SAFAR E YARAN BY MOMINA AZAM EPISODE 4.

Email I’d :mominaazam420@gmail.com

Instagram User I’d : mominaaz_pen

 

https://www.instagram.com/mominaaz_pen?igsh=ajM5ZnZnM2pucmJ3

 

Writer Name in English and Urdu :

مومنہ اعظم

Momina Azam

 

Novel Name in English and Urdu :

سفرِ یاراں

Safar e Yaran

 

Novel Description in Urdu :

داڑھیوں، تسبیحوں، مصّلوں، برقعوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ان کے پیچھے چھپی نیتیں جب میزان میں رکھی جائیں گی تب حشر برپا ہوگا۔قیامت لگے گی۔

 

Novel theme: college Based, Romcom, Emotional, Religious ,Social reform, Mystery & Thriller 

 

Episode : 04

 

Total Words:6068

 

Novel Status: Ongoing

سفرِ یاراں از مومنہ اعظم


چوتھی قسط


دوپہر کا وقت تھا۔ سویرا کے گھر اس وقت خوب چہل پہل تھی۔
ایک بوڑھی سی رشتہ کروانے والی آنٹی جس کا نام شاید فرزانہ تھا، وہ لڑکے کی فربہ ماں اور بہن شہلا کے آگے سویرا کے گن گائے جارہی تھیں۔۔
“(ناگن زولفوں، دودھیا رنگت اور ہرنی جیسی آنکھوں والی لڑکی ہے تہمینہ بہن۔تمہارے گورے، چٹے اونچے لمبے گبرو جوان، بارعب ذوالفقار کے ساتھ بڑی بچے گی۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔)”
اور ان کے ساتھ آئے بد تہزیب بچے میز پر موجود لوازمات کے ساتھ انصاف کرنے میں مصروف تھے۔ ایک دوسرے سے نمکو، سموسے نگٹس وغیرہ چھین چھین کر کھاتے ہوئے۔۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد شہلا انہیں گھورتی تو وہ مسکین سی شکل بنا کر پورے ایک سیکنڈ کیلئے ٹک کر بیٹھ جاتے۔۔
اور جیسے ہی وہ سیکنڈ پورا ہوتا وہ دونوں آستینیں چڑھا کر واپس کھانے پر جھپٹ پڑتے۔

“باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی صفیہ باجی پہلے ہماری بہو کو تو بلا لائیں۔۔ہم بھی دیکھیں بچی ہے کیسی۔۔” ذوالفقار کی والدہ نے مسکرا کر کہا تو صفیہ صاحبہ سر ہلا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔
چند لمحوں بعد سویرا اپنی والدہ کے ہمراہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔
ہلکے پھلکے میک کے ساتھ، دوپٹے کو ذرا مزید چہرے پر گرائے، کاسنی رنگ کے لانگ فراک میں ملبوس سویرا چہر ا جھکائے اپنی والدہ کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئی تو لڑکے کی تہمینہ صاحبہ اور شہلا نے بے اختیار اٹھ کر اسے گلے سے لگایا۔ اور اسے اپنے ساتھ ہی صوفے پر بٹھا دیا۔
” ارے بھا بھی چہرہ تو دکھائیں ہم بھی تو دیکھیں ذوالفقار بھائی کی ہو نیوالی دلہن کیسی ہے۔”
شہلا نے سویرا کا چہرہ اٹھایا اور دیکھنا چاہا۔۔
مگر اگلے لمحے ہی اسکی چیخ گونج گئی۔
سویرا نے فوراً اپنی آنکھوں کو بھینگا کر دیا تھا مسکرا کر اسے دیکھتی ذوالفقار کی بہن صوفے پر اچھل اچھل سی گئی۔
” بھینگی ، امی یہ تو بھینگی ہے۔ ری فرزانہ!
تیری ہرنی آنکھوں والی لڑکی تو بھینگی نکلی۔ ”
وہ صدمے سے منہ پر ہاتھ رکھے صوفے کے ہتھے پر چڑھ کر بیٹھ گئی۔ “

“پاگل ہے توں شہلا ایسے کیسے بھ بھ بھینگی۔۔”
وہ عورت اپنی بیٹی کو گھورتی سویرا کا چہرہ اپنی طرف کرتے اسے دیکھتے بول رہی تھیں کہ “بھینگی سویرا کو دیکھ کر وہ بھی منہ پر ہاتھ رکھتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔

“اری شہلا یہ تو سچ میں بھینگی ہے میرے چن ورگے ذوالفقار کی دولہن بھینگی”
وہ ہکا بکا سی کھڑی تھیں۔
اس سارے وقت سویرا کی والدہ کے غصے کا گراف آسمان کو چھو رہا تھا۔ سویرا نے آنکھوں میں نمی لیے اپنی والدہ کی جانب چہرہ گھمایا۔ تو وہ فوراً صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ؟ آپ کی ہمت کیسے ہوئی میری چاند سی بیٹی کو ایسا کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے آپ کو۔ اگر رشتہ نہیں کرنا تھا تو نہ کرتے کم سے کم اپنی اصلیت تو نہ دکھائیں۔” وہ سویرا کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئی ان ماں بیٹی کو گھورنے لگیں۔
فرزانہ بیگم بوکھلائی سی ان سب کو دیکھ رہی تھی البتہ بچے ابھی تک بچے ہوئے کھانے سے انصاف کرنے میں مصروف تھے۔
“ارے۔ ارے بھابھی” فرزانہ بوکھلاتی ہوئی سویرا کی والدہ کے ساتھ جا کھڑی ہوئی۔
“بھینگا چاند آنٹی۔۔آپکی بیٹی بھینگا چاند ہے۔۔” پیچھے سے شہلا نے کہا تو سویرا کی والدہ کی تو جیسے بس ہی ہو گئی۔
“بس بہت ہو گیا بدتمیزی کی بھی حد ہوتی ہے۔ ہم نے نہیں کرنا آپ جیسے لوگوں سے رشتہ چلے جائیں آپ یہاں سے۔”سویرا کی والدہ بولیں تو لڑکے کی ماں کی تیوری چڑھ گئی۔
” بڑے نخرے ہیں بھئی۔۔گھر میں بھینگا چاند بٹھا کر نخرے نہیں کرتے بی بی۔۔ چلو شہلا چلیں۔ مہروز، زین چلو بس کرو انکے گھر کے کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے ہم شکر ہے تم لوگوں نے کسی کھانے کی چیز کو نہیں چھیڑا۔ “ذوالفقار کی ماں مہروز اور زین کو کھانے کی میز سے تقریباً گھسیٹتے ہوئے علیحدہ کرتی فرزانہ کے ہمراہ چل دیں۔
اس سارے وقت سویرا کی سوں سوں جاری و ساری تھی۔
” کچھ نہیں ہوتا بیٹا چھوڑ انہیں۔۔ ایسے بدتمیز لوگ ہوتے ہیں ہر معاشرے میں، جنہیں کسی کی بہن بیٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا معیوب نہیں لگتا۔ مگر شکر ہے اللہ کا کہ انکی اصلیت پہلے سامنے آگئی اور بر وقت اللہ نے ہمیں ان سے بچالیا۔ جاؤ تم آرام کرو ٹینشن نہ لینا تمہارے بابا آئیں تو میں بتاتی ہوں انہیں ان لوگوں کے بارے میں۔ “
سویرا کی والدہ نے اسے پچکارا تو وہ سر ہلا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسنے بھنگڑا ڈالنا شروع کیا آج وہ بہت خوش تھی۔
” مشن سکسیس فل!!” وہ خوشی سے چہکی۔
تھوڑی دیر تک فاروق صاحب آگئے تو. سویرا کی والدہ نے انہیں بھی ساری روداد سنائی۔

______________

 

“وولف کل اس لڑکی کے رشتے والے آئے تھے۔” حدائق نے فائلز سیٹ کرتے اطلاع دی تو بازل نے بھنویں اُچکا کر اسے دیکھا۔
“کس لڑکی کے؟”بازل جو کسی فائل پر گردن جھکائے بیٹھا تھا گردن اٹھا کر اسے دیکھا ۔”اس لڑکی کے۔۔ کیا نام تھا بھلا اسکا۔ ہاں یاد آگیا سمیرا۔ اسکا رشتہ دیکھنے آئے تھے کچھ لوگ۔” حدائق نے مزید بتایا اور فائلز کا ایک پلندہ اٹھا کر شیلف پر رکھا۔۔ “سمیرا؟ کون سمیرا؟ ” بازل اچھنبے سے پوچھ رہا تھا انداز صاف جھنجھلا ہوا تھا۔
“یار وہ لڑکی جس نے تمہاری ٹانگ توڑی تھی۔مطلب جس نے تمہیں کھمبے میں دے مارا تھا اور تمہاری ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔” بازل نے اسے گھور کر دیکھا اور باقاعدہ میز پر پڑا پیپر ویٹ اٹھا کراسے دے مارا۔
“لانت ہو تم پر! سویرا نام ہے اس لڑکی کا جسے بچانے کیلئے میں کھمبے سے جا ٹکرایا تھا۔”بازل نے تصحیح کی۔۔تو حدائق کے ہونٹ” اوہ ” میں سکڑے۔” اوہ اچھا۔۔سویرا۔۔ہاں وہی! اسکے رشتے والے آئے تھے کل۔”
“کیا مطلب ہے تمہارا؟ تم نے ان لوگوں کو اسکے گھر میں جانے ہی کیسے دیا؟” وہ بھڑک اٹھا تھا۔
حدائق نے گردن گھما کر اسے دیکھا۔معاملہ سنگین تھا شاید۔
“یار مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اس لڑکی کے بارے میں اتنا سیریس ہو۔” حدائق نے معصوم شکل بنائی۔ “پہلی بات یہ کہ تم اسے لڑکی نہیں بلکہ بھابھی بولو گے اور دوسری بات یہ کہ سویرا صرف میری ہے صرف بازل شاہ کی۔۔ میرے علاوہ کسی اور کے بارے میں صرف سوچنے کی بھی میں اسے اجازت نہیں دونگا۔ اس پر، اسکی سوچ پر، اور اسکی باتوں پر صرف بازل شاہ کا حق ہے۔ وہ میری ہے صرف میری۔ آج تک جس کو بھی میں نے چاہا ہے وہ مجھ سے دور چلا گیا، بہت دور، یہاں تک کہ اس کے پاس جانے کیلئے مجھے موت کو گلے لگانا ہو گا۔ مگر اب ایسا بالکل بھی نہیں ہو گا میں سویرا کو خود سے دور نہیں جانے دے سکتا۔ “اس نے فائل بند کر کے میز پر پھینکی۔
” حدائق گاڑیاں نکالو فوراً اور ایک مولوی کا بھی انتظام کرو۔ آج اور ابھی میں سویرا سے نکاح کروں گا۔” وہ جنونی انداز میں بولتا باہر چل دیا۔حائق منہ کھولے سکتے کی حالت میں اسے جاتے دیکھتا رہا۔۔راہداریوں میں اسکی دھاڑیں گونجنے لگیں۔
گاڑیاں روانہ ہو چکی تھیں۔ موسم خوشگوار ہونے جا رہا تھا۔
ہوائیں رقص کناں تھیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ ہوائیں خوشیوں کے پیغام لاتی ہیں۔
فضائیں سرگوشیاں کر رہیں تھیں۔
وہ پوچھ رہی تھیں۔۔
“آج سویرا کرامت، بازل شاہ کی منکوحہ بننے جا رہی تھی؟
کیا وہ بازل کے رنگ میں رنگنے جا رہی تھی؟”
سیاہ آسمان شاہد سا اس سارے منظر کو تکے جارہا تھا۔


ہلکی ہلکی بونداباندی شروع ہو گئی تھی۔ سویرا بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی تھی باقی سارے بچے تو جا چکے تھے بس اویس ہی بیٹھا تھا سویرا کا سب سے نالائق اسٹوڈنٹ! ۔
“سویرا بیٹا لگتا ہے آج بادل خوب جم کر برسیں گے۔ چھت پر کپڑے سوکھ رہے تھے جا کر اتار لو ایسا نہ ہو کہ بھیگ کر پھر سے خراب ہو جائیں۔” کچن سے امی کی آواز آئی۔
“جی امی میں ابھی جاتی ہوں بس اویس کا تھوڑا کام رہتا ہے چیک کر لوں کل بھی اس بد تمیز نے دو کا پہاڑہ غلط لکھا تھا۔” وہ اویس کو چپت رسید کرتے ہوئے بولی۔ اویس تم کل ذرا جلدی آنا بہت نکمے ہوتے جا رہے ہو۔۔۔ ” وہ اویس کو گھورتے ہوئے تو اویس نے گردن جھکا دی۔ “اوکے ٹیچر” اویس معصومیت سے بولا تو سویرا کو اس پر بہت پیار آیا۔
“گڈ بوائے چلو گھر جاؤ اور اگر دانیہ آپی (اویس کی والدہ) پکوڑے بنائیں تو مجھے بھی دے جانا۔اوکے اب جاؤ۔۔اللہ حافظ! ” وہ مسکرا کر بولی ۔
اللہ حافظ ٹیچر ۔ اویس باآواز بلند بولتے چلا گیا۔

سویرا گنگناتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی ۔ جب اسے باہر گلی میں بہت سی گاڑیوں کے ایک ساتھ رکنے کی آواز آئی تھی۔
ٹائرز کے چرچرانے کی آواز۔۔
بہت سے قدموں کی کاروں سے نکلنے کی آواز۔۔
پھر دروازے بند ہونے کی آواز ۔

اور تب ہی اسکے گھر کا دروازہ کسی نے بہت زور سے بجایا تھا۔
وہ سیڑھیوں پر ہی اچھل اچھل سی گئی۔

فاروق صاحب نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ ایک ساتھ بہت سے گارڈز اندر داخل ہوئے گارڈز کے ہمراہ کوئی اور بھی تھا جو اندر داخل ہوا تھا۔
بازل کو دیکھ کر سویرا کا سانس رک چکا تھا ۔
” السلام و علیکم انکل ! میں بازل ہوں.آپ سے بات کرنی ہے” وہ فاروق صاحب کو لیکر اندر آیا۔
“تم ہو کون اور میرے گھر میں ایسے کیوں گھسے چلے آ رہے ہو ؟ میرے گھر میں عورتیں ہیں اپنے ان گارڈز سے کہو یہاں سے ابھی نکلیں ۔
فاروق صاحب غصے سے دھاڑے۔
سویرا نے خوف سے ان دونوں کو دیکھا۔صفیہ صاحبہ بھی کچن کے دروازے میں کھڑیں یہ منظر دیکھ رہیں تھیں۔
محلے کے لوگ انکے گھر کے باہر جمع ہونا شروع ہوچکے تھے۔


فاروق صاحب نے اپنی بیوی کو اشارہ کیا جس پر وہ سویرا کو ساتھ لیے اندر کمرے میں چلی گئیں۔
“حدائق مولوی صاحب کو بیٹهاؤ اور تمام گارڈز کو باہر بهیج دو۔” تمام گارڈز ایک ایک کر کے باہر چلے گئے۔

“انکل اب آپ میری بات تحمل سے سنیے گا میں آپ کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرنا چاہتا۔
بلکہ میں آپ کے پاس بہت امید سے آیا ہوں۔
میں بازل شاہ ہوں۔
یہ دنیا مجھے وولف کہتی ہے
کیونکہ میں ایک گینگسٹر ہوں۔
آپ نے پہلے مجھے کبھی نہیں دیکھا ہاں صرف ذکر کی حد تک ہی جان پہچان ہوئی ہوگی
جو کہ آپ روز میرا مختلف نیوز چینلز سے سنتے ہونگے۔
میرے ماں باپ اور کوئی دوسرا رشتہ دار اس دنیا میں نہیں ہیں۔
یہ حدائق ہے جسے میں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتا اور مانتا ہوں۔
اسکے علاوہ میرے اور چار بھائیوں جیسے دوست ہیں۔
جن سے میں آپکو شادی پر ملوا دونگا۔
میں نہایت احترام کے ساتھ آپ سے آپکی بیٹی سویرا کا ہاتھ مانگتا ہوں۔میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔
میں اسے بہت خوش رکھوں گا وعدہ کرتا ہوں کبھی اسپر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ وہ مجھے اس دنیا کی ہر شے سے زیادہ عزیز ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ شادی کے بعد آپ ہمیشہ اسکے چہرے پر مسکراہٹ دیکھیں گے۔ اسپر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دونگا۔”سویرا کے والد نے تعجب سے اسے دیکھا۔
” انکل میں خود سے بڑھ کر اسکی حفاظت کروں گا۔ میں چاہتا تو اسے اٹھوا کر اپنے ساتھ رکھ سکتا تھا مگر میں اسکی عزت چھیننے نہیں بلکہ اسکو عزت اور مان دینے آیا ہوں۔
اسکی عزت میری اولین ترجیح ہے۔میں چاہتا ہوں کہ وہ آپ کہ دعاؤں کے سائے میں یہاں سے میرے ساتھ رخصت ہو۔پلیز اجازت دیں. ” وہ اپنی بات کہہ کر خاموش ہوچکا تھا۔
“برخوردار کہہ چکے تم اپنی بات ؟ میری طرف سے انکار ہے۔ میں تمہیں جانتا تک نہیں ہوں تمہارے ساتھ اپنی بیٹی کو رخصت کیسے کروں ؟؟ تم ایک گینگسٹر ہو تمہارے بہت سے دشمن ہونگے میری بیٹی کی جان ہمیشہ خطرے میں رہے گی۔
میں تمہاری مزید کوئی بات نہیں سنونگا تم جاسکتے ہو۔” فاروق صاحب قطعی لہجے میں گویا ہوئے۔ بازل نے اچھنبے سے انہیں دیکھا۔
“انکل آپ ایک بار پھر سوچ لیں میں بہت عزت سے آپکے گھر آپکی بیٹی کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں حالانکہ میں چاہتا تو اسے باہر سے ہی اٹھوا کر اس سے نکاح کر کے آپ کے پاس لے آتا۔ میں نے آپ سے پہلے بھی کہا ہے کہ میری وجہ سے سویرا کو زندگی میں کبھی بھی کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ مجھے لگتا ہے اب آپکو کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔”
“برخوردار میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی۔ سواب تم جاسکتے ہو۔” کھڑکی سے جھانکتی سویرا پریشانی سے ان دونوں کو بات کرتا دیکھ رہی تھی۔ اسے ان کی آوازیں سنائی نہیں دے رہی تھیں۔ مگر جو اگلا منظر سویرا کی آنکھوں نے دیکھا تھا وہ اسکیلیے ناقابلِ یقین تھا۔
قاری اگر تم کھڑکی کے اوٹ سے جھانکتی سویرا کی آنکھوں سے سامنے کا منظر دیکھو تو تمہیں نظر آئے گا کہ بازل نے اپنی گن نکال کر لوڈ کر لی تھی۔
سویرا کی آنکھیں پھٹ پڑیں۔
اب وہ گن کو اپنی کنپٹی پر رکھے فاروق صاحب سے کچھ کہہ رہا تھا۔ سویرا فوراً اپنی والدہ کے ہمراہ صحن کی جانب لپکی۔ “بابا یہ۔۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟” سویرا نے فاروق صاحب سے انتہائی صدمے کی حالت میں استفسار کیا تھا۔
اسکی پریشان نظریں بازل پر جمی تھیں جو کنپٹی پر پستول تانے کھڑا تھا۔ فاروق صاحب بھی اب قدرے پریشان نظر آ رہے تھے۔
“سویرا کیا کل آپکے رشتے والے آئے تھے؟” بازل نے اپنی نظریں سویرا پر جمائیں۔ “آپ گن رکھیں پہلے۔۔”سویرا بوکھلائی سی اسکی طرف بڑھنے لگی۔مگر بازل کی دھاڑ نے اسکے قدموں کو وہیں جکڑا۔
“سویرا میں پوچھ رہا ہوں کیا کل آپکے رشتے والے آئے تھے؟” وہ دھاڑا تھا۔ سویرا سہم کر دو قدم پیچھے ہوئی۔ “ج، ج، جی۔” بازل نے بہت ضبط سے اپنی آنکھیں بند کی تھیں۔

“مجھے آپ سے نکاح کرنا ہے۔ ابھی اور اسی وقت۔ اگر آپ نے نکاح نہ کیا تو میں خود کو شوٹ کر دونگا۔” سویرابے یقینی سے بازل کو دیکھے گئی۔
“ایسا نہیں ہو سکتا!” وہ قطعی لہجے میں گویا ہوئی اور گردن پھیر گئی اور اسکا یوں منہ موڑنا شمشیر کو مار گیا تھا۔
آہ کتنی سنگدل تھی وہ۔ اسے پرواہ ہی نہیں تھی اسکی وہ جیے یا مرے اسکی بلا سے۔
بازل کا وجود اس انکار پر لرز سا گیا اس کی سرخ آنکھوں میں ہلکی سی نمی تیری تھی
جسے اور کسی نے دیکھا ہو نہ دیکھا ہو مگر فاروق صاحب نے ضرور دیکھا تھا۔
وہ تاسف سے اس دیوانے کو دیکھ کر رہ گئے جس کا سارا وجود اسکے عشق کی گواہی دے رہا تھا۔
“ٹھیک ہے پھر مجھے مر جانا چاہیے۔ (بادل زور سے گرجا تھا) میرے ماں باپ مر گئے۔ میری چھوٹی سی بہن اس دنیا سے چلی گئی۔ مجھے اس دنیا میں زندہ لاش بنا چھوڑ کر وہ سب چلے گئے۔ اس دنیا میں میرا کوئی نہیں ہے۔” اس نے گن واپس کنپٹی پر رکھی۔سویرا نے نفی میں گردن ہلائی۔سب بوکھلا گئے۔
” آپ کو چاہا۔۔
عشق کیا آپ سے۔۔
مگر آپ، آپ نے بھی مجھے دھتکار دیا میری محبت کی قدر نہیں کی۔ مجھے لگا تھا آپ مجھے سمجھیں گی۔ میرے مردہ دل کو پھر سے زندہ کریں گی مگر آپ۔۔
آپ بھی باقی سب جیسی ہی ہیں۔
سنگدل، بے رحم ہیں آپ۔۔ ٹھیک ہے! اگر ایسا ہے تو ایسا ہی صحیح۔۔! مجھے مر جانا چاہیے۔” کہتے ہی اسنے ٹریگر دبایا تھا۔

بادلوں کی گرج میں کچھ آوازوں کا اضافہ ہوا تھا۔
وہ چیخیں تھیں۔
سویرا اور اسکی والدہ کی چیخیں۔


باہر کھڑا حدائق(جو کچھ دیر پہلے ہی گیا تھا) گولی کی آواز سن کر سویرا کے گھر کی جانب دوڑا تھا۔
دروازہ کھولتے ہی جو منظر اسکی آنکھوں نے دیکھا تھا وہ اسکی ٹانگوں سے جان سینچنے کو کافی تھا۔
بازل نے خود کو شوٹ کیا تھا؟
خود کو مارنے کی کوشش کی تھی؟
حدائق صدمات کی زد میں تھا۔

مگر شکر اللہ کا کہ اسے کچھ نہیں ہوا تھا۔

فاروق صاحب نے بروقت بازل کا بازو اوپر کر دیا تھا جسکی وجہ سے گولی فضا میں ہی کہیں گم ہو چکی تھی۔
سب اپنی آنکھوں میں شدید بے یقینی لیے بازل کو دیکھ رہے تھے جسکی حالت بہت بکھری بکھری سی تھی۔
کرب سا کرب تھا اسکی ذات میں۔
مگر پھر سب نے دیکھا کہ وہ خاموشی سے جانے کے لیے مڑ گیا۔
وہ ابھی دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ فاروق صاحب کی آواز سے اسکے قدم تھمے تھے۔
“نکاح خواں کو بلاؤ اندر تم سویرا سے نکاح کر سکتے ہو۔”
کیا وہ لفظ تھے؟؟
یا مردہ وجود میں زندگی کی نئی رمک؟؟
بازل فرق نہ کر سکا۔

سویرا نے صدمے سے اپنے والد کی جانب دیکھا۔
“بابا یہ۔۔” وہ اچھنبے سے فاروق صاحب کو دیکھے گئی۔فیصلہ رد کرنا چاہا مگر فاروق صاحب نے ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ بھی کہنے سے روک دیا۔

“سویرا بیٹا میں نے جو کیا ہے تمہاری بھلائی کے لیے کیا ہے۔” فاروق بیگ شفقت سے بولے تو سویرا نے بے یقینی سے گردن نفی میں ہلائی۔

“ن، ن، نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ م، میری۔۔ ایسے کیسے ہوسکتی ہے میری شادی؟ میں نہیں کرونگی یہ شادی۔”سویرا کا لہجہ حتمی تھا ۔
بازل کا دل سینکڑوں ٹکڑوں میں بٹا۔
اسے بہت تکلیف ہوئی تھی.

“میری گڑیا تمہیں اپنے بابا پر یقین ہے ناں؟ تم اپنے بابا کا مان تو نہیں توڑو گی ناں؟” فاروق بیگ نے آنکھوں میں دنیا جہاں کی امید لیے پوچھا تو سویرا سے مزید اک لفظ نہ بولا گیا۔

اس وقت اسکا دماغ ماؤف ہوچکا تھا یہ وہ لمحہ تھا جب اسے بازل سے شدید نفرت محسوس ہوئی تھی۔

“جاؤ بازل نکاح خواں کو بلا لاؤ”
(بوندابانی شروع ہو چکی تھی۔)

رحمت۔۔ آج کی بارش بازل کیلیے رحمت بن کر برسی تھی

قیامت! آج کی بارش سویرا کی زندگی میں قیامت لانے والی تھی.


سویرا کی والدہ اسے تیار کرنے کیلیے کمرے میں لے گئیں۔

بازل اور حدائق نکاح خواہ کے ہمراہ فاروق صاحب کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔
سویرا کے منتظر۔۔
لمحہ لمحہ بازل کے سینے میں موجود دل کی دھڑکن بڑھانے کو کافی تھا۔

چند لمحوں بعد چوکھٹ پر آہٹ ہوئی۔سفید کرتا شلوار پر سیاہ بلیزر پہنے بازل نے جب چہرہ اٹھا کر اس طرف دیکھا تو اسے لگا کہ وہ سویرا کے چہرے سے ہھر کبھی اپنی نظریں نہیں ہٹا سکے گا۔

ہلکے گلابی رنگ کے فراک میں( جس پر سفید رنگ کا نفیس سا کام کیا گیا تھا) سر پر سرخ رنگ کا گھونگٹ اوڑھے آنسوؤں سے تر چہرہ جو کسی بھی قسم کے میک اپ سے پاک تھا۔۔ وہ سیدھا بازل کے دل کی زمین پر قدم رکھتی اسے بہت پیاری اور معصوم سی گڑیا لگی تھی۔

بازل سانس روکے اسے دیکھے گیا۔
اسے معلوم نہیں تھا کہ کبھی خواب بھی حقیقت کا روپ اوڑھا کرتے ہیں۔

کمرے میں موجود چاروں مرد احترام میں کھڑے ہوگئے۔۔

اور پھر سویرا کو بازل شاہ کے سامنے بیٹھایا گیا۔

قاضی نے کلمات پڑھے۔۔ “سویرا ولد فاروق بیگ آپ کا نکاح بازل شاہ ولد ولی شاہ سے ایک کروڑ حق مہر سکہ رائج الوقت کیا آپ کو قبول ہے؟”

(“میں کبھی بھی تمہیں معاف نہیں کروں گی بازل شاہ!”)
“قبول ہے۔۔۔”
قاضی نے کلمات دوہرائے
“( میں تمہاری زندگی تباہ کر دونگی)”
“قبول ہے۔۔۔”
“(تم یاد رکھنا تم ایک دن ضرور پچھتاؤ گے مجھے اپنی زندگی میں شامل کر کے۔۔میں تم سے نفرت کرتی ہوں! میرے دل میں اب کبھی بھی تمہارا مقام پہلے سا نہیں ہوسکے گا۔کاش تم میری زندگی میں کبھی شامل ہی نہ ہوتے۔) “
“جی قبول ہے۔۔۔”
وہ نم لہجے میں خود کے سارے حقوق بازل کے نام کر گئی۔

اچانک ہی زوردار بجلی گرجی تھی۔ اور بادل زور و شور سے برسنا شروع ہوئے۔

“بازل شاہ ولد ولی شاہ، آپ کا نکاح سویرا ولد فاروق بیگ سے ایک کروڑ حق مہر سکہ رائج الوقت کیا آپ کو قبول ہے؟”
اب لڑکے سے اس کی رضامندی لینے کا وقت تھا۔
( مجھے معاف کرنا سویرا، میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ میں تم سے عشق کرتا ہوں)
“قبول ہے۔” کلمات دہرائے گئے۔
” (میں جلد ہی اپنی دی ہوئی ہر تکلیف کا ازالہ کروں گا۔ تمہاری زندگی سکون اور خوشیوں سے بھر دوں گا۔)”
“قبول ہے۔۔۔ “کلمات دوبارہ دہرائے گئے تھے”
( میں بازل شاہ آج یہ اقرار کرتا ہوں کہ میں سویرا بازل شاہ سے ہمیشہ وفا نبھاؤں گا۔ میں مرتے دم تک اس سے عشق کروں گا)
“جی قبول ہے۔” اور سویرا فاروق اب پورے استحقاق سے بازل شاہ دا وولف کے دل کی سلطنت کے تخت پر براجمان ہو چکی تھی۔

بارش پورے زور و شور سے برس رہی تھی۔

ہواؤں نے زور پکڑا
اور ایک بار پھر سے بجلی کی زور دار گرج سنائی دی۔
اسی گرج کے ساتھ ہی سویرا شاہ نے اپنی نم آنکھیں اٹھا کر بازل شاہ کو شکوہ کناں نظروں سے دیکھا تھا۔
اور بازل شاہ کو لگا جیسے آج کے بعد وہ کبھی سکون کی نیند سو نہیں پائے گا۔ ان دو نم آنکھوں میں موجود ہزاروں شکوے بازل شاہ کی راتوں کی نیندیں حرام کرنے کو کافی تھے۔ اسے لگا تھا کہ وہ دوبارہ اب کبھی بھی اس سے آنکھیں نہیں ملا پائے گا۔

اور پھر سویرہ کو رخصت کیا گیا۔ مگر اب اس کی آنکھوں میں نمی نہیں تھی۔ اب اس کی آنکھوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔۔

وہ اپنے ماں باپ سے ملے بنا ہی کمرے میں گھس گئی اور سامان پیک کرنے لگی، اسے ان سے ہزاروں شکوے تھے۔

” آخر انہوں نے اس کا ساتھ کیوں نہیں دیا تھا؟کیوں انہوں نے بازل کو زبردستی اس کا محرم مقرر کر دیا۔”

سامان پیک کر کے وہ کمرے سے باہر نکلی والدین اسکے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے کے ۔۔
اسے دعاؤں کے زیرِ سایہ رخصت کرنے کے منتظر تھے، مگر وہ کسی کو بھی دیکھے بغیر سیدھا گھر کی دہلیز پار کر گئی۔

سویرا کی والدہ روتے ہوئے وہیں صوفے پر بیٹھ گئیں۔بازل ان کی طرف بڑھا۔گھٹنوں کے بل انکے سامنے بیٹھا۔
“میں آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔میں آپ کی بیٹی کو بہت چاہتا ہوں۔آپ یقین کریں میں ہمیشہ اسکی حفاظت کرونگا اسکی قدر کرونگا۔ اسے اپنے سر آنکھوں پر بٹھاؤنگا۔میری ماں نہیں ہیں۔۔لیکن میرے لیے آپ بالکل میری ماں جیسی ہیں. پلیز مجھ پر بھروسہ کریں۔میں سویرا کو خود آپ سے ملوانے لاؤنگا اور تب آپ میرے ہر وعدے کو سچ ہوتا دیکھیں گی۔پلیز مجھ پر بھروسہ کریں۔”وہ مان سے کہہ رہا تھا۔سویرا کی والدہ صفیہ صاحبہ نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔وہ مسکرا دیا۔اور انکے ہاتھ تھام کر ان پر عقیدت سے بوسہ دیا۔
پھر وہ فاروق صاحب کو بھی یقین دلا کر اور ان سے دعا لے کر واپس چل دیا۔


جب سویرا باہر آئی تو حدائق نے لپک کر اس سے سامان لیا۔۔ اور کار کا دروازہ کھولا وہ جا کر سیدھا کار میں بیٹھ گئی۔۔
بازل آیا اور کار میں اسکے برابر سیٹ سنبھال لی۔ سویرا نے اپنی خاموش نظریں کھڑکی سے باہر جما رکھی تھیں۔ اور بازل بھی بعد میں اس سے بات کرنے کا سوچ کر اپنا رخ کھڑکی کی جانب موڑ گیا۔ وہ اسے وقت دینا چاہتا تھا تاکہ وہ سنبھل سکے۔۔

بادل اب بھی پوری آب و تاب سے برس رہے تھے۔

سویرا کو گھر چھوڑ کر وہ خود اپنے کسی کام سے روانہ ہو گیا۔

__________

 

وہ جو چھوڑ کر گیا تھا تو ابھی تک واپس نہ لوٹا تھا رات ہو چکی تھی۔
سویرا جب سے اس اپارٹمنٹ میں آئی تھی ملازمین کی چہل پہل لگی رہی تھی بازل اسے بنگلے میں نہیں لے کر جا سکتا تھا کیونکہ وہاں گنز، فائٹنگز، اور باقی بہت کچھ دیکھنا سویرا کر لیے مناسب نہیں تھا۔
ملازمہ (جن کا نام شاید رضیہ بی بی تھا) وہ کھانا وغیرہ تیار کر کے جا چکی تھی اور باقی ملازمین بھی جانے کیلئے تیار تھے۔تھوڑی دیر بعد سب چلے گئے وہ اکیلی رہ گئی۔
رضیہ بی بی نے بتایا تھا کہ گیٹ پر گارڈز موجود ہیں اگر اسے کسی چیز کے ضرورت ہو تو وہ انہیں کہہ سکتی ہے۔

بہر حال اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ جب سے آئی تھی اپنے کمرے میں بند تھی۔
اپارٹمنٹ بہت خوبصورت تھا۔سبز و سفید تھیم لیے وہ روح کو تازگی بخشتا تھا۔ جگہ جگہ ان ڈور پلانٹس رکھے تھے۔
مگر فالحال اسے ان سب میں ذرا برابر بھی دلچسپی نہیں تھی۔

وہ جب سے آئی تھی تب سے چپ چاپ بیڈ پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔ سویرا بالکل بھی نہیں روئی تھی۔ کیونکہ انتقام کی آگ نے اسکے اندر موجود آنسوؤں کو خشک کر دیا تھا۔

اب اسے شدید بھوک کا احساس ہوا تو وہ اٹھ کر کچن میں چل دی۔ کچن بھی باقی اپارٹمنٹ کی طرح گرین اینڈ وائٹ تھیم پر سجا تھا۔ سامنے ٹیبل پر ہی اسکا کھانا رکھا تھا۔ وہ چپ چاپ بیٹھ کر کھانا کھانے لگی۔

کہ یکایک اپارٹمنٹ کا دروازہ کھلا اور بھاری قدموں کی آواز سنائی دی۔ سویرا جانتی تھی کہ وہی ہے۔۔ کہ وہ اب اسکی آہٹیں پہچان چکی تھی۔ وہ اسکے ہر انداز سے واقفیت رکھتی تھی۔ سو بغیر رد عمل دیے کھانے کی طرف ہی متوجہ رہی۔
جیسے بازل کی موجودگی اسکے لیے بے معنی ہو۔ بازل جب کچن میں داخل ہوا تو ایک پل کیلئے اسے دیکھ کر ٹھٹکا مگر صرف اک پل کے لیے۔۔
اسے بھوک لگی تھی اسے بھی کھانا کھانا تھا۔
بازل نے بھی اپنا کھانا اٹھایا اور خاموشی سے بیٹھ کر کھانے لگا۔ سویرا نے کوئی پس و پیش نہیں کی۔۔
خاموش رہی، کھانے کی طرف متوجہ، بازل کی موجودگی کو اب بھی یکسر نظر انداز کر رکھا تھا ۔ اور پھر اسنے دیکھا کہ بازل نے ایک سرخ مخملی غلاف میں لپٹی ڈبیہ اسکی طرف بڑھائی تھی۔
“نکاح کا تحفہ” اور بس اتنا ہی کہا۔ سویرا نے اپنا کھانا ختم کر کے برتن واپس رکھے۔ اور واپس اسکی طرف پلٹی بازم ڈبّیا ہاتھ میں لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اسکی آنکھوں میں سویرا کیلیے چاہت تھی، محبت تھی، عشق تھا۔
مگر سمیرا کی آنکھیں سرد اور خاموش تھیں۔ ان میں بازل کے لیے نفرت تھی، غصہ تھا، انتقام تھا۔
اسنے بازل کے ہاتھ سے ڈبّیا لی۔ انہی سرد اور خاموش نگاہوں سے اسے کھول کر اندر موجود ہیرے کی دمکتی انگوٹھی کو دیکھا اور نوچنے کے انداز میں اسے ڈبّیا سے نکالا۔
اور پھر چولہے کی طرف قدم بڑھائے۔چولہا جلا کر اس قیمتی الماس کو آگ میں جھونک دیا۔ گویا بازل کی محبت کو نظر آتش کیا۔
بازل نے بے یقینی اور کرب سے اسے دیکھا۔
کیا کچھ نہ تھا اسکی آنکھوں میں۔۔
ان میں اذیت سی اذیت تھی!


“اپنی حد میں رہو بازل شاہ۔ میرے لیے تم، تمہارا وجود، تمہارا یہ عشق کوئی معنی نہیں رکھتا۔” (شمشیر کو واقعی لگا کہ وہ، اسکا وجود بے معنی ہے۔ آہ! کتنی ظالم تھی وہ اسے اسکی محبت کی قدر ہی نہیں تھی)
“میری بات یاد رکھنا میں تم سے نفرت کرتی ہوں اور میں اس بات کو یقینی بناؤنگی کہ یہ کبھی محبت میں نہ بدلے۔ تم یاد رکھنا میں تمہیں زخم زخم کر دونگی۔ مگر وہ زخم جسمانی نہیں روحانی ہونگے۔” سویرا کہہ کر جاچکی تھی۔

بازل کو لگا جیسے کسی نے اسکے دل کو چیر دیا ہے۔ وہ واقعی زخم، زخم ہو چکا تھا۔

وہ اٹھا اور خاموشی سے گھر سے باہر نکل گیا۔ اسکا وجود زلزلوں کی زد میں آیا کرچی کرچی ہو چکا تھا۔
اگر مزید وہاں رہتا تو بکھر جاتا، فنا ہو جاتا۔
اور میں تمہیں بتاؤں کہ اسکا یہ گرنا اسے مار جاتا۔

______________

آج ٹیچرز کی میٹنگ تھی سو انکے لیکچرز فری تھے وہ صبح سے گارڈن میں ہی بیٹھے تھے۔ آج سویرا اور علشبہ نہیں آئی تھیں۔ مومنہ اس وقت اُم ہانی اور وثقیٰ کے ساتھ بیٹھی تھی۔
وثقیٰ اُم ہانی سے اپنی کمپیوٹر کلاس کے کچھ نوٹس لے رہی تھی۔ اسے ہفتہ ہو چکا تھا کمپیوٹر کلاسز لیتے ہوئے۔
“اچھا یار تم بیٹھو میں ابھی آتی ہوں” اُم ہانی کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ “کہاں جا رہی ہو؟” مومنہ نے ابرو اچکائے پوچھا۔ “یار سر میر بخت سے کچھ بات کرنی ہے۔ میں دیکھتی ہوں وہ آئے ہیں یا نہیں۔” “ہاں وہ آگئے ہیں جاؤ تم بات کرلو۔” مومنہ نے اسے بتایا۔ “اوکے میں چلی۔” اُم ہانی سر ہلا کر چلی گئی۔

“یار ویسے یہ ہانی کچھ زیادہ ہی سر میر بخت سے مل جل رہی ہے تم نے نوٹ کیا؟ مجھے لگتا ہے کوئی چکر ہے” وثقیٰ آنکھ دبا کر شرارتی انداز میں کہہ رہی تھی۔ مومنہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“کیا تمہیں کیسے پتا چلا؟مجھے تو نہیں لگتا ایسا کچھ ہے۔” اس نے نفی میں گردن ہلائی۔”یار تم خود ہی دیکھو ہانی کا دل بالکل بھی نہیں لگتا سر کے بغیر جیسے ہی سر آتے ہیں وہ دوڑی چلی جاتی ہے ان سے ملنے کیلئے اور سر کی کلاس میں بھی وہ لیکچر پر کم ان پر زیادہ دھیان دیتی ہے۔” وہ رازدارانہ انداز میں اسکے کان میں بولی۔ “نہیں یار تمہارا وہم ہے ایسا کچھ نہیں ہے” مومنہ نے کہا تو وثقیٰ نے اسے زوررر سے گھورا۔ “میری بات سنو لڑکی وثقیٰ انوّر اڑتی چڑیا کے پر گن لیتی ہے اور اگر میں کہہ رہی ہوں کہ ان دونوں میں کوئی بات چل رہی ہے تو ہے بس۔آئی سمجھ؟ ” وثقیٰ گردن کڑا کر بولی دائیں ابرو اچکا رکھی تھی۔۔ “اوکے اوکے جیسا آپ کہیں ڈیئر باس لیڈی” مومنہ اسکا گال کھینچتے ہوئے بولی۔

اُمِ ہانی اس وقت میر بخت کے آفس میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔
“جی بولیں ام ہانی، خیریت؟ کوئی بات کہنی تھی؟ ویسے میں کچھ دنوں سے نوٹ کر رہا ہوں کہ آپ کلاس میں کچھ الجھی الجھی رہتی ہیں، کوئی ایشو ہے؟” میر بخت پریشانی سے پوچھ رہا تھا۔
“جی سر اصل میں ایک مسئلہ ہے، میں بہت پریشان ہوں، صرف آپ میری مدد کر سکتے ہیں،” اُمِ ہانی کچھ جھجھکتے ہوئے بولی۔
“جی بولیں۔ پہلے آپ ایک کام کریں، یہاں بیٹھیں اور سکون سے بات کریں۔ گھبرائیے مت،” وہ اسے پُرسکون کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
“سر! اس دن وہ جو لڑکا آپ سے لڑائی کر رہا تھا، وہ مجھے تین دن سے میسجز اور کالز کر رہا ہے۔ میں نے اسے بلاک کیا تھا مگر وہ بار بار کسی دوسرے نمبر سے کالز اور میسج کرتا ہے۔ میں بہت پریشان ہوں اور میرے گھر میں کسی کو اگر اس بات کا علم ہوا تو میرے لیے بہت مسئلہ ہو جائے گا۔ پتا نہیں اس کے پاس میرا نمبر کہاں سے آیا، پلیز میری مدد کریں،” ام ہانی بہت پریشان ہوگئی تھی۔
“اُمِ ہانی آپ ریلیکس ہوں، ٹینشن نہ لیں۔ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ پلیز مجھ پر بھروسا کریں۔ آپ مجھے بتائیں کہ اس نے آپ کو آخری میسج یا کال کب کی تھی؟”
ارمان کا نام سن کر میر بخت کا خون کھول اٹھا تھا۔ یہ طے تھا کہ اب ارمان میر بخت کے ہاتھ سے بچنے نہیں والا۔ “سر کل رات کو دس بجے کال کی تھی اسنے۔” اُمِ ہانی اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بتانے لگی۔
“اوکے ٹھیک ہے کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے آپ بس ریلیکس کریں پریشان بالکل بھی نہیں ہونا آپ نے۔ میں ہوں یہاں سب ٹھیک کردونگا۔آپ پلیز مجھ سے وعدہ کریں کہ اب آپ روئیں گی نہیں۔ بس آپ اپنی سٹڈیز پر کنسنٹریٹ کریں۔ یہ مسئلہ میں ہینڈل کر لوں گا۔ اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد سے ارمان آپ کو کبھی بھی تنگ نہیں کرے گا۔” میر بخت ہانی کو نرمی سے سمجھانے لگا۔ “تھینک یو میر سر۔” اُمِ ہانی نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔

اسے امید نہیں تھی کہ وہ بہت آرام سے اس کا مسئلہ حل کر دے گا۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ آج بھی میر بخت ہمیشہ کی طرح اسے ڈانٹے گا۔ مگر میر بخت نے نرمی سے اسے سمجھایا تھا اور اس کی پریشانی اپنے سر لے لی تھی۔
بالاخر اس کی پریشانی دور ہو چکی تھی کیونکہ اگر میر سر نے کہا تھا کہ اب ارمان اسے کبھی تنگ نہیں کرے گا تو اس کا مطلب ہے نہیں کرے گا۔ اسے بھروسہ تھا میر بخت پر، وہ اس کی مدد ضرور کرے گا۔ وہ مسکرا دی۔
وہ پرسکون لگ رہی تھی۔ اور اس کو مسکراتا دیکھ کر میر بخت کے بے چین دل کو سکون ملا تھا۔
وہ خود نہیں جانتا تھا کہ ایسا کیا تھا اس لڑکی کے آنسوؤں میں کہ اسے اپنے دل کی دھڑکنیں کم ہوتی ہوئی محسوس ہونے لگتی تھیں۔ مگر اس کی مسکراہٹ میر بخت کے دل کو صحیح معنوں میں سکون بخشتی تھی۔ وہ بھی مطمئن ہوگیا۔

دوپہر ہو چکی تھی کل رات کا گیا بازل ابھی تک نہیں لوٹا تھا۔ رضیہ بی کے گھٹنوں میں درد تھا سو وہ آج جلدی گھر چلی گئی تھیں باقی ملازم اپنا کام کر کے جا چکے تھے۔ سویرا اس وقت کچن میں کھڑی کچھ پھل کاٹ رہی تھی کہ جب بازل اپارٹمنٹ میں داخل ہوا اور سیدھا کچن کی طرف گیا۔
وہ بہت زیادہ ڈسٹرب لگ رہا تھا۔ کل رات اس نے سڑکوں پر کاٹی تھی۔ رت جگے کے باعث اس کی آنکھیں سرخ اور حلیہ بکھرا بکھرا سا تھا۔
اسے سویرا سے اس قدر بے رخی کی امید نہیں تھی۔
“کیا سویرا کو اس کے ساتھ گزارے لمحات یاد نہیں تھے؟ کیا ان لمحات نے سویرا کے دل پر وہ سحر انگیز سی کیفیت طاری نہیں کی تھی؟ وہ کیفیت جو بازل کے پورے وجود پر قابض تھی۔۔ کیا سویرا اس سے یکسر بے خبر تھی؟؟ کیا یہ محبت، یہ عشق ایک طرفہ ہے؟؟” سوالات ہی سوالات تھے۔ جن کے جوابات جاننے اب وہ سویرا کے پاس کھڑا تھا۔
“مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔” وہ بولا تو آڑو کاٹتی سویرا نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ “مگر مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی۔”جواب دو ٹوک تھا۔”میں کہہ رہا ہوں مجھے آپ سے بات کرنی ہے سویرا۔” بازل بہت ضبط سے بولا تھا۔”اور میں بھی کہہ چکی ہوں کہ مجھے تمہاری کسی بات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔” سویرا نے سیب اٹھا کر کاٹتے ہوئے جواب دیا۔
“مگر آپ کو سننی پڑے گی میری بات۔” بازل نے اسے بازو سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا۔ “مجھ سے دور رہو۔” وہ اس کا ہاتھ سختی سے جھٹک کر بولی۔ “آپ کو سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں؟” بازل نے مزید سختی سے اس کا بازو پکڑ کر اپنی جانب اس کا رخ کیا۔ “مجھے ہاتھ مت۔۔۔” اس سے پہلے کہ سویرا مزید کچھ بولتی، اس کا چاقو پکڑا ہاتھ لاشعوری طور پر فضا میں بلند ہوا اور گوشت کے لوتھڑے میں چاقو کی تیز دھار جا لگی تھی۔

خون کا ایک فوارہ تھا جو بازل کے کندھے سے پھوٹا تھا۔ ایک کراہ سی اس کے لبوں سے ادا ہوئی تھی۔تکلیف سے آنکھیں میچ لی گئیں۔
سویرا بے یقینی، حیرت اور خوف سے پھٹی آنکھیں لیے اس کے کندھے سے بہتے خون کو دیکھ رہی تھی جو بہت تیزی سے بہے جا رہا تھا۔ “یہ، یہ م۔۔۔ م، میں نے کیا کیا۔۔۔؟ ” وہ بے یقینی اور خوف سے اپنے قدم پیچھے کی جانب اٹھانے لگی۔ بازل کی آنکھیں بھی بے یقینی سے پھیلی تھیں۔ وہ سویرا کو بے یقینی سے دیکھ رہا تھا جو بے یقینی اور خوف سے گردن نفی میں ہلاتے اس سے دور ہوتی جا رہی تھی۔
پھر بازل لب بھینچے باہر کی جانب بڑھ گیا۔ الٹے قدم اٹھاتی سویرا کی کمر جب دیوار سے لگی تو وہ وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ “میں نے اسے چاقو مارا؟؟؟ میں نے اسے مارنے کی کوشش کی؟” وہ بے یقینی سے بڑبڑائی۔
“ن، ن، نہیں م، م میں ایسا ک، کیسے کر سکتی۔” بے یقینی سی بے یقینی تھی۔
خوف سا خوف تھا۔
وہ اٹھی اور اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔ کمرے میں پہنچتے ہی اس نے دروازہ لاک کیا اور تکیے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

____________________

ڈھیلے ڈھالے لباس پر سٹریٹ بال، جو کہ کندھے تک آتے تھے، انہیں آج علشبہ نے خلافِ عادت پونی ٹیل میں باندھ رکھا تھا۔ آنکھوں پر آرٹیفیشل گلاسز لگائے، ہاتھ میں مینگو مارگریٹا تھامے وہ اس وقت اپنے لیے کچھ ہیلز لینے میں مصروف نظر آ رہی تھی۔
بہت سے لڑکوں نے مڑ مڑ کر اس لاپرواہ حسینہ کو دیکھا تھا جو کہ اپنی ہی دنیا میں مگن تھی۔
اس دن کے بعد سے اس نے شاہزیب سے ایک بار بھی بات نہیں کی تھی، اسے شاہزیب کا اس طرح سے زینب کے ساتھ گھلنا ملنا بالکل بھی پسند نہ آیا تھا۔ شاہزیب اسے کال کرتا تو وہ پک نہ کرتی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اس بار کافی زیادہ ناراض ہے اس سے۔ بہت دیر تلاش کرنے کے بعد دوسرے شیلف میں اسے ایک پستہ رنگ کی نہایت ہی خوبصورت ہیل نظر آ ہی گئی جو کہ اس کی تھیم سے میچ کر رہی تھی۔ اس نے اسے ٹرائی کیا تو شاید بنی ہی اسی کے لیے تھی۔

جاری ہے۔۔۔


اگلی قسط ان شاء اللہ تعالیٰ پندرہ دن بعد جاری کی جائے گی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *