SAAT RANG E HAYAT BY HIFZA MIRZA EPISODE 2.

سات رنگِ حیات
از قلم حفظہ مرزا
قسط نمبر :2

وہ شہر کے بیچوں بیچ چلتی ہے۔ ایک طرف کی گلی میں مڑتی ہے، پھر اگلی، پھر ایک اور۔ تنگ گلیاں، بند راستے، اور ہر موڑ پر اجنبیت کا احساس۔ آخرکار تین گلیاں کراس کرنے کے بعد وہ اپنی مین گلی تک پہنچتی ہے۔
وہاں سے تھوڑا آگے ہی اسکول نظر آتا ہے—وہی عمارت جہاں روز درجنوں بچیاں خواب لے کر آتی جاتی ہیں۔

اسکول سے آگے بڑھتے ہی وہ ایک اور گلی میں داخل ہوتی ہے۔

گلی کے ایک سائیڈ پر، پتھروں پر بیٹھے تین لڑکے نظر آتے ہیں۔ ان کی نظریں آنے جانے والی اسکول کی لڑکیوں پر جمی ہوتی ہیں۔ کوئی فقرہ، کوئی ہنسی، کوئی آواز—جو فضا کو ناپاک کر دیتی ہے۔
وہ فوراً ایک دیوار کی اوٹ میں رک جاتی ہے۔ وہ انہیں دیکھتی ہے، خاموشی سے، محتاط نظروں کے ساتھ۔

جب گلی میں رش کچھ کم ہوتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہے۔
یہ وہی حصہ ہے جہاں عام آنکھ نہیں پہنچتی، جہاں سڑک کی آوازیں دم توڑ دیتی ہیں، اور جہاں وہ لڑکے خود کو بے خوف سمجھتے ہیں۔

وہ قدم رکھتی ہے…
لیکن اس بار اس کے قدم کمزور نہیں ہوتے۔
اس کی نظریں جھکی ہوئی نہیں ہوتیں۔

وہ قدم آگے بڑھاتی ہے، پورے اعتماد کے ساتھ۔ ایک ہاتھ میں چھڑی مضبوطی سے تھامی ہوئی۔
جیسے ہی وہ ان کے قریب سے گزرتی ہے، لڑکے سیٹیاں بجاتے ہیں۔ آوازیں فضا میں پھیل جاتی ہیں۔ وہ اچانک کھڑے ہو جاتے ہیں، اس کی طرف دیکھتے ہیں اور بے تکلفی سے پکارنے لگتے ہیں۔

“ہیلو جانِ من، کہاں جا رہی ہو؟”

وہ رکتی نہیں۔ نظریں سیدھی، قدم مسلسل آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
لڑکے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں، آوازیں دیتے ہوئے، ہنستے ہوئے۔

ایک گلی سے دوسری، دوسری سے تیسری—وہ تیز چلتی ہے۔
آخر ایک ایسی گلی میں داخل ہوتی ہے جہاں نہ کوئی گھر ہے، نہ کوئی کھڑکی، نہ کوئی دروازہ۔ خاموشی گہری ہو جاتی ہے۔

وہ اچانک رکتی ہے۔
آہستہ سے پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے۔

لڑکے بھی رک جاتے ہیں۔
اس کے چہرے پر خوف نہیں، بلکہ عجیب سی خاموش سختی ہوتی ہے۔

ایک لڑکا ہنستے ہوئے کہتا ہے،
“کیا ہوا؟ ارے، تم تو رک گئی… مطلب ہمیں ؟؟

وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنستے ہیں، ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں، جیسے یہ سب ان کے لیے کھیل ہو۔

لیکن وہ خاموش کھڑی رہتی ہے۔
چھڑی اس کے ہاتھ میں ہے، نظریں سیدھی، اور خاموشی ایسی کہ ہنسی بھی کچھ لمحوں کے لیے لڑکھڑا جاتی ہے۔

ان میں سے ایک لڑکا اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہتا ہے،
“میری گرل فرینڈ بن جاؤ… قسم سے رانی بنا کر رکھوں گا۔ مگر پہلے ذرا چہرہ تو دکھاؤ، یہ پردہ ہٹاؤ نا۔”

وہ بات کرتے ہوئے اس کے قریب آتا ہے اور ہاتھ بڑھاتا ہے۔
وہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتی۔

جیسے ہی وہ اس کے نقاب کی طرف ہاتھ لے جاتا ہے، وہ فوراً اس کی کلائی مضبوطی سے پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیز، درست حرکت—اور لڑکا درد سے کراہ اٹھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بے اختیار ڈھیلا پڑ جاتا ہے، قدم پیچھے لڑکھڑا جاتے ہیں۔

گلی کی ہنسی اچانک خاموشی میں بدل جاتی ہے۔
باقی دونوں لڑکے ساکت رہ جاتے ہیں، آنکھوں میں حیرت اور خوف کا ملا جلا تاثر۔

وہ لڑکی وہیں کھڑی رہتی ہے—نقاب اپنی جگہ، قامت سیدھی، لہجہ خاموش مگر مضبوط۔
اس کی خاموشی چیخ بن جاتی ہے، اور گلی میں پہلی بار طاقت کا رخ بدلتا ہے۔

انہیں دیکھ کر پرسکون لہجے میں کہتی ہے،
“کیا ہوا؟ مزہ چاہیے؟”

اسی لمحے پیچھے کھڑا تیسرا لڑکا جیب سے موبائل نکالتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں بد نیتی چمکنے لگتی ہے۔
“زیادہ ہوشیار بن رہی ہے،” وہ طنز سے کہتا ہے۔
“اس کے ہاتھ پکڑو، آج اسے بتاتے ہیں مزہ کیا ہوتا ہے۔”

وہ ابھی آگے بڑھنے ہی والے ہوتے ہیں کہ وہ حرکت میں آ جاتی ہے۔

وہ ایک قدم پیچھے ہٹتی ہے، اپنا توازن سنبھالتی ہے، اور جیسے ہی سامنے والا لڑکا قریب آتا ہے، وہ اچانک وار کرتی ہے۔ ایک جھٹکے میں اس کا حملہ نشانے پر لگتا ہے۔ لڑکا سنبھل نہیں پاتا، لڑکھڑاتا ہوا پیچھے جا گرتا ہے۔

گلی میں افراتفری پھیل جاتی ہے۔
موبائل ہاتھ سے نیچے ہو جاتا ہے، آوازیں الجھ جاتی ہیں، اور ہنسی خوف میں بدلنے لگتی ہے۔

وہ رُکتی نہیں۔
وہ تیزی سے ایک طرف ہٹتی ہے، خود کو گھیرے میں آنے سے بچاتے ہوئے۔ اس کی آنکھوں میں اب کوئی ہچکچاہٹ نہیں—صرف ہوش اور فیصلہ۔

لڑکے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔
جو لمحہ پہلے طاقت سمجھ رہے تھے، وہ اب کمزوری بن چکا تھا۔

وہ سیدھی کھڑی ہوتی ہے، نقاب اب بھی اپنی جگہ،۔۔۔۔۔۔۔

گلی میں خاموشی پھیل جاتی ہے۔
اور اس خاموشی میں، فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے کہ آج یہ کھیل ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔


وہ تینوں سمجھ جاتے ہیں کہ آج حالات ان کے ہاتھ میں نہیں ہے وہ بھاگنے کی سوچتے ہیں۔۔
لیکن وہ ان کی نیت پڑھ چکی تھی۔

وہ ایک لمحے میں ان کے درمیان سے گزرتی ہے اور ان کے آگے جا کھڑی ہوتی ہے۔
اب ایک طرف وہ لڑکی ہوتی ہے، دوسری طرف دیوار۔
راستہ ختم ہو چکا تھا۔

وہ اپنی چھڑی کو سیدھا کرتی ہے۔جو سیدھی ایک تلوار کیسی ہوتی ہے اس کے دونوں سائیڈ پہ ایک چاکونامہ تیز تاروں والی نوکیلی بلیڈ لگی ہوتی ہے
وہ ایک بٹن پریس کرتی ہے بلیڈ اندر کی طرف ہو جاتے ہیں۔۔۔ایک ہلکی سی حرکت—اور چھڑی لمبی ہو جاتی ہے۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں اب کوئی غصہ نہیں، بس فیصلہ ہے۔

وہ ایک قدم آگے بڑھتی ہے۔

چھڑی فضا میں حرکت کرتی ہے—آوازیں گونجتی ہیں، قدم ڈگمگاتے ہیں، اور تینوں کی ہمت ٹوٹنے لگتی ہے۔
جو خود کو طاقتور سمجھ رہے تھے، وہ اب پیچھے ہٹ رہے تھے

چند لمحوں میں منظر پلٹ چکا تھا۔
وہ تینوں دیوار کے ساتھ سمٹ جاتے ہیں، نظریں جھکی ہوئی، سانس اکھڑی ہوئ۔زخمی حالت میں پڑے تھے۔۔

وہ رکتی ہے۔بہت ٹائم ہو گیا بچپن میں ٹیچنگ والا گیم کھیلا تھا ۔۔۔چلو آج پھر سے کھیلتے ہیں۔۔
تو انہیں سٹک سے اشارہ کرتے ہیں اور اپنی طرف بڑھنے کو بولتے ہیں اور ہاتھ آگے کرنے کو کہتی ہے جس پر وہ نہیں کہتے اور معافی مانگتے ہر جوڑتے ہیں پلیز ہمیں چھوڑ دو۔

وہ لڑکی ان سے کہتی ہے اگر تم لوگ خود نہیں ہائے تو میں بہت ماروں گی چلو شاباش جلدی سے اؤ ۔۔
اس پر وہ ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہیں ۔ جس پر تم جاؤ پہلے۔۔

جلدی کرو میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔
جس پر پہلے والا ادمی دھیرے دھیرے آگے بڑھتا ہے رہا ڈر ڈر کے ہاتھ آگے کرتا ہے پھر باری باری اسی سٹک کے ساتھ ان کے ہاتھوں پر وار کرتی اور ان کے دونوں ہاتھ توڑ دیتی ہے۔۔


وہ تینوں زمین پر پڑے کراہ رہے ہوتے ہیں، خود پر قابو پانے کی کوشش میں۔
وہ ان کے قریب جاتی ہے، جھک کر ایک کے جیب سے موبائل نکال لیتی ہے۔
ایک اور موبائل پاس ہی گرا ہوتا ہے—وہ اسے بھی اٹھا لیتی ہے۔

اسکرین آن ہوتے ہی اس کے چہرے پر سختی آ جاتی ہے۔
ویڈیوز پر ویڈیوز—اسکول کی بچیاں، راہ چلتی لڑکیاں، چھپ کر بنائی گئی ریکارڈنگز۔
کچھ مناظر ایسے جنہیں دیکھ کر انسان شرمندہ ہو جائے۔
وہ موبائل کو اپنی پاکٹ میں ڈالتی ہے۔۔

وہ سیدھی ہو کر ان تینوں کو دیکھتی ہے۔
آواز پرسکون، مگر ایسی کہ ان کے اندر تک اتر جائے:

“یہ آخری دن تھا۔
آج کے بعد اگر تم میں سے کسی نے کسی لڑکی کی ویڈیو بنائی، کسی کا راستہ روکا، یا کسی کو کمزور سمجھا—
تو یہ صرف مجھ تک نہیں رہے گا۔” یہ میری اخری وارننگ ہے۔۔

یاد رکھنا ، تم پر نظر ہے۔
غلطی دہرائی تو انجام تم خود طے کرو گے—اور وہ آسان نہیں ہوگا۔”

تینوں کی نظریں جھک جاتی ہیں۔
اب وہاں نہ ہنسی ہوتی ہے، نہ آوازیں—صرف خوف، شرمندگی اور خاموشی۔

وہ مڑتی ہے، چھڑی سمیٹ لیتی ہے۔۔چھڑی سمٹ کر چھوٹی ہو جاتی ہے جیسے وہ چھوٹا سا ایک ڈنڈا ہو۔۔۔
اور گلی سے باہر نکل جاتی ہے۔
پیچھے وہی جگہ رہ جاتی ہے—
مگر وہ لڑکے پہلے جیسے نہیں رہتے۔وہ سیدھا گلیوں سے گزرتے ہوئے اپنی بائک کے پاس آتی ہے اور موبائل نکال کر کسی کو میسج کرتی ہے کام ہو گیا۔۔۔
میسج کرنے کے بعد موبائل کو پاکٹ میں ڈالنے کے بعد بائک پر بیٹھتی ہے اور فل سپیڈ سے بائیک اگے بگاڑ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
پیچھے سے دھواں ہی رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔


———————————–


آفس کی پارکنگ میں گاڑی رکتے ہی عر شمان سنجیدہ انداز میں باہر نکلا۔ لمبے قدموں سے چلتا ہوا وہ سیدھا اپنی کمپنی عرشمان شاہ کمپنی کی عمارت کے اندر داخل ہوا۔ اس کا سیکریٹری ا حد، جو ہمیشہ کی طرح پہلے سے موجود تھا—اور جو لندن کے بزنس ٹرپ میں بھی اس کے ساتھ ہی گیا تھا—فائل ہاتھ میں لیے اس کا انتظار کر رہا تھا۔

عرشمان اپنی کیبن میں داخل ہوا، کوٹ کرسی کی پشت پر رکھا اور گھومتی ہوئی چیئر پر بیٹھتے ہی بولا،
“ہاں، بتاؤ… کہاں تک پہنچا کام؟”

سیکریٹری فوراً فائل کھول کر بولا،
“سر، جیسا آپ نے کہا تھا ساری پریزنٹیشن فائنل کر دی گئی ہے۔ اور گڈ نیوز یہ ہے کہ ہماری کمپنی بھی اس پروجیکٹ کے لیے سلیکٹ ہو چکی ہے۔ ہمیں اگلے ہفتے تک آفیشلی وہاں موجود ہونا ہے۔”

عرشمان کی آنکھوں میں اطمینان کی چمک آئی۔
“گوڈ… ڈیٹیلز؟


سیکریٹری نے ایک ایک پوائنٹ سمجھایا—میٹنگ شیڈول، بجٹ بریک ڈاؤن، ٹیم اسائنمنٹ اور لانچ کی ڈیڈ لائن۔
“سر، اگر سب پلان کے مطابق رہا تو یہ پروجیکٹ کمپنی کے لیے بہت بڑا بریک تھرو ثابت ہوگا۔”

عرشمان ہلکا سا مسکرایا۔
“ہمیشہ یاد رکھو، ہم صرف کام نہیں کرتے… ہم معیار سیٹ کرتے ہیں۔ سب کو کہو اپنا بیسٹ دیں۔ کوئی بھی چیز کمپرومائز نہیں ہونی چاہیے۔”

“جی سر۔”
سیکریٹری سر ہلا کر باہر چلا گیا۔

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ اسے نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا، چند ای میلز چیک کیں اور پوری توجہ کے ساتھ کام میں مصروف ہو گیا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی مگر آنکھوں میں عزم صاف جھلک رہا تھا—یہ صرف ایک پروجیکٹ نہیں تھا، یہ اس کی محنت اور نام کا سوال تھا۔

عرشمان پوری توجہ سے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا کہ اچانک اس کے موبائل کی میسج ٹون بجی۔ اس نے ہلکا سا ماتھا سکیڑتے ہوئے فون اٹھایا۔ اسکرین پر نظر پڑتے ہی اس کے تاثرات بدل گئے—چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں ہلکی سی بےچینی اتر آئی۔

چند لمحے وہ میسج پڑھتا رہا، پھر فوراً اپنے سیکریٹری کو کال کی۔

“یس سر۔” دوسری طرف سے آواز آئی۔

“میرے کیبن میں آؤ۔” عرشمان نے مختصر انداز میں کہا۔

چند سیکنڈ بعد دروازہ نوک ہوا اور سیکریٹری اندر داخل ہوا۔
“یس سر؟”
عرشمان نے موبائل میز پر رکھتے ہوئے کہا،
“میں کسی ضروری کام سے باہر جا رہا ہوں۔ جو بھی اپڈیٹس آئیں، تم ہینڈل کر لینا۔ باقی کا کام ہم کل دیکھ لیں گے۔”

“اوکے باس، آپ فکر نہ کریں۔ میں سب مینیج کر لوں گا۔”

عرشمان نے سر ہلایا، کوٹ اٹھایا اور لمبے قدموں سے باہر کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے چہرے کی سنجیدگی بتا رہی تھی کہ یہ کوئی عام میسج نہیں تھا… کچھ ایسا تھا جس نے اسے فوراً آفس چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

 

—————————————

کار کا دروازہ کھلتا ہے اور ایک وقار کے ساتھ باہر قدم رکھتی ہے۔ وہ چند لمحے رک کر اس خوبصورت گھر کو دیکھتی ہے، جیسے ہر بار کی طرح آج بھی اسے یہ منظر نیا محسوس ہو رہا ہو۔

وہ آہستہ آہستہ سبز لان کے کنارے بنی پگڈنڈی پر چلتی ہوئی سیڑھیوں تک پہنچتی ہے۔ اس کے قدموں کی چاپ خاموش ماحول میں ہلکی سی آواز پیدا کرتی ہے ۔ دروازے کے پاس لگی دیوار کی لائٹ اس کے چہرے پر نرم روشنی ڈالتی ہے، جس سے اس کے تاثرات اور بھی نمایاں ہو جاتے ہیں۔

وہ دروازے کے قریب آ کر ٹھہر گئی۔اس سے باتوں کی اواز ائی۔
خاموشی سے وہ اپنے قدم موڑ کر لان کی طرف بڑھ گئی۔ تبھی اس کی نظر سامنے کھڑے ارحم پر پڑی۔

وہ لان کے ایک کونے میں کھڑا تھا، فون کان سے لگائے، چہرہ سخت اور آنکھوں میں غصہ صاف جھلک رہا تھا۔ اس کی آواز دبی ہوئی مگر تیز تھی۔

“میں نے کہا نا، یہ آخری بار ہے… اس کے بعد کوئی غلطی برداشت نہیں ہوگی!”

وہ چند لمحے خاموش رہا، جیسے سامنے والے کی بات سن رہا ہو، پھر اس کے جبڑے بھنچ گئے۔

“مجھے بہانے نہیں چاہئیں… کام مکمل ہونا چاہیے تھا۔” خاموشی میں اس کی آواز اور بھی گونج دار محسوس ہو رہی تھی۔

وہ سوچنے لگی… آخر ایسی کون سی بات ہے جو ارحم کو اس قدر غصے میں لے آئی ہے؟

ارحم نے کال ختم کی اور جھنجھلاہٹ میں اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ جیسے ہی پلٹا، اس کی نظر پری پر پڑی۔ لمحہ بھر کو اس کے چہرے کا تناؤ ڈھیلا پڑ گیا۔

“اوہ… آپ؟ فائنلی آ ہی گئی۔ آپ تو عید کا چاند ہو گئی ہو، ملنے بھی نہیں آتی!” اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

پری نے بازو باندھ لیے اور سیدھا سوال کر دیا،
“تم اتنے غصے میں کس سے بات کر رہے تھے؟ میں نے تمہیں پہلے کبھی ایسے نہیں دیکھا۔”

ارحم نے نظریں چرا کر مصنوعی بےپروائی سے ہنکارا بھرا۔
“ارے نہیں… بس کام کا تھوڑا سا مسئلہ ہو گیا تھا۔ آپ سنائیں کیسی ہیں ۔۔

پری نے آنکھیں سکیڑ کر اسے غور سے دیکھا، جیسے اس کے چہرے پر سچ تلاش کر رہی ہو۔
“سچ سچ بتاؤ ارحم، کیا بات ہے؟ کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتاؤ۔”

ارحم ہلکا سا ہنسا، مگر اس کی آنکھوں کی تھکن چھپ نہ سکی۔
“او مانا آپ بزنس کی طاقتور لیڈی ہیں، مگر ارحم بھی کچھ کم نہیں۔ یہ سب چھوٹے موٹے مسئلے ہیں… سنبھال لوں گا۔”

وہ ایک قدم اس کے قریب آیا اور شرارت سے بولا،
“ویسے اب چلو بھی… کب سے بھوک سے برا حال ہے۔ آپ کے چکر میں گھر والے کھانا بھی نہیں دے رہے!”

پری اسے گھورتے ہوئے کہتی ہے۔
“اچھا جی؟ قصور میرا ہے؟”

“بالکل!” ارحم نے ہنستے ہوئے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔

دونوں ساتھ ساتھ اندر کی طرف بڑھ گئے، ہنسی کے ہلکے سے شور کے ساتھ۔ مگر پری کے دل میں ایک سوال اب بھی چپکے سے موجود تھا—ارحم کی آنکھوں میں وہ لمحاتی سایہ آخر کس بات کا تھا؟


جیسے ہی وہ دونوں اندر داخل ہوئے، پری ابھی تک اپنے خیالوں میں الجھی ہوئی تھی کہ اچانک زور زور سے قدموں کی آواز آئی۔آپی”

اگلے ہی لمحے ہنی دوڑتی ہوئی آئی اور پری کا ایک ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ اسی وقت دوسری طرف سے میر خان بھی لپکا اور اس کا دوسرا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب کر لیا۔

پری ایک دم رک گئی، حیرت سے دونوں کو دیکھتے ہوئے بولی،
“ارے! کیا ہو گیا تم دونوں کو؟”

ہنی نے فوراً میر خان کی طرف گھور کر کہا،
“تم میری آپی کا ہاتھ چھوڑو!”

میر خان نے بھی تیور چڑھا کر جواب دیا،
“آپ میری ماما کا ہاتھ چھوڑیں۔ یہ میری ماما ہیں!”

“تمہاری ماما سے پہلے یہ میری آپی ہیں!” ہنی نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا۔ “تم ہر کسی پر اپنا قبضہ کیوں جما لیتے ہو، چھوٹے چلبوزے!”

“میں چلبوزہ نہیں ہوں!” میر خان نے غصے سے پاؤں پٹخا، “اور یہ میری ماما ہیں، صرف میری!”

پری نے دونوں کے ہاتھوں کی گرفت میں خود کو پھنسا ہوا پایا ۔اور سیریس انداز میں کہا۔
“او ہو! میں کوئی ٹافی ہوں جو تم دونوں بانٹ رہے ہو؟” پری کی بات پر افی اور رومی ہنس پڑی جو ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی۔

ارحم دروازے کے پاس کھڑا یہ منظر دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
“لگتا ہے آج عدالت لگانی پڑے گی، فیصلہ ہوگا کہ پری کس کی ہے!”

ہنی نے فوراً کہا، “میری!”
میر خان بھی پیچھے نہ رہا، “میری!”


پری نے پہلے ہنی کو دیکھا… پھر میر خان کو۔ اس کے چہرے پر اچانک سنجیدگی آ گئی۔

“تم دونوں کے پاس صرف ایک سیکنڈ ہے… ایک سیکنڈ کے اندر میرے ہاتھ چھوڑو… اور وہاں—” اس نے صوفے کی طرف اشارہ کیا، “جا کر چپ چاپ بیٹھ جاؤ۔”

دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا… جیسے خاموش مشورہ کر رہے ہوں۔ اگلے ہی لمحے دونوں نے فوراً اس کے ہاتھ چھوڑ دیے اور بھاگ کر صوفے پر جا بیٹھے۔ بیٹھتے ہی دونوں نے ایک دوسرے کے منہ پر انگلی رکھ دی، “ششش…”

یہ منظر دیکھ کر ہال میں موجود سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ارحم نے ہلکے سے سر جھکا کر ہنسی دبائی۔

پری اب سکون سے آگے بڑھی۔ جہانگیر صاحب کے پاس جا کر آداب کیا، سر پر ان کا پیار لیا۔
“جیتی رہو بیٹا…” انہوں نے شفقت سے کہا۔

پھر وہ بی جان سے ملی، جنہوں نے محبت سے اس کا ماتھا چوما۔
“بہت دن بعد آئی ہو پری…”

پری صوفے پر آ کر بیٹھ گئی۔ رومی پانی کا گلاس لا کر اس کے ہاتھ میں دیا
پری نے چند گھونٹ لیے۔پری نے پانی کا گلاس میز پر رکھا اور مسکراتے ہوئے جہانگیر صاحب کے قریب سرک آئی۔

“ آپ کی طبیعت کیسی ہے اب خان بابا؟ دوا وقت پر لے رہے ہیں نا؟”

جہانگیر صاحب نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“الحمدللہ بیٹا، اب بہتر ہوں۔ تم آ جایا کرو تو طبیعت خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔”

پری ہلکا سا مسکرائی اور ان سے مزید حال احوال پوچھنے لگی۔ اسی دوران صوفے کی دوسری طرف سے دبی دبی ہنسی کی آواز آئی۔

میر خان، ہنی کی طرف جھک کر بڑے رازدارانہ انداز میں کہہ رہا تھا،
“تم سچ میں میری ماما کی چھوٹی بہن ہو؟”

ہنی نے ناک سکیڑ کر جواب دیا،
“ہاں بالکل! کیوں؟”

میر خان نے معصوم سنجیدگی سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور بولا،
“لگتی تو نہیں ہو… میری ماما تو اتنی پیاری ہیں۔ تم تو پیاری نہیں ہو!”

ایک لمحے کو پورا ہال ساکت ہو گیا… پھر سب کی نظریں ہنی پر جا ٹکیں۔

ہنی نے منہ کھول کر حیرت سے میر خان کو دیکھا،
“کیااا؟ میں پیاری نہیں ہوں۔۔

میر خان نے کندھے اچکائے،
“ہاں… بس ٹھیک ٹھاک ہو۔”

اب کی بار ارحم نے کھل کر ہنسی روکنے کی کوشش کی، جبکہ بی جان نے لبوں پر دوپٹہ رکھ لیا۔ جہانگیر صاحب کی آنکھوں میں بھی شرارت چمکنے لگی۔

ہنی نے غصے سے میر خان کی طرف انگلی اٹھائی،
“چھوٹے بندر!

میر خان فوراً صوفے کے کونے میں سرک گیا،
“دیکھا! اسی لیے کہتا ہوں پیاری نہیں ہو… میری ماما کبھی ایسے نہیں ڈانٹتیں!”

پری نے بمشکل اپنی ہنسی روکی اور دونوں کو سخت نظر سے دیکھا،
“بس! دونوں… خاموش۔”

مگر اس کے چہرے کی دبی ہوئی مسکراہٹ صاف بتا رہی تھی کہ اسے یہ ننھی سی تکرار اندر سے کتنی اچھی لگ رہی تھی۔گھر کی فضا ایک بار پھر ہلکی پھلکی ہنسی سے بھر گئی…

جہانگیر صاحب بھی بچوں ایک کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت خوش ہو رہے تھے۔پھر میر خان سے کہتے ہیں تم میری بیٹی کو تنگ مت کرو اس پر وہ اوکے بول کر صوفے پہ پھر سے چپ کر کے بیٹھ جاتا ہے۔۔
ہنی غصے سے اٹھ کر گارڈن کی طرف چلی جاتی ہے۔۔


پری نے میر خان کو اپنے پاس بلایا۔ اس کے چہرے پر سختی تو تھی مگر آنکھوں میں نرمی بھی۔

“آج کل آپ بہت شرارتیں کرنے لگے ہیں، ہاں؟ یہ کہاں سے سیکھ لیا کہ کسی کو منہ پر کہہ دو تم خوبصورت نہیں ہو؟”

میر خان نے فوراً صفائی دی،
“نہیں… میں تو جسٹ مذاق کر رہا تھا، ماما!”

پری نے سنجیدگی سے کہا،
“بیٹا، مذاق میں بھی ایسی بات نہیں بولنی چاہیے۔ مذاق وہی اچھا ہوتا ہے جس سے سب ہنسیں… نہ کہ کوئی دل ہی دل میں اداس ہو جائے۔ بات کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے لفظ کسی کو چوٹ تو نہیں پہنچا رہے۔”

وہ تھوڑا جھکی اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی،
“اور یاد رکھو، اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ہر انسان خوبصورت ہے۔ ہم کسی کو جج نہیں کر سکتے کہ کون پیارا ہے یا نہیں۔آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا، ٹھیک ہے؟”

میر خان کا سر آہستہ سے جھک گیا۔
“سوری ماما… دوبارہ نہیں کروں گا۔” میر خان بہت سمجھدار تھا اپنی عمر سے زیادہ وہ باتیں بھی کرتا تھا اور وہ ذہین بھی تھا۔۔۔

پری نے ہلکا سا سر ہلایا۔
“سوری مجھے نہیں… ہنی آپی کو بولنا ہے۔”


اتنے میں افی آ کر بولیں،
“چلو سب، کھانا لگ گیا ہے!”

سب ڈائننگ ایریا کی طرف بڑھ گئے… پری بار گارڈن کی طرف بڑھ کے جہاں ہنی گئی تھی۔۔۔

باہر ا کر دیکھتی ہے وہ سیڑھیوں پر بیٹھی ہوتی ہے۔پری آہستہ سے اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“کیا ہوا؟”

“کچھ نہیں…” ہنی نے نظریں چُرا لیں۔

پری نے اس کی طرف دیکھ کر۔۔ پھر سامنے دیکھنے لگ گئی۔۔
“ ابھی بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لے لیتی ہو؟”

ہنی حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“کیا مطلب؟”

پری نرم مگر مضبوط لہجے میں بولی،
“ابھی تم نے خود دیکھا… میر خان نے مذاق میں کہہ دیا کہ تم خوبصورت نہیں ہو۔ بس اسی بات کو دل پر لے کر یہاں آ کر بیٹھ گئی ہو نا؟”

“نہیں! بالکل ایسا نہیں ہے…” ہنی نے فوراً انکار کیا، مگر اس کی آواز میں ہلکی سی کمزوری تھی۔

پری مسکرائی۔
“سچ میں؟ ایسا نہیں ہے؟”

چند لمحے خاموشی رہی۔

پری نے اس کی طرف رخ کیا۔۔پہلے تم باہر کام کرتے تھے ۔۔۔۔لندن اور پاکستان میں بہت فرق ہے۔۔۔۔
۔ تم ایک ڈیزائنر ہو۔ کل سے تم اپنی نئی شاپ اوپن کر رہی ہو۔۔

کل کو لوگ ہزار باتیں کریں گے—کسی کو تمہارا ڈیزائن پسند نہیں آئے گا، کوئی کہے گا مہنگا ہے، کوئی کہے گا رنگ اچھا نہیں۔ تو کیا تم ہر بات دل پر لے کر ایسے ہی بیٹھ جاؤ گی؟”

ہنی خاموش ہو گئی۔

پری نے نرمی سے کہا،
“مضبوط لوگ وہ نہیں ہوتے جنہیں کوئی کچھ کہے ہی نہ… مضبوط وہ ہوتے ہیں جو سن کر مسکرا دیں اور آگے بڑھ جائیں۔”

تو میں مضبوط نہیں ہوں کیا؟”

پری نے اس کے ماتھے پر ہلکی سی چپت لگائی۔
“ہو۔۔۔ اگرمضبوط نہ ہوتی تو دو سال تم لندن نہ رہ کر آتی… مگر ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے تمہیں۔۔۔

ہنی ہنس پڑی۔…”

پری نے اسے کھڑا کیا۔
“چلو، اب کھانا کھاتے ہیں۔ اور ہاں—خوبصورت ہونے کا سرٹیفیکیٹ کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ جو دل سے صاف ہو، وہی سب سے خوبصورت ہوتا ہے۔”

ہنی نے گہرا سانس لیا اور اس کے ساتھ چل پڑی… اس بار اس کے قدم پہلے سے زیادہ مضبوط تھے۔۔۔۔۔
وہ اندر کی طرف بڑھ جاتی ہیں۔
آگے سے میر خان چلتا ہوا ا رہا ہوتا ہے۔۔

وہ آہستہ سے اس کے قریب گیا۔
“سوری ہآپی… میں نے مذاق کیا تھا۔ آپ خوبصورت ہیں…

ہنی نے تھوڑا سا نخرہ دکھایا،
“سچ؟”

“بالکل سچ!” اس نے جلدی سے کہا۔پری نے دونوں کو دیکھ کر مسکرا دیا۔


ہنی نے میر خان کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی،
“چلو، اب کھانا کھاتے ہیں چھوٹے چلبوزے!”

“میں چلبوزہ نہیں ہوں!” میر خان نے احتجاج کیا، مگر اس بار سب ہنس رہے تھے۔

اور یوں ہنسی مذاق کے ساتھ وہ سب ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئے

ڈائننگ ٹیبل پر بریانی دیکھ کر ہنی چکتے ہوئے واؤ بی جان میں نے آپ کی بریانی بہت مس کی جبکہ باقی کی بھی فیورٹ ڈش تھی ۔۔۔۔

جبکہ پری کو بریانی بالکل نہیں پسند تھے اس لیے وہ ہنی کو چھڑاتے ہوئے کہتی ہے دیکھ لیں بی جان دیکھ لیں اس نے آپ کو مس نہیں کیا اس نے بس بریانی کو مس کیا۔۔
جس پر سب ہنستے ہوئے اسی خوشوار ماحول میں سب ڈنر کرتے ہیں۔۔۔۔
کھانے کے بعد چائے کا دور چل نکلا تھا۔
“اب ہم چلتے ہیں… کافی ٹائم ہو گیا ہے۔”

“نہیں!” ہنی نے فوراً آواز بلند کی، “تم لوگ تو یہی رکو گے۔”

افی“نہیں ۔۔ ہنی نے منہ بناتے ہوئے کہا لیکن کیوں پری آج یہیں رک جائے نا۔۔

پری نے نرمی سے کہا، “میں یہی ہوں یہ واپس جائے گی ۔ ۔۔

“تو پھر میں بھی چلتی ہوں گھر واپس،” رومی نے فوراً کہا ۔۔۔

ہاں ٹھیک ہے تم بھی جاؤ آج میں اکیلی پری یہ آپی سے باتیں کروں گی تم لوگ ہوتے ہو تو بات ہی نہیں کرنے دیتی۔۔
اس کے انداز پر سب ہنس پڑے۔

رومی نے جاتے جاتے ہنی کو انگلی دکھاتے ہوئے کہا، “صبح ٹائم سے پہنچ جانا، اگر لیٹ ہوئی نا… پھر دیکھ لینا!”

“ہاں ہاں پہنچ جائیں گے،” ہنی نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔

رومی نے چھیڑتے ہوئے کہا، “تمہاری نیند ہے نا… اب تم اٹھ ہی جاؤ تو بڑی بات ہے!”

پھر اس نے اشارے سے پری کو کہا۔۔

پری نے آنکھوں ہی آنکھوں میں جواب دیا، “اوکے، ڈونٹ وری۔”

محفل آہستہ آہستہ برخاست ہونے لگی، مگر ہنسی اور اپنائیت کی خوشبو اب بھی فضا میں باقی تھی۔۔۔
ہنی نے پری کی طرف دیکھ کر کہا چلیں ۔۔تم روم میں چلو میں اتی ہوں مجھے ایک کال کرنی ہے۔۔۔

پری روم میں واپس آئی، دیکھا جس نے اس سے باتیں کی تھیں وہ بیڈ پر مزے سے سو رہی تھی۔
پری نے اس کے اوپر کمبل ٹھیک کیا، روم کے لائٹس آف کیے اور دروازہ بند کر کے باہر آ گئی اور اپنے روم کی طرف بڑھی جو آگے ہی تھا۔ اپنے روم کا دروازہ کھول کے اندر آتی ہے۔۔۔

کافی مہینوں بعد وہ واپس آئی تھی۔ اس کا روم ویسے ہی صاف ستھرا تھا۔۔۔اگے بڑھ کر اس نے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر اپنا موبائل اور چھڑی رکھی۔پھر وہ اپنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔اپنا حجاب اتارا۔۔
وہ پانچ منٹ تک خود کو آئینے میں دیکھتی رہی۔ جیسے آئینہ صرف اُس کا عکس نہیں بلکہ اُس کے دل کی کیفیت بھی دکھا رہا ہو۔ اچانک اُس نے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیے، آنکھیں بند کیں اور ایک گہری سانس لی… جیسے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔

کچھ لمحے بعد اُس نے دوبارہ آئینے میں دیکھا، مگر اس بار اُس کی نگاہوں میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔ پھر آہستہ قدموں سے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔

جب وہ باہر آئی تو اُس کا چہرہ دھلا ہوا تھا، آنکھیں بھی جیسے آنسوؤں سے صاف ہو چکی تھیں۔ چہرے پر ایک خاموش سی تھکن بھی تھی مگر ساتھ ہی ایک عزم بھی۔

اُس نے جرماز بچھایا، دوپٹہ درست کیا اور قبلہ رخ کھڑی ہو گئی۔ ہاتھ باندھ کر جب اُس نے نماز شروع کی تو اُس کی آواز میں لرزش تھی، مگر دل میں سکون اترنے لگا… اور ہر دعا میں اُس کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔۔

—————————————

رات کے دس بج رہے تھے۔ کمرے میں ہلکی زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
التمش اپنی فائلز میں مصروف بیٹھا تھا کہ اچانک دروازہ آہستہ سے کھلا۔

ننھے قدموں کی چاپ سنائی دی۔

“بابا…”

التمش نے سر اٹھایا تو دروازے پر آیت کھڑی تھی، نیند سے خالی آنکھیں اور چہرے پر ہلکی سی الجھن۔

“آیت بیٹا؟ آپ ابھی تک سوئی نہیں؟ اس وقت کیوں جاگ رہی ہو؟”

آیت آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی۔
“بابا… مجھے نیند نہیں آ رہی۔ مجھے آپ سے بات کرنی ہے…”

التمش فوراً اپنی فائلز ایک طرف رکھ دیتا ہے اور بیڈ پر بیٹھ کر بازو پھیلاتا ہے۔
“آ جاؤ میرے پاس۔”

آیت بھاگ کر اس کی گود میں چڑھ جاتی ہے اور اس کے سینے سے لگ کر لیٹ جاتی ہے۔

“کیا ہوا میری بہادر بیٹی کو؟ آج نیند کیوں نہیں آ رہی؟”

آیت ہونٹ سکیڑ کر معصوم سا چہرہ بناتی ہے۔
“ڈی… آپ نے کہا تھا نا اگر کوئی بری بات ہو تو آپ کو بتانا چاہیے…”

التمش کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا، مگر اس نے لہجہ نرم رکھا۔
“ہاں بالکل۔ کیا ہوا؟”

آیت چند لمحے خاموش رہی، جیسے الفاظ ڈھونڈ رہی ہو۔
“وہ جو ہمارے نئے گارڈ انکل ہیں نا… وہ اچھے نہیں ہیں… وہ لڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں… بیڈ ٹچ کرتے ہیں…”

ایک لمحے کو کمرے کی فضا جیسے جم گئی۔

التمش کے چہرے کی مسکراہٹ ختم ہو گئی، آنکھوں میں سنجیدگی اتر آئی۔
“کیا انہوں نے آپ کو ٹچ کیا؟”

آیت نے فوراً سر ہلایا۔
“مجھے نہیں… میری فرینڈ کو۔ وہ آج بہت رو رہی تھی…”

التمش کے اندر غصے کی ایک لہر اٹھی، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔ اس کی مٹھی ضرور بند ہوئی، لیکن آواز نرم ہی رہی۔

“بیٹا، سب سے پہلے تو آپ نے بہت بہادری کی کہ مجھے بتایا۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ اب ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔ میں اس بات کو دیکھوں گا۔ ٹھیک ہے؟”

آیت نے ہلکا سا سر ہلایا۔

“اور یاد رکھو، اگر کبھی بھی کوئی آپ کو یا آپ کی کسی دوست کو ایسے تنگ کرے، فوراً مجھے یا اپنی ٹیچر کو بتانا ہے۔ ایسی باتیں چھپاتے نہیں ہیں۔ آپ بالکل غلط نہیں ہو۔ غلط وہ ہوتا ہے جو ایسا کرے۔”

آیت کے چہرے پر تھوڑا سکون آیا۔

التمش اسے اپنے قریب کر کے لیٹ گیا۔
“اب آپ سو جاؤ۔ صبح اسکول بھی جانا ہے۔ باقی فکر بابا پر چھوڑ دو۔”

آیت آہستہ آہستہ نیند میں چلی گئی۔

لیکن التمش کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔

اس کے ذہن میں صرف ایک بات تھی —
صبح سب سے پہلے اسکول جانا ہے۔
پرنسپل سے بات کرنی ہے۔
اور یہ یقین کرنا ہے کہ کوئی بھی بچہ دوبارہ خوف میں نہ جیے۔
—————————–

میٹنگ ہال میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ چار افراد ایک لمبی میز کے گرد بیٹھے سنجیدہ انداز میں گفتگو کر رہے تھے۔ کمرے میں ان کے علاوہ کوئی نظر نہیں آ رہا تھا،

حتیٰ کہ کمرے کے کونے بھی اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ صرف ان چاروں کے سروں پر ہلکی سی زرد روشنی پڑ رہی تھی جس کی وجہ سے ان کے چہرے نمایاں دکھائی دے رہے تھے۔

اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ اجازت ملنے پر ایک نوجوان اندر داخل ہوا، اس نے باوقار انداز میں چاروں کو سلوٹ کیا۔ وہ حال ہی میں اپنے تین خفیہ مشن کامیابی سے مکمل کر کے واپس آیا تھا۔

چاروں افراد کے چہروں پر اطمینان ابھرا، انہوں نے اسے شاباش دی، اس کی کارکردگی پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ اس نے ادارے کا نام روشن کیا ہے۔
۔ میجر 31 نے عاجزی سے شکریہ ادا کیا تو درمیان میں بیٹھے شخص نے مسکرا کر کہا
، “بیٹھ جاؤ، ہمیں تمہارے لیے ایک نیا کیس دینا ہے۔”

“سر،” اس کی آواز پُرسکون مگر مضبوط تھی، “کیا ہمیں ان تینوں کے بارے میں کوئی بائیومیٹرک ریکارڈ، پرانی تصاویر یا ڈی این اے سیمپلز ملے ہیں؟ اگر ان کی شناخت بدل دی گئی ہے تو ہمیں کسی نہ کسی بنیادی نشان سے آغاز کرنا ہوگا۔”

درمیان والا شخص کرسی سے ہلکا سا آگے جھکا۔
“پرانی تصاویر موجود ہیں، مگر بہت پرانی۔ بم بلاسٹ کے بعد ان کی موت کی خبر پھیلا دی گئی تھی۔ ہمیں شبہ ہے کہ یہ سب ایک منظم ڈرامہ تھا۔ ڈی این اے ریکارڈ محدود ہے، مگر فائل کے آخری حصے میں کچھ لیڈز دی گئی ہیں۔”

دائیں طرف بیٹھے شخص نے بات آگے بڑھائی،
“یاد رکھو، اگر وہ واقعی زندہ ہیں تو ممکن ہے مختلف ناموں اور مختلف ملکوں میں الگ الگ شناخت کے ساتھ رہ رہے ہوں۔ تمہیں صرف انہیں ڈھونڈنا نہیں، بلکہ یہ بھی جاننا ہے کہ وہ کیا منصوبہ بنا رہے ہیں۔”

نوجوان آفیسر نے ہلکا سا سر ہلایا۔
“سر، کیا ہمیں اندازہ ہے کہ ان کے کا موجودہ ٹھکانہ کہاں ہے؟ کیا وہ اب بھی بیرونِ ملک ہے یا واپس آ چکا ہے؟”

بائیں جانب بیٹھے فرد نے سنجیدگی سے جواب دیا،
“آخری انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق وہ مشرقی یورپ میں دیکھا گیا تھا، مگر یہ بھی تصدیق شدہ نہیں۔ تمہاری پہلی ترجیح بیٹوں کی موجودہ شناخت تک پہنچنا ہے۔”

نوجوان نے گہری سانس لی، فائل بند کی اور مضبوط لہجے میں کہا،
“کوئی اور ہدایت، سر؟”


“بس ایک بات یاد رکھو… یہ کیس عام نہیں ہے۔ اگر وہ واقعی زندہ ہیں، تو کسی بہت بڑے کھیل کا حصہ ہیں۔ احتیاط سے کام لینا۔”

نوجوان آفیسر کھڑا ہوا، سلوٹ کیا۔
“آئی ول ناٹ لیٹ یو ڈاؤن، سر۔”

زرد روشنی میں اس کا چہرہ عزم سے چمک رہا تھا۔ دروازہ کھلا، اور وہ باہر نکل گیا۔
ہال میں پھر سے خاموشی چھا گئی… مگر اب فضا میں ایک نئے مشن کی آہٹ گونج رہی تھی۔۔۔

————————————–
زرنش رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے دوپہر کے دو بجے آنکھ کھولتی ہے۔ گھڑی دیکھتے ہی وہ چونک جاتی ہے۔

“یا اللہ! دو بج گئے؟”

وہ جلدی جلدی منہ ہاتھ دھو کر بال سنوارتی ہے اور دوڑتی ہوئی سیڑھیاں اترتی ہے۔ نیچے ہال میں دادی آرام کرسی پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی ہوتی ہیں۔

زرنش دبے پاؤں پیچھے سے آ کر ان کے گلے میں بازو ڈالتی ہے۔

” گڈ مارننگ دادی!”

دادی فوراً اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتی ہیں۔
“یہ تمہاری گڈ مارننگ ہے؟ دن کے دو بج رہے ہیں لڑکی! اور تم ابھی صبح منا رہی ہو؟”

زرنش ہنستے ہوئے صوفے پر ان کے پاس بیٹھ جاتی ہے۔
“اوہ دادی… رات کو کام کر رہی تھی نا، اس لیے لیٹ سوئی۔ تو سوچا آج نیند پوری کر ہی لوں۔”

دادی گھور کر دیکھتی ہیں۔
“نیند پوری کر لی، اب ذمہ داریاں بھی پوری کرو گی یا نہیں؟”

“ارے دادی جان، ابھی حاضر ہوں خدمت میں! پہلے یہ بتائیں آپ کیا کر رہی ہیں؟”


وہ دادی کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ جاتی ہے اور ذرا سا اتراتے ہوئے نوکرانی کو آواز دیتی ہے،
“میرے لیے ناشتہ لے آؤ… اور چائے ذرا گرم ہو۔”

دادی فوراً گھورتی ہیں۔
“پہلے دوپہر تک سوتی رہو، پھر حکم چلاؤ! لڑکیوں کو دیر تک سونا اچھی بات نہیں ہوتی۔ کل اپنے گھر جاؤ گی تو کیا کرو گی؟ وہاں بھی ایسے ہی سورج سر پر چڑھا ہو گا تب جاگو گی؟”

وہ منہ بنا کر کہتی ہے،
“دادی اما… آپ نا اس جیسی باتیں کرتی ہیں۔ بالکل اس کی طرح۔”

دادی چونک کر سیدھی ہو بیٹھتی ہیں۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟ کس کی طرح؟”

زرنش ہنستی ہے۔
” ہے ایک نیو فرینڈ۔۔۔۔
آپ کو ملواؤں گی۔ وہ بھی آپ کی طرح مجھے ہر وقت ڈانٹتی رہتی ہیں۔ عجیب بات ہے، آپ دونوں کی باتیں بھی ملتی جلتی ہیں۔”

دادی آنکھیں سکیڑ کر کہتی ہیں،
“ہاں ہاں، جیسے تمہارے پہلے والے دوست بہت اچھے تھے نا؟ ویسے ہی یہ بھی ہو گی؟”

زرنش فوراً سنجیدہ ہو جاتی ہے۔
“نہیں دادی، یہ ویسی نہیں ہیں۔ یہ بہت اچھی ہیں۔ جب مجھے ضرورت تھی نا، انہوں نے میری مدد کی تھی۔ میں نے آپ کو بتایا بھی تھا… وہی ہیں۔”

دادی کچھ لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر نرم لہجے میں کہتی ہیں،
“اچھا… وہ۔

زرنش مسکرا کر ان کا ہاتھ تھام لیتی ہے۔
“آپ کو پسند آئیں گی، پکا وعدہ۔ کیونکہ جس کو آپ پسند کرتی ہیں نا… وہی لوگ اچھے نکلتے ہیں۔”

دادی ہلکی سی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہتی ہیں،
“دیکھیں گے۔ پہلے ناشتہ کر لو۔۔۔۔

اور زرنش کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ جاتی ہے، جیسے وہ کسی خاص ملاقات کا خواب پہلے ہی دیکھ رہی ہو۔۔۔۔

دادی نے عینک ٹھیک کرتے ہوئے کہا،
“دیکھیں گے بھئی، مل کر پتا چلے گا تمہاری وہ فرینڈ کیسی ہے۔ اور سنو…
تمہارا بھائی بھی آ چکا ہے۔ ذرا فون تو لگاؤ، ابھی تک واپس نہیں آیا۔ صبح کام سے گیا تھا۔”

زرنش چونک کر سیدھی ہو بیٹھی۔
“کیا مطلب؟ کون سا بھائی؟”

دادی نے حیرانی سے دیکھا۔
زرنش ہنستے ہوئے انگلیوں پر گننے لگی۔
“آپ کس کی بات کر رہی ہیں؟ عرشیان؟ ذیشان

دادی نے بات کاٹ دی۔
“ارے نہیں، عرشمان! وہ واپس آ گیا ہے پاکستان۔ صبح ہی میری اس سے ملاقات ہوئی۔ تم تو مزے سے سوئی پڑی رہی ہو، تمہاری تو ملاقات بھی نہیں ہوئی۔”

زرنش کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“کیا؟ بھائی واپس آ گئے؟ “

“ہاں بھئی، صبح ہی آئے ہیں۔”

یہ سنتے ہی اس کے چہرے پر ایسی خوشی آئی جیسے کسی نے اچانک اسے سب سے قیمتی تحفہ دے دیا ہو۔
وہ تقریباً اچھل کر کھڑی ہو گئی۔

“دادی آپ نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟!”

دادی مسکرا دیں۔
“جو دو بجے تک سوتی رہے، اسے کون جگائے؟”

زرنش فوراً فون اٹھاتی ہے ۔ گھر میں اگر وہ کسی سے سب سے زیادہ قریب تھی تو ایک دادی… دوسرےعرشمان ۔ ان دونوں کے سامنے وہ خود کو سب سے زیادہ محفوظ محسوس کرتی تھی۔

“میں ابھی انہیں کال کرتی ہوں!”


وہ ابھی فون ملانے ہی والی ہوتی ہے کہ اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آتی ہے۔

“السلام علیکم!”

عرشمان اندر آتا ہے، ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر۔
دادی فوراً خوش ہو کر کہتی ہیں، “وعلیکم السلام، جیتے رہو!” اور اسے پیار کرتی ہیں عرشیمان دادی سے ملنے کے بعد بہن سے ملتا ہے۔۔۔۔

زرنش تو جیسے پھٹ ہی پڑتی ہے۔
“بھیااا! آپ واپس آ گئے اور مجھے بتایا بھی نہیں؟”

عرشمان ہنستے ہوئے ۔”تم صبح سے کہاں تھیں؟”

وہ شرمندہ سا چہرہ بنا کر کہتی ہے،
“بس نہ پوچھو… لمبی کہانی ہے۔ پہلے یہ بتائیں، کیسا رہا سارا لندن کا ٹور؟ سب کیسا تھا؟ کیا کیا؟ کس سے ملے؟”

عرشمان ابھی جواب دینے ہی لگتا ہے کہ دادی بیچ میں بول پڑتی ہیں،
“ارے لڑکی! بیٹھنے تو دو بھائی کو۔ پانی تو پوچھو، آتے ہی سوالوں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔”
وہ فوراً سیدھی ہو کر کہتی ہے،
“اوکے اوکے، سوری!”

پھر وہیں سے آواز لگاتی ہے،
“بھیا کے لیے پانی لے آؤ۔”

پانی آتے ہی وہ دوبارہ شروع ہو جاتی ہے،
“اچھا اب بتائیں… فلائٹ کیسی تھی؟ شاپنگ کی یا نہیں؟ میرے لیے کیا لائے؟”

عرشمان بس ہنستے ہوئے اسے دیکھتا رہتا ہے، کبھی سر ہلاتا، کبھی مختصر جواب دیتا۔ دادی یہ منظر دیکھ کر مسکرا رہی ہوتی ہیں۔

آخر کار دادی ہلکی سی ڈانٹ کے ساتھ کہتی ہیں،
“ارے بس بھی کرو! اسے فریش تو ہونے دو۔”

پھر عرشمان کی طرف دیکھ کر نرم لہجے میں کہتی ہیں،
“جاؤ بیٹا، پہلے فریش ہو لو۔ پھر سب مل کر سکون سے کھانا کھائیں گے۔”

ارشمان ہنستے ہوئے کہتا ہے،
“جی دادی اما۔”
جلدی سے واپس ائے مجھے اپ سے بہت کچھ پوچھنا ہے زرنش ہلکے سے کان میں جھک کر کہتی ہے۔۔
کوئی لڑکی پسند ائی یا نہیں کتنی گرل فرینڈز بنائی ہے وہاں۔۔
وہ ہنستے ہوئے کہتا ہے تم نہیں سدھرو گی۔۔۔

اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔

———————————-

رات کو دیر تک کام کرنے کی وجہ سے اس کی آنکھ ذرا دیر سے کھلی۔ جیسے ہی اس نے موبائل پر وقت دیکھا تو صبح کے چھ بج رہے تھے۔ وہ فوراً اٹھ کر واش روم گئی، وضو کیا اور باہر آ کر فجر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد کچھ دیر قرآن کی تلاوت کی۔ دل کو عجیب سا سکون ملا۔

پھر وہ ہلکی سی ٹھنڈی ہوا میں کچھ وقت گزارنے کے لیے گارڈن میں آ گئی۔ سورج ابھی نکلنا شروع ہی ہوا تھا، ہلکی ہلکی دھوپ پھیل رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ واک کرنے لگی۔ اتنے میں ڈیڈی بھی آ گئے۔

“میرا بیٹا اٹھ گیا؟” انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

“جی ڈیڈی ،” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔

“ہنی اٹھی یا نہیں؟”

“ابھی تک نہیں۔ آپ کو تو پتا ہے وہ کتنی مشکل سے اٹھتی ہے۔”

ڈیڈی نے کہا، “چلو آؤ، ناشتہ کرتے ہیں۔”

“نہیں ڈیڈی پہلے ہنی کو اٹھا لوں، پھر سب اکٹھے ناشتہ کریں گے۔”

وہ واپس ہال میں آئی اور سیڑھیاں چڑھ کر ہنی کے کمرے کی طرف بڑھی۔ دروازہ کھولا تو ہنی الٹی سیدھی ہو کر مزے سے سو رہی تھی۔ پری نے اس کی کمبل کھینچی۔

“تمہارے پاس صرف دس منٹ ہیں۔ دس منٹ میں نیچے نہ آئی تو میں تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں گی!”

ہنی فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی۔ “دس منٹ میں؟ میرا تو منہ بھی نہیں دھلنا!”

“نو منٹ!”

ہنی نے منہ بنایا۔

“آٹھ منٹ!” پری نے سختی سے کہا۔

ہنی فوراً بیڈ سے اتری اور واش روم کی طرف دوڑی۔ دروازے سے منہ نکال کر بولی، “آپ بہت بری ہیں!”

پری ہنسی، “سیون منٹ!”

ہنی نے غصے سے دروازہ بند کر دیا اور پری نیچے آ گئی۔

کچن میں جا کر اس نے بی جان کو سلام کیا۔ “ناشتے میں کیا بنایا ہے؟”

بی جان نے پیار سے کہا، “تمہارا فیورٹ ناشتہ۔”

وہ خوش ہو کر ڈائننگ چیئر پر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر میں خان صاحب بھی آ گئے۔ پھر ارحم بھی سب کو گڈ مارننگ کہتا ہوا آ بیٹھا۔

ہنی ابھی تک نہیں آئی تھی۔ خان صاحب مسکرا کر بولے، “روز کا یہی حال ہے۔”

سب ناشتہ شروع ہی کرنے والے تھے کہ پندرہ منٹ بعد ہنی بھاگتی ہوئی نیچے آئی، سانس پھولی ہوئی۔

پری نے اپنی کلائی پر بند گڑی کی طرف ٹائم دیکھا اور پھر۔
پری نے ہاتھ باندھ کر اسے دیکھا، “تم دس نہیں، پورے پندرہ منٹ لیٹ ہو!”

ہنی نے شرمندہ سا چہرہ بنایا، “سوری… بس بال ٹھیک کر رہی تھی۔”

سب ہنس پڑے، اور یوں ہنسی مذاق کے ساتھ صبح کا ناشتہ شروع ہو گیا۔۔۔
اور ارحم نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
تمہیں یہی سدھار سکتی ہیں اور کوئی نہیں۔۔

وہ تینوں دوبارہ ناشتہ کرنے لگتے ہیں۔ ماحول اب پرسکون تھا۔

کچھ دیر بعد ارحم نے پانی کا گلاس رکھا اور کہا،
“میرا ہو گیا۔ میں ریڈی ہو کر نکلتا ہوں۔ آج مجھے کراچی جانا ہے۔

مال میں کچھ پرابلم ہو گئی ہے، خود جا کر چیک کرنا پڑے گا کہ خرابی کہاں ہے۔”

خان صاحب نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے، آرام سے جانا۔ اور مجھے اپنی اطلاع دیتے رہنا۔”

پھر اچانک جیسے انہیں کچھ یاد آیا۔
اور وہ تمہارا دوست کب واپس آئے گا کیا تمہاری اس سے بات ہوتی ہے“

ارحم چونک گیا۔ “کون؟ کیا مطلب؟”

“مان کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔

نہیں میری اس سے بات نہیں ہوئی۔۔“

۔” خان صاحب نے پری کو دیکھتے ہوئے بات کو لمبا نہیں کیا اور ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئے۔۔۔

یہ بات سن کر ہنی نے فوراً پری کی طرف دیکھا — جیسے اس کے چہرے سے ردِعمل پڑھنا چاہتی ہو۔ مان کا نام سنتے ہی وہ جاننا چاہتی تھی کہ پری کیا محسوس کرے گی۔

لیکن پری… بالکل نارمل تھی۔
جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔
وہ سکون سے ناشتہ کرتی رہی، چہرے پر کوئی تاثر نہیں۔

ہنی بھی خاموش ہو گئی اور دوبارہ ناشتہ کرنے لگی۔

کچھ دیر بعد ارحم سب کو خدا حافظ کہہ کر نکل گیا۔

اب میز پر صرف ڈیڈی، پری اور ہنی رہ گئے تھے۔

خان صاحب مسکراتے ہوئے پوچھا،
“تم لوگوں کا کام کہاں تک پہنچا؟”

پری نے اعتماد سے جواب دیا،
“میرا تو چل رہا ہے۔ ہمارے پاس ایک ویک ہے ۔۔ پروجیکٹ تیار کرنا ہے، پھر سلیکشن ہوگی۔ دیکھنا ہے تین کمپنیوں میں سے کون سی سلیکٹ ہوتی ہے۔”

وہ فخر سے بولے،
“مجھے تم پر بہت فخر ہے۔ تم بہت اچھا کر رہی ہو۔”

پری نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔

پھر انہوں نے ہنی کی طرف دیکھا،
“اور تمہاری شاپ کب اوپن ہو رہی ہے؟”

ہنی جوش سے بولی،
“الموسٹ کمپلیٹ ہے! بس ڈریس اور کپڑا آنے کی دیر ہے۔ وہ آ گئے تو فائنل ڈیزائن سیٹ کریں گے، پھر اوپننگ کریں گے — اور ایک اچھی سی پارٹی بھی دیں گے!”

خان صاحب ہنس پڑے۔
“بالکل! پارٹی تو ہم ضرور لیں گے تم سے!”

“لیں گے؟” ہنی نے شرارتی انداز میں کہا۔
“ہاں بالکل کیوں نہیں!” انہوں نے مسکرا کر جواب دیا۔

خان صاحب نے دونوں سے کہا کل مجھے اسلام اباد دوست کی بیٹی کی شادی پر جانا ہے تو تم جنت ہاؤس ہی چلی جانا پری کے ساتھ یہ سن کر ہنی سر ہلاتی ہے۔۔۔

“اوکے، اب ہمیں بھی نکلنا چاہیے۔” ہنی نے فورا اخری بائٹ لی اور جوس کا گلاس فورا منہ سے لگایا اور ختم کیا۔۔

پری نے اس کی حرکت دیکھتے ہوئے سر ہلائے ۔ اس کا کوئی حال نہیں۔۔
پھر پری نے خان صاحب خدا حافظ کہا اور باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔


—————————————

ریڈی ہونے کے بعد رومی کے روم کی طرف بڑھی تاکہ وہ دیکھ سکے کہ وہ تیار ہوئی کہ نہیں ہوئی۔۔۔
اس نے ڈور لاک کیا اور دروازہ کھل کر اندر دیکھا تو رومی شیشے کے اگے کھڑی ہو کر بال بنا رہی تھی۔۔
گڈ مارننگ تم ریڈی ہو۔۔۔
گڈ مارننگ ہاں میں ریڈی ہوں۔۔
اوکے اوکے پھر نیچے ا جاؤ بریک فاسٹ کے لیے ۔۔۔جس پر رومی سر ہلا کر اوکے کہتی ہے۔۔۔۔

افی چلی جاتی ہے روم کا دروازہ بند کر کے اسی ٹائم موبائل کی میسج ٹیون بجتی ہے۔۔۔رومی اگے بڑھ کر موبائل اٹھا کر دیکھتی ہے۔۔۔۔

جہاں گڈ مارننگ کا میسج ہوتی ہے وہی دم سے ڈر جاتی ہے۔۔۔
اور سوچتی ہے یہ کون ہے کس کا نمبر ہے ۔۔۔۔
کیونکہ کل اسی نمبر سے اسے ویلکم بیک کا میسج آیا تھا۔
وہ تھوڑی ڈر جاتی ہے اور نمر بلاک کر دیتی ہے پھر سوچتی ہے شاید ان نون نمبر ہوگا۔۔۔؟۔
وہ دوبارہ کبرڈ کے سامنے آ کر کھڑی ہو جاتی ہے اور کپڑوں کی طرف دیکھنے لگتی ہے کہ کیا پہنے۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ ایک ڈریس نکالتی ہے اور ساتھ ہی بلیک عبایا بھی نکال لیتی ہے۔ پاکستان میں وہ پہلے بھی عبایا پہنا کرتی تھی، اس لیے دوبارہ عبایا پہننے کا فیصلہ کرتی ہے۔

تیار ہونے کے بعد رومی کمرے سے نکل کر نیچے آ جاتی ہے۔


نیچے ڈائننگ ہال میں سب ناشتہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی دوران رومی سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آتی ہے۔ اسے دیکھتے ہی سب کی نظر اس پر پڑتی ہے۔
افی اس سے عبایا میں دیکھ کر حیران ہوتی ہے۔
رومی مسکراتے ہوئے کہتی ہے،
“گڈ مارننگ… اسلام علیکم۔”

سب خوشی سے اس کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔ وہ سب سے پیار سے ملتی ہے۔ اتنے میں نور اس کے پاس آتی ہے اور ہلکی سی حیرت سے کہتی ہے،
“تم پاکستان آ گئی؟ تم لوگوں نے تو ایک ویک بعد آنا تھا نا۔”

رومی مسکرا کر کہتی ہے،
“ہاں… لیکن سب کو سرپرائز دینا تھا نا، اس لیے پہلے آ گئی۔”

یہ سن کر سب ہنس دیتے ہیں۔ رومی سب سے محبت سے ملنے کے بعد ایک چیئر کھینچ کر بیٹھ جاتی ہے اور بریک فاسٹ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ کچھ دیر بعد سب آرام سے بریکفاسٹ کرتے ہوئے باتیں کرتے رہتے ہیں۔

ناشتہ کے بعد سب اپنے اپنے کام کے لیے تیار ہونے لگتے ہیں۔ افی اور رومی بھی باہر جانے کے لیے نکلتی ہیں۔ ان کے ساتھ میر خان بھی ہوتا ہے،
جسے افی نے راستے میں ڈراپ کرنا ہوتا ہے۔ تینوں گھر سے باہر آتے ہیں اور گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو جاتے ہیں۔

جبکہ گھر کے باقی لوگ بھی تیار ہو کر اپنے اپنے کاموں کے لیے نکل جاتے ہیں۔۔۔۔۔

راستے میں افی نے رومی سے پوچھا کیا کوئی مسئلہ ہے ۔۔۔۔
جس پر رومی حیران ہو کر کہتی ہے کیا مطلب ۔۔

جس پرفی کہتی ہے تم نے پھر سے ابایا کرنا شروع کر دیا کیا کوئی بات ہے۔۔رومی کہتے ہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھے سیف فیل ہوتا ہے اس میں۔۔۔۔ افی سن کر سر ہلاتی ہے ۔۔۔
رومی سن کر دل میں سوچتی ہے اب اسے کیا بتائیں کہ اسے ڈر لگا رہتا ہے کوئی اسے پہچان نہ لے۔۔۔

————————————

 

پورے راستے ہنی پری کا دماغ کھاتی رہی۔۔۔اس پر پری اسے کہتی ہے تم پہلے سے زیادہ بولنے لگ پڑی ہو۔۔
جس پر ہنی کھل کر ہستی ہے اتنے ٹائم سے میں نے آپ سے باتیں نہیں کی تھی ابھی تو میں نے بولنا سٹارٹ کی ہے
راستے میں اس کے موبائل پر میسج آتا ہے۔ وہ ایک نظر دیکھ کر موبائل سائیڈ پر رکھ دیتی ہے۔

ہنی پوچھتی ہے،
“کس کا میسج تھا؟ رو می کا ہوگا، اسے ٹینشن ہوگی کہ میں جاگ رہی ہوں۔”

پری ہلکا سا مسکرا کر کہتی ہے،
“نہیں۔۔۔

وہ مزید کچھ نہیں کہتی اور بات کو نظر انداز کر دیتی ہے۔پھر وہ بوتیک پہنچ جاتے ہیں گاڑی روکتے ہوئے پری اسے باکس دیتی ہے
جس میں کچھ ہوتا ہے ہنی پوچھتے یہ کیا ہے جس میں وہ کہتی ہے تم دونوں کے لیے یہ رومی اور تمہارا اسے کبھی اپنے سے الگ مت کرنا یہ تم دونوں کی سیفٹی کے لیے ہے اور آج تم لوگوں کی گارڈز بھی ا جائیں گے۔۔ جس پر وہ سر ہلاتے ہوئے باکس پکڑ لیتی ہے۔
آپ اندر نہیں چلیں گی ۔ جس پر پری کہتی ہے نہیں مجھے کچھ کام ہے
اور وہ پھر اتر جاتی ہے ۔۔ بائے بائے کرتے ہوئے اندر چلی جاتی ہے

ہنی کو چھوڑنے کے بعد وہ اپنی منزل کی طرف بڑھتی ہے اور ایک ریسٹورنٹ کے باہر گاڑی روک دیتی ہے۔ گاڑی سے اتر کر اندر جاتی ہے اور نظریں گھما کر اپنے مطلوبہ شخص کو تلاش کرتی ہے۔ کچھ لمحوں بعد اس کی نظر اسکندر خان پر پڑتی ہے۔ وہ جا کر ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ جاتی ہے۔

“السلام علیکم۔”

اسکندر خان سر ہلا کر جواب دیتے ہیں،
“وعلیکم السلام۔”

وہ خفیہ انداز میں ایک فائل اس کی طرف بڑھاتے ہیں۔
“یہ تمہارے لیے آیا ہے۔ اس میں تمہارے لیے ساری ڈیٹیل ہے۔”

پری فائل کو دیکھتے ہوئے پوچھتی ہے،
“یہ کیا ہے؟”

وہ سنجیدہ لہجے میں کہتے ہیں،
“یہ تمہاری سزا ہے۔ تم نے رول توڑنے کی کوشش کی ہے۔”

پری کا لہجہ سخت ہو جاتا ہے۔
“میں نے رول نہیں توڑے۔ ان کی بیویوں نے شکایت کی تھی۔ انہوں نے غلط ویڈیوز بنائی تھیں، اس لیے ان کی بیویوں کی شرط پر میں نے انہیں چھوڑ دیا۔”

اسکندر خان کہتے ہیں،
“جو بھی ہو، تم نے اجازت کے بغیر فیصلہ کیا۔ اور اس کی سزا تو ملے گی۔”

پری گہری سانس لے کر کہتی ہے،
“اوکے، ۔”

وہ اس کے لیے کافی آرڈر کرتے ہیں۔ پری ہلکی ناراضی سے کہتی ہے،
“آپ کو پتہ ہے مجھے کافی پسند نہیں، مجھے چائے پسند ہے۔”

وہ مسکرا کر ویٹر کو بلاتے ہیں اور چائے آرڈر کر دیتے ہیں۔

ماحول کچھ نرم ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں،
“تمہاری آنٹی تمہیں یاد کر رہی تھیں۔ کافی دن سے ملی نہیں ہو۔”

پری سر ہلا کر کہتی ہے،
“ہاں، میسج آیا تھا۔ ایک دو دن میں ملنے آؤں گی۔”

کچھ دیر بات چیت کے بعد اسکندر خان چلے جاتے ہیں۔

پری اکیلی بیٹھ کر فائل کھولتی ہے۔ وہ اندر رکھی تصویر دیکھ ہی رہی ہوتی ہے کہ اسے اپنے سامنے آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ سامنے والی ٹیبل پر ایک لڑکی اور لڑکا بیٹھے ہوتے ہیں۔ لڑکی کی پشت پری کی طرف ہے، جبکہ لڑکا سامنے بیٹھا ہے۔

اچانک لڑکے کا چہرہ دیکھ کر پری چونک جاتی ہے۔

لڑکی غصے میں کہہ رہی ہوتی ہے،
“تم جو کہہ رہے ہو وہ میں نہیں کر سکتی۔ میرے بھائی واپس آ گئے ہیں۔ اب میں کچھ نہیں کر سکتی۔”

لڑکا جذباتی انداز میں کہتا ہے،
“کیا تم میری اتنی سی بات بھی نہیں مان سکتیں؟”

لڑکی جواب دیتی ہے،
“میں مشکل سے ٹائم نکال کر تم سے ملتی ہوں۔ تمہارے لیے بہت کچھ کرتی ہوں۔ اتنی دور اکیلے نہیں جا سکتی، مجھے اجازت نہیں ملے گی۔”

وہ کہتا ہے،
“اپنے ڈیڈ سے بات تو کرو، شاید اجازت مل جائے۔”

لڑکی ہچکچاتے ہوئے کہتی ہے،
“اوکے، کوشش کروں گی… مگر وعدہ نہیں کرتی۔”

آخرکار وہ دونوں اٹھتے ہیں۔ لڑکا کہتا ہے،
“چلو، میں تمہیں یونیورسٹی چھوڑ دیتا ہوں۔”

وہ دونوں باہر چلے جاتے ہیں۔

پری کچھ لمحے انہیں جاتے ہوئے دیکھتی رہتی ہے۔ اس کے ذہن میں سوالات گردش کرنے لگتے ہیں۔ پھر وہ بل ادا کرتی ہے اور فائل ہاتھ میں لیے اپنی اگلی منزل کی طرف بڑھ جاتی ہے۔۔۔۔


————————————-

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *