گرداب ( از قلم صدیقی )
باب پنجم: پہلی لہر
قسط نمبر ۸
کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی، جیسے کسی نے جان بوجھ کر اندھیرا رکھا ہو تاکہ بات چیت کے ہر لفظ کا وزن بڑھ جائے۔
امن اپنی کرسی پر ذرا سا جھک کر بیٹھا تھا، مگر اس کی نظریں بالکل سیدھی سامنے جمی تھیں۔
سامنے، گہرے چاکلیٹی رنگ کی شرٹ اور ہلکے براؤن پینٹ میں ملبوس وائپر بیٹھا تھا۔۔ آستین ذرا سی مڑی ہوئی، کلائی پر سادہ سی گھڑی پہن رکھی تھی، اور وہ کرسی پر اس انداز سے بیٹھا تھا۔۔ جیسے کسی بھی لمحے اُٹھ کر چلا جائے گا۔۔۔
وائپر نے ایک نظر امن پر ڈالی اور ہلکے سے طنزیہ لہجے میں بولا، تو… ایک کروڑ روپے ہیں تمہارے پاس؟
امن نے ایک پل کو خاموش رہ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا، پھر ہلکے سے کہا، تمہارے پاس…؟ تم سے بڑا ہوں میں۔
وائپر کی بھنویں ذرا سی اٹھیں۔ تو…؟
امن کے لہجے میں ٹھہرا ہوا سختی تھی،
تو… تمیز سے بات کرو مجھ سے۔
میں نے کون سی بدتمیزی کی ہے؟ وائپر اب بھی سنجیدہ تھا۔۔۔
میں بس اتنا کہہ رہا ہوں، آپ کر کے بات کرو مجھ سے۔
نہیں… میں تم کر کے بات کروں گا۔ کرنا ہے تو ٹھیک، ورنہ میں جا رہا ہوں۔
وہ کرسی سے اٹھنے ہی لگا تھا کہ امن نے فوراً ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کا کہا۔
اچھا… ٹھیک ہے، بیٹھ جاؤ۔
وائپر آہستہ سے دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔
آگے بولو… لیکن یاد رکھو، مجھے تمہارے ساتھ کام کرنے میں کوئی انٹریسٹ نہیں ہے۔۔۔
امن کے ہونٹ سختی سے بند ہوئے، مگر نظر ہٹی نہیں۔
لیکن… مجھے تمہارے ساتھ کام کرنا ہے۔
وائپر کے چہرے پر ہلکی سی بیزاری ابھری۔
پر مجھے نہیں کرنا۔
وہ دوبارہ اٹھنے لگا، مگر امن کا ہاتھ فوراً رکاوٹ بنا۔
کیوں نہیں کرنا؟ کیا ریپر سے ڈرتے ہو؟
اس بار وائپر کے چہرے کا تاثر بدل گیا۔
زرّقان علی… دنیا کی کسی چیز سے نہیں ڈرتا۔
امن نے ذرا سا جھک کر کہا،
تو پھر… میرے ساتھ کام کیوں نہیں کرتے؟
وائپر کے چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ ابھری،
وہ زرقان کی مرضی۔۔۔
امن نے پلک جھپکے بغیر اسے دیکھا۔
زرقان کی مرضی؟ یا زرقان کا ڈر؟
زرّقان کی آنکھوں میں ایک ہلکی سی چمک ابھری، مگر لہجہ اب بھی سپاٹ تھا۔
کہا نا، میں نہیں ڈرتا کسی سے۔
امن نے کرسی کے ہتھے پر کہنی ٹکائی، اور آہستہ سے بولا—
تو ثابت کر کے دکھا دو۔
تمہیں لگتا ہے میں بے وقوف ہوں؟ اُس نے طنزیہ لہجہ میں کہا
ہاں۔۔۔ امن کے منہ سے بے اختیار نِکلا۔۔۔
جاؤ۔ میں تمہارے ساتھ کام نہیں کر رہا۔
وہ کرسی سے اٹھنے لگا، مگر امن کا ہاتھ دوبارہ اس کی راہ میں آ گیا۔
زرّقان کے چہرے پر اب سختی تھی۔
آخر تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ صاف صاف بول دو۔ جب میں کہہ رہا ہوں نہیں کرنا مجھے تمہارے ساتھ کام… تو جا کر کسی اور کو ڈھونڈ لو۔
امن نے آہستہ سے ہاتھ نیچے کیا، لیکن نظریں ہٹائیں نہیں۔
میں تمہیں کسی بزنس ڈیل کے لیے نہیں کہہ رہا ہوں، زرقان۔۔۔ یہ معاملہ میری بہن کا ہے۔
زرّقان کی انگلیاں ایک لمحے کو رُک گئیں۔ اس کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہیں آیا،
تو میں کیا کروں مُجھے نہیں کرنا تُمہارے ساتھ کام۔۔
امن نے پھر روکا
کیوں نہیں؟ میں ایک کروڑ دینے کو تیار ہوں۔
زرقان نے پلک بھی نہ جھپکی
تو؟
امن کی آواز میں اب دباؤ بڑھ گیا
اور چاہیئے تو اور دے دوں گا۔
سوری… آئی ایم ناٹ انٹرسٹڈ۔
امن نے دبی ہوئی سانس کے ساتھ کہا
تم اپنے حساب سے کام کرنا، زیادہ ٹوکوں گا نہیں… بس خبر دیتے رہنا۔
زرقان نے سرد لہجے میں کہا میں خبر بھی نہیں دونگا۔۔۔
آمن نے گہری سانس کھینچی، اپنے اندر کا غصہ دبایا، پھر دھیرے سے کہا،
ٹھیک ہے… تم اپنے حساب سے کام کرو۔ جیسے تمہیں صحیح لگے، جیسے تم کرنا چاہو۔
زرّقان کے لہجے میں اب مکمل انکار کی سختی تھی،
پھر بھی… آئی ایم ناٹ انٹرسٹڈ۔ کسی اور کے پاس جاؤ۔
امن کی نظریں اس پر جمی رہیں،
زیادہ پیسے چاہئیں؟ تو وہ بھی لے سکتے ہو تم۔
زرّقان کے ہونٹوں پر ایک تلخ ہنسی آئی،
تمہیں لگتا ہے میں لالچی ہوں … یا تمہاری جیب کا نوکر؟
میں نے یہ تو نہیں کہا۔۔۔ امن نے دھیرے سے کہا
پھر میرا وقت ضائع مت کرو۔۔۔
زرّقان کے الفاظ سیدھے امن کے ضبط پر چوٹ کر گئے۔
نہیں کرنا میرے ساتھ کام؟ مت کرو۔ جاؤ۔۔۔
امن غصے سے بولا اور اس نے ہاتھ سے دروازے کی طرف اشارہ کیا، اُس کی نظریں اب بھی زرقان کے چہرے پر جمی تھیں۔ جبڑا سختی سے بھنچا ہوا تھا اور انگلیاں مٹھی کی صورت سمٹ گئی تھیں۔ غصّہ اُس کی کمزوری تھا، اور خود پر قابو پانا اُس کی سب سے مشکل جنگ۔ اس وقت بھی وہ بمشکل اپنے ضبط کو تھامے ہوئے تھا۔۔۔۔۔
زرقان نے خاموشی سے ہاتھ آگے بڑھایا،
اوکے… ڈیل ڈن۔
امن کی پلکیں ایک لمحے کو تھمی رہ گئیں۔
اُسے اس جواب کی توقع نہیں تھی۔
++++++++++++++++
بھائی…؟
ہنزا آہستہ سے ارباز کے کمرے میں داخل ہوئی۔ کمرہ نیم تاریک تھا، صرف میز پر رکھی لیمپ کی پیلی روشنی ارباز کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ وہ لیپ ٹاپ کے سامنے جھکا تیزی سے ٹائپ کر رہا تھا، جیسے وقت کم ہو اور کام بہت۔
ہنزا کو دیکھتے ہی ارباز نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر لیپ ٹاپ بند کر دیا۔
ہاں، بولو؟ اس کی آواز میں معمول کی نرمی تھی مگر آنکھوں میں احتیاط کا عکس بھی۔
بھائی، آپ نے نیوز دیکھی؟ ہنزا کے لہجے میں گھبراہٹ کی خفیف لہر تھی۔
ارباز نے گہری سانس لی، ہنزا بچے… تمہیں میں نے کتنی بار کہا ہے نا، نیوز مت دیکھا کرو۔ تم دیکھتی ہو پھر پریشان ہو جاتی ہو… اور تمہاری پریشانی کی وجہ سے تمہاری صحت خراب ہوجاتی ہے۔۔
بھائی… میری دوست… ہنزا کی آواز ٹوٹ گئی۔
آپ کی دوست؟ کیا؟ ارباز نے سوالیہ نظر سے اسے دیکھا۔
بھائی… آپ جانتے ہو، امل میری دوست ہے۔
امل… ایمان؟ ارباز نے تھوڑا چونک کر کہا، امن کی بہن؟
ہاں، بھائی… ہنزا کے چہرے پر آنسو تیرنے لگے۔
ارباز نے ہاتھ کے اشارے سے اسے قریب بلایا، اوہ… یہاں آؤ میرے پاس۔
ہنزا اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی، جیسے بچپن میں ڈر کے وقت آ کر بیٹھتی تھی۔
بھائی… وہ ریپر منحوس… میری دوست کا کیا ہوگا اب؟ آپ… آپ اسے بچا لو نا بھائی۔
ارباز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، اور آہستہ سے کہا، ہاں… بچا لوں گا۔
ہنزا کی آنکھوں میں ہلکی سی روشنی جھلکی، پکا؟
ارباز نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، پکا…
آپ جھوٹ تو نہیں کہہ رہے نا؟ ہنزا نے ارباز کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، آپ کیسے بچاؤ گے اسے؟ مجھے بتاؤ۔
ارباز نے سکون سے جواب دیا، امن کی مدد کر کے… ابھی میں اس کے گھر جاؤں گا۔ پھر اسے بتاؤں گا کہ میری بہن نے کہا ہے اس کی دوست کو بچائے، اسی لیے میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ پھر امن کے ساتھ مل کر اسے ڈھونڈوں گا… ٹھیک ہے؟
ہنزا کے چہرے پر تھوڑی سی امید ابھری، ہاں ٹھیک ہے… پرفیکٹ۔ مجھے بھی ساتھ لے کر چلیں۔
ارباز نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا، تُم کیا کرو گی وہاں جا کر؟
دادی سے مِلوں گی… انہیں تسلی دوں گی۔ وہ امل کے لیے پریشان ہو رہی ہوں گی۔ ہنزا نے نرمی مگر عزم سے کہا۔
ارباز نے سر ہلایا، اچھا… ٹھیک ہے۔
ابھی چلیں؟ ہنزا نے تیزی سے کہا۔
ابھی؟ ارباز نے ہلکا سا بھنویں اٹھا کر دہرایا۔
ہاں بھائی…
اچھا۔۔ ٹھیک ہے جاؤ تُم تیار ہو کر آؤ۔۔ تب تک میں اپنا یہ کام ختم کرلوں۔۔۔
اوکے۔۔۔ ہنزہ وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
++++++++++++++++
اس کی کار ابھی گھر کے پاس تھوڑی دُور آ کر رکی ہی تھی کہ گیٹ پر میڈیا کا ہجوم نظر آیا۔
کیمروں کی چمکتی روشنی، مائیکروفونوں کا ہجوم، اور بےتحاشا سوالوں کی گونج… جیسے گیٹ کے باہر ایک محاذ کھلا ہو۔
آمن پچھلی سیٹ پر خاموش بیٹھا تھا،
فی الحال کسی کو خبر نہیں تھی کہ یہ گاڑی اسی کی ہے، اور وہ اندر موجود ہے، ورنہ یہ شور سیدھا گاڑی پر ٹوٹ پڑتا۔
اس نے ایک گہری سانس لی، پھر ڈرائیور کی طرف دیکھتے ہوئے بولا، گاڑی پچھلے گیٹ کی طرف لے جاؤ۔
گاڑی نے آہستہ سے رخ بدلا اور چند لمحوں میں ایک سنسان گلی کے راستے گھر کے پچھلے حصے تک پہنچ گئی۔
کچھ دیر بعد مین ڈور کھلا، اور امن اپنے ساتھ ارحم اور آئرا کو لیے باہر آیا۔
میں ابھی میڈیا سے کچھ بات کروں گا…اور پھر میں چاہوں گا کہ میڈیا دوبارہ میرے گیٹ پر آنے سے گریز کریں، ورنہ میں اپنی لوکیشن بدل لوں گا۔
امن کے گیٹ سے باہر آتے ہی، شور ماند پڑ گیا۔
وہی ہجوم جو چند لمحے پہلے کیمروں کے پیچھے چیخ رہا تھا، اب مکمل خاموشی میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
مائیکروفون ایک ساتھ اس کے چہرے کے قریب آچکے تھے سب اُس کے آگے بولنے کے منتظر تھے
تو آپ لوگوں کو پتا چل گیا کہ میری بہن ریپر کے قبضے میں ہے… اور آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں… کیا میں سیاست چھوڑ دوں گا؟
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر کہا،
تو… نہیں۔ میں پورے کراچی اور ریپر سے کہہ رہا ہوں، سید امن حنان افتخار سیاست نہیں چھوڑے گا۔
اس کی آواز میں لوہے کی سختی اتر آئی،
اور رہی میری بہن کی بات… تو وہ جلد میرے پاس ہوگی۔
رپورٹرز کے چہروں پر حیرت اور تجسس چھا گیا۔
آپ سب کا سوال تھا نا کہ میں ریپر کے معاملے میں کیوں کچھ نہیں کہتا؟
کیونکہ… میں کہنا نہیں چاہتا تھا۔ میں کرنا چاہتا تھا… اور کر کے دکھاؤں گا۔۔۔۔
میں پہلے خاموش تھا… کیوں کہ میرے پاس کوئی طاقت نہیں تھی۔ ریپر کے بارے میں میں کہہ تو بہت کچھ سکتا تھا… لیکن میں کر کچھ نہیں سکتا تھا۔
امن نے ایک لمحے کو مجمع پر نظر دوڑائی،
کر میں آج بھی زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔
لیکن میں کر سکوں گا… الیکشن جیتنے کے بعد۔
میں طاقت کے لیے الیکشن لڑ رہا تھا…
طاقت… تاکہ ایسے لوگوں کو زمین سے مٹا سکوں جو ریپر جیسے ہیں۔
اس کی آواز میں ایک غیر متزلزل یقین تھا،
یہ سیاست… میرے لیے کرسی یا عہدہ نہیں،
یہ ایک ہتھیار ہے… اور میں اسے اس دن چلاؤں گا جب میرے ہاتھ میں پورا اختیار ہوگا۔
آمن کے الفاظ ہوا میں گونجتے رہے، اور گیٹ کے باہر کھڑے میڈیا کے چہروں پر اب سنجیدگی کے سائے پھیل چکے تھے۔
ریپر نے مجھ سے کہا… سیاست چھوڑ دو،
ورنہ میں امل کو نہیں چھوڑوں گا۔
امن نے ایک پل کو سانس روکی،
پھر دھیرے دھیرے مگر پوری شدت کے ساتھ بولا:
اور اب… میں کہتا ہوں…
اگر میں الیکشن جیت گیا…
تو میں ریپر کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
اور اگر میں ہار گیا۔۔۔ تب بھی میں ریپر کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
یہ جملہ ہوا میں تیر کی طرح اٹک گیا، نہ زمین پر گرا، نہ وقت نے اسے نگلا۔
امن ایک قدم پیچھے ہٹا، اور بغیر مزید کسی لفظ کے گیٹ کی طرف چل پڑا۔
رپورٹرز کے لبوں پر سوال تھرتھرا رہے تھے، مگر کوئی آواز باہر نہ آئی۔
مائیکروفونز تھکے ہوئے سے نیچے جھک گئے،
اور صرف کیمروں کی ٹک ٹک باقی رہ گئی۔
اس کے باڈی گارڈز فوراً آگے بڑھے،
بس… میڈیا کوریج ختم، سب پیچھے ہٹیں۔
ایک ایک کر کے رپورٹرز ہٹنے لگے،
امن گیٹ کے اندر داخل ہوا، دروازہ بھاری آواز کے ساتھ بند ہوا،
اور باہر صرف خاموشی اور خبر کی گرمی باقی رہ گئی۔
اب موت کی موت سے جنگ ہوگی…
ریپر نے وار غلط جگہ کیا تھا…
وہ بھول گیا تھا کہ کچھ زخم جسم پہ نہیں لگتے…
روح پہ لگتے ہیں۔
اور جو شخص روح پہ چوٹ کھاتا ہے…
پھر وہ انسان نہیں رہتا، وہ قہر بن جاتا ہے۔
اب وہ قہر بن کے برسے گا ریپر پر۔
خاموشی کے پردے چاک ہوں گے…
اب ریپر خاک میں ملے گا…
++++++++++++++++
کمرے میں آ کر امن نے کوٹ ایک طرف پھینکا اور واش بیسن کے سامنے رک کر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے منہ پر مارے۔
چند لمحے بعد وہ بیڈ کے کنارے بیٹھا، لیکن دماغ کہیں اور تھا
پھر اچانک جیسے کسی نے سوچ کے دھاگے کو کاٹ دیا ہو، اسے اُس نمبر والے لڑکے کی یاد آئی۔
اسی لمحے فون کی اسکرین روشن کی۔ اور دوبارہ کال ملا دی۔۔۔
اس بار کال ریسیو ہوگئی۔۔۔۔
دوسری طرف سے فوراً ایک کھردری سی آواز آئی،
کون ہے بئے… جو بار بار کال کیے جا رہا ہے؟ بندہ جب ایک دفعہ کال نہ اٹھائے تو آگے والے کو سمجھ جانا چاہیے کہ بندے کا بات کرنے کا دل نہیں۔۔۔۔
امن کی پلکیں ذرا سی تنگ ہوئیں،
پہلی بات… مجھ سے تمیز سے بات کرو۔
کیوں؟ تم ملک کے وزیرِاعظم ہو؟ بے تمیز لہجے میں کہا گیا
ہوں تو نہیں… لیکن بن سکتا ہوں۔
نام بتاؤ۔
میں کال پہ ساری باتیں نہیں کرتا۔ ملنے آؤ۔
بتاؤ کہاں آنا ہے؟
امن کا لہجہ اب برف سا ٹھنڈا ہو گیا، مطلب؟ کوئی بھی تمہیں کہیں بھی بُلا لے، اور تم فوراً پہنچ جاؤ گے؟
ہاں تو؟
تمہارے پاس دماغ نہیں ہے؟
تمہیں میرے دماغ سے کیا کام ہے؟
امن نے فون کو تھوڑا سا کان سے دور کیا، جیسے الفاظ کو اپنے دماغ میں تول رہا ہو…
اچھا میں لوکیشن سینڈ کر رہا ہوں وہاں آجاؤ۔۔۔
اور امن نے کال کٹ کردی۔۔۔۔
وہ ابھی کشن کے ساتھ ٹیک لگا کر ذرا سانس سیدھا ہی کر رہا تھا کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
جی… آ جائیے۔
یسریٰ آہستہ سے اندر داخل ہوئی،
وہ… امل کی ایک دوست آئی ہے۔
امن نے پلک جھپکی۔ امل کی دوست؟
ہاں… وہ لاؤنچ میں بیٹھی ہیں۔ آپ سے ملنا چاہ رہی ہیں۔
امن نے ہلکا سا سر ہلایا۔ اچھا… میں آتا ہوں۔
یسریٰ نے جانے سے پہلے ذرا سا توقف کیا،
ہمم… ٹھیک ہے۔
+++++++++++++++++
امن جب سیڑھیاں اتر کر نیچے لانچ میں آیا تو وہاں
صوفے پر ہنزا بیٹھی تھی، وہی پرانی پہچان، آمل کی کلاس فیلو، یونیورسٹی کی ساتھی، جو کئی بار امل کے ساتھ ان کے گھر آ چکی تھی۔ امن کے چہرے پر ایک لمحے کو حیرت کی ہلکی سی جھلک آئی، مگر اصل چونک اُس وقت لگا جب اُس نے ہنزا کے ساتھ بیٹھے ارباز کو دیکھا۔
السلام علیکم… امن نے آہستہ سے کہا، نظریں دونوں پر جمی تھیں۔
وعلیکم السلام، امن بھائی… کیسے ہیں آپ؟ ہنزا کے لہجے میں وہی پرانی اپنائیت تھی۔
بالکل ٹھیک۔ آپ یہاں؟ امن نے پلک جھپک کر پوچھا۔
اس سے پہلے کہ ہنزا کچھ کہتی، اُس کے ساتھ بیٹھے ارباز نے دھیرے سے مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
آپ کی ایک اور خوش قسمتی دیکھے کہ میں ہنزا کا بھائی ہوں۔ ارباز… ارباز قہر زمان۔
اوہ… امن کی نظروں میں ذرا سا تاثر بدلا،
ہنزا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بات سنبھالی،
جی بھائی، اور ہم آپ کی مدد کرنے آئے ہیں۔
امن کی آنکھوں میں سنجیدگی اور سوال ایک ساتھ اترے۔
مدد؟ کیسی مدد؟
ایموو کو ڈھونڈنے میں…
امن نے سر ہلایا، ہاں… میں اُس کی لوکیشن کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہوں۔
تو پھر… ہنزا نے اپنے بھائی کی طرف دیکھا، یہ بھی آپ کی مدد کریں گے۔ میں اسی وجہ سے ان کو ساتھ لے کر آئی ہوں۔
امن نے ایک لمحے کو خاموشی سے ارباز کو دیکھا۔ اُس کی نظریں گہری اور مضبوط تھیں۔
امن نے ہلکی سی سانس کھینچی نہیں… اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے پاس کافی لوگ ہیں۔ جلد ہی آمل میرے پاس ہوگی۔
اسی لمحے یُسرا اندر آئی۔
اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی، جس میں بھاپ اڑاتی چائے کے کپ رکھے تھے۔
وہ نرم قدموں سے چلتی ہوئی سب کے سامنے آئی، اور سکون سے ایک ایک کپ میز پر رکھ دیا۔
ارباز نے چائے کا کپ اُٹھایا، مگر ایک گھونٹ بھی نہ لیا۔ نظر سیدھی امن پر جمائے ہوئے بولا،
کیسے لوگ؟ میں پھر آپ سے کہہ رہا ہوں… میرے پاس بہت سے اندر کے بندے ہیں۔
امن نے لمحہ بھر کے لیے خاموشی اختیار کی۔ کپ کی خوشبو جیسے اس کے اندر کہیں تحلیل ہو گئی۔ پھر اس نے آہستہ مگر ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا،
میرے پاس بھی ہیں۔
ارباز نے ذرا سا آگے جھکتے ہوئے کہا،
اندر کے بندے؟
امن نے لمحہ بھر اسے دیکھا۔ پھر کپ کو میز پر رکھتے ہوئے دھیمے مگر کاٹ دار لہجے میں بولا،
تم اپنے کردار کو میرے سامنے مشکوک بنانے کی کوششیں کیوں کر رہے ہو؟
ارباز ہلکا سا ہنسا، جیسے کشیدگی کو ہوا میں تحلیل کرنا چاہتا ہو۔
نہیں، نہیں… دراصل میں بات ہی ایسے کرتا ہوں۔
امن کی نظریں اُس کے چہرے پر جمی رہیں۔
بات ایسے کرتے ہو یا اصل میں ایسے ہی ہو…؟ فرق سمجھنے میں مجھے زیادہ دیر نہیں لگتی، ارباز۔
چلیں… مان لیا، آپ کو فرق سمجھنے میں دیر نہیں لگتی۔ تو پھر ایک بار مجھے آزما لیجیے۔
امن نے نرمی سے کہا پھر وہی بات ۔۔۔ ارباز تُم میرے پارٹی میں انویسٹ کر رہے بس میرے لیے یہی کافی ہے اور یہی تُمہارا میرے اوپر آسان ہے اس کے علاوہ مُجھے تُمہاری کسی بھی طرح کی مدد نہیں چاہیے۔۔۔
ہنزا نے بےچینی سے بھائی کی طرف دیکھا،
آپ نے مجھے بتایا نہیں بھائی؟ آپ امن بھائی کی پارٹی میں انویسٹ کر رہے ہیں؟
ارباز نے ذرا سا جھک کر بہن کی طرف دیکھا اور آہستہ مسکرا دیا۔
یہ تو میرا کام کا سلسلہ ہے نا، گڑیا… اس کے بارے میں میں تمہیں کیا بتاتا؟
امن نے یہ مکالمہ سنا تو ایک لمحے کے لیے اُس کے ذہن میں ارباز اور ہنزا کی جگہ اپنا آپ اور امل آ گئے۔
وہ بھی تو اکثر امل سے سب کچھ چھپا لیتا تھا…
سیاسی ملاقاتیں، خطرناک منصوبے، فیصلے، کچھ بھی اُس سے نہیں کہتا تھا۔
پھر جب امل کو خبر لگتی تو وہ بھی بالکل اسی لہجے میں پوچھتی تھی
آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟
اور امن بھی اُسے اسی طرح سمجھاتا جیسے آج ارباز ہنزا کو سمجھا رہا تھا۔
امن کے دل میں ایک ٹیس سی اُٹھی۔
پلکوں کے پیچھے امل کی مسکراہٹ ابھری اور پھر دھندلا گئی۔
امن نے ہنزا کی گھبراہٹ کو محسوس کیا، وہ لمحہ بھر کو مسکرایا اور نرم لہجے میں بولا
اچھا ہنزا… تم پریشان ہو رہی ہو نا؟ تو سنو… میں تمہیں ایک بات بتا دوں۔
ہنزا کی آنکھیں تجسس سے پھیل گئیں، کیا؟
امن نے سیدھی نظریں اس پر جما دیں، الفاظ آہستہ آہستہ لیکن پورے یقین کے ساتھ ادا کیے
مجھے امل کی لوکیشن مل گئی ہے۔
کیا؟! ہنزا کے لبوں سے بےاختیار نکلا، دل جیسے ایک لمحے کو رُک گیا۔
بھائی، سچ میں؟
ہاں۔ سچ میں۔ اور بس، وہ جلد میرے پاس ہوگی اب بس تُم گھر جاؤ اور دعا کرو امل کے لیے۔۔۔
ہنزا کی آنکھوں میں نمی تیر گئی، لبوں پر دعا جیسی مسکراہٹ آگئی۔
ارباز نے بھی خاموشی سے امن کو دیکھا، ابھی تو امن کو اُسے اپنی طاقت دیکھنی تھی، لیکن خیر ابھی نہ صحیح پھر کبھی۔۔۔
++++++++++++++
وہ دونوں جا چکے تھے۔ لانچ اب خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ صرف یسریٰ کی چُپ چاپ قدموں کی چاپ اور برتنوں کی کھڑکھڑاہٹ تھی۔ وہ کپ میز سے سمیٹ رہی تھی جب امن نے اچانک خاموشی توڑی۔
ایک بات تو بتاؤ۔۔۔
یسریٰ چونکی۔ اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
پوچھیے۔
امن صوفے سے ذرا آگے جھکا، اُس کے چہرے پر ایک سنجیدہ سا تجسس تھا۔
ایک تو تم ہر وقت میرے آگے پیچھے کیوں منڈلاتی رہتی ہو؟
یسریٰ نے حیرت سے پلکیں جھپکیں۔
نہیں تو۔۔۔
ہاں تو۔۔۔
نہیں، میں اپنا کام کر رہی ہوتی ہوں۔
امن نے اُس پر نظریں گاڑ دیں۔ تمہیں اپنے سارے کام میرے اردگرد ہی نظر آتے ہیں۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔۔ میں صرف اپنا کام کر رہی ہوتی ہوں۔۔۔۔
نہیں۔ تم مجھ پر نظر رکھ رہی ہوتی ہو۔۔۔
آپ پھر مجھ پر شک کر رہے ہیں۔۔
کیا کروں؟ تم میرے اتنا آگے پیچھے جو گھومتی رہتی ہو۔
یُسرا نے ایک گہری سانس لی۔ میں نہیں گھومتی، میں بس، اپنا کام کر رہی ہوتی ہوں۔
امن نے آنکھیں ذرا سکیڑ کر اُس کی طرف دیکھا۔
میں نے نوٹس کیا ہے۔ تم یا تو میرے آس پاس نظر آتی ہو، یا آمل کے ساتھ۔
یسریٰ اچانک ٹھٹکی۔ اُس نے نظریں اٹھا کر حیرت سے کہا، آپ مجھے نوٹس کرتے ہیں؟
کیا امن حنان افتخارِ اُسے نوٹس کرتا ہے۔۔۔ کیا سچ میں امن۔۔۔ اور نوٹس۔۔۔
امن نے ہلکے سے ہنکارا بھرا۔ نوٹس؟ اُس کی نظریں اور گہری ہو گئیں، میں تو تم پر اپنی پوری نظر رکھتا ہوں۔
یسریٰ کے ہاتھوں سے کپ کا کنارہ لرز گیا۔ وہ ساکت کھڑی رہی۔
ک۔۔۔ کیا؟ اُس کی آواز کانپ گئی۔
وہ گھبرا بھی گئی تھی، اور ڈر بھی گئی تھی۔
امن نے اُس کی گھبراہٹ کو فوراً بھانپ لیا۔
ڈر گئیں؟ اُس نے دھیرے سے پوچھا۔
یُسرا نے فوراً نظریں جھکا لیں۔ ن۔۔۔ نہیں۔
جھوٹ مت بولو۔ چہرے پر صاف لکھا نظر آرہا ہے۔۔
امن کا لہجہ اتنا مدھم تھا کہ یسریٰ کو لگا جیسے کسی نے اُس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ سرگوشی کی ہو۔
یُسرا نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ وہ تو ہمیشہ سب کے سامنے مضبوط اور پُراعتماد دکھائی دیتی تھی، ایک بہترین اداکارہ کی طرح۔ اکثر لوگ اُس کی مسکراہٹ اور اعتماد سے دھوکہ کھا جاتے تھے۔ مگر نہ جانے کیوں امن کے سامنے آتے ہی اُس کی ہمت جیسے بکھر جاتی تھی۔
اُس نے کپ کو تیزی سے ٹرے میں رکھا اور رخ موڑ لیا تاکہ اُس کے کانپتے ہاتھ اور لرزتے ہونٹ امن کی نظروں میں نہ آ سکیں۔
یسریٰ کی سانس تیز ہو رہی تھی۔ دل کی دھڑکن جیسے کانوں میں سنائی دینے لگی۔ امن کی نظریں اُس پر جمی تھیں، اور وہ نظریں عام نہیں تھیں۔ جیسے وہ صرف اُسے دیکھ نہیں رہا، بلکہ اُس کے اندر جھانک رہا ہو۔
کیا… کیا اُسے سب پتا چل گیا ہے؟
کیا امن کو پتا چل گیا کہ میں ریپر کی مدد کر رہی ہوں؟
اُس کے قدم ایک پل کو رُک گئے۔ دل نے کہا سب ختم… اگر امن کو ذرا سا بھی شک ہو گیا تو سب بکھر جائے گا۔
اُس لمحے لانچ کا دروازہ کھلا اور افتخار صاحب اندر آئے۔
ان کی نظریں امن پر جمی تھیں، سنجیدہ اور تھوڑی سی بے چینی کے ساتھ۔
امن! تمہیں ہوش ابھی ہے؟ اُن کی آواز میں ہلکی سختی تھی، ہمارے پاس صرف آج کا دِن ہے۔ اور اگلے دن الیکشن ہے۔۔۔
یسریٰ نے فرصت کا فائدہ اٹھایا اور فوراً لانچ سے باہر کی طرف دوڑ گئی، دل دھڑک رہا تھا اور سانس تیز تھی۔
امن نے ایک لمحے کے لیے یسریٰ کو دیکھا، پھر سر ہلایا اور افتخار صاحب کی طرف مخاطب ہوا۔
ہاں دادا، معلوم ہے۔۔۔
افتخار صاحب نے سر ہلا کر نرم مگر سنجیدہ انداز میں پوچھا، تو کیا، سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟
امن نے آہستہ سے نظریں جھکائیں، پھر آہستہ آہستہ اٹھاتے ہوئے کہا، پتہ نہیں۔۔۔۔
+++++++++++++++
امل نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔
چند لمحوں تک وہ ساکت لیٹی چھت کو دیکھتی رہی، پھر نظریں کمرے میں دوڑائیں۔ اجنبی دیواریں، اجنبی خاموشی، اجنبی فضا…
اور پھر اچانک جیسے وقت نے اُسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
وہ برسوں پیچھے چلی گئی…
چودہ سالہ امل…
اور اُس کے سامنے کھڑا امن۔
بھائی… آپ مجھے یہ سب کیوں سکھا رہے ہیں؟ امل نے الجھن سے پوچھا تھا۔
آپ تو ہمیشہ میرے ساتھ ہوتے ہیں نا۔ جب بھی کوئی مشکل آئے گی، میں بھاگ کر آپ کے پاس آ جاؤں گی۔ مُجھے کیا ضرورت ہے یہ سب کرنے کی۔۔؟؟
امن چند لمحے اُسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ پھر اُس نے دھیمے لہجے میں بولا،
دیکھو امل… میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں۔ تمہاری حفاظت کرنے کے لیے، تمہاری مدد کرنے کے لیے۔ میرے ہوتے ہوئے تمہیں ایک خراش تک نہیں آ سکتی۔
امل کے چہرے پر اطمینان سا پھیل گیا۔
مگر اگلے ہی لمحے امن کا لہجہ سنجیدہ ہو گیا۔
لیکن اگر کبھی میں نہ ہوا تو؟
امل کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔
پھر تمہیں اپنی مدد خود کرنی ہوگی۔ اور اگر میں کہیں بہت دور ہوا… تو تمہیں خود دوڑ کر میرے پاس آنا ہوگا۔
مجھے ڈر لگے گا… اُس نے دھیرے سے کہا۔
لگے گا۔
چوٹ بھی لگ سکتی ہے۔
لگے گی۔
اور اگر میں ناکام ہو گئی تو؟
امن کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
تب دوبارہ کوشش کرنا۔
اُس کے بعد امن چند قدم آگے بڑھا۔
سامنے تقریباً چھ فٹ اونچی دیوار تھی۔
امل نے گردن اُٹھا کر دیوار کو دیکھا تو اُس کا دل بیٹھ سا گیا۔ دیوار اُسے اپنی عمر سے بھی بڑی محسوس ہو رہی تھی۔
امن پھرتی سے دیوار پر چڑھا اور دوسری طرف جا کھڑا ہوا۔
اب اُن کے درمیان صرف وہ دیوار تھی۔
امن نے دیوار کے اُس پار سے اُسے دیکھا اور بلند آواز میں کہا،
اب میں اِدھر ہوں… اور تم اُدھر۔
امل نے پریشانی سے دیوار کی طرف دیکھا۔
تو اب؟
اب اگر تمہیں میرے پاس آنا ہے تو یہ دیوار پار کرنی ہوگی۔
امل نے گھبرا کر سر اٹھایا۔
لیکن بھائی… میں کیسے کروں گی؟
امن مسکرایا نہیں۔ اُس کی آنکھوں میں عجیب سا یقین تھا۔ یہ تم نے خود فیصلہ کرنا ہے، امل، میں راستہ نہیں بتاؤں گا۔ کیونکہ زندگی بھی راستے نہیں بتاتی… وہ صرف دیواریں کھڑی کرتی ہے۔ انہیں پار کرنا انسان کو خود سیکھنا پڑتا ہے۔۔
امل نے بےیقینی سے دیوار کی طرف دیکھا، پھر دوبارہ اوپر امن کی طرف۔
بھائی… میں گر جاؤں گی۔
تو اُٹھ جانا۔ امن نے فوراً جواب دیا۔
اور اگر چوٹ لگ گئی تو؟
تو برداشت کر لینا۔
اور اگر میں دیوار پار ہی نہ کر سکی تو؟
اس بار امن چند لمحے خاموش رہا۔
امل… اُس کی آواز غیر معمولی طور پر نرم تھی، ناکامی دیوار پار نہ کر پانے کا نام نہیں ہے۔
پھر؟
ناکامی کوشش چھوڑ دینے کا نام ہے۔۔۔۔
امل نے ہونٹ بھینچے اور دوبارہ دیوار کی طرف دیکھا۔
دیوار حقیقت میں بہت اونچی نہیں تھی، مگر چودہ سالہ امل کو وہ کسی پہاڑ جیسی لگ رہی تھی۔
اُس نے ہمت کر کے دیوار کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور اوپر چڑھنے کی کوشش کی۔
پہلی کوشش ناکام گئی۔
وہ واپس زمین پر آ گری۔
امن خاموش کھڑا رہا۔۔۔۔
امل نے خفگی سے منہ پھلا لیا۔۔
پھر دوسری بار کوشش کی۔
اس بار وہ کچھ اوپر تک پہنچ گئی، مگر ہاتھ پھسل گیا۔
گھٹنا زمین سے ٹکرایا اور ہلکی سی خراش آ گئی۔
اُس کی آنکھوں میں فوراً آنسو بھر آئے۔
بھائی…
امن کی نظریں اُس کے زخمی گھٹنے پر پڑیں، مگر وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔
رو لو۔
امل نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
کیا؟
اگر رونا ہے تو رو لو۔
پھر؟
پھر دیوار پر دوبارہ چڑھ جانا۔
آپ کو میری بالکل فکر نہیں ہے۔ امل نے آنسو صاف کرتے ہوئے شکوہ کیا۔
امن ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ اور دیوار کے اُس پار چھلانگ لگا دی۔
امل نے فوراً گھبرا کر دیوار کی طرف دیکھا۔
بھائی۔۔۔ اُس کی آواز میں خوف تھا۔
دوسری طرف سے امن کی پُرسکون آواز آئی۔
میں یہیں ہوں۔ آجاؤ۔۔۔
اُس نے ایک بار پھر دیوار کو دیکھا، پھر اپنے ہاتھوں کو۔
میں نہیں کر سکتی۔
اس بار اُس نے تقریباً چیخ کر کہا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر دیوار کے دوسری طرف سے امن کی آواز آئی۔
اچھا، مت….
امل چونک گئی۔
کیا؟
مت کرو۔ یہیں بیٹھ جاؤ۔ روتی رہو۔ انتظار کرتی رہو کہ کوئی آ کر تمہیں اُٹھا کر دوسری طرف پہنچا دے۔
امل کے ننھے چہرے پر ناراضی اُبھر آئی۔
آپ میرا مذاق اُڑا رہے ہیں۔
ہوا کا ہلکا جھونکا اُس کے بالوں سے ٹکرایا۔
یا تو دیوار کو دیکھتی رہو۔۔۔ یا دیوار پار کرنے کا طریقہ سوچو۔
امل نے دوبارہ دیوار کی طرف دیکھا۔
اس بار ڈر کے ساتھ ساتھ ضد بھی جاگ رہی تھی۔
اُس نے اردگرد نظریں دوڑائیں۔
پاس ایک لکڑی کا پرانا کریٹ پڑا تھا۔
وہ فوراً اُس کی طرف بڑھی، دونوں ہاتھوں سے اُسے گھسیٹ کر دیوار کے قریب لائی۔ کریٹ پر چڑھی، مگر پھر بھی دیوار کی اوپری سطح تک بمشکل پہنچ سکی۔
اُس نے ہاتھ اوپر کیے۔ انگلیاں کنارے سے ٹکرائیں۔
پھر پھسل گئیں۔ وہ دوبارہ نیچے آ گری۔
آہ… گھٹنا زمین سے ٹکرایا۔ آنکھوں میں فوراً آنسو بھر آئے۔ بھائی۔۔۔
ہاں؟
چوٹ لگ گئی۔
اچھا۔
امل نے منہ کھول کر دیوار کو گھورا۔
بس؟
دوسری طرف سے مدھم آواز آئی۔
زندہ ہو نا ابھی؟
امل نے غصے سے زمین پر پاؤں مارا۔
آپ بہت برے ہیں…
اب دوبارہ کوشش کرو۔
اُس نے ناک سکیڑی۔ مگر پھر کریٹ پر دوبارہ چڑھ گئی۔
اس بار اُس نے پوری طاقت سے دیوار کا کنارہ پکڑا۔
بازو کانپ رہے تھے۔ ہتھیلیاں درد کر رہی تھیں۔
مگر اُس نے چھوڑا نہیں۔
ایک لمحہ… دوسرا لمحہ… پھر آدھا جسم دیوار کے اوپر تھا۔
بھائی۔۔۔۔۔ اُس کی آواز میں خوشی شامل ہو گئی۔
ہاں؟
میں چڑھ گئی…
امل نے پوری طاقت لگا کر خود کو اوپر کھینچا۔
اور اگلے ہی لمحے دیوار کے اوپر بیٹھی تھی۔
ہوا اُس کے چہرے سے ٹکرائی۔
اور نیچے دوسری طرف کھڑے امن کو دیکھ کر اُس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
امن نے ہاتھ باندھ کر اُسے دیکھا۔
دیکھا؟
امل نے فخر سے گردن اونچی کی۔
میں کر سکتی ہوں۔
امن کی آنکھوں میں نرمی اُتر آئی۔
بس یہی بات یاد رکھنا، امل۔۔
کون سی؟
تم سب کچھ کر سکتی ہو، امل… بس کبھی خوف کو خود پر حاوی مت ہونے دینا۔ جتنا بھی ڈر لگے، ڈر کے آگے گھٹنے مت ٹیکنا۔ چھوٹی موٹی چوٹوں سے گھبرانا مت، برداشت کر لینا…یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، رونا آئے تو رو لینا، دل ہلکا کر لینا… لیکن رُکنا مت۔ راستہ ڈھونڈنا، کوشش کرنا، گرنا، سنبھلنا، دوبارہ اُٹھنا… جو کرنا پڑے کرنا، مگر کبھی ہمت مت ہارنا۔
امل کی مسکراہٹ ذرا مدھم پڑی۔
بچپن والی امل نے اُس وقت شاید یہ بات پوری طرح نہیں سمجھی تھی۔
مگر آج…
بستر پر بیٹھی امل کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔
سالوں بعد اُسے احساس ہوا کہ اُس دن امن اُسے دیوار پر چڑھنا نہیں سکھا رہا تھا… وہ اُسے اپنے بغیر جینا سکھا رہا تھا۔
امل نے آنکھیں بند کر لیں۔ دیوار والا دن صرف ایک دن نہیں تھا… اب اُسے احساس ہو رہا تھا کہ امن نے تو برسوں سے اُسے ایسی چیزیں سکھائی تھیں جن کا مطلب اُس وقت کبھی سمجھ نہیں آیا تھا۔
اُسے یاد آیا…
ایک بار وہ دونوں بازار سے واپس آ رہے تھے۔ امل اُس وقت بارہ سال کی ہوگی۔
گھر واپس کیسے جائیں گے؟ امن نے اچانک پوچھا تھا۔
امل نے فوراً اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ آپ ہیں نا، آپ لے جائیں گے۔
امن نے سر ہلایا تھا۔ اور اگر میں نہ ہوں تو؟
آپ کیوں نہیں ہوں گے؟
اُس وقت امل نے ناک چڑھا کر جواب دیا تھا۔
مگر آج… آج اُسے احساس ہو رہا تھا کہ امن اُسے راستے یاد رکھنا سکھا رہا تھا،
امل نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔
چند لمحے وہ خاموش بیٹھی رہی، جیسے ابھی بھی اُس کے کانوں میں امن کی آواز گونج رہی ہو۔
مگر جب اُس نے نظریں اٹھائیں تو حقیقت ایک بار پھر اُس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
امن یہاں نہیں تھا۔ وہ اکیلی تھی۔
امل کی نظریں پورے کمرے میں گھوم گئیں۔
کمرہ چھوٹا اور تقریباً خالی تھا۔
ایک بیڈ، جس پر وہ بیٹھی تھی۔
بیڈ کے ساتھ ایک سائیڈ ٹیبل، جس پر پانی کا جگ اور ایک گلاس رکھا تھا۔
سامنے ایک سنگل الماری۔
اور ایک دروازہ جو واش روم کی طرف جاتا تھا۔
بس۔ نہ کوئی کھڑکی۔ نہ باہر کی دنیا کی کوئی جھلک۔
نہ کسی انسان کی آواز۔
امل نے گہری سانس لی اور آہستہ سے بیڈ سے اُتر گئی۔
وہ سیدھی واش روم کی طرف بڑھی۔
اندر جا کر اُس نے ایک ایک چیز کو غور سے دیکھا۔
دیواریں۔ فرش۔ چھت۔اور پھر اُس کی نظر اوپر جا کر رکی۔
واش روم کی ایک دیوار کے بالکل اوپری حصے میں ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی۔ بہت چھوٹی۔
اتنی کہ اُس میں سے کوئی انسان تو کیا، شاید مشکل سے اپنا سر بھی نکال سکتا تھا۔
اوپر سے وہ خاصی بلندی پر بھی تھی۔
امل نے کچھ لمحے اُسے دیکھا، پھر اردگرد نظریں دوڑائیں۔ شاید کوئی اسٹول… کوئی کرسی… کوئی ایسی چیز مل جائے جس پر چڑھ کر وہ کم از کم باہر جھانک سکے۔ مگر واش روم تقریباً خالی تھا۔
وہ ایک ایک کونے تک گئی، ہر چیز کو غور سے دیکھا، مگر وہاں کوئی ایسی چیز موجود نہیں تھی جو اِس وقت اُس کی مدد کر سکتی۔
چند لمحوں بعد وہ مایوسی سے واپس کمرے میں آ گئی۔ اُس کی نظریں دوبارہ کمرے پر پھسلیں۔
پھر اُسے اچانک امن کی آواز یاد آئی۔
یا تو دیوار کو دیکھتی رہو… یا دیوار پار کرنے کا طریقہ سوچو۔
امل خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
اس بار اُس نے مایوسی سے کمرے کو نہیں دیکھا۔
بلکہ غور سے دیکھا۔ ایک ایک دیوار… ایک ایک کونا… ایک ایک بند راستہ…اور پھر اچانک اُس کی ہمت جواب دے گئی۔
وہ آہستہ سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اُس کی آنکھوں میں نمی بھرنے لگی۔ پھر اگلے ہی لمحے آنسو اُس کے گالوں پر بہہ نکلے۔ امل نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔
کیسے…؟
ان دیواروں سے کیسے باہر نکلوں، بھائی…؟
کمرے میں خاموشی تھی۔ ایسی خاموشی جس میں کوئی جواب نہیں تھا۔ کوئی قدموں کی آہٹ نہیں تھی۔
کوئی دروازہ نہیں کھلا تھا۔ امن اُس کے پاس نہیں آیا تھا۔ اور شاید پہلی بار امل کو واقعی احساس ہوا تھا کہ وہ اکیلی ہے۔۔۔بالکل اکیلی۔ اُس نے روتے ہوئے سر دیوار سے ٹکا دیا۔
اور نہ جانے کیوں…
اُسی لمحے اُسے امن کی وہی آواز یاد آئی۔
رونا آئے تو رو لینا… مگر رُکنا مت۔
امل نے آنکھیں بند کر لیں۔۔آنسو اب بھی بہہ رہے تھے۔
+++++++++++++
امن ابھی اسی جگہ بیٹھا تھا جہاں سے اُس نے کال کر کے اُس شخص کو بلایا تھا۔ اُس کے ساتھ ہی ارحم اور آئرہ بھی موجود تھے، مگر وہ اُس سے ایک نشست چھوڑ کر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔
ارحم نے امن پر نظر ڈالتے ہوئے بے زاری سے کہا،
یہ سر آخر اس وقت کس سے ملنے آئے ہیں؟
آئرہ نے کندھے اچکائے۔
مجھے کیا پتا؟ مجھے تو بس کہا گیا تھا کہ چلنا ہے، سو میں آ گئی۔
ارحم نے ایک لمبی سانس بھری۔
اوپر سے دیکھو، ہمیں یہاں آئے پورا آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے۔
ہاں، تو اب کیا کر سکتے ہیں؟ آئرہ نے سامنے نظریں جمائے جواب دیا۔
پتا نہیں کس سے ملنے آئے ہیں۔ تمہیں پوچھنا چاہیے تھا نا۔
آئرہ نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
میں اُن کی گارڈ ہوں، بیوی نہیں… جو ہر بات پوچھتی پھروں۔ سر نے کہا چلنا ہے، تو چلنا ہے، بس۔ چلنا ہے۔۔۔
ارحم مسکرایا۔۔ بیوی کا نام آیا تو یاد آیا… ویسے تمہیں کیا لگتا ہے، سر سے شادی کون کرے گا؟
آئرہ نے بے ساختہ جواب دیا،
لڑکی کرے گی۔
ارے بھائی! کون سی لڑکی؟
جس سے سر شادی کرنا چاہیں گے۔
اور سر کس سے شادی کرنا چاہیں گے؟
آئرہ چند لمحے خاموش رہی، پھر آہستگی سے امن کی طرف دیکھتے بولی، جو کافی کا گھوٹ لے رہا تھا۔۔۔
اپنی جیسی کسی ایماندار، مضبوط اور ہر حالات سے لڑنے والی لڑکی سے۔
ارحم نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
تمہیں کیسے پتا؟ سر نے بتایا ہے؟
نہیں… آئرہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، بس اندازہ لگایا ہے۔
ارحم نے سر ہلاتے ہوئے افسوس بھرے انداز میں کہا،
پھر تو سر کنوارے ہی مریں گے۔
آئرہ نے فوراً بھنویں سکیڑ لیں۔
کیوں؟
کیونکہ ایسی لڑکی بنی ہی نہیں۔
کیوں؟
ارحم نے سنجیدہ بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا،
کیوں کہ لڑکیاں جیلس ہوتی ہیں۔
آئرہ نے فوراً جواب دیا،
میں تو نہیں ہوتی۔
لڑکیاں نازک ہوتی ہیں۔
میں تو نہیں ہوں۔
لڑکیاں ایماندار نہیں ہوتیں۔
اس بار آئرہ نے فخر سے گردن سیدھی کی۔
میں تو ہوں۔
ارحم چند لمحے اُسے گھورتا رہا، پھر اُس کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ پھیل گئی۔
اچھا… تو تم اپنے آپ کو سر کی پسند کی لڑکی سمجھتی ہو؟
یہ سنتے ہی آئرہ کا چہرہ ایک لمحے کو ساکت ہو گیا، جبکہ امن بدستور سامنے دیکھ رہا تھا، وہ اُن کی باتیں سن نہیں رہا تھا۔۔۔۔ وہ اپنے مسئلے میں ہی الجھا تھا۔۔۔ وہ جس سے ملنے آیا تھا اُس کا کوئی آتا پتہ نہیں تھا اور اب اُسے ٹینشن ہورہی تھی۔۔۔۔
ارحم نے آئرہ کے چہرے کے سامنے اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا،
کیا ہوا؟ تم تو ایسے شاک ہو گئی ہو جیسے میں نے تمہیں قاتلہ کہہ دیا ہو۔
آئرہ نے فوراً خود کو سنبھالا اور گھور کر اُسے دیکھا۔
بکواس بند کرو، ایسی کوئی بات نہیں۔
تو پھر بات کچھ اور ہے؟ ارحم نے معنی خیز انداز میں کہا۔
ارحم۔۔۔۔
اچھا اچھا، غصہ مت کرو۔ ویسے ماننا پڑے گا، تم نے سر کی ہونے والی بیوی کی جو تعریف کی تھی نا… وہ حیران کن حد تک اپنے اوپر فِٹ کر لی تھی۔
میں نے صرف ایک اندازہ لگایا تھا۔
ہاں، اور وہ اندازہ اتفاق سے تمہارے علاوہ کسی اور پر پورا ہی نہیں اترتا۔
آئرہ جواب دینے ہی والی تھی کہ اچانک امن سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
دونوں کی نظریں بے اختیار اُس کی طرف اٹھ گئیں۔
پھر اُن دونوں تک امان کی آواز آئی۔
مجھے لگتا ہے، ہمیں چلنا چاہیے۔
لیکن سر، آپ یہاں کسی سے ملنے آئے تھے نا؟ ارحم نے فوراً سوال کیا۔
امن نے سامنے خالی سڑک کو دیکھتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا۔
وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ جو بھی تھا، فون پر ہی شیر بنا ہوا تھا۔ لیکن اب جب ایک سیاست دان کے سامنے آنے کی باری آئی تھی تو شاید اُس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔
لگتا ہے اُس نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ امن نے پرسکون لہجے میں کہا۔
پھر وہ کافی کا بل اور اپنا فون اُٹھا کہ جانے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا تو تبھی اُس کا فون بج اٹھا۔
امن نے فون نکال کر اسکرین پر نظر ڈالی۔
نمبر نامعلوم تھا…
سر؟ ارحم نے الجھن سے پوچھا۔
امن نے کال ریسیو کرتے ہوئے اُسے ہاتھ سے اشارے سے بیٹھنے کا کہا۔۔۔۔
فون کے دوسری طرف وہی تھا۔۔۔ میں آگیا ہوں کہاں ہو تُم۔۔۔۔؟؟
امن نے فوراً دروازے کی طرف نظر دوڑائی۔
وہاں فون کان سے لگایا ایک شَخص کھڑا تھا۔۔۔
سیاہ ٹی شرٹ کے اوپر کالی لیدر جیکٹ میں ملبوس گلے میں چاندی کی باریک چین جبکہ بائیں ہاتھ میں گھڑی اور انگلی میں سیاہ رنگ کی انگوٹھی۔۔ چہرے کا نچلا حصہ کالے ماسک سے ڈھکا ہوا تھا، جس کی وجہ سے اُس کی شناخت تقریباً ناممکن تھی۔ جبکہ آنکھوں پر بھی ہلکے رنگ کا چشمہ تھا۔ اور اس کے سیاہ بکھرے ہوئے بال پیشانی پر گرے رہے تھے۔۔
میں دروازے کے سامنے کھڑا ہوں… فون پر اُس کی آواز سنائی دی۔
امن نے اُس پر سے نظریں ہٹائے بغیر قریب کھڑے ویٹر کو اشارے سے بلایا۔
ویٹر فوراً اُس کے پاس آ گیا۔
دروازے کے پاس جو شخص کھڑا ہے، اُسے کہو اِس ٹیبل پر آ جائے۔
ویٹر نے اثبات میں سر ہلایا اور اُس نوجوان کی طرف بڑھ گیا۔..
امن جان بوجھ کر ایسا کر رہا تھا۔
وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ سامنے والا شخص کتنا پُراعتماد ہے۔ کچھ لوگ فون پر بہت بہادر بنتے ہیں، مگر جب اُنہیں بلایا جائے تو اُن کے چہروں کے رنگ بدل جاتے ہیں۔
چند لمحوں بعد ویٹر اُس نوجوان کے قریب پہنچا اور احترام سے بولا،
سر، آپ کو اُس ٹیبل پر بلایا گیا ہے۔
نوجوان نے لمحہ بھر کے لیے ویٹر کی طرف دیکھا، پھر اُس کی نظر اُس سمت اُٹھی جہاں امن بیٹھا تھا۔
امن اس وقت سیاہ رنگ کے پینٹ کوٹ میں ملبوس تھا۔ اُس کا چہرہ بھی ماسک سے ڈھکا ہوا تھا، جس کی وجہ سے اُس کی شناخت کرنا آسان نہیں تھا۔ وہ اپنی کرسی پر پُرسکون انداز میں بیٹھا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں موجود سنجیدگی اور رعب کسی بھی شخص کو محتاط کرنے کے لیے کافی تھا۔
نوجوان نے ایک لمحے کے لیے اُسے دیکھا، پھر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ویٹر کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑا۔
یہ دیکھ کر امن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
اُدھر ارحم اور آئرہ خاموشی سے آنے والے شخص کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
وہ شخص بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آ کر کرسی کھینچتے ہوئے ٹیبل پر بیٹھ گیا۔
آئرہ اور ارحم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
شاید اُنہیں توقع تھی کہ سامنے والا شخص کم از کم کچھ جھجک دکھائے گا…
مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔
امن کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
میں نے تمہیں بیٹھنے کو کہا تھا؟
نوجوان نے کرسی پر مزید سکون سے ٹیک لگائی۔
میں جو کرتا ہوں اپنی مرضی سے کرتا ہوں۔ تمہارے کہنے پر کروں گا؟
امن کی آنکھیں خطرناک حد تک سکڑ گئیں۔
ہاں… میرے کہنے پر ہی کرو گے۔
مگر نوجوان کے انداز میں ذرہ برابر فرق نہ آیا۔
ٹائم پاس کرنے کے لیے بلایا ہے مجھے؟ اگر تیرا ایسا ویسا کوئی فضول ارادہ ہے تو میں بتا دوں…
پانچ سو کا پیٹرول ڈلوا کے آیا ہوں۔ اگر کوئی فضول پرینک ورینک ہوا تو بتا رہا ہوں، پورے ہزار روپے لے کے جاؤں گا۔
ارحم نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔
یہ بندہ واقعی عجیب تھا۔
امن نے بے اختیار پوچھا، ہزار کیوں؟
اس نے فوراً جواب دیا۔
میں خود سنان حیدر یہاں تک چل کے آیا ہوں۔ پانچ سو اُس کا اور پانچ سو پیٹرول کا۔۔۔
ارحم نے فوراً ہنسی دبانے کے لیے منہ دوسری طرف کر لیا جبکہ آئرہ نے میز کے نیچے اُس کے پاؤں پر زور سے ٹھوکر ماری۔
امن چند لمحے خاموشی سے سنان کو دیکھتا رہا۔
تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگ رہا؟
کیوں تُم مُجھے گولی مارنے والے ہو۔۔؟؟
مار بھی سکتا ہوں۔۔۔ امن نے سخت لہجے میں کہا
تو مار دو۔۔۔۔ سنان نے اِدھر اُدھر دیکھتے بےنیازی سے کہا۔۔۔
موت سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔ امن نے سنان کو گھورتے کہا
یار کولڈ ڈرنک تو منگوا دو۔۔۔ سنان نے بےنیازی سے بات کا رخ بدلتے ہوئے کہا۔
امن اُسے بے تاثر نظروں سے دیکھتا رہا،
پھر اُس نے ویٹر کی طرف دیکھ کر مختصر سا کہا۔
ایک کولڈ ڈرنک لے آؤ۔
دو لے آؤ… سنان نے فوراً تصحیح کی، اتنی گرمی میں ایک سے کیا ہوگا؟
ویٹر نے حیرت سے پہلے امن کو دیکھا، پھر سنان کو۔
امن نے گہرا سانس لیا۔
دو لے آؤ۔
بل پے تم ہی کرنا۔۔۔ سنان نے فوراََ کہا
امن نے بھنویں سکیڑ لیں۔ کیوں۔۔۔؟
سنان نے ایسے جواب دیا جیسے یہ دنیا کی سب سے منطقی بات ہو۔
کیونکہ تم نے بلایا ہے مجھے یہاں۔۔۔
آئرہ ہلکا سا جھک کر ارحم کے قریب ہوئی اور سرگوشی کی،
یہ تو ایک نمبر کا کنجوس انسان لگ رہا ہے۔۔۔
امن نے کرسی پر سیدھا ہوتے ہوئے کہا،
تم جانتے ہو میں کون ہوں؟
جانتا ہوں۔ سنان کا جواب فوراً آیا۔
پھر بھی اِس طرح بات کر رہے ہو؟
تو اور کیسے بات کروں؟
لوگ مجھ سے بات کرتے ہوئے لفظ سوچ کر بولتے ہیں۔
سنان نے گردن موڑی اور اردگرد بیٹھے لوگوں کو دیکھا۔
لوگوں کی اپنی مرضی ہے۔
پھر اُس نے دوبارہ امن کی طرف دیکھا۔
میری اپنی مرضی ہے۔
امن کی نظریں مزید گہری ہو گئیں۔
تمہیں اندازہ ہے تم کس کے سامنے بیٹھے ہو؟
ہاں۔
پھر؟
پھر کیا؟
سنان نے کندھے اچکائے۔ انسان کے سامنے ہی بیٹھا ہوں نا؟ یا تم کوئی الگ مخلوق ہو؟
ارحم نے فوراً اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
اس بار آئرہ نے بھی ہونٹ بھینچ لیے تھے۔
امن خاموش رہا۔
بہت کم لوگ تھے جو اُس کی موجودگی میں اِس طرح بے تکلفی سے بات کرتے تھے۔
مگر یہ لڑکا… اسے فرق نہیں پڑتا۔۔۔ یہ سید امن حنان کے سامنے بیٹھا ہے۔۔۔
تبھی ویٹر کولڈ ڈرنکس رکھ گیا۔۔۔۔
پھر امن دونوں کے پیچھے ارحم اور آئرہ کی طرف مڑا۔
یہ میرا چھوٹا بھائی ہے۔ تم دونوں جاؤ، باہر میرا انتظار کرو۔
ہَیں۔۔۔؟ سر؟ ارحم فوراً چونکا۔
آئرہ نے بھی حیرت سے پہلے امن کو دیکھا، پھر سنان کو۔ پھر دوبارہ سنان کو۔ پھر ایک بار پھر امن کو۔
جیسے اُس کا دماغ دونوں چہروں میں کوئی خاندانی مماثلت ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔
سر… آپ کا بھائی؟ ارحم نے احتیاط سے پوچھا۔
ہاں۔ امن نے مختصر جواب دیا۔
ارحم چند لمحے خاموش رہا، پھر سنان کی طرف دیکھ کر بولا، یہ والا؟
یہ والا۔ امن کا لہجہ اب بھی پرسکون تھا۔
سنان نے کولڈ ڈرنک کا گھونٹ لیا۔ تمہارا مسئلہ کیا ہے؟
ارحم نے فوراً ہاتھ اٹھا دیے۔
نہیں نہیں، میرا کوئی مسئلہ نہیں۔ میں تو بس یہ سوچ رہا تھا کہ قدرت کبھی کبھی بہت عجیب فیصلے کرتی ہے۔
آئرہ نے فوراً اُس کے بازو پر چپت لگائی۔
چلو۔۔۔۔ بہت زیادہ بول رہے ہو تم۔۔۔۔
ارے میں نے کیا کہا؟
جو بھی کہا، زیادہ کہا۔
سنان نے بے نیازی سے کہا، مجھے بھی پہلی بار پتا چلا ہے کہ میں اِس کا بھائی ہوں، تم فکر نہ کرو۔
ارحم نے ایک لمحے کے لیے سنان کو دیکھا، پھر امن کو۔
سر، اگر یہ آپ کے بھائی ہیں تو پھر دنیا میں واقعی کچھ بھی ممکن ہے۔
اس بار آئرہ کو ہنسی دبانے کے لیے منہ دوسری طرف کرنا پڑا۔
جبکہ امن نے صرف ایک سرد نظر ارحم پر ڈالی۔
اور ارحم فوراً سیدھا کھڑا ہو گیا۔
جی سر… ہم باہر انتظار کرتے ہیں۔
پِھر وہ دونوں خاموشی سے باہر نکل گئے۔۔۔
بندہ جھوٹ بھی بولتا ہے تو جھوٹ ایسا بولے جس پر سب کو یقین آئے۔
امن نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔
ماسک اُتارو اپنا۔
کیوں؟ سنان نے فوراً جواب دیا۔
میرے حسین چہرے پر نظر لگانی ہے؟
مت اُتارو۔ امن بے تاثر بولا۔
یہ بتاؤ کرتے کیا ہو؟
کچھ نہیں کرتا۔
مطلب؟
مطلب کھاتا ہوں، پیتا ہوں، سوتا ہوں، گھومتا ہوں۔
پیسے کہاں سے آتے ہیں؟
چوری کرتا ہوں۔
چوری کیوں؟
دل چاہتا ہے۔
چند لمحے امن خاموش اسے دیکھتا رہا۔
پاگل ہو؟
یہ تو ڈاکٹر بتائیں گے۔
سنان نے کولڈ ڈرنک کا گھونٹ لیا۔
کام بتاؤ کام فضول کے بکواس نہیں کرو۔۔۔
امن کی بھنویں تن گئیں۔
تمیز سے بات کرو مجھ سے۔
تمیز سے بات کروں گا یا تو کام کروں گا؟
پہلے تمیز سے بات کرو۔
عجیب اچار ڈالنا ہے تمیز کا؟ کام کرواؤ اور نکلو۔
کہا نا… تمیز۔ امن نے سنان کو گھورتے سختی سے کہا
میرا دماغ خراب نہ کرو۔ سنان نے اپنے بال میں ہاتھ مارا
اچھا؟ میں تمہارا دماغ خراب کر رہا ہوں یا تم میرا؟
میں تو کب سے ایک ہی بات کر رہا ہوں۔ کام بتاؤ، کام۔ کس کو ٹپکانا ہے؟ کس کو اغوا کروانا ہے؟
کس کے پیسے چرانے ہیں؟ کس کا ڈیٹا نکالنا ہے؟
میں ہر چیز کا ریٹ الگ لیتا ہوں۔۔۔۔
امن چند لمحے خاموش اسے دیکھتا رہا۔ وہ حیران ہوا۔۔
اچھا… تم بندہ بھی مارتے ہو؟
ہاں تو؟
کتنے مارے ہیں؟
سنان نے کندھے اچکائے۔ گننے نہیں بیٹھا کبھی۔۔
امن نے نظریں اس پر جمائیں۔ اور پولیس؟
کیا پولیس؟
پکڑتی نہیں؟
سنان نے حیرت سے کہا، پہلے پکڑے تو سہی۔
یعنی آج تک نہیں پکڑے گئے؟
نہیں۔
کیوں؟
سنان نے کولڈ ڈرنک ختم کی۔
کیونکہ میں نے آج تک کسی کو مارا ہی نہیں۔
امن کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے۔ کیسا عجیب انسان تھا یہ؟ ابھی پانچ منٹ پہلے خود کو چور، قاتل اور جانے کیا کیا ثابت کر چکا تھا، اور اب کچھ اور کہہ رہا تھا
تو پہلے جھوٹ کیوں بولا؟ امن نے پیشانی ملتے ہوئے پوچھا۔
تم نے بھی تو جھوٹ بولا تھا۔ سنان فوراً بولا۔
اور ویسے بھی جھوٹ نہیں بولا۔ اس نے انگلی اٹھائی۔ میں واقعی بندہ ٹپکا سکتا ہوں۔
تو ابھی تک ٹپکایا کیوں نہیں؟
کیونکہ کسی نے ٹپکانے کو کہا ہی نہیں۔۔سنان نے کندھے اچکائے۔ تم کہہ دو۔
ابھی تو تم نے کہا تھا کہ تم کسی کے کہنے پر کچھ نہیں کرتے۔
ارے بھائی۔۔۔ سنان نے جیسے دنیا کی سب سے واضح بات سمجھائی ہو۔ پیسہ۔۔۔۔ پیسہ پیسہ دو۔ پیسہ پھک تماشا دیکھ۔۔۔ تم سنان کو بس پیسہ دو۔ پھر سنان یہاں کھڑے ہو کر ناچ بھی سکتا ہے۔
اس بار امن کے لبوں پر واقعی مسکراہٹ آ گئی۔
واقعی؟
ہاں۔ سنان نے فوراً جواب دیا۔ لیکن ریٹ الگ لگے گا۔۔
زیادہ ماسک کے پیچھے سے ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سنان نے سیدھا امن کی طرف اشارہ کیا۔ سنان کی آنکھیں بہت تیز ہیں۔ سب نظر آ جاتا ہے۔
امن نے ایک بھنو اٹھائی۔ اچھا؟
ہاں۔ پھر سنان نے سکون سے کولڈ ڈرنک کا آخری گھونٹ لیا۔ اس سے پہلے کے تُم اپنی بات شروع کرو، ایک اور کولڈ ڈرنک منگوا دو۔
تم یہاں صرف کولڈ ڈرنک پینے آئے ہو؟
ٹائم پاس تم خود ہی کر رہے ہو۔ سنان نے بےنیازی سے کہتے ایک اور کولڈ ڈرنک کا آرڈر دے دیا۔۔۔
امن پھر سوچ میں پڑ گیا کہ وہ اس انسان پر یقین کرے یا نہیں۔ ویسے بھی اسے یہ بالکل سنجیدہ آدمی نہیں لگ رہا تھا۔ اوپر سے اس کی حرکتیں…
ویٹر بوتل رکھ کر گیا تو سنان نے فوراً ڈھکن کھول دی۔
امن نے پیشانی مسلی۔۔۔۔ اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا اُسے اس انسان پر بھروسہ کرنا چاہیے یا نہیں۔۔۔ اور ویسے بھی یہ باتوں سے حرکتوں سے کہیں سے بھی کام کا بندہ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔
++++++++++++++
وہ تیزی سے گھر کے اندر داخل ہوا۔
کیٹی ابھی اُس بڑے سے لانچ میں موجود تھی جب ریپر کی بھاری آواز گونجی۔
کہاں ہے امن کی بہن؟
کیٹی چونک کر اُس کی طرف مڑی۔
اپنے کمرے میں ہی ہوگی…
اُس کا جملہ مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ ریپر سیڑھیوں کی طرف بڑھ چکا تھا۔
کیا ہوا باس؟
کیٹی فوراً اُس کے پیچھے لپکی۔ مگر ریپر نے مُڑ کر صرف ہاتھ اُٹھایا۔ اشارہ اتنا واضح تھا کہ کیٹی وہیں رک گئی۔ ریپر بغیر کچھ کہے اوپر چڑھ گیا۔
چند لمحوں بعد وہ امل کے کمرے کے سامنے کھڑا تھا۔
اس کا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر گیا۔ دل میں ایک عجیب سا اضطراب تھا۔
اُس نے دروازہ کھول دیا۔
دروازہ کھلتے ہی اُس کی نظریں سیدھا امل پر جا ٹھہریں۔
امل بیڈ پر سر گھنٹوں میں دیئے بیٹھی رورہی تھی رو رو کر آنکھیں سرخ ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر اُس نے سر اُٹھایا۔
اور اُن کی نظریں ٹکرا گئیں۔
سرمئی پینٹ شرٹ… اُس کے اوپر سیاہ اوور کوٹ…
چہرے پر ماسک… اور وہ سیاہ آنکھیں…
جنہیں دیکھ کر امل کے اندر موجود سارا خوف اچانک کسی اور چیز میں بدل گیا۔
غصے میں۔ نفرت میں۔ وہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہو گئی۔
ریپر ابھی کچھ سمجھ بھی نہ پایا تھا کہ امل نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا پانی کا جگ اُٹھا کر پوری طاقت سے اُس کی طرف پھینک دیا۔
شیشہ زمین سے ٹکرایا۔ ہزاروں ٹکڑوں میں بکھر گیا۔
کچھ ٹکڑے ریپر کے جوتوں سے آ کر ٹکرائے۔ مگر وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہلا۔
پھر امل جھکی۔ اور بکھرے ہوئے شیشوں میں سے ایک بڑا نوکیلا ٹکڑا اُٹھا لیا۔
ریپر کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
مگر اگلے ہی لمحے امل نے وہ شیشہ اپنے گلے پر رکھ لیا۔
ریپر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
کیا کر رہی ہو تم؟
امل کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
مگر ہاتھ بالکل نہیں کانپ رہا تھا۔
آپ چاہتے ہیں نا… اُس کی آواز بھرا گئی۔
کہ امن بھائی میری وجہ سے سیاست چھوڑ دیں؟
ریپر خاموش رہا۔
تو جب میں ہی نہیں رہوں گی…
اُس نے شیشہ اور قریب کر لیا۔
تو آپ بھائی کو بلیک میل کیسے کریں گے؟
پاگل ہو گئی ہو تم۔۔۔۔ ریپر غصے سے کہتا بے اختیار ایک قدم آگے بڑھا۔
رُک جائیے۔۔۔۔ امل چیخ اُٹھی۔
اتنی زور سے کہ آواز دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹی۔
ایک قدم بھی آگے مت آئیے۔۔۔۔
شیشے کی نوک اُس کی جلد میں دھنسنے لگی۔
باریک سی سرخ لکیر ابھر آئی۔
ریپر فوراً رک گیا۔
اس کی سانس جیسے سینے میں اٹک گئی۔
امل… شیشہ نیچے رکھو۔
نہیں۔
میں کہہ رہا ہوں شیشہ نیچے رکھو۔۔۔
اور میں کہہ رہی ہوں پیچھے ہٹ جائیے۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ مگر لہجے میں عجیب سی ضد تھی۔
میں بھی اپنے بھائی کی بہن ہوں…
اُس نے لرزتی آواز میں کہا۔
سید امل ایمان نام ہے میرا…
پھر اُس نے سیدھا اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
اور میں بھی آپ جیسے درندوں سے نہیں ڈرتی۔۔۔
امل نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
اپنا فون دیجیے مجھے۔
ریپر چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
فون…؟
جی ہاں، فون۔
اُس نے شیشہ مزید گلے سے لگا لیا۔
جلدی۔
ریپر کے جبڑے سخت ہو گئے۔
امل…
ابھی۔۔ اُس کی آواز کانپ رہی تھی۔۔مگر ارادہ نہیں۔
ورنہ یہ شیشہ میرے گلے کے اندر ہوگا…
ریپر کی آنکھوں میں غصے کی چمک ابھری۔
کیا کرو گی فون کا؟
امل کے گال آنسوؤں سے بھیگے ہوئے تھے، مگر اس کی گرفت شیشے کے ٹکڑے پر مضبوط تھی۔
بھائی سے بات کروں گی۔
اس نے لرزتی سانس لی۔
انہیں بتاؤں گی کہ میں اُن کے ساتھ ہوں۔
ریپر کے جبڑے بھنچ گئے۔
امل کی آواز دھیرے دھیرے مضبوط ہوتی گئی۔
انہیں بتاؤں گی کہ کسی ریپر کے خوف میں آ کر سیاست مت چھوڑیں۔ میری وجہ سے بھی نہیں…
اُس کی آنکھوں میں ضد اتر آئی۔
میں اُنہیں چھوڑنے نہیں دوں گی۔
ریپر نے غصے سے ایک قدم آگے بڑھایا۔
تم۔۔۔۔
رُک جائیے۔۔۔۔امل کی چیخ کمرے میں گونج گئی۔
شیشے کی نوک اس کے گلے سے مزید قریب ہو گئی۔
ایک باریک سی خون کی لکیر نکل آئی۔
ریپر کے قدم وہیں جم گئے۔
اس کی سانس سینے میں اٹک گئی۔
امل…
یہ حماقت مت کرو۔
حماقت؟ اُس نے سر جھٹکا۔ حماقت تو آپ نے کی ہے۔
ریپر خاموش رہا۔
آپ نے مجھے اغوا کیا… صرف اس لیے کہ میرے بھائی جھک جائیں۔
اُس کی آنکھوں سے ایک اور آنسو بہہ نکلا۔
مگر آپ میرے بھائی کو جانتے ہی نہیں۔
ریپر کی نظریں اس کے چہرے پر جم گئیں۔
اور شاید… امل کی آواز دھیمی ہوئی۔
آپ مجھے بھی نہیں جانتے۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
فون دیجیے۔
امل۔۔۔۔
کمرے میں چند سیکنڈ تک صرف دونوں کی سانسوں کی آواز سنائی دیتی رہی۔
پھر امل نے آہستہ سے کہا،
فیصلہ آپ کا ہے.. یا تو میں بھائی سے بات کروں گی… یا پھر آپ کبھی اُن سے میری بات نہیں کروا سکیں گے۔۔۔۔۔
چند لمحوں کی خاموش کشمکش کے بعد ریپر نے آہستہ سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔
امل کی دھڑکن ایک لمحے کو تیز ہو گئی۔
اُس نے فون نکال لیا۔
امل نے فوراً اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔
دیجیے…
ریپر اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔
صرف اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، جس میں فون موجود تھا۔
امل کی نظریں فون پر جم گئیں۔
اُسے لگا شاید وہ مان گیا ہے۔
ریپر نے فون والا ہاتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھایا۔
امل نے بھی اپنا ہاتھ آگے کر دیا۔
دونوں کے درمیان صرف چند انچ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔
مگر اگلے ہی لمحے ریپر نے فون اُس کے ہاتھ میں دینے کے بجائے پوری قوت سے بیڈ پر پھینک دیا۔
فون گدّے پر جا گرا۔
اور اسی لمحے اُس نے امل کی کلائی پکڑ لی۔
امل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
وہ کُچھ سمجھ پاتی کہ اس سے پہلے ہی ریپر نے اُسے زور سے اپنی طرف کھینچ لیا۔
امل لڑکھڑا گئی۔
شیشے کا نوکیلا ٹکڑا اُس کے ہاتھ میں اب بھی موجود تھا، مگر اچانک کھینچے جانے سے اُس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔
ریپر نے فوراً اُس کی کلائی موڑی۔
شیشہ اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گرا۔
امل نے فوراً خود کو چھڑانے کی کوشش کی۔
مگر اگلے ہی لمحے وہ اُس کی گرفت میں تھی۔
ریپر نے ایک بازو اُس کی کمر کے گرد لپیٹ رکھا تھا جبکہ دوسرا اُس کی کلائی پر تھا۔
امل کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔وہ پوری طاقت سے تڑپی۔
ریپر نے جھک کر اُس کے کان کے قریب سرد لہجے میں کہا،۔اتنا بےوقوف سمجھتی ہو تم مجھے؟
امل کی سانس ایک لمحے کو رک گئی۔
کہ میں تمہارے ہاتھ میں فون دے دیتا…
اُس کی گرفت مزید سخت ہوئی۔
اور تم واقعی میرے سامنے امن کو کال کر لیتیں؟
امل نے دانت بھینچ لیے۔
مجھے چھوڑیں۔۔۔
اور تم خود کو کیا سمجھتی ہو؟
ریپر کی گرفت مزید سخت ہو گئی۔
دو قطرے خون نکال کر مجھے ڈرانے آئی تھیں؟
امل نے فوراً سر موڑ کر اُسے گھورا۔ آنکھوں میں خوف ضرور تھا… مگر اُس سے کہیں زیادہ نفرت۔
تمہیں نہیں معلوم، میں روز ایسے ہی خون کی کتنی ندیاں بہا دیتا ہوں۔
امل نے نفرت سے اُس کی طرف دیکھا۔
ہاں… درندوں سے اور کیا ہی اُمید کی جا سکتی ہے؟
ریپر کے لبوں پر ایک سرد سی مسکراہٹ ابھری۔
بالکل۔ وہ ذرا سا جھکا۔ لیکن ابھی تم یہ سوچو کہ یہ درندہ اب تمہارے ساتھ کیا کرے گا؟
امل نے پلک تک نہ جھپکی۔
جان سے مارنا ہے تو مار دیں۔
ریپر نے آہستہ سے سر ہلایا۔
پھر وہی بات… اُس کی آواز خطرناک حد تک مدھم تھی۔ تم مجھے اتنا بےوقوف کیوں سمجھتی ہو؟
امل نے کوئی جواب نہیں دیا۔
ریپر کی سیاہ آنکھیں اُس کے چہرے پر جم گئیں۔
تمہیں لگتا ہے میں تمہیں یا امن کو مار دوں گا؟
اُس کے لہجے میں عجیب سا طنز تھا۔
بھائی موت سے نہیں ڈرتے۔ اُس نے فوراً کہا۔
نہیں،… وہ اُس کے مزید قریب ہوا۔
میں اُس کی جان نہیں لوں گا…
امل کے دل میں انجانا سا خدشہ جاگا۔
ریپر کی آواز اب سرگوشی سے بھی دھیمی تھی۔
میں اُسے پل پل تڑپاؤں گا۔
امل کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔
وہ مزید کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اچانک اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
آہہہ… ایک تیز چیخ اُس کے لبوں سے نکلی۔
ریپر فوراً چونکا۔ اُس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔
کیا ہوا؟ امل کا چہرہ درد سے سکڑ گیا۔
میرا… پاؤں…
ریپر نے فوراً نیچے نظر دوڑائی۔
اور اگلے ہی لمحے اُس کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
جب اُس نے امل کو اپنی طرف کھینچا تھا تو فرش پر بکھرے شیشے کے نوکیلے ٹکڑے پر امل کا پاؤں سیدھا انہی ٹکڑوں پر آ پڑا تھا۔
اور اب… سفید فرش پر سرخ خون پھیل رہا تھا۔
بہت سا خون۔ صرف ایک چھوٹا سا کٹ نہیں تھا۔
شیشے کے کئی نوکیلے ٹکڑے اُس کے تلوے کو چیر چکے تھے۔ امل کا پورا پاؤں لہولہان ہو چکا تھا۔
خون کی باریک دھار اُس کی ایڑی سے ہوتی ہوئی فرش پر گر رہی تھی۔
ریپر کی نظریں جیسے ہی امل کے زخمی پاؤں پر پڑیں، اُس کی گرفت ایک لمحے کو ڈھیلی پڑ گئی۔
امل نے فوراً موقع غنیمت جانا اور جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔۔۔۔
آہ۔۔۔
وہ لڑکھڑاتی ہوئی نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔
اُس کے پاؤں کے نیچے فرش پر خون پھیل رہا تھا۔
شیشے کے کئی باریک اور نوکیلے ٹکڑے اُس کے تلوے میں دھنس چکے تھے۔ درد اتنا شدید تھا کہ اُس کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں۔
ریپر کے چہرے پر پہلی بار جھنجھلاہٹ کے ساتھ کچھ اور بھی ابھرا۔۔۔۔
اسی لمحے اُس نے پوری آواز میں چیخ کر کہا،
کیٹی! میڈیکل باکس لے کر آؤ۔۔۔۔
نیچے سے فوراََ آواز آئی۔ جی باس۔۔۔
مگر امل نے اُس کی طرف دیکھنے کے بجائے اچانک کچھ اور دیکھا۔ بیڈ پر پڑا فون۔ ریپر کا فون۔
اُس کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی۔
امن بھائی۔ پھر اُسے اپنا درد نظر نہیں آیا۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے درد کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ پوری طاقت سے کھڑی ہوئی۔
اور بنا اپنے درد کا پروا کیا وہ تیزی سے بیڈ کی طرف بھاگی، فون اٹھایا اور سیدھا واش روم کی طرف دوڑ گئی۔
امل۔۔۔۔ ریپر اُس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
دروازہ بند گیا۔۔۔ لاک۔ کلک۔ سب کچھ چند سیکنڈ میں ہوا۔ ریپر دروازے تک پہنچا تو اندر سے لاک لگنے کی آواز آ چکی تھی۔
واش روم کے فرش پر بیٹھی امل کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے۔
آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ اُس نے جلدی جلدی فون ان لاک کیا۔ شکر تھا فون لاک نہیں تھا۔
کانپتی انگلیوں سے اُس نے امن کا نمبر ملایا۔
امل کی سانس رکی ہوئی تھی۔
بھائی… لپلیز کال اٹھا لیں… رنگ جاری رہی۔
بھائی… پلیز… آنسو اُس کے گالوں پر بہتے جا رہے تھے۔ بس ایک بار…
اُدھر واش روم کے باہر ریپر چیخا۔۔۔۔
امل۔۔۔۔ اُس کی بھاری آواز دروازے کے پار گونجی۔
دروازہ کھولو۔
امل نے سنا ہی نہیں۔ یا شاید سن کر نظر انداز کر دیا۔ وہ مسلسل فون کان سے لگائے بیٹھی رہی۔
بھائی…
پھر اچانک۔ ریپر نے پوری طاقت سے دروازے پر لات ماری۔ دروازہ لرز گیا۔ امل خوف سے اچھل پڑی۔
مگر اُس نے کال نہیں کاٹی۔
امل! دروازہ کھولو۔۔۔۔
دوسری لات۔ اس بار دروازے کا فریم چرچرا اٹھا۔
امل کے ہاتھ مزید کانپنے لگے۔
بھائی… پلیز… اُس کی ہچکی بندھ گئی۔
کال اٹھا لیں…
اور پھر… فون کی دوسری طرف اچانک رنگ بند ہو گئی۔ امل کی سانس جیسے رک گئی۔ کال کنیکٹ ہو چکی تھی۔
ہیلو؟
امن کی آواز سنائی دی۔ امل کی آنکھوں سے آنسو ایک ساتھ بہہ نکلے۔
بھائی۔۔۔
اور اُسی لمحے باہر سے ایک اور زوردار دھماکہ ہوا۔
لگا جیسے دروازہ اب زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا۔۔۔۔
+++++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔
