۔

Anna Oliver

Shut up zameer

Finally Faris Daniyal Malik weds Anna oliver with the presence of their parents.

اگر قسم سے تم میرے سامنے ہوتے تو مارے جاتے آج

فارس غصہ میں بولا ۔

اچھا اپنا اور بھابھی کا خیال رکھنا ۔

Zamerrrrr

ضمیر نے جلدی سے کال کاٹ دی۔

_____________⊂⁠(⁠´⁠・⁠◡⁠・⁠⊂⁠ ⁠)⁠∘⁠˚⁠˳⁠°__________

دو ہفتے بعد

فارس کچھ دن کے لیے پاکستان آیا ہوا تھا

ابھی ضمیر اور فارس ایک cafe میں بیٹھے تھے ۔

اچانک کیوں آئے فارس

میں نے تمہیں انا کے بارے میں بتایا تھا نہ ۔

ہاں بنایا تھا کیا ہوا اُسے — ضمیر نے پوچھا

میری اُس سے بحث ہو گئی ۔ یار وہ رورہی تھی اُس نے مجھے کہا تھا کہ وہ آئیندہ میرے سامنے کبھی نہیں آئی ۔ اور آدھے گھنٹے کے اندر اس نے canada چھوڑ دیا۔

یہ کیا کیا تم نے ۔۔۔ فارس –

وہی تو مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے۔ کیا کروں میں۔

شروع سے بتاؤ فارس —

فارس نے اپنی پہلی ملاقات سے لیکر آخری بات تک اسے سارا واقعی بتا دیا

پڑھائی ختم کرکے جلدی آجاؤ

ہاں اب تو یہی کرنا پڑے گا ۔ ورنہ دانیال ملک نے مجھے قتل کر دیتا ہے۔

لباپ سے تمہارا –

پتہ ہے وہ تو مجھے ۔ اُس نے دفع کر دینے والے انداز میں کہا

فارس مگر تم نے غلط کیا ہے ۔

جانتا ہوں ، انا کی امانت بھی میرے پاس ہے۔

کون سی

اُس نے اپنی جیکٹ کی اندرونی زپ کھولی ۔

جب اسنے ہاتھ باہر نکالا۔ تو اُس کے ہاتھ میں ہلکے گلابی رنگ ایک بہت خوب صورت لاکٹ تھا ۔ جس کے بیچ میں سفید ہیرا چمک رہا تھا

یہ ہیرے کا ہے ۔ ضمیر نے سوال کیا

ہاں ہیرا ہے

، بہت خوب صورت ہے ضمیر نے داد دی ۔ ۔

یہ تمہیں کیسے ملا ۔۔

اس لاکٹ کا ockا ٹوٹ گیا تھا ۔

شاید جب وہ اٹھی تھی تھی تو گر گیا ہوگا ۔

تم نے سنبھال کر رکھا ہے ایک ہفتہ سے۔

ہاں

تم جو دو دن بعد اپنی مہنگی مہنگی سے مہنگی چیز کہو دیتے ہو ۔ ۔ تم نے یہ سنبھال کر رکھا ہے ۔

امانت ہے میرے پاس۔ انشا اللہ میں اُسے ڈھوند لوں گا ۔

سوچ رہا ہوں کہ لاسٹ ائیر وہیں سے کمپلیٹ کرلوں

مطلب ایک سال بعد آئو گے۔

ڈیڑھ سال بعد —

اتنے وقت بعد –

بیچ میں آتا رہوں گا ۔

وہاں پر دوست مت بنانا فارس –

نہیں بناتا بھائی ۔

پکا ۔ ضمیر نے بچوں کی طرح بولا

اب تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا.

سنو ، وہاں کسی کو girlfriend مت بنانا ۔

نہیں پتہ ہے کہ میں یہ کام نہیں کرتا —

انا کو تپانے کے لیے تو کیا تھا نہ

ہاں بات تو صحیح ہے ۔

ویسے اس کو فرق نہیں پڑا تھا ۔ فارس اداسی سے بولا

اچھی بات ہے اُس نے لفٹ نہیں کروائی ۔ ضمیر کو خوشی ہوئی

ضمیر مرنا ہے تمہیں میرے ہاتھوں سے

ابھی مجھے بھری جوانی میں نہیں مرنا —

کیوں

ابھی شادی کرنی ہے ، اپنی بیوی کے نخرے اٹھانے ہے

زن مرید انسان –

میں زن مرید ہی صحیح ہو ۔ ضمیر بولا ۔۔

یا الله یا الله کہاں جاؤ میں – فارس بولا

جہنم میں

ضمیر ہنستے ہوئے بولا ۔

میں اکیلے کیوں جاؤ جہنم میں تم بھی ساتھ چلو گے فارس بولا ۔

اچھا ابھی امی تمہارا انتظار کر رہی گھر پر ضمیر بولا ۔

چلو ۔ اب – –

وہ دونوں پانچ منٹ بعد گھر پر پہنچے ۔

اسلام علیکم مامی ۔

میں ٹھیک آؤ بیٹھو دونوں ۔۔

مامی آپ کو پتہ ہے – ضمیر میرے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گیا تھا ۔۔

بری بات ہاتھ دھو کر پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔ رہمت نے دونوں کو گھوڑتے ہوئے بولا ۔

آپ بھی کمال کرتی ہیں امی —

شکریہ ۔ وہ فورا بولی —

اور یہ آپ نے شکریہ کس بات کا ادا کیا ۔ ؟ – فارس بولا ۔

ضمیر نے کہا نہیں کہ میں کمال کرتی ہوں —- ویسے مجھے یہ نہیں معلوم، تم نے میرے کون سے کمال کی بات کی ہے ؟

آپ بھی ہمارے انداز میں بات کرنے لگی ہیں امی ۔۔

برا سا منہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا باتیں کرنے کا انداز اچھا نہیں ہے ۔ تو پھر اس کو بدل کیوں نہیں دیتے۔

مامی آپ نے آج ہمیں لاجواب کرنے کی ٹھان لی ہے ۔۔

فلاس ہنستے ہوئے بولا ۔

نہیں خیر ! میں نے ٹھانی وانی ، تو ہرگز نہیں ہے ، میں تو یونہی تم سے باتیں کرنے لگ گئی ۔ ورنہ عزمت کے آنے کا وقت ہو گیا ہے۔

تو اُن کے آنے پر آپ کو کون سا تیار ہوتا ہے ۔

بات تو سہی ہے۔ مگر ان کی چائے بنوانی ہے ۔۔

تو بنوالیں —

بانو

جی بابی —

صاحب کی چائے کا پانی رکھو ۔۔ میں آرہی ہوں ۔۔

فارس ، ضمیر اور رحمت سکندر آپس میں باتیں کرنے لگیں۔۔

______________ʕ⁠っ⁠•⁠ᴥ⁠•⁠ʔ⁠っ____________

نمل یونیورسٹی کی وسیع لائبریری میں اسی اس دن غیر معمولی سکون تھا ۔

حورالعین ہاتھ میں اسلامی کتابیں لے کر اندر داخل ہوئی۔

مکمل عبایہ اور نقاب میں ملبوس –

-وہ نئی تھی اس ماحول میں ۔

وہیں ضمیر کھڑکی کی طرف بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا ۔

وہ جو اپنی کتاب پڑھنے میں مشغول تھا۔ ان جانی طاقت کی وجہ سے اسنے اپنی نظر اٹھائی ۔

اور وہیں اسے لگا کہ سب کچھ رک گیا۔

وہ ایک ہی طرف دیکھ رہا تھا۔

وہ جلدی سے اُٹھا ۔

حورالعین کے سامنے والی کر کسی خالی تھی۔

May I

ادب و تمیز سے اجازت مانگی۔

حور العین نے سر اُٹھا کر دیکھا ۔۔

جی بیٹھ جائیں ۔

آپ نئی لگ رہی ہیں

جی، کراچی سے ٹرانسفر ہوا ہے

حور العین نے نظر اٹھا کر دیکھا۔

مقابل نظریں جھکائے بیٹھا تھا ۔ اکثر لڑکے ایسی باعزت گفتگو نہیں کرتے تھے۔.

ضمیر کا انداز مختلف تھا ۔۔

آپ ابھی بھی اسلام کو پڑھ رہی ہیں

ضمیر نے کتابوں کے انبار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔

ابھی بھی ۔

حور العین کے دماغ میں کلک ہوا .

تو آپ وہی ہیں جو مجھے تیموریہ لائبریری میں ملے تھے ۔

صحیح پہچانا ۔ ضمیر بولا ۔

آپ کی information کے لیے میں اسلام قبول کر چکی ہوں ۔ آپ مجھے پریشان کرنا بند کریں گے۔

میں پریشان کر رہا ہوں ۔ اس نے اپنی طرف انگلی کرتے ہوئے کہا

ضمیر کو جھٹکا لگا ۔

جی ۔۔۔۔

اچھا میں چلا جاتا ہوں۔

شکریہ — وہ یہ کہہ کر کتاب پر جھک گئی

ویسے آپ کراچی میں تھیں ۔ ۔ اسلام آباد میں کیسے ضمیر نے الجھن سے سوال کیا ۔

میں آپ کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی۔ ۔

اچھا، صحیح ہے ۔ میں چلتا ہوں

ضمیر اٹھ کر آگے بڑھ گیا ۔


وہ لڑکی اُس کی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی ۔

اُسے وہ سب کچھ لگنے لگی تھی ۔

اُس کی کل کائنات
کیا ہے

شاید رب نے اُس کی سُن لی تھی ۔

وہ آزمائش اور اندھیرے میں سکون اور روشنی بن کر آئی تھی ۔

“حور العين”
اُس کے لبوں نے سرگوشی کی

وہ وہاں رکنے کے بجائے گھر کی طرف جانے کے لیے باہر نکل گیا۔

امی جان …

پیاری امی جان

اُس نے گھر میں اگر صدا لگائی ۔

کیا ہوا ہے ۔ اتنی خوشی – –

برخودار کیا مسئلہ ہے — عزمت سکندر کی آواز آئی۔

ابو آپ گھر پر ہیں ۔

ہاں، وہ تو میں ہوں، تمہیں مسئلہ ہے کوئی ۔

نہیں نہیں۔

چلو خیر ہے بتاؤ کیوں جلدی آئے ہو ۔

میں نے آپ کو ایک لڑکی کے بارے میں بتایا تھا نہ —

کون۔۔ رحمت نے پوچھا ۔

کراچی میں جو ملی تھی ۔ جو قادیانی تھی ۔

ہاں ہاں یاد آگیا ۔ ہے ، آگے بولو –

عزمت سکندر بولے ۔

وہ مجھے آج ملی–

کہاں۔

یونی میں ۔

– کیسے – – نام کیا ہے اُس کا ۔ رحمت سکندر نے پوچھا .

حورالعین — اور اسنے اسلام قبول کر لیا ہے اور شاید۔
ابھی ٹرنسیر ہوا ہے

سنو ضمیر –

جی بابا —

ایک لڑکی ، معاشرہ میں کیا معنی رکھتی ہے تم جانتے ہو ۔ اس کے ساتھ تہذیب و تمیز سے پیش آنا ۔ اور اس سے ضرورت سے زیادہ بات مت کرنا ۔ سمجھے نالائق اولاد

جی بابا — سمجھ گیا ۔ وہ منہ بنا کر بولا ۔۔

________________(⁠⊃⁠ ⁠•⁠ ⁠ʖ̫⁠ ⁠•⁠ ⁠)⁠⊃__________

ضمیر اور حور العین کا depart ایک ہی تھا۔

Same department, same class

لگتا ہے قسمت نے ساتھ ملانے کی ٹھان لی تھی۔

اگر ایسا ہے تو پھر ضمیر کی خوشی پتہ نہیں کتنے وقت تک ٹھرتی ہے۔

خیر ابھی قسمت کافی مہربان تھی۔ ضمیر پر

اسلام و علیکم Students

meet new student Hoorul-ain Imran from karachi

ہیلو حور العین .. بہت جگہ سے آوازیں گونجی

ہیلو۔ وہ با مشکل مسکرائی —

وہ دوستیں نہیں بناتی تھی.

یہ پھر اُس کی زندگی میں کبھی کوئ مخلص ہی نہیں ہوا تھا
حور العین کلاس کے بعد کنٹین چلی گئی

ضمیر نے اُس کو آتا دیکھ کر تمیز سے مخاطب کیا

اسلام علیکم مسں .

و علیکم اسلام – میرا نام حور العین ہے۔ یہ آپ مجھے مسں نہ بولا کریں ۔ مس عمران کہہ دیا کریں ۔

یہ تو مجھے پتہ تھا
ضمیر نے یہ کہ کر ایک دم سے پچھتایا ۔

کیا مطلب

نہیں میرا مطلب کچھ نہیں تھا۔ سر احمد آپ کو بلا رہے۔

جزاک الله –
حور یہ کہہ کر آگے بڑھ گئی ۔

ضمیر کے موبائل پر کال آنے لگی ۔

default pieace calling

ہیلو –

کیسے ہو فضول آدمی

میں صحیح تم سناؤ ۔ ضمیر بولا ۔

میں بھی صحیح ہوں . تم کہاں ہو ۔

یونی میں ۔

اچھا پھر ایک کا ہر کام کرو جب گھر جاؤ تو مجھ سے بات کرنا ۔

صحیح ہے ۔۔۔وہ یہ کہ کر کلاس کی طرف بڑھا

اگلے کچھ گھنٹوں بعد ۔۔۔

فارس کو کال ملا کر ، وہ کچھ وقت بات کرتے رہے۔

ضمیر تمہیں کیا ہوا ہے ۔

مجھے کچھ بھی نہیں ۔

تمہارا دھیان کہیں بھٹک رہا ہے ۔

کیا تمہیں محبت ہو رہی ہے۔ ضمیر –

نن۔۔ نہیں تو ۔

اس کا مطلب ہاں

تعمیر کی طرف سے خاموشی رہی ۔

کون ہے وہ ملکہ صاحبہ

ہے کوئی . L

تمہیں محبت ہوگئی ہے ۔ ضمیر

شاید نہیں

کچھ بولو – ضمیر –

میرا دل شدت سے یہ خواہش کرنے لگا ہے کہ وہ میرے پاس رہے ، ہمیشہ مجھ سے باتیں کرے ، مسکرائے حکم چلائے ، محبت جتائے ۔ اگر ان احساسات کو محبت کہتے ہیں تو پھر ہاں مجھے اُس سے محبت ہوگئی ہے

پھر مبارک ہو بھائی ، تم برباد ہوگئے ہو۔

کیا ۔ –

بھائی صاحب محبت برباد کر دیتی ہے۔

میں محبت میں برباد ہونے کے لیے تیار ہوں

تم تو ابھی سے ہی اندھے اور بہارے ہو گئے ہو ۔ الله رحم فرمائے تم پر —

خدا حافظ ضمیر ، برباد ہو جاؤ تو پھر میں تو بالکل. نہیں آؤں گا ۔

وہ یہ کہہ کر کال کاٹ چکا تھا۔

_______________⊂⁠(⁠◉⁠‿⁠◉⁠)⁠つ___________

ڈیفلٹ پیس

سارے رشتے تباہ کر آیا
دلِ برباد اپنے گھر آیا

آخرش خون تھوکنے سے مرا
بات میں تیری کیا اثر آیا

تھک گیا ہے دلِ وحشی میرا
فریاد کرتے کرتے مر آیا


Faris Daniyal Malik

Handsome, charming or arrogant کیا تم نے کسی شخص کو دیکھتا ہے۔

اگر نہیں دیکھا تو فارس دانیال ملک کو دیکھ لو ۔

اگر ایک دفعہ اُس کو دیکھ کر بڑھ جایا جائے تو پلٹنا لازم ہوتا ہے۔

وہ دس سال کا تھا۔ جب اُس کی منگنی اپنے مامو کی بیٹی علیزہ سکندر سے ہوگئی۔

وں اُس کی بہترین دوست تھی ۔

مگر شاید قسمت کو کو کچھ اور منظور تھا ۔ سکندر فیملی اپنی vacations بنا منانے کے لیے canada جارہے تھے ۔ مگر airport پر علیزہ کو اغوا کر لیا گیا ۔

وہ جو لڑکی جو فارس کی best friend تھی ۔ اُس سے چھین لی گئی ۔

فارس اُس کے جانے کے بعد کافی ضدی اور بدتمیز ہو گیا تھا ۔

ضمیر اور فارس کی بچپن کی دوستی – پندرہ سال گزار جانے کے باوجود بھی مثال تھی۔

وجیہ مرد، خوب صورت بال اور hazel brown -آنکھیں ۔

لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا مرکز …

اس کے گلے میں ایک چین تھی اور اُس کے اندر ایک چھوٹی سے انگوٹھی ۔

جو اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ اپنی دوست اور منگتیر
کو نہیں بھولا —

اسے علیزہ سے محبت سے نہیں تھی ۔

فارس دانیال ملک کو کبھی محبت نہیں ہو سکتی ۔۔

یہ اس کے الفاظ تھے ۔

خیر آگے دیکھا جائے گا کہ فارس کیسے اپنی یہ بات رد کرے گا ۔

قسمت پتہ نہیں کیوں اِس ہو پر ہر دفعہ مہربان ہوتی تھی

مگر کہا جاتا ہے نہ کہ ہر آزما ئش کے بعد آسائش بھی آتی ہے

ایسے ہی آسائش کے بعد آزمائش ہے

انا کا جانا فارس کے لیے آزمائش بن گیا تھا۔

وہ غلط تھا۔ اسے معافی مانگنی تھی ۔

یہاں پر فارس اور دانیال ملک کی طرف چلتے ہیں۔

اسلام علیکم بڈھے بابا ۔

فارس

وہ تھوڑے غصہ میں بولے ۔

جی بابا –

پاکستان کیوں آئے تم —

بس دل کیا ۔

تمہارا دل کی ایسی کی تیسی –

کیوں بیچارے دل کو بیچ میں لا رہے ہیں ۔ .

اپنی شکل گم غائب کرو یہاں سے

جارہا ہوں بڈھے بابا —

الله حافظ —

فارس -وہ کافی زور سے چلائے تھے ۔

وہ جلدی سے گھر سے نکل آیا ۔

اب اُس کے قدم سکندر ولا کی طرف بڑھے۔

جو کچھ دوری پر تمام شان و شوکت کے ساتھ کھڑا تھا

وہ بغیر کسی روک ٹوک کے اندر داخل ہوا –

وہیں ضمیر آتا ہوا دیکھائی دیا۔

وہ دونوں ایک دوسرے سے گلے ملے اور اندر کی طرف بڑھ گئے ۔

پورے دن تماشے بازی کرنے کے بعد ایک بجے وہ ہرر مووی دیکھنے بیٹھ گیے ۔

رات کے تین بج چکے تھے

وہیں فارس کا فون بجا۔

Badha Baba Calling


فارس، یہ کیسے Save کیا ہے تم نے انکل کا نام ..

چھوڑو کال مت اٹھانا۔

کچھ دیر بعد – ضمیر کا فون بجا .

…..Uncle Calling

لو بیٹا تمہارے ساتھ ساتھ میری بھی فیلڈنگ سیٹ ہوگی۔

اٹھاؤں یا نہیں۔

اٹھا لو

فارس یہ کہہ کر خاموش ہو گیا ۔

ہیلو انکل

فارس کہاں ہے۔

سو رہا ہے ۔

اس اُلو کے پٹھے کو بولو کہ گھر آئے

انکل

مامو وہ سو رہا ہے ۔ اس نے فارس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔

اگروہ ایک منٹ میں مجھے یہاں دیکھا نہیں دیکھا تو میں اُس کی چمڑی سکندر ولا میں آکر اُدھیروں گا ۔

انکلللللل۔۔۔۔

انکل کے بچہ ، تم اُس کو یہاں بھیجو۔

اس نے کال کاٹ دی – –

میں انکل کے القابات پر عش عش عش کر اٹھا ہوں

اب اُلو کے پٹھے گھر نکلو —

فارس نے اُس کو اُلو کے پٹھے کہنے پر کھورا ارے یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں انکل کہہ رہے تھے ۔

یہ کہو کہ مجھے میرے مامو کے گھر سے نکال رہے ہو

بہت بڑے کمینے ہو

فارس بولا ۔

میں کمینا ہی صحیح ہوں نکلواب

آخر کار وہ ڈھیٹ ابن ڈھیٹ نے اُس کی بات سن لی تھی

_______________ʕ⁠っ⁠•⁠ᴥ⁠•⁠ʔ⁠っ___________

وہ کچھ دن بعد واپس کینیڈا آگیا۔

پتہ نہیں کیوں اسے کینیڈا اسے خالی لگ رہا تھا۔

با شاید وہ کسی کا انتظار کر رہا تھا ۔

پہنچا ۔ “Toronto University” وں صبح کے وقت

کی پہلی کلاس Business Ecronis تھی۔

mr Faris, where is your partner

I don’t know sir.

You should know where she is,

Sir, I think she had left canada


where she had gone

پروفیسر پیٹرنے فارس سے پوچھا تھا ۔

Sir, I think she had return to pakistan

Ok…

، واپس آجاؤ پھر سے ، فارس نے بے بسی سے کہا ۔

کاش انا یہ سن رہی ہوتی ۔

فارس کا اُس کلاس میں دھیان نہ تھا ۔

اس وجہ سے وہ اٹھ کر چلا گیا ۔

-کچھ وقت بعد وہ کنٹین میں بیٹھا تھا ۔

سامنے سے روز آتی دیکھائی دی ۔

اُس نے فوراً اکر فارس کا گریبان کا پکڑا ۔

کہاں ہے انا ، تم نے کیا کیا ہے ۔ فارس

وہیں کئی لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے ۔

بولو — کیوں نہیں بولتے ۔

خاموش کیوں ہو۔ .

روز چلائی ۔

تم نے کیا کیا لیے انا کے ساتھ ۔

فارس کھڑا ہوا اور اس نے روز کے ہاتھ اپنے گریبان
سے ہاتھ ہٹایا

Miss Rosaline stay in your limit

Do you have any character faris

shut up.. Miss Rosaline, I am respecting you as a women but you are crossing the limit. The end will be worst for you.

اس سے زیادہ کیا بُرا ہوگا ۔ میں نے اپنی سات سال پرانی دوست کھو دی۔

فارس – ہر چیز کے ذمہ دار تم ہو ۔۔

کہاں ہے انا

پاکستان میں ..

تمہیں کیسے پتہ ۔۔۔۔ اب وہ نرم پڑی تھی۔۔

مجھے جب ریلیز ہوا تو میں اس کے پیچھے گیا ۔

مگر وہ اپنے پارنٹز کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔

پھر کیا ہوا ۔۔

اُن کے پڑوسی سے پوچھا تو انا کے انکل کا انتقال ہو گیا ہے ۔

خاموش کیوں ہو جاتے ہو ، ہر تھوڑی دیر میں ۔ آگے کیا ہوا ۔

روز زور سے بولی ۔

انا پاکستان کے لیے نکل گئی ۔ میں اس کے گھر کے اندر گیا تو

تم اُس کے گھر کے اندر کیسے گئے فارس – –

کچھ بولو گے ۔

دیوار کراس کرکے

تمہیں پتہ ہے اس پر تم جیل جا سکتے ہو ۔ ۔

پتہ ہے ۔۔

پھر کیا ملا وہاں تمہیں

کچھ نہیں گھر کے فرنیچر پر سفید چادریں ڈالی ہوئی تھیں اور انا کا فون وہیں گرا ہوا تھا ۔۔

اب اُس کا فون کہاں ہے فارس —

اُس کے یہ کہنے ہو گا اس پر فارس نے اندرونی زپ کھولی۔ جب اُس نے جیکٹ سے ہاتھ باہر نکالا۔

تو وہ ایک خوب صورت موبائل تھا۔ اُس کے کور کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ بڑی فرصت سے سجایا گیا تھا ۔

روز نے چھیننے والے انداز میں فون لیا ۔۔

اور کچھ ہے تمہارے پاس اس کا ..

نہیں۔ فارس نے جھوٹ بولا ۔۔

اُس کے کے پاس ابھی بھی وہ لاکٹ محفوظ تھا ۔

انا کی امانت .

روز موبائل لے کر چلی گئی

فارس کو اپنا آپ ہر طرح قصور وار لگ رہا تھا۔

اُس نے انا کے ساتھ غلط کیا ۔

وہ کہتا تھا کہ لوگوں کے رویہ اُس پر اثر انداز نہیں ہوتے تھے ۔ اب ہونے لگے تھا۔

وہ جو اپنے اوپر سٹیل کور اوڑھ کر رکھتا تھا وہ اتر نے لگا تھا۔

انا کے جانے نے اُسے بدل دیا تھا۔

ہاں آپ نے صحیح سنا فارس بدل گیا تھا۔

، ہر وقت ، ہر مصیبت میں پر سکون رہنے والا فارس بدل۔ گیا تھا۔

اُس کی نیندیں اُس سے روٹھ گئی تھیں۔

وہ بے سکون رہنے لگا تھا ۔

انا دوسری لڑکی تھی جس کا جانا اُس پر اثر انداز ہوا تھا۔

علیزہ کے بعد انا اور ان کے بعد پتہ نہیں کون ۔

وہ کتنوں کا جانا کہے گا ۔

اُسے راستہ چاہیے تھا یہاں سے نکلنے کا

اُسے پر سکون ہونے کا راستہ چاہیے تھا ۔

وہ دنیا سے تھک گیا تھا۔

کیا فارس واپس اپنے خالق ورب کی طرف لوٹنا چاہتا تھا

کیا سچ میں وہ پر سکون ہونا چاہتا تھا ۔

پھر جاننے کے لیے آگے بڑھتے ہیں

_________________ʕ⁠っ⁠•⁠ᴥ⁠•⁠ʔ⁠っ_________

ہیلو ضمیر –

پہلی رنگ جانے پر کال اٹھائی گئی ۔

ہیلو۔۔

کیسے ہو فارس –

بہت برا —

کیوں کیا ہوا ہے

پوچھو کیا نہیں ہوا ۔۔

اچھا، تو کیا نہیں ہوا ۔۔

ضمیر میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں ۔

تو میں کون سا ہوں – ضمیر کی طرف سے جواب آیا۔

انا کی سات سال پرانی دوست نے مجھے بہت باتیں سنائی

تمہارے ساتھ یہی ہونا چاہیے فارس

اللہ میں کہاں جاؤں

جہنم میں

اتنے برے اعمال نہیں ہے میرے ۔

فارس بولا –

ویسے خیر اچھے بھی نہیں ہیں

ویسے ضمیر اگر میں پہلے مار گیا تو

تو کیا – ضمیر نے لاپرواہ انداز میں بولا ۔

میرے بارے میں اچھی باتیں کرنا ۔

پہلا جھوٹ تو یہ بولوں گا کہ تم ایک دم شریف تھے۔ ۔

اچھا چلو یہ چھوڑو ۔

فارس تمہارے سیمسٹر ایکزم اسٹارٹ ہونے والے ہیں ۔

ہاں وہ تو ہے

تیاری کرلی

میں نے نیت کرتی ہے ۔ باقی اللہ حافظ ہے۔

پڑھ لو بھائی ۔

تم پڑھ لو ، تمہاری کتنی تیاری ہے ۔

میری –

وہ سوچ میں پڑ گیا

یا یہ بولو کہ تم اپنی محبت کے نظارے کرتے رہتے ہو ہر وقت

فارس س س س

ایک سیکنڈ اُس کا نام کیا ہے

“حور”۔ اُس نے ٹرنس کی کیفیت میں کہا ۔

تمہارے لیے ایک چیز پیش کرنا چاہوں گا

بولو۔۔

neeli pari, peeli pari kamra ma band ha mera yaar ko Hoor pasand ha

فارس فارس

وہ ایک دم چلایا تھا۔

کچھ غلط بولا کیا ۔۔

فارس اگر تم میرے سامنے ہوتے تو تمہاری چمڑی ادھیر
دیتا۔۔

ضمیر سنو

بولو۔۔۔

تمہیں سچ میں اس سے محبت ہے ۔

نہیں مذاق میں

تو پھر کب سے میرا دماغ کیوں کہا رہے تھے مجھے لگا اصلی والی محبت ہوگئی ہے ۔

دیکھو فارس میں تمہیں سریسں طریقے سے بتا رہا ہوں کہ میری محبت کے بارے میں کچھ نہ بولو۔

اگر اپنے دوست کو اس کے کرش کے نام سے نہ چھیڑا تو کیا کیا — فارس مزے سے بولا ۔

ویسے فارس ہم دونوں کا فیوچر میں کیا ہوگا ۔

میں سی ای و ہوں گا

تم سیدھے جواب نہیں دے سکتے۔

وہی تو دے نہیں پاتا ۔

اللہ تم پر رحم کرے فارس

یار جب تمہیں کال کی تھی میں تمہیں کچھ بتانے والا تھا

کیا بتانے والے تھے فارس

اب تو شاید رایٹر صاحبہ بھی بھول گئی ہوں گی کہ کیا بتانے والا تھا۔

ہاں ۔

میں یہ بتانے والا تھا کہ انا کی دوست روز نے مجھے بہت بتائیں سنائی ۔

کیا بولا اُس نے .

اس نے کہا کہ انا میری وجہ سے گئی ہے ۔

صحیح بولا

تم میری طرف ہویا اُس کی طرف ۔

Absolutely اُس کی طرف – –

تو بتاؤ کیا ہوا فارس –

یار اس نے مجھے کریکٹرلیس کہا اور بہت کچھ ۔ –

ضمیر مجھے سکون چاہیے ۔

رب کی طرف لوٹ آؤ فارس

کیا مطلب

تمہاری بے سکونی ختم ہو جائے گی رب العلمین کے پاس تمہاری بے سکونی کا علاج ہے ۔

پلٹ آئو فارس –

ضمیر میں نے نمازیں پڑھنا چھوڑ دی ہیں مجھے سورتیں یاد نہیں ہیں

خدا کے پاس پلٹ جاؤ، تم نماز کی نیت کرو ہر آیت اور سورتیں خود یاد آجائے گی

_______________(⁠っ⁠.⁠❛⁠ ⁠ᴗ⁠ ⁠❛⁠.⁠)⁠っ__________

ضمیر خدا مجھ سے ناراض ہے۔۔۔۔۔۔۔

وہ رب ہے فارس ۔ وہ ناراض نہیں ہوتا ۔ تم معافی مانگو وہ معاف کر دے گا ۔ خدا بہت رحیم ہے فارس ۔ وہ ہر گناہ معاف کر دیتا ہے اگر معافی دل سے مانگی جائے ۔ تو.

مگر میں نے نمازیں دس سال پہلے چھوڑدی تھیں

فارس تم کیوں نہیں سمجھ رہے ہو ۔ دوریاں آتی ہیں مگر دوری
کا مطلب بھولنا نہیں ہوتا۔

تم نے خدا سے دوری بنالی فارس

وجہ نہیں پوچھوں گا۔ اگر تم بتا دو تو بہتر ہے ۔

علیزہ ۔۔۔۔۔ میں نے پانچ سال تک علیزہ کو دعا میں مانگا
۔ پانچ سال ضمیر مگر وہ نہیں ملی ۔

تمہاری دعا رد نہیں ہوئی ہے ۔ محفوظ کرلی گئی ہے۔

مطلب –

اگر قسمت میں ہوا تو تم علیزہ سے بھی ملو گے اور . انا سے تھی ۔

دعاؤں میں بہت تاثیر ہوتی ہے فارس قسمیں بدل جاتی ہیں

میں نماز پڑھنے کیسے کھڑا ہوں ۔

میں تمہاری مدد کروں گا

تم کرو گے

فارس نے حیرانی سے پوچھا ۔

ہاں دوست اس لیے تو ہوتے ہیں

Thank You Zameer

۔ تم نیت کرو، میں تمہاری ہر طرح سے مدد کروں گا۔

تشکریہ ، مگر مجھے وقت چاہیے۔

فارس

وقت کے لو ۔ مگر پلٹنا ہے

انشا الله ، جب تم اگلے تم مجھ سے کچھ مہینہ بعد ملو گے تو میں بدل چکا ہوں گا۔

اپنا خیال رکھنا فارس

خدا حافظ

فی امان الله

یہ کہہ کر فارس نے فون کاٹ دیا۔

وہ سونے کے لیے لیٹ گیا ۔

کہیں دور اندھیرے میں ایک کونے پر سفید کرتے میں ایک مرد کھڑا تھا۔

گپ اندھیرا ۔

دور کہیں روشنی تھی ۔

فارس – فارس – -اسے نسوانی وجود سے آواز آئی

دور کہیں سے آواز آئی تھی

فارس اُس کی طرف متوجہ ہو ۔

فارس۔۔۔۔۔۔۔

دوبارہ آواز آئی

مگر یہ تھوڑی تیز تھی۔

کون ہو تم اور کہاں ہو ۔

وہ ابھی بھی اس اندھیرے میں بھٹک رہا تھا ۔

راستہ۔۔۔۔۔

دور کہیں راستہ نظر آیا ۔

مگر تاریکی سے روشنی کی طرف جانے والے اتنی جلدی کہاں اس تاریکی سے نکالتے ہیں

وہ جتنا قریب جاتا وہ راستہ دور ہو جاتا

مضبوط مرد۔۔۔۔

اندھیرا ۔۔۔۔۔

اندھیرا میں بھٹکتا مسافر۔۔۔۔

روشنی کی جانب کا مسافر۔۔۔۔

مشکلیں۔۔۔۔

زخم ۔۔۔۔۔۔

پاکیزہ روح۔۔۔۔۔

یہ سب کتنا مشکل تھا نہ۔۔

-یہ خدا مجھے راستہ دکھا دے

وہ یہ کہہ کر رونے بیٹھ گیا۔

کیا تم نے ہارے ہوئے مرد کو دیکھا ہے ۔

نہیں دیکھا ۔

تو تمہیں چاہیے فارس کو دیکھو ۔

کیا تم نے کسی مرد کو روتے ہوئے پناہ مانگتے ہوئے دیکھا ہے ۔

نہیں

فارس دانیال ملک کر دیکھو جو ہر طرح کی آسانی. اور آسائش ہونے کے بعد بھی بے سکون ہے ۔

میرے خدا مجھے راستہ دیکھا ۔

وہ یہ کہنے کے بعد رویا نہیں کھڑا ہوا اپنے لیے راستہ ڈھونڈنے کے لیے ۔

فارس – وہ نسوانی آواز پھر سے گونجی

دور کہیں اُس نے سفید لباس میں ایک لڑکی کو دیکھا۔

وہ اٹھا ۔ وہ گرا مگر ہارا نہیں ۔ وہ اس کی طرف بھاگا۔

وہ بھاگتا رہا اور روشنی کا دروازہ خود با خود قریب ہوتا رہا

وہ لڑکی اس کے اندر جا رہی تھی۔

روکو — مت جاؤ ۔

مگر اس نے نہیں سنا ۔


پس تاریکی سے روشنی کی جانب کا مسافر اس میں داخل۔
ہو گیا ہے۔

اس مسافر کو صراط مستقیم مل گیا ہے ۔

وہ نور کے اندر داخل ہو گیا ہے ۔

فارس نے خود کو الگ دنیا میں پایا ۔

ایک پھولوں سے سجے ہوئے جھولے پر ایک نسوانی وجود موجود تھا۔

فارس نے آگے پیچھے دیکھا وہ ایک الگ دنیا میں تھا بے انتہا خوب صورت دنیا ۔

کون ہو تم ۔۔ فارس نے سامنے تھے بھولے پر بیٹھی لڑکی سے سوال کیا


فجر۔۔۔۔

وہ کوشش کے بعد بھی اُس کا چہرہ نہ دیکھ سکا مگر اس کی آنکھیں بہت خوب صورت اور پرنور تھیں ۔


آس پاس کا منظر بدلنے لگا ۔

الله –

یہ کہہ کر فارس ایک دم سے جاگا۔

یہ کیا تھا، ایک خواب – وه کینیڈا کی سردی میں بھی پسینہ میں شربور تھا ۔


______________⊂⁠(⁠´⁠・⁠◡⁠・⁠⊂⁠ ⁠)⁠∘⁠˚⁠˳⁠°_________

کیا تھا یہ میرے خدا ۔

کیا میں نور میں داخل ہو گیا ہوں ۔ کیا میں نے سیدھا
راستہ پا لیا ہے ۔

پتہ نہیں ۔

کہیں دور سے فجر کی اذان گونجی ۔

اصلوة خیر من النوم ( نماز نیند سے بہتر ہے)

اُس نے گھڑی کی طرف دیکھا

گھڑی پانچ بجا رہی تھی ۔

اُس نے موبائل کھولا

سب سے پہلے اُس نے ضمیر کو کال ملائی ۔

اسلام و علیکم ضمیر

اور وہیں دوسری طرف ضمیر کو اس کے سلام کرنے پر
دھچکا لگا ۔

وعلیکم اسلام ، کیا تم صحیح ہو فارس

مجھے فجر کی نماز پڑھنی ہے ضمیر

کیا۔

وہ قدر زور سے چلایا ۔۔

ضمیر کیا میں مذاق کر رہا ہوں ۔۔

نہیں۔

فارس تم نماز کے لیے کھڑے ہوگے تو تمہیں سب یاد
آجائے گا تم نیت کرو۔

اگر مجھے یاد نہ آیا ۔

فارس اگر تمہاری لگن سچی ہے تو سب سورتیں یاد آجائیں گی۔

میں نماز پڑھنے جارہا ہوں ۔

وضو کرنا آتا ہے ۔

ضمیر نے سوال کیا ۔

بھول گیا۔ فارس شرمندگی سے بولا ۔

دس منٹ تک ضمیر فارس کو وضو کا طریقہ سیکھتا رہا

اب فارس نے کال بند کر کے نماز کے لیے وضو کیا بنانے کے لیے اُٹھا ۔

چار دفعہ غلط کرنے کے بعد
اُس نے پانچویں دفعہ صحیح کر لیا تھا۔

یا اللہ تیرا شکر ہے

اُس نے وضو مکمل کر کے ۔ کلمہ شہادت پڑھا ۔ اُس کے بالوں سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں

بے شک وہ ایک پر کشش مرد تھا۔

اسنے باہر آکر اپنے بال جھاڑے

اپنے کمرے میں آکر جائے نماز ڈھونڈنے کا سوچا ۔

جائے نماز نہ ملنے کی صورت میں اُس نے صاف بیڈ شیٹ نکلی اور اُسے قبلے کی طرف بیچھا دیا

وہ نیت کر کے کھڑا ہوا ۔

اور حیرانی کی بات یہ تھی کہ وہ کوئی سورت نہیں بھولا تھا۔

اُس کے سجدے لمبے ہو رہے تھے۔

اب کمرے کا منظر ایسا تھا کہ ایک وجیہہ دراز قد مرد سجدے میں گرا ہچکیوں سے رو رہا تھا

اُس کو اپنا سکون مل گیا تھا۔

کافی وقت بعد اسنے سلام پھیرا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھالیے

اے اللہ تو بہترین کارساز ہے ۔ میری زندگی بہت مشکل ہوگی تھی مگر آپ کے پاس لوٹنے سے وہ مشکلات آسان ہوتی نظر آرہی ہیں۔ میرے خدا مجھے میری بہترین دوست سے ملوا دے۔
اللہ تعالٰی ایک آخری بار انا سے ملوا دیں میں اس سے اپنے کیے کی معافی مانگنا چاہتا ہوں ۔

اُس کی دعا کافی وقت بعد ختم ہوئی ۔

اُسنے منہ پر پانی ڈالا ۔

ضمیر نے صحیح کہا تھا کہ نماز میں سکون ، خدا کے پاس لوٹ جانے میں سکون ہے ۔ اُس کی بے سکونی کا علاج خدا کے پاس تھا ۔

وہ پر سکون ہوگیا تھا۔

سکون کا متلاشی آج سکون پاگیا تھا۔

وہ تاریکی سے نکل گیا تھا۔۔

پستی میں رہنے والا اب اپنی آگے کی منزل ڈھونڈنے نکل گیا تھا

وہ روشنی میں داخل ہو گیا تھا۔

اُس کی آنکھ نو بجے کے قریب کھلی ۔ وہ یونی جانے کے لیے تیار ہوا ۔

“Toronto University”

وہ داخل ہوا ۔ کافی لڑکیاں اس کی طرف متوجہ ہوئیں ۔

وہ آکر بیٹھ گیا۔

ایک لڑکی سامنے سے اُس کی طرف ۔

مجھ میں ایسا کیا ہے جو اس انا میں جو تم اُس کو بھول کر تم میرے اوپر دھیان نہیں دے سکتے۔

فارس نے ناگوار نظروں سے اسے دیکھا

روز جو پیچھے کھڑی تھی ۔ وہ بھی ایک دم کھڑی ہو گئی ۔

اس کے اندر کیا ہے ایسا فارس

وہ بہت الگ ہے۔ وہ تمہاری طرح خود کو میرے سامنے پیش نہیں کرتی ۔

تم چیپ ہو ، اور مجھے چیپ چیزیں نہیں پسند

سامنے کھڑی لڑکی ابھی بھی حیران تھی۔ پیچھے کھڑی روز واپس بیٹھ گئی


فارس بھی واپس کرسی پر بیٹھ گیا اور سامنے رکھے کھانے لگا۔ French Fries

فارس اگر مجھے انا ملی تو میں اسے جان سے مار دوں گئی۔ وہ لڑکی غصہ میں پھنکاری

پھر ایک کام کرو پاکستان چلی جاؤ، وہ وہیں ملے گی ۔ اب جاؤ یہاں سے مجھے کھانے دو –

وہ پاؤں پٹختی وہاں سے چلی گئی ۔

فارس نے مسکرا کر اُسے دیکھا اور واپس کھانے کی طرف متوجہ ہوا

کیوں کہ کھانا اُس کی سب سے بڑی کمزوری تھا۔

______________⊂⁠(⁠◉⁠‿⁠◉⁠)⁠つ____________


راہ نجات

ایک عرصہ پیچھے چلتے ہیں ۔

یه وقت جب انا الیور نے دس سال بعد پاکستان میں قدم رکھا تھا۔

پاکستان ائیر پورٹ پر ہر وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ کھڑی تھی

وہ عجیب نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔

مام یہاں کے لوگ اتنے رنگ برنگے کیوں ہیں۔

انا ۔ انہوں نے تنبیہی نظروں سے کہا۔

خیر اب باہر چلو – –

اسلام آباد۔۔۔

پُر فضا ماحول ۔۔۔

یہ کتنا خوب صورت ہے ۔ دس سال بعد پاکستان کتنا بدل گیا ہے

ہاں یہ بہت خوب صورت تھا۔

انا کیا تم صحیح ہو۔ اولیور نے پرپیشانی سے پوچھا۔

ڈیڈ دس سال ہوگئے ہیں اُس واقعہ کو اپنے نے ابھی بولا تو مجھے یاد آیا ہے ۔

مجھے پاکستان آتے ہوئے تمہاری فکر تھی۔

پریشان نہ ہوں ۔ میں اب نو سال کی بچی نہیں ہوں ۔ وہ تھوڑا چڑ کر بولی ۔

چلو اب ، اولیور نے آگے بڑھ کر اُس کا ہاتھ پکڑا ۔

وہ ائیر پورٹ سے باہر نکلے ۔ کئی ٹیکسی والے اُن کی طرف لپکے

اُن کے بیچ میں سے نکل کر وہ لوگ سکون سے ایک ٹیکسی میں آکر بیٹھے

اب ٹیکسی مارگلہ ہلز کے برابر سے گزر رہی تھیں ۔

بے شک اسلام آباد بہت خوب صورت تھا ۔

کچھ منٹ بعد ٹیکسی وسطی قبرستان پر روکی ..

گاڑی سے اُترنے پر انا نے سر پر ڈوپٹہ لے لیا ۔

اپنے ماں باپ کے ہمراہ وہ اندر داخل ہوئی

کچھ دوری پر لوگوں کا ہجوم دیکھائی دیا ۔

وہ تینوں اُس طرف بڑھ گئے ۔

صوفیہ جاکر ایک عورت کے گلے لگ گئی ۔

اس عورت کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے

انا کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی ۔

آپ نے اُن کو چھوڑا کیوں ۔ آپ پاکستان میں ہی رہ لیتے

تم میری بیٹی تھیں انا، میں نہیں چاہتا تھا کہ تم پاکستان میں اپنے ٹراما کے ساتھ رہو۔

میں نے اتنی بڑی قربانی نہیں مانگی تھی ڈیڈ – انا کی آنکھوں میں آنسوؤں تیرنے لگے

مگر مجھے اپنی بیٹی کے لیے یہ قربانی دینی تھی ۔

آپ نے میری وجہ سے اپنے بھائی کو چھوڑا ۔

ضروری تھا۔ وہ یہ کہہ کر آگے بڑھے اور کسی سے گلے مل وہ شخص بھی رو رہا تھا۔

میں کہاں پھنس گئی ہوں – وہ اس ماحول سےتنگ ہو آرہی تھی۔

پیچھے سے کوئی عورت آئی

تم کون ہو لڑکی ۔ انہوں نے سوال کیا اور اُسے عجیب نظروں سے دیکھا ۔

میں – انا نے حیران ہو کر خود کی طرف اشارہ کیا ۔

ہاں تم —

میں انا اولیور ہوں ۔ صوفیہ اور اولیور کی بیٹی

تو تم ہو صوفیہ اور اولیور کی بیٹی —

جی –

ا پیچھے سے صوفیہ آئیں اور اُس عورت کے گلے لگ گئی ۔ –

آپ کیسی ہیں خالہ – –

میں تو صحیح ہوں ۔

اُس کے بعد انا کو محسوس ہوا کہ شاید صوفیہ نے اُن کے کان میں کچھ کہا ہے ۔

انہوں نے صوفیہ کی بات سن کر سر ہلایا کہ وہ سمجھ چکی ہیں ۔

یہ میری بیٹی ہے انا اولیور ..

صوفیہ نے تعارف کروایا ۔

ہاں میں اس سے مل لی – کافی پیاری بچی ہے ۔ اس عورت نے جواب دیا

اچھا اب تو تم لوگ واپس canada نہیں جاؤگے۔

نہیں — جواب اولیور کی طرف آیا۔

اور انا کو لگا کے سارے سمندر کا پانی اُس پر الٹ دیا گیا ہے

وہ یک دم سفید پڑنے لگی ۔

یہ تو اچھا کیا تم لوگوں نے ۔ ویسے بھی پاکستان تمہارا ملک ہے ۔

جی اب اس لیے ہم یہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگئے ہیں۔

اب یہ بات صوفیہ کی طرف سے تھی

اس کا مطلب صرف انا کو اندھیرے میں رکھا گیا تھا ۔

ابھی بھی وہ تینوں بات کر رہے تھے مگر انا کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا ۔

وہ عورت اُن سے بات کرنے کے بعد آگے چلی گئی ۔

صوفیہ نے آکر انا کا ہاتھ پکڑا ۔

مگر ایک دم وہ بدک کر دور ہوئی ۔

انا – صوفیہ کی آنکھوں میں حیرت اُبھری —

دوسری طرف سے اولیور آئے اور انہوں نے آکر انا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور قبرستان سے باہر نکل گئے۔

باہر آکر انا نے ان کا ہاتھ ہٹایا ۔

ڈیڈ یہ کیا مذاق ہے ۔

انا یہ کوئی مذاق نہیں ہے سچ ہے

مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ۔

تم پاکستان آنے کے لیے نہیں مانتی۔

ڈیڈ میں نے آپکی اس سے پہلے کوئی بات رد کی ہے ۔ آپ کا ہر حکم میرے لئے پتھر پر لکیر ہوتا ہے ۔ مگر اس کے بعد بھی آپ نے مجھے اندھیرے میں رکھا وجہ ۔

ابھی گھر چلو انا —

اب ٹیکسی ایک نئی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔

______________⊂⁠(⁠・⁠ω⁠・⁠*⁠⊂⁠)____________

اب انا اپنے ماں باپ کے ہمراہ ایک گھر میں داخل ہوئی۔

فرنیچر کے اوپر سفید چادر تھی ۔

انا کو وہ گھر فوراً یاد آگیا تھا ۔ یہ اس کے بچپن کا گھر تھا۔

جہاں اُس کی ہنسی کی آوازیں گونجتی تھیں ۔

اولیور اور صوفیہ آگے بڑھ کر چادریں ہٹا رہے تھے۔

وہ ابھی بھی ایک جگہ پر کھڑی رہ گئی تھی

انا ہم جانتے ہے تمہیں ہم نے پہلے نہیں بتایا مگر سچ بات تو یہی ہے کہ ، تمہارا ملک اور وطن پاکستان ہے۔ تم پاکستان میں پیدا ہوئی ہو اور اپنی زندگی کے نو سال یہاں گزارے ہیں۔ ہمیں ایک نہ ایک دن واپس لوٹنا تھا ۔ صوفیہ بولی

انا نے قدم آگے بڑھائے اور الٹے ہوئے فریم کو سیدھا کیا

وہ اُس کی بچپن کی تصویر تھی ۔ جہاں وہ صوفیہ اور اولیور کے ہمراہ فیصل مسجد کے احاطے میں کھڑی تھی

میں تیار ہوں پاکستان میں رہنے کے لیے۔

اولیور اور صوفیہ اُس کے جواب پر حیران رہ گئے ۔

اُن کو حیرانی اس بات پر تھی کہ انا اتنی جلدی کیسے۔ مان گئی ۔۔

اب اسی نظروں سے نہ دیکھیں میں سچ میں مان گئی ہوں مگر ایک شرط پر ۔

شرط۔

وہ دونوں ایک ساتھ بولے ۔

ہاں شرط —

پہلے ہی بتادوں کے چھ مہینہ سے پہلے مجھے یونی میں ایدمیشن کروانے کا نہیں بولے گا۔

Done

دونوں ساتھ ہوئے۔

چھ مہینہ بعد میں خود ہی کے لوں گی ۔

Done

صوفیہ اور اولیور خوشی سے ساتھ بولے

اس کے بعد انا بھی جلدی سے صوفیہ اور اولیور کے ساتھ کام کروانے لگی ۔

رات کے وقت ۔۔

کھانا کھانے کے بعد وہ تینوں ساتھ صوفے پر آکر بیٹھے

آج کے کام کی وجہ سے کافی تھکاوٹ ہوگئی ہے۔

انا نے نیند والی آواز میں بولا ۔

آج سب لوگوں کو یہیں یہاں صوفے پر سونا پڑے گا ۔

صوفیہ نے اعلان کیا۔

مگر کیوں

کیوں کہ کمرہ ابھی صاف نہیں ہوئے ہیں –

آپ لوگ دوسرے صوفے پر جائیں ۔ میں اب سو رہی ہوں ۔

انا نے ایک اور حکم جاری کیا ۔

خداوند یہ لڑکی کتنا نچاتی ہے ۔

وہ دونوں الگ الگ صوفوں پر لیٹ گئے ۔

صوفیہ اور اولیور ابھی بھی باتیں کر رہے تھے مگر انا نیند کی وادیوں میں کھو چکی تھی۔

ایک ہفتہ کے اندر ان کا گھر سیٹ ہو چکا تھا

آج اُس کے گھر اُس کے ننھیال والوں کو آنا تھا۔

انا سارا کام ہو گیا ہے کیا ۔ صوفیہ نے انا کو آواز دی ۔

جی مام ، ہو گیا ہے ۔ بس ٹیبل پر کھانا لگانا باقی ہے

انا ، اولیور کو کال کرو ، اُن سے پوچھو کے وہ کب تک آئیں گے۔

جی مام کر رہی ہوں ۔

جواب دے کر وہ اپنے روم میں آئی اور فون اٹھا کر کال ملائی۔

ہیلو ڈیڈ –

ہیلو انا ، کیا ہوا ہے ۔ گھر پر سب آگئے ۔

نہیں ڈیڈ، مام نے کہا تھا کہ آپ کو کال کرکے پوچھو کہ کب تک آئیں گے

اچھا میں میں آرہا ہوں ۔

جلدی آئے گا میں آپ کا ویٹ کر رہی ہوں ۔

انا نے یہ کہہ کر کال کاٹ دی

مام ڈیڈ تھوڑی دیر میں آرہے ہیں۔

اچھا صحیح ہے، اب کام کام کرو، جلدی

دروازہ بجنے پر وہ باہر کی طرف بڑھی ۔

ہیلو۔۔

اُس نے جب دروازہ کھولا ۔

ایک عورت اُس کے گلے لگی ۔

انا ایک دم پیچھے ہوئی ۔

– I am not a hug person .

ہيلو مامو –

انا نے اُن کو پہچان لیا تھا۔

کیسی ہوانا ..

میں بہت اچھی ہوں ۔

صوفیہ آکرلوکس کے گلے لگی ۔

اولیور کہاں ہے نظر نہیں آرہے ۔

لوکس نے صوفیہ سے ملنے کے بعد پوچھا۔

ابھی کام سے باہر گئے ہوئے ہیں ، آتے ہی ہوں گے ۔

ابھی صوفیہ کی بات مکمل ہوئی تھی کے دروازہ کھولنے کی آواز آئی ۔

ہیلو اولیور ..

۔۔ buddy کیسے ہو

میں صحیح تم اپنا بناؤ ،

مجھے کیا ہوتا ہے ویسے تم ہی فٹ ہوں۔ تم تھوڑے موٹے ہو گئے

کیا میں موٹا ہو گیا ہوں ۔

جی ہاں ،

کھانے کی خوشبو ..

اور ایک ساتھ بیٹھے ہوئے لوگ –

شاید کچھ عرصہ بعد ایسا نہ ہو، وقت اور لوگ بدل جائیں

_______________⊂⁠(⁠´⁠・⁠◡⁠・⁠⊂⁠ ⁠)⁠∘⁠˚⁠˳⁠°________

ڈرائنگ روم میں عجب ہنگامہ برپا تھا ۔ انا صوفے پر نیم دراز موبائل دیکھ رہی تھی ، مگر اس کی نظریں اسکرین پر کم اور کچن کی طرف زیادہ تھیں، جہاں سے عجیب و غریب آوازیں آرہی تھیں

صوفیہ ! یہ کیا جلنے کی خوشبو ہے ؟

اولیور نے بک کے پیچھے سے آواز لگائی ۔

جل نہیں رہی، تجربہ ہو رہا ہے

کچن سے فوراً آواز آئی ۔

انا ہنس پڑی ۔ ماما جب بھی آپ تجربہ کہتی ہیں، تو ہمیں فائر بریگیڈ تیار رکھنی چاہیے

صوفیہ انا کی بات پر کچن سے نکلیں

انا تمہیں پتہ ہے کہ میں دو ہفتے میں ہی ماسٹر شیف بن چکی ہوں ۔

اولیور نے چشمہ درست کیا اور بک کو سائیڈ پر رکھنا

ہاں ہاں پچھلی بار بھی آپ ماسٹر شیف تھیں اور ہم نے دال چاول کی جگہ کھچڑی کھائی تھی۔

انا کی ہنستے ہنستے بڑی حالات ہو چکی تھی۔

آج کیا بن رہا ہے مام

سرپرائز — صوفیہ نے زور سے کہا ۔

سرپرائیز کا مطلب ہے ہم میں سے کوئی بیمار پڑنے والا ہے ۔

صوفیہ نے آنکھیں دیکھائی اور واپس کچن کی طرف چلی گئی ۔

پندرہ منٹ بعد – –

وہ تینوں اب ٹیبل پر سامان رکھ رہے تھے ۔

ڈیڈ آج مجھے پکا لگ رہا ہے کہ ہم بھوکے سوئی گیں ۔

انا نے کچھ سوچتے ہوئے بولا ۔

مام اب بتا دیں کیا بنایا ہے ۔

بارہ مصالوں کی بریانی – انہوں نے کچن سے ہانک لگائی-

لب تو ہمارے پیٹ کی خیر نہیں ہے ۔

انا نے پہلا نوالہ لیا۔ پھر اسکی آنکھیں بھر گئیں

پانی ۔ پانی — انا کہانستے ہوئے بولی

کچھ منٹ بعد انا کی حالت بہتر ہوئی ۔

اب صوفیہ نے اولیور کی طرف دیکھا۔ .

میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ یہ کھانا نہیں ، ایڈونچر ہے۔

صوفیہ نے مصنوعی خفگی دیکھائی ۔

اچھا اچھا مان لیا ۔ اب یوٹیوب سے ہی دیکھ کر پکاوں گی

مام آپ جو بھی بنا لیں ہم نگار کھا لیتے ہیں اگر زندہ بچ جائیں ۔

انا ہنستے ہوئے بولی۔

ڈیڈ اب باہر چلیں

ہاں اب اور ہم کیا ہی کر سکتے ہیں ۔

جاؤ تیار ہو کر آؤ انا

Ok dad-

، وہ یہ کہہ کر اندر کی طرف بڑھی ۔

اُس کی الماری اب پہلے کی طرح اسکرٹ اور ٹاپ سے نہیں بھری تھی۔

اب اُس کے پاس بہت سے کرتیاں تھیں۔

۔ مگر صوفیہ کے کہنے کے باوجود بھی اُس نے بلیک ہوڈی نکلی اور اُس کے ساتھ جینز پہن لی ۔

لمبے ، خوب صورت بالوں کو کیچر میں قید کیا

پرس اٹھا کر وہ باہر نکل آئی۔

چلیں مام

صوفیہ جب باہر آئی تو انہوں نے انا کو اوپر سے نیچے دیکھا ۔

انا ۔ انہوں نے تنیہی نظر سے کہا

مام ، اب کچھ مت بولی گا۔ اسلام آباد کی مسلمان لڑکیاں بھی اس سے برے کپڑے پہنتی ہے ۔

وہ اُن کی تہذیب ہے انا

مام میں نے کینیڈا میں جب اسکرٹ اور ٹاپ پہنے ہیں تو یہاں کیا مسئلہ ہے ۔

انا کے میں ذہن میں وہ پرانا منظر گھوما –

گھٹنوں تک آتی اسکرٹ شارٹ ٹاپ اور ان دونوں کے اوپر لانگ کوٹ ۔ سیاہ ہیلز اور اس کے خوب صورت شانوں پر پھیلے بال .

صوفیہ چھوڑ دو اب اچھی تو لگ رہی ہے انا
تم اُس سے زبردستی نہیں کرو

Thank You dad..

اولیور نے گاڑی نکالی ۔

انا اب پیچھے کی سیٹ پر بیٹھ چکی تھی

ڈیڈ میں نے ایک ریسٹورنٹ دیکھا ہے ۔ وہاں چلے انا نے موبائل دیکھتے ہوئے کیا۔

ہاں ، تم مجھے لوکیشن بتا دو ۔۔

Ok dad…

“Mughal

اب لوکیشن بتاؤ مجھے جلدی سے

انا آج navigator بنی ہوئی ہے ۔ صوفیہ ہنستے ہوئے ہوں بولی ۔

یہ اتنا سرخ کیوں بنا ہوا ہے ڈیڈ – انا نے مغل کے باہر کھڑے ہو کر کہا

یہ سرخ نہیں مصلوں کی محبت ہے انا.

وہ اندر داخل ہوئے ، چاروں طرف سے کھانے کی خوشبوں نے ان کو گھیر لیا۔

ویٹر مینیو لاکر ان کی ٹیبل پر حاضر ہوا ۔ ۔

یہ سب کھانوں کے نام ہیں ۔ اتنے مشکل ، انا کارڈ پر نظر ڈال کر بولی ۔

انا، انسان بنو ، صوفیہ نے اُسنے گھورا

نو سال پاکستان میں رہی ہو ۔

نو سال پاکستان میں اور دس سال کنیڈا میں ۔۔انا فورا بولی ۔

انا نے خوشی خوشی ، بریانی ، نہاری رشیمی کباب اور نان کا آڈدر دے دیا ۔

اولیور اور صوفیہ اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے. تھے۔

کیا ہوا ڈیڈ ، ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں

تم نے اِن میں سے کوئی چیز بھی پوری کھالی تو میں تمیں پانچ ہزار دوں گا۔

لگی شرط – انا خوشی سے بولی۔

ہاں ۔ جواب اولیور کی طرف سے آیا ۔

انا اب آڈور کا ویٹ کرنے لگی۔۔

انا کے ذہن میں ایک سوال آیا ۔

ڈیڈ کیا ہم کنیڈا واپس نہیں جا سکتے .

انا ۔۔ اب ہم نہیں جا سکتے ۔

کیوں ۔

ہم تین لوگ کنیڈا سے پاکستان آئے کتنے ڈالر ہمارے خرچ ہوئے اور اس کے بعد بھی پاکستان آکر گھر سیٹ کیا ، گاڑی لی ۔ میرے اور صوفیہ کے انشورنس کے پیسے ختم ہو گئے ہیں ۔ تمہارے بچے ہیں مگر وہ تمہیں دو سال بعد ملیں گے ۔ ان پیسوں پر تم صرف اکیلی جاسکتی ہو۔

انا اُن کی بات پر خاموش رہ گئی۔ اُسے اب ساری زندگی اسی ملک میں گزارنی تھی ۔

_______________(⁠つ⁠✧⁠ω⁠✧⁠)⁠つ_________

پانچ مہینے اُسے وہاں رہتے ہوئے گزر گئے تھے۔

پانچ مہینہ بعد اس نے روز سے بات کرنے کا سوچا ۔

اُس کا نیا موبائل ابھی کچھ دن پہلے آیا تھا ۔

اُس نے صوفیہ کے موبائل سے روز کا نمبر نکال –
اور اُس پر کال کی

کافی دیر بیل جانے پر بھی کسی نے نہیں اٹھایا .

اس نے پھر کالی کی ۔

اب شاید کسی سے نہ تنگ آکر اُٹھا لیا تھا ۔

Who are you .. why are you disturbing me

انا کو پہلے یہ آواز کان میں پڑی

Don’t call me again..!

روز یہ کہہ کر کال کاٹنے والی تھی۔

روز

انا نے آواز دی .

Anna, its you, Yes it’s you Anna,

ہاں میں ہی ہوں روز .

سامنے بارش شروع ہو چکی تھی

بارش کی بوندیں کھڑکی سے آٹکرا کر نیچے کی طرف جا رہی تھیں

روز کی آنکھیں بھر آئی ۔

تم جانتی ہوانا میں سوچ رہی ہو تھی شاید تم کبھی ہوں، کال نہ کرو۔

میں تم سے ملے بغیر – – I am sorry rose
چلی گئی ۔

ٹورنٹو پر میں تمھیں ڈھونڈتی رہی – انا ہر چہرہ
تمہارا لگ رہا تھا

انا کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

میں جانتی ہوں میں نے غلطی کی ہے ۔

تم نے مجھے کچھ نہیں بتایا انا ، نہ الوداع ، نہ گلے ملنا – – بس تم مجھے خاموشی سے چھوڑ کر پاکستان چلی گئ

میں ہر دن تمہیں یاد کرتی ہوں روز، یہاں سب کچھ نیا ہے ، ہاں میں نے اپنا بچپن یہیں گزارا ہے مگر کنیڈا میں میرا ٹین ارا گزرا ہے ۔

تمہیں کیسے پتہ کے میں پاکستان میں ہوں۔

فارس سے پتہ چلا – روز بولی ۔

اُس اعلیٰ قسم کے کمینے کا میرے سامنے نام مت لو.

اُس نے بتائے بتایا کہ تم پاکستان میں ہو۔

اُس کو کیس kiے پتہ چلا۔

تمہارے پڑوسیوں سے ۔

تمہارا پرانا فون میرے پاس ہے ۔

کیسے، وہ تو گھر کے اندر گر گیا تھا ۔ انا حیران ہوئی ۔

فارس نے دیا۔

ایک سیکنڈ تم یہ کہہ رہی ہو کے وہ میرے گھر کے اندر گیا تھا۔ انا کو حیرت کا جھٹکا لگا ۔

ہاں تمہارے کنیڈا چھوڑنے کے بعد

What the hell

کیسے گیا۔

انا نے سوال کیا ۔

پھیلانگ کر ۔ ۔

خداوند – –

اُس کے پاس میرا نیکلس بھی ہوگا ۔

اس نے وہ نہیں دیا۔

روز کو حیرانی ہوئی۔

کون سا تھا ۔ روز نے پوچھا ۔

Diamonds settled in platinum –

وہ جو صوفیہ آنٹی نے تم کو برتھ ڈے پر دیا تھا۔

ہاں وہی والا ۔

انا نے تصدیق کی۔

وہ کہاں گرا تھا

Toronto University

کل میں اس سے پوچھتی ہوں ۔

وہ اور کیا کہتا ہے ۔ انا نے تجس میں سوال کیا ۔

اصل بات تو بتانا ہی بھول گئی ۔

جلدی بتاؤ۔ انا نے چپس کا پیکٹ سائیڈ پر رکھتے ہوئے کیا۔

فارس شاید تمہیں پسند کرتا ہے ۔

وہ اور میں صرف دشمن سے ہیں۔ اُس کو پوری یونی کے سامنے میں نے تھپڑ مارا تھا ۔

ایک اور بات بتاؤں ۔

جلدی بتاؤ ۔۔

ایک لڑکی آئی فارس کے پاس اور کہنے لگی کہ ” کیا ہے انا میں جو تم اُس کو بھول کر میرے اوپر دھیان نہیں دے سکتے ۔

فارس نے کیا کہا۔

بتا رہی ہوں صبر کرو ۔ وہ سوچنے کے لیے روکی

اُس نے کہا کہ “وہ بہت الگ ، خود کو تمہاری طرح طرح
میرے سامنے پیش نہیں کرتی ، جب تک انا نہ چاہیے کوئی اس کو جان نہیں سکتا

تم پاکستان میں کہاں ہو ۔

Islamabad

وہ تو بہت خوب صورت جگہ ہے ۔

بے شک – انا نے کہا فوراً بولی

واپس کب آ رہی ہو۔

بھی نہیں ۔ک

کیا مطلب انا

میں اب پاکستان میں رہوں گی ۔

پر کیوں ۔۔ روز کی آنکھوں میں پانی آئے ۔

کوئی راستہ نہیں واپس آنے کا، اچھا روز اپنا خیال رکھنا ، میں فری ہو کر تمہیں کال کرتی ہوں ۔ – انا نے جلدی کو سے کرکے کال کاٹ دی۔

ایک خوش گوار فون کال اپنے اختتام کو پہنچی تھی.

______________(⁠ ⁠T⁠_⁠T⁠)⁠\⁠(⁠^⁠-⁠^⁠ ⁠)_________

-انا نے آج اکیلے گھومنے کا پلان بنایا۔

وہ واقعی میں بہت خوب صورت تھی ۔

عموماً لوگ اُس کو دیکھ کر ٹھر جایا کرتے تھے۔

وہ اپنا بیگ لے کر باہر نکلی ۔

Good Bye mom- اُس نے دروازہ سے ہانک لگائی ۔

.Bye dear
– صوفیہ کی آواز کچن سے آئی۔

اسلام آباد کو اکیلے گھومنے کا مزہ ہی الگ ہے ۔

سب سے پہلے اُس نے فیصل مسجد جانے کا سوچا۔

ٹیکسی کو روک کر وہ بیٹھ گئی ۔

وہ اپنا موبائل استعمال کرنے لگی ۔

جب نگاہ اٹھائی تو ڈرائیور بار بار ریر ویو مررفکس کر رہا تھا


انا کے منہ سے – such a bloody Harasser-
نکالا


پرس کھول کر اُس نے چھڑی نکالی اور پیچھے سے اس کے گلے پر رکھ دی ۔

ڈرائیور ایک دم سے چیخ مار کر روکا ۔


اپنی نگاہیں نیچی رکھنا ورنہ تمہاری دونوں آنکھوں کے ساتھ گوٹیاں کھیلوں گی سمجھے۔

وہ چلائی نہیں غرائ تھی ۔

جی میڈیم میں سمجھ گیا۔

انا نے چھری پیچھے کی

میں تمہیں ایک روپیہ بھی نہیں دوں گی سمجھے۔

جیسا آپ کہیں میڈیم –

وہ شاہانہ انداز میں نیچے اُتری …

وہ فیصل سے مسجد کے احاطے میں آئی ۔

رش ہونے کی وجہ سے سامنے آنے والی لڑکی سے اس کی ٹکر ہوگئی ۔

دونوں کے پرس نیچے گر گئے ۔

I am Sorry

سامنے کھڑی لڑکی بولی ۔ – No it’s my mistake

آپ پاکستان کی نہیں لگ رہی۔ سامنے کھڑی لڑکی کی طرف سے سوال آیا۔

نہیں میں پاکستانی ہوں بس کچھ عرصہ باہر رہی ہوں ۔

آپ مسجد گھوم رہی ہیں

جی ۔۔۔اب انا کی طرف سے آیا

ساتھ چلتے ہیں ویسے بھی میں اکیلی ہوں ۔ سامنے کھڑی لڑکی مسکرائ

یہ تو اچھا ہے میں بھی اکیلی ہوں ۔ انا خوشی سے بولی ۔ –

وہ دونوں اب اشانہ بشانہ چلنے لگی ۔

تمہارا نام کیا ہے ۔

مابین دانیال – تم مجھے ماہی بولا سکتی ہو۔

انا اولیور –

تم مسلمان نہیں ہو۔ ماہی نے سوال کیا ۔

گھومنے کے بعد وہ ایک جگہ پر آکر بیٹھ گئے ۔

انا کو اب تک سمجھ میں آگیا تھا کہ وہ لڑکی بہت اکپریسو ہے


تم اپنے بارے میں بتاؤ انا ۔

میں نو سال پاکستان میں رہی۔ پھر اپنے مام اور ڈیڈ کہ ساتھ کنیڈا چلی گئی اور دس سال بعد واپس آئی ہوں

-Really Canada

ہاں – انا جولی –

میرا بڑا بھائی بھی کنیڈا میں پڑھ رہا ہے ۔

تم اپنے بارے میں بتاؤ ماہی ۔

میرے فیملی میں امی ، ابو اور بھائی ہیں ۔ تم نے مالک گروپ کا نام سنا ہے۔

انا نے نفی میں سر ہلایا۔

وہ ہمارا فیملی بزنس ہے اور میری امی بھی
کی شیر ہولڈر ہیںMalik group and traders
مگر وہ کمپنی نہیں جاتی ۔ وہ گھر پر ہوتی ہیں۔ اور بھائی وہ پاکستان میں ہوتے ہیں مگر لاسٹ ایئر کمپلیٹ کرنے کے لیے کنیڈا گئے ہوئے ہیں۔

ایک منٹ آپ کنیڈا میں کہاں سے ہیں

Toronto–

میرا بھائی بھی ٹورنٹو میں ہے۔

اچھا تمہارا کوئی کزن نہیں ہے ماہی ۔

صرف دو ہے مامو کی طرف سے ۔ ضمیر سکندر اور علیزہ سکندر

تو علیزہ سے تمہاری نہیں بنتی۔

وہ جب پانچ سال کی تھی تو اغوا ہوگئی تھی ۔ اور علیزہ بھائی کی منگیتر بھی ہے ۔

تمہاری تمہارے بھائی کی منگنی ہو چکی ہے


Yes.

اور جو ضمیر ہے اس کی لڑکیوں سے نہیں بنتی تو اس حساب سےمیرا کوئی کزن نہیں ہے

کوئی دوست –

میری دوست علیزہ ہی تھی اور میں نے کیسی کو دوست نہیں بنایا۔

تم اپنی فیملی کے بارے میں بتاؤ انا ۔

میرے ڈیڈ آنلائن جاب کرتے ہیں جو کے کنیڈا سے لنک ہی ہے اور مام ہاؤس وائف ہیں

تمہارا کوئی بہن بھائی نہیں ہے ۔

نہیں ۔

تم کیا پڑھ رہی ہو ماہی ۔

– Master in Political Science

. اور تم انا ۔

Business Ethics

بھائی بھی بزنس پڑھ رہے ہیں ۔

ایک تو اس کا بھائی ۔ انا بڑی مشکل سے ضبط کی ہوئی تھی۔

تم کون سے یونیورسٹی میں تھی انا ۔

Toronto University

سیم میرا بھائی بھی۔

ایک تو اس کا بھائی نامہ – انا سوچی –

تم نے میرے بھائی کو ضرور دیکھا ہو۔

اچھا نام کیا ہے ۔ انا کو نہیں پتہ تھا کہ اُس کو جھٹکا لگانے والا ہے۔

فارس دانیال ملک

کیا تم فارس کی بہن ہو۔ انا نے بے یقینی سے اسے دیکھا

میں نے کیا کہا تھا نہ تم بھائی کو جانتی ہوگی ۔

ہاں جنتی ہوں ، بلکہ بہت اچھے سے۔

اپنا نمبر دوانا ۔

ہاں لکھو۔

انا نے اُس کو نمبر بتایا ۔


انا نے بھی ماہی کا نمبرسیو کر لیا ۔

فیصل مسجد کے احاطے میں ایک نئی دوستی کی شروعات ہوئ


_______________⊂⁠(⁠´⁠・⁠◡⁠・⁠⊂⁠ ⁠)⁠∘⁠˚⁠˳⁠°________

عسرہ


آئیں ہم چلیں ، ایک نئے سفر کی طرف

کیا جاننا

کیا آپ جاننا چاہیے گئے ایسا کیا ہوا تھا جب انا نو سال کی تھی جو
اولیور اور صوفیہ اُسے کنیڈا لے گئے.

دس سال پہلے

ہیلو ڈیڈ۔ انا بیگ آتار کر فوراً اولیور کے گلے لگی

کیسا گزرا میری بیٹی کا دن – اولیور نے پوچھا۔

بہت اچھا ۔ آج مجھے میڈل بھی ملا ۔

صوفیہ ہ کچن سے نکلی

Really-

اس بات پر ٹریٹ بنتی ہے

کہاں جانا ہے میری بیٹی کو ۔

Shah Faisal Masque

اتوار کو چلتے ہیں۔ اولیور بولے ۔

صحیح ہے ڈیڈ

وہ اُن کے گلے کے حصار سے نکال کر کمرے کی طرف گئی ۔

اس کے کمرے کی ایک سے بڑھ کر ایک چیز موجود تھی اس کا کمرہ فروزن تہیم پر تھا

وہ اگر مارکٹ جاتی اور کسی بھی چیز پر ہاتھ رکھ دیتی تو اولیور اور صوفیہ پر وہ فرض ہوتا کہ وہ چیز اُس کو ڈلائیں پھر چاہیے وہ کتنی مہنگی کیوں نہ ہو ۔

کچھ دیر بعد وہ نہا کر باہر نکلی ۔

مام کھانا دے دیں۔

لا رہی ہو انا صبر کر لیا کرو کہ

انہوں نے انا کے سامنے چینیز رائس رکھا۔

آپ نے چائنیز بنایا ہے ، پہلے کیوں نہیں بتایا

جگ سے پانی نکالا اور سامنے رکھا۔

وہ کھانا شروع کرنے سے پہلے ہر چیز اپنے سامنے رکھتی تھی کہ اُسے بار بار نہ اٹھانا پڑے —

وہ مزے سے اپنی فیورٹ ڈش کھا رہی تھی۔

کھانا کھا کر وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی

مام میں سونے جاؤں کیا ۔

اچھا ، سو جاؤ، مگر جلدی اٹھ جانا صوفیہ ٹیبل سے پلیٹ اٹھاتے ہوئے بولی

Ok Mom

صوفیہ نے آکر ہلکے سے اُس کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اُس کو سوتا دیکھ کر وہ مسکرا کر باہر چلی گئیں۔

ڈیڑھ گھنٹے بعد انا کپڑے بدل کر باہر آئی۔

مام میں باہر جا رہی ہوں

ہوم ورک نہیں کرنا انا – –

کرتی ہوں آکر

وہ یہ کہہ کر جلدی سے باہر بھاگ گئ

اس لڑکی کا میں کیا کروں

باہر اکر وہ اپنی دوست دوستوں کے پاس چلی گئی

مگر کچھ دیر بعد انا کی کسی سے بحث ہوگئی معملہ انتہائی سنگینی پر چلا گیا وہ لڑکی جو انا سے تین ، چار سال سال بڑی تھی ۔ . اب انا کہ مذہب اور ماں ، باپ پر آگئی تھی۔

غصہ میں انا نے اُس کے منہ پر پنچ کر دیا

اب وہ اتنی بھی بچی نہیں تھی کہ وہ یہ باتیں سمجھ نہ پاتی

پنچ مارنے کی وجہ سے اُس لڑکی کی ناک سے خون
انا شروع ہوگیا ۔

اور وہ لڑکی چینخنے لگی ۔

جس کی وجہ سے انا بھی تھوڑی ڈرگئی ۔

اس لڑکی کے ماں باپ بھی باہر آگئے –

آوازیں سن کر صوفیہ اور اولیور بھی اٹھ کر باہر ائے

انا زمین پر گری ہوئی تھی۔

صوفیہ اور اولیور کے پاؤں اور ہاتھ ایک دم پھول گئے ۔ اس . ان کی پھولوں کی طرح پلی بیٹی کے ہاتھ بڑی طرح چھل چکے تھے۔

-اولیور فوراً سامنے آگئے اور انا کو اپنی گود میں اٹھا لیا

الیور باہر جانے کے بعد صوفیہ اندر آئیں جلدی سے کچن کی طرف گئی اور

– نکالی First Aid kit


اُس کے زخموں کو پہلے صاف کیا اور پھر مرہم پٹی بندهی

-تھوڑی دیر بعد ہی انا کو نیند نے آلیا ۔

باہر کافی دیر تک بحث چلتی رہی۔

آوازیں آتی رہیں ۔

________________(⁠◕⁠ᴗ⁠◕⁠✿⁠)____________

انا دو دن کی چھٹی کے بعد اسکول گئی تھی ۔

وہاں پر اس کی طبیعت خراب ہوگئی جس کی وجہ سے صوفیہ اور اولیور اس کو جلدی گھر لے آئے

اب انا کی ضد تھی کے اسے فیصل مسجد جانا تھا۔

انوار کو آنے میں دو دن باقی تھے

سو، انا کی ضد کی وجہ سے اولیور نے ہفتہ کی چھٹی لی ، کیونکہ وہ انا کی بات کو ٹال نہیں سکتے تھے۔

انا صبح جلدی اٹھ کر سامان سمیت رہی تھی۔

صوفیہ منہ دھو کر باہر نکلی

انا تم اٹھ گئی

Yes Mom–

اتنی جلدی ۔۔

انا کو صبح اٹھانا حد درجہ مشکل کام تھا

اچھا چلو میں ناشتہ بنا دیتی ہوں

میری بیٹی آج بہت پیاری لگ رہی ہے۔ صوفیہ نے سیرییل کا چاول میز پر رکھا اور انا کے ماتھے پر بوسہ دیا

چلو میں جلدی سے ناشتہ کرلوں ، پھر ہم نکلتے ہیں

اولیور یہ کہہ کر کچن میں صوفیہ کے پاس چلے گئے۔

آدھا گھنٹے بعد ۔

صوفیہ سامان گاڑی میں رکھ رہی تھیں

جب انا باہر نکلی تو وہ دونوں حیران رہ گئے ۔

اُس نے کپڑے بدل لیے تھے۔جینیز اور شرٹ پر اُسنے خوب صورت کاردیگن پہنا ہوا تھا اور سب سے خاص بات انا نے گلے میں ایک خوب صورت کو کیمرا ڈالا ہوا تھا۔

یہ وہی کیمرا تھا جو انا کو برتھ ڈے پردیا تھا ۔

صوفیہ ایک دم سے ہنسں پڑی ۔

مام میں بری لگ رہی ہوں ۔ انا نہ مصوم سا چہرہ بنایا۔

بلکہ نہیں، بہت پیاری لگ رہی ہو ۔ جواب اولیور کی طرف سے آیا ۔ –

ایک منٹ – روکے میں اپنا بیگ اندر بھول گئی ہوں۔

وہ یہ کہہ کر اندر بھاگی۔

ایک منٹ کے اندر وہ ایک چھوٹے بیگ کے ساتھ باہر آئی ۔

اب یہ تین لوگوں کا قافلہ فیصل مسجد کی طرف چل پڑا ۔

خوب صورت پڑاؤ

ایک خاندان —

تین لوگ

مگر .

کس کو ہتہ کے اگلے کچھ گھنٹوں میں کیا ہونے والا ہے

انا فیصل مسجد کے اندر جیسے ہی داخل ہوئی ۔ تو وہ مزے سے ادھر اُدھر گھومنے لگی ۔

وہاں پر کئی photographer موجود تھے۔

وہ تینوں ساتھ کھڑے تھے ۔ مکمل ایک ساتھ ۔

انہوں نے ساتھ پکچر کھنچواں ہیں۔

اب انا ہر جگہ گھوم رہی تھی ۔ وہ فیصل مسجد کے صحن میں ادھر اُدھر دوڑ رہی تھی ۔

ڈیڈ میں ہر جگہ کی تصویر لوں گی ۔

اگر بیٹری ختم نہ ہوئی تو ۔ اولیور ہنستے ہوئے ہوئے ۔

انا نے فوراً ایک تصویر لی –

انا ، آہستہ آہستہ چلنا ، کہیں گر نہ جانا ۔

انا تین چار بار گری –

مگر کسی کی مدد کے بغیر اٹھ گئی ۔

صوفیہ سے تو اپنی ہنسی سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔

مگر انا کہاں سنے والی تھی۔ وہ کبھی مینار کی تصویر لیتی ، کبھی آسمانی کی اور کبھی خود کی

حالانکہ آدھی تصویروں میں صرف انا کی پیشانی آتی تھی ۔

مام یہ دیکھیں ، میں نے خود کی تصویر لی ہے

صوفیہ اور اولیور تصویر دیکھ کر ہنس پڑیں ۔

انا ، اس میں تم نہیں ، صرف بادل ہیں ۔

ڈیڈ یہ کتنا خوب صورت ہے نہ ، بالکل چرچ کی طرح ہے

ششش — آہستہ بولو – یہ مسجد ہے

انا نے فوراً سر ہلایا اور کیمرا نام نکالا اور مسجد کی تصویرلی –

مگر تصویر میں آدھی مسجد اور آدھا اُس کا انگوٹھا تھا ,

اب وہ تھوڑا آگے بڑھے اور ٹیلز پر چلنے لگے ۔

یہ فرش اتنا ٹھنڈا کیوں ہے کیا مسجد کے پاس فریج لگا
ہوا ہے ؟

یہ سنگ مرمر ہے انا ، یہ ٹھنڈا ہی ہوتا ہے۔

اور تم نے یہاں ہر شوز پہنے ہوئے ہیں ، اُتارو جاکے – اولیور نے کہا ۔

Ok dad

وہ تھوڑا دور گئی ، جوتے اتارے اور پھر ہاتھ میں جوتے لے کر واپس آئی۔

جوتے واپس کیوں لے آئ

گم ہو جائیں گے

انا یہاں گم نہیں ہوتا ۔

اولیور آپ انا کے جوتے شلف پر رکھ کر آجائیں ۔

گم ہو جائیں گے وہ ڈیڈ ۔

نہیں ہوتے انا ۔

۔ یہ لیں

اب وہ صوفیہ کے ہمراہ آگے چل رہی تھی۔

________________(⁠✯⁠ᴗ⁠✯⁠)____________

انا خوشی خوشی چند قدم اور آگے بڑھ گئی ۔

وہ تصویریں لینے میں اتنی مصروف تھی کہ اُسے اندازہ نہ ہوا کہ وہ اولیور اور صوفیہ سے دور ہو چکی ہے ۔

اسی لمحے پیچھے سے کسی نے کہا ۔ کیمرہ اچھا ہے

انا فوراً پیچھے موری – لیکن میں اسے کیسی کو نہیں دیتی

تم اکیلی ہو ۔

نہیں میں اپنے مام اور ڈیڈ کے ساتھ ہوں، اس نے ادھر اُدھر دیکھا ۔ مگر ہجوم میں وہ نظر نہیں آئے ۔

وہ اُس کا چہرہ کو پہچان گئی تھی۔ چار سال پہلے کا واقعہ اس کے ارد گرد گھوم رہا تھا۔

بچوں کی یاداشت بڑوں کے معمالہ میں تیز ہوتی ہے ۔

اُس نے رونے کے بجائے سوچنا شروع کیا۔ اُسے ڈر لگ رہا تھا کہ اس کے ساتھ پہلے والا سلوک ہوگا ۔

اُسے کئی دن کمرہ میں بند رکھا جائے گا ۔ کھانا نہیں دیا جائے اُسے اس سب سے آگے کچھ یاد نہ تھا ۔ وہ کیسے باہر نکلی ہوا ، وہ سب بھول گئی تھی۔ اسے یاد تھا تو صرف یہ چہرہ

اس کے ڈیڈ کہتے تھے ۔

جب گھبراہٹ آئے ، دماغ کو آن رکھو۔

انا نے جان بوجھ کر اپنا کیمرا نیچے گر دیا ۔

اوں نو ! میرا کیمرہ –

وہ جھکی اور اسی لمے وہ فوراً سے اُس سے دور ہوئی ۔

وہ بھاگتے ہوئے ڈیڈ مام چلانے لگی ۔

چند لوگ انا کی طرف متوجہ ہوئے۔

ایک سیکورٹی گاڑد نے اُسے دیکھ لیا ۔

کیا ہوا بیٹا ۔ آپ صحیح ہیں

میں اپنے مام ڈیڈ سے الگ ہوگئی ہوں ۔

انا کا بس سے یہ کہنا تھا ۔ معاملہ فوراً بدل گیا ۔ اُسے محفوظ
مقام پر لے جایا گیا ۔

چند ہی منٹوں میں صوفیہ اور اولیور بھاگتے ہوئے اُس کی طرف آئے ۔

صوفیہ نے انا کو سینے سے لگا لیا اور اولیور نے سکون کا سانس لیا۔

اگلے کئی ہفتے گزر گئے ۔

انا کے ذہن سے وہ واقعہ نہیں نکالا تھا۔ اُس کے ذہن میں چار سال
پہلے کے مناظر بار بار گھوم رہے تھے۔

رات کے وقت وہ کئی بار اٹھتی تھی ۔ چلاتی تھی۔

مام، ڈیڈ مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ میں ایک کمرے میں بند ہوں ۔ اور وہ لوگ مجھے پھر سے لیں جائیں گے

ہم یہاں ہے انا ، تمہیں کچھ نہیں ہوگا ۔ گہری سانس . لو

سب ٹھیک ہے ۔

اولیور نے صوفیہ کی طرف دیکھا۔

وہ دونوں انا کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔

یہ ماحول ، انا کو ہوریفائد کررہا ہے ۔ ہمارے پاس کنیڈا کی ناشینیلٹی ہے۔ ہمیں وہاں چلے جانا چاہیے۔

انا نے فوراً آنکھیں کھولی۔

کہاں جانا ہے ڈیڈ ، آپ لوگ مجھے چھوڑ کر چلیں جائیں گے ۔

ہم تمہیں کہیں چھوڑ کر نہیں جا رہے انا، تم ہمارے ساتھ ہو سمجھی ۔

مگر آپ کہیں جانے کی بات کر رہے تھے۔

جانے کی۔ canada

-canada

ہاں ہم وہاں جا سکتے ہیں ۔

سے airplane

ہاں ۔۔

وہاں تمہیں نئی جگہیں ، نئے دوست اور ہر سکون ماحول ملے گا۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہوں گے ۔

صوفیہ نے اناذ کو گلے لگا لیا ۔

میں تیار ہوں اور خوش بھی

That’s my daughter.

مجھے تھوڑا ڈر لگ رہا ہے ۔

ڈرنا فطری بات ہے انا ، لیکن یاد رکھو ڈر سے لڑنا ہی بڑی کامیابی ہے۔

تمہاری زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہونے والا ہے ۔

نئی خوشیاں —

نئی یادیں ۔

نیا ماحول –

نئے دوست

اجنبی لوگ ۔

ناشناسا زبان

عجیب و غریب کھانے ۔

انا نے صوفیہ کے کے ساتھ مل کر سامان پیک کرنا شروع کیا ۔

وہ اپنی چھوٹی چھوٹی چیزیں رکھ رہی تھی ۔

وہ اپنا ہر سامان نفاست سے رکھ رہی تھی۔

ایک ہفتے بعد اُن تینوں کے ٹکٹ آچکے تھے۔

انا اپنا سوٹ کیس باہر رکھ رہی تھی ۔

صوفیہ اور اولیور گھر کے ہر فرنیچر پر سفید چادریں پڑھے رہے تھے ۔

everything is done Mom and dad-

Thanks Anna for the help

اب چلیں پلین ہمارا ویٹ نہیں کرے گا۔

وہ لوگ ایئرپورٹ پہنچے

وہاں پرانا ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی ۔

مگر اس دفعہ اُس نے اولیور کا ہاتھ نہ چھوڑا ۔

انا نے اولیور کا ہاتھ زور سے پکڑا ہوا تھا ۔

پتہ نہیں کیوں اُسے اس ایئرپورٹ سے گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔

کچھ چیزیں اُس کے دماغ میں ریماینڈ ہو رہی تھیں ۔

انا تم صحیح ہو ۔

Yes bad, Infact I am too happy,

انا کی بات پر اُن دونوں کے چہروں پر مسکرا ہٹ بکھیر گئ

کچھ دیر بعد پاکستان سے ٹیک اوف کرنے والا جہاز ایک نئی منزل کی طرف گمرن تھا۔

Toronto

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی ، بر سر الزام ہی آئے

حیران ہے ، لب بستہ ہیں ، دل گیر ہیں غنچے
خوش بوکی زبانی ترا پیغام ہی آئے

کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
کس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے

تھک ہار بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبہ ناکام ہی آئے

باقی نہ رہے سا کھادا دشت جنوں کی
دل میں اگر اندیشہ انجام ہی آئے

_______________♡⁠˖⁠꒰⁠ᵕ⁠༚⁠ᵕ⁠⑅⁠꒱____________

فارس جب سو کر اٹھا تو آدھا دن گزار چکا تھا۔

وہ جو فجر کے بعد سویا تو دو بجے تک اٹھا

چلو اللہ کا شکر ہے ظہر کی نماز قضا نہیں ہوئی۔

اپنے موبائل کی طرف نگاہ ڈالی تو وہ ڈیڈ تھا ۔

تبھی تو سوچوں کے اس شیطانی چیز نے مجھے کیوں نہیں اٹھایا ۔

اس نے اٹھ کر موبائل چارج پر لگایا ۔

اور وضو کے لیے واش روم کی طرف بڑھا ۔

نماز پڑھنے کے بعد اُس نے موبائل کی چرجینگ چیک کی

-30%

یار اس موبائل کی چارجنگ کو ابھی ختم ہونا تھی ۔

فارسی خود سے باتیں کرنے لگا ۔

ابھی اس کا لاسٹ پیپر رہ گیا تھا ۔

جو کہ اگلے دو دن بعد تھا۔ اُس کے بعد سیمسٹر بریک تھا

جس میں اُس نے پاکستان جانے کا پلین کیا تھا۔

پاکستان جانے کے لیے اُس نے ایک سوٹ کیس نکالا ۔

الماری سے کپڑے نکالے اور بے ڈھنگوں کی طرح اس میں ڈالے ۔

جس بے ڈھنگوں کی طرف فارس نے کپڑے ٹھوسے تھے تو سوٹ کیس نے بھی بند ہونے سے انکار کر دیا ۔

پھر سارے کپڑے اُس نے بیڈ پر نکال کر ڈالے

الگ الگ کرکے اُس نے اُن کو تہہ کیا۔

دو دن بعد اس کی رات کو کو فلائٹ تھی۔

اب اُس نے پڑھنے کا فیصلہ کیا ۔

کتابیں نکالی۔

اُس کا لاسٹ پیپر بزنس کا تھا۔

سامنے رکھی کتابوں کو وہ کچھ دیر گھورتا رہا ۔

اور پھر بڑی مشکل سے پندرہ منٹ بعد کتاب اٹھائی۔

کچھ دیر اور ضائع کرنے کے بعد اُس نے پڑھنا شروع کیا

ابھی دو لفظ ہی اُس کی زبان پر آئے تھے کہ شیطانی چیز بج اٹھی

Crime Partner Calling-..

اس ضمیر کے بچے نے مجھے پڑھنے نہیں دینا ہے

– کیا کر رہے تھے۔ سوال ضمیر کی طرف سے آیا

پڑھ رہا تھا ۔

جھوئے ۔ فار ضمیر فوراً بولا ۔

ابھی بک کھولی تھی کہ تمہاری کال نازل ہوگئی

کال بھی نازل ہوتی ہے ۔ ضمیر ایک دم بولا ۔

ہاں تمہاری ہوتی ہے ۔

اچھا چھوڑو اس کو ۔ ضمیر بولا ۔

کیا کر رہے تھے ضمیر –

میں تمہارے گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا ۔۔

کیوں کیا ہوا ۔

پھوپھا جان نے یاد کیا ہے ۔

پوپھا – فارس کے پوچھا ۔

انکل نے مجھے اپنی عدالت میں منتظر نظر آنے کو کہا ہے۔

اچھا مجھے بھی بتانا کہ ابا حضور نے کیوں تمہیں بلایا ہے ۔

اچھا اب میں جا رہا ہوں ۔

فون اسپیکر پر رکھنا ۔ فارس بولا ۔

صحیح ہے ۔

پندرہ منٹ بعد فون سے آواز گونجی

فارس فوراً اُس کی طرف متوجہ ہوا ۔

اسلام علیکم انکل۔

و علیکم اسلام – دانیال ملک نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا

وہ صوفے پر آکر بیٹھ – آپ نے بلایا انکل ۔

فارس کے بارے میں بیٹھ بات کرتی ہے۔

اچھا فارس — اس نے فارس کو ذرا کھنچا ۔

ہاں فارس بتاؤ وہ آج کل کیا کر رہا ہے۔

اُس کے پیپر چل رہے ہیں

کچھ پڑھ رہا ہے وہ یہ ابھی بھی فیل ہو رہا ہے ۔

نہیں انکل وہ پڑھ رہا ہے اور ابھی رزلٹ نہیں آیا تو کیسے پتہ چلے گا کہ اُس نے کتنی محنت کی ہے۔

اُس کی وہاں کوئی گرل فرینڈ تو نہیں ہے ۔ دانیال ملک نے ضمیر کو دیکھتے ہوئے کہا ۔

استغفر الله، فارس اور حرام ریلیشن شپ کا دور دور تک کوئی واستہ نہیں ہے۔

اُس لڑکے سے کوئی بھی اُمید رکھی جاسکتی ہے ۔ دانیال ملک بولے ۔

اور فون کی دوسری طرف فارس کو حیرت ہوئی اس کے باپ کو اُس پر یقین نہ تھا ۔

انکل آپ یہاں غلط ہیں ، فارس پچھلے چھ مہینہ سے
باقدگی سے نماز پڑھ رہا ہے ۔ شاید ہی اس کی کوئی نماز قضا ہوئی ہو۔

مذاق کر رہے ہو ۔ دانیال ملک کو حیرت ہوئی

آپ کو لگ رہا ہے کہ میں مذاق کر رہا ہوں ۔ ضمیر نے تھوڑا سیریس ہوکر بولا ۔

نہیں سیریس لگ رہے ہو ۔ دانیال ملک بولے ۔

فارس سے بات کروائی میری – دانیل ملک بولے ۔

آپ کال کر لیں ۔ ضمیر نے غیر محسوس انداز میں کال کاٹنے کی کوشش کی

میں تمہارے موبائل پر ہی بات کر لوں گا ، کال کا ٹنے کی ضرورت نہیں ضمیر۔۔ دانیال ملک نے سامنے سے موبائل اٹھایا ۔

کیسے ہو بر خودار

اسلام و علیکم بڈھے بابا ۔

و علیکم اسلام ، بعض نہیں آؤ گے اپنی ان اوچھی حرکتوں سے

آپ کو لگتا ہے کہ میں باز آجاؤں گا ۔

نہیں ۔ جواب دانیال ملک کی طرف سے آیا

ضمیر سے پتہ چلا کہ تم پریکٹسنگ مسلم بن چکے ہو

پاکستان کب آ رہے ہو۔

اگلے کچھ دنوں میں ۔

تمہارے باپ کے پاس بہت پیسہ ہے جو کچھ دن بعد منہ اٹھا کر آجاتے ہو ۔ وہیں رہو۔ ایک سال بعد آنا ۔

جیسا آپ کہیں بڈھے بابا ، مجھے تھوڑا کام ہے تو میں جا رہا ہوں۔ الله حافظ –

فارس کے کال کاٹنے پر انہوں نے ضمیر کو فون واپس کیا۔

______________⊂⁠(⁠´⁠・⁠◡⁠・⁠⊂⁠ ⁠)⁠∘⁠˚⁠˳⁠°_________

اگلے دن وہ پورا وقت پڑھتا رہا ۔

اور رات کو جب فارغ ہوا تو اُس کے موبائل نے پھر صدا لگائی۔

اب کس کو کام ہے مجھ سے ۔

Churail Calling

اسی کی کمی رہ گئی تھی ۔

ہیلو بھائی کیسے ہیں آپ۔

اسلام علیکم میں صحیح ہوں ، تم نے کال کیوں کی ۔

. وعلیکم اسلام ، آپ کو کچھ بتانا تھا ۔۔

جلدی بتاؤ

میں دو دن پہلے فیصل مسجد گئی تھی۔

. تو میں ایک کام کرتا ہوں ناچتا ہوں

نہیں آپ اچھے نہیں لگے لیں ۔

میری ماں کی بیٹی جلدی کام بتاؤ ۔

تو میں اکیلے گئی تھی۔

تم پاگل ہو ماہی ، اگر کچھ ہو جاتا، ہمارے کتنے دشمن ہے۔

بھائی میری بات سنے ۔

نہیں سنی۔ میں کال کاٹ رہا ہوں

آپ کے کام کی بات ہے ، بعد میں آپ پچھتائے گیں

نہیں پچھتاتا میں ۔

اچھا میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میں اکیلی فیصل مسجد گئی تھی۔

کام کی بات بتاؤ میری ماں

میں آپ کی بہن ہوں ، ماں نہیں

اچھا بات بتاؤ اب –

تو میں وہاں پر ایک لڑکی سے ملی ۔

میں کیا کروں اس لڑکی کا ۔

پہلے مجھے لگا کہ وہ باہر کی ہے مگر وہ پاکستانی تھی۔

کیا کروں میں کے وہ پاکستانی تھی یا نہیں

بعد میں بات کرکے پتہ چلا کہ وہ کنیڈا سے ہے ۔

اچھا ۔ اس نے بے بسی سے کہا

اور وہ بھی ٹورنٹو سے تھی ۔

اب فارس سیدھا ہو کر بیٹھا ۔

اور وہ آپ کے ساتھ ٹورنٹو یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔

ماہی تم انا الیور کی بات کر رہی ہو

فارس شاکڈ میں تھا۔

آپ کو کیسے پتہ چلا بھائی ۔

پتہ ہے مجھے فارس بے بسی کے ساتھ بولا۔

لنا کے ساتھ میری بہت اچھی دوستی ہوگئی ہے ۔ ماہی خوشی سے بولی ۔ یہ جانے بغیر کے فارس پر کیا گزار رہی ہے ۔

سنو ماہی ۔

جی بولے بھائی ۔

جب میں پاکستان آؤں گا تو میری ملاقات کروا سکتی ہو

پیسے لگے گیں

جاتنے مانگوں گی ، دے دوں گا۔

صحیح ہے

مگر انا کو نہیں پتہ چلنا چاہیے۔

جیسے آپ کہیں بھائی۔

تم نے اُس کو بتایا کہ تم میری بہن ہو

ہاں جب میں نے اُس کو بتایا تو وہ اُس کے چہرے پر کئی رنگ آئے ۔ وہ حیران تھی۔

مجھے پتہ ہے ۔

آپ کا کوئی مسئلہ ہوا ہے اس کے ساتھ

نہیں کوئی مسئلہ نہیں ہو

جھوٹ مت بولیں بھائی ۔ جیسے انا کو شاکڈ لگا تھا تو اس سے صاف ثابت ہے کہ کچھ ہوا ہے آپ اور ان کے درمیان

 

بابا کو مت بتاتا ۔ اُس نے بات کائی

مجھے راز رکھنے آتے ہیں بھائ

اس نے اپنی پہلی اور دوسری ملاقات کی کہانی بتائی

بھائی کیا ہوا آگے ۔

پھر

مل گیا۔ Addmision میں Toronto University مجھے

جب میں اندر داخل ہوا تھا تو سب سے پہلے مجھے انا ہی نظر آئی تھی

مگر انا مجھے نہیں پسند کرتی تھی ۔ پتہ نہیں کیوں

آپ نے کچھ کیا ہوگا بھائی۔

شاید کچھ کیا ہو ۔ مگر انا لڑکوں سے کوسوں دور رہتی۔

وہ یہ بات میں نے بھی نوٹس کی ہے کچھ گھنٹوں میں –

مگروہ بہت اچھی تھی۔

She is

– – ماہی بولا-

پھر کیا ہوا بھائی ۔

ایک دن ہماری لڑائی ہوگئی

کیا . کس بات پر —

انا کو غصہ آگیا تھا ۔ اس نے اردو میں مجھے مجھ سے بات کی مگر میں نے انگلش میں بات کی اور وہاں پر موجود سب لوگوں کو سمجھ آگیا تھا ۔ انا نے مجھے تھپڑ مار دیا اور وہاں سے چلی گئی –

بھائی۔ آپ نے غلط کیا ۔

جانتا ہوں مجھے اس سے معافی مانگتی ہے ۔

چلیں میں کچھ کرتی ہوں۔

Thank you mahi

آپ پاکستان کب آ رہے ہیں بھائی ۔

ڈیڈ کو مت بتانا ۔۔

نہیں بتائی

کل رات کی فلائیٹ ہے ، شاید دو تین دن لگ جائیں۔

I am eagerly waiting for you Bhai

اچھا آرہا ہوں نہ میں ۔ فی امان الله –

یہ کہہ کر فارس کال کاٹنے لگا کہ ماہی کی آواز آئی۔

بھائی میرے لیے چاکلیٹ لازمی لائ گا۔ ماہی جلدی سے بولی ۔

اللہ حافظ – فارس یہ کہہ کر کال کاٹ چکا تھا۔

________________꒰⁠⑅⁠ᵕ⁠༚⁠ᵕ⁠꒱⁠˖⁠♡___________

فارس کا لاسٹ پیپر بہت برا گیا تھا۔

رات کو وہ الفاظ سوچتا رہا جو اُس نے انا سے کہنے تھا اس لیے صبح دیر سے اٹھا اورریویشن
کا ٹائم بھی نہیں – رات کو اُس نے کتاب کھولی اور پھر بند کردی کے صبح پڑھےگا

مگر اس کی نیند نے موقع ہی نہیں دیا ۔

ابھی وہ فلیٹ کو آخری دفعہ چیک کر رہا تھا۔

رات کے گیارہ بج چکے تھے

سوٹ کیس اٹھا کر وہ نیچے اُترا اور سامنے سے جانے والی ٹیکسی کو روکا

آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعدوہ ۔ ٹورنٹو گرینڈ ایرپورٹ پہنچا۔

کال آنے پر وہ موبائل پر متوجہ ہوا

ہیلو فارس

اسلام و علیکم ضمیر –

و علیکم السلام –

کزن صاحب آپ کی فلائیٹ کب کی ہے ۔ اور آپ
کب اپنے وطن تشریف لا رہے ہیں ۔

مید نائٹ کی فلائیٹ ہے

میں لینے آؤں گا ۔

Done

ماما تمہیں یاد کر رہی ہیں ۔

صحیح ہے ۔ چار بجے پک کر لینا

چار بجے ۔ ضمیر نے تھوڑا کھینچ کر لیا

ہاں چار – فارس بولا ۔

اچھا ضمیر میں کال رکھتا ہوں ۔ فلائیٹ کی اناؤنسمنٹ ہوگئی ہے۔

فی امان الله ۔۔۔ ضمیر نے اُس کے محفوظ سفر کے لیے دعا کی۔

– اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک لڑکی ہوتی تو پھر شاید ان کے گھر والوں کو شادی کے لیے لڑکی ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ایک لمبے سفر کے بعد کچھ دیر کے لیے پلین

“Dubai International airport

لینڈ ہوا ۔ ابھی دس بج چکے تھے۔ اُس کی دوسری پاکستان کے لیے فلائیٹ ایک بجے تھی ۔

کچھ دیر بعد فارس پلین کی سیڑھیاں چڑھ کر اندر پہنچا بزنس کلاس میں سیٹ ڈھونڈ نے
میں مشکل پیش ہوئ

اور جب وہ اپنی سیٹ پر پہنچا تو وہاں ایک بوڑھے انکل بیٹھے ہوئے تھے۔

فارس نے پھر سے اپنا سیٹ نمبر چیک کیا ۔

تو وہ انکل غلط جگہ پر تھے۔

اسلام وعلیکم انکل ۔ آپ میری سیٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔

بوڑھے انکل نے سر اٹھا کر فارس کو دیکھا ۔

فارس سمجھ گیا کہ اُن کو اُس کی بات سمجھ نہیں آئی ہے ۔

انکل آپ میری سیٹ پر ہیں

اُس نے پھر سے بات کو دہرایا ۔

اور انکل نے پھر اُس کی بات کو نظر انداز کیا۔

اب اُس نے باقاعدہ اُن کو ہلا کر متوجہ کیا ۔

انکل آپ میری سیٹ پر ہیں ۔

بوڑھے انکل نے اپنی جیب سے سماعت کا آلہ نکالا اور لگایا

کیا ہوا بیٹا

فارس نے با مشکل اپنی ہنسی اور غصہ کو ساتھ ضبط کیا

انکل آپ میری سیٹ پر ہیں ۔

سوری بیٹا۔ وہ یہ کہہ کر اٹھ گئے ۔

اگر پہلے یہ الہ لگا لیتے تو کیا جاتا۔ وہ بڑ بڑاتا ہوا بٹھ گیا

فلائیٹ نے پاکستان پر لینڈ کیا ۔

اپنے ملک میں آنے کا مزہ ہی الگ ہے ۔ یہاں کے کھانے
سب الگ ۔ ۔

وہ مزے سے کہتا باہر کی طرف بڑھا

وہاں پر پہلے ہی سے ضمیر اور رحمت سکندر اور عزمت سکندر کھڑے تھے

فارس نے سامنے دیکھا ۔

ضمیر بازو پھیلا کر کھڑا ہوا تھا ۔

اُس کے پیچھے رہمت سکندر کھڑی ہوئی تھیں ۔

وہ تھوڑا تیز چلتا ہوا ضمیر کی طرف بڑھا

فارس پہلے رحمت سکندر کے پاس پہنچا

ضمیر نہ بیچارگی والی نظروں سے اُسے دیکھا اور بازو سمیٹ دیے

رحمت سکندر سے ملنے کے بعد عزمت سکندر کے پاس گیا اور اسلام ودعا کرنے کے بعد وہ ضمیر کی طرف موڑا ۔

محبوبہ کی طرح روٹھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ فارس نے اس کو گلے لگایا ۔

اب چار لوگوں کا قافلہ سکندر ولا کی طرف جا رہا تھا ۔

سکندر ولا کے اندر جا کر گاڑی روکی –

فارس گاڑی سے اُترا اور اندر کی طرف بڑھا ۔

فارس ناشتہ کی ٹبیل پر انا

جی مامی جان

ناشتہ کی ٹیبل صبح پانچ بجے بھی مختلف قسم کے لوازمات سے سجی ہوئی تھی۔

فارس کو پلین کا کھانا کچھ خاص پسند نہیں ایا تھا

افغانی پڑاٹھے اور چھولے کا سالن یہی سب کی یاد اسے کنیڈا میں آتی رہی تھی۔

کہاں کنیڈا کے عجیب و غریب کھانے

اور کہاں

پاکستان کے لذیذ کھانے – –

پاکستان کی یاد اُسے صرف کھانوں کی وجہ سے آئی تھی

________________♡⁠(⁠>⁠ ⁠ਊ⁠ ⁠<⁠)⁠♡__________

صبح اٹھ کر فارس اور ضمیر ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔

فارس اور ضمیر کسی ایک بات سے متفق ہو جائیں ایسا ممکن نہیں تھا۔

اب دونوں میں ایک نئے سرے سے بحث شروع ہو چکی تھی۔

کیا تم دونوں لڑ رہے ہو۔ رحمت سکند کی کچن سے آواز آئی ۔

جی نہیں ماما ہم لڑ نہیں رہے ۔ ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے۔ ہیں ۔ ضمیر بولا ۔

آپ فکر نہ کروں ۔ جب ہم مقابلہ کرکے، لڑنے لگیں گے ، تو آپ کو بتا دیں گے ۔ فارس بولا-

او ہو تو لڑنا ضروری ہے ۔ رحمت سکندر کچن سے باہر آگئیں

جی نہیں ضروری تو خیر نہیں ہے ۔ ضمیر بولا ۔

بس تو پھر لڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

آپ کہتی ہیں تو نہیں لڑیں گے مامی جان ۔ ورنہ ضمیر تو لڑنے پر تلے بیٹھا ہے ۔

جھوٹ میں کسی پر نہیں بیٹھا میں تو صوفہ پر بیٹھا ہوں۔

ضمیر جھٹ سے بولا ۔

توبہ ہے تم دونوں سے، اگر اب کچن تک آواز آئی۔ تو اچھا نہیں ہوگا۔

رحمت سکندر یہ کہہ کر کچن میں چلی جا گئیں

مامی جان میں جا رہا ہوں ۔

وہ مسکرا کر با ہر نکلا ۔

روکو، ضمیر نے آواز دی

کیا ہوا ۔

پہلے ایک دو سوال سوالات کا جائزہ کیوں نہ لے لیں ۔

یہ ایک دو سوالات کہاں سے ٹپک پڑے

فارس کے لہجے میں حیرت تھی ۔

میری دماغ سے ٹپکے ہیں، لیکن فکر نہ کرو ، کھجور میں نہیں اٹکے –

تم نے سستا نشہ کیا ہوا ہے ۔

پتہ نہیں ۔ نشہ ، استغفر الله –

اتنی اداکاری مت کرو، پاؤں میں موچ آجائے گی ۔ فارس
ہنستے ہوئے بولا

میری بات تو پیچھے رہ گئی ۔

آگے لے آؤں – فارس مسکراتے ہوئے بولا ۔

انا کا کچھ پتا چلا

ہاں ۔

سچ میں ۔ ضمیر ایک دم اچھل پڑا ۔

اچھا میں چلتا ہوں ۔

وہ اُس کی بات کو ادھورا چھوڑ کر باہر آ گیا ۔

اسلام و علیکم —

اُس نے اندر داخل ہو کر سلام کیا ۔

ماہی صوفے کے اوپر سے اچھلتی ہوئی فارس کے گلے لگی

آرام سے ماہی ۔ تمہاری چاکلیٹ بیگ میں ہے ۔

Thanks Bhai

کیسا ہے میرا بیٹا – افق نے اکر اُس پوچھا ۔

آپ کیسی ہیں امی

وہ اُن کے گلے اکر لگیں ۔

تم نے میری بات نہ ماننے کی قسم کھا رکھی ہے ۔

دانیال ملک کمرے سے برآمد ہوئے

اسلام و علیکم بڈھے بابا ۔

وعلیکم اسلام تمہیں تین دن پہلے کیا بولا تھا۔

پاکستان آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ فارس بولا –

تو پھر یہاں کیوں نظر آرہے ہو ۔

آپ نے ہی تو کہا میں نے آپ کی بات نہ مانے کی قسم کھا رکھے

فارس بولا ۔

بھائی آپ اِن سب کو چھوڑیں ۔ ہم دونوں کہی
چلتے ہیں۔

فارس کو اس کی بات سمجھ آگئی

________________(⁠。⁠・⁠ω⁠・⁠。⁠)⁠ノ⁠♡_________

آئیں انا کی طرف چلیں

کچھ ہفتوں بعد بعد اُسے ہوتی جو یونیورسٹی کے ایدمیشن کے لیے ٹیسٹ دینا تھا۔

وہ اُن کی تیاریوں میں مصروف تھی ۔

چھ مہینہ پاکستان میں مکمل ہی ہونے والے تھے

ابھی وہ اپنا سامان سمیٹ رہی تھی کہ موبائل بجا ۔

Mahi Daniyal Calling–

ہیلو ڈیرانا ، کیسی ہو ۔

میں ٹھیک کیسی ہو ماہی ۔

میں آج بہت خوش ہوں ۔ کہیں باہر ملیں –

.. مگر کہاں ۔ سوال انا کی طرف سے تھا

Caffe Praha

آدھا گھنٹہ لگے گا مجھے تیار ہونے میں

.OK ، میں تمہارا ویٹ کرلوں گی۔

آج انا نے پاکستانی سوٹ پہنا ۔

لائٹ پنک کلر کی قیمض ، ہم رنگ پاجامہ اور printed خوب صورت ڈوپٹہ – پاؤں میں ہلیز

اُس نے بالوں کو صرف نیچے سے ہلکا curl کیا۔ اور شانوں ے پر بکھیر دیے ۔

nudish pink lipstick — اُس کے ہونٹوں پر الگ کر حسین لگ رہی تھی۔

وہ آج پاکستانی سوٹ میں قیامت ڈھا رہے تھے۔ وہ . بلا کی حسین لگ رہی تھی۔

مام میں ماہی سے ملنے جارہی ہوں۔

انا یہ تم ہو سچ میں ۔ صوفیہ کو جیسے یقین نہ آیا ۔

Yes Mom.

اچھا اولیور اور میں Lucas کے گھر جا رہے ہیں تمہیں Drop کر دیتے ہیں ۔

ٹھیک ہے ۔

پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد وہ پہنچ گئی

Caffe Praha

انتہائی خوب صورتی سے اُسے سجایا گیا تھا

تھوڑی دور بیٹھی ماہی نے ہاتھ ہلائے۔

وہ اس کی طرف بڑھ گئی۔

You are looking gorgeous Anna-

Thank you Mahi

انکل آنٹی ، کیسے ہیں ماہی ۔

امی تو خوش ہیں اور ابو وہ غصہ میں ہیں ۔

کیوں

فارس بھائی چھ مہینہ بعد واپس آگئے ہیں۔ امی تو بہت خوش ہیں اور ابو اُن کو بھائی پر غصہ ہے کہ ہر دو دن وہ واپس کیوں آجاتے ہیں۔

ایک منٹ “فارس دانیال ملک پاکستان میں ہے ۔

تمہیں ملنا ہے ۔

بالکل نہیں، بلکہ کبھی نہیں ۔

انا تم orders کرو میں washroom سے آتی ہوں ۔

جلدی آنا

آرہی ہوں ۔

انا بیٹھ کر menu دیکھنے لگی ۔

اتنے میں کوئی سیٹ پر آکر بیٹھا ۔

ماہی میں Coffee آرڈر کر رہی ہوں ۔ تم دیکھ لو تمہیں کیا چاہیے ۔

اُس نے یہ کہہ کر سر اٹھایا ۔

سامنے بیٹھی ہستی کو دیکھ کر وہ نمک کا مجسمہ بن گئی
۔جس
کو ہاتھ بھی لگایا جاتا ہے تو وہ پاش پاش ہو جاتی

سامنے بیٹھی ہستی کوئی اور نہیں فارس تھا

اُس کی نظریں ساکت ہوگئی ۔ آج پہلی بار کسی لڑکی کو اتنا حسین دیکھا تھا۔

اُس کی نگاہیں اٹک گئی مگر لاحول والله قول پڑھ کر اُس نے نگاہوں کو گستاخی کرنے سے روکا۔

میری پوری بات سُنا انا – اُس نے التجایہ انداز میں کہا۔

جیسے انا کو اُس کی بات پر ہوش آیا ۔

اس نے اپنا پرس اٹھایا۔ اور کھڑی ہوئی۔

Anna, Stop listen to me

وہ بھی فوراً کھڑا ہوا

فارس اگر تم نے میرا پیچھا کیا تو انجام بھگتو گےوہ شیرنی کی طرح غررائی تھی

وہ تیز قدم لیتی باہر کی طرف پہنچ گئی

خداوند اس شخص سے میں انتہا تک نفرت کرتی ہوں۔ وہ کیوں سامنے آتا ہے۔

اس کے فون پر کال آنے لگی ۔

اُس نے پرس نہ کھولا ..

ضرور ماہین ہوگی ۔ وہ یہ سوچ کر فون نہیں اٹھا رہی تھی۔

بار بار کال آنے پر وہ متوجہ ہوئی ۔

اس نے پرس کھول کر موبائل ڈھونڈا

Un known Number Calling

مگر فون کے بار بار بجنے پر اُس نے کال ریسو کی .

Hello, I am Speaking to Anna Oliver

Yes, I am Anna

Ok, ma, am I am sending you the location of the Hospital.

what why

انا ایک دم سے گھبرا گئی

Your parents had an accident.

یہ آپ کیا بول رہی ہیں۔

اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہوگئے ۔

وہ ٹیکسی روک کر جلدی سے اُس میں بیٹھی اور ہسپتال کی طرف نکل گئی ۔

Sofia Oliver is admitted in Room 60

، وہ پر یہ کہہ کر اوپربھاگی۔

وہ بھاگ رہی لگا تھی کے سامنے سے آتے مرد سے ٹکر ہوگئی

انا کے آنسوؤں اُس کے رخسار پر بہہ رہے تھے۔

میں کچھ بتاؤں گی بیٹا تم دھیان اور اطمینان سے سُنا

مام آپ ابھی کچھ نہ بولیں ۔

انا ابھی میری سنو

وہ بات جو انہوں نے انا کو بتائی تھی ۔ اُس کے اعضا شل ہو گئے تھے۔

Machine. سے آنے والی آواز تیز ہوگی۔

وہ بے یقینی سے باہر آئی ۔ اندر ڈاکٹروں نے شاید اپنی پوری کوشش کررہے تھے

Sorry, She is no more – ڈاکٹر کہتی آگے بڑھ گئی۔

وہ دیوار کے ساتھ کھڑے کھڑے بیٹھ گئی ۔ اور بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔

_______________(⁠〃゚⁠3゚⁠〃⁠)___________

آئیں۔ دوسری طرف چلتے ہیں ۔

جب علیزہ اور فارس کی منگنی ہوئی تھی تو میں بہت خوش تھی ۔

ضمیر جو فارس سے ملنے کے بعد اوپر جا رہا تھا وہ وہیں تھم گیا

ایسا لگا تھا کہ یہ خواب پورا ہو گیا ہے

میری بیٹی کی بھی ایک پرفیکٹ ، ہیپی ایندینگ ہوگی ۔

ماما

ضمیر بے بسی سے بولا ۔

وہ بہت پیاری تھی۔ مگر وہ ہم سے بہت دور چلی گئی ضمیر —

اب رحمت سکندر ہچکیوں کے ساتھ رونے لگیں ۔۔

ماما بس کریں

پتہ نہیں وہ زندہ بھی ہو یا نہیں وہ میرے جگرکا ٹکڑا تھی

روئیں تو نہیں

ضمیر گھٹنوں کے بل اُن کے پاس آکر بٹھا ۔ ۔

میرا یقین یعقوب جتنا مضبوط نہیں ہے لیکن یوسف جتنا یقیں ہے مجھے ایک دن وہ اندھیرے کنواں میں ہوگی اور ایک دن ایک لشکر آئے گا اور یوسف کی طرح مجھے ملوادے گا ۔۔

میری دعاؤں کی بھی قبولیت کا وقت آئے گا ۔ ۔

ضمیر گھٹنوں کے بل بٹھا اُن کے ہاتھ مسل رہا تھا ۔ ۔

ماما — آنکھیں کھولیں یہ کیا ہو رہا ہے آپ کو اس اٹھیں ماما —

رحمت سکندر بے ہوش ہو گئی تھیں ۔

ضمیر کی آواز پر عزمت سکندر بھاگتے ہوئے آئے

گاڑی تک لے کر چلو جلدی – –

عزمت سکند نے انہیں گاڑی میں بٹھایا

ضمیر رش ڈرائیونگ کرتا ہاسپیتل پہنچا – رحمت سکندر کو فوراً ایمر جنسی میں لے جایا گیا- –

کیا ہوا تھا ضمیر —

وہ علیزہ کو یاد کر رہی تھیں ۔

کتنی بار کہا ہے کہ علیزہ کا نام مت لیا کرو رحمت کے سامنے ۔

میں کب لیتا ہوں وہ باتوں باتوں میں سے ذکر نکال لیتی ہیں ۔

مسز رحمت کا نروس بریک ڈون ہوا ہے ۔ اگلے چوبیس گھنٹے بہت اہم ہیں ۔ ڈاکٹر نے روم سے باہر آتے ہوئے کہا

اپنے کسی پیارے کو ہاتھ سے جاتا ہوا دیکھنے کی کیفیت بہت اذیت ناک ہوتی ہے۔

سب ٹھیک ہو جائے گا بابا

میں رحمت کو نہیں کھو سکتا ضمیر – – – علیزہ چلی گئی ہے۔

رحمت اس حالت میں ہے ۔۔

ماما کو کچھ نہیں ہوگا بابا – آپ حوصلہ رکھیں —

ملک حویلی والے بے خبر تھے۔

فجر کی آذان پر ضمیر مسجد والے حصہ کی طرف گیا

با جماعت نماز ادا کرنے کے بعد وہ کافی دیر وہیں بٹھا ریا ۔۔ عزمت سکندر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تھے —

ضمیر نے کافی دیر بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔۔

” اللہ آپ نے ہر کسی کی ہیپی ایندینگ لکھی ہے مجھے بھی یقین ہے میری فیملی بھی ایک ساتھ ہوگی مجھے آپ کی قدرت پر یقین ہے الله — الله علیزہ مجھ سے دور ہوگئی ہے ماما کی حالت بھی خطرے میں ہے۔ پلیز ماما کو مجھ سے دور نہ کریں الله –

آنسو اُس کے چہرے پر سے ہوتے ہوئے دعا کے لیے اٹھے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔۔

کافی دیر بعد وہ اٹھ کر مسجد سے باہر نکلا ۔ ۔

سامنے سے آتی لڑکی سے اُس کو ٹکر ہوگئی .

اُس لڑکی کو دیکھ کر پتہ نہیں کیوں اُس کے دماغ میں علیزہ کا عکس آیا تھا ۔

وہ واپس عزمت سکندر کے پاس آکر بیٹھ گیا۔

کافی دیر بعد اُس نے موبائل نکال کر کال ملائی ۔۔۔

کیا ہوا ضمیر –

فارس ماما کی طبیعت خراب ہوگئی تھی میں ہاسپٹل میں ہوں مجھے۔
تمہاری ضرورت ہے ۔

کیا ہوا ہے مامی کو ۔۔۔

تم جلدی آجاؤ فارس – –

فارس نائٹ سوٹ میں ہی اٹھ کر باہر کی طرف بھاگا

میں آرہا ہوں ۔ کمرے سے نکل کر اس نے دانیال ملک کا دروازہ زور سے بجایا ۔

فارس تمہیں سکون نہیں ہے کیا ۔ ۔ افق دانیال نے اٹھ کر دروازہ کھولا —

مامی کی طبیعت خراب ہوگئی ہے وہ ہاسپٹل میں ہیں ۔ فارس صرف یہ کہتا باہر کی طرف نکل گیا۔ گیا ۔

بیچے افق دانیال نے جلدی سے جاکر دانیال ملک کو جگایا ۔

فلرس جلدی سے ہاسٹل پہنچا۔۔

کیا ہوا ہے مامی کو ضمیر —

نروس بریک ڈون — عزمت سکندر کی آواز آئی ۔

یا اللہ جب تک میں تھا تب تو سب صحیح تھا ۔

تھوڑی دیر میں ہی افق دانیال اور دانیال ملک بھی آگئے

بھائی کیا ہوا ہے بھابھی کو ، کب ہوا آپ نے ہمیں کیوں نہیں بتایا ۔

نروس بریک ڈون ہوا ہے کہ اگلے گھنٹے بہت اہم ہیں ۔

سب صحیح ہو جائے گا عزمت — دانیال ملک نے اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کیا۔

انشاللہ

مسٹر عزمت آپ پلیز میرے ساتھ آئیں ۔۔

ڈاکٹر نے روم سے باہر نکلتے ہوئے کیا ۔

ابھی حالت خطرے سے باہر ہے۔ مگر ان کو اگر ہوش نہ آیا تو حالت بگڑ سکتی ہے ۔

ان کی طبیعت سمبھالنے کے بعد آپ کو ان کا خیال رکھنا ہر قسم کی ٹنشن اور پریشانی سے دور رکھنا ہیں ۔

میں مل سکتا ہوں کیا ۔

جی آپ چلے جائیں روم میں —

عزمت سکندر نے آہستگی سے روم کا دروازہ کھولا – –

رحمت دوائیوں کے زیر اثر سورہی تھیں۔۔

انہوں نے رحمت کا ہاتھ تھام لیا –

پتہ ہے رحمت جب میری تم سے شادی ہوئی تھی تو میں نے خود کو اس دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھا تھا جیسے اپنی محبت مل گئی تھی۔۔۔

چھوڑ کر مت جاؤ چھوڑ کر مت جاؤ رحمت –

رحمت نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ چند لمحوں تک وہ چھت کو دیکھتی رہی، جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو کہ کیا ہوا ہے۔ پھر انہوں نےکروٹ لی تو سامنے عزمت کو بیٹھا پایا، جن کی آنکھوں میں رات بھر کی بے چینی صاف جھلک رہی تھی۔


“رحمت!” عزمت فوراً اس کے قریب آیا۔ “الحمدللہ، تمہیں ہوش آ گیا۔
“
مجھے کیا ہوا تھا؟


اسی وقت ضمیر تیزی سے کمرے میں داخل ہوا۔ ماما

وہ خوشی سے تقریباً چیخ پڑا اور ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔

رحمت نے حیرت سے دونوں کو دیکھا۔ “ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟ میں تو بس تھوڑی دیر کے لیے بے ہوش ہوئی تھی۔


عزمت ہلکا سا مسکرائے “تھوڑی دیر؟ تم پورے بارہ گھنٹے بے ہوش رہی ہو۔

“بارہ گھنٹے؟ رحمت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

جی ماما ضمیر نے کہا،

آپ کو اندازہ نہیں کہ ہم کتنے پریشان تھے۔

میں اب بالکل ٹھیک ہوں، فکر مت کرو۔

عزمت نے سکون کا سانس لیا۔ تمہارے ہوش میں آنے کا انتظار شاید زندگی کے سب سے لمبے بارہ گھنٹے تھے۔

میں نے علیزہ کو دیکھا تھا، ضمیر۔ وہ مجھے واقعی علیزہ ہی لگی تھی۔ اس نے مجھے دیکھا، پھر فوراً واپس چلی گئی۔

ضمیر نے فکر مند نظروں سے اپنی رحمت کو دیکھا۔

ماما، شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہو۔

رحمت نے آہستہ سے سر ہلایا۔

مجھے بھی کسی کو دیکھ کر ایسا ہی لگا تھا، مگر شاید مجھے ہیلوسینیشن ہو رہی ہے۔

ضمیر ہلکی آواز میں بولا

______________(⁠´⁠∩⁠。⁠•⁠ ⁠ᵕ⁠ ⁠•⁠。⁠∩⁠`⁠)__________

رشتوں کی صلیب

انا نے آگے پیچھے دیکھا تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا ۔

صوفیہ کو کمرے سے باہر اسٹریچر ہر لایا جا رہا تھا ۔

اسٹریچر کے ساتھ چلتی وہ سرد خانے تک آگئی ۔ جہاں نرس صوفیہ کی بوڈی کو اندر لے گئی۔

اسی وقت انا کے دماغ نے کچھ کام کیا ۔

ڈیڈ ۔

وہ واپس سے بھاگتی ہوئی ریسیپشن پر گئی ۔

Oliver John

receptionist نے کچھ سرچ کرنے کے بعد اُسے راستہ بتایا۔

وہ راستہ وہیں لے آیا جہاں اُس کی مام تھی۔

“Morgue Room”

اُس نے مردہ پڑتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا ۔

وہاں کافی ساری dead bodies تھیں ۔

اُس کے قدم کانپ رہے تھے۔

اُس نے اپنے خاندان کو کھو دیا تھا ۔

اپنی پہچان کو

اپنے والدین کو ۔

ہر لذت

ہر راحت کو ۔

ان کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو

بڑی مشکل سے ہمت کرکے اسے سامنے پڑی dead body

سے کپڑا ہٹایا ۔۔

وہ اُس کے ڈیڈ تھے ۔

وہ اُن کو اُن کے خصوصی birthmark سے پہچان سکتی تھی۔

گاڑی میں آگ لگنے پر اُن کا چہرہ حد درجے مسخ ہو چکا

اُس کے آنسو بھی جم چکے تھے ۔

پہلے جو آنسو بہل پہل کر رخسار پر بہہ رہے تھے ۔

اب ایک جگہ جمع ہوگئے تھے ۔

وہ بس ساتھ رکھی اپنی مام کو گھور رہی تھی ۔

جن کا چہرہ پہچانے لائق تھا

وہ دوسری طرف مور کر آئی ۔

صوفیہ کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔

ایک دن سب نے جانا ہوتا ہے-

آپ ہی تو کہتی تھیں مام

آپ دونوں چلے گئے اپنی انا کا سوچے بغیر ۔

اگلے دن ۔۔۔۔۔

اس نے صرف چند نوالہ کھائے تھے ۔ وہ بھی لوگوں نے زبردستی کھلائے تھے جو صوفیہ اور اولیور کی عیادت کے لیے آئے تھے۔

انا گھر میں اکیلی تھی۔ اس وجہ وجہ سے اُس نے سیف کو کھولنے کا فیصلہ کیا –

جلدی سے اسنے پاس ورڈ ڈالا اور سیف کھولا ۔

اولیور کے سیف میں ڈاکیومنٹ موجود تھی۔

گھر میں صرف دو سیف ہیں کیا ۔ اس نے خود سے سوال کیا۔

نہیں ، ڈیڈ نے کہا تھا تیں سیف ہیں ۔ تیسرا کہاں ہے ۔

ابھی وہ سوچتی کے دروازہ کی گھنٹی بجی

پوچھ کر اُس نے دروازہ کھول دیا ۔

اندر داخل ہوئے ۔ Lucas or mary

کیا کر رہی تھیں انا –

کچھ نہیں مامو –

کچھ کھایا تم نے

انا نے نفی میں سر ہلا دیا ۔

mary انا کو کھانا دو

ہاں ، روکو میں پلیٹ لاتی ہوں ۔

اس

لوکس انا کے قریب بیٹھ گئے۔

میری نے چاولوں کا نوالہ بنایا اور اُسے انا کے منہ کے
قریب کر دیا ۔

انق نے تھوڑا آگے بڑھ کر کھا لیا ۔

ڈیڈ نے کہا تھا کہ میرے پاس انشورنس کے پیسے ہیں

جو کچھ دس لاکھ سے اوپر ہوں گے۔

I think so

انا یہ کہہ کر خاموش ہوگئی

اُسے نہیں پتہ تھا کہ اس نے یہ کہہ کر کتنی بڑی غلطی
کردی ہے ۔

اُس کی زندگی کی کا یہ یہیں پلٹنے والی تھی

ایک دم سے میری کی آنکھیں چمک اٹھی۔

انا مجھے تم سے ضروری بات کرتی ہے ۔

جی کہیں مامی

تم ہمارے ساتھ ہمارے گھر چلو ۔

Lucas اچانک سے mary کی بات پر حیران رہ گئے ۔

میں کیسے جا سکتی ہوں آپ کے ساتھ ۔

تم ہماری بھی بیٹی ہو ۔ اب کی بار لوکس بولے ۔

شاید وہ میری کی بات سمجھ چکے تھے۔

انا ابھی بھی تو جھجک رہی تھی ۔

انا دیکھو یہ پاکستان ہے کنیڈا نہیں ۔

کیا مطلب مامی –

کنیڈا میں تمہاری حفاظت گورمنٹ کرتی اگر تمہارے پارنٹز کا انتقال ہو جاتا تو ۔

لیکن یہاں اکیلی لڑکی کا رہنا سیف نہیں ہے تمہیں بہت کچھ فیس کرنا پڑے گا یہاں رہتے ہوئے ۔

اس لیے میں کہہ رہی ہوں کہ ہمارے ساتھ چلو

مگر ایسے اچھا نہیں لگتا مامی ۔

کیوں بیٹا، اس میں کیا برائی ہے ۔

ماموں میں آپ لوگوں پر بوجھ نہیں بنا چاہ رہی ہوں

انا رندھی ہوئی آواز میں بولی۔

تم میرے بھائی کی بیٹی ہو۔ میں اور اولیور بچپن کے
دوست ہیں ۔.

بیگ پیک کر لو اپنا انا —

جی مامو –

وہ اٹھ کر کمرہ میں چلی گئی۔

اس نے اپنا کمرہ تھوڑا بدل لیا تھا۔

باہر سے باتوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔

پتہ نہیں کیا باتیں کر رہی تھے۔

اُس نے اپنی الماری سے کپڑے نکالی ۔

ویسے آپ سب اس کے پسند کے کپڑے کڑے تھے مگر اس نے صوفیہ نے کچھ palestani suit اس کے لیے کے رکھے

تھے۔ وہ بالکل نئے تھے۔

اس نے وہ اٹھا کر سب سے پہلے لکھے ۔

اور تھوڑے دوسرے کپڑے رکھے ۔ پھر زیادہ تر وہ چیزیں رکھیں جو ص

ہوگئی ۔ packing انا

mary کمرے میں داخل ہوئیں ۔

نہیں تھوڑا اور سامان رکھنا ہے مام اور ڈیڈ کے
کمرے سے۔

وہ سامان لے کر باہر نکلی

لوکس نے انا کے ہاتھ سے سامان لیا اور باہر گاڑی
رکھ دیا ۔

انا گھر کو تالا لگا رہی تھی ۔

ایک نیا سفر – –

نئے لوگوں کے ساتھ ۔

نئے گھر میں شروعات —

پھر سے اجنبی ماحول –

________________(⁠ ⁠◜⁠‿⁠◝⁠ ⁠)⁠♡___________

اسے یہاں آئے پانچ مہینہ ہو چکے تھے۔

شروع کے تین مہینہ میں میری کا رویہ بہت اچھا تھا ۔

مگر دو مہینہ سے رویہ میں تھوڑی تبدیلی آگئی تھی ۔

انا نے ان کے رویہ کو نظر انداز کیا

آج جین کو واپس آنا تھا۔

(جین اور ولیم لوکس اور میری کی اولاد ہیں)

وہ یوکے سے پڑھ کر واپس آرہی تھی ۔

انا ابھی جین کے کمرے میں رہ رہی تھی ۔

انا ، کہاں ہو

جی مامی میں یہ رہی۔

سنو اپنا سامان جین اس واقع کے کمرے سے جلدی سے ہٹاؤ ۔

جین کو پسند نہیں کہ اُس کی چیزیں کوئی چھوئے ۔

اس نے سوٹ کیس میں سامان واپس رکھا ۔

اُس نے سیکرٹ پاکٹ کھولی

اس میں کوئی ڈاکیومنٹ نہ تھا ۔ صرف جیولری تھی ۔

آسمان اس کے سر پر آگرا –

وہ جلدی جلدی اِدھر اُدھر دیکھنے لگی ۔

اُس کے سوٹ کیس میں نہیں تھا ۔

اُس نے کمرے میں دیکھا .

وہاں پر بھی نہیں تھا۔

وہ حد درجہ پریشان ہو چکی تھی –

وہ میری یا لوکس سے بھی نہیں پوچھ سکتی تھی ۔

شاید میں گھر پر بھول گئی ہوں گی ۔

اُس نے خود ہی assume کیا –

سامان سمیٹ کر باہر آئی

مامی میں کہاں جاؤں ۔۔

کنارے والے روم میں چلی جاؤ ۔

یہ تو سٹور روم ہے ۔

مامی —

اس نے آواز دی ۔

کیا ہو گیا ہے انا آوازیں کیوں دے رہی ہو ۔

مامی یہ تو سٹور ہے ۔

رکھا ہوا

یہاں میٹریس رکھا ہے ۔ صفائی کر لو ، جھاڑو
لگا لینے اور یہی سوجانا

مامی

اب میرا ٹائم ضائع مت کرو انا –


چہرہ ہر ماسک لگا کر اُس نے جھاڑو لگائی ۔

جھاڑا ۔ matress

الماری کو صاف کرنے کے بعد اپنے کپڑے رکھے ۔

پرانی کرسی کو گھیلے کپڑے سے صاف کیا ٹیبل کو بھی صاف کرکے سیٹ کیا

کتابیں نکال کر اس سے ٹیبل پر رکھیں

وہ اب اپنے گھر بھی واپس نہیں جا سکتی تھی

ایک لڑکی پاکستان میں نہیں رہ سکتی ۔ یہ وہ جانتی تھی۔

اسنے وہاں بیٹھ کر روز کو کال ملائی

ہیلو انا کیسی ہو ۔

میں صحیح ہوں تم کیسی ہو ۔

انا اور روز کی تقریباً روز بات ہوتی تھی ۔

میں بھی صحیح ہوں ۔ کیا ہوا ہے انا ۔

میری کزن آرہی ہے

اوہ اچھا

مامی نے مجھے اس کے کمرے سے نکال دیا ہے ۔

کیوں ، یہ کیا بات ہوئی ۔

پتہ نہیں چھوڑو .

تم اب کہاں ہو ۔

– storeroom

کیا۔

روز بہت زور سے چلائی تھی

ہاں

پچھلے ایک گھنٹے سے وہاں کی صفائی کرہی تھی ۔

وہ تمہارا فائدہ اٹھا رہی ہے انا ۔

ایسا نہیں ہے ۔

ایسا ہی ہے انا ۔

میرے گھر کے پیپر غائب ہیں ۔

انا میں کہہ رہی ہوں یہ بہت چالاک ہیں ۔ یہ دونوں میاں بیوی صرف تمہیں استعمال کر رہے ہیں ۔

انا کی خاموشی پر روز پھر سے بولی۔

دیکھو تمہارے گھر کے پیر غائب ہیں اور مجھے یقین ہے ان لوگوں نے تمہیں صرف اس لیے رکھا ہوا ہے کیوں کے

اور ایک دم رک گئی

کیوں رکھا ہوا ہے ۔

تمہارے انشورنس کے پیسے لینے کے لیے ۔

مذاق کر رہی ہو ۔ انا بولی ۔

 

انا میں تمہیں سمجھا رہی ہوں اچھی دوست کے طور پر

تم بیس کی ہو۔ چھ مہینہ بعد اکیس کی ہو جائو گی ۔ یہ صرف — تمہارے پیسوں کے لیے ہیں ۔ تم ایک کام کرو غور سے سوچو روز نے یہ کہہ کر کال کاٹ دی

انا نے اُس کی بات پر غور کیا ۔

جب تک اس نے انشورنس کی بات نہیں کی تھی تب تک انہوں نے نے اس کو گھر چلنے کا نہیں کہا تھا ۔

کیا روز سچ کہہ رہی ہے۔

اُس نے خود سے سوال کیا ۔

دماغ چیخ چیخ کر ہاں کہ رہا تھا ۔ جب کے دل وہ منع کر رہا تھا۔

اس نے بھی دل کی سنی –

نئے روپ.

بربادی —

مشکلیں .

______________♡⁠(⁠>⁠ ⁠ਊ⁠ ⁠<⁠)⁠♡____________


جین گھر پر آپکی تھی۔

امی یہ کون ہے ۔

جین یہ تمہاری پھوپھو کی بیٹی ۔


انا نے ہاتھ آگے بڑھایا۔

اس نے انا کے آگے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کر دیا

انا کو یک دم سبکی محسوس ہوئی۔

پھر اسنے اپنے حلیہ کو دیکھا ۔ ابھی بھی وہ صفائی کرکے آئے تھی

کپڑے کافی گندے ہو رہے تھے۔

اس نے ان کو بدلنے کا سوچا ۔

نہا کر دوسرے کپڑے پہنے ۔

صوفیہ کہتی تھیں ۔ جب وہ پاکستانی سوٹ پہنتی تھی تو حد سے زیادہ -حسین لگتی تھی ۔

اس لیے اس نے پاکستانی سوٹ بنا تھا ۔ اور ہمیشہ کی طرح بال کھول لیے تھا۔

باہر آئے دیکھا تو سب ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے۔

وہ بھی کرسی آگے کر کے بیٹھ گئی ۔

اس نے جب جین پر نظر ڈالی

وہ کوئی اتنی خوب صورت نہیں تھی۔

کیا ہوا —Jane

کچھ نہیں بھوک ختم ہوگئی ہے ۔

جین انا سے چار سال بڑی تھی ۔

کیا ہوا انہیں مامی .

انا آیندہ کے بعد اپنے بال بندھ کر ٹیبل پر آتا ۔

کیوں۔

بس میں نے کہہ دیا اور یہاں تمہاری شادی کے فنکشن نہیں چل رہتے ہیں جو گھر میں یہ پاکستانی سوٹ پہن کر گھوم رہی ہو

جی –

وہ یہ کہہ کر کمرے میں چلی گئی۔

لوگوں کے رویے اس پر اثر انداز ہوا ہے تھے

اولیور کہتے تھے کہ لوگوں کی باتوں پر کبھی دھیان نہ دینا اور اُن کے رویوں کو خود پر اثر انداز مت ہونے دینا ۔

ڈیڈ لوگوں کے رویہ مجھ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

تم مضبوط ہو ۔

اُسے دور سے آواز آئی ۔ اُس کی مام تھیں ۔

نہیں ہوں مضبوط میں مام –

تم ہو انا – –

آپ لوگوں کو ایسے نہیں جانا چاہیے تھا ۔

وہ منہ چھپا کر رو رہی تھی۔

روتے روتے ہیں اُس کی آنکھ لگ گئی۔

صبح اٹھ کر اُس نے منہ دھویا ۔

کپڑے بدلے ۔

کچھ چیزیں وہاں سیٹ کیں ۔

اسے ناشتہ کرنے کا کوئی دل نہیں تھا ۔

وہ باہر نہیں گئی ۔

اندر تھوڑی دیر موبائل استعمال کر کے

اُسنے جب چارجنگ دیکھی تو وہ پندرہ کا ہندسہ دیکھا رہی تھی۔


چارجر اسے کہیں نہیں ملا ۔

I think, I forgot it in Jane’s Room-

وہ باہر نکلی اور میری کے کمرے میں گئے وہ سورہی تھیں پھر خود ہی اس نے جین کے کمرے میں جانے کا فیصلہ کیا ۔

یہ اُس کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔

وہ گئی تو کمرے میں جین نہیں تھی واش روم سے آواز آرہی تھی ۔

اس نے جلدی سے دراز کھولی ۔

نکالا charger

اور باہر کی طرف موڑ گئی۔

اُسی وقت واش روم کا دروازہ کھلا

جین نے باقاعدہ اس کو بالوں سے پکڑ لیا تھا ۔

تم میرے کمرے میں کیا کر رہی تھیں۔ چورنی

میں اپنا چارجر لینے آئی تھی

وہ اس کو بالوں سے پکڑتی ہوئی باہر لے گئی ۔

امی

چھوڑو میرے بال –

کیا ہوا ہے Jane

یہ میرے کمرے سے چیزیں چوری کر رہی تھی ۔

انا جین کیا بول رہی ہے ۔

میں چارجر لینے گئی تھی

جھوٹی ہے یہ۔

، جین انا کے بال چھوڑو

جین نے انا کے بال کو چھوڑ کر اس کو بڑی طرح دھکا دیا ۔

انا کا سر ٹیبل سے جالگا۔

اور ماتھے سے خون بہنے لگا ۔

پاگل ہو تم جین –

میری فوراً اس کے پاس آئیں

انا خود ہی اٹھ کر کمرے میں چلی گئی ۔

اسنے روئی رکھ کر سنی پلاسٹک لگایا

اس کے سر میں ابھی بھی درد تھا۔

اب میں یہاں اور نہیں رہ سکتی ۔۔

اس نے خود سے کہا ۔

مجھے لگتا تھا کہ فارس میری زندگی میں آنے والے والا
سب سے برا شخص تھا ۔

مگر اسنے مجھے جسمانی تکلیف نہیں دی

وہ یہ کہہ کر رو پڑی

______________(⁠〃゚⁠3゚⁠〃⁠)____________

اس کے ضمیر نے اور بے عزت ہونا گوارا نہ کیا ۔

اس نے سوٹ کیس پھر سے پیک کیا ۔

وه اگر گھر نہیں جائے گی تو پھر کیسی ہاسٹل چلی جائے گی ۔

وہ وہاں سے سب ، چیزیں سمیت چکی تھی ۔


وہ سوٹ کیس لے کر باہر نکلی

انا یہ سوٹ کیس کیا ہے ۔

میری فوراً کھڑی ہوگئی

میں ابھی گھر جا رہی ہوں

نہیں انا تم نہیں جا سکتی ایسے

کیوں ۔

مجھے بس اپنے گھر جانا ہے اور وہاں جانے کے لیے مجھے آپ کی اجازت کی ضرورت نہیں مامی .

انا نے دو ٹوک انداز میں بات کی۔

I am Sorry Anna

Jane فوراً اٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔

انا نے فوراً پہچان لیا کہ اُسے ضرور زبردستی کہہ کر معافی مانگوائی گئی ہے ۔

No thanks

وہ آگے بڑھی –

انا روکو ۔۔

جی مامو

تمہارا اس طرح جانا سیف نہیں ہوگا ۔

میں چلی جاوں گی مامو

انا ضدی مت بنو

Mary فورا بولی

دیکھیں مامو مے میں یہاں پانچ مہینہ رک گئی ۔ آپ نے مجھے کھلایا اور میرا خیال رکھا ۔ آپ کا بہت بہت
شکریہ –

اب مجھے اجازت دیں

کیب سے جاؤ گی ۔

جی –

اس نے موبائل کھولا

کیسی نے موبائل ہاتھ سے چھینا اور دور پھینکا۔

وہ پیچھے موری تو لوکس نے اس کے منہ پر زنانہ دار
تھپڑ مارے –

تھپڑ کی آواز پورے گھر میں گونجی ۔

انا زمین پر گر گئی تھی ۔

ہونٹ کے کونے سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا ۔

وہ ابھی بھی شاکڈ میں اندر تھی ۔

وہ خود اس کے پاس گئے ۔

انا کے منہ کو جکڑ لیا۔

اگر اب یہاں سے جانے سے کی بات کی تو صرف تمہاری لاش جائے گی ۔

انا کے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔

تمہارے ماں باپ کو اس لیے مارا کیوں کے مجھے جائیداد چاہیے تھی۔

مگرکمینا اولیور اُس نے سب تمہارے نام کر دیا ۔

اب تم یہاں کی قیدی ہو ۔

تم باہر نہیں جاسکتی ۔

میں آپ کو کچھ نہیں دوں گی ۔ اور آپ جیسوں
پر میں تو تھوکوں بھی نہیں

۔ وہ باقاعدہ اس کو کو لاتوں سے مار رہے تھے۔

کچھ دیر بعد وہ خود تھک کر بیٹھ گئی ۔

اس کی شکل گم کرو یہاں سے Mary – –

میری اُس کو بالوں سے گھستی ہوئ لے گئیں –

سٹور میں لا کر اُس کو پھینکا۔۔

اُس کے پورا جسم بری طرح دُکھ رہا تھا۔

روز صحیح تھی ۔

قیدی۔۔۔۔۔۔

آزادی کی چاہت۔۔۔۔۔

بے نام رشتے۔۔۔۔۔

دو دن تک وہ وہیں موجود رہی ۔

بھوکی ، پیاسی

دو دن بعد میری نے دروازہ کھولا ۔

ٹرے میں کھانا رکھ کریں اندر لائیں ۔

انا واپس پیچھے ہوگی ۔

انا کھانا کھالو –

مجھے نہیں کھانا ۔ وہ پیچھے ہو گئی

انہوں نے اُس کو بالوں سے پکڑا اور قریب کر لیا ۔

اس کے منہ کو جکڑا اور بے دردی سے نوالے اُس کے منہ میں ٹھوسے۔

چند منٹ میں وہ یہ سب کچھ اُس کے منہ میں ڈال چکیں تھیں ۔

اور پانی بھی ساتھ ڈال دیا ۔

میری اس کو باہر لاو –

لارہی ہوں ۔

انہوں نے بے دردی سے اس کو کھنچا ۔

اور وہ دوڑ کی طرح کھنچی اُن کے ساتھ چلی گئی ۔

ایک دن بعد ولیم آرہا ہے ۔ اُس کے زخموں پر مرہم لگاؤ اور اس کے لیے کوئی تمیز کا ڈریس لاؤ –

ولیم جب آئے گا تو فوراً اس کی اور ولیم کی شادی کردیں

ولیم اُسے خود ہی بتائے گا پھر پیسے کیسے نکلوانے ہیں یا گھر کیسے نام کرنا ہے

میں شادی نہیں کروں گی ۔ انا نے بہت مشکل سے ہمت جمع ۔کی ۔

کوئی بات نہیں – لوکس نے اُس کے بالوں کو پیچھے سے جکڑ کر قریب کیا

ولیم آکر اس کو خود ہی سمجھا لے گا ۔ اور شادی کے لیے بھی راضی کرے گا ۔

اس کی گردن کو پیچھے جھٹکا دیا ۔ اور چھوڑ دیا ۔ ولیم کل آرہا ہے ۔ اسے انا پسند بھی آگئی ہے۔ کل شام چھ بجے اس کو تمیز سے تیار کر دینا ۔

وہ یہ کہ کر چلے گئے ۔

میری اسے پھر اٹھا کر کمرے میں بند کر گئی ۔

_______________(⁠◍⁠•⁠ᴗ⁠•⁠◍⁠)⁠❤___________

اگلے دن ولیم آگیا تھا۔

انا کو کیسی مجسمہ کی طرح اس کے سامنے پیش کیا گیا۔

بابا ، یہ انا ہے ۔ اسی نے اس انا کو دیکھتے ہوئے پوچھا

ہاں ۔۔

مجھے پسند ہے شادی کے لیے ۔

وہ ایک دم بولا ۔

ویسے میں نے تم سے پسند نہیں پوچھی تھی۔

مجھے تو منظور ہے ۔

دیکھو اگر تمہیں کوئی اور پسند آجائے تو اُس سے بھی شادی کر سکتے ہو

کیوں کے اس کی حیثیت نوکرانی سے زیادہ نہیں ہوگی ۔

انا اپنی آنکھوں میں بڑی مشکل سے آنسوؤں کو ضبط کیے ہوئی تھی۔

کل اِن دونوں کی شادی ہے ۔ تم تیاریاں کر لو میری ۔

میں نہیں کروں گی یہ شادی

اسے لے جا کر کمرے میں بند کر دیں ۔ ولیم بولا

انا چلاتی رہی ۔

مگر وہاں اُس کی سننے والا کون تھا۔

یہ شاید وہاں تھا کوئی ۔

اُس کو کمرے میں بند کر دیا گیا ۔

کب شام رات میں ڈھلی پتہ نہیں چلا

انا روتے روتے سو چکی تھی ۔

اگلے دن اس کی آزادی کا خاتمہ بالخیر ہو جاتا ۔

وہ یہیں رہ جاتی۔

مگر کوئی موجود تھا۔

اس کو بچانے والا

نہیں بچانی والی ۔

رات کے پہر اس کے سٹور کا دروازہ کھولا ۔

کوئی خاموشی سے اندر داخل ہوا ۔

انا، اٹھو …

انا نے آنکھیں کھولی اور وہ ایک دم سے چیخنے والی تھی۔

کہ اُس ہیولے نہ اُس کے منہ پر ہاتھ رکھا ۔

خاموش –

ایک دم وہ روشنی میں آئی ۔

ہاں وہ جین ہی تھی ۔

کپڑے بدلو جلدی –

جین جلدی سے الماری کے پاس گئی۔

اور کپڑے نکال کرانا کو دیے ۔

انا کا جسم درد کر رہا تھا تھا ۔ وہ مشکل سے اٹھی اور واش روم گئی۔

کپڑے بدل کر وہ باہر آئی ۔

جین نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور جلدی سے کچن میں لے کر گئی۔

پیچھے کے دروازہ سے وہ باہر آئی ۔

وہاں سے جین پہلے دیوار پر چذڑھی اور اپنا ہاتھ آگے کیا۔

آزادی کا صرف یہی راستہ تھا۔

اُس نے وہ ہاتھ تھام لیا۔

دوسری طرف آکر اُس نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔

انا بھی جلدی سے بیٹھی

جین نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی ۔

رات کے اس پہر اسلام آباد سو رہا تھا ۔

تم نے میری مدد کیوں کی – انا نے پوچھا

دیکھو میں بہت بری ہو سکتی ہوں مگر کم ضرف نہیں ۔ جب مجھے پتہ چلا کہ ڈیڈ نے انکل کو مارا تھا تو میں حیران رہ گئی۔

پھر میں نے تمہیں بچانے اور وہاں سے نکال نے کا فیصلہ کیا ۔ وہ گاڑی چلاتے ہوئے بات کر رہی

بھائی کبھی بھی تمہیں بیوی کی حیثیت نہیں دیں گے ۔ وہ دوسری شادی ضرور کریں گے اور تم اُس گھر کی نوکرانی بن کر رہوگی۔

میں خود بھی لڑکی ہوں ، میں نے خود پر رکھ کر سوچا تو میں یہ تکلیف خود پر برداشت کرتے ہوئے کانپ گئی انا ۔

اتنی دیر میں گاڑی روک چکی تھی۔

تمہارا شکریہ -انا رندھی ہوئی آواز میں بولی

میں تمہاری آگے بھی مدد کر دیتی مگر اس سے آگے میں نہیں جاسکتی ہمارا آدھا خاندان یہاں رہتا ہے اور اگر بابا کو پتہ چل گیا وہ جان سے مار دیں گے مجھے ۔

– Jane تشکریہ

اپنا خیال رکھنا انا – اگر قسمت نے موقع دیا تو میں تم سے ضرور ملوں گی۔

Bye

وہ کچھ دیر وہاں کھڑی رہی ۔

جین کے جانے کے بعد وہ وہاں سے ہٹ گئی ۔

میرے جینے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

ایک نا ایک دن وہ مجھے ڈھونڈ لیں گے ۔

ویسی اذیت ناک زندگی پھر سے شروع ہو جائی گئی

میں اور نہیں سہ پاؤ گی ۔

جین میری ہر دفعہ مدد نہیں کر سکتی

اور میرے پاس ایک روپیہ بھی نہیں ہے کہ اپنے رہنے کا بندو بست کرو۔

اُس کے سامنے عالیشان بیلدنگ کھڑی تھا ۔

ایک شاندار گاڑی وہاں سے نکلی۔

وہ اسی کے پیچے چھپ کر اندر چلی گئی ۔

لوسامنے لفٹ تھی۔

وہ اُس کے اندر داخل ہوئی۔

اس میں نقاب میں لڑکی موجود تھی ۔

پہلے انا نے لاسٹ فلور کا بٹن پریس کیا

اس لڑکی نے انا کو دیکھنے کے بعد سیکینڈ فلور کا بٹن پریس کیا ۔

وہ لڑکی اپنے فلور پر اُتر گئی اور انا اوپر پہنچ گئی۔

ٹھنڈی ہوائیں نے ڑاُس کا استقبال کیا ۔

وہ بے خوفی سے دیوار پر چڑھ گئی ۔

فوگ کی وجہ سے نیچے نہیں دیکھ رہا تھا

اتنے میں کوئی پیچھے سے آیا ۔

اور ہاتھ پکڑ کر اسے پیچھے کھینچ لیا ۔

انا ایک دم منہ کے بل گرنے پر چینخی –

جب وہ کھڑی ہوئی تو سامنے اسے نقاب کی ہوئی لڑکی
کو پایا تھا

________________♡⁠˖⁠꒰⁠ᵕ⁠༚⁠ᵕ⁠⑅⁠꒱___________

کنیڈا میں ایک نئے دن کا آغاز ہو چکا تھا۔

مگر فارس فجر کی نماز پڑھنے کے بعد ابھی بھی سور ہے

الارم نے اُٹھانا ضروری سمجھا۔

الارم کے بجنے ہر شہزادہ میاں اسے بند کرکے پھر سو جائے ۔

مگر اچانک سے کچھ یاد آنے پر وہ فوراً اٹھ کر بیٹھا ۔

موبائل میں پر ضمیر کو کال ملائی گئ۔

اسلام و علیکم فارس ، کیا مسئلہ ہے دس بجے کیوں کال کی ہے

ضمیر نے ایک ہی سائنس میں سب بول دیا ۔

و علیکم اسلام یار ایک کام ہے۔

انا کو لے کر کوئی بات کرنی ہے تو بھول جاؤ میں کام آؤں گا ۔ ضمیر فوراً بولا

ارے یار وہ مسئلہ نہیں ہے۔

 

ٹورنٹو یونیورسٹی میں میرے کسی گھر والے کو لانے کو کہا ہے۔

فارسی سر کھجاتا ہوا بولا ۔

کون سا چاند چڑھا آئے ہو ۔

وہ بس تین چار سالہ آئی ہے اور میں نے بہت
چھٹیاں کی ہیں

میں کیا کروں

کچھ دن کے لیے آجاؤ ، ویسے بھی تمہاری سمر بریک شروع ہونے والی ہے

بابا نہیں مانیں گے۔

مامو کو میں مانا لوں گا۔

مانا لو گے ۔

ہاں یار – فارس بولا-

پھر میں موبائل ان کو دیتا ہوں ۔

رک سالے ، مجھے بہانہ تو سوچنے دے۔

اتنی دیر میں ضمیر فون عزمت سکندر کو تھاما چکا تھا ۔۔

اسلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا ته مامو —

وعلیکم اسلام مدعے پر آؤ فوراً –

آپ کو کیسے پتہ چلا۔

فارسی حیران ہوا ۔

یہ جو تم آج بات کرتے ہوئے زیادہ ہی نیک اور پرہیز گار بن گئے تھے۔ اس نے بتایا مجھے

جی ، وہ بات کیا ہے ۔

— on the point Faris

آپ کی آواز اچھی لگ رہی ہے مامو –

فارس کی بات پر وہ ہنس پڑے

اپنی مکھن ملائی کی فیکٹری بند کرو

وہ یہاں کچھ فنکشن ہیں میری یونی میں اور ہر کیسی کی فیملی سے کوئی نہ کوئی انوائیٹد ہے ۔

میں نے سب کے نام دیے بڈھے بابا، امی ، ماہی اور

فارس ایک دم رک گیا

اور ضمیر سکندر کا نام سلیکٹ ہوگیا ۔

عزمت سکندر اُس کے روکنے کے بعد فوراً بولے ۔

جی مامو –

کیا یاد کرو گے ، کس سخی سے پالا پڑا ہے ۔ اجازت دی۔

Really

ہاں ، ایونٹ کب ہے

event

کچھ ہفتے بعد

اتنی جلدی فلائیٹ نہیں ملے گی

میں نے بک کروالی ہے ، بس آپ کی اجازت چاہیے تھی

برخودار صاحب ، سب جب خود کرنا تھا کو ضمیر کے کنیڈا پہنچنے کے بعد بتا دیتے ۔

مامو ، ضمیر کو دی گا، میں نے کچھ چیزیں مانگوانی ہے

فارس نے جلدی سے بولا۔

ہاں یہ لو بات کرو ۔

ہیلو ضمیر –

ہاں بولو۔

فون اسپیکر پر ہے ۔

نہیں

جب سامان کے پیک کرنے لگو تو پاکستانی اسنیکس ضرور رکھنا ۔

اور انکل کو بتا دو۔

کہ ایک مہینہ کے بعد ہی، آؤ گے۔

اچھا بول دوں گا ۔ ضمیر بولا ۔

انکل کو کیوں نہیں بتایا

وہ پہلی فرصت میں کنیڈا پہنچ کر میری چمڑی اُڈھیریں گے ۔

چلو پھر ملتے ہیں

فی امان الله فارس

الله حافظ

ضمیر یہ کہ کر کال کاٹ چکا تھا۔

گاڑی کی چابی نکال کر وہ باہر آیا ۔

_______________(⁠〃゚⁠3゚⁠〃⁠)___________

وہ گھومتا پھرتا باہر آیا ۔

مارٹ میں جا کر اُس نے بہت سے اسنیکس اٹھائے ۔

سامنے کوئی کھڑا تھا ۔ مگر ضمیر انہیں چالاکی سے dodge پہلے اگیا کرتا

Excuse me

پیچھے سے آواز آئی ۔

جی بولیں ۔ وہ پیچھے مڑا ۔

نقاب میں لپٹی مشرقی انکھیں ،وہ وہ ان آنکھوں پر اپنا آپ ور سکتا تھا

مس حور العین — سوری مس عمران

وہ ٹرنس کی کیفیت میں بولا

مسٹر ضمیر ، میں پہلے کھڑی تھی ۔

آپ آئیں ، آپ ہی پہلی اور آخری ہیں ۔

کیا بولا آپ نے ۔

نہیں نہیں کچھ نہیں بولا ، آپ آجائیں آگے ۔

اُس نے زبان دانتوں کے بیچ ڈبائی ۔

حور العین ضمیر سے آگے کھڑی ہوگئی ۔

ضمیر نے پیچھے دیکھا کہ حور العین کا تو نے ایک لڑکی کا ہاتھ تھاما ہوا ہے ۔

حورالعین نے پیچھے مر کر ضمیر کی ٹرالی کو دیکھا

یہ میرا نہیں میرے دوست کا ہے ۔

حور بغیر جواب دیے آگے مرگئی۔

دومرد مارٹ کے اندر داخل ہوئے۔

عبایہ والی لڑکی نے زور سے حور کا ہاتھ پکڑا ۔

ضمیر کو بھی خطرے کا احساس ہوا ۔

وہ دو مرد پہلے حور العین کی طرف بڑھے ۔

اس لڑکی کو دیکھا ہے ۔

حور العین نے نفی میں سر ہلایا۔

انہوں نے حور اور دوسری لڑکی کو غور سے دیکھا اور پھر ۔
کسی دوسرے کے پاس چلے گئے ہے

حور فوراً سے سامان چھوڑ کر اُس لڑکی کا ہاتھ تھامے باہر نکل گئی۔

پیچھے ضمیر نے اُس کی پیمنٹ کی اور دونوں شاپر اٹھا کر باہر حور کو ڈھونڈا –

یہ آپ کا سامان مس حور العین – آج اس نے پہلی دفعہ اُسے فرست نیم سے بلایا

اللہ اللہ وہ لوگ فرسٹ نیم ٹرمیز پر آچکے تھے۔

– Thank you Zameer

یہ رہے آپ کے پیسے – حور العین کے پرس نکل کر ہزار کے دو
نوٹ اس کی طرف بڑھائے

اس کی ضرورت نہیں مس حور العین –

میں کسی کا احسان نہیں رکھتی ضمیر – آپ کا شکریہ —

پیسے ضمیر کے شاپر میں ڈال کر چلی گئی۔

اللہ تعالٰی اس نے مسٹر ضمیر کی جگہ صرف دو دفعہ ضمیر بلایا ۔

میں خوشی سے کہیں ہلاک ہی نہ ہو جاؤں ۔

وہ خوشی خوشی گاڑی میں آکر بیٹھا اور گاڑی کو سکندر ولا

اپنے گھر جا کر فارس کو کال لگائی ۔

اس وقت کنیڈا میں آدھی رات ہو رہی تھی۔

اسلام و علیکم ، کون ہے اس وقت

فارس

کیا ہوا ضمیر ، کیا مسئلہ ہے ۔

ہ ایک خوش خبری ہے ۔

تو باپ بن گیا ہے ، مبارک ہو اب میں جا رہا ہوں سونے

فارس فون بند کرنے والا تھا کہ ضمیر فوراً بولا ۔

لا حول ولا قوة ، میں یہ کہہ رہا تھا کہ میری حور العین سے
ملاقات ہوئی ۔

اُس نے دو دفعہ میرا نام پکارا

ابے سالے ۔ تو تم نے مجھے اس وقت کال یہ بتانے کی لیے۔

جہنم میں الگ حساب ہوگا تمہارے اس عمل کا

تمہیں بتانا ہی فضول ہے ۔

مجھے سونے دو اللہ حافظ

ضمیر کے اللہ حافظ کہنے سے پہلے وہ کال کاٹ چکا تھا

کیا نمونہ دوست ہے میرا ۔

چلو میں تو باہر چلتا ہوں ۔

رحمت سکندر نماز پڑھ کر ابھی بیٹھیں تھی۔

کیا ہوا میرے بیٹے کو

ضمیر ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا ۔

مرض لاحق ہو گیا ہے۔

اللہ نہ کرے ، کیا ہوا ہے ۔

وہ ایک دم پریشان ہو گئیں۔

مرض عشق کا روگ لگ گیا ہے ۔

ہیں ۔

اُن کو تو بڑا ہی اچھے قسم کا شاکڈ لگا ۔

کیا بولا ۔

مرضی عشق میں مبتلا ہوں میں

پیچھے سے عزمت سکندر اندر آ رہے تھے ۔ انہوں نے سن لیا ۔

میں ابھی اُتارتا ہوں تمہارے اوپر سے یہ مرض –

ان کے ہاتھ چیل تک گیا۔

ضمیر فوراً صوفہ سے کودتا کمرہ کی طرف بھاگا۔

مگر چیل سیدھا اُس کی کمر پر آلگی۔

اللہ میری تو کمر ہی ٹوٹ گئی ۔

فارس آپ کو صحیح گینگسٹر مامو کہتا ہے ۔

کیا کہتا ہے۔

اوہ سوری ۔ وہ جلدی سے کمرے میں بند ہوگیا۔

ایک تو یہ زبان بڑے ہی غلط موقع پر چلتی ہے ۔

دو دن بعد

 

ضمیر اور فارس کا فون پر کیسی موضوع پر بات کر رہے تھے ۔

ایک دم فارس کے اللہ سامنے شہد کی مکھی آگئی ۔

وہ یک دم چیخا اور وہاں سے اٹھ کر بھاگا۔

کیا ہے۔ کیوں چیخ رہے ہو، جب دیکھو ہر وقت لڑتے رہتے ہو۔

رحمت سکندر اوپر سے نیچے اُتر کر آئیں ۔

مامی آپ نے بھی تو یہ بات چلا کر کہی ہے۔

دوسری طرف سے فارس کی آواز آئی ۔

اپنی آواز تم دونوں تک پہچانے کے لیے کی تھی۔

لیکن رحمت – – تمہاری آواز تو مجھ تک پہنچ گئی۔

عزمت کی لائبریری سے آواز آئی۔

پتہ نہیں اس کم بخت آواز کو کیا ہو گیا ہے ۔۔ جب دیکھو غلط رخ مور لیتی ہے

لیجیے فارس صاحب ۔ اب آواز بھی کم بخت ہوگئی ہے ۔

کننکٹینگ فلائیٹ ہے پاکستان سے سعودیہ اور پھر کنیڈا

صحیح ہے پھر ہم ، گھومیں گے

ہاں مگر میں کیا کروں ۔ مجھے چھٹیاں نہیں ملیں گی۔

تو تم تو بارہ بجے تک آجاتے ہو پھر گھوم لیں گے ۔

صحیح ہے – – ، اب کال مت کرنا میں سونے جا رہا ہوں۔

_______________♡⁠(⁠>⁠ ⁠ਊ⁠ ⁠<⁠)⁠♡___________

راحت روح

کون ہو تم کیوں بچایا مجھے ۔

انا یک دم زور سے چیخی

تم ایک مسلمان ہو کر خود کشی کر رہی ہو۔ یہ جسم ہمارے ہیں مگر خدا کی امانت ہیں اور خود کشی کا اور
خود کی جان لینے کے لیے شیطان تب بہکاتق ہے۔ جب آپ کی زندگی خوشیوں سے بھرنے والی ہو ۔ خود پر یہ ظلم مت کرو ۔

پہلی بات میں مسلمان نہیں ہوں اور دوسری بات اگر میں زندہ رہوں گی تو وہ لوگ مجھے مار ڈالیں گے ۔

یہاں پر یہ بہت ہوا ہے اور ہم سیف بھی نہیں ہے

پھر میں کہاں جاؤں ۔

میرے ساتھ آؤ ۔

حور العین نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ۔

انا نے ہاتھ تھام لیا۔

وه لفت میں واپس آئے ۔

حور العین نے اپنے فلور کا بٹن پریس کیا ۔

چند سیکنڈ میں نیچے پہنچ کر حور العیں نے دروازہ کھولا

آرام سے اندر بٹھ جاؤ ، میرے گھر میں کوئی نہیں ہے ۔ میں برقعہ اتار کر آتی ہوں

حورالعین نے عبایہ اتارا اور باہر آئی۔

اس نے بال کھولے ہوئے تھے۔

نقاب کے اندر اتنے خوب صورت چہرہ چھپے ہوتے ہیں اسے آج اندازہ ہوا ۔

اسے لگتا تھا جو لوگ حجاب کرتے ہیں ان کے بال اچھے نہیں ہوتے ہیں اور جو نقاب کرتے ہیں وہ خوب صورت نہیں ہوتے۔

آج حور العین کو دیکھ کر اس کی تمام باتیں غلط ثابت ہوگئی۔

میرا نام حور العین ہے۔

میں انا اولیور ہوں ۔

شکریہ تمہارا حور العین

تم میرے حور بلا سکتی ہو ۔

تم comfortable ہو جاؤ، اور مجھے بتاؤ کیا ہوا تھا۔

جب میں پانچ سال کی تھی تو مجھے اغوا کر لیا گیا اور ایک Canadian فیملی کے گھر کے آگے چھوڑ دیا گیا ۔

انہوں نے مجھے Legally adopt کر لیا اور جب میں نوسال کی تھی تو ۔

تو ، کیا ہوا پھر کیا ہوا ۔

ہم فیصل مسجد گئے تھے گھومنے ، وہاں پر میں نے اسی شخص کو دیکھتا ۔ مجھے جو مجھے تہہ خانے میں کھانا لا کر دیتا تھا جب میں پانچ سال کی تھی

میں بہت ڈر گئی تھی ۔ راتوں کو ، چینچ کر اٹھ جاتی ۔ مام اور ڈیڈ پر یشان ہو گئے ۔

وہ ویسے بھی Canadian تھے ۔ تو وہ مجھے canada لے گئے ۔ وہاں ہر میں نے سکون سے دس سال گزار دیے ۔ –

ایک سال پہلے میرے چچا کا انتقال ہو گیا ۔

اور میرے parents مجھے لے کر یہاں آگئے

انہوں نے کنیڈا میں مجھے بتایا بھی نہیں اور پاکستان آکر مجھے پتہ چلا کہ ہم ہمیشہ کے لیے پاکستان آچکے ہیں۔

انا تم یہاں رہ سکتی ہو ۔ مگر مجھے سب سچ بتانا کچھ مت چھپانا

اچھا ، ایک اور بات ہے ۔

ہاں بولو –

میں جب canada میں تھی تو وہاں ایک پاکستانی لڑکا تھا، فارس دانیال ملک ۔ وہ ہر وقت مجھ سے الجھنے کی کوشش کرتا تھا ۔

ہماری بحث ہوئی اور میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔ اور وہاں سے چلی گئی

میرے چچا کا انتقال ہو گیا اور ہم پاکستان آئے ۔

میں ایک دن میں فیصل مسجد گھومنے نکلی تو وہاں پر میری دوستی ایک لڑکی سے ہوگئی ۔ اس کا نام ماہی دانیال تھا ۔

بعد میں پتہ چلا کے وہ فارس کی بہن ہے ۔

ایک مہینے بعد اس نے مجھے کال کرکے بلایا ۔

میں تیار ہو کر ملنے چلی گئی مگر مجھے نہیں پتہ تھا کہ فارس وہاں موجود ہو گا

وہاں پر فارس شاید معافی مانگنے آیا تھا مگر میں غصہ میں چلی گئی ۔

مجھے پتہ چلا کہ پیرنٹ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے

میرے ڈیڈ کا کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے اور عام ICU میں تھی

انہوں نے مجھے بتایا کہ میں adopted ہوں اور میں جب پانچ سال کی تھی تو میں مسلمان تھی۔

پھر ایک cristian فیملی میں رہنے کی وجہ سے میں بھی عیسائی بن گئی۔

تمہارا کون سا مذہب ہے انا ۔

کوئی نہیں ۔ پچھلے چھ ماہ سے نہ میں عیسائیت میں رہی ہوں۔ نہ میں اسلام کو قبول کر پا رہی ہوں ۔

میں اس کیفیت سے گزر چکی ہوں انا ۔

کیا مطلب ۔

میں بھی مسلمان نہیں تھی ۔

تم اپنے بارے میں بتا دو انا ، پھر میں اپنی کہانی سناؤں گی۔

پھر اپنے parents کے انتقال کے بعد میں اپنے مامو اور مامی کے ساتھ رہنے لگی ۔ سب کو صحیح تھا۔ پھر ۔

پھر کیا ہوا ۔

میں نے اُن کی کا گھر چھوڑنا کا فیصلہ کیا۔

وہ رات سب سے بری رات تھی ۔ میں نے رشتوں کا وہ روپ دیکھا جس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔

تین دن ، بغیر کھائے پیئے میں ایک کمرے میں بند رہی ۔

مامو میری زبر دستی شادی کروا رہے تھے اپنے بیٹے سے۔
کل میری شادی تھی ۔

مگر Jane نے میری مدد کی اور اس جہنم سے نکل دیا۔

اس نے مجھے یہاں سے کچھ دور چھوڑا تھا۔

میں نہیں چاہتی تھی کہ میں زندہ رہوں ۔ کیوں کہ اگر میں زندہ رہوں گی تو جین پکڑی جائے گی اور شاید وہ میری زبردستی شادی بھی کروادیں ۔

انا ، یہ تمہارے مامو اور مامی نے ایسا کیوں کیا ۔

پہلے تو میرے نام پر گھر تھا۔ اور دوسرا ان کو میرے انشورنس کے پیسے چاہیے تھے ۔

یہ چھوٹا سا گھر ہے ۔ جو میرا بابا کا ہوتا تھا۔ اب میرا ہے سوری ، ہم دونوں کا ہے ۔

ہم دونوں – انا نے حیرت سے پوچھا ۔

ہاں، میری فیملی سے یہاں کوئی نہیں آتا ، بس مہینہ میں ایک دفعہ میرا چھوٹا بھائی آتا ہے ۔ تو تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

_____________(⁠✿⁠ ⁠♡⁠‿⁠♡⁠)_____________

حور اس کو کمرے میں لے گی۔ وہاں پہلے سے دو بیڈ موجود تھے ۔

یہاں پر میرے ابو اور ان کے دوست رہتے تھے ۔ اور اب میں اور تم رہیں گے۔

تم سو جائو انا ، آرام سے باقی باتیں کل کریں گے ۔

شکریہ ۔ انا ایک خالی بیڈ ہر آگئی ۔ وہ سونے لیتی تو اُس کے زخم درد کرنے لگے ۔

انا تم رو رہی ہو ۔ حور العین نے سوال کیا ۔

نہیں۔ انا نے جلدی سے آنسو صاف کیے ۔

حور العين فوراً اٹھ کر اُس کے پاس آئی ۔

اوہ ، اس میں سے تو خون نکل رہا ہے۔ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ۔

وہ جلدی سے . first Aid box لے کر آئی ۔

اس کے زخموں کو صاف کیا اور دوائی لگائی ۔۔۔

اور کہیں درد ہو رہا ہے انا

نہیں ، اب بہتر ہے ۔

انا آرام سے واپس لیٹ گئی اور حور العین نے اُس پر چادر ڈال دی ۔

اور اس کے فوراً بعد وہ بھی جاکر سو ہوگئی ۔

انا کی آنکھ صبح کی روشنی سے کھلی۔

ناشتہ کرنے آجاؤ ۔ حور العین جو کسی کام سے کمرے میں آئی تھی ۔ اُس نے انا کو جاگتے دیکھا تو باہر بلایا ۔

. انا منہ دھو کر باہر آگئی۔

ناشتہ ٹیبل پر رکھ کر حور العین نے انا کو مخاطب کیا ۔

انا بس تمہیں گھر سے باہر نہیں جانا ہے ۔

اگر تمہارے مامو یا کزن نے دیکھ لیا تو مسئلہ ہو جائے گا

صحیح ہے۔ مجھے یونیورسٹی جانا ہوتا ہے ۔ تم تب گھر بند رکھوگی ۔ اگر کوئی گھر پر آئے تو یہ بھی نہیں گھر پوچھنا کہ کون ہے۔ میرے پاس چابی ہوتی ہے ۔

کتنے سال کی ہو انا ۔ ۔

21 کی

میں بھی بائیس کی ہوں۔

ابھی معاملہ تھوڑا ٹھنڈا پڑ جائے تو تین سے چار مہینہ بعد تم بھی یونیورسٹی جوائن کر لینا

میں بھی۔

انا حیران ہوئی۔

تمہارے علاوہ یہاں پر کوئی اور بھی موجود ہے۔

نہیں تو –

تو پھر میں تم ہی سے بات کر رہی ہوں انا ۔

تمہارا شکریہ حور –

جلو شکر ہے تم نے مجھے مجھے کچھ تو مانا ۔

اس کے جواب میں انا مسکرا کر رہ گئی

حور، تم نے پہلے کہا تھا کہ تم قادیانی خاندان میں پلی بڑھی ہو۔ کیسا تھا وہ سب؟”

حور نے گہری سانس لی۔

میرے لیے تو وہی سب کچھ تھا، انا۔ انسان جس ماحول میں پیدا ہوتا ہے، شروع میں اسے ہی سچ سمجھتا ہے۔
انا خاموشی سے اس کی بات سنتی رہی۔

بچپن سے جو باتیں سکھائی گئیں، میں نے اُن پر سوال نہیں اٹھائے۔ گھر، خاندان، دوست… سب اسی ماحول کا حصہ تھے۔


پھر تم نے سوال کرنا کب شروع کیا؟

حور کی نظریں کھڑکی کے باہر جم گئیں۔

جب میں نے خود پڑھنا شروع کیا۔ مختلف کتابیں، مختلف آراء، اور پھر قرآن کا مطالعہ۔ پہلی بار میں نے دوسروں کی باتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود سمجھنے کی کوشش کی۔
انا نے کافی کا مگ میز پر رکھا۔

کیا تمہیں ڈر نہیں لگا؟

بہت۔ کبھی کبھی ایسا لگتا تھا جیسے میرے سامنے دو راستے ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ کون سا صحیح ہے۔

پھر؟

پھر میں نے قرآن کا ترجمہ پڑھنا شروع کیا۔ صرف یہ سوچ کر کہ دیکھتی ہوں اس میں ایسا کیا ہے۔

جتنا پڑھتی گئی، اتنا محسوس ہوتا گیا کہ یہ کتاب مجھ سے بات کر رہی ہے۔ پہلی بار میں نے مذہب کو وراثت کے بجائے سمجھنے کی کوشش کی تھی۔

انا خاموشی سے سنتی رہی۔

ایک رات میں سورۃ الاحزاب پڑھ رہی تھی۔ جب میں ‘خاتم النبیین’ والی آیت تک پہنچی تو میں رک گئی۔ میں نے آیت دوبارہ پڑھی… پھر تیسری بار۔

اور تب؟

تب میں نے خود سے سوال کیا کہ اگر میں سچائی کی تلاش میں ہوں تو مجھے اپنے تعصبات ایک طرف رکھنے ہوں گے۔

میں نے ایک مہینے تحقیق کی، سوال پوچھے، مختلف لوگوں سے بات کی، اور پھر ایک دن سجدے میں جا کر رو پڑی۔

پتہ نہیں کیسے، مگر اس دن پہلی بار دل بالکل پرسکون ہو گیا۔ جیسے برسوں سے جس جواب کی تلاش تھی، وہ مل گیا ہو۔
حور نے آسمان کی طرف دیکھا۔

اسی دن میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب میں وہی مانوں گی جسے میں حق سمجھتی ہوں، چاہے راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔

تمہارا اسلام آباد میں کوئی نہیں رہتا حور –

نہیں کوئی نہیں رہتا

اور تم کسی کو جانتی نہیں ہوں

ایک سال مکمل ہو گیا ہے مجھے یونیورسٹی جاتے ہوئے مگر کسی سے دوستی نہیں کی ۔

یہاں تک کہ مجھے وہاں کے students کے نام بھی نہیں پتہ ہیں۔


کیا تمہیں کسی نے بتایا نہیں کہ ۔ حور العین بولی۔

میری آنکھیں کتنی خوب صورت ہے۔ انا نے ایک دم بیچ سے بات کاٹی

یہی بولنے والی تھی میں ۔

مجھے اندازہ تھا۔

باہر apartments کے پارک چلیں –

میں باہر کیسے جاؤں گی ۔ مطلب ۔

حور العین کمرے میں لے گئی اور جب باہر آئی تو اس کے ہاتھ میں کپڑے تھے۔

یہ کیا ہے ۔ انا نے حیرانی سے پوچھا ۔

تم سیدھی کھڑی رہنا ۔

انا سیدھی کھڑی رہی۔ حور نے اُسے عبایہ پہنایا انا کے سر پر صرف ڈوپٹہ ڈالا اور اُس کو ماسک دیا ۔

You are ready Anna

انا نے خود کو شیشے میں دیکھا۔

کئ سیکنڈ خود کو پہچان نہیں پائی

اب چلیں – حور جلدی سے بولی ۔

حور العین اُس کا ہاتھ پکڑ کر apartments کے پیچھے والے حصہ میں لے آئی ۔

دوپہر کا وقت تھا اور بچہ نہ ہونے کے برابر تھے۔

بارشوں کے موسم کی وجہ سے ہلکی ہوا چل رہی تھی اور موسم ابر آلود تھا۔

وہ دونوں جاکر Swings پر بیٹھ کی ۔

تمہیں پتہ ہے انا ۔ میں پہلی دفعہ یہاں آئی ہوں

کیوں —

بس کوئی ہوتا نہیں تھا اور یہاں کا ماحول مجھے نہیں پسند تھا۔

وہ دونوں کافی تیز جھول رہی تھیں ۔

انا پہلے چھ مہینوں کی ساری باتیں بھلا چکی تھی۔

وہ بھول جانا چاہتی تھی۔

اور وہ بھول بھی رہی تھی ۔

اُسے صوفیہ اور اولیور یار تھے مگر مگر اب اُن سے ا
الفت محسوس نہیں ہوتا ہوتی تھی ۔

اس وقت ، اُس کے پاس بہترین ہمدرد تھا

حور العین

نئی خوشگوار شروعات

دوستی کا جذبہ

شاید تاریکی سے روشنی کا سفر —

____________♥⁠╣⁠[⁠-⁠_⁠-⁠]⁠╠⁠♥______________

دو مہینے بعد

دروازہ کھول کر حور العین اندر داخل ہوئی ۔

صوفے کے اوپر سے اچھل کرانا حور العین کے گلے لگی

ارے کیا ہوا ہے ۔

سب بہت ٹھیک ہے

کیا ہوا ۔

میری فرسٹ سیلری آگئی ہے۔

Really

یہ تو بہت بڑی خوش خبری ہے انا
ٹریٹ ملنی چاہیے اس پر ۔

کو نسے ریسٹورینٹ چلیں

Caffe Praha قریب ہے اور اچھا بھی ہے ۔ حور بولی۔

میں کیسے کھاؤں گی

جیسے میں کھاتی ہوں

نقاب کے نیچے سے ۔

مگر میں تو ماسک لگاتی ہوں ۔

میرے پاس نقاب ہیں ۔

انا خوب صورت سے Butterfly ، عبایہ پہن کر باہر آئی

حور العین نے اپنا اسکارف بندھا – پھر انا کا بندھا اور نقاب سیٹ کیا۔

انا نے آج خود کو شیشے میں دیکھا وہ سچ میں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ اور اس کی آنکھیں نقاب میں سے چمک رہی تھیں

وہ لوگ apartment سے باہر نکل کر foot path پر چلنے لگیں۔

زندگی انا پر مہربان ہوگئی تھی

اس کو زندگی اس سے زیادہ حسین کبھی نہیں لگی تھی ۔

وہ لڑکی جو دوستیں بنانے پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ ۔ وہ جس نے کبھی دوست نہیں بنائی تھی ۔ انا کا اُس کی زندگی میں آنا ایک مخلص دوست دے گیا تھا

حور العین ہمیشہ کی طرح انا کا ہاتھ پکڑ کر چل رہی تھی ۔

Caffe praha میں وہ ایک نئے احساس کے ساتھ جا رہی تھی

انہوں نے آکر fastfoods اُڑدر کیے

پندرہ منٹ کے اندر وہ چیزیں Table پر موجود تھیں۔

حور آرام سے کھا رہے تھی ۔

انا کو تھوڑی مشکل ہوئی ۔ اس کے منہ کا حشر نشر خراب ہو گیا تھا

مگر انا نے کھانا پورا کھایا

As we know ka khana us ki kamzori ha

حور العین ابھی کھا رہی تھی ہے کہ انا نے جلدی سے بل مانگوایا


پیسہ رکھ کر اس نے حور العین کا ہاتھ پکڑا اور کھڑی ہوئی۔

سامنے دو لڑکے موجود تھے

حور العین نے انا کی شکل دیکھی۔ وہ ڈری ہوئی تھی۔

اس نے خود ہی اندازہ لگایا ۔ ان میں سے کوئی ولیم تھا

انا حور کا ہاتھ پکڑی ہوئی تھی ۔ وہ تھوڑی Side پر ہوئی اور ان کو جانے کی جگہ دی ۔

مگروہ وہیں رک گئے

جب منظر یہاں ایسا ہو تو کسی کمبخت کا جانے کا دل کرے۔

انا کو کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ UKسے اعلیٰ تعلیم لے کر آیا ہے۔

میں تو یہ سوچ رہا ہوں بھائی کہ ان کا چہرہ کیسا ہوگا ولیم کا دوست بولا-

ہاں ۔ یہ تو میں بھی سوچ رہا ہوں ۔

انا سے خوب صورت نہیں ہوگا ۔ ایک دم ولیم بولا ۔

انا کے اوپر ڈھیروں من پانی گڑ گیا ۔

وہ جو پانچ منٹ پہلے ڈر رہی تھی ۔ اب اُس کا چہرہ سپاٹ ہو گیا تھا۔

یہاں سے چلتے ہوئے نظر نہیں آئے تو میں چینچ کر پوری انتظامیہ کو اکٹھا کر لوں گی ۔

جس کو دیکھنا ہے۔ اپنے گھر جا کر دیکھو ۔

شیرنی کو غصہ آگیا ہے بھائی۔ ولیم بولا ۔

انا نے سیدھا اس کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا ۔

اپنے گھٹنے سے ولیم کے private part پر حملے کیا۔

ولیم زمین پر گر چکا تھا اور اس کا دوست وہاں سے رفو چکر ہو گیا تھا۔

میرا بدلہ پورا ہوا چلو حوراب – انا نے حور العین کا ہاتھ پکڑا

پہلی دفعہ اسلام آباد نے یہ منظر دیکھا کہ حور العین کے بجائے انا آگے تھی۔

وہ رہنمائی کر رہی تھی۔

________________♡⁠(⁠Ӧ⁠v⁠Ӧ⁠。⁠)__________

انا نے حور العین کا ہاتھ گھر پر آ کر چھوڑا ۔

دروازہ کھول کرانا زور سے صوفے پر گری ۔

یہ کیا تھا انا – حور العین نے ہو تھا۔

تماشہ، وہ تماشہ بنا رہا تھا ہمارا ۔

مجھے پورا یقین ہے، جس کو تم نے مارے ہے وہ ولیم تھا۔

ہاں۔

میرے اندازہ غلط نہیں ہوتے ۔

انا نے گھورنے والے انداز میں دیکھا۔

کبھی ہو جاتے ہیں۔

ویسے انا ، تم نے کیا مارا ہے اُسے میں تمہاری فین ہوگئی ہوں۔

اس کے بعد قہقہوں کا سلسلہ شروع وہ بیل کی آواز پر روکا

کون ہوگا ۔ حور العین نے نہ پوچھا ۔

پارسل آیا ہو گا ۔

اوہ ہاں ، تم اٹھ کر جاؤ حور –

میں کیوں جاؤں ، تم جاؤ ۔

میں نہیں جا رہی حور

تم جائو، اس سے پہلے پارسل واپس چلا جائے۔

انا غصہ میں اٹھ کر چلی گئی ۔

وہ ابھی بھی مکمل عبایہ میں تھی ۔

اُس نے ڈور ائ سے دیکھا تو پارسل والا کھڑا تھا۔

انا نے دروازہ کھولا ۔

Surprise
– کوئی یک دم دیوار کے پیچھے سے سامنے آیا۔

الله – وہ یہ کہہ کر پیچھے ہوئی

وہ ہمیشہ ڈر کر خداوند یا پھر
Jesus Christ
کہتی تھی

بعد میں اس نے اپنے الفاظ پر غور کیا ۔


کون ہیں آپ ، اُس آدمی نے ذرا چینچ کر کہا

تمیز سے بات کریں اور دوسری بات میرے گھر پر کھڑے ہو کر آپ مجھ پر چیخ رہے ہیں ۔ کون ہیں آپ۔

میں انتظامیہ سے بات کرتی ہوں – کس کس کو اندر بھیج دیتے ہیں۔

اور آپ میرا پارسل دیں۔

وہ پارسل پیڈ تھا ۔ تو اسنے فوراً لے لیا۔

انا دروازہ بند کرنے والی تھی کہ ایک دم کسی نے پاؤں لگایا اور پوری قوت سے دکھا دیا اور اندر کی طرف بڑھا ۔

انا کو دھکا لگا ۔ جس کی وجہ سے اُس کا پاؤں مر گیا ۔

اللہ میرا پاؤں حور —

حور العین جلدی سے بھاگتی ہوئی آئی-

ریان کو ان دیکھا کر کے وہ فوراً انا کے پاس آئی ۔

انا ۔ تم صحیح ہو ۔ اللہ تمہارے پاؤں پر موچ آگئی ہے۔ کیسے ہوا ہے یہ۔

اس کی وجہ سے۔

کون

انا کے اشارہ پر اسنے مڑ کر دیکھا۔

ریان

شکر ہے تم نے دیکھا تو مجھے ورنہ یہ محترمہ تو مجھے انتظامیہ کی دھمکی دی رہیں تھیں ۔

تم جانتی ہو حور اسے ۔

میرا چھوٹا بھائی ہے ریان –

پہلے نہیں بتا سکتا تھا ۔ میرا پاؤں مر گیا ۔ اس کی وجہ سے ۔

آج کل کا دن ہی برا ہے ۔

حور العین نے اسے سہارا دیا اور صوفہ پر بٹھایا ۔

آرام سے بٹھو میں دودھ لاتی ہوں ۔

انا ریان کو گھورتی رہی ۔

یہ لو دودھ پیو –

تم نے میرا تعارف کرا دیا انہیں ، اب مجھے بتا دو کہ یہ محترمہ کون ہیں۔

میرے ساتھ رہتی ہے۔ میری دوست ہے۔

کیا کہا

ریان کو حیرت کا جھٹکا لگا۔

تم دوستیں نہیں بناتی ۔

بنالی مسئلہ ہے –

نہیں تو ،

پھر
حور العین نے ہی پوچھا۔

تمہاری دوست بالکل تمہارے جیسی ہے ۔ دماغ سے خالی۔

ریان نے انا کو دیکھتے ہوئے بولا ۔

حور اپنے بھائی کو سمجھا لو۔ ورنہ میں اس کا برا حال کروں گی۔

تم دونوں لڑو جب تک ، میں کچھ لاتی ہوں کھانے کے لیے۔


ہاں کچھ لے کر آؤ مجھے بھوک لگ رہی ہے

ابھی ایک گھنٹہ پہلے ہم کھانا کہا کر آئیں ہیں ۔

وليم کو مار کر پیٹ کر خالی ہو گیا ہے۔

کون ولیم

میرے چچا کا بیٹا ، تمہیں ملتا ہے۔

نہیں

عجیب نظروں سے گھورنا بند کرو تم

دو سال بڑی ہوں آپی کہو۔

نہیں کہتا ۔

انا نے اس کی طرف کوشن سے حملہ کیا۔

زور کا لگا ہے۔

تم سچ میں مرد ہو کیا ، ہر تھوڑی دیر میں رونے لگتے ہو۔

میں کب رویا ۔

ابھی تو رونے والی شکل بنائی۔

کیا نام ہے تمہارا —

فجر

یہ نماز کا نام نہیں ہوتا کیا

حور کچن سے باہر آئی ۔

اس نے حیرت سے انا کو دیکھا۔

جی فجر باجی میں اب تمیز سے بات کروں گا ۔

انا تھوڑی بدل گئی تھی ۔ اُس کے اوپر حور العین کا اثر ہونے لگا تھا

_______________♡⁠(⁠>⁠ ⁠ਊ⁠ ⁠<⁠)⁠♡___________

انا اٹھ کر کچن میں آئی۔

تم نے اپنا نام فجر کیوں کہا انا ۔

انا مجھ سے میری پہچان چھین رہا ہے حور

فجر – یہ نام نماز کا ہوتا ہے انا ۔ تمہارا یہ نام کہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تم نے ۔ اسلام کو بطور مذہب مان لیا ہے ۔

، اسلام مذہب امن ہے اور مجھے بہت پسند ہے ۔ مگر کچھ وقت لگے گا ۔

چلو، یہ تو اچھا ہے اسلام کو لے کر تمہاری غلط فہمیاں دور ہوئ ہیں۔

حور اسلام مجھے بطور مذہب ہمیشہ سے پسند تھا مگر فارس کی وجہ سے میرے نظریہ بدل گیا ۔ اُس نے اسلام کو ایک الگ طریقہ سے میرے سامنے پیش کیا

تم نے ایک انسان کو دیکھ کر پورے مذہب کےبارے میں رائے قائم کرلی ۔

ہاں .

مگر جب حور تمہیں دیکھا تو پتہ چلا کہ اسلام غلط نہیں ہے ۔ اس کے ماننے والے بہت سی چیزوں میں غلط ہیں

تم مسلمانوں کو مت دیکھو ۔ تم اسلام کو دیکھے ۔ جو بطور مذہب پرفیکٹ ہے۔

ہاں مجھ سے بھی یہی یہی غلطی ہوئی ہے ۔ خیر چھوڑو اس کو

کھانا لے آؤ پلیز —

آرہی ہوں ۔ چلو تم ۔

انا کہن سے باہر آگئی ۔

فجر آنٹی ۔ آپ کیا کر رہی ہیں ۔

تم مارو گے ریان ،

تمہارے تو پاؤں پر لگی ہوئی ہے۔ کیسے مارو گئی ۔

ہاتھ تو صحیح ہیں

پیچھے پڑا cushion ریان کے منہ پر مارا ۔

الله – ظالم لڑکی زور سے لگا ہے۔

صد شکر عورت نہیں بولا ۔

اس میں خوش ہونے والی بات کیا ہے ۔

بہت ہے تم سے مطلب سستے چو ہے ۔

میں جارہا ہوں ۔ بابا کو بتاؤں گا ہے کہ تم دونوں مل کر
ان کے اکلوتے وارث کو روسٹ کر رہے تھے۔

اتنے میں حور العین کا موبال بج اٹھا۔

اسلام عليكم ابو —

و علیکم اسلام کیسی ہو

میں صحیح ہوں۔

اور یہ ریان تمہیں پریشان تو نہیں کر رہا ہے۔

بابا حور اور فجر آپی مجھے Roast کر رہے ہیں۔

کون فجر

میں بات کرواتی ہوں

بابا سے بات کرو ۔

اسلام و علیکم انکل ۔

و علیکم اسلام بیٹا۔

ابو یہ میری best friend ہے اور یہ فلیٹ پر میرے ساتھ رہتی ہے۔

کیا کیا تمہاری بیسٹ فریند

جی ابو

تشکریہ فجر، تم میری بیٹی کی زندگی میں آئیں۔ اس کی بچپن سے کوئی دوست نہیں ہے۔

خیر تم لوگ اپنی باتیں کرو اور اگر یہ ریان تنگ کرے تو مجھے کال کر دینا ۔

جی انکل .

خدا حافظ ۔

حور کھانا لگا چکی تھی ۔

ویسے حور اس کھانے میں اسپاشل کیا ہے جو تین گھنٹے
میں بنا ہے ۔

ریان معصوم شکل بنا کر پاستہ کو دیکھ رہا تھا ۔

ویسے حور اگر تم بتا دیتی کہ تم pasta بنا رہی ہو تو میں تمہاری help کرتی ۔ ویسے بھی دنیا میں ایک ہی چیز بنانا آتی ہے مجھے ۔

تم پھر اپنے شوہر کو یہی کھلانا ۔ ریان فوراً بولا ۔

میں کیوں کھلاؤں گی ۔ وہ مجھے بنا کر کھلائے گا ۔

آپ اور آپ کے بڑے خواب فجر آپی

تمہیں مسئلہ ہے کوئی میری خوابوں سے –

میں کون ہوتا ہوں اعتراض کرنے والا ۔

حور میں تمہاری help کروادوں

تمہارے پاؤں پر ویسے ہی لگی ہوئی ہے۔ آرام کرو جا کر

ہاتھ تو دو ۔ حور العین نے آگے اکر انا کا ہاتھ تھاما اور اُسے کمرے تک لے گئی ۔

________________(⁠´⁠ε⁠`⁠ ⁠)_____________

فجر میں ریان کو چھوڑنے جا رہے ہوں۔

میں بھی آرہی ہوں۔

اچھا پھر آؤ جلدی ۔

انا نے کمرے میں جلدی سے شال ڈھونڈی ، اُس کو اپنے اوپر ڈالا اوراسکارف بنایا

Impressive

– حور العین نے اُس کو دیکھ کر تعریف کی

آب چلیں ۔ Thanks

ہاں چلو۔

ویسے یہ پوری برات مجھے چھوڑنے کیوں جا رہی ہے۔

چلو حور واپس چلیں۔

ارے ارے سیریس مت ہوئیں فجر آپی ، میں مذاق کررہا تھا۔

اب آئے ہو نہ لائن پر چلو

وہ لوگ ساتھ چل رہے تھے ۔

اپنا خیال رکھنا ریان

تم بھی حور اور آپ بھی فجر آپی ۔

روکو ریان

اب کیا ہوا فجر آپی ۔

ائس کریم کھانے چلو گے

ائس کریم کہاں سے آگئی – حور فوراً بولی

میں بھی کھاؤں گا ۔

چلو بیٹھو جلدی اندر ، ورنہ اس کا دماغ الٹ نہ جائے۔

چند منٹ کی دوری پر گاڑی روکی ۔

انا خوشی سے حور کا ہاتھ پکڑ کر اتری۔

تم اُڑدر دو، میرے لیے پستہ آئس کریم کا ۔۔حور العین بولی –

اور میرے لیے مینگو آئس کریم کا ۔

انا اور حور آگے بڑھ گئیں ۔ بیجھے ریان اڈر دینے لگا ۔

میں تمہاری اس مثبت تبدیلی سے خوش ہوں انا

تسکر یہ حور

کس بات کا ۔ ۔

یہ راہ دیکھا دیکھانے کا ۔

کونسی راه انا –

سیدھی راہ

ابھی نہیں ، جب تم مکمل سیدھی راہ پر چلنی لگو گئی۔

مکمل سیدھی راہ مطلب

اسلام کو بطور مذہب اختیار کر لینا ۔

اچھا ۔

ویسے تمہیں دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم مسلمان نہیں ہو۔

کیا مطلب

مطلب یہ کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمہارا کوئی مذہب نہیں ہے ۔

تمہارے بات کرنے کا انداز ایک مکمل مسلمان لڑکی جیسا ہے۔ اور پھر تمہارا پردہ وہ تمہیں سب سے الگ بناتا ہے ۔

چلو یہ تو اچھا ہے نہ۔ اب اگر ہم یہاں ایک منٹ اور روکے تو ریان آئس کریم کھا جائے گا۔

وہ باہر نکل کر ٹیبل کی طرف آئیں ۔ مگر ان کی بات غلط ثابت ہوئی ۔

آئس کریم ابھی تک آئی ہی نہیں تھی ۔

آئس کریم کھانے کے بعد

میری فلائیٹ جو دو گھنٹے بعد تھی ۔ وہ ابھی آدھا گھنٹے میں ہے

ریان جلدی سے موبائل دیکھتے ہوئے بولا۔

اچھا تم جاؤ، ہم چلے جائیں گے ۔

الله حافظ ..

الله حافظ حور اور فجر نے بیک وقت کہا اور ہاتھ ہلایا ۔

چلو اب ہم بھی گھر چلیں

ہاتھ کا پکارتے کر، آگے پیچھے

ہاتھ پکڑ کر چلتے ہوئے ایک دوسرے کی باتیں سنتے ہوئے وہ ہنس رہیں تھیں ۔

فلیٹ کے اندر پہنچ کر انہوں نے عبایہ اتارے

ویسے ریان کے بچے نے میری خوشی اچھی خاصی بر باد کردی

کون سی خوشی انا

ولیم کا بینڈ بجانے کی ۔

اس بات پر دونوں قہقہوں کے ساتھ ہنسنے لگیں۔

کافی دیر ہسنے کی وجہ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

خیر اب ہنسی کنٹرول کرو مجھے ایک اور بات بتانی ہے۔

انا سیریس ہوتے ہوئے بولی ۔

اب کیا نیا چاند چرہا دیا ۔

ارے میں نے کچھ نہیں کیا حور –

پھر ۔

میرے انشورنس کے پیسے مجھے ایک دو دن
میں مل جائیں گے

یہ تو اچھی بات ہے ۔

تم میرے ساتھ چلو گی ۔

ہاں

Thank You Hoor

_______________(⁠๑⁠♡⁠⌓⁠♡⁠๑⁠)___________

دو دن گزر گئے تھے۔

انا کو آج کنیڈن ایمبسی جانا تھا ۔ اور وہاں سے پیسے لیتے تھے

حورنے اس کا اسکارف بندھا –

بہن اسکارف ول بندھنا تو سیکھ لو تین مہینہ ہونے کو آئیں ہیں۔

جب تم موجود ہو حور ، تو مجھے کیا کرنے کی ضرورت ہے

میں ہمیشہ نہیں ہوں گی تمہارے ساتھ

اسے ہمیشہ کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔

جب دیکھو اپنی مکھن فیکٹری جاری رکھتی ہو۔

اس کی بات پر انا مسکرا دی۔

اب چلو انا ، دیر ہو رہی ہے ۔

چلو پھر

انا نے تیار ہو کر حور کا ہاتھ پکڑ لیا۔

وہ دونوں باہر نکل گئے۔

پانچ منٹ اُس کا انتظار کرنے کے بعد کیب آگئی۔

انا ، تم نروس ہو

نہیں تو ۔

That’s like a good girl

حور میں بچی نہیں ہوں ۔

اللہ میرا شونو مونو ناراض ہو گیا ۔

حور نے انا کو دیکھتے ہوئے کہا۔

استغفر اللہ حور تم سے ہر فضول کام کروا لو۔

اچھا اچھا دل پر مت لینا ، مذاق کر رہی تھی۔

میں نے تو دل پرلے ل لیا۔

اچھا سوری – معاف کر دو

حور کی آنکھیں دیکھ کر انا پتہ لگا سکتی تھی کہ وہ ہنسں رہی ہے۔

تم ہنسں رہی ہو حور –

اچھا نہ ناراض تو نہ ہو۔

ان کی نوک جھوک میں پندرہ منٹ کر عرصے کیسے گزرا ، پتہ ہی نہیں چلا

پیسے دینے کے بعد وہ اندر کی طرف ںر ہے ۔

پر نام دیا۔ reception اُس نے – Anna Oliver

اُس کو اندر جانے کو کہا۔

حور کا ہاتھ پکڑ کر وہ اندر داخل ہوئی ۔

Anna Oliver

اندر بیٹھے شخص نے کافی حیرت سے پوچھا۔

میں ہوں انا ۔

Have a seal please.

ہیں cristian آپ

نہیں

پھر مسلمان ۔

نہیں

آپ کا مذہب کیا ہے انا ۔

اس وقت میں دو مذہبوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہوں۔ مگر اسلام کی تھوڑی بہت چیزیں میں نے اپنائی ہے۔ سب سے پہلے اُن کا بات کرنے کا طریقہ اور دوسرا پردہ ۔

۔ personal matter یہ آپ کا

جی – انا نے فوراً جواب دیا ۔

پھر کافی دیر وہ ان سے بات چیت کرتے رہے۔

جب شاید اُن کی تسلی پوری ہوئی تو اُن کو باہر جانے کا کہا۔

انا اور حورالعین باہر آگئے ۔

وہاں ہر کسی نے آکر ان کو لفافہ تھمایا۔

بنا کھولے وہ باہر نکل آئی ۔۔

سامنے سے ٹیکسی کی اور فلیٹ کر طرف نکل پڑے ۔

ٹیکسی میں ان کی کوئی بات نہ ہوئی۔

انا نے آکر فلیٹ کا دروازہ کھولا ۔

وہ پہلے داخل ہوئی اور حور نے دروازہ لاک کیا ۔

وہ صوفے پر آکر بیٹھی ۔

حور بھی اُس کے ساتھ بیٹھی ۔

دس لاکھ روپے ۔

شکر ہے ، میں اپنی تعلیم پھر سے شروع کر پاؤں گی۔

اللہ نے تمہارے لیے بہترین راہ نکال دی ہے انا ۔

حور نے بھی اُس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا

حور اسے تم اپنے پاس رکھ لو ۔

میں کیسے رکھ لوں۔

تم سنبھال کر رکھ لو پلیز –

چلو ٹھیک ہے ۔ کب لوگی واپس ۔

ایک مہینہ بعد –

صحیح ہے رکھ لیتی ہوں میں –

ویسے تم میرے ساتھ آؤ ۔

وہ اندر کمرے کی طرف بر ہیں۔

حور نے الماری کھولی ، سامنے سیف تھا۔

اس کا پاس ورڈ ہم اُس دن کا رکھتے ہیں ۔ جب ہم ملے تھے

-21-April

انا ایک مشورہ ہے تمہارے لیے

شروع کرلو Univarsity کے بعد Summer break

اچھا آج کچھ پکائیں – انا بولی

کیا ۔

Biryani –

انا نے اپنی فرمائش رکھی

صحیح ہے بناتی ہوں میں –

میں نہیں ہم ۔

چلو پھر ۔

کچن میں آکر حور العین بریانی بنانے کی تیاریاں کرنے لگی اور انا کپ کیک بنانے کی ۔

میدہ کا پیکٹ اُس نے غلط کھول لیا ۔ جس کی وجہ سے سارا میدہ انا پر گر گیا۔

انا اس وقت سفید بھوت لگ رہی تھی اور حور العین کی نہس ہنس کر بری حالت ہو چکی تھی ۔

_____________(⁠´⁠∩⁠。⁠•⁠ ⁠ᵕ⁠ ⁠•⁠。⁠∩⁠`⁠)___________

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *