MERA MUQADAR MERA ASASA BY MALAIKA MAQBOOL AHMED EPISODE 5.

۔ناول کا نام: میرا مقدر میرا اثاثہ 

قلم از : ملائکہ مقبول احمد

زے جو کہ ڈر کے مارے وہاں سے جانے کا سوچ رہی تھی اب گھر کے دروازے کو کھلا دیکھ تھوڑا سکون میں آئی تھی ۔

 اُس نے محسوس کیا کہ کوئی مسلسل اُسے دیکھ رہا ہے اور یہ بات ابیہا کو بھی محسوس ہوئی جب انھوں نے ادھر اُدھر دیکھا تو وہ کبیر تھا جو کہ ابھی تک اُس کی آنکھوں کی طرف ہی دیکھے جا رہا تھا۔

امممم ۔۔چا چلو ابیہا زے ہڑبڑائی۔

 ابیہا نے بھی جلد ی سے کہا کیونکہ وہ بھی ابلاج کی نظروں سے اوجھل ہو جانا چاہتی تھی۔

 وہ تینوں واپس گھر چلے گئے اور وہ دونوں واپس گھر چلی گئیں۔

ارے باسط کبیر نے باسط کو تب آواز دی جب وہ دوسری منزل پر موجود سیڑھیوں سے اوپر جانے کے لئے ابھی پہلی سیڑھی چڑھا ہی تھا ۔

ہاں بولو باسط جو کہ موبائل پر کوئی مسیح پڑھ رہا تھا اُس کی آواز پر چونکا ۔ 

یار وہ لڑکیاں کون تھیں؟ کبیر نے آگے کر بڑھ کر اُس کے کندھے کے گرد اپنے ہاتھ کو جما کر پوچھا۔ 

کون سی لڑکیاں؟اچھا وہ جوابھی نیچے تھیں ۔ باسط نے اپنے دماغ پر زور ڈال کر کبیر سے پوچھا۔

 ہاں وہی۔ باسط نے اوپر کی طرف دیکھ کر کہا۔

 اچھا وہ۔پر میں کیوں بتاؤں اور تم پوچھ کیوں رہے ہو؟

 باسط نےتم پر زورڈال کر پوچھا ۔

کیوں؟ تم سے مطلب پتہ ہےتو بتاؤ وگرنہ رہنے دو۔

کبیر نے بھی گردن گھما کر اس سے کہا۔

اووو۔۔اتنا گھمنڈ۔

گھمنڈی اور میں ۔۔جاؤ کام کرو۔کبیر نے مسکرا کر اگلی سیڑھی چڑ کر کہا۔

اچھا رکو بتاتا ہوں۔باسط نے بھی اگلی سیڑھی چڑھ کر اس کے برابر آ کر کہا ۔

ہاں بتاؤ۔کبیر نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔ 

ویسے اُن میں سے ایک لڑکی کا نام پتہ ہے اور دوسروں کا نہیں ۔

 باسط نے کبیر کی طرف دیکھ کر کہا ۔ 

کونسی کا؟ کبیر نے اپنے دونوں بازو اپنے سینے پر باندھ لیے ۔

اسی کا جو دوپٹے کا ایک کونہ منہ پر لپیٹے ایک سائیڈ پر کھڑی تھی ۔

 اس نے کبیر کے چہرے کا بغور جائزہ لیا جس پر معمولی سی تبدیلی آئی تھی ۔

ہممم۔۔۔بتاؤ۔کبیر نے اپنے تاثرات کو چھپا کر ایسے ظاہر کیا جیسے زے وہ لڑکی نہیں ہے ۔

پری زے اور ابلاج اُس کا بڑا بھائی ہے اور اُس کی بھی ایک بڑی ہے جس کا نام عکاشہ ہے اور پری زے سے چھوٹا ایک بھائی ہے جس کا نام زائشان ہے ۔

باسط اب کبیر کے پیچھے دیکھ رہا تھا اور کبیر باسط کو گھور رہا تھا۔

کیا ہوا ؟باسط نے کبیر کو کھلے منہ سے اپنی طرف دیکھتے دیکھ پوچھا ۔

تمھیں یہ سب کیسے پتہ؟کبیر نے ایک ہاتھ کے اشارے سے پوچھا۔

ارے یار یہ وہی لڑکی ہے جس نے اس دن میری بےعزتی کی تھی۔

اس کی بڑی بہن اور اس کی ایک کزن بی تھی ساتھ۔

باسط نے کبیر کو معاملے کی وضاحت دیتے ہوئے کہا۔

میں نے بات کرنے کی کوشش کی تھی اس کی بڑی بہن سے بات نہیں کی اس نے مجھ سے۔

عام لڑکیوں کی طرح تو بالکل بھی نہیں ہے۔

ہمم۔۔۔اگر عام ہوتی تو میں اس کے بارے میں تم سے نہ پوچھ رہا ہوتا۔

کبیر اب مسکرا رہا تھا اور باسط ابھی بھی پیچھے ہی دیکھے جا رہا تھا۔

کیا ہوا پیچھے کیوں دیکھ رہے ہو؟کبیر نے باسط سے پوچھا۔

ارے یار مجھے ابلاج کا میسج ایا تھا اس کے ماموزاد ارہے ہیں انہیں لے کر اوپر انا ہے۔

باسط نے سیڑھیوں سے نیچے دیکھ کر کہا۔

کیوں وہ خود نہیں لا سکتا؟

ارے نہیں یار ایسی بات نہیں ہے جب وہ نیچے سے اوپر ا رہا تھا تو اس کے بابا اسے ملے تھے

 اور انہوں نے اس سے کہا تھا کہ وہ ان لوگوں کو ایئرپورٹ سے لے آئے۔

اب شاید وہ انہیں چھوڑ کر باقیوں کو لینے گیا ہوگا۔

اب ہم اتنا تو کر ہی نہیں سکتے ہیں کبیر نے باسط کی بات کو ٹوکا اور پھر زوردار قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔

پری زے۔۔۔۔۔

 ابیہا نے اس کا پورا نام لے کر شاید پہلی یا دوسری بار ہی بلایا تھا۔

ہمم۔۔۔بولو کیا بات ہے؟اس نے یہ تب چھا جب وہ اپنی الماری سے دوپٹا میچ کر رہی تھی۔

اور وہیں ابیہا چھت پر موجود گرلز کے پاس کھڑی ہو کر نیچے برامدے میں دیکھ رہی تھی۔

بولو بھی اب کیا بات ہے؟زے نے دوپٹہ ہاتھ میں پکڑ کر اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔

یہاں انا ذرا ابیہا نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنی طرف بلایا۔

ہاں بولو بھی اب بولو بھی اب ۔۔۔زے تقریبا چڑ کر بولی تھی۔

یہ کون ہے؟ابیہا نے صحن میں موجود ایک ادمی کو دیکھ کر پوچھا۔

یہ تو۔۔۔ماموں جیسے لگ رہے ہیں۔زے نے ان کے چہرے کب اور جائزہ لے کر کہا ۔

جب وہ نیچے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔

اس کا یہ شک یقین میں تب تبدیل ہوا جب اس نے اپنے والد اور والدہ کو ان کے ساتھ دیکھا۔

ماموں لوگ کیوں ہیں؟زے نے خود سے سوال پوچھا۔

اتنے میں کمرے میں پڑھا اس کا فون بجا۔

اب کس کا فون بج رہا ہے؟ز نہیں نیچے کی طرف دیکھ کر پوچھا۔

تمہارا بج رہا ہے پاگل۔ابیہا جو کہ کمرے میں تقریبا دوپٹہ سیٹ کر چکی تھی اب اپنا میک اپ سیٹ کر رہی تھی اس نے اسے ہڑبڑائی ہوئی دیکھ کر کہا۔

ہاں میرا۔اچھا میں ابھی اتی ہوں زے ابھی بھی نیچے ہی دیکھ رہی تھی۔

یہ تو عکاشہ کا ہے اس نے موبائل پر موجود نام کو دیکھا۔ہاں ہیلو۔زے نے فون یس کر کے کہا ۔

کیا؟ہممم۔۔۔۔ٹھیک ہے ہم دونوں بس پُہنچ رہی ہیں 

۔یہ کہتے ہی زے نے فون بند کر دیا۔

کیا ہوا ؟ کون تھا؟ ایبہا جو کہ تقریباً دوپٹہ سیٹ کر چکی تھی اب میک اپ کو سیٹ کر رہی تھی ۔ 

وہاں ڈانس شروع ہو چکا ہے اور ہم اب تک یہی ہیں۔ 

چلو جلدی کرو چلیں ۔ اس سے پہلے کہ ہماری باری چلی جائے ۔

 زے نے کمرے کے دروازے پر کھڑی ہو کر کہا۔

 

ہممم چلو ۔ ابیہا بھی کمرے سے باہر نکل آئی۔ 

اِس کے بعد وہ دونوں واپس چچا یعنی بالہ کے گھر چلی گئیں۔

مہندی لگا کے رکھنا ڈولی سجا کے رکھنا 

لینے تجھے اوگوری آئیں گئے ترے سجنا

 

جب زے اور ابیہاگھر میں داخل ہوئیں تو یہ گانا پورےہال میں گونج رہا تھا ۔ 

اوے لگتا ہے ستارا ڈانس کر رہی ہے ابیہا نے گانا کی دھن کو اور چیخوں و پکار کوسن کر کہا ۔

ہممم صحیح کہا – زے نے گیٹ سے گھر کی طرف داخل ہوتے ہوئے کہا ۔

 اُسے ایسا لگا جس کے کسی نے اُسے پیچھے سے آواز دی ہے لیکن جیسے ہی اس نے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا تو وہ آگے بڑھے گی۔

جہاں سب لڑکیاں ڈانس کر رہی میں وہی زے اور عکا شہ اپنی باری کا انتظار کر رہیں تھیں ۔ 

ارے تمھیں پتہ ہے میں ابھی روخسار خالہ کے گھر سے آئی ہوں اور میں نے ناں وہاں پانچ چھ ہینڈسم لڑکے اور ایک لڑکی کو دیکھا۔ 

زے کے پیچھے بیٹھی لڑکی نے یہ بات کہی جسے زے نے سنا تو پھر اگنور کر دیا ۔ 

ڈانس کرنے کے لئے اوپر آسمان کی طرف لگائی گی عارفی چھت اتار دی گئی تھی ۔

 زے اگلی باری تمھاری اور عکاشہ کی ہے ابیہا نے ہالہ اور کنیز کو ڈانس کرتے دیکھ کہا۔ 

جب زے اور عکاشہ کی انڑی ہوئی تب اُن کے کہے مطابق تمام لائٹس آف کر دیں گئیں اور صرف ایک لائٹ ہی ان تھی جو کہ زے اور عکاشہ پر پڑ رہی تھی۔

 چونکہ دلہن بھی وہی موجود تھی تو ان دونوں نے یہ ڈانس اسپیشلی دلہن کے لئے تیار کیا تھا ۔ 

یہ گلیاں یہ چو بارہ یہاں آنا نہ دوبارہ

کہ اب ہم تو ہوۓ پردیسی کہ تیرا یہاں کوئی نہیں 

جہاں زے اور عکاشہ نہایت پرجوش انداز میں

 ڈانس کر رہیں تھیں وہی کوئی اور انہیں انتہائی

 دلچسی سے دیکھ رہا تھا۔

مہندی کا فنکشن ختم ہو چکا تھا اور سب لوگ اور مہمان واپس اپنے گھروں میں آچکے تھے ۔

 

زے اور عکاشہ بھی جب زائیشان اور ابلاج کے ساتھ گھر واپس آئیں تو ان کی ماما نیچے موجود کچن میں کھڑی تھیں۔

 کیا بات ہے مامارات کے دس بج چکے ہیں اور آپ یہاں کچن میں کیا کر رہیں ہیں ؟ 

عکاشہ جو کے باقی تینوں کے کمروں میں جانے کے بعد اپنے ماں کو کچن میں کھڑی دیکھ کر آئی تھی اب اس سے پوچھ رہی تھی۔

 

بیٹا تمھارے ماموں اور ان کے بچے آئیں ہیں ۔انھوں نے چائے چھلنی کی مدد سے چھان کر اسے بتایا۔

 آہہہہہہ زے جب سیڑھیوں سے اوپر ائی تو اپنے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھ کر اور کمرے میں ہلچل محسوس کر کے چلائی۔

کیا ہوا ؟ یا اللہ خیر، عکاشہ اور انیسہ نے اُس کی آواز کوسٗن کر بیک وقت پوچھا اور کہا ۔

 انیسہ نے فوراً دیکچی چھوڑی اور کچن سے باہر نکل کر سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔

اس کی آواز سُن کر اس کے ماموں سُفیان ، والد صاحب ابلاج اور زاییشان بھی باہر آگئے ۔

کیا ہوا زے چلا کیوں رہی ہے؟

ابلاج نے پوچھا ۔ 

پتہ نہیں۔ہم تو خود نیچے ہیں۔ 

چلو او پر جا کر دیکھتے ہیں۔ کے ان کے ماموں نے آگے بڑھ کر کہا ۔

زائشان تم او پر نہیں گئے ابھی تک؟ عکاشہ نے اٗسے نیچے دیکھ کر پوچھا ۔ 

نہیں آپی میں بھائی کے پاس تھا۔

چلو ابھی اب۔۔۔چھان بین بعد میں بھی ہو سکتی ہے ۔ابلاج نے اسے ٹوکا ۔

کیا ہوازے ؟ سفیان نے کمرے سے ذرا فاصلے پر کھڑی گبھرائی ہوئی زے سے پوچھا ۔ 

اپ سفیان ماموں ہیں کیا ؟ زے نے انھیں اپنی طرف آتے دیکھ پوچھا۔

جی میں ہی ہوں۔ پر تم گھبرائی ہوئی کیوں ہوں؟انھوں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو اس نے سر پر دوپٹہ لےلیا ۔

 اتنی دیر میں باقی سب بھی وہاں آچکے تھے ۔

کیا ہوا ؟ انیسہ نے پوچھا ۔ 

وہ ماما ۔۔۔ 

میں بتاتی ہوں ۔انوشے جو کہ اُس کے ماموں کی بیٹی تھی اُس نے اُس کے کمرے سے باہر نکل کر کہا۔ 

اتنے میں ڈرائنگ روم جو کہ زے کی پشت کی طرف موجود تھا وہاں سے بھی دو لڑکے نکل آۓ اور اُن دونوں کی پشت زےکی طرف تھی ۔

تم کون ہو؟ زے نے آگے بڑھ کر اُس سے پوچھا ۔ 

میرا نام انوشے ہے اور میں ان کی بڑی بیٹی ہوں۔ 

اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے سفیان کی اشارہ کیا ۔

بڑی کا مطلب … عکاشہ نے آگے بڑھ کر پوچھا ۔

بڑی کا مطلب یہ کہ مجھ سے چھوٹے دو میرے بھائی بھی ہے۔ 

اس نے زے کے پیچھے کی طرف اشارہ کیا جہاں وہ دو لڑکے کھڑے تھے۔

 کالے رنگ کے پینٹ کوٹ اور بالوں کو ایک مخصوص طریقے سے کھڑے ہوئے اُن دو لڑکوں کی طرف اب تمام لوگ متوجہ تھے ۔

آہہ ہیلو – میرا نام ارزہن ہے اور میں انوشے سے چھوٹا ہوں۔

 آواز سنجیدہ تھی لیکن ایک الگ کشش تھی ۔ عکاشہ نے بھی اُنھیں دیکھ کر سر پر دوپٹہ لیا ۔ اس نے روکھے پن سے کہا اور ایک نظر سب پر ڈالی۔

 اہہہ ہیلو ۔۔میرا نام آکف ہے۔ اس نے ہاتھ کے 

اشارے سے سب کو مخاطب کیا ۔

 آواز میں تجسّس اور خوشی تھی ۔ اور میں ان دونوں سے چھوٹا ہوں ۔

 

چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ڈرجانا اچھی بات نہیں ہے ۔

 آکف کے تعارف کروانے کے بعد انوشے نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔

وہ میں ۔۔۔۔۔

اچھا بس جاؤ اب سب اپنے کمرے میں۔عظیم نے سب کو ٹوک کر کہا۔

یہ میرے کمرے میں رہے گی کیا؟ زے نے آہستہ آواز میں پوچھا۔

 امممم نہیں۔۔۔۔

 میرے ساتھ اس سے پہلے انیسہ کچھ اور کہتی عکاشہ نے کہا۔

ہاں ویسے بھی مجھے کسی میچور کے ساتھ ہی رہنا تھا نہ کہ امیچور کے ساتھ ۔

جب سب

لوگ واپس جارہے تھے تب انوشے نے کہا۔

ہمممم۔۔۔۔۔زے نے منہ سکوڑا ۔

مجھے رہنا بھی نہیں ہے تمھارے ساتھ – زے یہ کہہ کر اب کمرے میں جا چکی تھی ۔

اچھا تو میں آپ کو کیا کہہ کر بلاؤں۔ عکاشہ نے سیڑھیوں سے نیچے اُترتے ہوئے انوشے سے پوچھا ۔

 تم مجھے انوشے ہی کہہ سکتی ہو زیادہ بڑی نہیں ہوں ہو سکتا ہے کہ تمھاری ہی ہم عمر ہوں۔ 

انوشے نے سیڑھیوں سے اتر کر اپنا رخ سیڑھیوں سے اُترتی عکاشہ کی طرف کیا۔

اوه … بالکل انوشے ۔۔عکاشہ مُسکرائی ۔

کھلے بال ، گھنٹوں تک آتی ہوئی سکرٹ اور جینز پہنی وہ لڑکی جسکے بال بھورے تھے ۔

آنکھیں بھی بھوری ہی تھیں ۔ شکل و صورت بالکل دوسرے ممالک کے لوگوں جیسی تھی ۔

ایشین لوگوں جیسی تو بالکل بھی نہیں لگ رہی تھی۔

یعنی کہ کوئی بھی اُس کی شکل دیکھ کر یہ نہیں بتاسکتا تھا کہ وہ اردو بول سکتی ہے ۔

ہممم —- اردو تو کافی اچھی بول لیتی ہو – عکاشہ نے اُس کے پیچھے آتے ہوئے اُس سے کہا ۔

ہمم ۔۔۔۔. شکر یہ۔ یہ میرا ہنر ہے کہ میں کسی بھی زبان کو بہت جلد سیکھ لیتی ہوں ۔ اب وہ گھر کے صحن میں کھڑی تھی ۔

اور تمھارا کمرہ کونسا ہے ؟ عکاشہ کچھ اورپوچھتی انوشے نے روکھے پن سے پوچھا۔

اوہ۔۔۔ معاف کرنا میں بھول گئی تھی — عکاشہ نےاُس سے معذرت چاہی ۔

کیا کہ تمھارا کمرہ کونسا ہے؟اس نے فوراً جواب دیا ۔

 

نہیں یہ کہ تم میرے ساتھ رہنے والی ہو – عکاشہ اب سنجیدہ تھی ۔

اس کے بعد سب لوگ اپنے کمروں میں سونے

کے لئے جا چکے تھے۔

اگلی صبح چونکہ اُن کے چچا نے ناشتہ کرنے کو لئے انھیں 

 اپنے گھر بلایا تھا تو وہ سب لیٹ اُٹھے ۔

لیکن عکاشہ اور زے دونوں ہی فجر کی نماز پڑھنے کے پہل ہی اُٹھ چکیں تھیں ۔

نماز پڑھنے کے بعد وہ دونوں گھر کی صفائی کرنے میں لگ گئیں۔

عکاشہ نیچے موجود حصے کی صفائی کر رہی تھی اور زے اوپر موجود حصے کی۔

صبح سات بج رہے تھے جب باقی سب اُٹھے ۔

زے اور عکاشہ نہا کر فریش ہو چکی تھیں۔ انوشے تم بھی نہا لو ۔اور فریش ہو جاؤ ۔ 

انیسہ نے اُسے باہر آتے دیکھ کر جہاں باقی سب بیٹھے ہوئےتھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *