سات رنگِ حیات
از قلم حفظہ مرزا
قسط نمبر :2
وہ شہر کے بیچوں بیچ چلتی ہے۔ ایک طرف کی گلی میں مڑتی ہے، پھر اگلی، پھر ایک اور۔ تنگ گلیاں، بند راستے، اور ہر موڑ پر اجنبیت کا احساس۔ آخرکار تین گلیاں کراس کرنے کے بعد وہ اپنی مین گلی تک پہنچتی ہے۔
وہاں سے تھوڑا آگے ہی اسکول نظر آتا ہے—وہی عمارت جہاں روز درجنوں بچیاں خواب لے کر آتی جاتی ہیں۔
اسکول سے آگے بڑھتے ہی وہ ایک اور گلی میں داخل ہوتی ہے۔
گلی کے ایک سائیڈ پر، پتھروں پر بیٹھے تین لڑکے نظر آتے ہیں۔ ان کی نظریں آنے جانے والی اسکول کی لڑکیوں پر جمی ہوتی ہیں۔ کوئی فقرہ، کوئی ہنسی، کوئی آواز—جو فضا کو ناپاک کر دیتی ہے۔
وہ فوراً ایک دیوار کی اوٹ میں رک جاتی ہے۔ وہ انہیں دیکھتی ہے، خاموشی سے، محتاط نظروں کے ساتھ۔
جب گلی میں رش کچھ کم ہوتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہے۔
یہ وہی حصہ ہے جہاں عام آنکھ نہیں پہنچتی، جہاں سڑک کی آوازیں دم توڑ دیتی ہیں، اور جہاں وہ لڑکے خود کو بے خوف سمجھتے ہیں۔
وہ قدم رکھتی ہے…
لیکن اس بار اس کے قدم کمزور نہیں ہوتے۔
اس کی نظریں جھکی ہوئی نہیں ہوتیں۔
وہ قدم آگے بڑھاتی ہے، پورے اعتماد کے ساتھ۔ ایک ہاتھ میں چھڑی مضبوطی سے تھامی ہوئی۔
جیسے ہی وہ ان کے قریب سے گزرتی ہے، لڑکے سیٹیاں بجاتے ہیں۔ آوازیں فضا میں پھیل جاتی ہیں۔ وہ اچانک کھڑے ہو جاتے ہیں، اس کی طرف دیکھتے ہیں اور بے تکلفی سے پکارنے لگتے ہیں۔
“ہیلو جانِ من، کہاں جا رہی ہو؟”
وہ رکتی نہیں۔ نظریں سیدھی، قدم مسلسل آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
لڑکے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں، آوازیں دیتے ہوئے، ہنستے ہوئے۔
ایک گلی سے دوسری، دوسری سے تیسری—وہ تیز چلتی ہے۔
آخر ایک ایسی گلی میں داخل ہوتی ہے جہاں نہ کوئی گھر ہے، نہ کوئی کھڑکی، نہ کوئی دروازہ۔ خاموشی گہری ہو جاتی ہے۔
وہ اچانک رکتی ہے۔
آہستہ سے پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے۔
لڑکے بھی رک جاتے ہیں۔
اس کے چہرے پر خوف نہیں، بلکہ عجیب سی خاموش سختی ہوتی ہے۔
ایک لڑکا ہنستے ہوئے کہتا ہے،
“کیا ہوا؟ ارے، تم تو رک گئی… مطلب ہمیں ؟؟
وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنستے ہیں، ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں، جیسے یہ سب ان کے لیے کھیل ہو۔
لیکن وہ خاموش کھڑی رہتی ہے۔
چھڑی اس کے ہاتھ میں ہے، نظریں سیدھی، اور خاموشی ایسی کہ ہنسی بھی کچھ لمحوں کے لیے لڑکھڑا جاتی ہے۔
ان میں سے ایک لڑکا اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہتا ہے،
“میری گرل فرینڈ بن جاؤ… قسم سے رانی بنا کر رکھوں گا۔ مگر پہلے ذرا چہرہ تو دکھاؤ، یہ پردہ ہٹاؤ نا۔”
وہ بات کرتے ہوئے اس کے قریب آتا ہے اور ہاتھ بڑھاتا ہے۔
وہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتی۔
جیسے ہی وہ اس کے نقاب کی طرف ہاتھ لے جاتا ہے، وہ فوراً اس کی کلائی مضبوطی سے پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیز، درست حرکت—اور لڑکا درد سے کراہ اٹھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بے اختیار ڈھیلا پڑ جاتا ہے، قدم پیچھے لڑکھڑا جاتے ہیں۔
گلی کی ہنسی اچانک خاموشی میں بدل جاتی ہے۔
باقی دونوں لڑکے ساکت رہ جاتے ہیں، آنکھوں میں حیرت اور خوف کا ملا جلا تاثر۔
وہ لڑکی وہیں کھڑی رہتی ہے—نقاب اپنی جگہ، قامت سیدھی، لہجہ خاموش مگر مضبوط۔
اس کی خاموشی چیخ بن جاتی ہے، اور گلی میں پہلی بار طاقت کا رخ بدلتا ہے۔
انہیں دیکھ کر پرسکون لہجے میں کہتی ہے،
“کیا ہوا؟ مزہ چاہیے؟”
اسی لمحے پیچھے کھڑا تیسرا لڑکا جیب سے موبائل نکالتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں بد نیتی چمکنے لگتی ہے۔
“زیادہ ہوشیار بن رہی ہے،” وہ طنز سے کہتا ہے۔
“اس کے ہاتھ پکڑو، آج اسے بتاتے ہیں مزہ کیا ہوتا ہے۔”
وہ ابھی آگے بڑھنے ہی والے ہوتے ہیں کہ وہ حرکت میں آ جاتی ہے۔
وہ ایک قدم پیچھے ہٹتی ہے، اپنا توازن سنبھالتی ہے، اور جیسے ہی سامنے والا لڑکا قریب آتا ہے، وہ اچانک وار کرتی ہے۔ ایک جھٹکے میں اس کا حملہ نشانے پر لگتا ہے۔ لڑکا سنبھل نہیں پاتا، لڑکھڑاتا ہوا پیچھے جا گرتا ہے۔
گلی میں افراتفری پھیل جاتی ہے۔
موبائل ہاتھ سے نیچے ہو جاتا ہے، آوازیں الجھ جاتی ہیں، اور ہنسی خوف میں بدلنے لگتی ہے۔
وہ رُکتی نہیں۔
وہ تیزی سے ایک طرف ہٹتی ہے، خود کو گھیرے میں آنے سے بچاتے ہوئے۔ اس کی آنکھوں میں اب کوئی ہچکچاہٹ نہیں—صرف ہوش اور فیصلہ۔
لڑکے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔
جو لمحہ پہلے طاقت سمجھ رہے تھے، وہ اب کمزوری بن چکا تھا۔
وہ سیدھی کھڑی ہوتی ہے، نقاب اب بھی اپنی جگہ، آواز مضبوط:
“اب راستہ چھوڑ دو۔”
گلی میں خاموشی پھیل جاتی ہے۔
اور اس خاموشی میں، فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے کہ آج یہ کھیل ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
وہ تینوں سمجھ جاتے ہیں کہ آج حالات ان کے ہاتھ میں نہیں ہے وہ بھاگنے کی سوچتے ہیں۔۔
لیکن وہ ان کی نیت پڑھ چکی تھی۔
وہ ایک لمحے میں ان کے درمیان سے گزرتی ہے اور ان کے آگے جا کھڑی ہوتی ہے۔
اب ایک طرف وہ لڑکی ہوتی ہے، دوسری طرف دیوار۔
راستہ ختم ہو چکا تھا۔
وہ اپنی چھڑی کو سیدھا کرتی ہے۔جو سیدھی ایک تلوار کیسی ہوتی ہے اس کے دونوں سائیڈ پہ ایک چاکونامہ تیز تاروں والی نوکیلی پلیٹ لگی ہوتی ہے
وہ ایک بٹن پریس کرتی ہے بلیڈ اندر کی طرف ہو جاتے ہیں۔۔۔ایک ہلکی سی حرکت—اور چھڑی لمبی ہو جاتی ہے۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں اب کوئی غصہ نہیں، بس فیصلہ ہے۔
وہ ایک قدم آگے بڑھتی ہے۔
چھڑی فضا میں حرکت کرتی ہے—آوازیں گونجتی ہیں، قدم ڈگمگاتے ہیں، اور تینوں کی ہمت ٹوٹنے لگتی ہے۔
جو خود کو طاقتور سمجھ رہے تھے، وہ اب پیچھے ہٹ رہے تھے
چند لمحوں میں منظر پلٹ چکا تھا۔
وہ تینوں دیوار کے ساتھ سمٹ جاتے ہیں، نظریں جھکی ہوئی، سانس اکھڑی ہوئ۔زخمی حالت میں پڑے تھے۔۔
وہ رکتی ہے۔بہت ٹائم ہو گیا بچپن میں ٹیچنگ والا گیم کھیلا تھا ۔۔۔چلو آج پھر سے کھیلتے ہیں۔۔
تو انہیں سٹک سے اشارہ کرتے ہیں اور اپنی طرف بڑھنے کو بولتے ہیں اور ہاتھ آگے کرنے کو کہتی ہے جس پر وہ نہیں کہتے اور معافی مانگتے ہر جوڑتے ہیں پلیز ہمیں چھوڑ دو۔
وہ لڑکی ان سے کہتی ہے اگر تم لوگ خود نہیں ہائے تو میں بہت ماروں گی چلو شاباش جلدی سے اؤ ۔۔
اس پر وہ ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہیں ۔ جس پر تم جاؤ پہلے۔۔
جلدی کرو میرے پاس نہیں ہے۔
جس پر پہلے والا ادمی دھیرے دھیرے آگے بڑھتا ہے رہا ڈر ڈر کے ہاتھ آگے کرتا ہے پھر باری باری اسی سٹک کے ساتھ ان کے ہاتھوں پر وار کرتی اور ان کے دونوں ہاتھ توڑ دیتی ہے۔۔
وہ تینوں زمین پر پڑے کراہ رہے ہوتے ہیں، خود پر قابو پانے کی کوشش میں۔
وہ ان کے قریب جاتی ہے، جھک کر ایک کے جیب سے موبائل نکال لیتی ہے۔
ایک اور موبائل پاس ہی گرا ہوتا ہے—وہ اسے بھی اٹھا لیتی ہے۔
اسکرین آن ہوتے ہی اس کے چہرے پر سختی آ جاتی ہے۔
ویڈیوز پر ویڈیوز—اسکول کی بچیاں، راہ چلتی لڑکیاں، چھپ کر بنائی گئی ریکارڈنگز۔
کچھ مناظر ایسے جنہیں دیکھ کر انسان شرمندہ ہو جائے۔
وہ موبائل کو اپنی پاکٹ میں ڈالتی ہے۔۔
وہ سیدھی ہو کر ان تینوں کو دیکھتی ہے۔
آواز پرسکون، مگر ایسی کہ ان کے اندر تک اتر جائے:
“یہ آخری دن تھا۔
آج کے بعد اگر تم میں سے کسی نے کسی لڑکی کی ویڈیو بنائی، کسی کا راستہ روکا، یا کسی کو کمزور سمجھا—
تو یہ صرف مجھ تک نہیں رہے گا۔” یہ میری اخری وارننگ ہے۔۔
یاد رکھنا ، تم پر نظر ہے۔
غلطی دہرائی تو انجام تم خود طے کرو گے—اور وہ آسان نہیں ہوگا۔”
تینوں کی نظریں جھک جاتی ہیں۔
اب وہاں نہ ہنسی ہوتی ہے، نہ آوازیں—صرف خوف، شرمندگی اور خاموشی۔
وہ مڑتی ہے، چھڑی سمیٹ لیتی ہے۔۔چھڑی سمٹ کر چھوٹی ہو جاتی ہے جیسے وہ چھوٹا سا ایک ڈنڈا ہو۔۔۔
اور گلی سے باہر نکل جاتی ہے۔
پیچھے وہی جگہ رہ جاتی ہے—
مگر وہ لڑکے پہلے جیسے نہیں رہتے۔وہ سیدھا گلیوں سے گزرتے ہوئے اپنی بائک کے پاس آتی ہے اور موبائل نکال کر کسی کو میسج کرتی ہے کام ہو گیا۔۔۔
میسج کرنے کے بعد موبائل کو پاکٹ میں ڈالنے کے بعد بائک پر بیٹھتی ہے اور فل سپیڈ سے بائیک اگے بگاڑ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
پیچھے سے دھواں ہی رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
———————————–
آفس کی پارکنگ میں گاڑی رکتے ہی عر شمان سنجیدہ انداز میں باہر نکلا۔ لمبے قدموں سے چلتا ہوا وہ سیدھا اپنی کمپنی عرشمان شاہ کمپنی کی عمارت کے اندر داخل ہوا۔ اس کا سیکریٹری ا حد، جو ہمیشہ کی طرح پہلے سے موجود تھا—اور جو لندن کے بزنس ٹرپ میں بھی اس کے ساتھ ہی گیا تھا—فائل ہاتھ میں لیے اس کا انتظار کر رہا تھا۔
عرشمان اپنی کیبن میں داخل ہوا، کوٹ کرسی کی پشت پر رکھا اور گھومتی ہوئی چیئر پر بیٹھتے ہی بولا،
“ہاں، بتاؤ… کہاں تک پہنچا کام؟”
سیکریٹری فوراً فائل کھول کر بولا،
“سر، جیسا آپ نے کہا تھا ساری پریزنٹیشن فائنل کر دی گئی ہے۔ اور گڈ نیوز یہ ہے کہ ہماری کمپنی بھی اس پروجیکٹ کے لیے سلیکٹ ہو چکی ہے۔ ہمیں اگلے ہفتے تک آفیشلی وہاں موجود ہونا ہے۔”
عرشمان کی آنکھوں میں اطمینان کی چمک آئی۔
“گوڈ… ڈیٹیلز؟
سیکریٹری نے ایک ایک پوائنٹ سمجھایا—میٹنگ شیڈول، بجٹ بریک ڈاؤن، ٹیم اسائنمنٹ اور لانچ کی ڈیڈ لائن۔
“سر، اگر سب پلان کے مطابق رہا تو یہ پروجیکٹ کمپنی کے لیے بہت بڑا بریک تھرو ثابت ہوگا۔”
عرشمان ہلکا سا مسکرایا۔
“ہمیشہ یاد رکھو، ہم صرف کام نہیں کرتے… ہم معیار سیٹ کرتے ہیں۔ سب کو کہو اپنا بیسٹ دیں۔ کوئی بھی چیز کمپرومائز نہیں ہونی چاہیے۔”
“جی سر۔”
سیکریٹری سر ہلا کر باہر چلا گیا۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ اسے نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا، چند ای میلز چیک کیں اور پوری توجہ کے ساتھ کام میں مصروف ہو گیا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی مگر آنکھوں میں عزم صاف جھلک رہا تھا—یہ صرف ایک پروجیکٹ نہیں تھا، یہ اس کی محنت اور نام کا سوال تھا۔
عرشمان پوری توجہ سے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا کہ اچانک اس کے موبائل کی میسج ٹون بجی۔ اس نے ہلکا سا ماتھا سکیڑتے ہوئے فون اٹھایا۔ اسکرین پر نظر پڑتے ہی اس کے تاثرات بدل گئے—چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں ہلکی سی بےچینی اتر آئی۔
چند لمحے وہ میسج پڑھتا رہا، پھر فوراً اپنے سیکریٹری کو کال کی۔
“یس سر۔” دوسری طرف سے آواز آئی۔
“میرے کیبن میں آؤ۔” عرشمان نے مختصر انداز میں کہا۔
چند سیکنڈ بعد دروازہ نوک ہوا اور سیکریٹری اندر داخل ہوا۔
“یس سر؟”
عرشمان نے موبائل میز پر رکھتے ہوئے کہا،
“میں کسی ضروری کام سے باہر جا رہا ہوں۔ جو بھی اپڈیٹس آئیں، تم ہینڈل کر لینا۔ باقی کا کام ہم کل دیکھ لیں گے۔”
“اوکے باس، آپ فکر نہ کریں۔ میں سب مینیج کر لوں گا۔”
عرشمان نے سر ہلایا، کوٹ اٹھایا اور لمبے قدموں سے باہر کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے چہرے کی سنجیدگی بتا رہی تھی کہ یہ کوئی عام میسج نہیں تھا… کچھ ایسا تھا جس نے اسے فوراً آفس چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
—————————————
کار کا دروازہ کھلتا ہے اور ایک وقار کے ساتھ باہر قدم رکھتی ہے۔ وہ چند لمحے رک کر اس خوبصورت گھر کو دیکھتی ہے، جیسے ہر بار کی طرح آج بھی اسے یہ منظر نیا محسوس ہو رہا ہو۔
وہ آہستہ آہستہ سبز لان کے کنارے بنی پگڈنڈی پر چلتی ہوئی سیڑھیوں تک پہنچتی ہے۔ اس کے قدموں کی چاپ خاموش ماحول میں ہلکی سی آواز پیدا کرتی ہے ۔ دروازے کے پاس لگی دیوار کی لائٹ اس کے چہرے پر نرم روشنی ڈالتی ہے، جس سے اس کے تاثرات اور بھی نمایاں ہو جاتے ہیں۔
وہ دروازے کے قریب آ کر ٹھہر گئی۔اس سے باتوں کی اواز ائی۔
خاموشی سے وہ اپنے قدم موڑ کر لان کی طرف بڑھ گئی۔ تبھی اس کی نظر سامنے کھڑے ارحم پر پڑی۔
وہ لان کے ایک کونے میں کھڑا تھا، فون کان سے لگائے، چہرہ سخت اور آنکھوں میں غصہ صاف جھلک رہا تھا۔ اس کی آواز دبی ہوئی مگر تیز تھی۔
“میں نے کہا نا، یہ آخری بار ہے… اس کے بعد کوئی غلطی برداشت نہیں ہوگی!”
وہ چند لمحے خاموش رہا، جیسے سامنے والے کی بات سن رہا ہو، پھر اس کے جبڑے بھنچ گئے۔
“مجھے بہانے نہیں چاہئیں… کام مکمل ہونا چاہیے تھا۔” خاموشی میں اس کی آواز اور بھی گونج دار محسوس ہو رہی تھی۔
وہ سوچنے لگی… آخر ایسی کون سی بات ہے جو ارحم کو اس قدر غصے میں لے آئی ہے؟
ارحم نے کال ختم کی اور جھنجھلاہٹ میں اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ جیسے ہی پلٹا، اس کی نظر پری پر پڑی۔ لمحہ بھر کو اس کے چہرے کا تناؤ ڈھیلا پڑ گیا۔
“اوہ… آپ؟ فائنلی آ ہی گئی۔ آپ تو عید کا چاند ہو گئی ہو، ملنے بھی نہیں آتی!” اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
پری نے بازو باندھ لیے اور سیدھا سوال کر دیا،
“تم اتنے غصے میں کس سے بات کر رہے تھے؟ میں نے تمہیں پہلے کبھی ایسے نہیں دیکھا۔”
ارحم نے نظریں چرا کر مصنوعی بےپروائی سے ہنکارا بھرا۔
“ارے نہیں… بس کام کا تھوڑا سا مسئلہ ہو گیا تھا۔ آپ سنائیں کیسی ہیں ۔۔
پری نے آنکھیں سکیڑ کر اسے غور سے دیکھا، جیسے اس کے چہرے پر سچ تلاش کر رہی ہو۔
“سچ سچ بتاؤ ارحم، کیا بات ہے؟ کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتاؤ۔”
ارحم ہلکا سا ہنسا، مگر اس کی آنکھوں کی تھکن چھپ نہ سکی۔
“او مانا آپ بزنس کی طاقتور لیڈی ہیں، مگر ارحم بھی کچھ کم نہیں۔ یہ سب چھوٹے موٹے مسئلے ہیں… سنبھال لوں گا۔”
وہ ایک قدم اس کے قریب آیا اور شرارت سے بولا،
“ویسے اب چلو بھی… کب سے بھوک سے برا حال ہے۔ آپ کے چکر میں گھر والے کھانا بھی نہیں دے رہے!”
پری اسے گھورتے ہوئے کہتی ہے۔
“اچھا جی؟ قصور میرا ہے؟”
“بالکل!” ارحم نے ہنستے ہوئے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
دونوں ساتھ ساتھ اندر کی طرف بڑھ گئے، ہنسی کے ہلکے سے شور کے ساتھ۔ مگر پری کے دل میں ایک سوال اب بھی چپکے سے موجود تھا—ارحم کی آنکھوں میں وہ لمحاتی سایہ آخر کس بات کا تھا؟
جیسے ہی وہ دونوں اندر داخل ہوئے، پری ابھی تک اپنے خیالوں میں الجھی ہوئی تھی کہ اچانک زور زور سے قدموں کی آواز آئی۔آپی”
اگلے ہی لمحے ہنی دوڑتی ہوئی آئی اور پری کا ایک ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ اسی وقت دوسری طرف سے میر خان بھی لپکا اور اس کا دوسرا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب کر لیا۔
پری ایک دم رک گئی، حیرت سے دونوں کو دیکھتے ہوئے بولی،
“ارے! کیا ہو گیا تم دونوں کو؟”
ہنی نے فوراً میر خان کی طرف گھور کر کہا،
“تم میری آپی کا ہاتھ چھوڑو!”
میر خان نے بھی تیور چڑھا کر جواب دیا،
“آپ میری ماما کا ہاتھ چھوڑیں۔ یہ میری ماما ہیں!”
“تمہاری ماما سے پہلے یہ میری آپی ہیں!” ہنی نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا۔ “تم ہر کسی پر اپنا قبضہ کیوں جما لیتے ہو، چھوٹے چلبوزے!”
“میں چلبوزہ نہیں ہوں!” میر خان نے غصے سے پاؤں پٹخا، “اور یہ میری ماما ہیں، صرف میری!”
پری نے دونوں کے ہاتھوں کی گرفت میں خود کو پھنسا ہوا پایا ۔اور سیریس انداز میں کہا۔
“او ہو! میں کوئی ٹافی ہوں جو تم دونوں بانٹ رہے ہو؟” پری کی بات پر افی اور رومی ہنس پڑی جو ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی۔
ارحم دروازے کے پاس کھڑا یہ منظر دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
“لگتا ہے آج عدالت لگانی پڑے گی، فیصلہ ہوگا کہ پری کس کی ہے!”
ہنی نے فوراً کہا، “میری!”
میر خان بھی پیچھے نہ رہا، “میری!”
پری نے پہلے ہنی کو دیکھا… پھر میر خان کو۔ اس کے چہرے پر اچانک سنجیدگی آ گئی۔
“تم دونوں کے پاس صرف ایک سیکنڈ ہے… ایک سیکنڈ کے اندر میرے ہاتھ چھوڑو… اور وہاں—” اس نے صوفے کی طرف اشارہ کیا، “جا کر چپ چاپ بیٹھ جاؤ۔”
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا… جیسے خاموش مشورہ کر رہے ہوں۔ اگلے ہی لمحے دونوں نے فوراً اس کے ہاتھ چھوڑ دیے اور بھاگ کر صوفے پر جا بیٹھے۔ بیٹھتے ہی دونوں نے ایک دوسرے کے منہ پر انگلی رکھ دی، “ششش…”
یہ منظر دیکھ کر ہال میں موجود سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ارحم نے ہلکے سے سر جھکا کر ہنسی دبائی۔
پری اب سکون سے آگے بڑھی۔ جہانگیر صاحب کے پاس جا کر آداب کیا، سر پر ان کا پیار لیا۔
“جیتی رہو بیٹا…” انہوں نے شفقت سے کہا۔
پھر وہ بی جان سے ملی، جنہوں نے محبت سے اس کا ماتھا چوما۔
“بہت دن بعد آئی ہو پری…”
پری صوفے پر آ کر بیٹھ گئی۔ رومی پانی کا گلاس لا کر اس کے ہاتھ میں دیا
پری نے چند گھونٹ لیے۔پری نے پانی کا گلاس میز پر رکھا اور مسکراتے ہوئے جہانگیر صاحب کے قریب سرک آئی۔
“ آپ کی طبیعت کیسی ہے اب خان بابا؟ دوا وقت پر لے رہے ہیں نا؟”
جہانگیر صاحب نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“الحمدللہ بیٹا، اب بہتر ہوں۔ تم آ جایا کرو تو طبیعت خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔”
پری ہلکا سا مسکرائی اور ان سے مزید حال احوال پوچھنے لگی۔ اسی دوران صوفے کی دوسری طرف سے دبی دبی ہنسی کی آواز آئی۔
میر خان، ہنی کی طرف جھک کر بڑے رازدارانہ انداز میں کہہ رہا تھا،
“تم سچ میں میری ماما کی چھوٹی بہن ہو؟”
ہنی نے ناک سکیڑ کر جواب دیا،
“ہاں بالکل! کیوں؟”
میر خان نے معصوم سنجیدگی سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور بولا،
“لگتی تو نہیں ہو… میری ماما تو اتنی پیاری ہیں۔ تم تو پیاری نہیں ہو!”
ایک لمحے کو پورا ہال ساکت ہو گیا… پھر سب کی نظریں ہنی پر جا ٹکیں۔
ہنی نے منہ کھول کر حیرت سے میر خان کو دیکھا،
“کیااا؟ میں پیاری نہیں ہوں۔۔
میر خان نے کندھے اچکائے،
“ہاں… بس ٹھیک ٹھاک ہو۔”
اب کی بار ارحم نے کھل کر ہنسی روکنے کی کوشش کی، جبکہ بی جان نے لبوں پر دوپٹہ رکھ لیا۔ جہانگیر صاحب کی آنکھوں میں بھی شرارت چمکنے لگی۔
ہنی نے غصے سے میر خان کی طرف انگلی اٹھائی،
“چھوٹے بندر!
میر خان فوراً صوفے کے کونے میں سرک گیا،
“دیکھا! اسی لیے کہتا ہوں پیاری نہیں ہو… میری ماما کبھی ایسے نہیں ڈانٹتیں!”
پری نے بمشکل اپنی ہنسی روکی اور دونوں کو سخت نظر سے دیکھا،
“بس! دونوں… خاموش۔”
مگر اس کے چہرے کی دبی ہوئی مسکراہٹ صاف بتا رہی تھی کہ اسے یہ ننھی سی تکرار اندر سے کتنی اچھی لگ رہی تھی۔گھر کی فضا ایک بار پھر ہلکی پھلکی ہنسی سے بھر گئی…
جہانگیر صاحب بھی بچوں ایک کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت خوش ہو رہے تھے۔پھر میر خان سے کہتے ہیں تم میری بیٹی کو تنگ مت کرو اس پر وہ اوکے بول کر صوفے پہ پھر سے چپ کر کے بیٹھ جاتا ہے۔۔
ہنی غصے سے اٹھ کر گارڈن کی طرف چلی جاتی ہے۔۔
پری نے میر خان کو اپنے پاس بلایا۔ اس کے چہرے پر سختی تو تھی مگر آنکھوں میں نرمی بھی۔
“آج کل آپ بہت شرارتیں کرنے لگے ہیں، ہاں؟ یہ کہاں سے سیکھ لیا کہ کسی کو منہ پر کہہ دو تم خوبصورت نہیں ہو؟”
میر خان نے فوراً صفائی دی،
“نہیں… میں تو جسٹ مذاق کر رہا تھا، ماما!”
پری نے سنجیدگی سے کہا،
“بیٹا، مذاق میں بھی ایسی بات نہیں بولنی چاہیے۔ مذاق وہی اچھا ہوتا ہے جس سے سب ہنسیں… نہ کہ کوئی دل ہی دل میں اداس ہو جائے۔ بات کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے لفظ کسی کو چوٹ تو نہیں پہنچا رہے۔”
وہ تھوڑا جھکی اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی،
“اور یاد رکھو، اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ہر انسان خوبصورت ہے۔ ہم کسی کو جج نہیں کر سکتے کہ کون پیارا ہے یا نہیں۔آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا، ٹھیک ہے؟”
میر خان کا سر آہستہ سے جھک گیا۔
“سوری ماما… دوبارہ نہیں کروں گا۔”
پری نے ہلکا سا سر ہلایا۔
“سوری مجھے نہیں… ہنی آپی کو بولنا ہے۔”
اتنے میں افی آ کر بولیں،
“چلو سب، کھانا لگ گیا ہے!”
سب ڈائننگ ایریا کی طرف بڑھ گئے… پری بار گارڈن کی طرف بڑھ کے جہاں ہنی گئی تھی۔۔۔
باہر ا کر دیکھتی ہے وہ سیڑھیوں پر بیٹھی ہوتی ہے۔پری آہستہ سے اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“کیا ہوا؟”
“کچھ نہیں…” ہنی نے نظریں چُرا لیں۔
پری نے اس کی طرف دیکھ کر۔۔ پھر سامنے دیکھنے لگ گئی۔۔
“تو تم یہ سب سیکھ کے آئی ہو باہر سے؟ مطلب ابھی بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لے لیتی ہو؟”
ہنی حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“کیا مطلب؟”
پری نرم مگر مضبوط لہجے میں بولی،
“ابھی تم نے خود دیکھا… میر خان نے مذاق میں کہہ دیا کہ تم خوبصورت نہیں ہو۔ بس اسی بات کو دل پر لے کر یہاں آ کر بیٹھ گئی ہو نا؟”
“نہیں! بالکل ایسا نہیں ہے…” ہنی نے فوراً انکار کیا، مگر اس کی آواز میں ہلکی سی کمزوری تھی۔
پری مسکرائی۔
“سچ میں؟ ایسا نہیں ہے؟”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پری نے اس کی طرف رخ کیا۔۔
۔ تم ایک ڈیزائنر ہو۔ کل سے تم اپنی نئی شاپ اوپن کر رہی ہو۔۔
کل کو لوگ ہزار باتیں کریں گے—کسی کو تمہارا ڈیزائن پسند نہیں آئے گا، کوئی کہے گا مہنگا ہے، کوئی کہے گا رنگ اچھا نہیں۔ تو کیا تم ہر بات دل پر لے کر ایسے ہی بیٹھ جاؤ گی؟”
ہنی خاموش ہو گئی۔
پری نے نرمی سے کہا،
“مضبوط لوگ وہ نہیں ہوتے جنہیں کوئی کچھ کہے ہی نہ… مضبوط وہ ہوتے ہیں جو سن کر مسکرا دیں اور آگے بڑھ جائیں۔”
تو میں مضبوط نہیں ہوں کیا؟”
پری نے اس کے ماتھے پر ہلکی سی چپت لگائی۔
“ہو۔۔۔ اگرمضبوط نہ ہوتی تو دو سال تم لندن نہ رہ کر آتی… مگر ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے تمہیں۔۔۔
ہنی ہنس پڑی۔
“آپ بھی نا…”
پری نے اسے کھڑا کیا۔
“چلو، اب کھانا کھاتے ہیں۔ اور ہاں—خوبصورت ہونے کا سرٹیفیکیٹ کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ جو دل سے صاف ہو، وہی سب سے خوبصورت ہوتا ہے۔”
ہنی نے گہرا سانس لیا اور اس کے ساتھ چل پڑی… اس بار اس کے قدم پہلے سے زیادہ مضبوط تھے۔۔۔۔۔
وہ اندر کی طرف بڑھ جاتی ہیں۔
آگے سے میر خان چلتا ہوا ا رہا ہوتا ہے۔۔
وہ آہستہ سے اس کے قریب گیا۔
“سوری ہآپی… میں نے مذاق کیا تھا۔ آپ خوبصورت ہیں…
ہنی نے تھوڑا سا نخرہ دکھایا،
“سچ؟”
“بالکل سچ!” اس نے جلدی سے کہا۔پری نے دونوں کو دیکھ کر مسکرا دیا۔
ہنی نے میر خان کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی،
“چلو، اب کھانا کھاتے ہیں چھوٹے چلبوزے!”
“میں چلبوزہ نہیں ہوں!” میر خان نے احتجاج کیا، مگر اس بار سب ہنس رہے تھے۔
اور یوں ہنسی مذاق کے ساتھ وہ سب ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئے
ڈائننگ ٹیبل پر بریانی دیکھ کر ہنی چکتے ہوئے واؤ بی جان میں نے آپ کی بریانی بہت مس کی جبکہ باقی کی بھی فیورٹ ڈش تھی ۔۔۔۔
جبکہ پری کو بریانی بالکل نہیں پسند تھے اس لیے وہ ہنی کو چھڑاتے ہوئے کہتی ہے دیکھ لیں بی جان دیکھ لیں اس نے آپ کو مس نہیں کیا اس نے بس بریانی کو مس کیا۔۔
جس پر سب ہنستے ہوئے اسی خوشوار ماحول میں سب ڈنر کرتے ہیں۔۔۔۔
کھانے کے بعد چائے کا دور چل نکلا تھا۔
“اب ہم چلتے ہیں… کافی ٹائم ہو گیا ہے۔”
“نہیں!” ہنی نے فوراً آواز بلند کی، “تم لوگ تو یہی رکو گے۔”
افی“نہیں ۔۔ ہنی نے منہ بناتے ہوئے کہا لیکن کیوں پری آج یہیں رک جائے نا۔۔
پری نے نرمی سے کہا، “میں یہی ہوں یہ واپس جائے گی ۔ ۔۔
“تو پھر میں بھی چلتی ہوں گھر واپس،” رومی نے فوراً کہا ۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے تم بھی جاؤ آج میں اکیلی پری یہ اپی سے باتیں کروں گی تم لوگ ہوتے ہو تو بات ہی نہیں کرنے دیتی۔۔
اس کے انداز پر سب ہنس پڑے۔
رومی نے جاتے جاتے ہنی کو انگلی دکھاتے ہوئے کہا، “صبح ٹائم سے پہنچ جانا، اگر لیٹ ہوئی نا… پھر دیکھ لینا!”
“ہاں ہاں پہنچ جائیں گے،” ہنی نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
رومی نے چھیڑتے ہوئے کہا، “تمہاری نیند ہے نا… اب تم اٹھ ہی جاؤ تو بڑی بات ہے!”
پھر اس نے اشارے سے پری کو کہا۔۔
پری نے آنکھوں ہی آنکھوں میں جواب دیا، “اوکے، ڈونٹ وری۔”
محفل آہستہ آہستہ برخاست ہونے لگی، مگر ہنسی اور اپنائیت کی خوشبو اب بھی فضا میں باقی تھی۔۔۔
ہنی نے پری کی طرف دیکھ کر کہا چلیں ۔۔تم روم میں چلو میں اتی ہوں مجھے ایک کال کرنی ہے۔۔۔
پری روم میں واپس آئی، دیکھا جس نے اس سے باتیں کی تھیں وہ بیڈ پر مزے سے سو رہی تھی۔
پری نے اس کے اوپر کمبل ٹھیک کیا، روم کے لائٹس آف کیے اور دروازہ بند کر کے باہر آ گئی اور اپنے روم کی طرف بڑھی جو آگے ہی تھا۔ اپنے روم کا دروازہ کھول کے اندر آتی ہے۔۔۔
کافی مہینوں بعد وہ واپس آئی تھی۔ اس کا روم ویسے ہی صاف ستھرا تھا۔۔۔اگے بڑھ کر اس نے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر اپنا موبائل اور چھڑی رکھی۔پھر وہ اپنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔اپنا حجاب اتارا۔۔
وہ پانچ منٹ تک خود کو آئینے میں دیکھتی رہی۔ جیسے آئینہ صرف اُس کا عکس نہیں بلکہ اُس کے دل کی کیفیت بھی دکھا رہا ہو۔ اچانک اُس نے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیے، آنکھیں بند کیں اور ایک گہری سانس لی… جیسے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
کچھ لمحے بعد اُس نے دوبارہ آئینے میں دیکھا، مگر اس بار اُس کی نگاہوں میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔ پھر آہستہ قدموں سے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔
جب وہ باہر آئی تو اُس کا چہرہ دھلا ہوا تھا، آنکھیں بھی جیسے آنسوؤں سے صاف ہو چکی تھیں۔ چہرے پر ایک خاموش سی تھکن بھی تھی مگر ساتھ ہی ایک عزم بھی۔
اُس نے جرماز بچھایا، دوپٹہ درست کیا اور قبلہ رخ کھڑی ہو گئی۔ ہاتھ باندھ کر جب اُس نے نماز شروع کی تو اُس کی آواز میں لرزش تھی، مگر دل میں سکون اترنے لگا تھا۔ ہر سجدہ جیسے اُس کے دل کا بوجھ زمین پر رکھ رہا ہو… اور ہر دعا میں اُس کی
جاری ہے۔۔۔
