THE LAST REGISTRY BY RIDA FATIMA AND NEHA GHORI EPISODE 1.

The last registry

از قلم نیہا غوری’ ردا فاطمہ

انتساب
_یہ کہانی ان لوگوں کے نام…
جو اندھیرے میں رہ کر بھی روشنی کا انتخاب کرتے ہیں

Chapter 1 — The last registry

ہر شہر کی ایک کہانی ہوتی ہے… اور ہر کہانی کا ایک خوف۔
اس شہر کا خوف صرف ایک نام تھا…
Land empire۔
کسی نے اُس کا اصلی چہرہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔
لوگ کہتے تھے…
وہ انسان نہیں… فیصلہ ہے۔
رات کے دو بج رہے تھے۔
بارش کی ہلکی بوندیں سنسان گودام کی ٹوٹی چھت پر مسلسل گر رہی تھیں۔ ایک آدمی گھٹنوں کے بل بیٹھا کانپ رہا تھا، جبکہ اس کے سامنے سیاہ لباس میں کھڑا شخص مکمل خاموش تھا۔
میں… میں نے غلطی کی تھی…
اس نے لرزتی آواز میں کہا۔
خاموشی۔
صرف بارش کی آواز۔
پھر گہری اور پُرسکون آواز گونجی…
دھوکا… میری دنیا کا وہ جرم ہے جس کی صرف ایک سزا ہے۔
اگلے ہی لمحے پورا گودام خاموش ہو گیا۔
اور شہر میں ایک نئی خبر پھیل چکی تھی…
Land empire group نے ایک اور غدار کو ختم کر دیا تھا۔
قسط اول —

کوالالمپور کی صبح ہمیشہ ایک ہی انداز میں جاگتی تھی۔
بسوں کے مسلسل ہارن، سڑک کنارے لگے کھانوں کے اسٹالز سے اٹھتی خوشبو، دکانداروں کی آوازیں، اور رات بھر برسنے والی بارش کے بعد گیلی سڑکوں سے اٹھتی مٹی کی مہک… شہر کا ہر منظر اپنی الگ کہانی سناتا تھا۔
اسی ہنگامے کے درمیان ارحما اپنی پرانی مگر صاف ستھری سائیکل یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے باہر کھڑی کر کے تالا لگا رہی تھی۔
اس کے ایک ہاتھ میں سگمنڈ فرائڈ کی موٹی کتاب تھی، جبکہ دوسرے ہاتھ میں ٹھنڈی کافی کا کپ۔
سادہ لباس، ہلکے سے لہراتے بال، اور چہرے پر وہی سنجیدگی جو اسے دوسروں سے مختلف بناتی تھی۔
ارحماااا…!
پیچھے سے کسی نے زور سے آواز دی۔
ارحما نے مڑ کر دیکھا تو قندیل پوری رفتار سے اس کی طرف بھاگی چلی آ رہی تھی۔ اس کے بال بری طرح بکھرے ہوئے تھے، یونیفارم آدھی ٹک تھی، اور سانس بری طرح پھول رہی تھی۔
“پھر لیٹ؟” ارحما نے بھنویں اچکائیں۔
یار، ٹریفک نے جان لے لی… اوپر سے امی نے زبردستی ناشتہ بھی کروا دیا۔
ناشتے کے بغیر دماغ نہیں چلتا تیرا؟
قندیل نے مسکراتے ہوئے کہا،
چل تو جاتا ہے… مگر تیرے لیکچر کے بغیر نہیں چلتا۔
ارحما بےاختیار مسکرا دی،
چل، کلاس شروع ہونے والی ہے۔
قندیل نے اس کا بازو پکڑا اور دونوں Psychology Department کی طرف بڑھ گئیں۔
پرانا سا ڈیپارٹمنٹ…
چھت پر لگا پرانا پنکھا مسلسل چرچرا رہا تھا، لکڑی کی کرسیاں وقت کی تھکن اپنے اندر سمیٹے کھڑی تھیں، اور کلاس روم میں پروفیسر اپنی یکساں آواز میں لیکچر دیے جا رہے تھے۔
پوری کلاس میں صرف ایک قلم پوری رفتار سے چل رہا تھا…
ارحما کا۔
وہ اگلی قطار میں بیٹھی ہر لفظ نوٹ کر رہی تھی۔
جبکہ قندیل، حسبِ معمول، آخری نشست پر آرام سے چاکلیٹ کھاتے ہوئے کبھی لیکچر سنتی، کبھی ارحما کو چھیڑتی۔
ارحما…
اس نے آہستہ سے پکارا۔
ارحما نے بغیر مڑے جواب دیا،
کیا ہے؟
آج شام مال چلیں؟
پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔
میں دے دوں گی۔
نہیں۔
پلیزززز… کتابوں سے بور ہو گئی ہوں۔
ارحما نے کھڑکی سے باہر نظر ڈالی۔
آسمان پر سیاہ بادل آہستہ آہستہ پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔
بارش ہونے والی ہے اور اسائنمنٹ بھی کرنا ہے…
وہ دھیرے سے بولی۔
اور میں کہیں نہیں جا رہی۔
قندیل نے ہار مانتے ہوئے منہ بنا لیا۔

لیکچر ختم ہوتے ہی دونوں سیدھا یونیورسٹی کی لائبریری پہنچ گئیں۔
یہ جگہ ارحما کو ہمیشہ سے پسند تھی۔
خاص طور پر کھڑکی کے ساتھ والی وہ خاموش میز…
جہاں بیٹھ کر بارش کو گھنٹوں دیکھا جا سکتا تھا۔
اس نے اپنی کتاب میز پر رکھی ہی تھی کہ پیچھے سے ایک نرم اور شائستہ آواز سنائی دی۔
“معاف کیجیے گا… کیا یہ جگہ خالی ہے؟”
ارحما نے سر اٹھایا۔
سامنے تقریباً بائیس تئیس سال کا ایک نوجوان کھڑا تھا۔
سادہ سفید شرٹ، نیلی جینز، ہاتھوں میں چند کتابیں…
اس کے چہرے پر نہ غرور تھا، نہ بناوٹ…
صرف ایک عجیب سا سکون۔
قندیل نے فوراً ارحما کو کہنی ماری۔
جی، بالکل خالی ہے۔ آپ بیٹھ جائیں۔
ارحما نے اسے گھور کر دیکھا، مگر تب تک وہ نوجوان بیٹھ چکا تھا۔
اس نے کتابیں میز پر رکھیں اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
شکریہ… میرا نام احد ہے۔
ارحما نے صرف سر ہلایا۔
اپنا نام بتانے کی ضرورت اسے محسوس نہیں ہوئی۔
چند لمحوں تک خاموشی رہی۔
پھر احد کی نظر ارحما کے سامنے رکھی کتاب پر گئی۔
فرائڈ؟
اس نے مسکرا کر پوچھا۔
آپ بھی Psychology پڑھتی ہیں؟
جی۔
مختصر جواب۔
دلچسپ شعبہ ہے…
وہ بولا۔
لوگوں کو سمجھنا شاید تھوڑا آسان ہو جاتا ہے۔
ارحما نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا،
لوگوں کو سمجھنا… کتابوں سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
ایک لمحے کے لیے احد خاموش ہو گیا۔
پھر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اسی دوران قندیل بول پڑی،
ویسے ارحما کو بارش بہت پسند ہے۔
“قندیل…
ارحما نے تنبیہی نظروں سے اسے دیکھا۔
احد نے کھڑکی کے باہر برسنے والی بارش کو دیکھا۔
مجھے بھی…
اس کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ دھیمی تھی۔
بارش میں شور کم اور سوچیں زیادہ سنائی دیتی ہیں۔
اسی لمحے بارش مزید تیز ہو گئی۔
بوندیں شیشے سے ٹکرا کر پھسلنے لگیں۔
ارحما کی کافی اب مکمل ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
احد نے اپنا گرم کافی کا کپ اس کی طرف بڑھایا۔
یہ لے لیجیے…
ضرورت نہیں۔
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
…انسانیت ہے۔
اتنا کہہ کر وہ اپنی کتابیں سمیٹ کر خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔
قندیل اس کے جاتے ہوئے وجود کو دیکھتی رہی۔
یار… کتنا اچھا لڑکا ہے۔
ارحما نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ صرف کھڑکی کے پار گرتی بارش میں اس کے دور ہوتے قدموں کو دیکھتی رہی۔

شام ڈھل چکی تھی۔
ارحما گھر پہنچی تو امی کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں۔
آ گئی؟ آج بہت دیر ہو گئی تھی۔
لائبریری میں تھی، اسائنمنٹ مکمل کرنا تھا۔
اچھا اب جاؤ جلدی سے فریش ہو جاؤ اور آکر کھانا کھالو
جی امی بہت بھوک لگ رہی ہے ویسے بھی
کچھ دیر بعد وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
اس نے بیگ میز پر رکھا اور کتابیں نکالنے لگی کہ اچانک ایک اضافی کتاب اس کے ہاتھ میں آ گئی۔
وہ چونک گئی۔
یہ کتاب اس کی نہیں تھی۔
گہرے نیلے رنگ کے کور پر سنہری حروف میں صرف ایک لفظ لکھا تھا…
“Psychology of Human Behavio
ارحما نے فوراً یاد کرنے کی کوشش کی کہ یہ کتاب اس کے بیگ میں کیسے آئی۔
اس نے آہستہ سے کتاب کھولی۔
پہلے صفحے پر نہ کوئی نام تھا، نہ لائبریری کی مہر۔
صرف ایک چھوٹی سی سفید پرچی رکھی ہوئی تھی۔
اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا۔
شاید یہ کتاب آپ کے پاس ہی رہنی چاہیے۔
ارحما کے ماتھے پر ہلکی سی شکن ابھری۔
یہ… میرے بیگ میں آئی کیسے؟
اس نے بے اختیار لائبریری کا منظر یاد کیا…
کھڑکی کے پاس والی میز…
قندیل…
اور…
احد۔
وہ چند لمحے خاموش کھڑی رہی، پھر آہستہ سے کتاب بند کر دی۔
بارش اب بھی مسلسل برس رہی تھی
ارحما نے کتاب کو میز پر رکھا اور خود کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
بارش اب بھی مسلسل برس رہی تھی۔
اس کے ذہن میں بس ایک ہی سوال گونج رہا تھا…
_یہ کتاب کس نے رکھی؟ اور کیوں؟_
جس نے بھی رکھی تھی، کل وہ اسے ڈھونڈ نکالے گی۔
اور اسے پورا یقین تھا کہ یہ احد کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
قندیل بھی عجیب ہے۔ ہر اجنبی کو اتنا فری کر دیتی ہے۔
ارحما نے گہری سانس لی۔
_کل یونیورسٹی جا کر یہ کتاب اسے واپس کر دوں گی۔ بس۔_
مگر کتاب بند کرتے وقت اس کے ہاتھ ایک لمحے کو رک گئے۔
کور پر لکھے سنہرے لفظ _Psychology of Human Behavior_ بارش کی روشنی میں عجیب سے چمک رہے تھے۔
ارحما نے کتاب کو لاپرواہی سے سائیڈ پر رکھ دیا۔
_فضول ہے۔ کل واپس کر دوں گی۔
ارحما بیٹا نیچے آ جاؤ کھانا لگ گیا ہے
وہ کتاب میز پر رکھ کر نیچے چلی گئی
ڈائننگ ٹیبل پر امی نے پلاؤ اور چکن کا سالن لگا رکھا تھا ساتھ رائتہ بھی رکھا تھا
ارحما کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی
امی آج کیا بنا ہے
بیٹا آج تمہارے پسند کا پلاؤ اور چکن بنایا ہے
ارے واہ امی
ارحما نے پلیٹ میں کھانا لیا اور امی کی طرف دیکھا
امی ہارون کہاں ہے نظر نہیں آ رہا
وہ باہر گیا ہوا ہے دوستوں کے پاس
کہہ رہا تھا تھوڑی دیر میں آ جاؤں گا
ارحما نے سر ہلا دیا اور خاموشی سے کھانا کھانے لگی
بیٹا آج یونی میں دن کیسا گزرا
بس نارمل تھا امی لائبریری میں تھی اسائنمنٹ مکمل کر رہی تھی
کھانے کے بعد ارحما نے امی کا ہاتھ بٹایا اور پھر اپنے کمرے میں آ گئی
کمرے میں آکر اس نے موبائل اُٹھایا اور آکر بیڈ پر لیٹ گئی
مگر جب وہ موبائل اسکرول کرنے لگی تو بار بار نظر اس کتاب پر ہی جا رہی تھی۔
گہرے نیلے کور۔ سنہرے الفاظ۔ اور وہ ایک جملہ…
شاید یہ کتاب آپ کے پاس ہی رہنی چاہیے۔
اس نے چڑ کر موبائل سائیڈ پر رکھا اور پھر خود ہی اٹھا کر کتاب کا پہلا صفحہ کھول لیا۔
بس ایک نظر… دیکھنے کے لیے کہ اندر کیا ہے۔
الفاظ سادہ تھے۔ مگر عجیب طرح سے دل کو چھو رہے تھے۔
_انسان سب سے زیادہ خود سے جھوٹ بولتا ہے۔_
_اور سب سے زیادہ خود کو ہی بچانے کی کوشش کرتا ہے۔_
ارحما نے فوراً کتاب بند کر دی۔
ہوں… کوئی خاص نہیں ہے” وہ بڑبڑائی اور موبائل میں گھس گئی۔
مگر سونے سے پہلے جب لائٹ بند کی، تو کتاب پھر بھی میز پر اسی جگہ رکھی تھی۔
_کل اسے واپس کرنا ہے۔ بس۔_
اور وہ واپس بیڈ پہ آکر سو گئی

——————-
شہر کی چمکتی روشنیاں اپنی جگہ تھیں
مگر انہی روشنیوں کے پیچھے ایک اور دنیا بھی آباد تھی
جہاں قانون نام کی کوئی چیز نہیں تھی
ایک وسیع ہال میں مکمل خاموشی تھی
کالے سوٹ میں ملبوس درجنوں آدمی سر جھکائے کھڑے تھے
بھاری قدموں کی آواز گونجی
اور سب کی نظریں فوراً زمین پر جم گئیں
وہ شخص آہستہ آہستہ چلتا ہوا آیا اور اپنی سربراہی کرسی پر بیٹھ گیا
اس کے چہرے پر نقاب تھا
کسی کی ہمت نہیں تھی کہ آنکھ اُٹھا کر اسے دیکھ سکے
کمرے میں صرف گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی
پھر وہ بولا
رپورٹ ۔۔
صرف ایک لفظ تھا
مگر آواز میں اتنا رعب تھا کہ سامنے کھڑے آدمی کے ہاتھ میں پکڑی فائل تک کانپ گئی
وہ گھبرا کر بولا
باس پورا کنٹینر محفوظ طریقے سے پہنچ گیا ہے
لیکن ایک گروہ ہمارے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے
کچھ لمحے خاموشی رہی
صرف بارش کی آواز کھڑکی سے آ رہی تھی
پھر اس نے آہستہ سے کہا
جو راستے میں آئے اسے راستے سے ہٹا دو
جی باس
پورا ہال ایک ساتھ گونج اٹھا
وہ کرسی سے اٹھا اور کھڑکی کے پاس چلا گیا
باہر شہر کی روشنیاں چمک رہی تھیں
اور وہ اندھیرے میں کھڑا مسکرا رہا تھا
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
اندر آؤ۔
ایک آدمی تیزی سے اندر آیا اور احترام سے سر جھکا دیا۔
باس… ایک خبر ہے۔
وہ خاموشی سے اس کی طرف مڑا۔
بولو۔
مرزا گروپ نے ہمارے خلاف نئی ڈیل کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اگر وہ کامیاب ہو گئے تو ہماری آدھی سپلائی بند ہو جائے گی۔
کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔
وہ چند لمحے سوچتا رہا، پھر ہلکا سا مسکرایا۔
انہیں لگتا ہے وہ میرے برابر آ ے گے..
اس نے میز پر رکھی شطرنج کی ایک کالی مہرہ اٹھائی اور انگلیوں میں گھماتے ہوئے کہا،
لیکن کھیل ختم ہونے سے پہلے بادشاہ کبھی اپنی چال نہیں چلتا۔
وہ آدمی خاموش کھڑا رہا۔
میرے بہترین لوگوں کو تیار کرو۔
جی، باس۔
اور مرزا کو میرا صرف ایک پیغام پہنچا دو…
اس کی آواز پہلے سے بھی زیادہ سرد ہو گئی۔
اس نے جنگ شروع کی ہے… ختم میں کروں گا۔
یہ کہہ کر اس نے مہرہ میز پر رکھ دیا۔
کمرے میں دوبارہ خاموشی چھا گئی۔
مگر اس خاموشی کے پیچھے ایک ایسی جنگ جنم لے چکی تھی… جس کی خبر ابھی شہر کو بھی نہیں تھی۔

————————
صبح کی نرم دھوپ پردوں سے چھن کر کمرے میں پھیل رہی تھی۔
الارم مسلسل بج رہا تھا، مگر ارحمہ نے تکیہ کانوں پر رکھ کر اسے نظر انداز کر دیا۔
نیچے سے امی کی آواز آئی۔
ارحمہ! اگر آج بھی یونیورسٹی لیٹ ہوئی نا، تو میں جگانے نہیں آؤں گی!
ارحمہ نے آنکھیں ملتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا۔
یا اللہ… پھر لیٹ!
وہ جلدی سے بستر سے اُتری اور تقریباً دوڑتے ہوئے واش روم کی طرف چلی گئی۔
کچھ ہی دیر بعد وہ تیار ہو کر نیچے آئی تو ڈائننگ ٹیبل پر سب ناشتے کے لیے موجود تھے۔
السلام علیکم!
“وعلیکم السلام۔” سب نے ایک ساتھ جواب دیا۔
امی نے اس کی پلیٹ میں پراٹھا رکھتے ہوئے کہا،
آج سکون سے ناشتہ کر لو، ہر روز بھاگتے ہوئے جاتی ہو۔
ارحمہ نے ہنستے ہوئے کہا،
امی، اگر میں آرام سے بیٹھ گئی نا… تو بس پھر کلاس بھی آرام سے مس ہو جائے گی۔
اس کی بات پر ابو مسکرا دیے۔
پڑھائی بھی ضروری ہے… لیکن اپنی صحت کا خیال رکھنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
جی ابو۔
اتنے میں اس کا چھوٹا بھائی شرارتی انداز میں بولا،
امی، آج بھی شرط لگا لیتے ہیں… باجی پانچ منٹ بعد کہیں گی ‘میرا فون کہاں ہے؟
سب ہنس پڑے۔
ارحمہ نے مصنوعی غصے سے اسے گھورا۔
تم نا… ایک دن بہت مار کھاؤ گے میرے ہاتھوں۔
پہلے پکڑ تو لیں مجھے!
وہ ہنستا ہوا وہاں سے بھاگ گیا۔
پورا گھر قہقہوں سے گونج اُٹھا۔
ارحمہ نے مسکراتے ہوئے اپنا بیگ اُٹھایا، امی اور ابو سے دعا لی اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
ارحمہ یونیورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو ہمیشہ کی طرح ہر طرف طلبہ کا رش تھا۔
ارحمہ!
قندیل نے دور سے آواز دی اور ہاتھ ہلایا۔
آخر آ ہی گئی، میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔
ارحمہ ہنستے ہوئے اس کے پاس آئی۔
ارے بس، راستے میں ٹریفک بہت تھا۔
“اں ہاں… روز کا یہی بہانہ ہے تمہارا۔
بہانہ نہیں، حقیقت ہے۔
دونوں ہنستے ہوئے ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل پڑیں۔
راستے میں قندیل مسلسل اپنی باتیں سناتی رہی، کبھی کسی کلاس فیلو کی، کبھی اسائنمنٹ کی، تو کبھی آنے والے فیسٹیول کی۔
اتنے میں ان کی ایک دوست سامنے سے گزری۔
السلام علیکم، گرلز!
وعلیکم السلام!
تھوڑی دیر ہلکی پھلکی باتیں کرنے کے بعد وہ اپنی اپنی کلاسز کی طرف بڑھ گئیں۔
کچھ دیر بعد لیکچر شروع ہو گیا…
لیکچر ختم ہوتے ہی ارحمہ نے جلدی سے اپنا بیگ اُٹھایا۔
قندیل، چلو!
قندیل نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کہاں؟
پہلے ایک بندہ ڈھونڈنا ہے۔
کون؟
احاد۔
قندیل نے بھنویں سکیڑ لیں۔
کیوں؟ کیا ہوا ہے؟
ارحمہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
جب وہ ملے گا نا… تب اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا اس نے کیا کیا ہے۔
قندیل نے راستے بھر کئی بار پوچھا، مگر ارحمہ نے ہر بار یہی جواب دیا۔
صبر کرو۔
دونوں نے تقریباً پوری یونیورسٹی میں احاد کو ڈھونڈا، مگر وہ کہیں نظر نہ آیا۔
آخرکار تھک کر دونوں کیفیٹیریا آ گئیں۔
ارحمہ نے چائے کا کپ ہاتھ میں لیا، مگر اس کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھیں۔
اچانک قندیل نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا،
ارحمہ… وہ دیکھ۔
ارحمہ نے فوراً مڑ کر دیکھا۔
احاد سکون سے کیفیٹیریا کی طرف آ رہا تھا۔ ایک ہاتھ میں چند کتابیں تھیں اور دوسرے ہاتھ میں کافی کا کپ۔
ارحمہ بغیر ایک لمحہ ضائع کیے اپنی کرسی سے اٹھی اور سیدھا اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی اپنی چیز میرے بیگ میں
رکھنے کی؟
احاد اچانک رکا اور حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
معاف کیجیے… کیا؟
اتنے معصوم بننے کی ضرورت نہیں۔ اچھی طرح جانتے ہو تم میں کس چیز کی بات کر رہی ہوں۔
احاد نے پُرسکون لہجے میں کہا،
سچ کہوں تو مجھے واقعی سمجھ نہیں آ رہا آپ کس چیز کی بات کر رہی ہیں۔
ارحمہ نے غصے سے کہا،
جھوٹ بھی کتنی صفائی سے بول لیتے ہو!
احاد نے چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
کل تو آپ نے میری طرف دیکھا تک نہیں… اور آج بغیر کچھ جانے سیدھا مجھ پر غصہ کرنے آ گئیں؟
باتیں مت بناؤ!
ارحمہ نے فوراً اپنا بیگ کھولا، کتاب نکالی اور اس کی طرف بڑھا دی۔
یہ دیکھو… یہ کتاب میرے بیگ میں کیسے آئی؟
احاد نے کتاب ہاتھ میں لی۔
جیسے ہی اس کی نظر سرورق پر پڑی، وہ خود بھی چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گیا۔
یہ کتاب…؟
اسی لمحے قندیل نے کتاب اس کے ہاتھ سے لے لی۔
ایک منٹ…
اس نے پہلا صفحہ کھولا، پھر حیرت سے ارحمہ کی طرف دیکھا۔
ارحمہ! یہ تو میری کزن کی کتاب ہے!
ارحمہ کا غصہ ایک لمحے میں حیرت میں بدل گیا۔
ک… کیا؟
ہاں! وہ کل ہمارے گھر آئی تھی۔ یہ کتاب وہیں گم ہو گئی تھی۔ ہم سب کل رات سے اسے ڈھونڈ رہے تھے۔
ارحمہ نے بےیقینی سے کتاب کی طرف دیکھا۔
مطلب… یہ احاد کی نہیں؟
قندیل نے سر ہلایا۔
نہیں! یہ میری کزن کی ہے۔ شاید غلطی سے تمہارے بیگ میں چلی گئی ہوگی۔
چند لمحوں کے لیے ارحمہ بالکل خاموش رہ گئی۔
اسے احساس ہوا کہ اس نے بنا حقیقت جانے احاد پر الزام لگا دیا۔
قندیل نے شرمندگی سے احاد کی طرف دیکھا۔
آئی ایم سوری، احاد۔ واقعی غلط فہمی ہو گئی تھی۔
احاد نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
کوئی بات نہیں… غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں۔
ارحمہ نے ایک لمحے کے لیے احاد کی طرف دیکھا، مگر شرمندگی کے باعث اس کی نظریں فوراً جھک گئیں۔
بغیر کچھ کہے وہ وہاں سے چلی گئی۔
ارحمہ… سنو تو!
قندیل کتاب ہاتھ میں لیے اس کے پیچھے دوڑ گئی۔
احاد چند لمحے خاموشی سے ارحمہ کو جاتا ہوا دیکھتا رہا۔
پھر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
دلچسپ لڑکی ہے۔
وہ اپنے ہاتھ میں پکڑی کتابیں سنبھالتا ہوا خاموشی سے لائبریری کی طرف بڑھ گیا۔
______________
شام کا وقت تھا۔ باہر رم جھم بارش نے موسم کو اور بھی دلکش بنا دیا تھا۔
قندیل اپنے خوبصورت کمرے میں موجود تھی۔ کمرے کی سجاوٹ اس کے ذوق کی عکاس تھی؛ عین درمیان میں ایک بڑا سا گول بیڈ لگا تھا، اور پورے کمرے میں سفید اور سنہری رنگ کا امتزاج شاہانہ سا تاثر دے رہا تھا۔ ایک کونے میں نفاست سے سجا ہوا ڈریسنگ ٹیبل رکھا تھا۔
قندیل اس وقت بیڈ سے ہٹ کر کھڑکی کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، شاید کوئی ناول، جسے وہ بڑی توجہ سے پڑھ رہی تھی۔ باہر گرتی ہوئی بوندوں کی آواز اور کمرے کا پرسکون ماحول مل کر ایک جادوئی سماں باندھ رہے تھے۔
وہ کہانی میں کھوئی ہوئی تھی کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور اس کی امی اندر داخل ہوئیں۔
قندیل! چلو بیٹا، کھانا کھا لو
امی نے پیار سے پکارا۔
قندیل نے کتاب سے نظریں ہٹا کر مسکراتے ہوئے امی کو دیکھا، آپ جائیں ماما، میں بس ابھی آتی ہوں۔
امی اس کا جواب سن کر مسکراتے ہوئے واپس چلی گئیں اور دروازہ بند کر دیا۔
امی کے جانے کے بعد قندیل اپنی جگہ سے اٹھی۔ اس کے لمبے، گھنے بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ چلتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی اور آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے بالوں کو سمیٹ کر ایک ڈھیلا سا جوڑا بنانے لگی۔
بالوں کو سیٹ کرنے کے بعد اس نے آئینے میں خود کو نہارا۔ اس کے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ ابھر آئی۔ وہ خود ہی سے سرگوشی کے انداز میں بولی، تمہارے جیسا حسن کوئی کہاں سے لائے قندیل؟ اپسرا ہو تم… اپسرا
اپنی ہی بات پر وہ ہلکا سا ہنس دی اور پھر خاموشی سے قدم بڑھاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
ڈائننگ ٹیبل پر اس کے بابا اور امی پہلے سے موجود تھے۔ قندیل اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی، اس لیے پورے گھر کی لاڈلی اور ان کی کل کائنات تھی۔ وہ اپنی کرسی سنبھال کر بیٹھ گئی۔
امی نے محبت سے اس کی پلیٹ میں کھانا ڈالا، جبکہ بابا نے شفقت سے اس کی طرف دیکھا، اور قندیل بیٹا! پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟
بہت اچھی جا رہی ہے بابا
قندیل نے جواب دیا۔
چونکہ وہ سائیکالوجی کی طالبہ تھی، اس لیے وہ دونوں کو اپنے سبجیکٹ کے بارے میں بتانے لگی۔ کہ انسانوں کے ذہن اور ان کے رویوں کو سمجھنا کتنا دلچسپ ہوتا ہے۔
بابا اس کی باتیں بڑی توجہ سے سن رہے تھے اور امی بیچ بیچ میں اس کی پسند کا سالن اس کی پلیٹ میں رکھ رہی تھیں۔ کھانے کی میز پر ہنسی مذاق اور باتوں کا یہ سلسلہ کچھ دیر تک چلتا رہا۔
کھانا ختم کرنے کے بعد وہ میز سے اٹھی اور واپس اپنے کمرے میں آ گئی۔
اب سونے کا وقت ہو رہا تھا اور اگلی صبح اسے وقت پر یونیورسٹی بھی جانا تھا۔ اس لیے اس نے لائٹس مدھم کیں اور بستر پر لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔
___________________
دنیا اپنے معمول کے مطابق چل رہی تھی…
کسی کو خبر نہیں تھی کہ چند لمحوں بعد ملائیشیا کی سرزمین پر ایک ایسا نام قدم رکھنے والا ہے، جس کے بعد بہت کچھ بدلنے والا تھا۔
ملائیشیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ… رات کے 2 بجے
ایک پرائیویٹ جیٹ خاموشی سے رن وے پر اترا۔
ہوا میں صرف جیٹ کے انجن کی گونج تھی۔
جہاز کا دروازہ کھلا۔
سیاہ لباس میں ملبوس چند افراد ایک ایک کر کے باہر اترے۔
ان کے درمیان چلنے والی شخصیت کے چہرے پر اب بھی سائے چھائے ہوئے تھے۔
نہ آواز، نہ حرکت۔ بس ایک دہشت۔
صرف ایک نام سرگوشیوں میں گونجا…
Land empire group
ایئرپورٹ کے دوسرے کونے میں کھڑے مرزا گروپ کے دو آدمیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
ایک نے کان سے لگا فون مزید دبایا۔
Boss… خبر کنفرم ہے۔
Land empire groupملائیشیا پہنچ چکا ہے۔
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
مہنگی وِسکی سے بھرا گلاس ہاتھ میں تھم گیا۔
پھر اچانک…
ہلکی سی ہنسی کی آواز گونجی…
وہ ہنسی آہستہ آہستہ ایک خوفناک قہقہے میں بدل گئی۔
ہاہاہا…
بیوقو ف شکاری بن کر آئے ہے
انہیں اندازہ بھی نہیں… کہ اس بار شکار نہیں…
شکاری خود ہی جال میں قدم رکھ چکا ہے۔
وہ اپنی کرسی سے اٹھا، کھڑکی کے سامنے جا کر شہر کی روشنیاں دیکھنے لگا۔
دور افق تک صرف اندھیرا اور روشنیوں کا کھیل۔
ملائیشیا میں کھیل میرے اصولوں پر کھیلا جاتا ہے…
اور جو میرے شہر میں قدم رکھتا ہے…
واپس جاتا نہیں… واپس بھیجا جاتا ہے۔
اس نے فون بند کرتے ہوئے آخری حکم دیا…
ان پر نظر رکھو… ابھی نہیں۔
میں چاہتا ہوں وہ خود کو محفوظ سمجھیں…
کیونکہ اصل وار ہمیشہ وہاں کیا جاتا ہے… جہاں دشمن کو اس کی توقع بھی نہ ہو۔
کمرے میں ایک بار پھر گہری خاموشی چھا گئی…
اور شہر سے بےخبر…
بلیک روز گروپ اپنی پہلی منزل کی طرف بڑھ چکا تھا۔

To Be Continued
Malaysia…
وہ ملک جو دن میں سیاحوں کے لیے جنت لگتا تھا۔ اونچی اونچی عمارتیں شیشے کی طرح چمکتیں۔ صاف شاہراہیں۔ ہر طرف زندگی کا شور۔ رات ہوتے ہی Petrona Towers کی روشنیاں پورے آسمان کو اپنے نور میں لپیٹ لیتیں۔
لیکن اس جگمگاتے ملک کا ایک دوسرا چہرہ بھی تھا۔
ایک ایسا چہرہ جسے اخبار نہیں دکھاتے۔ جسے پولیس فائلوں میں بند کر دیتی ہے۔
وہ چہرہ اندھیروں کا تھا۔
جہاں ہر سودا ڈالر سے نہیں ہوتا تھا۔ وہاں وفاداری کی قیمت خون سے لگتی تھی۔
اور آج اسی اندھیرے میں ایک نیا نام داخل ہو چکا تھا۔
ایسا نام جسے سن کر پرانے گینگ بھی اپنی بندوقیں چیک کرنے لگیں گے۔
Land empire group.


Kuala Lumpur… رات کے 2 بجے
شہر سے تقریبا 40 منٹ دور ایک پرانی صنعتی عمارت کھڑی تھی۔ باہر سے دیکھو تو لگتا تھا برسوں سے بند ہے۔ زنگ آلود گیٹ۔ ٹوٹے شیشے۔ جالے۔
مگر گیٹ کے اندر قدم رکھتے ہی سب بدل جاتا تھا۔
اندر مکمل سکوت۔
بڑے ہال کے بیچ میں سٹیل کی لمبی میز۔ اس کے گرد چھ کرسیاں۔ ہر کرسی پر ایک سایہ بیٹھا تھا۔ کسی کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں۔
صرف کمپیوٹرز کی مدھم بیپ کی آواز۔ اور سامنے دیوار پر لگی 10 فٹ کی ڈیجیٹل اسکرین۔
اسکرین پر پورےKuala Lumpur کا تھری ڈی نقشہ چل رہا تھا۔
Port Klang کی بندرگاہ پر لال نشان۔ Bukit Bintang کے بزنس ڈسٹرک کے گرد دائرہ Chow Kit کے گلی کوچے۔ KLCC کے آس پاس کے حساس پوائنٹ۔ سب مارک تھے۔
ایک نوجوان جس کی عمر 25 سال ہوگی آگے بڑھا۔ ہاتھ میں موٹی کالی فائل۔
سر پورے شہر کا ابتدائی ڈیٹا تیار ہے
پولیس کی گشت کا ٹائم ٹیبل۔ ہر چوراہے کے سی سی ٹی وی کے بلائنڈ سپاٹ۔ امیگریشن کے کمزور لنک۔ سب کچھ اس فائل میں ہے
میز کے سرے پر کھڑا شخص مڑا ہی نہیں۔
لمبا قد۔ کالی شرٹ۔ بازو فولڈ۔ چہرہ اندھیرے میں تھا۔ صرف گردن کا سایہ نظر آ رہا تھا۔
“پولیس؟
آواز بھاری تھی۔
سر ہماری موجودگی سے بالکل بےخبر ہیں
انڈرورلڈ؟
ابھی صرف سرگوشیاں ہیں سر۔ کسی کو پکا نہیں پتا کہ لینڈ ایمپائرگروپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں
اس نے ہلکا سا سر ہلایا۔
مرزا گروپ؟
یہ دو لفظ سنتے ہی کمرے کا درجہ حرارت گر گیا۔
ایک بوڑھا آدمی جو کونے میں کھڑا تھا بولا
سر ان تک خبر پہنچ چکی ہوگی۔ مرزا کے مخبر ہر گلی میں ہیں
لیکن انہیں ابھی ہمارے مقصد کا علم نہیں
وہ شخص چند لمحے خاموش رہا۔ پھر دھیمی آواز میں بولا
اچھا ہے
جتنے زیادہ سوال ہوں گے
…اتنی زیادہ غلطیاں ہوں گی
کمرے میں موجود سب نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔
اچانک دروازہ زور سے کھلا۔
ایک آدمی ہانپتا ہوا اندر آیا۔ ماتھے پر پسینہ۔ ہاتھ میں ایک لفافہ۔
سر ہماری ٹیم نے شہر کے مختلف علاقوں کا جائزہ مکمل کر لیا ہے
اس نے میز پر تصاویر پھینک دیں۔
پہلی تصویر Port Klang کی بندرگاہ۔ رات کو اترتے کنٹینرز۔
دوسری ویئر ہاؤس کا پچھلا دروازہ جہاں کوئی کیمرہ نہیں تھا۔
تیسری KLCCکے آس پاس کی اونچی بلڈنگز کی چھتیں۔
چوتھی شہر کے کئی حساس چوراہے اور سرنگیں۔
اس شخص نے ایک تصویر اٹھا کر دیکھی۔ آنکھیں ہر کونے کو چیر رہی تھیں۔
کسی نے دیکھا تو نہیں؟
نہیں سر۔ ہم سیاح بن کر گئے تھے۔ ہاتھ میں کیمرہ گلے میں نقشہ۔ کسی کو شک بھی نہیں ہوا”
وہ پہلی بار ہلکا سا مسکرایا۔
اور اگر دیکھا بھی ہوگا… تو انہیں یہی لگا ہوگا کہ ہم عام سیاح ہیں”
اس کی بات پر پورے کمرے میں ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ تناؤ کچھ کم ہوا۔


اسی لمحے میز کے بیچ میں رکھا سیٹلائٹ فون بج اٹھا۔
ٹن… ٹن…
پورا کمرہ ایک سیکنڈ میں ساکت ہو گیا۔ سوئیاں بھی گرتیں تو آواز آتی۔
اس شخص نے آہستہ سے فون اٹھایا۔ اسکرین پر کوئی نمبر نہیں تھا۔ صرف ایک لفظ۔ باس
Yes Sir
دوسری طرف سے صرف تین جملے آئے۔ آواز اتنی بھاری تھی کہ فون بھی کانپ گیا۔
وہ خاموشی سے سنتا رہا۔ نہ ہاں نہ ناں۔
آخر میں اس نے صرف اتنا کہا۔
سمجھ گیا
اور فون بند کر دیا۔
سب کی نظریں اب اسی پر جمی تھیں۔
“کیا حکم ملا ہے سر؟”
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ کوالالمپور کی روشنیاں نیچے جل رہی تھیں۔
“فی الحال”
“..کوئی حملہ نہیں ہوگا
ہم صرف اس شہر کو سمجھیں گے
ہر گلی
ہر راستہ
اور ہر وہ شخص جو مرزا گروپ سے وابستہ ہے
ایک نوجوان جو ابھی نیا تھا حیرت سے بولا
یعنی ہم انتظار کریں گے سر؟
وہ شخص مڑا۔ اب اس کے چہرے کا کچھ حصہ روشنی میں آیا۔ آنکھیں برف کی طرح تھیں۔
جنگیں غصے سے نہیں جیتی جاتیں
…صبر سے جیتی جاتی ہیں
پورا کمرہ دوبارہ خاموش ہو گیا۔ صرف ایئرکنڈیشن کی ہلکی آواز۔

_____________
باہر کوالالمپور کی سڑکیں معمول کے مطابق چل رہی تھیں Bukit Bintan میں لوگ شاپنگ کر رہے تھے۔ پیٹروناس ٹاور کی روشنی آسمان کو چھو رہی تھی۔ بچے آئسکریم کھا رہے تھے۔
مگر کسی کو خبر نہیں تھی۔
کہ اسی شہر کے اندھیروں میں دو طاقتیں آمنے سامنے آنے والی تھیں۔
ایک طرف مرزا گروپ۔ 20 سال سے اس شہر کی رگ رگ میں جڑیں جمائے بیٹھا ہوا۔
دوسری طرفلینڈ ایمپائر گروپ نیا نام۔ لیکن ارادے پرانے اور خطرناک۔
ان دونوں کی ٹکر صرف ملیشیا کی تقدیر نہیں بدلے گی۔
پورے انڈرورلڈ کا نقشہ بدل جائے گا۔
اور اندھیرا… اندھیرا مسکرا رہا تھا۔
کیونکہ اب کھیل شروع ہو چکا تھا۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *