بساط!
از قلم مریم خان۔
قسط 3!
کراچی کی تپتی دوپہر اپنے پورے جوبن پر تھی، سورج سوا نیزے پر تھا اور میڈیکل کالج کا وہ سفید و سیاہ آہنی گیٹ اس تمازت میں کسی جلتے ہوئے الاؤ کی مانند لگ رہا تھا۔ زمل، جو ابھی ابھی اپنی کلاس سے نکلی تھی، تھکن سے چور تھی مگر اس کے قدموں میں وہی مخصوص تیزی تھی جو اس کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ وہ گیٹ کے پاس کھڑی اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھ رہی تھی اور پھر بار بار سڑک کی جانب نظریں دوڑاتی، جہاں ٹریفک کا ایک نہ رکنے والا ریلا رواں دواں تھا۔ وہ کسی گہری سوچ میں تھی کہ اچانک فضا میں ایک بھاری بھرکم انجن کی آواز اور ٹائروں کی ‘ٹک ٹک’ گونجی دور سے ایک سیاہ رنگ کی Mercedes-Maybach S680 کسی بپھرے ہوئے مگر پرسکون سمندر کی طرح نمودار ہوئی
گاڑی کالج کے گیٹ کے بالکل قریب آ کر ایک جھٹکے کے بغیر رکی۔ جیسے ہی گاڑی رکی، اگلی نشست سے ساحل بجلی کی
تیزی سے باہر نکلا۔
اس کے ہاتھ میں وائرلیس تھا اور نظریں عقاب کی طرح ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس نے نہایت ادب سے جھک کر پیچھے والا دروازہ کھولا، جس کے کھلنے پر گاڑی کے اندر کا عالیشان چمڑا اور پرتعیش انٹیریئر (Interior) ایک لمحے کے لیے دنیا کے سامنے عیاں ہو گیا
شاہویز نے اپنی انگلیاں بالوں میں پھیریں، اپنے تھری پیس سوٹ کا بٹن ٹھیک کیا
جیسے ہی شاہویز سکندر نے گاڑی سے باہر قدم رکھا، ارد گرد کی فضا جیسے ایک دم ساکت ہو گئی۔ اس کے پیچھے ایک دوسریvigo گاڑی سے دو مزید گارڈز بھی باہر نکلے جنہوں نے فوراً اپنے باس کے گرد ایک غیر مرئی حصار بنا لیا۔
لوگ سچ ہی کہتے تھے اس کے بارے میں اس کا ہر انداز بادشاہوں جیسا تھا
اتفاقاً اس کی نظر سامنے کھڑی زمل پر پڑی۔ اس کے لبوں پر وہی پراسرار اور ادھوری سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ وہ اپنے محافظوں کو ایک اشارے سے پیچھے رہنے کا کہہ کر خود زمل کے قریب آیا۔
“اوہ رئیلی! آپ اسی کالج میں پڑھتی ہیں؟” شاہویز کا لہجہ اتنا ریشمی اور دھیما تھا کہ زمل ایک پل کے لیے اپنے گرد و
پیش سے بے خبر ہو گئی
“جی۔۔۔! بس لاسٹ ایئر ہے۔” زمل نے بمشکل جواب دیا، مگر اس کی آنکھوں میں شاہویز کی شخصیت کا سحر واضح تھا۔
“آپ یہاں کیسے؟” زمل نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ شاہویز نے ساحل کی طرف ایک نظر ڈالی اور پھر دوبارہ زمل کی جانب متوجہ ہوا۔
“جی، میں تو یہاں ایک ضروری کام سے آیا تھا،” شاہویز نے ایک دلکش مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “اور۔۔۔ سچ کہوں تو اس قدر خوبصورت اتفاق کی توقع میں نے ہرگز نہیں کی تھی۔”
زمل نے شرما کر نظریں جھکا لیں۔ شاہویز سکندر جیسے بزنس ٹائیکون کا اس طرح اسے مخاطب کرنا کسی خواب سے کم نہ تھا۔
“خیر۔۔۔! آپ شاید گھر جانے کے لیے سواری کا انتظار کر رہی تھیں؟ آئیے، میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں،” شاہویز نے نہایت فراخ دلانہ انداز میں اپنی گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔
زمل ایک لمحے کے لیے شش و پنج میں پڑ گئی۔ “نہیں۔۔۔ میں بس یہاں مرحا کا انتظار کر رہی ہوں، وہ آتی ہی ہوگی۔”
آہ! تو پھر مجھے یہاں سے فوراً کوچ کر جانا چاہیے،”
شاہویز نے مصنوعی افسوس اور شرارت سے بھرپور لہجے
میں کہا، “کیونکہ شاید آپ کی وہ ‘بے مروت’ سی بہن آپ پر خفا ہو جائیں گی کہ آپ نے مجھ سے بات کیوں کی؟”
زمل نے فوراً صفائی پیش کی، “نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بس مرحا کی طبیعت ہی ایسی ہے، وہ تھوڑی زیادہ سنجیدہ رہتی ہے۔”
اچھا، تو پھر جب تک وہ نہیں آ جاتیں، کیا ہم یہاں ایک کافی پی سکتے ہیں؟” شاہویز نے اسے اپنی سحر انگیز گفتگو کے جال میں جکڑتے ہوئے کہا۔
“ہرگز نہیں!”
جواب زمل کے بجائے پسِ منظر سے آیا تھا۔ آواز میں وہ کاٹ اور سرد مہری تھی کہ فضا کا سارا سحر ایک ہی لمحے میں کرچی کرچی ہو گیا۔ دونوں نے مڑ کر دیکھا تو مرحا تیکھے تیور لیے، تیز قدموں سے ان کی جانب بڑھ رہی تھی۔ ساحل اور دوسرے گارڈز نے چونک کر مرحا کی طرف دیکھا، مگر شاہویز کے ایک معمولی سے اشارے پر وہ دوبارہ اپنی جگہ ساکت ہو گئے۔
“اس زحمت کی ہرگز ضرورت نہیں ہے مسٹر سکندر!” مرحا نے قریب آتے ہی زمل کا بازو مضبوطی سے تھاما”زمل! چلو یہاں سے۔” اس نے زمل کو مخاطب کیا، مگر نظریں شاہویز کے چہرے پر ٹکی تھیں جن میں نفرت واضح تھی۔
“کیوں؟ کیا آپ کو کافی پسند نہیں؟” شاہویز نے نہایت اطمینان اور تحمل سے پوچھا۔زمل کی نظریں کبھی مرحا کے غصے سے سرخ ہوتے چہرے پر جاتیں تو کبھی شاہویز کے اس گہرے ‘ڈمپل’ پر جو اس کی مسکراہٹ کو مزید پُرکشش بنا رہا تھا۔
“مجھے کسی ایرے غیرے کے ساتھ گفتگو کرنا بھی پسند نہیں، کافی تو بہت دور کی بات ہے،” مرحا نے شاہویز کی انا پر ایک ایسا وار کیا جس کی توقع شاید اسے نہیں تھی۔ اس کے لہجے کی تلخی شاہویز کے اندر تک اتر گئی۔
مرحا نے ایک آخری سرد اور حقارت آمیز نظر شاہویز پر ڈالی اور زمل کو تقریباً کھینچتے ہوئے وہاں سے روانہ ہو گئی۔ شاہویز وہیں کھڑا انہیں جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ اس کے ماتھے پر ایک لمحے کو بل پڑے اور لبوں پر ایک طنزیہ ہنسی نمودار ہوئی۔
“حد ہے۔۔۔ ہر کوئی میری دی گئی آفر کو مشکوک کیوں سمجھتا ہے؟ ہنہ! بے وقوف لوگ،” وہ بڑبڑایا اور گاڑی کی طرف جانے کے بجائے، اپنے گارڈز اور ساحل کے جھرمٹ میں نہایت وقار کے ساتھ کالج کی عمارت کے اندر کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے قدموں کی چاپ میں اب ایک خاص قسم کا عزم تھا، جیسے وہ اس توہین کا حساب اسی عمارت کے اندر کسی
بڑے فیصلے سے چکانے والا ہوـ
_<<<<<
واپسی کے پورے راستے میں مرحا اور زمل کے درمیان ایک لرزہ خیز خاموشی طاری رہی۔ مرحا کا چہرہ اب بھی غصے سے تمتما رہا تھا اور زمل کے ذہن میں شاہویز کا وہ انداز بار بار گردش کر رہا تھا۔
گھر پہنچ کر جب ڈور بیل بجی تو رفعت بیگم نے دروازہ کھولا۔ دونوں بیٹیاں اندر داخل ہوئیں، مگر ان کے چہرے پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ زمل کے چہرے پر گھبراہٹ تھی، جبکہ مرحا کا وجود غصے کی بھٹی میں جل رہا تھا
“آج بڑی دیر کر دی تم دونوں نے؟” رفعت بیگم نے تشویش سے پوچھا۔
رفعت بیگم ان دونوں کو جاتے ہوئے دیکھتی رہیں، ان کے چہرے پر فکر کی گہری لکیریں ابھریں۔ “ان دونوں کو کیا ہو گیا ہے آج؟” انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور دوبارہ کچن کی طرف مڑ گئیں۔
کمرے میں پہنچ کر زمل نے ہمت جمع کی اور مرحا کو مخاطب کرنا چاہا، “مرحا۔۔۔!” مرحا نے مڑ کر اسے ایسی نظروں
سے دیکھا کہ زمل کے الفاظ اس کے حلق میں ہی پھنس کر رہ گئے۔ اس نے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس وقت مرحا کے اندر جذبات کا جو طوفان ہے، وہ کسی بھی لمحے ایک چنگاری سے آگ بن سکتا تھا۔
تقریباً ایک گھنٹہ اسی حبس زدہ خاموشی میں بیت گیا۔ کمرے کی دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک زمل کے اعصاب پر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔ اس نے کن اکھیوں سے مرحا کو دیکھا جو اب بھی کسی گہری سوچ میں گم، میکانیکی انداز میں الماری کی ترتیب درست کر رہی تھی۔ زمل سے اب مزید یہ گھٹن برداشت نہ ہوئی، اس نے ایک بار پھر ہمت سمیٹی اور موقع دیکھ کر بات کا آغاز کرنے کا سوچا۔
کمرے کے حبس زدہ سناٹے میں صرف کپڑوں کے سرسرانے اور الماری کے پٹوں کے کھلنے بند ہونے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ مرحا کی انگلیاں آج حسبِ معمول کپڑوں کی تہیں نہیں بنا رہی تھیں، بلکہ جیسے کسی ان کہے دکھ کو سلیقے سے الماری کے خانوں میں دفن کر رہی تھیں۔ وہ مرحا، جو زمل کی ذرا سی بے ترتیبی پر جملوں کے نشتر چلاتی تھی اور پھر دونوں کے درمیان ہونے والی وہ میٹھی بحث کمرے کی ہواؤں میں خوشبو کی طرح گھل جاتی تھی، آج وہ بوجھل خاموشی کی چادر اوڑھے کسی اجنبی جزیرے کی مانند ساکت کھڑی تھی۔
زمل بیڈ کے ایک کونے پر بیٹھی موبائل کی اسکرین پر انگلیاں پھیر رہی تھی، مگر اس کا سارا دھیان مرحا کی اس خاموش پیٹھ پر تھا جو کسی بلند فصیل کی طرح اس کے اور مرحا کے درمیان حائل ہو چکی تھی۔ اسے مرحا کی یہ بے نیازی کسی تیز دھار آلے کی طرح چبھ رہی تھی۔ اسے وہ مرحا چاہیے تھی جو اسے الماری بکھیرنے پر ابھی ایک طویل لیکچر دیتی، مگر سامنے موجود وجود تو جیسے کسی منجمد جھیل کی طرح ساکت تھا۔
زمل نے ہمت سمیٹی اور موبائل کا رخ مرحا کی سمت کر کے ایک مصنوعی مسکراہٹ لبوں پر سجائی۔
“مرحا! یہ دیکھو شادی کی تصویریں۔۔۔ تم کتنی پیاری لگ رہی ہو نا اس جوڑے میں؟ بالکل کسی شہزادی کی طرح!” زمل کی آواز میں وہ مصنوعی جوش تھا جو اکثر انسان اپنے اندر کے خوف کو دبانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
مرحا نے مڑ کر دیکھنا تو دور، ایک لمحے کو جنبش تک نہ کی۔ وہ ایک دوپٹے کی سلوٹیں برابر کرنے میں اس قدر محو تھی جیسے اس وقت کائنات کا سب سے اہم فریضہ یہی ہو۔ زمل نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور بیڈ سے اٹھ کر مرحا کے بالکل پیچھے آ کھڑی ہوئی۔ موبائل کی روشنی بجھ چکی تھی، اب صرف کمرے کی زرد مدہم روشنی تھی اور مرحا کی وہ کڑی
خاموشی۔
اگر صبح ہونے والے واقعے پر غصہ ہو، تو دیکھو میری بات سنو۔۔۔وہ تو بس ایک اتفاق تھا۔” زمل کی آواز میں صفائی دینے کی تڑپ تھی۔
مرحا کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رکے، جیسے چلتی فلم ‘پوز’ (Pause) ہو گئی ہو، مگر پھر وہ دوبارہ اسی رفتار سے کام کرنے لگی۔ اس کی خاموشی اب زمل کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی تھی۔
“مرحا بتاؤ کیا تم ناراض ہو؟ میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔۔۔ پلیز یہ خاموشی توڑ دو،تم جانتی ہو مجھے تمہاری خاموشی سے کتنا ڈر لگتا ہے۔”
مرحا نے الماری کا دروازہ ایک حتمی آواز کے ساتھ بند کیا اور آہستہ سے مڑی۔اس کی آنکھیں سرخ نہیں تھیں، مگر ان میں وہ برف جیسی سردی تھی جو انسان کو اندر تک منجمد کر دیتی ہے۔
“پوچھ رہی ہو یا بتا رہی ہو کہ میں تم سے ناراض ہوں؟” مرحا کا لہجہ بالکل سپاٹ تھا۔
“پوچھ رہی ہوں۔۔۔” زمل نے نظریں جھکا لیں
“کیوں پوچھ رہی ہو زمل؟ جب تم جواب اور اس کی وجہ، دونوں سے بخوبی واقف ہو۔”
“مرحا تم کچھ بھی غلط مت سوچو۔۔۔ میں تو وہاں تمہارے انتظار میں کھڑی تھی، اچانک وہ وہاں آگیا تھا۔ وہ وہاں اپنے کسی ضروری کام سے آیا تھا۔”
مرحا کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ “اور وہ اپنا ‘ضروری کام’ چھوڑ کر تم سے پورے پندرہ منٹ تک گفتگو میں مگن رہا؟”
“ہاں تو! بات کرنا کوئی گناہ تو نہیں ہے مرحا، ایسی بھی کوئی قیامت تو نہیں آگئی۔” زمل کا لہجہ اب دفاعی سے کچھ باغیانہ ہونے لگا۔
مرحا نے ایک قدم آگے بڑھایا اور زمل کی آنکھوں میں براہِ راست جھانکا۔ “بات کرنا گناہ نہیں ہوتا زمل۔۔۔ لیکن گناہ کی شروعات ہمیشہ یہیں سے ہوتی ہے۔”
“بس کر دو مرحا! ہر چیز کو اتنا منفی (Negative) دیکھنا بھی اچھا نہیں۔۔۔ اور میں کوئی بچی نہیں ہوں، اس لیے مجھے اس طرح ‘ٹریٹ’ کرنا بند کرو۔” زمل نے جھنجھلا کر کہا۔
مرحا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ زمل کا یہ انداز، یہ لہجہ اس کے لیے بالکل اجنبی تھا۔ وہ زمل، جو ہمیشہ مرحا کے سائے میں پناہ لیتی تھی، آج ایک ایسے اجنبی کی وکالت کر رہی تھی جسے وہ جانتی تک نہ تھی۔ مرحا کو محسوس ہوا جیسے اس کے اور اس کی بہن کے درمیان کوئی ان دیکھی
خلیج حائل ہو گئی ہو۔
“ٹھیک ہے زمل! لیکن میں امید کرتی ہوں کہ تمہارے اور اس کے راستے دوبارہ کبھی نہ ٹکرائیں تو تمہارے حق میں بہتر ہوگا، اور اگر غلطی سے ٹکرا بھی جائیں، تو تم اپنا راستہ بدل لینا۔”
زمل ابھی کچھ کہنے ہی والی تھی کہ رفعت بیگم دروازے پر نمودار ہوئیں۔ ان کے چہرے پر تھکن اور تشویش کے گہرے سائے تھے۔
“کیا ہو رہا ہے یہاں؟” انہوں نے دونوں کو باری باری دیکھا۔
───
شام کی سرمئی چادر شہر کے در و دیوار پر پھیل چکی تھی۔ سڑکوں پر لرزتی زرد روشنیاں ان ادھوری یادوں کی طرح تھیں جو ذہن کے کسی گوشے میں مدھم سی جلی رہ جاتی ہیں۔ ارتضیٰ خان جب یونیورسٹی کی لائبریری سے لوٹا تو اس کے ہاتھوں میں کتابوں کا بوجھ تھا، مگر اس کے چوڑے کندھوں پر تھکن کی وہ گرد جمی تھی جو جسم سے زیادہ روح کو بوجھل کر دیتی ہے۔
گھر کا بھاری دروازہ کھلا تو لاؤنج میں ہولناک حد تک
خاموشی اور نیم تاریکی کا راج تھا۔ سامنے صوفے پر ابرار خان براجمان تھے۔ ان کے چہرے پر کوئی جھرّی نہیں تھی، مگر ایک پتھر جیسی سختی اور جمود تھا
“کہاں سے آ رہے ہو؟” ابرار خان کا لہجہ سپاٹ تھا، مگر اس میں چھپی تلخی فضا کے سکون کو چیرنے کے لیے کافی تھی۔
“لائبریری گیا تھا…” ارتضیٰ نے دبی آواز میں جواب دیا۔
“پڑھائی تو مکمل ہو چکی ہے تمہاری، پھر اب یہ کون سے علم کی جستجو ہے؟” ابرار صاحب نے رخ پھیرے بغیر طنز کا نشتر چلایا۔
ارتضیٰ خاموش رہا،وہ کتابیں جو تھوڑی دیر پہلے اس کا غرور تھیں، اب کوئی بوجھ محسوس ہونے لگیں۔
“تم کیا سمجھتے ہو ارتضیٰ؟ کہ تم اپنی واپسی کے ٹکٹ کے پیسے کما لائے تو تم کامیاب ٹھہرے؟”
ابرار صاحب نے ایک سیاہ فائل اس کی طرف بڑھائی۔
ارتضیٰ نے ناسمجھ نظروں سے کبھی اس فائل کو دیکھا اور کبھی اپنے باپ کے سنگلاخ چہرے کو۔
“یہ کیا ہے بابا؟”
“دیکھ لو…” مختصر اور کاٹ دار جواب ملا۔
فائل کھولی تو اس میں اسلام آباد کے مہنگے ترین سیکٹر میں ایک کنال سے زائد زمین کے کاغذات تھے۔
یہ فائل تمہاری ہے، مگر تمہارے ہاتھ میں ابھی نہیں آئے گی،” ابرار صاحب نے فائل واپس چھینتے ہوئے کہا۔ “یہ زمین تمہارے دادا نے مجھے تب دی تھی جب تم پیدا ہوئے تھے۔ یہ ان کی محنت کی کمائی کا وہ ثمر ہے جو میرے لیے کروڑوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ میں چاہوں تو یہ تمہیں تھما دوں اور تم کل اپنا بڑا بزنس کھڑا کر لو…”
ارتضیٰ کی آنکھوں میں ایک لمحے کو چمک ابھری، مگر اگلے ہی لمحے ابرار صاحب کا لہجہ برف سے زیادہ سرد ہو گیا۔
“لیکن میں ایسا نہیں کروں گا، اگر میں نے تمہیں یہ سب پلیٹ میں رکھ کر دے دیا، تو تمہارا اپنا کیا ہوگا؟ تم مجھے ثابت کر کے دکھاؤ ارتضیٰ خان! اپنے دم پر کھڑے ہو کر دکھاؤ۔میں اس دن کا منتظر ہوں جب میں فخر سے تسلیم کروں کہ میرا بیٹا بغیر کسی بیساکھی کے اپنا نام بنا چکا ہے۔ اس دن یہ فائل تمہارا ‘انعام’ ہوگی۔”
ابرار صاحب پلٹنے لگے کہ ارتضیٰ کی برسوں کی خاموشی ایک دم ٹوٹ گئی۔ ایک لرزتی ہوئی مگر پرعزم آواز نے انہیں قدم روکنے پر مجبور کر دیا۔
“زندگی کے کس کس موڑ پر آزمائیں گے مجھے، بابا؟”
ابرار صاحب رکے، مڑے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔ “کیوں؟ بس ابھی سے ہار مان لی؟”
ارتضیٰ کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ رقص کرنے لگی،وہ مسکراہٹ جس میں اذیت کا زہر گھلا تھا۔ “نہیں بابا، میں ہارا نہیں ہوں۔ لیکن سمجھ نہیں آتا کہ یہ آزمائشیں کہاں جا کر رکیں گی۔۔۔خیر! میں ایک بار پھر خود کو ثابت کروں گا،وہ وقت ضرور آئے گا جب لوگ مجھے آپ کے نام سے نہیں، بلکہ آپ کو میرے نام سے پہچانیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ‘یہ ارتضیٰ خان کے باپ ہیں’۔”
ارتضیٰ کی آواز میں اب ایک عزمِ صمیم تھا۔ “اور یاد رکھیے گا بابا، اس دن مجھے اس فائل کی ضرورت نہیں رہے گی۔ میں خود کے دم پر اس سے بڑی سلطنت کھڑی کر لوں گا۔ لیکن…” اس کی آواز میں ایک معصومانہ کرب ابھرا، “…لیکن کیا اس دن آپ مجھے خوشی سے گلے لگائیں گے؟ کیا اس دن آپ کی تمام شرائط ختم ہو جائیں گی؟ کیا آپ اس دن میرے وجود کو دل سے تسلیم کر لیں گے؟”
ابرار خان کے لیے وہاں مزید کھڑا رہنا محال ہو گیا۔ ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، یا شاید وہ اپنے جذبات ظاہر کرنے سے ڈرتے تھے۔ وہ خاموشی سے، تیز قدم اٹھاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے
<<<<_________
رات کے دو بج رہے تھے۔ شہر کی روشنیاں بلند و بالا پینٹ ہاؤس کے شیشوں سے ٹکرا کر مدھم پڑ رہی تھیں۔ پینٹ ہاؤس کی بالائی منزل پر واقع وہ کمرہ کسی قید خانے کا منظر پیش کر رہا تھا،فرش پر قیمتی گرے ٹائلز تھے مگر فضا میں موت جیسی گھٹن تھی۔ کمرے کے بیچوں بیچ ایک لکڑی کی کرسی پر ایک شخص بندھا ہوا تھا، اس کا سفید کرتا پسینے اور گرد سے اٹا ہوا تھا اور چہرے پر موت کی زردی پھیلی ہوئی تھی۔
کمرے کے کونے میں بنے منی بار کے پاس شاہویز سکندر کھڑا تھا۔ اس نے اپنے سوٹ کا کوٹ اتار کر صوفے پر پھینک دیا تھا، شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک چڑھی ہوئی تھیں اور ماتھے پر گرے چند بالوں کے لٹ اس کی شخصیت کو مزید خطرناک بنا رہے تھے۔ ساحل، دیوار سے ٹیک لگائے خاموشی سے کھڑا تھا، اس کا سپاٹ چہرہ بتاتا تھا کہ وہ ایسے مناظر کا عادی ہے۔
شاہویز نے کرسٹل کے گلاس میں پانی انڈیلا اور وقار زیدی کی طرف آہستہ سے بڑھا۔ “وقار صاحب! سچ کہوں تو میں چاہتا تھا کہ آپ کچھ اور دن جی لیں، لیکن افسوس۔۔۔ آپ خود ہی اپنی جان کے دشمن بن بیٹھے ہیں،” شاہویز کا لہجہ برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔
مجھے یہاں قید کر کے مجھ پر ظلم وستم کر کےتم خدا کو
کیا منہ دکھاؤ گے؟ کیا تمہیں اس کے خوف، اس کے عدل کا ڈر نہیں ہے؟” وقار صاحب کی آواز لرز رہی تھی۔
شاہویز نے ایک زوردار اور تیکھی ہنسی ہنسی۔ “
“خوفِ خدا؟ ایمان؟ عدل؟” وہ اچانک خاموش ہوا اور ان کے چہرے کے بالکل قریب جھک گیا۔ “یہ سارے الفاظ اس وقت کہاں غائب ہو جاتے ہیں جب تم اسی کالج کی مجبور لڑکیوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہو؟”
وقار زیدی کا چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا۔ “تم۔۔۔ تم کیا بکواس کر رہے ہو؟”
میں نے کہا تھا نا وقارزیدی ، کہ میں ہر چیز کا نقشہ بناتا ہوں،” شاہویز کی آنکھوں میں وحشت تھی۔ “تم کیا سمجھتے ہو کہ تمہاری اس ‘شرافت’ کے لبادے کے پیچھے جو غلاظت ہے، شاہویز سکندر اس سے واقف نہیں ہوگا؟ مجھے معلوم ہے کہ آپ کتنے نیچ اور گھٹیا انسان ہیں۔”
شاہویز کا ذہن چند گھنٹے پہلے اسی کالج میں ہونے والی ملاقات کی طرف چلا گیا
کالج کی وہ خاموش راہداری دوپہر کی بوجھل دھوپ میں ڈوبی ہوئی تھی، جہاں دیواروں پر لگی پرانی پینٹنگز اور نوٹس بورڈز پر لگی گرد ایک عجیب سی مردنی پھیلا رہے تھے۔ شاہویز سکندر کے قیمتی جوتوں کی آہٹ اس سناٹے میں
کسی گونجتے ہوئے خطرے کی طرح تھی۔اس کے پیچھے ساحل ایک بے جان سائے کی طرح چل رہا تھا، جس کی سپاٹ نظریں صرف شاہویز کے اشاروں کی منتظر تھیں۔
شاہویز سکندر نے ایڈمن بلاک کے آخری کمرے کے سامنے رک کر ایک پل کا توقف کیا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو کسی بڑے معرکے سے پہلے ایک سپاہی کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ اس نے بغیر دستک دیے دروازے کا ہینڈل گھمایا۔
اندر کا منظر پرانی فائلوں کی باس اور ایک پرانے پنکھے کی چڑچڑاہٹ سے بھرا ہوا تھا۔ وقار زیدی اپنی میز پر جھکے کچھ کاغذات پر دستخط کر رہے تھے، مگر شاہویز کی آمد پر ان کا قلم ایک جھرجھری کے ساتھ رک گیا۔
شاہویز سکندر نہایت سست رفتاری سے، قدموں کی آواز پیدا کیے بغیر، میز کے قریب آیا۔ اس نے ایک ہاتھ اپنی پینٹ کی جیب میں ڈالا اور دوسرے ہاتھ کی دو انگلیوں سے میز پر پڑے وقار زیدی کے نیم پلیٹ کو آہستہ سے اپنی طرف موڑا۔ اس کے ہر انداز میں وہ حاکمانہ غرور تھا جو بتاتا تھا کہ وہ اس کمرے کی ہواؤں کا رخ بھی بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔
“وقار زیدی صاحب! سنا ہے اس عمر میں انسان کو پرانی چیزوں سے بہت لگاؤ ہو جاتا ہے،” شاہویز کا لہجہ اتنا دھیما
اور ریشمی تھا کہ وقار زیدی کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی محسوس ہوئی۔
“لیکن کچھ فائلیں اتنی ‘بھاری’ ہوتی ہیں کہ انسان سے اس کا اپنا وزن اٹھانے کی سکت بھی چھین لیتی ہیں۔”
وقار زیدی نے عینک درست کی، ان کے ماتھے پر پسینے کی باریک بوندیں نمودار ہوئیں مگر انہوں نے ہمت جمع کر کے فائل کو اپنے قریب کر لیا۔ “شاہویز صاحب! یہ فائل اس ادارے کا ضمیر ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی اس مٹی کی خدمت میں گزاری ہے۔ آپ کی دولت میرے قلم کی سیاہی نہیں خرید سکتی۔”
شاہویز کے لبوں پر وہی زہریلی مسکراہٹ ابھری۔ وہ میز پر جھک گیا، اس کے تھری پیس سوٹ کی مہنگی خوشبو وقار زیدی کے نتھنوں سے ٹکرائی، جو اس وقت کسی شکاری کی قربت کا احساس دلا رہی تھی۔ شاہویز نے میز پر پڑے ایک وزنی تانبے کے پیپر ویٹ کو انگلی سے آہستہ سے ٹھوکا دیا، جس کی آواز کمرے کے سناٹے میں کسی ہتھوڑے کی طرح گونجی۔
“ضمیر۔۔۔ خدمت۔۔۔ اصول! کتنے پرکشش الفاظ ہیں،” شاہویز نے ان کی آنکھوں میں براہِ راست جھانکا۔ اس کی آنکھیں اب کسی شکاری کی طرح ساکت تھیں۔ “لیکن زیدی صاحب، اس
شہر میں اصول صرف ان کے پاس ہوتے ہیں جن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہوتا۔ آپ کے پاس تو ایک معتبر نام ہے، ایک خاندان ہے، اور وہ ‘عزت’ ہے جس کا لبادہ اوڑھ کر آپ یہاں بیٹھے ہیں۔”
شاہویز اچانک سیدھا کھڑا ہو گیا اور ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کمرے کی بڑی کھڑکی کی طرف بڑھ گیا جہاں سے کالج کا گراؤنڈ نظر آ رہا تھا۔ “وہ فائل مجھے دے دیجیے زیدی صاحب۔ میں نہیں چاہتا کہ کل جب یہ شہر جاگے، تو آپ کی شرافت کا وہ پردہ چاک ہو چکا ہو جسے آپ نے برسوں کی محنت سے سی رکھا ہے۔”
وقار زیدی کی انگلیاں فائل کے کناروں پر سختی سے جم گئیں۔ “تم مجھے دھمکا رہے ہو؟”
شاہویز نے مڑ کر ان کی طرف دیکھا، اس کے چہرے پر اب ایک ایسی سنجیدگی تھی جو غصے سے کہیں زیادہ خوفناک تھی۔
“نہیں!”
اس نے ساحل کی طرف ایک سرسری نگاہ ڈالی۔ “دھمکیاں کمزور لوگ دیتے ہیں زیدی صاحب،میں تو بس آپ کو آنے والے ‘طوفان’ کی اطلاع دے رہا ہوں۔”
اس نے اپنا موبائل جیب سے نکالا اور اسے میز پر رکھتے ہوئے وقار زیدی کے قریب آیا۔ اس کی آواز اب سرگوشی کے قریب
تھی مگر اس میں موجود کاٹ وقار زیدی کے اعصاب شل کر رہی تھی۔”آج کی رات آپ کی زندگی کی سب سے طویل رات ہوگی، دعا کیجیے گا کہ صبح کا سورج آپ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ نہ لگائے۔۔۔ مگر مجھے یقین ہے کہ آپ ‘سمجھدار’ ثابت ہوں گے۔”
شاہویز نے اپنا موبائل اٹھایا، اپنے کوٹ کا بٹن ٹھیک کیا اور بغیر مڑے کمرے سے باہر نکل گیا۔ وقار زیدی اسے جاتا ہوا دیکھتے رہے، ان کے اندر ایک تلاطم برپا تھا-خوف، ندامت اور آنے والی تباہی کا احساس۔ راہداری میں شاہویز کے جوتوں کی آواز اب دھیمی ہوتی جا رہی تھی، مگر وقار زیدی کے دل کی دھڑکنیں اب اس سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی تھیں۔
بے بسی۔۔اور پچھتاوا !!
شاہویز کے جانے کے بعد، وقار زیدی کے کمرے میں جیسے ہوا تھم گئی تھی۔ وہ دیر تک ساکت بیٹھے سامنے کی دیوار کو تکتے رہے، جہاں ان کی ‘بہترین استاد’ کی اسناد لگی ہوئی تھیں۔ ان کا ہاتھ لرزتے ہوئے فون کی طرف بڑھا۔ ان کی پہلی سوچ ڈی آئی جی مرتضیٰ کو کال کرنے کی تھی، جو ان کا پرانا شاگرد تھا۔
مرتضیٰ بیٹا! میں وقار زیدی بول رہا ہوں۔۔۔ مجھے کچھ خطرہ ہے۔۔۔۔” انہوں نے ہانپتے ہوئے کہا۔
شاہویز سکندر آیا تھا!!
مگر دوسری طرف سے آنے والی خاموشی نے ان کے ماتھے پر پسینہ لا دیا۔ مرتضیٰ کی آواز میں وہ گرم جوشی نہیں تھی جو ہمیشہ ہوتی تھی۔ “سر! میں جانتا ہوں آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ شاہویز سکندر سے الجھنے کے بجائے صلح کر لیں،ان سے ہاتھ ملا لیں آپ فائدے میں رہیں گے۔ اس وقت میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، وہ شخص قانون سے اوپر کی چیز ہے۔”
اس وقت پورے شہر کا نظام اس کے اشارہِ ابرو پر چل رہا ہے۔ وہ شخص اس ریاست کے اندر ایک ریاست ہے
اور آج ان کو احساس ہوا تھا کہ بے بسی کیا چیز ہے آج ان کو اپنے ماضی پر پچھتاوا ہوا تھا وقار زیدی کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر میز پر گر گیا،”شہر کا سب سے بڑا پولیس آفیسر بھی بے بس تھا؟؟”
ان کے اندر کا استاد آج اپنے ہی شاگرد کی بے بسی پر ماتم کر رہا تھا۔ انہوں نے بدحواسی میں فائلیں سمیٹیں اور گھر کی راہ لی۔
لیکن بد قسمتی سے شاہویز سکندر کے لوگوں نے ان کو راستے
میں ہی گھیر لیا تھا
آج اس پینٹ ہاؤس میں، وقار زیدی کو پہلی بار احساس ہوا کہ بے بسی کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ ان کا وہ ماضی، جو گناہوں کی سیاہی سے بھرا تھا، آج ان کے سامنے ایک عفریت بن کر کھڑا تھا۔
پینٹ ہاؤس کی عالیشان بالکونی کے شیشے سے باہر کراچی کا سمندر کسی بپھرے ہوئے کالے دیو کی طرح شور مچا رہا تھا، مگر اندر کی خاموشی اس سے کہیں زیادہ ہولناک تھی۔ ساحل، دیوار سے ٹیک لگائے، آستینیں چڑھائے کھڑا تھا، اس کے چہرے پر موجود سپاٹ پن بتاتا تھا کہ اسے انسانی جان کی قیمت کا بخوبی اندازہ ہے،جو کہ شاہویز کے نزدیک صفر تھی۔
شاہویز نے میز پر موجود ایک ڈیجیٹل میپ (Map) آن کیا جس پر سرخ رنگ کی لکیریں پورے علاقے کو گھیرے ہوئے تھیں۔”اس نقشے کو دیکھیں،یہ میری سلطنت کا وہ حصہ ہے جو آنے والے وقت میں شہر کی تقدیر بدل دے گا۔ اور آپ کی وہ مٹی، وہ زمین۔۔۔ وہ اس پورے نقشے کے سینے پر ایک داغ کی طرح ہے۔”
اس نے نقشے کے وسط میں موجود ایک چھوٹے سے خالی حصے پر انگلی رکھی۔ “یہ حصہ مجھے چاہیے، ہر قیمت پر، اگر
یہ مجھے نہیں ملتا، تو بین الاقوامی بینک میرے پروجیکٹ کی فنڈنگ روک دیں گے۔ کیا آپ کو واقعی لگتا ہے کہ شاہویز سکندر اپنے اربوں روپے آپ کی ‘یادوں’ کی خاطر ڈوبنے دے گا؟”
وقار زیدی نے لرزتے ہوئے کہا، “وہ زمین میرے باپ کی نشانی ہے۔۔۔ میں اسے کسی مال یا پلازے کے لیے نہیں دے سکتا۔”
شاہویز نے ایک سرد قہقہہ لگایا۔ “نشانی؟ وقار زیدی، اس شہر میں نشانیاں صرف قبرستانوں میں اچھی لگتی ہیں۔ زندوں کی دنیا میں صرف ‘سودے’ ہوتے ہیں۔ تم شرافت سے سائن کر دو، تو تمہارا خاندان اس رقم سے شاہانہ زندگی گزارے گا۔ لیکن اگر تم نے انکار کیا۔۔۔ تو تمہاری وہ زمین تو پھر بھی میری ہی ہوگی، بس اس کی قیمت تمہارے لہو سے چکائی جائے گی۔”
“یہ کھیل تمہیں بہت مہنگا پڑے گا شاہویز سکندر۔”
۔ “میں کھیل نہیں کھیلتا زیدی صاحب، میں قواعِد بناتا ہوں۔ اور میرا ایک اصول یہ بھی ہے کہ جو میرے راستے میں آئے گا، وہ جان سے جائے گا۔”
“شاہویز! خدا کے لیے رک جاؤ،” وقار زیدی گڑگڑائے۔
“تم کتنے ظالم انسان ہو ،وحشی ہو تم وحشی”
شاہویز کی ہنسی کمرے میں گونجی۔
“میرے قہر سے تم واقف ہی کہاں ہو وقار زیدی!!
خیر۔۔۔ تم جیسے لوگ بوجھ ہی ہوتے ہیں اس زمین پر، اور مجھے تمہیں مارنے کا کوئی افسوس نہیں ہوگا۔”
پینٹ ہاؤس کے اس کمرے میں موت کا سایہ اب در و دیوار پر پھیل چکا تھا،شاہویز سکندر نے ایک فاتحانہ سکون کے ساتھ وقار زیدی کے سامنے وہ فائل پھیلا دی جو اس کی سلطنت کی راہ میں آخری دیوار تھی۔
“دستخط کیجیے زیدی صاحب! اپنی ضد کی اس آخری نشانی کو میرے نام کیجیے۔” شاہویز کی آواز میں وہ ریشمی کاٹ تھی جو کسی تیز دھار خنجر کی طرح اعصاب کو کاٹ رہی تھی۔
وقار زیدی، جن کے ماتھے سے ندامت کا پسینہ بہہ کر ان کی آنکھوں میں اتر رہا تھا،انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے قلم اٹھایا۔ ان کا وجود جیسے پگھل کر کرسی میں دھنس گیا تھا۔ جب قلم کاغذ پر چلا، تو وہ صرف ایک زمین کی فائل نہیں تھی، بلکہ ان کی برسوں کی سفید پوشی کا کفن تھا۔ دستخط مکمل ہوتے ہی شاہویز نے وہ فائل جھپٹ لی، جیسے کسی بھوکے عقاب نے اپنا شکار نوچ لیا ہو۔
“اب ایک آخری زحمت باقی ہے۔۔۔” شاہویز نے ساحل کی طرف اشارہ کیا، جس نے خاموشی سے ایک سادہ کاغذ وقار زیدی کے سامنے رکھ دیا۔
“اب کیا ہے؟ جو تم چاہتے تھے، وہ تو تمہیں مل گیا شاہویز! اب تو جانے دو مجھے۔۔۔ چھوڑ دو مجھے!” وقار زیدی کی آواز میں زندگی کی بھیک مانگنے کی وہ تڑپ تھی جو پتھر کا دل بھی پگھلا دے، مگر شاہویز سکندر کا دل تو شاید کسی سرد برف کے ٹکڑے سے تراشا گیا تھا۔
شاہویز نے ان کے قریب جھک کر نہایت سفاکانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “خط لکھیے زیدی صاحب! دنیا کو بتائیے کہ آپ اپنے گناہوں کے بوجھ سے تھک چکے ہیں۔ لکھیں کہ وقار زیدی اب روپوش ہو رہا ہے کیونکہ وہ اپنے ‘سفید لباس’ پر لگے داغوں کو مزید چھپا نہیں سکتا۔”
وقار زیدی نے ٹوٹے ہوئے دل اور لرزتے ہاتھوں سے وہ عبارت تحریر کی جو شاہویز کے شیطانی دماغ کی پیداوار تھی۔ جب قلم ان کی بے جان انگلیوں سے چھوٹ کر گرا، تو کمرے میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے وقت تھم گیا ہو۔
“تم۔۔۔ تم نے تو کہا تھا کہ فائل ملتے ہی تم مجھے چھوڑ دو گے؟ تم نے وعدہ کیا تھا!” وقار زیدی کی آواز چیخ بن کر ابھری۔
شاہویز نے پسٹل کا رخ ان کی پیشانی کی طرف کیا اور اور اپنی آنکھوں میں ایک ایسی وحشت سمیٹ لی جو کسی جلاد کی پہچان ہوتی ہے۔
“گندگی بھی تو صاف کرنی ہے نا زیدی صاحب! تاکہ آپ دوبارہ کسی معصوم لڑکی کی عزت اور مجبوری سے کھیلنے کے قابل نہ رہیں۔” شاہویز کا لہجہ اب برف سے بھی زیادہ سرد ہو چکا تھا۔ “میں نے زمین کا سودا مکمل کیا ہے، لیکن آپ کے گناہوں کا حساب ابھی باقی تھا
“نہیں! شاہویز، ایسا مت کرو۔۔۔”
“الوداع، زیدی صاحب!”
کمرے کے سناٹے کو ایک دبی ہوئی ‘ٹھاہ’ کی آواز نے چیر دیا۔ گولی وقار زیدی کے ماتھے کے عین درمیان پیوست ہو گئی تھی۔ ان کا وجود ایک جھٹکے کے ساتھ کرسی پر ساکت ہو گیا، آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، جیسے وہ مر کر بھی شاہویز کی سفاکیت پر یقین نہ کر پا رہے ہوں۔
شاہویز نے نہایت اطمینان سے پسٹل پر سے اپنے نشانات مٹائے اور اسے ساحل کی طرف اچھال دیا۔ اس نے اپنے ماتھے پر آئی بالوں کی لٹ کو پیچھے کیا اور ایک گہرا سانس فضا کے سپرد کیا۔
“اس گندگی کو یہاں سے ہٹاؤ ساحل! میں نہیں چاہتا کہ کل
جب میں بیدار ہوں تو میرے پینٹ ہاؤس کی ہواؤں میں اس نیچ انسان کے وجود کا تعفن باقی رہے۔”
شاہویز نے وقار زیدی کے لرزتے ہاتھوں سے لکھا ہوا وہ ‘اقراری خط’ اٹھایا اور اس کے الفاظ کو فاتحانہ نظروں سے پڑھا۔
“ساحل! یہ لاش ابھی کہیں نہیں ملنی چاہیے۔ اسے ایسی جگہ دفن کرو جہاں سے یہ تب نکلے جب میں چاہوں۔ اور یہ خط۔۔۔” اس نے کاغذ کو انگلیوں میں گھمایا، “اسے آج رات ہی ان کے گھر کی دہلیز پر پہنچا دو۔ دنیا کو، اور خاص طور پر ان کے ‘بااصول’ دوستوں کو پتا چلنا چاہیے کہ جس مٹی کو وہ پارسا سمجھ رہے تھے، اس کے نیچے کتنے گہرے گڑھے تھے۔”
ساحل نے سر جھکا کر حکم کی تعمیل کا اشارہ دیا۔
