قسط نمبر: 2 (تشنگی، انا اور عزم کا سفر)
کراچی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اس وقت انسانی جذبات، آوازوں اور افراتفری کا ایک ایسا سمندر بنا ہوا تھا جس کی موجیں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بلند ہو رہی تھیں۔ ہال کے اندر کی فضا بوجھل تھی، جہاں اے سی کی ٹھنڈک بھی مسافروں کے چہروں پر جمی تھکن اور انتظار کی حدت کو کم کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی تھی۔ زندگی وہاں اپنی پوری بپھری ہوئی رفتار سے چیخ رہی تھی۔ کہیں برسوں بعد ملنے والے رشتوں کے سسکتے ہوئے قہقہے تھے، تو کہیں بچھڑنے والوں کی نم آنکھیں جو الوداعی لفظوں کو حلق میں دبائے کھڑی تھیں۔
سامان کی ٹرالیوں کے پہیوں کی وہ بیزار کن رگڑ، جو فرش پر کسی پرانی یاد کی طرح خراشیں ڈال رہی تھی، فضا کے رہے سہے سکون کو بھی تہہ و بالا کر رہی تھی۔ ان تمام ہنگاموں کے بیچ سے وہ نہایت خاموش اور بے آواز قدموں سے چل رہا تھا—بالکل ایسے جیسے وہ اس ہجوم کا حصہ ہو کر بھی وقت کے تند و تیز بھاؤ سے باہر نکل آیا ہو۔ اس کی چال میں
ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا، جیسے برسوں کی مسافت نے اسے خاموشی کا ہنر سکھا دیا ہو۔
بلیو ٹی شرٹ اور بلیک جینز میں ملبوس اس نوجوان نے اپنی آنکھوں پر موجود سن گلاسز کی اوٹ سے اس دنیا کو دیکھا جو ان چار سالوں میں اس کے لیے اجنبی ہو چکی تھی۔ بظاہر اس کے چہرے پر کامیابی کی وہ چمک واضح تھی جو ایک طویل جدوجہد کے بعد حاصل ہوتی ہے، مگر ان سن گلاسز کے پیچھے چھپی نیند سے بوجھل آنکھوں میں گھر کی وہ تشنہ کمی بیٹھی تھی جسے ترکی کے سحر انگیز اور حسین ترین مناظر بھی پورا کرنے میں ناکام رہے تھے۔ استنبول کی نیلی لہریں ہوں یا قونیہ کی روحانی شامیں، اسے ہر جگہ کراچی کی اس مٹی کی خوشبو یاد آتی رہی جو اس کے وجود کا حصہ تھی۔
ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی کراچی کی وہی مخصوص نم آلود ہوا اور دھول کے ذرات نے اس کا استقبال کیا۔ اس نے ایک لمبا سانس لیا، جیسے وہ ان یادوں کو اپنے پھیپھڑوں میں اتارنا چاہتا ہو جن سے وہ چار سال دور رہا۔ جب گاڑی کراچی کے اس پوش علاقے کی خاموش سڑک پر مڑی اور اس سفید بنگلے کے سامنے رکی، تو ارتضیٰ نے ایک بار پھر گہرا سانس لیا۔ اس کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لیے ساکت ہوئی۔
وقت جیسے اس گھر کی دہلیز پر آ کر تھم گیا تھا۔ وہی سفید
ماربل کا فرش جو سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا، وہی لکڑی کے بھاری اور قد آور کیبنٹس جو آج بھی اسی شاہانہ وقار کے ساتھ کھڑے تھے جیسے اسے رخصت کرتے وقت تھے۔ گھر کے در و دیوار سے اس کے بچپن کی وابستگی جھانک رہی تھی۔
ابھی وہ گاڑی سے اترا ہی تھا کہ بھاری لکڑی کا مرکزی دروازہ کھلا اور فاطمہ بیگم برآمد ہوئیں۔ ان کے چہرے پر موجود جھریوں میں برسوں کا انتظار سمٹ آیا تھا اور ممتا بھری مسکراہٹ نے جیسے ارتضیٰ کے تمام دکھ دھو ڈالے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر والہانہ انداز میں اسے گلے لگایا، ان کے لمس میں وہی پرانی گرمجوشی اور دعاؤں کا حصار تھا۔
“ارے میرا بیٹا! تم آ گئے۔ لیکن تم نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا؟ ہم تمہیں لینے ایئرپورٹ آ جاتے۔ دیکھو تو کتنا دبلا ہو گیا ہے میرا بچہ۔ ” انہوں نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے جذباتی لہجے میں کہا۔
ارتضیٰ کا لہجہ دھیما تھا، جیسے وہ اس اچانک ملنے والی والہانہ اپنائیت کو جذب کرنے کی کوشش کر رہا ہو، جو اسے پردیس کی تلخ حقیقتوں سے بہت دور لگ رہی تھی۔ “امی!
میں آپ لوگوں کو زحمت نہیں دینا
چاہتا تھا۔ بس سوچا سرپرائز دوں گا۔” اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، مگر اس کی آواز میں تھکن کی ایک رمق اب بھی باقی تھی۔
ابھی وہ فاطمہ بیگم کے حصار میں ہی تھا کہ کچھ فاصلے پر کھڑے ابرار خان آگے بڑھے۔ ان کے قدموں کی آہٹ ہی بتا رہی تھی کہ گھر کا نظم و ضبط اب بھی ان کے ہاتھ میں ہے۔ ان کی آنکھوں میں باپ کی جبلت والی وہ فطری شفقت تو تھی، مگر اس پر برسوں کی وہ ‘سختی’ اور ‘اصول پسندی’ غالب تھی جو ان کی شخصیت کا ایک ناقابلِ عبور حصار بن چکی تھی۔ ان کے چہرے کے تاثرات کو پڑھنا یا ان کے دل کا حساب کرنا ارتضیٰ کے لیے ہمیشہ سے ایک ناممکن ریاضیاتی مساوات رہا تھا۔ وہ آج بھی ویسے ہی تھے—باوقار، مضبوط اور کسی حد تک سرد۔
“ارتضیٰ! تم ہاتھ منہ دھو لو، فریش ہو جاؤ اور پھر کھانا کھا کر آرام کر لینا۔ سفر کی تھکن چہرے سے عیاں ہے۔” ابرار خان نے مختصر مگر جامع انداز میں کہا۔ ان کے سپاٹ لہجے میں جہاں ایک باپ کا حکم تھا، وہیں ایک چھپی ہوئی فکر بھی
تھی جسے وہ ظاہر کرنا اپنی انا کے خلاف سمجھتے
ابھی ارتضیٰ ان کی بات کا جواب دینے ہی والا تھا کہ اندر سے کسی شور مچاتی ہوئی پہاڑی نہر کی طرح عائشہ دوڑتی ہوئی آئی۔ گلابی رنگ کی سادہ قمیض اور سفید دوپٹے میں لپٹی وہ لڑکی اپنی معصوم خوشی کے ساتھ اس بوجھل گھر میں سورج کی پہلی کرن کی طرح نمایاں تھی۔ اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی وہ بے ساختہ مسکراہٹ کسی بھی بوجھل دل کو روشن کرنے کے لیے کافی تھی۔
“بھائی!!! آپ آ گئے!! او مائی گاڈ، میں نے آپ کو کتنا زیادہ مس کیا، آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے۔” اس نے آتے ہی ارتضیٰ کے بازو تھام لیے اور خوشی سے اچھلنے لگی۔
ارتضیٰ کے چہرے پر ایک حقیقی اور بے لوث مسکراہٹ آئی۔ اس نے عائشہ کو اپنے ساتھ لگایا اور اس کے سر پر نہایت پیار سے بوسہ دیا۔ یہ وہ خالص، غیر ملاوٹی اور بے لوث محبت تھی جس کے لیے وہ چار سال سے ترس رہا تھا۔ بہن بھائی کا یہ رشتہ اس سرد اور اصولوں میں جکڑے ہوئے بوجھل گھر کا واحد روشن گوشہ تھا، جہاں جذبوں کو ظاہر کرنے کے لیے
کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں تھی۔
ارتضیٰ بوجھل قدموں سے چلتا ہوا اپنے اسٹڈی روم کے وسط میں آکر رک گیا۔ یہاں کی ہوا میں پرانے کاغذوں، لکڑی کے بھاری فرنیچر اور ایک ایسی مانوس سی بو بسی تھی جو اسے پل بھر میں چار سال پیچھے لے گئی۔ کمرے کے گوشے گوشے پر وقت کی ایک مہین سی دھول جمی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے اس کے اپنوں سے تعلق پر حالات کی گرد جم گئی تھی۔ اس کمرے کی انفرادیت اس کی دو متضاد کھڑکیاں تھیں۔ ایک کھڑکی نیچے لاؤنج میں کھلتی تھی، جہاں سے گھر کے جیتے جاگتے منظر، برتنوں کی ہلکی سی آہٹ اور فاطمہ بیگم کی دھیمی آوازیں زندگی کی رمق دکھاتی تھیں۔ جبکہ دوسری کھڑکی گھر کے عقب میں کھلتی تھی، جہاں صرف سیاہ رات کا پہرہ اور لرزہ خیز خاموشی کا راج تھا۔
ارتضیٰ نے لاؤنج والی کھڑکی کے پٹ ذرا سے وا کیے۔ نیچے فاطمہ بیگم کچن کے کاؤنٹر پر کچھ برتن سمیٹ رہی تھیں، مگر ان کے ہاتھوں کی لرزش اور کام کے دوران بار بار خالی
نظروں سے دیوار کو تکنا ارتضیٰ
سے چھپا نہ رہ سکا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ مصروفیت محض ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے وہ اپنے سینے میں اٹھنے والے جذباتی تلاطم کو دفن کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں۔ ممتا کی بے چینی جب حد سے بڑھتی ہے تو وہ خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے، اور ارتضیٰ اس خاموشی کو بخوبی پڑھ سکتا تھا۔
سفر کی بے رحمانہ تھکن اور جہاز کے مسلسل شور نے اس کے اعصاب کو شل کر دیا تھا۔ اس نے کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں، اور یادوں کا ایک ریلا اسے ماضی کے ان تند و تیز لمحوں میں بہا لے گیا جو اس کی روح کے نہاں خانوں میں کسی قیمتی مگر دکھتی ہوئی جاگیر کی طرح محفوظ تھے۔
کیا تم بھی جاننا چاہوں گے؟؟
تو چلو چلتے ہیں!!
ماضی کا وہ آخری شام… ترکی روانگی سے ٹھیک ایک دن پہلے
کی وہ شام اب بھی اس کے ذہن کے پردے پر کسی ایچ ڈی فلم کی طرح صاف تھی۔ چھت پر ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کسی ان لکھے وعدے کی طرح چل رہے تھے، جو رخصت ہونے والے مسافر کے گرد ریشمی جال
بن رہے تھے۔ ارتضیٰ اپنی پیکنگ کی فکر میں گم، چھت کی منڈیر کے پاس کھڑا تھا کہ اچانک کسی برفیلے لمس نے اسے جھنجھوڑ دیا۔ عائشہ نے اپنی مخصوص شوخی کے ساتھ پانی سے بھرا ایک بڑا غبارہ عین اس کے سر پر دے مارا تھا۔
پانی کی دھاریں اس کی گردن سے ہوتی ہوئی شرٹ میں اتر گئیں، ارتضیٰ ہڑ بڑا کر سنبھلنے کی کوشش میں لڑکھڑایا اور ہاتھ میں موجود موبائل ایک ناگوار آواز کے ساتھ فرش پر جا گرا۔
“عائشہ! پاگل ہو گئی ہو کیا؟ میری پوری شرٹ خراب کر دی اور یہ موبائل… اگر ابھی اس کی اسکرین ٹوٹ جاتی تو اندازہ ہے تمہیں؟” اس نے دانت پیستے ہوئے اپنی بھیگی ہوئی شرٹ کو جھٹکا، اس کی پیشانی پر غصے کی لکیریں ابھری تھیں۔
“تو کیا ہوا برو؟ اتنے پینک کیوں ہو رہے ہو، نیا آ جاتا!” عائشہ نے اپنے دوپٹے کا پلو کندھے پر ڈالتے ہوئے نہایت لاپروائی سے چہک کر کہا، جیسے موبائل ٹوٹنا کوئی معمولی بات ہو۔
“بابا دلاتے نیا؟” ارتضیٰ کے لہجے میں ایک دم ایسی تلخی اور کاٹ لہرائی کہ فضا ساکت ہو گئی۔ اس کے چہرے پر ایک زہریلا رنگ لہرایا۔ “تمہارے لیے کسی نقصان کا ملال نہیں ہوتا عائشہ، کیونکہ تم ان کی
‘لاڈلی’ ہو، تم جو چاہو توڑو، جو چاہو مانگو، تمہارے لیے ان کے پاس صرف پیار ہے۔ مگر میرے لیے؟ میرے لیے ان کی ہر رعایت، ہر سہولت ایک کڑی شرط اور ایک نئے امتحان کے ساتھ آتی ہے۔”
عائشہ کی کھلکھلاتی ہوئی ہنسی ایک دم سمٹ کر اس کے ہونٹوں کے گرد منجمد ہو گئی۔ اس نے ارتضیٰ کی آنکھوں میں چھپی وہ برسوں پرانی محرومی دیکھی جو اس وقت لاوے کی طرح باہر نکل رہی تھی۔
“بھائی! آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ بابا کے لیے ہم دونوں برابر ہیں، وہ بس… وہ بس اپنے جذبات ظاہر نہیں کرتے۔ وہ پرانے مزاج کے سخت گیر انسان ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ سے پیار نہیں کرتے۔” اس نے بھائی کے قریب آکر اس کا بازو تھامنے کی کوشش کی۔
“کاش وہ ظاہر کریں کبھی… کاش مجھے بھی کبھی اس گھر میں بن مانگے کچھ مل سکے…” ارتضیٰ نے ایک سرد آہ بھری
اور رخ موڑ کر افق پر ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھنے لگا۔ اس کے دل میں ایک ایسی حسرت نے سر اٹھایا جسے وہ لاکھ چاہنے کے باوجود کبھی زبان پر نہ لا سکا تھا، اور وہ حسرت تھی اپنے باپ کی آنکھوں میں اپنے لیے وہی فخر اور وہی نرمی دیکھنا جو ہمیشہ عائشہ کے حصے میں آتی ۔
اب وہ دونوں چھت پر رکھے پرانے لکڑی کے موڑھوں پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ سورج کی آخری نارنجی لکیریں آسمان کے کینوس پر پھیل کر رخصت کا اعلان کر رہی تھیں۔ فضا میں وہی خاموشی تھی جو کسی طوفان سے پہلے ہوتی ہے، مگر عائشہ اس خاموشی کو توڑنے کا ہنر جانتی تھی۔ اس نے ماحول کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اسے ہلکا کرنے کی ٹھانی۔ ارتضیٰ کے قریب ہوتے ہوئے اس نے شرارت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور آنکھوں میں ایک مخصوص چمک لاتے ہوئے سرگوشی کی:
ویسے برو! سچ سچ بتائیں… کیا آپ مجھ سے جیلیس (Jealous) ہوتے ہیں؟”
ارتضیٰ نے ایک گہرا سانس لیا اور بیزاری سے اسے دیکھا، جیسے اس کے پاس اس فضول سوال کا کوئی جواب نہ ہو۔ “ہاں! بالکل، کیونکہ میرے پاس تو دنیا میں اور کوئی کام ہی نہیں ہے سوائے تم سے حسد کرنے کے۔ پاگل لڑکی!” اس نے اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیا، مگر اس کے لہجے کی تلخی میں اب تھوڑی نرمی آ چکی تھی۔
عائشہ نے اس کے چہرے کے تاثرات کا پیچھا نہ چھوڑا۔ “تو پھر اتنا غصہ کیوں؟”
میں تمہاری ان بچکانہ حرکتوں سے بیزار ہوں عائشہ۔ آخر کیا ملتا ہے تمہیں مجھے اس طرح تنگ کر کے؟” اس نے اپنی بھیگی ہوئی آستین کی طرف اشارہ کیا جو اب ٹھنڈی ہوا میں اسے کپکپا رہی تھی۔
عائشہ نے ایک زوردار قہقہہ لگایا، اس کی ہنسی چھت کی منڈیروں سے ٹکرا کر فضا میں بکھر گئی۔ “سکون! آپ کو تنگ کر کے جو سکون ملتا ہے، وہ دنیا کی کسی اور چیز میں نہیں ہے۔”
فاطمہ بیگم، جو ان دونوں کو نیچے بلانے کے لیے سیڑھیاں چڑھ کر آئی تھیں، دروازے کے قریب ہی رک گئیں۔ اپنے دونوں بچوں کو یوں ہنستے اور تکرار کرتے دیکھ کر ان کے چہرے پر ایک اداس سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ کچھ دیر خاموش کھڑی اس منظر کو اپنی آنکھوں میں بساتی رہیں، جیسے وہ اس لمحے کو منجمد کر لینا چاہتی ہوں۔ پھر وہ آہستہ سے قدم بڑھاتی ہوئی ان کے قریب آئیں۔
“کیوں تنگ کرتی ہو میرے بچے کو عائشہ؟” انہوں نے
ارتضیٰ کے بالوں میں شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ ان کے لہجے میں ممتا کی وہ تڑپ تھی جو جدائی کے خیال سے ہی کانپ رہی تھی۔ “کل تو یہ چلا جائے گا… پھر میں تو ترس ہی جاؤں گی اسے دیکھنے کے لیے۔ پورا گھر کاٹ کھانے کو دوڑے گا جب اس کی آواز نہیں گونجے گی۔”
عائشہ سے یہ جذباتی رنگ سہا نہ گیا، اس نے فوراً متبادل راستہ نکالا۔ “ہاں تو امی! آپ ایسا کریں نا، بھائی کی جگہ مجھے پڑھنے کے لیے ترکی بھیج دیں۔ کم سے کم میں اسی بہانے جہان سکندر اور ماہر بے (Maher Bey) کا ترکی تو دیکھ لوں گی،
ارتضیٰ نے طنزاً اسے دیکھا۔ “تمہیں وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ تم تو اپنے ان رومانوی ناولوں کے ذریعے ہی روز پوری دنیا گھوم لیتی ہو۔ تمہارے لیے تو کمرے کا کونا ہی استنبول بن جاتا ہے۔”
اس سے پہلے کہ وہ دونوں پھر سے ایک نئی بحث کا آغاز کر دیتے اور عائشہ کوئی نیا جوابی حملہ کرتی، فاطمہ بیگم نے مداخلت کی۔ “اچھا بس کرو تم دونوں! اب خاموشی سے نیچے چلو اور کھانا کھاؤ۔ تمہارے بابا ڈائننگ ٹیبل پر انتظار کر رہے ہیں۔”
‘بابا’ کا نام سنتے ہی جیسے چھت پر چھائی ساری شوخی ایک دم ہوا ہو گئی۔ ارتضیٰ کے چہرے پر وہی پرانی سنجیدگی لوٹ آئی اور عائشہ نے بھی خاموشی سے اپنے دوپٹے کو درست کیا۔ وہ دونوں اپنی ماں کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں اترنے لگے، مگر ارتضیٰ کے قدموں میں ایک بوجھل پن تھا،
سیڑھیاں اترتے ہوئے ارتضیٰ کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی عدالتی کٹہرے کی جانب بڑھ رہا ہو۔ نیچے ڈائننگ ہال میں داخل ہوتے ہی سفید شفاف کراکری کی چمک نے اس کی آنکھوں کو خیرہ کیا۔ میز پر فاطمہ بیگم نے اس کی پسند کے انواع و اقسام کے پکوان سجا رکھے تھے—بھاپ اڑتا ہوا پلاؤ، زعفرانی قورمہ اور کبابوں کی بھینی بھینی خوشبو پورے ہال میں رچی ہوئی تھی، مگر فضا میں ایک عجیب سی پراسرار سنگینی اور بوجھل پن طاری تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر نوالے کے ساتھ ایک ان کہی بات حلق میں پھنسنے والی ہو۔
ابرار خان میز کی صدر نشین کرسی پر براجمان تھے، ان کا چہرہ کسی پتھر کے تراشیدہ مجسمے کی مانند سپاٹ اور غیر تاثراتی تھا۔ انہوں نے نہایت نفاست سے کھانے کا آغاز کیا، مگر ان کے ہاتھ کی ہر جنبش میں ایک ایسا دبدبہ تھا کہ عائشہ کی شرارتیں بھی کہیں دب کر رہ گئی تھیں۔ کافی دیر تک صرف چمچوں کے پلیٹوں سے ٹکرانے کی آوازیں آتی رہیں، یہاں تک کہ ابرار صاحب نے اپنی مخصوص گرجدار آواز میں خاموشی کا جمود توڑا:
“وہاں پہنچ کر فوراً اطلاع دے دینا۔” انہوں نے ارتضیٰ کی
طرف دیکھے بغیر کہا۔ “جی بابا!” ارتضیٰ نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
پڑھائی پر پوری توجہ دینا اور کسی قسم کی فضول صحبت سے خود کو دور رکھنا۔ یاد رکھنا کہ تم وہاں سیر و تفریح کے لیے نہیں، بلکہ ایک مقصد کے تحت جا رہے ہو۔” ان کی آواز میں وہی روایتی سختی تھی، جیسے وہ کسی بالغ نوجوان کو نہیں بلکہ کسی ناسمجھ بچے کو تنبیہ کر رہے ہوں۔ ارتضیٰ نے خاموشی سے سر جھکا لیا، اسے اس رویے کی عادت تھی، مگر پھر ابرار صاحب نے وہ جملہ کہا جس نے ارتضیٰ کے وجود میں ایک سنسنی خیز لہر دوڑا دی:
اور ہاں! ایک بات ذہن نشین کر لو… میں نے صرف تمہارے ترکی جانے کا ذمہ لیا ہے، تمہاری یکطرفہ ٹکٹ کروا دی گئی ہے۔ لیکن یاد رکھنا، واپسی کا بندوبست تمہیں خود کرنا ہوگا۔” ابرار صاحب نے اب اپنی سرد اور جچی تلی نظریں ارتضیٰ کے چہرے پر جمائیں۔ “تمہیں وہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ کام ڈھونڈنا ہوگا تاکہ تم اپنی واپسی کے پیسے جمع کر سکو۔ اپنی ضرورتوں کا بوجھ اب تمہیں خود اٹھانا سیکھنا ہوگا۔”
ارتضیٰ کے ہاتھ میں موجود کانٹا ایک تیز آواز کے ساتھ پلیٹ سے ٹکرایا۔ اس کے دل کی دھڑکن ایک پل کے لیے جیسے تھم سی گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس میز پر سجا ہوا وہ شاہانہ کھانا، جو تھوڑی دیر پہلے بے حد لذیذ لگ رہا تھا، اب اس کے حلق میں کانٹے بن کر چبھنے لگا تھا۔ گفتگو کا کڑوا ذائقہ لذیذ ترین پکوانوں پر غالب آ چکا تھا۔ فاطمہ بیگم نے تڑپ کر شوہر کی طرف دیکھا، مگر ابرار صاحب کے چہرے پر کوئی ملال نہ تھا۔
“جی! بہتر۔” ارتضیٰ نے صرف اتنا ہی کہا، مگر اس کے اندر ایک فولادی عزم نے جنم لیا۔ واپسی اب محض ایک سفر نہیں تھا، بلکہ ایک بیٹے کا اپنے باپ کے
سامنے اپنی خودداری اور بقا کا سب سے بڑا امتحان بن چکا تھا۔
کھانے کے بعد ارتضیٰ اپنے کمرے میں پیکنگ کے آخری مراحل میں تھا جب عائشہ چائے کی پیالی لیے اندر داخل ہوئی۔ اس کی وہ شرارتیں اور چہک اب کہیں غائب تھی۔ ارتضیٰ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ اس نے محسوس کیا کہ عائشہ کا چہرہ غیر معمولی طور پر سنجیدہ ہے، جیسے وہ کچھ کہنا
چاہتی ہو مگر الفاظ اس کا ساتھ نہ دے رہے ہوں۔
اب تمہیں کیا ہوا؟ کیوں یہ منہ بنا رکھا ہے؟” ارتضیٰ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
عائشہ خاموشی سے اس کے قریب آئی اور اچانک اس کے گلے لگ گئی۔ اس کی آنکھیں نم ناک تھیں۔ “بھائی… میں آپ کو بہت مس کروں گی۔” اس کی آواز رندھ گئی تھی۔ ارتضیٰ کا دل پسیج گیا، اس نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے خود سے تھوڑا دور کر کے اس کا ماتھا چوما۔
“اوہ ہو! اچھا اب بس کرو پگلی، رولاؤ گی کیا؟ میں کون سا ہمیشہ کے لیے جا رہا ہوں، بس چند سالوں کی
تو بات ہے۔” اس نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی، حالانکہ اس کا اپنا دل بھی بھرا ہوا تھا۔
عائشہ نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آنسو پونچھے اور مڑ کر جانے لگی، مگر دروازے پر پہنچ کر اس نے ایک آخری نظر ارتضیٰ پر ڈالی، جس میں ایک عجیب سی چمک تھی۔
ارتضیٰ نے سکون کا سانس لیا اور چائے کی پیالی اٹھا کر ایک بڑا گھونٹ بھرا۔
لیکن اگلے ہی لمحے… ایک زوردار فوارے کی شکل میں چائے اس کے منہ سے باہر آئی! اس کا پورا چہرہ غصے اور حیرت سے سرخ ہو گیا۔ چائے میں چینی کے بجائے اس قدر نمک بھرا ہوا تھا کہ اس کا ذائقہ کڑواہٹ کی انتہا کو چھو رہا تھا۔ اس نے تڑپ کر کمرے کے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے ابھی عائشہ گزری تھی۔
“میں ہی بے وقوف ہوں جو اس سے جذباتی ہو جاتا ہوں! یہ لڑکی کبھی نہیں سدھر سکتی۔” اس نے تولیے سے اپنا منہ صاف کرتے ہوئے بڑبڑایا، مگر غصے کے باوجود اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا تھا۔
دوسری جانب، عائشہ دروازے کے پیچھے چھپی، اپنی
اوڑھنی کا پلو منہ میں دبا کر بے آواز ہنس رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ بھائی جاتے وقت اداس نہ ہو، بلکہ اسے وہی شرارتی عائشہ یاد رہے جو اسے ہمیشہ تپاتی رہتی تھی۔
رات کی سیاہی گھر کے در و دیوار پر اتر چکی تھی، مگر اس گھر کے مکینوں کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ دوسری جانب، ابرار صاحب اپنے کمرے میں لیمپ کی مدھم روشنی میں کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے، مگر ان کی نظریں ایک ہی سطر پر ساکت تھیں۔ کمرے کا سکون اس وقت ٹوٹا جب فاطمہ بیگم بوجھل قدموں سے اندر داخل ہوئیں۔ ان کے چہرے پر ممتا کی وہ تڑپ عیاں تھی جو کسی بھی مصلحت کو ماننے سے انکاری تھی۔
“آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ابرار صاحب!” ان کی آواز میں شکوہ اور کرب کا ملا جلا تاثر تھا۔ “وہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے۔ پہلی بار اتنی دور، اجنبی ملک جا رہا ہے۔ کیا آپ کو اس کی ذمہ داری بوجھ لگتی ہے جو آپ نے اس کے ناتواں کندھوں پر واپسی کا اتنا بڑا بوجھ ڈال دیا؟”
ابرار صاحب نے خاموشی سے کتاب بند کی اور آہستگی سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس جا کھڑے ہوئے۔ باہر کی تاریکی میں درختوں کے سائے لرز رہے تھے۔ انہوں نے ایک طویل سانس لیا اور بغیر مڑے نہایت گہرے ٹھہراؤ کے ساتھ پوچھا: “تو
فاطمہ۔۔۔ کیا آپ کو بھی یہی لگتا ہے کہ میں ایک ظالم اور بے حس باپ ہوں؟”
فاطمہ بیگم ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گئیں۔ “نہیں، میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ مگر وہ بچہ ہے، وہ اکیلا یہ سب کیسے کرے گا؟ پڑھائی کے ساتھ ساتھ پردیس میں کام ڈھونڈنا، رقم جمع کرنا۔۔۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔”
ابرار صاحب مڑے اور اپنی بیوی کی آنکھوں میں جھانکا، جہاں تشویش کے بادل چھائے تھے۔ ان کے لہجے میں اب وہ سختی نہیں بلکہ ایک عجیب سا مان تھا۔ “وہ کر لے گا فاطمہ! کیونکہ وہ میرا خون ہے۔ میں اسے صرف ایک مہنگی ڈگری دلوانا نہیں چاہتا، میں اسے ‘جینا’ سکھانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب وہ دنیا کے سامنے کھڑا ہو تو اس کے پیروں تلے اس کی اپنی زمین ہو، میرا سہارا نہیں۔”
انہوں نے ایک قدم آگے بڑھایا اور جذبات سے لبریز لہجے میں بات جاری رکھی: “آج مجھے خوشی ہوئی کہ اس نے مجھ سے ‘کیوں’ نہیں پوچھا۔ اس نے یہ شکوہ نہیں کیا کہ ‘میں یہ سب کیسے کروں گا’۔ فاطمہ! جو شخص کسی بھی کام کو شروع
کرنے سے پہلے ہی ‘کیسے’ کی تکرار شروع کر دے اور یہ سوچ کر ہار مان لے کہ وہ یہ سب نہیں کر پائے گا، وہ زندگی کی جنگ کبھی جیت ہی نہیں سکتا۔ وہ کبھی کچھ بڑا کر ہی نہیں سکتا۔”
ان کی آنکھوں میں فخر کی ایک چمک لہرائی۔ “مجھے فخر ہے کہ میرا بیٹا مضبوط ہے، اس کی خاموشی میں اس کی ہمت چھپی ہے۔ اور آپ پریشان نہ ہوں، میں اس کا باپ ہوں۔ اگر وہ کہیں لڑکھڑایا، اگر مجھے ذرا بھی محسوس ہوا کہ وہ گر رہا ہے، تو اسے تھامنے کے لیے پیچھے اس کا باپ ایک پہاڑ کی طرح کھڑا ہے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ وہ گرے گا نہیں۔ وہ کندن بن کر لوٹے گا۔”
فاطمہ بیگم ان کی اس گہری سوچ کے سامنے خاموش رہ گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ ابرار صاحب کا پیار کرنے کا انداز نرالا اور کٹھن ہے، مگر اس میں ارتضیٰ کی بھلائی ہی پوشیدہ ہے۔
رات اسی کشمکش، دعاؤں اور ان کہی آرزوؤں کے سائے میں
گزر گئی۔ اگلے دن کا سورج ارتضیٰ کے لیے ایک نئی منزل، ایک نئے چیلنج کا پیغام لے کر طلوع ہوا۔ ایئرپورٹ کے شور و غل میں جب اس نے آخری بار اپنے گھر کی سمت دیکھا، تو اس کے ارادے چٹان کی طرح مضبوط تھے۔ ترکی کا یہ سفر اب صرف حصولِ تعلیم کی مسافت نہیں رہی تھی، بلکہ ایک بیٹے کا اپنے باپ کے سامنے اپنی ذات، اپنی پہچان اور اپنی خودداری کو ثابت کرنے کا ایک عظیم مقصد بن چکا تھا۔
استنبول: اجنبی مٹی
جہاز کے پہیے جب استنبول کے رن وے سے ٹکرائے، تو ایک زوردار جھٹکے نے ارتضیٰ کو یادوں کے حصار سے باہر نکال دیا۔ باہر “اتاترک ایئرپورٹ” پر زندگی کا ایک نیا میلہ سجا تھا۔ وہ خاموشی سے اپنا ہینڈ بیگ تھامے باہر نکلا۔ ٹھنڈی اور تیز ہوا نے جب اس کے چہرے کو چھوا، تو اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اب اس کے اور اس کے گھر کے درمیان سات سمندروں کا فاصلہ ہے۔ یہاں کوئی اسے “بیٹا” کہنے والا تھا نہ کوئی اسے
“بھائی” کہہ کر تنگ کرنے والا۔ یہاں وہ صرف ایک مسافر تھا، ایک ایسا اجنبی جسے اپنی پہچان خود بنانی تھی۔
پہلا دن :۔۔
ٹیکسی میں سوار ہو کر استنبول کے تاریخی علاقے “بیبیک” (Bebek) کی طرف روانہ ہوا۔ سڑک کے کنارے لگے صنوبر کے درخت اور دور نظر آتا باسفورس کا نیلا پانی کسی مصور کے شاہکار جیسا تھا، مگر ارتضیٰ کی نظریں ان مناظر سے زیادہ اپنی جیب میں موجود پیسوں اور اپنے موبائل پر جمی تھیں۔ وہ مسلسل حساب لگا رہا تھا کہ اسے کتنا عرصہ ان پیسوں پر گزارہ کرنا ہے۔
اس کی منزل ایک چھوٹی سی ڈھلوان گلی میں واقع ایک قدیم عمارت تھی، جس کی تیسری منزل پر اس نے ایک مختصر سا کمرہ کرائے پر لیا تھا
اس نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا اور کھڑکی کے پاس آ کھڑا ہوا۔ سامنے باسفورس کی لہروں پر چاندنی رقص کر رہی تھی، مگر ارتضیٰ کے دل میں وہی ایک جملہ
ہتھوڑے کی طرح بج رہا تھا: “واپسی کا بندوبست تمہیں خود کرنا ہوگا۔” اس نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔
یونیورسٹی کا پہلا دن اور “دی کولڈ انجینئر”:
اگلے دن، ارتضیٰ “کوچ یونیورسٹی” (Koç University) کے وسیع و عریض کیمپس میں موجود تھا۔ نیلی جینز، سفید شرٹ اور کالی لیدر جیکٹ پہنے، جب وہ کوریڈور سے گزر رہا تھا، تو اس کی سنجیدگی اور اس کی شخصیت کا دبدبہ وہاں موجود دیگر طلبہ سے بالکل مختلف تھا۔ جہاں دوسرے لڑکے گروپوں میں کھڑے قہقہے لگا رہے تھے، وہاں ارتضیٰ اکیلا، ہاتھ میں لیپ ٹاپ بیگ تھامے اپنی کلاس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
کئی نظریں اس کا تعاقب کر رہی تھیں۔ ۔اس کے چہرے پر موجود وہ خاموشی، جسے لوگ اس کا غرور سمجھ رہے تھے، دراصل اس کی وہ خودداری تھی جو اسے کسی کے قریب جانے سے روکتی تھی۔ وہ کلاس میں سب سے پیچھے بیٹھتا، پروفیسر کے ہر سوال کا مختصر مگر جامع جواب دیتا اور کلاس ختم ہوتے ہی غائب ہو جاتا۔ اسی لیے بہت جلد پورے ڈیپارٹمنٹ میں اسے “دی کولڈ انجینئر” کا خطاب مل گیا۔
تین ماہ بعد
یونیورسٹی کے وسیع و عریض کیمپس میں ارتضیٰ کی شخصیت کسی مقناطیس کی مانند تھی، مگر اس کا رعب اس کی ذہانت سے زیادہ اس کی اس پراسرار خاموشی کی وجہ سے تھا جو اس کے گرد ایک حصار بناتی تھی۔ کالی لیدر جیکٹ پہنے، ایک کندھے پر لیپ ٹاپ بیگ لٹکائے جب وہ اعتماد سے بھرپور قدموں کے ساتھ کینٹین سے گزرتا، تو فضا میں موجود قہقہے ایک پل کے لیے تھم جاتے۔ اس کی گہری بھوری آنکھیں، جو استنبول کی تیز دھوپ میں کسی شفاف جھیل کی مانند چمک اٹھتیں، اور وہ ہمیشہ ‘میسی’ (Messy) رہنے والے بال جو اس کے ماتھے پر بکھرے رہتے—کئی ترک اور انٹرنیشنل لڑکیوں کے لیے وہ ایک ان چھوا خواب اور ایک ناممکن “کرش” بن چکا تھا۔
ایک روز، یونیورسٹی کے لان میں نِیکو اور اس کے چند دیگر دوست بیٹھے تھے جب وہاں سے “میلیس” (Melis) گزری، جو اپنے حسن اور دولت کے غرور کے لیے مشہور تھی۔ میلیس کی نظریں اکثر ارتضیٰ کو ڈھونڈتی تھیں، مگر ارتضیٰ نے کبھی اسے گھاس نہیں ڈالی تھی
وہ جتنا لڑکیوں کی توجہ سے دور بھاگتا، ان کی دلچسپی اس
اجنبی پاکستانی نوجوان میں اتنی ہی بڑھتی جاتی۔ اس کی بے نیازی ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار تھی۔ لوگ اب اسے “The Cold Engineer” کے نام سے پکارنے لگے
ہائے بیچاری میلیس۔۔۔۔۔
(استنبول )چھ مہینے بعد۔۔
جب وہ لائبریری کے ایک کونے میں بیٹھا اپنے پیچیدہ نقشوں میں گم تھا، اچانک سامنے والی کرسی ایک زوردار آواز کے ساتھ کھینچی گئی۔ ارتضیٰ نے چونک کر سر اٹھایا۔ سامنے ایک گھنگھریالے بالوں والا، زندہ دل سا لڑکا بیٹھا تھا جس کی آنکھوں میں شرارت بھری مسکراہٹ تھی۔
“تمہارے چہرے پر لکھی یہ خاموشی بتاتی ہے کہ تم یا تو دنیا کو تباہ کرنے کا نقشہ بنا رہے ہو، یا پھر تم نے آج کافی نہیں پی!” اس نے اطالوی لہجے میں انگریزی بولتے ہوئے کہا۔
ارتضیٰ نے اسے گھور کر دیکھا اور دوبارہ اپنے کام میں
مصروف ہو گیا۔ “میرا کام مجھ سے گفتگو کی اجازت نہیں
دیتا،” ارتضیٰ نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
اس نوجوان نے ہنستے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا۔ “میں نِیکو (Niko) ہوں! انجینئرنگ کا طالب علم اور اس بورنگ یونیورسٹی کا سب سے زندہ دل انسان۔ اور تم؟”
ارتضیٰ نے ایک لمحہ تامل کیا، پھر دھیمے سے کہا: “ارتضیٰ خان ۔”
“لیکن دوست، یہ کتابیں تمہیں کھا جائیں گی۔ استنبول صرف پڑھنے کے لیے نہیں، جینے کے لیے ہے۔ تم ہر وقت یہاں اس لائبریری میں کیوں دبکے رہتے ہو؟ کیا تمہیں باہر کی دنیا سے ڈر لگتا ہے؟”
ارتضیٰ نے اپنی پنسل میز پر رکھی اور نِیکو کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کی نظروں میں وہ چمک تھی جو نِیکو کو خاموش کروانے کے لیے کافی تھی۔ “مجھے دنیا سے ڈر نہیں لگتا، مجھے وقت ضائع کرنے سے ڈر لگتا ہے۔ میرے پاس تمہاری طرح فضول باتوں کے لیے وقت نہیں ہے۔”
نِیکو دنگ رہ گیا، مگر پھر وہ زور سے ہنس پڑا۔ “واہ! مجھے تمہارا یہ انداز پسند آیا۔ لیکن یاد رکھنا ارتضیٰ،
استنبول میں تنہا مسافر جلد تھک جاتا ہے۔ تمہیں ایک دوست کی ضرورت پڑے گی، اور وہ میں ہی ہوں گا۔”
ہنہہ !!خوش فہمی ہے تمہاری ۔۔
ٹھیک ہے پھر دیکھ لیتے ہیں۔۔۔
ارتضیٰ نے کوئی جواب نہیں دیا، مگر اس کے دل کے کسی کونے میں نِیکو کی اس بے باک دوستی نے ایک دستک ضرور دی تھی۔
10 ماہ بعد ۔!!
“ارتضیٰ! تمہیں نہیں لگتا کہ تم کچھ زیادہ ہی ‘سرد’ ہو؟” نِیکو نے شرارت سے پوچھا۔ “دیکھو تو، میلیس تمہیں دیکھ کر اپنا راستہ بدل رہی ہے تاکہ تم اسے نوٹس کرو، اور تم ہو کہ ان کتابوں میں ڈوبے ہوئے ہو۔”
ارتضیٰ نے اپنے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائیں اور ایک ٹھنڈی نگاہ
نِیکو پر ڈالی۔ “نِیکو، جس کے پاسواپسی کی ٹکٹ کے پیسے نہ ہوں، اسے لڑکیوں کے نخرے نہیں، اپنے حالات کی سنگینی نظر آتی ہے۔”
ویسے بھی میں یہاں ان حسیناؤں کے نخرے دیکھنے نہیں پڑھنے آیا ہوں ۔مجھے میلیس کی ان حرکتوں سے فرق نہیں پڑتا۔
یوں ہی دن گزرنے لگے اور اگلے روز، نِکو اسے استنبول کی ایک قدیم اور تنگ گلی میں لے گیا جہاں لکڑی کی بنی ہوئی ایک قدیم عمارت پر “صحیفہ کتب خانہ” (Sahife Kitabevi) کا بورڈ لٹکا ہوا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی پرانے کاغذات، چمڑے کی جلدوں اور کافی کی ملی جلی خوشبو نے ارتضیٰ کا استقبال کیا۔ یہ جگہ کسی دوسری صدی کا حصہ معلوم ہوتی تھی۔
کتب خانے کا مالک، احمد آفندی”” (Ahmet Efendi)”، ایک بزرگ ترک شخص تھا
نے اپنی عینک کے پیچھے سے ارتضیٰ کو سر سے پاؤں تک پرکھا،
“یہاں کام بہت ہے نوجوان، اور اجرت کم۔۔۔”
“ٹھیک ہے منظور ہے” ارتضٰی نے جواب دیا ۔۔۔۔
“تم کسی اچھے گھر کے لڑکے لگتے ہو یہ سب کام تم کر لوگے؟؟”
“جی!!”
اس دن سے ارتضیٰ کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ وہ صبح یونیورسٹی جاتا اور شام ہوتے ہی اس قدیم کتب خانے میں پہنچ جاتا۔ اس کا کام ان ہزاروں کتابوں کی ترتیب درست کرنا تھا جو برسوں سے گرد آلود پڑی تھیں۔ وہ سیڑھی لگا کر اونچے شیلفوں تک پہنچتا، ایک ایک کتاب کو جھاڑتا، اس کی جلد درست کرتا اور اسے اس کے مقام پر رکھتا۔
لیکن اس کو اندازہ ہوا کہ اتنے پیسوں سے وہ تین سال میں بھی پیسے جمع نہیں کرسکتا تو اس نے رات دس سے تین بجے کی جاب بھی اپنی کوشش سے ڈھونڈ لی اور ( Zübeyir Ocakbaşı)زبیر اوجک باشی
ریستوران میں بھی جاب کرنے لگا
واپسی سے ایک سال قبل۔۔
یونیورسٹی کے مرکزی کیفے ٹیریا کے پیچھے والے لان میں دھوپ تیز تھی، مگر وہاں کا ماحول اس سے کہیں زیادہ گرم ہو چکا تھا۔ نِکو، جو ہمیشہ پورے کیمپس میں قہقہے بکھیرتا نظر آتا تھا، آج ایک دیوار
سے لگا کھڑا تھا اور اس کے سامنے “برق” اپنے تین حواریوں
کے ساتھ کھڑا اسے اشتعال دلا رہا تھا۔
“کیوں نِکو؟ آج تمہاری وہ اطالوی بستی اتنی خاموش کیوں ہے؟” برق نے طنزیہ لہجے میں کہا اور نِکو کے کندھے کو زور سے دھکا دیا۔ “سنا ہے تمہاری ماں اب کسی نئے ڈرامے کی شوٹنگ میں مصروف ہے؟ ویسے کمال کی اداکارہ ہے وہ، جتنی صفائی سے اسٹیج پر اداکاری کرتی ہے، اتنی ہی صفائی سے اس نے تمہیں اپنی زندگی سے بے دخل کر دیا ۔ سنا ہے کسی نئے امیر زادے سے شادی کر لی ہے اس نے؟ ظاہر ہے، ایک کامیاب اداکارہ کو تمہارے جیسے ‘بوجھ’ کی ضرورت بھی کہاں ہوگی۔”
نِکو کی مٹھیاں بھینچ گئیں، اس کے ناخن ہتھیلیوں میں گڑنے لگے۔ وہ عام طور پر باتوں کو ہنسی میں اڑا دیتا تھا، مگر اپنی ماں کا ذکر۔۔وہ ماں جس نے گلیمر اور دولت کی خاطر اپنے پہلے شوہر سے طلاق لی اور پھر نِکو کو تنہا چھوڑ کر ایک نئی دنیا بسا لی،اس کے لیے وہ زخم تھا جو کبھی نہیں بھر سکتا تھا۔
“میری ماں کا نام اپنی گندی زبان پر مت لاؤ برق، ورنہ
انجام اچھا نہیں ہوگا،” نِکو کسی زخمی شیر کی طرح غرایا۔ انگریزی میں جواب دیا گیا
“انجام؟” برق کے دوستوں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ “ایک
ایسی عورت کا بیٹا ہمیں انجام کی دھمکی دے رہا ہے جس نے خود اپنے بیٹے کو ٹھکرا دیا؟ تم تو ایک چلتا پھرتا ‘ریجیکٹڈ آئٹم’ ہو نِکو۔ تمہاری ماں کو تم سے زیادہ اپنی نئی فلم اور اپنے نئے امیر شوہر کی فکر ہے…”
ابھی برق کا جملہ مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ نِکو کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس نے پوری قوت سے ایک گھونسا برق کے جبڑے پر جڑا۔ برق لڑکھڑا کر پیچھے گرا، مگر اس کے تینوں دوست نِکو پر ٹوٹ پڑے۔ نِکو اکیلا تھا اور وہ چار، اسے بے رحمی سے مارا جانے لگا۔ نِکو کے ہونٹ سے خون بہنے لگا، مگر اس کی آنکھوں میں اب بھی وہی وحشت تھی۔
اسی لمحے، کوریڈور سے نکلتا ارتضیٰ، جس کے کندھے پر بیگ لٹکا تھا، اس منظر کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ نِکو کو زمین پر گرا اور اسے ٹھوکریں کھاتے دیکھ کر ارتضیٰ کے اندر جیسے کوئی بجلی کوند گئی۔ اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنا بیگ زمین پر پٹخا اور ایک چیتے کی طرح برق کے ساتھیوں پر جھپٹا۔
ارتضیٰ کی وہ سرد مہری اب ایک دہکتے ہوئے شعلے میں بدل چکی تھی۔ اس نے ایک لڑکے کا گریبان پکڑ کر اسے دیوار سے دے مارا اور دوسرے کو اتنی زور دار کک ماری کہ وہ دور جا گرا۔ ارتضیٰ کے گھونسوں میں وہ تمام غصہ شامل تھا جو وہ
دنیا کے رویوں کے خلاف اپنے اندر دبائے بیٹھا تھا۔ چند ہی منٹوں میں وہ چاروں لڑکے، جو تھوڑی دیر پہلے شیر بن رہے تھے، اب اپنی چوٹیں سہلاتے ہوئے وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھ رہے تھے۔
کچھ دیر بعد، یونیورسٹی کی پرانی سیڑھیوں کے ایک سنسان گوشے میں وہ دونوں بیٹھے تھے۔ نکو کے ہونٹ پر کٹ لگا تھا اور ارتضیٰ کے ہاتھ کے جوڑ سوجھ چکے تھے۔ فضا میں ایک بھاری خاموشی چھائی ہوئی تھی صرف ان کے سانس لینے کی تیز آوازیں توڑ رہی تھیں۔
ارتضیٰ نے جیب سے رومال نکال کر نِکو کی طرف بڑھایا۔
“تم تو کہتے تھے تم زندہ دل انسان ہو پھر اپنا دکھ مجھ سے کبھی بانٹا کیوں نہیں؟”۔۔۔ارتضٰی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا اور شکوہ بھی تھا
“میں اپنے پرسنل معاملات کسی سے بھی نہیں شیئر کرتا”
“دوست سے تو اپنے دل کی ہر بات کی جا سکتی ہے” ۔۔اس جملے پر نکو حیران سا اس کو دیکھنے لگا۔
“کیا تم نے مجھے اپنا دوست مان لیا؟؟”۔
“تو کیا میں نے فضول میں اپنے ہاتھوں کو تکلیف دی؟”
نِکو نے ایک لمبا سانس لیا اور رومال سے خون پونچھتے ہوئے تلخی سے مسکرایا۔نِکو کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ “لوگ
اس نِکو کو پسند کرتے ہیں جو مسکراتا ہے، ارتضیٰ!اداس نِکو کو نہیں”۔۔
ارتضیٰ نے نِکو کے کندھے پر مضبوطی سے ہاتھ رکھا۔ “آئندہ ایسے آوارہ لڑکوں کے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کو ‘اگنور’ کیا کرو، ان کے پاس اپنا کچھ نہیں ہوتا اسی لیے دوسروں کے ماضی پر پلتے ہیں۔ ان کی اوقات ہی کیا ہے کہ یہ تمہاری زندگی پر بات کریں۔
ایسے گھٹیا لوگوں کے لیے اپنا خون جلانا بے وقوفی ہے۔”
نِکو نے پہلی بار ارتضیٰ کی آنکھوں میں وہ دوستی دیکھی جس میں کوئی شرط نہیں تھی۔ اس نے ہلکا سا سر ہلایا۔ “تم ٹھیک کہہ رہے ہو ‘کولڈ انجینئر’۔ ویسے، تم مارتے بہت برا ہو، میں تو ڈر ہی گیا تھا تمہارا وہ روپ دیکھ کر۔”
“یہ تم مجھے کولڈ انجینئر کہنا بند کرو گے پلیز۔۔
“اوکے اوکے نہیں کہتا۔۔”
ماضی کا یہ خوبصورت اور کٹھن منظر آہستہ آہستہ دھندلا پڑنے لگا اور یادوں کے دریچے ایک ایک کر کے بند ہونے لگے۔
آج وقت کا پہیہ گھوم کر وہیں آ گیا تھا۔ وہ تمام تلخ اور شیریں لمحات اب اس کے وجود کے نہاں خانوں میں کسی قیمتی اثاثے کی طرح محفوظ تھے۔ اس نے صرف انجینئرنگ کی ڈگری ہی حاصل نہیں کی تھی، بلکہ اس نے اپنے باپ کی
اس کڑی شرط کو بھی پورا کر دکھایا تھا۔ اس نے خودداری کے اس کٹھن راستے پر چل کر آج خود کو ثابت کر دیا تھا۔ وہ اب وہی ارتضیٰ نہیں تھا جو چار سال پہلے بوجھل دل کے ساتھ یہاں
سے رخصت ہوا تھا، اب اس کی آنکھوں میں فتح کا سکون اور اپنی ذات پر کامل یقین تھا۔
ارتضیٰ نے ایک طویل اور پرسکون سانس فضا کے سپرد کی، جیسے وہ ان تمام برسوں کی تھکن کو ایک پل میں نکال دینا چاہتا ہو۔ ٹھنڈی ہوا نے اس کے بالوں کو چھوا تو اسے احساس ہوا کہ وہ اب اپنے اسی پرانے اسٹڈی روم میں کھڑا ہے جہاں سے اس کے سفر کا آغاز ہوا تھا۔
“بھائی! آپ ابھی تک یہیں کھڑے ہیں؟ اب جلدی سے فریش ہو جائیں، کھانا تیار ہے اور سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔”
عائشہ نے کمرے کی دہلیز پر کھڑے ہو کر اسے پکارا۔ اس کی آواز میں وہی پرانی شرارت اور اپنائیت تھی جس نے ارتضیٰ کو حال کی حقیقت میں مکمل طور پر واپس لا کھڑا کیا۔ ارتضیٰ نے مڑ کر اپنی بہن کو دیکھا اور اس کے لبوں پر ایک ایسی مسکراہٹ آئی جو برسوں کی مسافت کے بعد اب مکمل طور پر حقیقی تھی۔
******
سکندر محل:
فجر طلوع ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی، سورج کی نارنجی شعاعیں افق پر پھیل کر اندھیرے کو نگل رہی تھیں۔ کراچی کے مہنگے ترین علاقے کی اس بلند و بالا سڑک پر، جہاں بڑے بڑے بزنس ٹائیکون اور با اثر خاندانوں کی رہائش گاہیں تھیں، وہاں ایک ایسی عمارت کھڑی تھی جو صرف ایک گھر نہیں بلکہ طاقت کا استعارہ تھی۔
اس محل کی اونچی دیواریں، گیٹ پر جھک کر سلام کرنے والے مسلح گارڈز اور سڑک سے گزرتے لوگ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ ان دیواروں کے پیچھے صرف دولت نہیں، بلکہ سیاست اور سفاکی کا راج ہے۔سیاہ اور سنہری رنگ کا وہ دیو قامت آہنی گیٹ، جس پر لگی “سکندر محل” کی تختی صبح کی روشنی میں جگمگا رہی تھی، عام انسانوں کے لیے ایک ممنوعہ حد تھی۔
گیٹ سے اندر داخل ہوں تو میلوں دور تک پھیلا ہوا وسیع و عریض لان استقبال کرتا ہے، جہاں مخملی سبز گھاس پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ سوئمنگ پول کی
نیلی روشنی، قیمتی غیر ملکی
پودے اور چاروں طرف نصب جدید ترین سکیورٹی کیمرے اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ یہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ یہ محل صرف سامنے سے ہی نہیں بلکہ اپنے عقبی حصے سے بھی اتنا ہی رعب دار اور وسیع تھا۔ قیمتی اطالوی پتھروں سے بنا ہوا واکنگ ٹریک لان کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک بل کھاتا ہوا جاتا تھا۔
دولت کی فراوانی یہاں کی ہواؤں میں رچی بسی تھی، مگر اسی فراوانی کے سائے تلے بے حسی اور سفاکی کی وہ داستانیں بھی دفن تھیں جو اس گھر کے مکینوں کی پہچان بن چکی تھیں
وہ تھوڑی دیر پہلے ہی نیند سے بیدار ہوا تھا۔ آج اس کے چہرے پر ایک عجیب سی فاتحانہ مسکراہٹ تھی، جیسے کوئی ادھورا شکار اس کے جال میں پھنس گیا ہو۔ وہ مکمل تیار ہو کر ڈائننگ ہال کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سرمئی رنگ کا تھری پیس سوٹ، برف جیسی سفید کلف لگی شرٹ، بالوں میں لگا جیل جو ایک ایک لٹ کو اپنی جگہ جمائے ہوئے تھا، اور کلائی پر بندھی برانڈڈ مہنگی گھڑی،وہ سر سے پاؤں تک ایک ‘کلاس’ لگ رہا تھا۔
ناشتے کی ٹیبل پر پہنچ کر جب اس نے کرسی سنبھالی، تواس
نے سامنے بیٹھے احمر کو اپنی طرف گھورتے ہوئے پایا۔ شاہویز نے نہایت اطمینان سے جوس کا گلاس اٹھایا اور پھر گلا کھنکار کر کہا:
“ایسے مت دیکھو مجھے…نظر جلدی لگ جاتی ہے۔” اس کے لہجے میں خود پسندی کی انتہا تھی۔ “میں جانتا ہوں کہ میں تمہیں ہمیشہ ہینڈسم اور ڈیشنگ لگتا ہوں، لیکن اس طرح دیکھنے سے نظر لگنے کا خدشہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔”
احمر نے شاہویز کے اس مزاحیہ مگر ذو معنی تبصرے کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے سپاٹ لہجے میں سوال کیا: “تمہیں کیا لگتا ہے شاہویز؟ مجھے نہیں معلوم کہ کل جو کچھ ہوا، وہ تم نے کیا ہے یا کروایا ہے؟”
شاہویز نے جوس کا گلاس لبوں سے لگایا اور بڑی حیرت سے ابرو اچکائے۔”کیا مطلب؟” اس نے اتنی معصومیت سے پوچھا کہ جیسے وہ دنیا کا سب سے بھولا انسان ہو۔ یہ چونکنے کی ایک بہترین اداکاری تھی۔
“بنو مت! مجھے سب پتہ ہے” احمر نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ “میری گاڑی بھی تم نے ہی خراب کروائی اور باقی گاڑیاں بھی تم نے ہی بے وجہ غائب کر دیں…”
ایک منٹ، ایک منٹ!” شاہویز نے فوراً اس کی بات کاٹی اور ہاتھ کے اشارے سے اسے رکنے کو کہا،اس کی آنکھوں میں اب
ایک طنزیہ چمک تھی۔”آپ کے پاس کیا ‘پروف’ ہے کہ آپ کی گاڑی میری وجہ سے خراب ہوئی؟ یا میں نے کچھ کروایا؟؟”
“ہنہ! جیسے میں تمہیں جانتا نہیں ہوں۔ تم اپنے مقصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہو,” احمر نے تلخی سے کہا۔
شاہویز نے کرسی سے پشت ٹکا کر کہا!!۔ “واہ! آپ میری صلاحیتوں سے اس قدر واقف ہیں؟ جان کر خوشی ہوئی۔ لیکن فی الحال… یہ مجھ معصوم پر سراسر الزام ہے۔”
“میں مذاق نہیں کر رہا شاہ سکندر!” احمر کی آواز میں سختی آگئی۔ “معصومیت کا فریب تم اسے دینا جو تمہیں جانتا نہ ہو،میں تمہاری اس دہری شخصیت سے ناواقف نہیں ہوں۔ بس اتنا بتاؤ کہ آخر کیوں کر رہے ہو تم یہ سب؟”
شاہویز کے چہرے سے مسکراہٹ ایک دم غائب ہوئی اور وہاں ایک چٹان جیسا ٹھہراؤ آگیا۔ “میں اپنی بات دہرانے کا عادی نہیں ہوں، احمر! اور جیسا کہ آپ نے کل مجھ سے کہہ دیا تھا کہ اس بارے میں اب کوئی بات نہیں ہوگی… تو ٹھیک ہے، اب اس بارے میں واقعی کوئی بات نہیں ہوگی۔”
احمر نے ایک گہرا سانس لیا۔ “
مجھے کسی قسم کی پارٹنرشپ (Partnership) نہیں کرنی تمہارے ساتھ۔ تمہارا طریقہ کار الگ ہے، سفاکانہ ہے، ور میرا
الگ ہے۔ لہٰذا، مجھے تنگ کرنا بند کرو۔”
شاہویز خاموشی سے اٹھا، اپنے کوٹ کے بٹن بند کیے اور احمر کی طرف ایک سرد نگاہ ڈالی۔ “اوکے!”
وہ مڑ کر جانے لگا تھا کہ احمر نے اسے پیچھے سے آواز دی: “ویسے پوچھ سکتا ہوں کہ وہ سب گاڑیاں کہاں غائب کروائی تھیں تم نے؟”
شاہویز رکا، مڑا، اور ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: “نہیں! پوچھ تو نہیں سکتے، لیکن پھر بھی آپ کی تسلی کے لیے بتا دیتا ہوں۔ کل مجھے ایک تقریب میں جانا تھا، اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں کوئی ناکام یا عام سا انسان تو ہوں نہیں…” اس نے اشارہ احمر کی طرف کیا
“…جو ایسے ہی کہیں چلا جاؤں گا۔ تمام گارڈز اور گاڑیاں میرے پروٹوکول میں میرے ساتھ گئی تھیں۔ امید ہے اب آپ کی تسلی ہوگئی ہوگی۔ خدا حافظ!”
وہ اپنے جوتوں کی مخصوص آہٹ کے ساتھ ہال سے باہر نکل گیا، پیچھے ایک ایسی خاموشی چھوڑ گیا جو احمر کے لیے کسی وارننگ سے کم نہ تھی۔
───
کمرے کے روشن دانوں سے چھن کر آتی صبح کی نرم اور سنہری روشنی پورے کمرے میں ایک تقدس سا پھیلا رہی تھی۔ مرحا آئینے کے سامنے کھڑی اپنی شخصیت کو آخری بار پرکھ رہی تھی۔ اس کا انداز ہمیشہ کی طرح سادہ مگر بے حد نفیس تھا۔ چہرے پر
کسی مصنوعی میک اپ کی کوئی رمق نہ تھی، بلکہ ایک فطری چمک تھی اس کے لمبے بال سلیقے سے بندھے ہوئے تھے، مگر دو باغی لٹیں پھر بھی اس کے روشن چہرے پر گر کر اس کی معصومیت میں اضافہ کر رہی تھیں۔
وہ اپنی اس سادگی میں بھی ایک باوقار حسن رکھتی تھی جو دیکھنے والے کو مرعوب کر دیتا۔
مرحا سیاہ رنگ کے سوٹ میں تھی
دوسری طرف زمل اپنے کالج کے یونیفارم میں بالکل ایک “ماڈرن اسٹوڈنٹ” لگ رہی تھی۔ سفید کلف لگی قمیص اور گہرے نیلے رنگ کی شلوار، جس پر اس نے کالج کا مخصوص اسکارف بڑے اسٹائل سے گلے میں ڈال رکھا تھا۔ اس نے اپنے بالوں کو ایک اونچے جوڑے (High Bun) کی شکل دے رکھی تھی جس سے اس کا چہرہ بالکل صاف اور نمایاں ہو رہا تھا۔ کانوں میں چھوٹے سے ٹاپس اور کلائی پر ایک اسپورٹس واچ۔
“کسی بزرگ کی سالانہ محفل میں جانے کا ارادہ ہے؟”
زمل نے شوخی سے اپنی بھویں اچکائیں
مرحا نے آئینے میں زمل کے بھرپور تیار حلیے کو دیکھا اور ایک دھیمی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل
گئی اس نے پلٹ کر زمل کو جواب دیا:
“اور آپ تو زمل میڈم، اس قدر اہتمام اور تیاری کے ساتھ جا رہی ہیں جیسے کالج نہیں، بلکہ کسی پکنک پر جانے کا ارادہ ہو؟”
خاص چمک لاتے ہوئے کہا: “اگر آپ اجازت دلوا دیں، تو میرا وہاں جانے کا بھی پورا ارادہ ہے!”
یہ کہتے ہوئے وہ ایک زوردار قہقہہ لگا کر کمرے سے باہر نکل گئی،
لائبریری کا وہ گوشہ ہمیشہ سے مرحا کی پناہ گاہ تھا۔ لکڑی کی پرانی کھڑکیوں سے چھن کر آتی دھوپ فرش پر سنہری لکیریں کھینچ رہی تھی اور باہر موجود پیپل کے درخت کا سایہ کتاب کے صفحات پر رقص کر رہا تھا۔ مرحا حسبِ معمول اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی، دنیا و مافیا سے بے خبر، کسی گہرے مطالعے میں غرق تھی۔
اسی لمحے لائبریری کا بھاری دروازہ ایک دھیمی سی چرچراہٹ کے ساتھ کھلا۔ ارتضیٰ اندر داخل ہوا، اس کا
ارادہ تو کسی خاص ریفرنس بک کو ڈھونڈنے کا تھا، مگر چلتے
چلتے اس کی نظریں ایک جگہ ٹھہر گئیں۔ وہاں، ہجوم سے دور، ایک لڑکی بیٹھی تھی جو کسی تراشیدہ بت کی طرح ساکت اور بے حد پرسکون تھی۔ وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھی کہ کوئی اسے کتاب کی طرح پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ارتضیٰ کے قدم خود بخود اس کی سمت اٹھنے لگے۔
“ایکسکیوز می محترمہ! کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟” ارتضیٰ نے دبے قدموں قریب آ کر شائستگی سے پوچھا۔
مرحا نے کتاب سے نظریں چرائے بغیر، نہایت سپاٹ لہجے میں جواب دیا: “نہیں۔”
تب مرحا نے پہلی بار اپنی پلکیں اٹھا کر سامنے کھڑے اجنبی کو دیکھا۔ ارتضیٰ کی دھڑکن جیسے ایک پل کے لیے تھم سی گئی۔ اس نے ترکی میں کئی حسین چہرے دیکھے تھے، مگر ایسی معصومیت اور ایسی گہری آنکھیں؟ اسے لگا جیسے اس کی برسوں کی حسِ جمالیات کو آج ایک مکمل جواب مل گیا ہو۔
مرحا کی نظر بھی اس اجنبی پر پڑی، جس کے چہرے کی سنجیدگی میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ “اگر آپ کو اس پوری لائبریری میں کہیں بیٹھنے کی جگہ نہ ملتی، تو شاید مجبوری میں اجازت دے دیتی۔ لیکن چونکہ ایسا ہے نہیں، تو پلیز آپ جا سکتے ہیں،” مرحا نے دو ٹوک الفاظ میں کہا اور
دوبارہ اپنی توجہ کتاب کی جانب مبذول کر لی۔
ارتضیٰ وہیں کھڑا رہا۔ اسے یہ بے نیازی اچھی لگی تھی۔ اس نے ہمت جمع کر کے گفتگو کا سرا جوڑنے کی کوشش کی: “کیا آپ یہ کتاب آج پوری پڑھ لیں گی؟”
مرحا نے سر ہلا کر آہستہ سے جواب دیا: “تقریباً۔”
اگلے ہی لمحے ارتضیٰ خاموشی سے مرحا کے سامنے والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ مرحا نے چونک کر سر اٹھایا، اس کی بھنویں سکڑ گئیں اور آنکھوں میں ناپسندیدگی ابھری، جیسے پوچھ رہی ہو کہ ‘منع کرنے کے باوجود ہمت کیسے ہوئی؟’
“یہ کیا بدتمیزی ہے؟” اس نے دبی آواز میں احتجاج کیا۔
“آپ کی نظر میں شاید یہ بدتمیزی ہو،” ارتضیٰ نے ایک
تپانے والی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “ویسے میں کوشش کروں گا کہ آپ کے مطالعے میں خلل نہ ڈالوں۔”
مرحا نے بے بسی سے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور دوبارہ کتاب میں سر جھکا لیا۔ ارتضیٰ، جس نے خاموش رہنے کا وعدہ کیا تھا، اب اپنے اندر امڈتے سوالات کے ذریعے اس وعدے کی دھجیاں اڑانے میں مصروف تھا۔ وہ کبھی کتاب کے موضوع پر بات کرتا، تو کبھی کسی جملے پر تبصرہ۔ مرحا نے شروع میں ایک دو جواب دیے، مگر پھر اسے نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھا۔
“ویسے ایک بات پوچھوں؟” ارتضیٰ نے شرارت سے پوچھا
مرحا نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ فوراً بولا، “نہیں بس آخری سوال! یہ آپ کی نیچرل بیوٹی (Natural Beauty) ہے یا میک اپ یا کسی کریم کا کمال؟ ویسے لگ تو نیچرل ہی رہی ہے۔”
مرحا کا پارہ چڑھ گیا۔ اس نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا۔ “آپ روز کتنی لڑکیوں کے ساتھ ایسے
فلرٹ (Flirt) کرتے ہیں؟؟؟”
“آج پہلا دن ہے… اور آخری بھی،” ارتضیٰ نے سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔ “کیا آپ کی نظر میں سچی تعریف کرنا فلرٹ کرنے کے مترادف ہے؟”
“جی ہاں، بالکل! اور یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے،” مرحا نے تنگ آ کر کتاب بند کی اور اسے واپس شیلف میں رکھنے کے لیے اٹھی۔ اس نے مڑ کر تلخ لہجے میں پوچھا، “کیا آپ روز یہاں آتے ہیں؟”
“کیوں؟ کیا آپ کو میرا انتظار رہے گا؟” ارتضیٰ نے چھیڑا۔
“خدا وہ دن کبھی نہ لائے!” مرحا نے تپ کر کہا۔
“مطلب آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ میں آپ کو انتظار نہ کرواؤں؟ اوکے! میں کل لازمی آؤں گا،” ارتضیٰ نے اس کی بات کا الٹا مطلب نکال کر اسے مزید زچ کیا۔
مرحا نے ایک آخری غصیلی نظر اس پر ڈالی اور تیز قدموں سے لائبریری سے باہر نکل گئی۔ پیچھے ارتضیٰ کے لبوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ رہ گئی۔ وہ جانتا تھا کہ بعض ملاقاتیں خاموشی سے اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں اور یہ تو محض آغاز تھا۔
<<___
شہر کے قلب میں واقع وہ بلند و بالا عمارت اپنی بلند قامتی اور جدید طرزِ تعمیر کی وجہ سے ایک الگ ہی پہچان رکھتی تھی۔ عمارت کی آخری منزل پر جیسے ہی لفٹ کے دروازے کھلے، چمکتے ہوئے سیاہ ٹائلوں کے فرش نے استقبال کیا۔ دائیں جانب کی دیوار پر سنہری حروف میں کھدا ہوا صرف ایک نام جگمگا رہا تھا، جو شہر کی معیشت کے ہر در و دیوار پر پہلے ہی چھپا ہوا تھا۔
دفتر کا مرکزی دروازہ کسی خودکار حساس نظام کے تحت خاموشی سے کھلا، جیسے اسے آنے والے کی چاپ کا پہلے سے ہی علم ہو۔ اندر قدم رکھتے ہی ایک ایسی گہری خاموشی نے لپیٹ میں لے لیا جو چیخوں سے زیادہ سحر زدہ اور خوفناک تھی۔
شاہویز سکندر کی میز پر ایک سیاہ فائل رکھی تھی جس پر
درج حروف کسی نئے میگا پروجیکٹ کا پتا دے رہے تھے۔ خاموشی کے اس سحر کو جوتوں کی ہلکی سی ‘ٹک ٹک’ نے توڑا۔ ایک ملازم، جو گرے تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھا، ہاتھ میں فائل دبائے، اضطراب کے عالم میں اپنی سانسیں روک کر اندر داخل ہوا۔ اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں اس کے اندرونی خوف کا پتہ دے رہی تھیں۔
“سر! یہ وہ فائل ہے جو آپ نے منگوائی تھی،” اس کی آواز میں ایک لرزش تھی۔
شاہویز نے نظر اٹھا کر فائل کو نہیں دیکھا، بلکہ اس شخص کے وجود کو اپنی سرد نظروں سے اسکین کیا۔ “آر یو شیور (Are you sure)؟ یہ مکمل ہے؟ ساری ڈیٹیلز موجود ہیں؟” اس کی آواز میں وہ ٹھہراؤ تھا جو کسی بڑے طوفان سے پہلے والی خاموشی کی طرح محسوس ہوتا تھا۔
“جی سر! مگر ایک چیز ہے جو۔۔۔”
“جو مجھے پہلے نہیں بتائی گئی تھی؟” شاہویز نے جملہ مکمل کیا، جیسے اسے سب پہلے سے معلوم ہو۔ وہ آہستہ سے اپنی کرسی سے اٹھا اور اس شخص کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا: “مجھے اس فائل میں اس جگہ کی تمام ڈیٹیلز چاہئیں۔ وہاں ہم نے سکندر فیشن کے ساتھ ایک میگا مال بنانا ہے جس میں بین الاقوامی برانڈز ہمارے پارٹنر ہیں۔ اس افسر سے کہو
کہ فائل جتنی جلد ہو سکے اپروو (Approve) کر دے۔”
“لیکن سر! وہ کہہ رہا ہے کہ وہ ماننے والا نہیں ہے، وہ خود کو بہت ایماندار بتاتا ہے،” ملازم نے لکنت کے ساتھ کہا۔
شاہویز کے لبوں پر ایک سفاک مسکراہٹ ابھری۔ “یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ کسی بھی طرح مجھے وہ جگہ چاہیے۔ جو کرنا پڑے کرو، پیسہ دے کر سائن کرواؤ یا جان لے کر۔۔۔ یہ تمہاری چوائس ہے۔”
شاہویز سکندر ایک کامیاب بزنس مین مانا جاتا ہے جس کا سکہ ہر جگہ چلتا تھا۔ اس نے نہ صرف ‘سکندر بلڈرز’ کو بلندیوں پر پہنچایا تھا بلکہ (ماہوین سکندر) کے ساتھ پارٹنرشپ کر کے اب کمپنی کے 65 فیصد شیئرز کا مالک بن چکا تھا۔
“اور ہاں! جو دوسرا کام میں نے تم سے کہا تھا، وہ ہوا یا نہیں؟” شاہویز کی آواز میں اب ایک خاص چہک تھی۔
ملازم کی آنکھوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ “سر! آپ ایک بار اور سوچ لیں۔۔ وہ آپ کے بھائی ہیں۔۔ احمر صاحب کا یہ آخری بزنس ہے جو۔۔۔ جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔”
“وہ میرا بھائی ہے، اسی لیے تو میں اس کا بھلا چاہتا ہوں۔ کیا میں اسے یوں ہی تباہ ہوتے ہوئے دیکھتا رہوں؟” شاہویز نے طنزیہ انداز میں کہا۔
“لیکن سر آپ ان سے بات کر سکتے ہیں۔۔۔”
“تمہیں کیا لگتا ہے، میں نے بات نہیں کی ہوگی؟” شاہویز نے اس کی بات کاٹی۔ “بہرحال، تم سے جتنا کہا ہے اتنا کرو۔ اور ہاں، جگہ کا زیادہ نقصان نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ آنے والے دنوں میں وہ بھی شاہویز سکندر کی ملکیت میں شامل ہو جائے گی۔ اب یہ فائل اٹھاؤ اور دفع ہو جاؤ۔ جب تک یہ دونوں کام نہ ہو جائیں، کوشش کرنا کہ اپنی شکل لے کر میرے سامنے حاضر نہ ہونا۔”
ملازم بوکھلا کر مڑا، مگر شاہویز کی آواز نے اسے دوبارہ منجمد کر دیا۔
“اور ہاں! یاد رکھنا، تمہاری وفاداری صرف اس دروازے تک ہی محدود رہے۔ اس کے علاوہ سب باتوں سے دور رہنا، کیونکہ مجھے معاف کرنا نہیں آتا اور میں اپنی بات دہرانا پسند نہیں کرتا۔ سمجھ گئے نا؟”
“جی سر! سمجھ گیا۔” ملازم تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
شاہویز سکندر اپنی پرتعیش کرسی پر دوبارہ براجمان ہوا اور اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ ابھری۔ وہ جانتا تھا کہ شطرنج کی بساط پر مہرے کیسے ہلائے جاتے ہیں۔
منظر دھندلا کر بدل گیا۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
جملہ حقوق محفوظ ہیں!
