BISAAT BY MARYAM KHAN EPISODE 1.


بساط
از قلم مریم خان
قسط 1

کچھ چہرے محض چہرے نہیں ہوتے، وہ آپ کے اندر چھپی کسی انکہی کہانی کا عنوان ہوتے ہیں۔ اس زمین پر کچھ لوگ صرف اپنی ذات کے اسیر ہوتے ہیں؛ انہیں اپنی ذات کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اس بات کو محسوس تک نہیں کر پاتے کہ اپنے سنگ دلانہ اعمال سے انہوں نے کتنے نازک دلوں کو کرچیوں میں بدلا ہے، اور بدقسمتی تو یہ ہے کہ یہ ‘ناقص الفطرت’ احساس کبھی ان کے اندر جنم ہی نہیں لیتا۔
دوسری طرف ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنہیں اپنی لغزشوں کا ادراک تب ہوتا ہے جب وقت کی ریت مٹھی سے نکل چکی ہوتی ہے، اور سادہ لفظوں میں اسی تڑپ کو ‘پچھتاوا’ کہتے ہیں۔ احساس تو وہ نایاب جوہر ہے جو انسان کو محض ایک گوشت پوست کے وجود سے بلند کر کے ‘شخصیت’ عطا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو سننے میں جتنا مختصر لگتا ہے، جب دل کی گہرائیوں میں بیدار ہوتا ہے تو زندگی کا محور بدل کر رکھ دیتا ہے؛ اس کے بغیر انسان

مٹی کے ایک بے جان پتلے کے سوا کچھ نہیں۔۔۔
یہ کہانی انہی دو متضاد دنیاؤں کی ہے؛ ایک طرف احساس کی حدت میں جلتے ہوئے دل ہیں اور دوسری طرف وہ سنگِ مرمر صفت لوگ، جن پر کسی کی فریاد اور کسی کا درد ذرہ برابر بھی اثر نہیں کرتا۔

** حصہ اول **_
وہ کھڑکی کے پاس ساکت بیٹھی تھی اور وقت جیسے اس کے چہرے کی روشنی میں ٹھہر سا گیا تھا۔ ٹھٹھرتی ہوئی شام کا منظر، کھڑکی کے شیشے کے اس پار ایک اداس سی لکیر کی صورت کھینچا ہوا تھا۔ باہر ایک کھلونا بیچنے والا مجبوری کا مجسمہ بنا کھڑا تھا؛ سردی کی لہر اس کے وجود پر کسی عذاب کی مانند مسلط تھی۔
“مرحا! کیا کر رہی ہو؟ باہر ایسا کیا خاص ہے جو اتنی توجہ سے دیکھا جا رہا ہے؟”
زمل نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے مرحا کو پکارا۔ “کچھ نہیں۔۔۔” مرحا نے آہستہ سے پلٹتے ہوئے جواب دیا، اس کی آواز سے ایک گہری تھکن جھلک رہی تھی۔ “بس یہی سوچ رہی تھی کہ مجبوری کس طرح انسان کو سڑکوں پر لے آتی ہے۔ باہر دیکھو! وہ بے چارہ اس یخ بستہ سردی میں صرف اپنے بچوں

کے پیٹ کی آگ بجھانے نکلا ہے۔ سچ ہی کہا ہے کسی نے، کبھی کسی بے بس اور مجبور انسان کے غم کو جان لو تو اپنا غم بھول جاتا ہے۔” اس نے ایک لمحہ رک کر گہرا سانس لیا۔ “اور ایک ہم ہیں جنہیں دسترخوان پر کھانے میں نقص نکالنے سے ہی فرصت نہیں ملتی؛ سب کچھ میسر ہونے کے باوجود ہم ناشکری کے مرتکب ہوتے ہیں۔”
زمل، جو کافی دیر سے خاموش کھڑی یہ سب سن رہی تھی، نے بیزاری سے ہاتھ جھٹکا۔ اس کی چنچل طبیعت میں باتوں کی گہرائی کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں تھی، یا شاید وہ خود ہی حقیقت سے آنکھیں چرانا چاہتی تھی۔۔۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ “اوہو! اب اپنا یہ فلسفہ بند کرو۔ چلو، جلدی سے تیار ہو جاؤ، ہمیں وقت پر پہنچنا ہے، ماموں نے خاص طور پر تاکید کی ہے۔”

کہانی کا رخ تھوڑا بدلا اور ہم ایک سرد، بے روح مگر پُرتعیش دنیا میں داخل ہو گئے۔ وجیہہ، بااثر اور پُرکشش، مگر بے حد خطرناک! شاہویز سکندر کی ظاہری دلکشی میں ایک ٹھہرا ہوا زہر تھا۔ وہ جس قدر خودغرض اور چالاک تھا، اسی قدر سفاک بھی۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک دل فریب مسکراہٹ رقص کرتی، مگر دل میں سازشیں پلتی تھیں۔ وہ ایک ایسا

کردار تھا جو بظاہر تو دلوں کو لبھاتا تھا، مگر اس کی حقیقت اس کے عکس سے یکسر مختلف تھی۔
سیاہ کوٹ میں ملبوس، کف لنکس لگاتے ہوئے جب وہ کمرے سے باہر آیا تو سامنے کھڑے احمر پر نظر پڑتے ہی اس کی نگاہیں ایک خاص چمک کے ساتھ اُٹھیں۔

گڈ لکنگ! ہینڈسم! کافی اچھے لگ رہے ہیں۔۔۔ کہاں جانے کی تیاری ہے؟”
احمر کو شاہویز کا یہ لہجہ سخت ناگوار گزرا، وہ خاموش کھڑا رہا۔ شاہویز چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور سر تا پیر ایک ستائشی مگر طنزیہ انداز میں احمر کو جانچا۔
“کہاں جا رہے ہیں؟” اس نے مسکرا کر پوچھا۔ مسکرانے سے اس کے گال میں پڑنے والا ڈمپل اس کی شخصیت کو مزید پُراسرار بنا دیتا تھا۔
احمر دو قدم شاہویز کے قریب آیا اور تیکھے لہجے میں بولا، “کتنی بار کہا ہے کہ مجھے پیچھے سے آواز نہ دیا کرو، اور تم سے مطلب کہ میں کہیں بھی جاؤں؟”
“آج ہفتہ ہے، اور جہاں تک میں جانتا ہوں مسٹر احمر سکندر تو آج کے دن آرام فرماتے ہیں۔ کوئی آفیشل میٹنگز، کوئی کام نہیں۔۔۔ پھر آج یہ سورج کہاں سے طلوع ہوا؟” شاہویز نے

نہایت ڈرامائی انداز میں سوال کیا۔
“میں کام کروں یا نہ کروں، کہیں جاؤں یا نہ جاؤں، تم کون ہوتے ہو مجھ سے پوچھنے والے؟ کیا اب یہ بھی میں تم سے پوچھ کر کروں گا؟”
“ویسے پوچھنا تو چاہیے، کیونکہ میں آپ سے عمر میں بھلے ہی جونیئر ہوں، لیکن بزنس کی دنیا میں تو سب کی نظر میں سینیئر ہوں۔۔۔ اور آپ کا بھی! میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا، بگ برو؟” شاہویز نے ایک زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ اسے زچ کیا۔
“خیر، میں تو بس یہ پوچھ رہا تھا کہ آپ نے میری آفر کے بارے میں کیا سوچا؟” شاہویز کی بات ابھی ادھوری تھی کہ احمر نے اسے درمیان میں ہی روکتے ہوئے حتمی انداز میں کہا، “مجھے کچھ نہیں سوچنا اور نہ ہی میں اپنا فیصلہ بدلنے والا ہوں۔ اب دوبارہ اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی۔۔۔ بات ختم!”
شاہویز نے ایک لمحے کے لیے احمر کی پشت کو دیکھا اور پھر گردن کو ہلکا سا خم دیا۔ “پھر کیا کرنا ہے؟ پہلے کی طرح اس بزنس کو بھی تباہ کرنے کا ارادہ ہے؟”
(احمر سکندر پہلے بھی اپنی دو ٹیکسٹائل انڈسٹریز میں کافی نقصان اٹھا چکا تھا، اور تمام تر کوششوں کے باوجود وہ بزنس اسے فائدہ نہ دے سکا تھا۔ اب اس کے پاس صرف ایک ہی

بزنس بچا تھا جسے قائم رکھنے کے لیے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا۔شاہویز سکندر اگر خود کو بزنس کی دنیا کا بادشاہ کہتا تھا، تو وہ غلط نہیں کہتا تھا۔)

ٹھیک ہے، پھر ہوتے رہو خوار! ایک دن بہت پیچھے رہ جاؤ گے۔” شاہویز مزید رکا نہیں، سن گلاسز لگائے اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔ گاڑی میں بیٹھ کر اس نے مڑ کر اس طرف دیکھا جہاں احمر اب بھی کھڑا تھا۔
“مجھے جو چاہیے ہوتا ہے، وہ تو میں حاصل کر ہی لیتا ہوں۔۔۔” شاہویز سکندر کی گاڑی ایک جھٹکے سے سکندر محل سے نکل کر سڑک کی طرف فراٹے بھرنے لگی۔
احمر جانے کے لیے باہر آیا تو ڈرائیور کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ “کیا ہوا؟ میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو؟ چلو، مجھے دیر ہو رہی ہے۔” “صاحب جی! گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا ہے اور گیراج میں باقی گاڑیاں بھی موجود نہیں ہیں۔”

کیا؟ کیا بکواس ہے یہ؟”
پہلے تو احمر کو سمجھ ہی نہ آیا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے، لیکن اگلے ہی پل اس کے دماغ میں خطرے کے سائرن بجنے لگے کہ یہ سب شاہویز کا ترتیب دیا ہوا ایک ‘پلان’ تھا۔ نتیجہ

یہ ہوا کہ احمر اپنی میٹنگ میں وقت پر نہ پہنچ سکا اور اس کی زندگی کی ایک نہایت ضروری میٹنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔

ہم کہانی کے پہلے حصے کی طرف واپس لوٹتے ہیں، یعنی زمل اور مرحا کی جانب۔۔۔
“کیا ہوا یار؟ تیار ہو کر بیٹھ کیوں گئیں؟ چلو اب!” زمل نے حیرت سے پوچھا۔
“زمل! میرا دل نہیں کر رہا آج شادی میں جانے کا، طبیعت کچھ عجیب سی ہو رہی ہے۔” مرحا نے بے دلی سے جواب دیا۔
“زیادہ ڈرامے مت کرو مرحا! ہمیں جانا ہے تو بس جانا ہے، اور تم میرے ساتھ چل رہی ہو، اوکے؟ اور تمہیں تو پتہ ہے نا، تمہارے بغیر میرا وہاں بالکل دل نہیں لگے گا۔” زمل نے لاڈ سے مرحا کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا۔ وہ ضدی تو تھی ہی، آخر وہ زمل تھی

بس بس، رہنے دو! تمہارا دل تو وہاں خوب لگنا ہے، آخر تم نے وہاں جا کر کرنا ہی کیا ہے، بس وہی ٹک ٹاک ویڈیوز ہی تو بنانی ہیں۔” مرحا نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔

ارے! تم دونوں ابھی تک یہیں بیٹھی باتوں میں لگی ہو؟

جلدی سے تیار ہو جاؤ اب!” ایک با رعب مگر نرم آواز پر دونوں نے سر گھما کر دیکھا۔ رفعت بیگم کمرے کے دروازے پر کھڑی انہیں مخاطب کر رہی تھیں۔
رفعت ایک نہایت نفیس اور شائستہ خاتون تھیں۔ فاروق صاحب سے ان کی شادی کے ایک سال بعد مرحا کی پیدائش ہوئی تھی، جبکہ زمل مرحا سے چار سال چھوٹی تھی۔
رفعت بیگم کے کمرے میں آتے ہی دونوں نے پھرتی سے تیاری شروع کر دی، اس سے پہلے کہ اماں کے تیکھے طعنے سننے پڑتے۔

یہ کراچی کی ایک نہایت شاندار تقریب کا منظر تھا۔
ہال میں قدم رکھتے ہی آنکھیں روشنی اور سفیدی کے حسین امتزاج میں کھو جاتی تھیں۔ بلند چھت سے لٹکتے سنہرے فانوس اپنی نرم زرد روشنی بکھیر رہے تھے، جیسے ستارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ سفید ململ کے پردے لہروں کی طرح سجے تھے، جو ہلکی سی ہوا میں ہولے ہولے جھولتے ہوئے پورے ہال کو ایک خواب ناک فضا عطا کر رہے تھے۔ چمکتے ہوئے ماربل کے فرش پر فانوسوں کی روشنی یوں جھلملاتی تھی، گویا آئینے پر روشنی کا رقص ہو رہا ہو۔ گول میزیں سفید پوشاک میں ملبوس تھیں، جن کے گرد نفیس کرسیاں

ترتیب سے رکھی گئی تھیں۔ ہر میز پر سفید پھولوں کے گلدستے سجے تھے، جن کی بھینی بھینی خوشبو ماحول میں لطافت گھول رہی تھی۔

دور سامنے پھولوں اور روشنیوں سے سجا اسٹیج سب کی توجہ کا مرکز تھا، جہاں ہلکی موسیقی فضا میں سرور بھر رہی تھی۔ مہمانوں کی مدھم گفتگو، ہنسی اور خوشی کی سرگوشیاں اس تقریب کو زندگی سے بھر رہی تھیں۔ یہ محض ایک شادی نہیں تھی، بلکہ خوابوں اور محبت سے بنا ہوا ایک یادگار لمحہ تھا۔
مرحا، اپنی شخصیت میں بلا کا اعتماد لیے، ایک سادہ مگر بے حد نفیس لباس میں ملبوس تھی۔ ہلکے رنگ کا فلوئی فراک اور چہرے پر وہی کشش، جو اس کی نرم مزاجی کا عکس تھی۔ دوسری طرف زمل اس کے بالکل برعکس، جدید تراش خراش والا اسٹائلش لباس پہنے ہوئے تھی اور اس کے چہرے پر میک اپ کی ایک نفیس تہہ جمی تھی۔

ہال میں رنگ برنگے کپڑوں، قیمتی زیورات اور مہنگی خوشبوؤں کا ایک سیلاب تھا کہ اچانک سب کی نظریں دروازے کی طرف اٹھ گئیں۔۔۔ مہنگا لباس، اعتماد سے بھرپور

چال اور چہرے پر وہ دل فریب مسکراہٹ، جو اس کی خوبصورتی کو مزید اجاگر کر رہی تھی۔ وہ ایسی شخصیت تھی جو پل بھر میں لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی تھی۔ سب کی نظریں اس کی طرف تھیں جب شاہویز سکندر کی انٹری ہوئی۔
سب کی نظروں کے تعاقب میں زمل نے بھی اسی طرف دیکھا جہاں شاہویز سکندر اپنے خاص لوگوں سے بغل گیر ہو رہا تھا۔ اس کے ساتھ گارڈز کا ایک دستہ تھا جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا تھا، جبکہ ہال کے باہر بھی پانچ مزید گاڑیاں موجود تھیں جن میں مسلح گارڈز اس کی سیکیورٹی پر مامور تھے۔

زمل کی نظریں اس کی طرف ایسے اٹھیں کہ پھر پلٹنا ہی بھول گئیں۔
“وہ کون ہے مرحا؟ دیکھو تو ذرا۔۔۔” زمل کی نگاہیں ابھی بھی شاہویز سکندر پر جمی ہوئی تھیں۔ مرحا نے ایک سرسری سی نظر شاہویز کی طرف ڈالی اور پھر واپس گردن جھکا لی۔ وہ موبائل فون استعمال کرنے میں مصروف تھی اور اس کی انگلیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر حرکت کر رہی تھیں۔
“پتہ نہیں کون ہے، تم بیٹھ جاؤ آرام سے۔۔۔ ہوگا کوئی امیر زادہ۔” مرحا نے بے نیازی سے جواب دیا۔


جو بھی ہے، لاجواب ہے! اس کا اندازِ گفتگو، اس کے دیکھنے کا انداز۔۔۔ واہ! کیا بات ہے۔ کتنا خوبصورت لگ رہا ہے، جیسے خالق نے بڑی فرصت اور خاص اہتمام سے اس وجود کو تمام خوبیوں سے نوازا ہو۔” زمل نے شاعرانہ انداز میں سرگوشی کی، مگر مرحا نے اسے سن لیا تھا۔
مرحا نے زمل کی طرف گھور کر دیکھا۔ “بیٹھو۔۔۔ بیٹھو آرام سے! ایسا بھی کوئی شہزادہ نہیں ہے وہ، جو تمہاری زبان اس کے قصیدے پڑھنے لگی ہے۔”
زمل نے خفا ہو کر کہا، “ہنہ! وہی بات ہوئی نا، بندر کیا جانے ادرک کا سواد۔۔۔”
مرحا نے تیکھی نظروں سے اسے گھورا۔ “کیا مطلب تمہارا؟”

کچھ نہیں بھئی، کچھ نہیں! بس یہی کہ تمہیں نہیں معلوم کہ آج کل ایسے ‘ہینڈسم’ اور پُرکشش لوگوں کی کتنی کمی ہے۔ اس لیے جہاں بھی قدرت کی خوبصورتی نظر آئے، تعریف کر دینی چاہیے۔”
“کتنا فضول بولتی ہو تم زمل!” مرحا نے جھنجھلا کر کہا۔ “ہنہ! بور لڑکی۔” زمل نے بھی جوابی چوٹ کی۔
مگر وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھیں کہ اس سب منظر سے

وہ شخص بھی واقف تھا جو ان کی اس بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔

شاہویز سکندر کے مغرور اور پُراعتماد انداز نے مرحا کو ایک ناخوشگوار احساس سے دوچار کر دیا تھا۔ شاہویز ان سے اتنے فاصلے پر تو تھا کہ باتوں کو صاف سننا محال تھا، مگر اس کی سماعتوں تک ان کی گفتگو کی گونج باآسانی پہنچ رہی تھی۔
(ہال کے دوسرے کونے میں رفعت اور فاروق صاحب، غضنفر صاحب کے ساتھ تھے جو رفعت بیگم کے بھائی تھے)۔
شاہویز کی پراسرار نگاہیں مرحا کے چہرے پر ہی ٹھہر کر رہ گئی تھیں۔ وہ بظاہر تو مہمانوں سے ملنے میں مصروف تھا، مگر اس کا ذہن ان دونوں بہنوں کی گفتگو سے نہ صرف لطف اندوز ہو رہا تھا بلکہ وہیں سے ایک نئی سازش کی شروعات بھی ہو رہی تھی۔ شاہویز سکندر کو اپنی شخصیت کا سحر ہر جگہ پسند تھا، اسی لیے سامنے بیٹھی اس لڑکی کی ‘بے اعتنائی’ اور ‘لاپرواہی’ اسے ذرا بھی پسند نہیں آئی تھی۔

زمل ابھی بھی ہر بات سے بے خبر مرحا سے باتوں میں مگن تھی، جبکہ مرحا فون پر انگلیاں جمائے اسکرین میں کھوئی

ہوئی تھی کہ اچانک اسے اپنے قریب کسی وجود کی آہٹ محسوس ہوئی۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو شانزے، شاہویز سکندر کے ساتھ چلتی ہوئی ان کی میز کے پاس آ کر رکی تھی۔ شانزے، جو رفعت بیگم کی بھتیجی تھی، نے مسکراتے ہوئے مرحا کو مخاطب کیا

ہیلو مرحا! کیسی ہو؟ ہیلو زمل!”
شانزے نے گرم جوشی سے مرحا اور زمل سے ہاتھ ملایا اور انہیں گلے لگایا۔ جب شانزے مرحا کے گلے مل رہی تھی، تو شاہویز سکندر بالکل اس کے پیچھے کھڑا تھا۔ ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں مرحا اور شاہویز کی نظریں آپس میں ٹکرائیں۔ اگلے ہی پل مرحا نے بڑی بے نیازی سے نگاہیں پھیر لیں، جبکہ شاہویز کے لیے اپنی نظریں ہٹانا اس وقت کسی مشکل کام سے کم نہ تھا۔نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے اپنی نگاہیں نیچی کر لیں۔
“ہممم۔۔۔ پھوپھو کہاں ہیں؟” شانزے نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔

وہ شاید یہیں کہیں ماموں کے ساتھ ہوں گی۔” مرحا نے مختصر جواب دیا۔

“اچھا، تم ان سے ملو! یہ میرے اور انس کے بہت اچھے دوست اور میرے کلاس فیلو بھی ہیں۔ شاہویز سکندر۔۔۔ بزنس کی دنیا کے بے تاج بادشاہ، جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔” شانزے نے فخریہ انداز میں تعارف کروایا۔
(انس وہی تھا جس کی شادی کی یہ تقریب تھی، اور شانزے کی فیملی کافی حد تک اوپن مائنڈ تھی)۔

مرحا نے نہایت رسمی سی مسکراہٹ اپنے لبوں پر سجائی اور صرف مروت میں کہا، “نائس ٹو میٹ یو!۔۔۔ اچھا، اب ہم چلتے ہیں، بابا بلا رہے ہیں۔”
زمل آگے بڑھ کر ہاتھ ملانا چاہتی تھی، لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنی جگہ سے ہلتی، مرحا نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے لے کر آگے بڑھ گئی۔ وہ وہاں ایک پل کے لیے بھی مزید رکنا نہیں چاہتی تھی۔
شاہویز سکندر کو اپنی بااثر شخصیت کا اس طرح ‘نظر انداز’ ہونا ایک بار پھر بہت برا لگا۔ اسے اس لڑکی کی یہ بے رخی کھٹکنے لگی تھی۔
لیکن کیوں؟؟کیا تھا ایسا؟؟۔۔۔
یہ وقت ہی بتائے گا۔۔۔
اسٹیج کی طرف بڑھتے ہوئے زمل نے خفگی سے مرحا سے

کہا،”ویسے یار! تمہیں اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مرحا، انہیں تمہارا یہ رویہ یقیناً برا لگا ہوگا۔”
مرحا نے نظریں گھما کر زمل کو دیکھا اور پھر خاموش ہوگئی۔ زمل کے شوخ انداز اور لہجے میں ایک الگ طرح کی ضد صاف چھلک رہی تھی۔ مرحا نے ایک گہرا سانس لیا اور نہایت نرم مگر پُراعتماد لہجے میں پوچھا، “تمہیں ان کی اتنی فکر کیوں ہو رہی ہے زمل؟”
“نہیں! میں تو بس ویسے ہی کہہ رہی ہوں کہ ہمیں اس طرح وہاں سے چلے نہیں آنا چاہیے تھا۔ ہم وہاں تھوڑا ٹھہر بھی سکتے تھے۔” زمل نے صفائی پیش کی۔
“دیکھو زمل! مجھے تمہارے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔ آخر چل کیا رہا ہے تمہارے دماغ میں؟”

زمل نے جھنجھلا کر کہا، “اوہو مرحا! تم بھی پیچھے ہی پڑ جاتی ہو، ہر بات میں بال کی کھال اتارنے لگتی ہو۔ میں تو بس یوں ہی کہہ رہی تھی کہ ایسا کرنا مناسب نہیں تھا، بدتمیزی لگتی ہے۔ دیکھو نا، وہ دکھنے میں بھی کتنا اچھا اور سلجھے ہوئے خاندان کا لگ رہا ہے۔ تم نے بے وجہ اپنا موڈ بھی خراب کیا اور ہمارا بھی۔”
مرحا نے ایک بار دور کھڑے شاہویز سکندر کی طرف دیکھا اور

پھر گویا ہوئی، “ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی زمل، سنا ہے نا تم نے؟” اب اس کی نگاہیں زمل کے چہرے پر مرکوز تھیں۔ “اور جو نظر آتا ہے، وہ حقیقت میں ہمیشہ ویسا نہیں ہوتا۔ لوگ جیسے دکھتے ہیں، ویسے ہوتے نہیں ہیں۔”

زمل سن تو مرحا کو رہی تھی لیکن اس کا دل اور دماغ کہیں اور ہی بھٹک رہا تھا۔ اس کے دل میں کسی انجانے احساس نے جگہ بنا لی تھی، جس کی خبر نہ ہمیں تھی اور نہ ہی مرحا کو۔ مرحا کو ہمیشہ وہ لوگ متاثر کرتے تھے جو دل کے سچے اور مخلص ہوں، جن کی آنکھوں میں سچائی اور لفظوں میں گہرائی چھپی ہو؛ جبکہ زمل کی طبیعت مرحا سے بالکل مختلف تھی۔
مرحا نے زمل کی طرف دیکھا اور ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “اصل کشش اور اصل چمک وہ ہوتی ہے جو انسان کے کردار سے جھلکے، نہ کہ اس کے مہنگے لباس سے۔ جو دکھاوے سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے دل جیتنا جانتے ہوں، وہی معتبر ہوتے ہیں۔ اور زمل! تمہیں اب بالکل بھی ان فضول خیالات کو اپنے دماغ میں جگہ دینے کی ضرورت نہیں ہے، سمجھ گئیں تم؟”

اچھا بھئی! میں کچھ نہیں سوچ رہی۔ تم بھی اتنی سی بات کو لے کر بیٹھ گئی ہو۔ میری ہی غلطی ہے کہ میں نے تم سے کچھ کہا۔ چلو اب، بابا بلا رہے ہیں اسٹیج پر۔” زمل نے بات ختم کی اور اسے اسٹیج کی طرف لے گئی۔

_۔۔۔۔۔۔۔*******___

ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والا نوجوان تھا، جو کراچی کے پوش علاقے میں پلا بڑھا مگر اب ترکی کی ایک بہترین یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ اسے ترکی آئے چار سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ یہ چار سال صرف گزرے نہیں تھے، بلکہ ان سالوں میں استنبول کی حسین راتوں، پُرسکون دنوں اور وہاں کی سحر انگیز تہذیب و ثقافت نے اسے اپنے سحر میں جکڑ رکھا تھا۔

چونکہ اب واپسی کا وقت قریب تھا اور کل صبح اسے پاکستان کے لیے روانہ ہونا تھا، وہ اس وقت بھی لیدر جیکٹ، سفید شرٹ اور بلیک جینز میں ملبوس، ہاتھ میں ٹرینڈلی واچ پہنے ‘استقلال اسٹریٹ’ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کی شخصیت کی سب سے پُرکشش بات اس کی آنکھیں تھیں؛

گہری اور پُرسکون آنکھیں، جن پر جب سورج کی شعاعیں پڑتیں تو وہ بھورے رنگ کی شفاف جھیل بن جاتی تھیں۔ بال وہ ہمیشہ ہی اسٹائلش اور ‘میسی’ رکھتا تھا، جو اس کی شخصیت کو مزید متاثر کن بنا دیتے تھے۔ وہ پُراعتماد قدموں سے چلتا جا رہا تھا کہ اچانک کسی کی پکار سنائی دی:

ارتضیٰ! رکو۔۔۔”
اسے محسوس ہوا جیسے کوئی بہت دور سے اسے آواز دے رہا ہے۔ نکو، ارتضیٰ کو روکتے ہوئے اور آوازیں دیتے ہوئے ہانپتا ہوا اس کے پاس آ کر رکا۔
“ارتضیٰ! نکو تم یہاں؟” ارتضیٰ نے حیرت سے پوچھا۔ “کیا ہوا یار؟ تم یہاں کیسے؟ تم تو آج صبح اپنی ماما سے ملنے جانے والے تھے نا، پھر یہاں کیا کر رہے ہو؟ گئے نہیں؟”

(نکو ایک کرسچن لڑکا تھا، سنہری آنکھوں اور اچھی شکل و صورت کا مالک۔ وہ ایک ‘بروکن فیملی’ سے تھا؛ ماں باپ کی علیحدگی کے بعد وہ ہاسٹل میں رہتا تھا۔ اس کی ماں انجلینا اور باپ پیٹر دونوں اپنی اپنی زندگیوں میں مگن تھے اور دوسری شادیاں کر چکے تھے۔ نکو ہاسٹل میں تنہا رہتا تھا، جہاں اس کی ماں مہینے میں ایک دو بار اور باپ دو تین ماہ

میں ایک آدھ بار ملنے آیا کرتے تھے۔ آج بھی اس کی ماں ملنے آنے والی تھی، لیکن ارتضیٰ کے جانے کی خبر سن کر نکو نے انہیں منع کر دیا اور اس سے ملنے چلا آیا۔ نکو کو اردو بھی ارتضیٰ نے ہی سکھائی تھی، کیونکہ نکو نے اس کے علاوہ کبھی کسی کو دوست نہیں بنایا تھا۔اس کے ہم جماعت اسے اس کے خاندانی پس منظر کی وجہ سے اکثر مذاق کا نشانہ بناتے تھے، لیکن ارتضیٰ کی رفاقت نے اسے بدل دیا تھا اور وہ اب لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھ گیا تھا)۔

ہاں، میں مما سے ملنے جانے والا تھا، لیکن مجھے ابھی پتہ چلا کہ تم کل جا رہے ہو۔ تو سوچا تم سے مل لوں۔۔۔ تم رک کیوں نہیں جاتے؟ تھوڑے دن اور رک جاؤ یار، میں تمہیں بہت مس کروں گا۔” نکو نے اداسی سے کہا۔
ارتضیٰ نے ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نکو کو دیکھا اور بولا: “جانا تو ہے نا یار! پڑھائی کے لیے آیا تھا، اب تعلیم مکمل ہو گئی ہے اور میرا ویزا بھی ختم ہو چکا ہے، اب مزید کیسے رک سکتا ہوں؟”
ارتضیٰ کی بات سن کر نکو کا چہرہ مایوسی سے بجھ سا گیا۔
“چلو آؤ، آج ساتھ ڈنر کرتے ہیں۔” ارتضیٰ نے نکو کا اداس چہرہ دیکھ کر پیشکش کی، جس کو اس نے فوراً خوشی سے قبول

کر لیا۔

ڈنر کے دوران ہاتھ میں کانٹا پکڑتے ہوئے نکو نے ارتضیٰ سے پوچھا: “تم اپنے ملک جا کر مجھے بھول تو نہیں جاؤ گے نا یار؟ میرا تو تمہارے علاوہ کوئی دوست بھی نہیں ہے۔”۔
ارتضیٰ نے کھانے سے ہاتھ روک کر نکو کی طرف دیکھا اور بڑی سنجیدگی سے کہا: “اللہ سب کا سب سے بہترین دوست ہوتا ہے نکو! اور تم پریشان نہ ہو، ہم فون پر بات کرتے رہیں گے، ہماری دوستی ختم نہیں ہوگی۔”

^^^^^_^^^^__

شادی ہال میں لوگوں کا اژدہام تھا، ہر طرف قہقہوں اور خوشبوؤں کا راج تھا۔ مرحا اور زمل اسٹیج پر بیٹھے دولہا دلہن کے ساتھ مختلف پوز بنوا رہی تھیں۔ زمل چند تصویریں بنوا کر اسٹیج سے نیچے اتر آئی، آخر اسے اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز بھی تو بنانی تھیں۔ مرحا بھی کچھ دیر بعد اسٹیج سے نیچے آ گئی اور اپنی کزنز کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئی۔ کسی بات پر اس کے لبوں پر ایک دل آویز مسکراہٹ بکھر گئی۔

کچھ ہی فاصلے پر کھڑا شاہویز سکندر مسلسل مرحا کو ہی دیکھ رہا تھا۔ مرحا نے جیسے ہی اپنے وجود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کی، بے ساختہ آنکھیں گھما کر دیکھا۔ شاہویز سکندر ابھی بھی اسی پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔ مرحا نے ایک سرد اور ناگوار نظر اس پر ڈالی اور فوراً منہ پھیر لیا۔ شاہویز کے لبوں پر ایک ہلکی سی فاتحانہ مسکراہٹ آئی اور اس نے اپنی نگاہیں وہاں سے ہٹا لیں۔
دوسری طرف زمل اپنی ویڈیو بنانے میں اتنی مگن تھی کہ اسے گرد و پیش کی خبر نہ تھی۔ شاہویز کی نگاہیں مرحا پر سے گزرتی ہوئی اب زمل پر آ کر ٹھہر گئیں۔ وہ بڑے پُراعتماد قدموں کے ساتھ چلتا ہوا آیا اور بالکل زمل کے عقب (پیچھے) میں کھڑا ہو گیا۔ زمل اپنی ویڈیو ریکارڈ کر کے جیسے ہی پیچھے مڑنے لگی، شاہویز سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
“اوہ! آئی ایم سوری، میں نے دیکھا نہیں تھا۔۔۔” زمل نے ہڑبڑا کر معذرت چاہی۔
“لیکن میں تو دیکھ رہا تھا!” شاہویز نے اپنی مخصوص بھاری آواز میں جواب دیا۔
“جی؟” زمل نے حیرت سے اسے دیکھا، وہ شاہویز کی بات کا مطلب سمجھ نہ سکی۔
شاہویز نے اپنے لبوں پر ایک مکاری بھری مسکراہٹ سجائی اور

ستائشی لہجے میں کہا، “میں نے دیکھا کہ آپ ایک بہترین ویڈیو میکر ہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ ہنستے ہوئے آپ اور بھی زیادہ خوبصورت لگتی ہیں۔”
دور کھڑی مرحا کی نظر ان دونوں پر پڑی تو شاہویز کو زمل کے اتنا قریب دیکھ کر اس کی بھنویں سکڑ گئیں۔ وہ تیزی سے شاہویز کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہوئی زمل کے پاس آ کر رکی۔ “زمل! تم یہاں ہو؟ امی کب سے بلا رہی ہیں ہمیں، چلو اب جلدی کرو، کیا گھر نہیں چلنا؟”
وہ زمل کا ہاتھ تھام کر وہاں سے لے گئی، جبکہ شاہویز ایک گہری سازشی مسکراہٹ چہرے پر سجائے انہیں دور جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کھیل کا پہلا مہرہ کون بنے گا۔
تقریب اختتام پذیر ہوئی اور سب اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہو گئے۔ گھر پہنچ کر فاروق صاحب نے صوفے پر ڈھیر ہوتے ہوئے کہا، “بہت تھکن ہو گئی آج تو شادی میں۔۔۔ مرحا بیٹا! اگر ایک کپ چائے مل جائے تو مزہ آ جائے اور تھکن بھی اتر جائے۔”
“جی بابا! میں ابھی لاتی ہوں۔” مرحا نے مسکرا کر جواب دیا۔
چائے کے کپ سے اٹھتے دھوئیں کے مرغولوں میں منظر بدلا اور۔۔۔

رات کا پچھلا پہر تھا؛ شہر کی ایک بلند و بالا عمارت کی چھت پر یخ بستہ ہوا کے تھپیڑے پڑ رہے تھے۔ کراچی کی روشنیاں پیروں تلے بکھری ہوئی تھیں، مگر شاہویز سکندر کی آنکھوں میں صرف اندھیرا تھا۔ وہ ریلنگ کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا، انگلیوں میں سلگتا سگار اور آنکھوں میں ماضی کے دکھوں اور پرانے زخموں کی چنگاریاں تھیں۔ اچانک ذہن کے نہاں خانوں میں گزرے وقت کی گونج بیدار ہوئی۔۔۔
۔
آٹھ سال کی معصوم عمر۔۔۔ ماں کی وہ میٹھی اور محبت بھری آواز۔۔۔ اور پھر اچانک سب کچھ ملیامیٹ ہو گیا۔ سب ختم! پیچھے بچا تو صرف ایک لامتناہی خالی پن۔ شاہویز اور احمر کی سگی ماں کی موت ایک ایسا صدمہ تھا جسے شاہویز نے کبھی لفظوں کی زبان نہیں دی تھی، بس اسے اپنے اندر قید کر لیا تھا۔
ماں کی وفات کے چند ماہ بعد ہی عثمان سکندر نے دوسری شادی رچا لی۔

شاہویز اپنی ماں کا فیورٹ تھا؛ بچپن سے ہی ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک چنچل،چلبلا اور نٹ کھٹ سا بچہ، جو اپنی معصوم حرکتوں سے سب کی توجہ کا مرکز بن جایا کرتا تھا۔

کبھی سکندر محل اس کی شرارتوں سے گونجا کرتا تھا۔ اس کے برعکس بڑا بھائی احمر شروع سے ہی کم گو اور سنجیدہ تھا۔اور انیتا نہ صرف گھر سنبھالتی تھیں بلکہ بزنس میں بھی سکندر صاحب کی دستِ راست تھیں اور اپنے تمام شیئرز عثمان سکندر کے حوالے کر دیے تھے۔

شاہویز اپنی ماں کی جگہ کسی اور کو دینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، اس لیے اس نے سوتیلی ماں کو کبھی قبول نہ کیا، مگر احمر کا مزاج مختلف تھا۔ وہ اپنے باپ کو ناراض کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس نے تلخ حقیقت کو تسلیم کر کے باپ کی حمایت اور محبت پا لی۔ لیکن شاہویز؟ جسے ماں کے جانے کے بعد بچپن ہی سے صرف اپنی ذات پر انحصار کرنا پڑا، اس نے خود کو وقت سے پہلے سمجھدار بنا لیا۔ اس نے خود کو اس طرح تراشا کہ کوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھانے سے پہلے سو بار سوچے۔ دنیا کی نظر میں وہ ایک کامیاب انسان تھا، گولڈ میڈلسٹ، ذہانت کے میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ دینے والا۔۔۔ لیکن کیا وہ واقعی ایک مکمل انسان تھا؟؟

اس کے دل کے رستے زخم کوئی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ باپ

کی انا، سوتیلی ماں کے ستم اور اپنے ہی گھر میں اجنبیت کا احساس؛ یہ سب مل کر اسے وہ بنا گئے جو وہ آج تھا۔۔۔ ایک پتھر دل، خطرناک، شاطر دماغ اور ایسا شخص جو ہر قیمت پر اپنی جگہ بنانا جانتا تھا۔ عثمان سکندر کے ساتھ اس کی انا کا مسئلہ ہمیشہ رہا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان خاموشی کی خلیج بڑھتی چلی گئی۔ بزنس تو اصل میں اس کی ماں کا تھا، جو قانونی طور پر اب شاہویز کے نام ہو چکا تھا۔۔۔ماں کی آخری نشانی! سکندر صاحب نے اپنی دوسری بیوی کے کہنے پر ہمیشہ کوشش کی کہ وہ اس بزنس پر حاوی نہ ہو سکیں، مگر وہ اس سچائی کو بدلنے سے قاصر تھے۔ احمر نے تو اپنے حصے کے شیئرز آسانی سے باپ کے نام کر دیے تھے،

(جو اس کے بالغ ہونے پر اس کو واپس سونپ دیے)

لیکن شاہویز کو اپنی ہر کامیابی، اپنی صلاحیتوں اور دماغ سے ثابت کرنی پڑی۔

ماضی کی دھند چھٹی تو شاہویز کی آنکھوں میں ایک سرد اور سفاک مسکراہٹ ابھری۔”سب یہی کہتے ہیں کہ میں سخت مزاج ہوں، بے رحم ہوں۔۔۔ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ میں

ایسا کیوں بنا؟”
ہوا مزید تیز ہو گئی تھی۔ نیچے شہر کی رونقیں دم توڑ رہی تھیں اور اوپر چھت پر وہ اپنی تنہائی کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ اب صرف ایک بات جانتا تھا؛ طاقت، عقل مندی اور ہر چیز پر مکمل قابو ہی اس کا راستہ ہے۔ کسی پر بھروسہ کرنا اس کی لغت میں نہیں تھا، کیونکہ اس کے نزدیک احساس رکھنے والے ہمیشہ زخمی ہوتے ہیں، اور وہ اب زخم کھانے والوں میں سے نہیں تھا، وہ صرف زخم دینا جانتا تھا۔
اس کا ماضی بالکل اچھا نہیں تھا

سگار کا آخری کش لے کر اس نے دھواں فضا میں اچھالا اور بڑبڑایا:

“یادِ ماضی عذاب ہے یارب!
چھین لے مجھ سے میرا حافظہ!”

جملہ حقوق محفوظ ہیں۔!!
اگلی قسط اگلے ہفتے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *