بشر ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۱۵
سومن جیسے ہی ہان ووُ کے کمرے میں داخل ہوا، ہان ووُ الماری میں اپنے کپڑے ترتیب دے رہا تھا۔ دروازے کی آہٹ پر بھی اس نے مڑ کر نہ دیکھا۔
سومن نے اپنا بیگ اچھال کر اس کی طرف پھینکا۔
لے… میرے بھی ڈال دے۔
ہان وو کی نظر جیسے ہی سومن پر پڑی، اس کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
تو میرے روم میں کیوں آیا ہے…؟ ہاں؟؟
اس کی آواز غیر معمولی طور پر سخت تھی۔
سومین ایک لمحے کو چونکا، پھر بےپرواہی سے بولا،
کیا مطلب، کیوں آیا ہوں؟ میں تیرے ساتھ روم شیئر کروں گا۔
مجھے نہیں کرنا تمہارے ساتھ رُوم شیئر۔
کیوں؟؟؟
کہہ دیا نا، نہیں کرنا تو نہیں کرنا… نکل جا یہاں سے ابھی۔
سومین نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
کیا ہو گیا ہے تجھے؟ ہر بار تو، تو میرے ساتھ ہی روم شیئر کرتا تھا۔
اب سے نہیں کروں گا۔ ہان ووو کی آواز میں ایک عجیب سی حتمیت تھی۔
سومن کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ کیا پاگل ہو گیا ہے تُو…
سومن، نکل جا میرے کمرے سے۔ ہان وو کی آواز پہلے سے بلند ہو گئی۔
میں نہیں نکل رہا… جو کرنا ہے کر لے۔
میں بہت پیار سے تجھے کہہ رہا ہوں… نکل جا اس روم سے۔
نہیں نکل رہا۔
ہان ووو کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا۔ وہ غصے سے اس کے قریب آیا اور اس کا بازو پکڑ کر باہر کی طرف گھسیٹنے لگا۔
سومن نے مزاحمت کی، مگر پھر ایک ٹھہراؤ آ گیا اس کی آنکھوں میں۔
اچھا… اچھا… میں چلا جاتا ہوں، لیکن پہلے یہ تو بتا، تجھے ہوا کیا ہے؟
یہ سوال ایسے وقت پر آیا جیسے کسی نے اچانک اس کے جسم سے ساری طاقت کھینچ لی ہو۔ ہان وو نے اس کا بازو چھوڑ دیا، وہ چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔
اس کی نظریں سومین پر تھیں…
مگر جیسے وہ اسے دیکھ ہی نہیں رہا تھا۔
اس کے چہرے پر ایسا تاثر ابھرا…
جیسے ابھی ابھی کسی نے اسے اندر سے توڑ کر رکھ دیا ہو۔ یہ غصہ نہیں تھا… یہ کسی بہت گہرے صدمے کی جھلک تھی۔
تُو کبھی نہیں سمجھ سکتا مجھے۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ جیسے کسی صدمے تلے دبا، اپنے قدم پیچھے کھینچ گیا۔ الماری کی طرف واپس جا کھڑا ہوا اور خاموشی سے کپڑے ترتیب دینے لگا، جیسے ہاتھوں کی مصروفیت میں دل کی بےچینی چھپا رہا ہو۔
سومن کے چہرے پر بےیقینی کے سائے گہرے ہوئے۔
کیا میں نہیں سمجھ سکتا تجھے؟؟؟ تُو بولے گا تو سمجھوں گا نا۔۔۔
ہان ووُ نے بغیر مڑے جواب دیا،
میں بول بھی دوں تو بھی تُو سمجھ نہیں پائے گا۔۔۔
تُو کیا، کوئی بھی نہیں سمجھ پائے گا۔۔۔
سومن کی آنکھوں میں الجھن اور تھوڑی سی بے بسی امڈ آئی۔ تو سمجھا دے، نہیں سمجھ سکتا میں تو۔۔۔
ہان ووُ نے کپڑے تہہ کرتے ہاتھ روک لیے، اور مڑے بغیر ہی، ایک عجیب سی تلخی کے ساتھ بولا۔
دوستی میں بھی سمجھانا پڑے تو کیا دوستی وہ؟؟
سومن کے لہجے میں بےساختہ سا اعتماد ابھرا۔
تو مجھے دوست مانتا ہے۔۔۔؟
اس بات پر ہان ووُ کو جیسے دوبارہ آگ سی لگ گئی۔ وہ تیزی سے پلٹا،
نہیں! خالی پیلی کا تیرے ساتھ گھومتا تھا، کھاتا تھا، پیتا تھا، باتیں شیئر کرتا تھا، روم شیئر کرتا تھا۔۔۔؟؟ یہاں تک کہ تجھے وہ وہ بات بھی پتا ہے جو میں نے آج تک کسی کو نہیں بتائی۔۔۔
لیکن تُو نے، تُو نے بدلے میں کیا کیا؟؟؟
اتنا کہہ کر وہ یکدم رک گیا، جیسے اپنے ہی لفظوں کی گونج نے اسے چونکا دیا ہو۔
سومن نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے کیا کیا ہاں؟؟؟
صرف سوہان کے ساتھ روم شیئر کیا تھا میں نے، یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔۔۔ کہ تُو اتنا اوور ری ایکٹ کر رہا ہے۔۔۔
سومن جانتا تھا کہ یہ بات ہان ووُ کے لیے بہت بڑی بات ہے، مگر اُس نے جان بوجھ کر اُسے اور بھڑکانے کی کوشش کی وہ چاہتا تھا کہ غصے کی آگ میں جل کر ہان ووُ سب کچھ کہہ دے، وہ سب جو اس نے کبھی زبان پر نہیں لایا۔
تُو ایک نمبر کا خودغرض انسان ہے۔۔۔ بس یہی چاہتا ہے کہ سب تجھے سمجھیں، مگر تُو کسی کو نہیں سمجھتا۔۔۔
میں نہیں سمجھتا ہوں تجھے؟؟؟ ہاں۔۔۔؟؟!!
میں نے ہمیشہ تجھے سب کے اوپر رکھا، ہر وقت تیرا ساتھ دیا۔۔۔ کوریا میں تو تُو کبھی میری طرف دیکھتا تک نہیں تھا، کبھی تُو نے یہ بات نوٹس ہی نہیں کی تھی۔۔۔ کبھی کچھ محسوس نہیں کیا۔۔
وہ ایک لمحہ رکا، پھر بمشکل اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے بولا،
یہاں آ کر…
پہلی بار مجھے لگا کہ شاید…
شاید تُو بھی میری طرف ویسے ہی دیکھنے لگا ہے جیسے میں تجھے دیکھتا ہوں۔
پِھر مجھے تیری طرف سے کچھ محسوس ہوا تو پھر تُو نے کیا کیا؟؟؟
سومن ایک لمحے کو ٹھٹکا۔
کیا کیا؟؟ کچھ بھی تو نہیں کیا۔۔۔
ہان ووُ کی آواز میں ایک عجیب سی چبھن اتر آئی۔
یو چوز اوور می۔
سومن نے تیزی سے جواب دیا، جیسے صفائی دینا چاہتا ہو۔ ابے میں نے سوہان کو تیرے اوپر چوائس نہیں کیا۔۔۔
جانتا ہوں میں۔۔۔ لیکن کاش تُو اسے میرے اوپر چوائس کرتا۔۔۔
کیا؟؟ سومن نے حیرانی سے پوچھا۔
جب تُو نے سوہان کے ساتھ روم شیئر کرنے کی بات کی تھی، تو مجھے یہی لگا کہ شاید تُو ان دونوں کی لڑائی کی وجہ سے، یا ہیوک کی مدد کے لیے سوہان کے ساتھ رہنے کا کہہ رہا ہے۔۔۔
ہاں، اسی لیے تو کہا تھا۔۔۔ سومن نے فوراً تصدیق کی۔
جھوٹ مت بول۔۔۔ تُو نے قرآن پڑھنے کے لیے۔۔۔ ایسا کیا تھا۔۔۔
یہ سنتے ہی سومن کے کان جیسے سائیں سائیں کرنے لگے۔ چہرے کا رنگ یکدم اڑ گیا،
اگر تُو میرے ساتھ رہتا تو میں تجھے قرآن پڑھنے نہیں دیتا نا۔۔۔
اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا،
کیونکہ پھر تجھے میرے سوالوں کے جواب دینے پڑتے۔
اور پھر تجھے لگتا ہے میں بائبل پڑھتا ہوں تو میں غلط راستے پر ہوں، اور کہیں میں تجھے بھی اپنے ساتھ غلط راستے پر نہ لے جاؤں… یا میں تجھے قرآن پڑھنے ہی نہ دوں۔۔۔
سومین نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… ایسی بات نہیں ہے۔
کیا ایک کتاب؟؟
صِرف ایک کتاب۔۔۔
مجھ سے زیادہ اہم ہوگئی؟؟ کہ اسے پڑھنے کے لیے تُو نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔ آج تک تُو نے مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔۔۔
تُو نے مجھ سے زیادہ اُس کتاب کو ترجیح دی۔۔۔
سومن نے گھبرا کر ایک قدم آگے بڑھایا۔
نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔ میں تجھے پوری بات بتاتا ہوں۔۔۔
ہان ووُ نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا،
اب بتانے کا فائدہ نہیں ہے۔۔۔ ایسا تھا بھی تو تُو پہلے مجھے بتا دیتا۔۔۔
اور اگر میں منع کرتا، تو تُو مجھے مانا بھی سکتا تھا۔۔۔ اب ظاہر ہے، تُو اگر غلط راستے پر چلے گا تو ایک دوست ہونے کے ناطے میں تجھے سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کروں گا ہی۔۔۔
دنیا کے سامنے میں نے تجھے ڈیفینڈ بھی کیا تھا، بھائی سے بچایا بھی تھا۔۔۔ اکیلے میں تو میں تجھے سمجھا سکتا تھا نا؟؟
اس کی آواز میں یکدم ایک کاٹ سی اتر آئی۔
یا میری فضول کی انویسٹیگیشن سے تنگ آگیا تھا تُو۔۔۔؟؟
سومن نے تیزی سے سر ہلایا، جیسے یہ الزام برداشت نہ ہو سکا ہو۔
نہیں۔۔۔
ہان ووُ نے مزید کچھ نہ کہا۔ بس ایک آخری نظر سومن پر ڈالی اور خاموشی سے دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔
سومن نے پیچھے سے پکارا، آواز میں التجا سی گھل گئی۔
مجھے ایک دفعہ صفائی کا موقع تو دے۔۔۔
ہان ووُ دروازے پر رک گیا، مگر مڑا نہیں۔
میں دے دیتا۔۔۔ لیکن اب میں سمجھ گیا ہوں کہ تُو مجھے کبھی نہیں سمجھا سکتا۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ نکل گیا۔ سومن وہیں کھڑا رہ گیا، جیسے کسی جھٹکے نے اس کے قدم زمین سے جوڑ دیے ہوں۔ باہر کی خاموشی میں بھی اسے ہان ووُ کے قدموں کی آہٹ صاف سنائی دے رہی تھی، دور جاتی ہوئی، ہمیشہ کے لیے دور جاتی ہوئی۔
+++++++++++++
رُوم سے نکلتے ہی ہان ووُ تیز قدموں سے کوریڈور میں چلتا ہوا لفٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔
اس کے چہرے پر اب بھی غصہ صاف جھلک رہا تھا۔
ہوٹل کی خاموش راہداری میں صرف اس کے قدموں کی آواز گونج رہی تھی…
مگر یہ خاموشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
اسی لمحے سامنے والے کمرے کا دروازہ کھلا۔
بھاگووووو…!
ایک لڑکی پوری رفتار سے باہر نکلی۔
اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تکیہ تھا اور پیچھے تقریباً سات آٹھ سال کا ایک بچہ اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
آپی… میرا پلو واپس کرو…!!
پہلے پکڑ کے دکھا… پھر دوں گی۔۔۔
وہ قہقہہ لگاتے ہوئے کوریڈور میں دوڑ رہی تھی۔
ہان ووُ کچھ سمجھ پاتا، اس سے پہلے ہی…
دھپ!
لڑکی سیدھی آ کر اس سے ٹکرا گئی۔
اس کے ہاتھ سے تکیہ نیچے گر گیا۔
وہ خود بھی لڑکھڑا گئی۔
اوہ ہوووو…
گرنے ہی والی تھی کہ ہان ووُ نے بےاختیار اس کی کلائی پکڑ لی۔
چند لمحوں کے لیے دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔
لڑکی نے پلکیں جھپکائیں…
پھر اچانک مسکرا دی۔
اووو…
Thank you, Mr. Wall.
ہان ووُ نے بھنویں سکیڑیں۔
وائٹ؟
آپ دیوار کی طرح کھڑے تھے نا…۔میں ٹکرا گئی… اس لیے Mr. Wall.
اتنا کہہ کر وہ خود ہی ہنس پڑی۔
ہان ووُ نے بےتاثری سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور آگے بڑھنے لگا۔۔۔
اُسے صرف “Mr. Wall” کے الفاظ ہی سمجھ آئے تھے۔ اس کے علاوہ لڑکی نے جو کچھ بھی کہا تھا، سب اردو میں تھا… اور اردو کا ایک لفظ بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
ارے… سنیں تو۔۔۔ میں نے آپ کو تھنک یو بولا ۔۔
لڑکی نے پیچھے سے آواز دی۔
مگر ہان ووُ ایک لمحے کے لیے بھی نہ رکا۔
اُسے اس سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ وہ لڑکی اردو میں کیا کہہ رہی ہے۔ نہ ہی اُسے اُس کی بات سمجھنے کی کوئی ضرورت محسوس ہوئی۔
لڑکی نے جھک کر اپنا تکیہ اٹھایا، پھر منہ پھلا کر بڑبڑائی۔
ہائے اللہ… یہ بندہ ہے یا اسٹچو؟
اتنے میں وہی بچہ ہانپتا ہوا اس کے پاس آ پہنچا۔
آپی! میرا پلو۔۔۔
لے… پکڑ۔۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے تکیہ بچے کے منہ پر رکھ دیا اور خود دوبارہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔
ادھر ہان ووُ لفٹ میں داخل ہو چکا تھا۔
لفٹ کے دروازے بند ہونے سے چند لمحے پہلے…
اس کے کانوں میں ایک بار پھر اُس لڑکی کی بےفکر، شوخ ہنسی گونجی۔
ہان ووُ نے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں بند کیں، مگر اگلے ہی پل جیسے خود کو جھٹک دیا۔
فضول… اس نے آہستہ سے بڑبڑایا۔
لفٹ کا دروازہ بند ہوا… اور وہ نیچے چلا گیا۔
+++++++++++
ہان ووُ جیسے ہی ہوٹل سے باہر نکلنے لگا، اچانک مینیجر کی بات اس کے ذہن میں گونج اٹھی۔
اگر کہیں واک پر جائیں تو گارڈ کو ساتھ ضرور لے کر جائیں۔
وہ دروازے کے قریب رک گیا۔
چند لمحے خاموش کھڑا سوچتا رہا۔
ساتھ لے ہی جاتا ہوں… ویسے بھی وہ پیچھے پیچھے ہی چلے گا۔ مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔۔۔
فیصلہ کرتے ہی وہ واپس مڑا اور دوبارہ لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔
لفٹ خاموشی سے اوپر جا کر رکی۔۔دروازہ کھلا تو وہ باہر نکل آیا۔
فلور پہلے کی طرح تقریباً سنسان تھا۔
مگر…
اگلے ہی لمحے اس کی نظر ایک مانوس وجود پر جا ٹھہری۔
وہی لڑکی…
جس سے چند لمحے پہلے اس کی ٹکر ہوئی تھی۔
وہ ایک کمرے کے باہر کھڑی تھی۔
ہان ووُ کی نظر اس پر ٹھہری۔
اس نے ہلکے بیج رنگ کا خوبصورت سا سوٹ پہن رکھا تھا۔ فراک اسٹائل قمیض پر بھورے رنگ کے ننھے ننھے پھول بنے تھے، جن ساتھ اسی رنگ کا ڈھیلا پلّازو، کندھے پر براؤن شیفون کا دوپٹہ، اور پاؤں میں سفید اسپورٹس شوز تھے۔
اس کے گھنے، چھوٹے بال آدھے کلپ میں بندھے تھے جبکہ باقی کمر تک بکھرے ہوئے تھے۔
ہان ووُ نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔
وہ غیر معمولی حسن کی مالک نہیں تھی۔
رنگ ہلکا سانولا تھا، چہرہ بالکل سادہ، مگر اس سادگی میں ایک عجیب سی اپنائیت تھی… ایسی جو دیکھنے والے کو بنا کسی وجہ کے مانوس محسوس ہو۔
اسی دوران اس نے دیکھا کہ لڑکی بار بار دروازے بجا رہی تھی۔
ایک بار… پھر دوسری بار… پھر تیسری بار۔
مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔
آخرکار اس نے ایک لمبی سانس بھری، دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑانے لگی۔
ہان ووُ نے چند لمحے اسے دیکھا۔
وہ مسلسل کچھ بول رہی تھی…
مگر ظاہر تھا، سب اردو میں۔
اور اردو… ہان ووُ کو کہاں آتی تھی۔۔۔
اس کے دل نے بھی کہا… اور دماغ نے بھی… نظر انداز کرو… اور نکل جاؤ۔ مگر نہ جانے کیوں…
وہ آگے مینیجر کی روم کی طرف بڑھ اور لڑکی تک پہنچتے ہی ہان ووُ کے قدم خودبخود رک گئے۔
چند لمحے وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، پھر مختصراً بولا،
What happened?
(کیا ہوا؟)
لڑکی نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
کچھ نہیں… وہ ایان دروازہ نہیں کھول رہا۔ میں نے اُسے سونے نہیں دیا تھا نا… تو اُس نے اندر سے کمرہ لاک کر دیا۔
ہان ووُ نے پلکیں جھپکائیں۔
I don’t know Urdu… please tell me in English.
مجھے اردو نہیں آتی، پلیز انگریزی میں بات کریں۔۔
لڑکی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
آپ کو اردو نہیں آتی؟
اس نے ایسے ردِعمل دیا جیسے دنیا کی سب سے عجیب بات سن لی ہو۔
ہان ووُ نے ہلکی سی بےبسی سے کہا،
Please… tell me in English.
(پلیز… انگریزی میں۔)
لڑکی نے فوراً جواب دیا،
You don’t know Urdu… I don’t know English.
(آپ کو اردو نہیں آتی… اور مجھے انگریزی نہیں آتی۔)
اب حیران ہونے کی باری ہان ووُ کی تھی۔
You don’t know English?
( آپ کو انگریزی نہیں آتی۔۔۔؟؟ )
لڑکی نے تیزی سے نفی میں سر ہلا دیا۔
ہان ووُ نے چند لمحے سوچا، پھر بولا،
Okay… okay… you tell me by signs.
اور ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا،
( کیا روم لاک ہوگیا۔۔؟؟ )
لڑکی نے حیرانی سے اُس کا چہرہ دیکھا
آپ… میرا اشارہ سمجھ جائیں گے؟
سوال کے آخر میں اس کی ایک بھنو خودبخود اوپر اٹھ گئی۔
ہاں وو نے پِھر سر ہلایا
( ہاں سمجھ تو نہیں سکتا۔۔۔آپ ایسا کریں فون میں ٹرانسلیٹ کرلیں۔۔۔)
اس نے فوراً جیب سے موبائل نکالا، ٹرانسلیشن ایپ کھولی اور فون اس کی طرف بڑھا دیا۔
لڑکی نے فون ہاتھ میں لیا، جلدی جلدی اردو میں ٹائپ کیا۔
ہان ووُ نے اسکرین پر ترجمہ پڑھا۔
( ایان نے اندر سے کمرہ لاک کر لیا، کیونکہ میں نے اس کی نیند خراب کر دی تھی۔)
ہان ووُ نے ہلکا سا سر ہلایا۔
Oh…
( اوہ)
پھر اس نے فون پر ہی لکھا،
Then why were you teasing him?
( پھر آپ اُسے چھیڑ ہی کیوں رہی تھیں؟)
لڑکی نے پڑھتے ہی مسکرا کر دوبارہ لکھا۔
Because teasing him is my favorite hobby.
(کیونکہ اُسے تنگ کرنا میرا فیورٹ شوق ہے۔)
ہان ووُ بےاختیار چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
لڑکی نے پھر لکھا۔
(آپ فکر نہ کریں۔ جب عنایہ اٹھ جائے گی تو وہ دروازہ کھول دے گی، کیونکہ ایان تو اب دروازہ کھولنے والا نہیں…)
ہان ووُ نے دوبارہ لکھا۔
They are your siblings?
یہ دونوں آپ کے بھائی بہن ہیں۔۔؟؟
لڑکی نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔
ہان ووُ نے پھر پوچھا۔
So… until then?
تو… تب تک؟
لڑکی نے کندھے اچکا دیے۔
پھر فون پر لکھا۔۔
I will wait.
( میں انتظار کرونگی۔۔۔)
یہ لکھنے کے بعد اس نے ایسے کندھے اچکائے جیسے کہہ رہی ہو، اور میرے پاس ویسے بھی کوئی خاص کام نہیں۔
پھر دیوار سے ٹیک لگا کر آرام سے کھڑی ہو گئی۔
ہان ووُ نے اگلا سوال کیا۔
What will you do here until then?
( تب تک آپ یہاں کھڑی کیا کرے گی۔۔؟؟ )
لڑکی نے چند سیکنڈ سوچا…
پھر لکھا۔
Nothing. Time pass.
( کچھ نہیں۔۔ ٹائم پاس کرونگی۔۔۔)
ہان ووُ نے ایک نظر بند دروازے پر ڈالی۔
پھر فون پر لکھا۔
( آئیں… میں ریسپشن سے اس کمرے کی ڈپلیکیٹ چابی لے دیتا ہوں۔ )
لڑکی نے فوراً نفی میں سر ہلا دیا۔
ہان ووُ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
( کیوں۔۔۔؟؟)
لڑکی نے پھر انکار میں سر ہلایا۔
ہان ووُ نے اسکرین پڑھی، پھر اس کی طرف دیکھا۔
لیکن کب تک؟ آپ یہاں ایسے کھڑے رہیں گی۔۔۔
نجانے کیوں، ایک لمحے کے لیے اسے اُس لڑکی کی فکر ہوئی۔
اس نے دوبارہ فون پر ٹائپ کیا۔
میں واک پر جا رہا ہوں… آپ بھی چلیں۔ آپ کا وقت بھی گزر جائے گا، تب تک شاید دروازہ بھی کھل جائے۔
لڑکی نے پڑھتے ہی آنکھیں پھیلا دیں۔
ہائیں؟!
اس کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا، جیسے ہان ووُ نے دنیا کی سب سے عجیب بات کہہ دی ہو۔
ہان ووُ نے الجھن سے اسے دیکھا۔
کیا ہوا؟
لڑکی نے جلدی سے فون پر لکھا۔
آپ ایک اکیلی لڑکی کو اپنے ساتھ چلنے کا کہہ رہے ہیں؟
ہان ووُ نے دونوں ہاتھ ہلکے سے پھیلا دیے، جیسے کہہ رہا ہو۔ ( تو اس میں ایسی کون سی بڑی بات ہے؟ )
لڑکی نے پیشانی پر ہاتھ مارا۔
افف… ایک یہ باہر کے ملکوں کے لڑکے بھی نا…
ہان ووُ نے اسکرین پڑھ کر پوچھا۔
باہر کے ملکوں کے لڑکے کیا؟
لڑکی نے ایک لمحہ اسے دیکھا، پھر فوراً بات بدل دی۔
کچھ نہیں… بہت اچھے ہوتے ہیں۔
ساتھ ہی اس نے ایک بڑی سی نقلی مسکراہٹ بھی چہرے پر سجا لی۔
ہان ووُ چند لمحے خاموش اسے دیکھتا رہا۔
اس کی وہ بناوٹی مسکراہٹ… اور ہر بات پر ضرورت سے زیادہ حیران ہونے کا انداز…
بےاختیار اُس کے ہونٹوں کے کنارے ذرا سے ہلے، مگر اگلے ہی لمحے اُس نے اپنا چہرہ پھر سے سپاٹ کر لیا۔
وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ ابھی ابھی اسے کیا محسوس ہوا تھا۔ شاید کچھ بھی نہیں۔ یا شاید… بہت معمولی سا کچھ۔۔۔۔
ہان ووُ نے ایک لمحہ اُسے دیکھا، پھر ہاتھ سے چلنے کا اشارہ کیا۔
پھر… چلیں؟
لڑکی نے فوراً نفی میں سر ہلا دیا۔
ہان ووُ نے ہلکی سی سانس بھری۔
اچھا… تو میں یہیں آپ کو کمپنی دے دیتا ہوں۔ آخر کب تک اکیلی یہاں کھڑی رہیں گی؟
اتنا کہہ کر وہ اُس کے برابر دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہونے لگا۔
مگر اچانک…
لڑکی ہڑبڑا کر دو قدم آگے اچھل گئی۔
ہان ووُ نے چونک کر اُسے دیکھا۔
کیا ہوا؟
لڑکی نے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا۔
ایک منٹ…
پھر جلدی جلدی فون پر کچھ ٹائپ کیا اور اس کی طرف اسکرین کر دی۔
آپ اُدھر بھی تو کھڑے ہو سکتے تھے…
ساتھ ہی اُس نے سامنے والی دیوار کی طرف اشارہ کیا۔
ہان ووُ نے اُس طرف دیکھا، پھر دوبارہ لڑکی کی طرف۔
اُدھر۔۔۔؟؟
لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہان ووُ نے بےبسی سے ماتھا مسلا۔
اُفف… اِدھر کیا مسئلہ ہے؟
لڑکی نے کچھ نہ کہا، صرف دوبارہ سامنے والی دیوار کی طرف اشارہ کر دیا۔
ہان ووُ نے ایک لمحہ اُسے گھورا…
پھر ہار مانتے ہوئے چل کر بالکل سامنے والی دیوار سے ٹیک لگا لی۔
اب منظر کچھ یوں تھا کہ دروازے کے ایک طرف لڑکی کھڑی تھی…
اور اُس کے عین سامنے دوسری دیوار کے ساتھ ہان ووُ۔
لڑکی نے اُسے دیکھا…
پھر ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کی۔
ہان ووُ نے بھنویں چڑھائیں۔
اب؟ خوش؟
لڑکی نے انگوٹھا اوپر کر دیا۔
پھر ٹوٹی پھوٹی انگلش میں بولی۔
اوکے… یو گو۔
اس کے بعد اُن دونوں کی ساری گفتگو اسی طرح چلنے لگی۔ ہان ووُ انگریزی میں بات کرتا، جو لڑکی آسانی سے سمجھ لیتی تھی۔ البتہ جواب دیتے وقت وہ فون پر اردو کا انگریزی ترجمہ دیکھتی، پھر وہی انگریزی الفاظ ہان ووُ سے کہہ دیتی۔ یعنی اُسے ہان ووُ کی بات سمجھنے کے لیے نہیں، صرف اپنی بات انگریزی میں کہنے کے لیے فون کا سہارا لینا پڑتا تھا۔
ہان ووُ نے حیرانی سے پوچھا۔
کیوں؟
لڑکی نے فون پر ٹائپ کیا پِھر انگریزی میں بولی۔۔۔
میں کسی اجنبی کی کمپنی کیوں لوں؟
ہان ووُ نے چند لمحے اُسے دیکھا۔۔۔ اُس کے چہرے کے ساتھ ساتھ اُس کی کیوٹ سی انگیزی۔۔۔
پھر ہلکا سا مسکرایا۔
اچھا… پھر جان پہچان کروا لیتے ہیں۔
اس نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔
میں کِم ہان ووُ… کوریا سے پاکستان گھومنے آیا ہوں۔
پھر اُس کی طرف دیکھا۔
اور آپ؟
لڑکی کی آنکھیں پہلے گول ہوئیں…
ہیں؟؟؟ ہیں۔۔؟؟
اس نے پلکیں تیزی سے جھپکائیں، پھر ہونٹوں کو گول کرتے ہوئے حیرت سے اُسے دیکھنے لگی، جیسے یقین ہی نہ آ رہا ہو۔
تمہیں بس یہی کرنا آتا ہے؟ ہان وو نے انگریزی میں کہا
لڑکی نے فوراً دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے۔ آنکھیں سکیڑ کر ہونٹ پھلا لیے۔
کیا؟
یہیں۔۔۔ فیک ایکٹنگ کرنا۔۔۔
لڑکی نے فوراً احتجاج کیا۔
یہ فیک نہیں ہے… نیچرل ہے۔۔۔
اچھا؟
پھر فخر سے ٹھوڑی ذرا اوپر اٹھائی،
اور ایک بات…
یہ ایکٹنگ نہیں ہے… یہ میرا ٹیلنٹ ہے۔
یہ کہہ کر اس نے ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے۔
پھر بھنویں اچکا کر ایسے دیکھنے لگی جیسے اب تعریف کرنا تو بنتا ہے۔
یہ عجیب غریب سا منہ بنانا…؟؟
لڑکی نے فوراً انگلی اُس کی طرف اٹھا دی۔
زیادہ ہو رہا ہے اب آپ کا…
ہان ووُ نے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔
اچھا۔۔۔ نام تو بتاؤ۔۔
لڑکی نے شرارتی انداز میں آنکھیں سکیڑیں۔
کون سا نام بتاؤں؟ میرے تو بہت سارے نام ہیں۔
بہت سارے؟ ہان ووُ کو اچانک کچھ یاد آیا۔
ویسے… اُس وقت تم نے مجھے کیا کہا تھا؟
مسٹر وال۔
لڑکی نے پلکیں جھپکائیں۔
کیا؟
مسٹر وال…یہ کیوں کہا تھا۔۔۔؟؟
لڑکی فوراً ہنس پڑی۔
ہاں تو… کیونکہ آپ بالکل دیوار بن کر کھڑے تھے۔
ایسے۔۔۔۔
یہ کہہ کر اُس نے خود دونوں ہاتھ سیدھے رکھ کر گردن اکڑا لی اور بالکل ساکت کھڑی ہو گئی، جیسے واقعی کوئی دیوار ہو۔
پھر ہان ووُ کی طرح بےتاثر چہرہ بنایا۔۔۔
۔🙂…
اگلے ہی لمحے وہ اپنی ہی ادا پر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
اس لیے مسٹر وال۔۔۔
ہان ووُ چند لمحے خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
وہ لڑکی خوبصورت تو نہیں تھی… مگر اُس کی زندہ دلی، ہر لمحہ بدلتے ہوئے تاثرات اور بچوں جیسی بےساختہ حرکتیں۔۔ ہان وو کو نہ جانے کیوں بہت اچھے لگ رہے تھے۔۔۔
اچھا۔۔۔
اس نے چند لمحے سوچا، پھر بولا،
تو پھر… میں بھی تمہارا ایک نام رکھ دیتا ہوں۔
لڑکی کی آنکھیں فوراً چمک اٹھیں۔
میرا۔۔۔؟
اس نے فوراً اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لیے، جیسے یہ سننے کے لیے پوری طرح تیار ہو۔
ہان ووُ نے اسے سر سے پاؤں تک ایک نظر دیکھا۔
سادہ سا چہرہ…۔ہر دو منٹ بعد بدلتے ہوئے ایکسپریشن… اور بےتحاشا باتیں… پھر بالکل سنجیدگی سے بولا،
مس کارٹون۔
لڑکی دو سیکنڈ تک پلکیں جھپکائے اسے خالی خالی دیکھتی رہی۔
ہین۔۔۔؟؟ بین۔۔۔
ہان ووُ نے پہلے کی طرح سنجیدہ لہجے میں دہرایا،
ہاں… مس کارٹون۔
کیونکہ تم ہر دو سیکنڈ بعد عجیب عجیب سی کارٹونوں والی شکلیں بناتی ہو۔۔۔
ایک لمحے کو لڑکی کا منہ واقعی حیرت سے کھل گیا۔
پھر اس نے فوراً دونوں ہاتھ گالوں پر رکھ لیے۔
میں…آپ کو کارٹون لگتی ہوں؟!
ہان ووُ نے پوری سنجیدگی سے سر ہلا دیا۔
ہاں۔
بہت۔
لڑکی نے آنکھیں گھما دیں۔
مجھے نہیں پسند۔ میں نے آپ کو مسٹر وال بنایا تھا، کتنا اچھا نام تھا۔ اور آپ نے…
ہاں وو اُسے انگریزی میں جواب دے رہا تھا جب کہ وہ فون میں ٹرانسلیشن کر کے ہر دو سیکنڈ بعد اُسے انگلش میں جواب دے رہی تھی۔۔۔
اس نے ناراضی سے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے۔
مس کارٹون۔۔۔۔
ہان ووُ اس کے بدلے ہوئے چہرے کو دیکھتا رہا، پھر بےاختیار ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ نجانے کیوں… یہ لڑکی ایسی تھی کہ خود بھی ہر بات پر ہنس دیتی تھی اور سامنے والے کے چہرے پر بھی بےاختیار مسکراہٹ لے آتی تھی۔ اس کی شوخ حرکتوں میں کوئی بناوٹ نہیں تھی، بس ایک بےفکری تھی… ہر چیز سے بےنیاز۔۔ شاید اسی لیے… ہان ووُ کے ہونٹوں پر بھی ایک مدھم سی مسکراہٹ آ گئی۔
دیکھا؟
ابھی بھی ایک سیکنڈ میں دو نئے چہرے بنا لیے۔
اسی لیے…
مس کارٹون۔
لڑکی نے فوراً احتجاج کیا۔
نہیں۔
میں کارٹون نہیں ہوں۔۔۔
یہ کہتے ہی اس نے جان بوجھ کر اپنا چہرہ بالکل سنجیدہ بنانے کی کوشش کی۔
دو سیکنڈ… تین سیکنڈ… پانچ سیکنڈ…
پھر اچانک خود ہی ہنس پڑی۔
اوہ… رہنے دیں…مجھ سے نہیں ہوتا۔
ہان ووُ نے بےاختیار سر ہلایا۔
Exactly.
بالکل اسی لیے… تم مس کارٹون ہو۔
وہ لڑکی ابھی کچھ اور کہنے ہی والی تھی کہ اچانک…
کمرے کا دروازہ کھل گیا۔
دونوں کی نظریں ایک ساتھ دروازے کی طرف اٹھیں۔
اندر سے تقریباً بارہ تیرہ سال کی ایک لڑکی نیند بھری آنکھیں ملتی ہوئی باہر آئی۔
آ جائیں اندر… آپی…
لڑکی نے فوراً لمبی سانس لی۔
شکر ہے… ورنہ میں تو یہاں کھڑی کھڑی مر ہی جاتی۔
یہ کہہ کر وہ خود ہی ہنس دی۔
ہان ووُ نے پہلے چھوٹی لڑکی کو دیکھا، پھر اُس کی بہن کی طرف۔
دونوں بہنوں نے آپس میں اردو میں کچھ کہا، مگر ہان ووُ ہمیشہ کی طرح ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکا۔
اگلے ہی لمحے لڑکی نے دوبارہ اپنا فون اس کی طرف بڑھا دیا۔ اور بولی۔۔۔
Thank you for your faltu company.
اس نے جان بوجھ کر فالتو اُردو میں کہا۔۔۔
اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ اردو کا لفظ ہان ووُ نہیں سمجھے گا۔
بائے۔۔۔ بائے بائے۔۔۔۔
ہان ووُ نے بھنویں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
فالتو…؟
اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی لڑکی مسکراتے ہوئے اندر جانے کے لیے مڑی۔
اتنے میں چھوٹی لڑکی نے انگریزی میں ہان ووُ سے کہا،
She was praising you.
(وہ آپ کی تعریف کر رہی تھیں۔)
ہان ووُ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
You know English?
چھوٹی لڑکی نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔
Yes.
ہان ووُ نے ہلکا سا سکون کا سانس لیا۔
Good…
پھر اس نے پوچھا،
Who is she?
چھوٹی لڑکی نے فوراً جواب دیا،
My name is Anaya Faheem…
پھر اندر جاتی لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔
And she is my sister… Ansha.
ہان ووُ نے آہستہ سے نام دہرایا۔
انشا۔۔۔۔
پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
I’m Kim Han Woo.
I came from Korea…
عنایہ نے تجسس سے پوچھا،
Why were you talking to my sister?
( آپ میری بہن سے کیا بات کر رہے تھے۔۔۔؟؟ )
ہان ووُ جواب دینے ہی والا تھا کہ…
پیچھے سے انشا دوبارہ باہر آگئی۔
اس نے دونوں کو ایک ساتھ کھڑا دیکھا، پھر سیدھا ہان ووُ کی طرف دیکھ کر بولی،
آپ کو واک پر نہیں جانا؟ اس نے انگریزی میں کہا
ہان ووُ نے مختصر سا جواب دیا،
جانا ہے۔
تو جائیں پھر۔
اس کے لہجے میں ہلکی سی جلدی تھی۔
ہان ووُ کو نہ جانے کیوں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ نہیں چاہتی کہ وہ عنایہ سے زیادہ بات کرے۔
اس نے مزید کچھ نہ کہا۔
بس ہلکا سا سر ہلایا۔
اوکے…
Take care.
پھر عنایہ کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔
Bye, little girl.
عنایہ نے بھی ہاتھ ہلا دیا۔
Bye.
ہان ووُ لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔
وہ نظروں سے اوجھل ہوا تو عنایہ فوراً اپنی بہن کی طرف مڑی۔
آپی… یہ کون تھے؟
ارے کوئی نہیں… بیچارے کو اپنا روم نہیں مل رہا تھا۔ میں نے کہا، ریسپشن پر جا کر پوچھ لیں۔
پھر اس نے عنایہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اب اندر آؤ…
فضول لوگوں پر اتنا وقت ضائع نہیں کرتے۔
عنایہ نے مشکوک نظروں سے اپنی بہن کو دیکھا۔
سچ؟
انشا نے فوراً نظریں چرا لیں۔
ہاں ہاں…
اب زیادہ سی آئی ڈی مت بنو، اندر چلو۔
یہ کہہ کر وہ خود بھی ہنستی ہوئی کمرے کے اندر داخل ہوگئی،
++++++++++++++
رات تو سب کی آرام کرتے کرتے گزر گئی۔
اگلی صبح…
ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں سب ناشتے کی میز پر جمع تھے۔
ہر طرف ہلکی ہلکی گفتگو اور برتنوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
سومن ایک نظر چوری چوری ہان ووُ کو دیکھ لیتا، مگر ہان ووُ خاموشی سے اپنا ناشتہ کرنے میں مصروف تھا۔
اسی دوران رین یون ذرا سا جھک کر سومن کے کان کے قریب آیا اور آہستہ سے سرگوشی کی،
پتا چلا…؟
سومن نے خاموشی سے نفی میں سر ہلا دیا۔
رین یون نے معنی خیز انداز میں مسکرا کر کہا،
کوشش کرتے رہو…
پتا چل ہی جائے گا۔
سومن نے گہری سانس لے کر دوبارہ ہان ووُ کی طرف دیکھا، مگر اس نے نظریں بھی نہ اٹھائیں۔
اتنے میں سوہان نے جوش سے کہا،
آج سب سے پہلے سی سائیڈ چلتے ہیں….
منیجر نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
جی، بالکل۔
پہلے سی سائیڈ جائیں گے، پھر وہاں سے باقی جگہوں کا پلان کریں گے۔
سب نے رضامندی ظاہر کی۔
ناشتہ ختم ہوتے ہی سب اپنے اپنے کمروں کی طرف روانہ ہوگئے تاکہ تیار ہو سکیں۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی چند لمحوں تک خاموشی چھائی رہی۔
ہان ووُ اپنا بیگ کھول کر ضروری سامان رکھنے لگا۔
سومن کئی لمحے اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔
آخرکار اس سے رہا نہ گیا۔
سوری یار…
معاف کر دے…
کم از کم میری بات تو سن لے۔
ہان ووُ نے کپڑے بیگ میں رکھتے ہوئے بغیر اس کی طرف دیکھے کہا،
جلدی تیار ہونے پر دھیان دو…
ورنہ ابھی سوہان آ جائے گا ہمارے سر پر۔
سومن نے بےبسی سے کہا
تو بات ہی نہیں کرے گا… تو سب ٹھیک کیسے ہوگا؟
ہان ووُ پہلی بار رکا۔
چند لمحے خاموش رہا… پھر آہستہ سے بولا،
بات تو کر رہا ہوں۔
سومن نے تلخی سے کہا،
دل میں گِلہ رکھ کر…
ہان ووُ نے بیگ بند کیا۔
پھر پہلی بار اس کی طرف دیکھ کر نہایت پرسکون لہجے میں بولا،
کچھ دنوں میں…
یہ گِلہ بھی ختم ہو جائے گا۔
پھر سب نارمل ہو جائے گا۔
سومن کی آنکھوں میں امید سی جاگی۔
پہلے جیسا…؟
ہان ووُ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
ہاں…
سب پہلے جیسا ہو جائے گا۔
یہ کہہ کر اس نے اپنا بیگ کندھے پر ڈالا، دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔
++++++++++++
ہان ووُ دروازہ بند کرکے کوریڈور میں آ گیا۔
اس کے قدم آہستہ آہستہ لفٹ کی طرف بڑھ رہے تھے، مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔
پہلے جیسا…
یہ دو لفظ بار بار اس کے ذہن میں گونج رہے تھے۔
پہلے جیسا…
جہاں میری ہر پہلی ترجیح سومن تھا…
اور میں… اُس کی پہلی ترجیح کبھی تھا ہی نہیں۔
وہ لفٹ کے سامنے آ کر رک گیا۔
چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔
اسے سومن سے کوئی شکایت نہیں تھی کہ اُس نے قرآن کو ترجیح دی۔
شکایت تو صرف ایک بات کی تھی…
کہ اگر میں واقعی اُس کی زندگی میں اتنی اہمیت رکھتا…
تو شاید وہ ایک بار مجھے سمجھانے کی کوشش ضرور کرتا۔
ایک بار مجھ پر اعتماد ضرور کرتا۔
میں مانتا یا نہ مانتا…
وہ الگ بات تھی۔
مگر اُس نے مجھے وہ موقع ہی نہیں دیا۔
ہان ووُ نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں۔
شاید…
قصور سومن کا بھی نہیں۔
میں ہی اُس سے ایسی امیدیں باندھ بیٹھا…
جن کا اُسے کبھی احساس ہی نہیں تھا۔
وہ مجھے اپنا دوست سمجھتا تھا…
اور میں…
میں اُس دوستی کو شاید اپنی ضرورت سے زیادہ اہمیت دے بیٹھا۔
لفٹ آ کر رک گئی۔
دروازے کھلے…
مگر ہان ووُ چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔
شاید مجھے بھی سیکھنا ہوگا…
کہ ہر وہ شخص…
جسے ہم اپنی پہلی ترجیح بنا لیتے ہیں…
ضروری نہیں کہ ہم بھی اُس کی پہلی ترجیح ہوں۔
اور یہ بھی ضروری نہیں…
کہ وہ ہمیں کم چاہتا ہو۔
بس…
چاہنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔
اس نے ایک گہری سانس لی۔
مجھے وقت چاہیے…
خود کو سمجھنے کے لیے بھی…
اور سومن کو سمجھنے کے لیے بھی۔
شاید…
کچھ عرصے بعد…
میں بھی اُسے اُس طرح دیکھ سکوں…
جس طرح وہ واقعی ہے…
نہ کہ اُس طرح… جس طرح میں ہمیشہ دیکھنا چاہتا تھا۔ یہ سوچ کر وہ خاموشی سے لفٹ کے اندر داخل ہو گیا۔
++++++++++++++
ہان ووُ تیار ہو کر جب نیچے ریسپشن پر پہنچا تو دیکھا ابھی تک کوئی بھی نہیں آیا تھا۔
صرف سیونگ وہاں کھڑا موبائل دیکھ رہا تھا۔
ہان ووُ خاموشی سے جا کر اُس کے برابر کھڑا ہو گیا۔
دونوں باقی سب کا انتظار کرنے لگے۔
اسی دوران ہان ووُ کی نظر لابی کے دوسرے کونے میں موجود ویٹنگ ایریا پر پڑی۔
وہاں انشا کھڑی تھی۔
اُس کے سامنے پینٹ کوٹ پہنے تقریباً چالیس بیالیس سال کی ایک باوقار خاتون کھڑی تھیں۔
ان کے چہرے پر سخت غصہ صاف نظر آ رہا تھا۔
وہ مسلسل انشا کو کچھ کہے جا رہی تھیں۔
انشا سر جھکائے خاموشی سے سب سنتی رہی۔
پھر نہ جانے اُس نے آہستہ سے کیا جواب دیا کہ اگلے ہی لمحے…
چٹاخ۔۔۔۔
خاتون کا ہاتھ سیدھا اُس کے گال پر جا پڑا۔
ہان ووُ کے جبڑے بےاختیار بھینچ گئے۔
اس کے قدم خودبخود اُن کی طرف اٹھے۔
مگر صرف دو قدم چل کر وہ رک گیا۔
اسے اچانک احساس ہوا…
یہ اُن کا ذاتی معاملہ تھا۔
بغیر کچھ جانے بیچ میں جانا شاید درست نہیں تھا۔
مگر…
اس کی نظریں اب بھی انشا کے چہرے پر جمی تھیں۔
وہ لڑکی… جو ہر وقت ہنستی رہتی تھی…
جو ہر بات پر عجیب عجیب شکلیں بنا کر دوسروں کو ہنسا دیتی تھی…
وہ اس وقت خاموش کھڑی تھی۔
نہ اُس نے پلٹ کر جواب دیا…
نہ آنکھوں میں آنسو آنے دیے…
بس خاموشی سے اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیا۔
ہان ووُ کے اندر انجانا سا غصہ اب بھی کھول رہا تھا۔
کوئی اُس پر کیسے غصّہ کر سکتا ہے۔۔۔
کوئی اسے کیسے مار سکتا ہے…؟
یہ سوال بےاختیار اس کے ذہن میں آیا۔
پھر اس نے خود ہی سوچا…
شاید… اس کی ماں ہو۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس نے دوبارہ دونوں کو غور سے دیکھا۔
چہرے… رنگت… حتیٰ کہ خدوخال تک…
دونوں میں کوئی مشابہت نہیں تھی۔
اس کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
اگر ماں نہیں……تو پھر یہ عورت ہے کون؟
+++++++++++++
اتنے میں ایک ایک کر کے باقی سب بھی نیچے آنا شروع ہو گئے۔
سب کے چہروں پر گھومنے کی خوشی نمایاں تھی۔
سوہان آتے ہی بولا،
چلیں بھائی لوگ…
مینیجر نے مسکراتے ہوئے سب کو بس کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔
سب ہنستے بولتے باہر نکلنے لگے۔
ہان ووُ بھی اُن کے ساتھ چل تو رہا تھا…
مگر اُس کا ذہن اب بھی انشا کی طرف اٹکا ہوا تھا۔
نجانے وہ عورت کون تھی…
اور اُس نے انشا کو تھپڑ کیوں مارا تھا؟
یہ سوال بار بار اُس کے ذہن میں گردش کر رہا تھا۔
وہ بےاختیار ایک بار مڑ کر ہوٹل کے شیشے کے دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔
مگر انشا کہیں نظر نہ آئی۔
گاڑی کے پاس پہنچ کر ہان ووُ اچانک رک گیا۔
کیا… میں آج ہوٹل ہی میں رک جاؤں؟
رین یون نے حیرانی سے اُس کی طرف دیکھا۔
کیوں؟
ہان ووُ نے کنپٹی دباتے ہوئے جواب دیا،
اچانک سر میں بہت درد ہونے لگا ہے۔
رین یون نے فکر مندی سے پوچھا،
زیادہ درد ہے؟
ہان ووُ نے ہلکے سے سر ہلا دیا.
ہمم…
سیونگ فوراً درمیان میں بولا،
اوئے… ڈرامے مت کر۔
پھر گاڑی کی پچھلی سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،
میڈیسن رکھی ہے میری بیگ میں، کھا لینا۔
لیکن ہمارے ساتھ ہی چلے گا۔
جے کیونگ بھی مسکراتے ہوئے بولا،
ہاں، اکیلا ہوٹل میں رہ کر کیا کرے گا؟ بور ہو جائے گا۔ وہاں بیچ کے پاس ریسٹ ایریا بھی ہے، اگر زیادہ درد ہوا تو آرام کر لینا۔
سوہان نے بھی ہان ووُ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
چل یار… اتنی دور آئے ہیں، آج کا دن ضائع نہ کر۔
ہان ووُ نے بےزاری سے کہا،
تم میں سے کوئی رُک جاؤ۔
تائیجون نے اس کے کندھے پر ہلکا سا مکا مارا۔
ابے چل نا… لاہور سے تیرا ڈرامہ دیکھتے دیکھتے ہم کراچی آ گئے ہیں۔ اب یہاں ڈراما کر کے ہمارا موڈ خراب تو مت کر۔۔۔۔
ہان ووُ نے آخری کوشش کی۔
سومن رُک جائے گا نا؟
سومن نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
ابے کیوں؟ مجھے بھی سمندر دیکھنا ہے۔ اور پھر یہ لوگ ایک دفعہ گئے تو رات کو ہی واپس آئیں گے۔۔ میں ہوٹل میں اکیلے کیا کرونگا۔۔۔
رین یون نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا۔
کوئی نہیں رُکنے والا۔ ہمارے ساتھ ہی چلو۔ وہاں جا کر اگر طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو سب مل کر تیرا خیال رکھ لیں گے۔
ہان ووُ نے اُن سب کی طرف ایک نظر ڈالی…
پھر خاموشی سے گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا۔
کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اس نے دل ہی دل میں تلخی سے سوچا۔
نجانے یہ لوگ کب سمجھیں گے…
جب دل ہی بھری ہو، تو خوبصورت سے خوبصورت جگہ بھی انسان کو اچھی نہیں لگتی۔
اس نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کر لیں۔
مگر نہ جانے کیوں…
بار بار اُس کے ذہن میں وہی منظر آ رہا تھا…
انشا کا خاموش چہرہ… اور اُس کے گال پر پڑنے والا وہ تھپڑ۔
+++++++++++++
سمندر کے کنارے پہنچتے ہی ٹھنڈی نمکین ہوا نے سب کا استقبال کیا۔
دور دور تک نیلا پانی سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ لہریں ایک کے بعد ایک ساحل سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی تھیں۔
جیسے ہی گاڑی رکی…
وااااوووو….
تائیجون سب سے پہلے دروازہ کھول کر باہر کودا۔
آخرکار…
سوہان بھی ہنستے ہوئے دوڑ لگا گیا۔
رین یون نے دونوں کو روکا۔۔۔ پہلے تصویریں… پھر باقی سب۔
کچھ ہی لمحوں میں سب ریت پر پھیل گئے۔ کوئی جوتے اتار رہا تھا، کوئی سمندر کی طرف بھاگ رہا تھا، کوئی سیلفیاں لینے میں مصروف تھا۔
صرف…
ہان ووُ ان سب سے بہت دور کھڑا تھا۔۔۔
اس کی نظریں سمندر پر تھیں… مگر وہ سمندر کو دیکھ ہی نہیں رہا تھا۔
ہان ووُ۔۔۔
سوہان نے دور سے آواز دی۔
ادھر آ… پانی کتنا زبردست ہے۔۔۔
ہان ووُ نے صرف ہاتھ ہلا دیا۔
تم لوگ جاؤ۔
سیونگ اس کے پاس آیا۔
ابھی بھی سر درد ہے؟
ہمم…
میڈیسن کھائی؟
ہان ووُ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
سیونگ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
زیادہ مت سوچا کر… چھٹیاں انجوائے کرنے آئے ہیں۔
یہ کہہ کر وہ بھی باقی سب کے پاس چلا گیا۔
ہان ووُ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے سمندر کے قریب پہنچا۔
ایک بڑی سی چٹان پر جا کر بیٹھ گیا۔
ہوا مسلسل اس کے بال بکھیر رہی تھی۔
سامنے بےانتہا پانی تھا… مگر اندر عجیب سی گھٹن۔
وہ خاموشی سے لہروں کو دیکھتا رہا۔
دور سے باقی سب کی ہنسی کی آوازیں آرہی تھیں۔
سومن بھی ان کے ساتھ ہنس رہا تھا۔
پانی ایک دوسرے پر اچھال رہے تھے۔
جے کیونگ اور سوہان مل کر تائیجون کو لہروں میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایک لمحے کے لیے…
ہان ووُ کی نظریں سومن پر رک گئیں۔
پہلے…
وہ اس وقت سب سے پہلے میرے پاس آتا۔
زبردستی مجھے بھی پانی میں گھسیٹ لیتا۔
اور میں…
غصہ ہونے کا ڈرامہ کرتا۔
ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی…
مگر اگلے ہی لمحے غائب بھی ہوگئی۔
نہیں…
اب پہلے جیسا کچھ نہیں ہے۔
اسی دوران…
ایک چھوٹی سی گیند لہروں کے ساتھ لڑھکتی ہوئی اس کے قدموں سے آ کر ٹکرائی۔
ہان ووُ نے چونک کر نیچے دیکھا۔
کچھ فاصلے پر تقریباً پانچ چھ سال کا ایک بچہ کھڑا تھا۔
وہ گھبراہٹ میں ہاتھ ہلا رہا تھا۔
بال…
ہان ووُ نے گیند اٹھائی۔
بچہ مسکرا دیا۔
ہان ووُ نے گیند اس کی طرف اچھال دی۔
بچے نے خوش ہو کر پکڑ لی۔
تھینک یو۔۔۔
ہان ووُ نے صرف ہلکا سا سر ہلایا۔
وہ دوبارہ سمندر کی طرف دیکھنے لگا۔
لیکن اس ایک لمحے نے…
اس کے دل کا بوجھ ذرا سا ہلکا کر دیا تھا۔
پیچھے سے اچانک زور دار آواز آئی۔
ہان وووووو۔۔۔
وہ مڑا۔
سوہان دونوں ہاتھ لہرا رہا تھا۔
ابے وہاں مراقبہ ختم ہو گیا ہو تو اِدھر آ۔۔۔
ورنہ ہم خود لینے آ رہے ہیں۔۔۔
تائیجون بھی ہنس کر بولا،
اور اگر ہم آئے نا… تو سیدھا اٹھا کر پانی میں پھینک دیں گے۔۔۔
سب قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
ہان ووُ نے بےاختیار ایک لمبی سانس لی۔
پھر آہستہ آہستہ ان کی طرف چل پڑا۔
شاید… ہر درد سے بھاگا نہیں جا سکتا۔
+++++++++++++
ہان ووُ ابھی آہستہ آہستہ اُن کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ…
ایک زور دار لہر آ کر سیدھی اُس کی پینٹ کے گھٹنوں تک جا پہنچی۔
وہ چونک کر ایک قدم پیچھے ہٹا۔
اور اُدھر…
پورا گروپ قہقہہ مار کر ہنس پڑا۔
تائیجون تو ہنستے ہنستے دوہرا ہوگیا۔
دیکھاااا…!!
سمندر نے خود ویلکم کر لیا تجھے۔
رین یون نے موبائل نکال کر فوراً اُس کی تصویر کھینچ لی۔
یہ والی تصویر ہمیشہ یاد رہے گی۔
ہان ووُ نے بےزاری سے اُن کی طرف دیکھا۔
تم لوگ واقعی فارغ ہو۔
جی ہاں…
سوہان آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا۔
صرف پانچ منٹ…
اگر اچھا نہ لگا تو واپس جا کر بیٹھ جانا۔
ہان ووُ نے خاموشی سے سب کی طرف دیکھا۔
کسی کے چہرے پر مذاق تھا…
کسی کے چہرے پر فکر…
لیکن سب اُس کی وجہ سے اپنی مستی چھوڑ کر اُس کے گرد کھڑے تھے۔
اس نے ہلکی سی سانس لی۔
اوکے…
صرف پانچ منٹ۔
یییییی۔۔۔
تائیجون نے خوشی سے شور مچایا۔
سن لیا سب نے؟
یہ تاریخی لمحہ ہے۔۔۔
وہ ابھی چند قدم ہی پانی میں گیا تھا کہ…
اس کے چہرے پر ٹھنڈا پانی آ کر لگا۔
وہ فوراً چونک کر مڑا۔
سامنے سومن کھڑا تھا۔
اُس کے ہاتھ ابھی بھی پانی میں تھے۔
شاید اُس نے جان بوجھ کر پانی اچھالا تھا۔
دونوں کی نظریں ملیں۔
چند لمحوں تک…
خاموشی۔
سومن کے چہرے پر ہلکی سی شرمندہ مسکراہٹ تھی۔
سوری…
غلطی سے زیادہ زور سے چلا گیا۔
ہان ووُ نے کچھ نہ کہا۔
بس خاموشی سے اپنے چہرے سے پانی صاف کیا۔
اگلے ہی لمحے…
اس نے جھک کر دونوں ہاتھوں میں پانی بھرا…
اور سیدھا سومن پر پھینک دیا۔
اوئے۔۔۔
سومن پوری طرح بھیگ گیا۔
ایک لمحے کی خاموشی…
پھر پورا گروپ زور زور سے ہنسنے لگا۔
تائیجون نے قہقہہ لگایا۔
ہووووو… آخرکار ہمارے مردے میں جان آگئی۔۔۔
سومن بھی ہنس پڑا۔
اچھا…
اب جنگ ہوگی؟
ہان ووُ کے ہونٹوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
تم نے شروع کی تھی۔
سومن دوبارہ پانی اچھالنے کے لیے جھکا۔
مگر اس سے پہلے ہی…
سوہان اور رین یون دونوں نے اُسے پکڑ لیا۔
پہلے سزا!
کیا؟
ہان ووُ کو زبردستی پانی میں لے کر جانا۔۔۔
ابے نہیں…
سومن کچھ سمجھ پاتا، اس سے پہلے ہی چاروں نے مل کر اُسے دھکا دے دیا۔
سومن سیدھا گہرے پانی میں جا گرا۔
وہ جیسے ہی باہر نکلا…
سب اپنی ہنسی روک ہی نہیں پا رہے تھے۔
ہان ووُ بھی… کافی دیر بعد… دل سے ہنسا تھا۔
اگرچہ مسکراہٹ صرف چند لمحوں کی تھی…
مگر سب نے دیکھ لیا۔۔۔۔
++++++++++++
پانی میں خوب ہنگامہ کرنے کے بعد سب کے کپڑے آدھے سے زیادہ بھیگ چکے تھے۔
تائیجون نے اپنے بالوں سے پانی جھٹکا۔
بس۔۔۔
اب اگر مزید رہا نا…
تو مچھلی بن جاؤں گا۔
سوہان ہنس پڑا۔
چلو اب کچھ کھاتے ہیں۔
رین یون نے فوراً کہا،
ہاں… صبح سے صرف ناشتا کیا تھا، اب تو واقعی بھوک لگ رہی ہے۔
منیجر نے ساحل کے ساتھ بنی لکڑی کی چھوٹی چھوٹی دکانوں کی طرف اشارہ کیا۔
ادھر کافی اچھے فوڈ اسٹالز ہیں۔
جو دل کرے کھا لینا، لیکن بہت دور مت جانا۔
سب ایک ساتھ اُس طرف چل پڑے۔
چاروں طرف سمندر کی خوشبو، ٹھنڈی ہوا اور لوگوں کی رونق تھی۔
کسی اسٹال پر بھنا ہوا بھٹہ بن رہا تھا…
کہیں چائے… کہیں گول گپے…
اور کہیں سموسوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
تائیجون اچانک ایک اسٹال کے سامنے رک گیا۔
اوووو…
یہ کیا ہے؟
اس نے ایک بوڑھے شخص کی طرف اشارہ کیا جو کوئلوں پر بھٹے بھون رہا تھا۔
بوڑھے نے مسکراتے ہوئے اردو میں کہا،
آؤ بابو… گرم گرم بھٹا۔
تائیجون نے فوراً ہان ووُ کی طرف دیکھا۔
اس نے کیا کہا؟
ہان ووُ نے کندھے اچکا دیے۔
مجھے بھی نہیں پتا۔
سوہان ہنس پڑا۔
پاکستان آ کر اردو نہ جاننے کا نقصان۔
رین یون نے بھٹے کی طرف اشارہ کیا۔
تُم لوگوں کو نظر نہیں آرہا کیا اندھے ہو۔۔؟؟ Roasted corn. ہے یہ۔۔۔
تائیجون نے فوراََ ایک لگایا سوہان کو۔۔۔
یہ سوہان نہ ہے ہی پاگل۔۔۔
ابے میں نے پوچھا۔۔۔؟؟ یا تو نے۔۔۔؟؟ سوہان فوراََ چیخا
بوڑھے نے ایک ایک کر کے سب کو بھٹے پکڑانے شروع کیے۔
پھر اوپر لیموں نچوڑا…
نمک…
اور سرخ مرچ لگا کر آگ پر ہلکا سا دوبارہ گھما دیا۔
خوشبو اتنی زبردست تھی کہ سب بےاختیار قریب آ گئے۔
تائیجون نے پہلا نوالہ لیا۔
دو سیکنڈ خاموش رہا…
پھر اچانک اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔
اوہہہہہہ یہ تو بہت مزے کا ہے۔۔۔
جےکیونگ بھی کھاتے ہی بولا،
واہ…
سب مزے سے بھٹا کھا رہے تھے۔
صرف ہان ووُ خاموشی سے کنارے کھڑا تھا۔
اس نے بھی ایک نوالہ لیا۔۔
چند لمحے بعد اُس نے دوسرا نوالہ لیا۔
رین یون نے فوراً نوٹ کر لیا۔
اس کا مطلب پسند آیا ہے۔
ہان ووُ نے بےتاثری سے جواب دیا۔
برا نہیں ہے۔
تائیجون زور سے ہنسا۔
اس کی زبان میں ‘برا نہیں ہے’ کا مطلب ہوتا ہے…
بہت زبردست۔۔۔
تُجھے زیادہ پتہ ہے نہ۔۔۔ ہان وو نے چھیڑ کر کہا۔۔۔
بہت زیادہ۔۔۔
بوڑھا شخص بھی اُنہیں ہنستا دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
وہ شاید اُن کی زبان نہیں سمجھ رہا تھا…
لیکن اُن کی خوشی ضرور سمجھ رہا تھا۔
++++++++++++
بھٹا کھاتے کھاتے ہی تائیجون کی نظر اچانک کچھ فاصلے پر گئی۔
اوووووووووووو…!!
وہ تقریباً اچھل ہی پڑا۔
وہ دیکھوووو۔۔۔
سب نے اُس کی انگلی کے اشارے کی طرف دیکھا۔
دو اونٹ آہستہ آہستہ ساحل کے کنارے چل رہے تھے۔
اُن پر چند بچے اور سیاح بیٹھے خوشی خوشی تصویریں بنوا رہے تھے۔
اونٹ کی گردن پر رنگ برنگی مالائیں پڑی تھیں، ماتھے پر چھوٹے چھوٹے آئینے لگے ہوئے تھے، اور اس کی زین بھی خوبصورت کڑھائی سے سجی ہوئی تھی۔
تائیجون کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
میں اس پر بیٹھوں گا۔۔۔
سوہان بھی فوراََ اچھلا میں بھی بیٹھوں گا۔۔۔
رین یون نے مذاقاً کہا،
چلو پھر…
ہاں۔۔۔۔ کتنا کول لگ رہا ہے یہ۔۔۔تائیجون پورے جوش سے آگے بڑھ گیا۔
اونٹ والے نے اُنہیں آتے دیکھا تو مسکراتے ہوئے بولا،
آؤ جی… اونٹ کی سواری…
کسی کو اردو سمجھ نہ آئی۔
منیجر نے ہنس کر ترجمہ کیا۔
کہہ رہے ہیں، سواری کرنی ہے تو آ جاؤ۔
تائیجون نے فوراً ہاتھ اٹھایا۔
میں… میں پہلے۔۔۔
اونٹ والا اونٹ کو بٹھانے لگا۔
اونٹ آہستہ آہستہ اپنے اگلے گھٹنوں پر بیٹھا…
پھر پچھلے۔
تائیجون احتیاط سے اوپر چڑھ گیا۔
وہ بڑے اعتماد سے بیٹھا ہی تھا کہ…
اونٹ اچانک کھڑا ہونے لگا۔
پہلے پچھلی ٹانگیں سیدھی ہوئیں۔
اوووووووووووے!!
تائیجون کا پورا جسم آگے کی طرف جھول گیا۔
وہ گھبرا کر دونوں ہاتھوں سے زین کو پکڑ لیا۔
بچااااؤ!
پھر اگلی ٹانگیں سیدھی ہوئیں۔
اس بار وہ تقریباً پیچھے گرنے والا تھا۔
اممممممااااااااا!!
پورا گروپ زور زور سے ہنسنے لگا۔
جےکیونگ تو ہنستے ہنستے بیٹھ ہی گیا۔
ابھی تو کہہ رہا تھا… کول لگ رہا ہے۔۔۔۔
رین یون موبائل سے مسلسل ویڈیو بنا رہا تھا۔
یہ ویڈیو کوریا جا کر سب کو دکھاؤں گا۔
تائیجون اوپر سے چیخا۔
پہلے مجھے نیچے اتارو۔۔۔
ویڈیو بعد میں بنانا!
سوہان نے ہنستے ہوئے کہا،
ابھی تو سواری شروع بھی نہیں ہوئی۔
اونٹ والا بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا۔
اس نے اونٹ کو آہستہ آہستہ چلانا شروع کیا۔
ہر قدم کے ساتھ تائیجون اوپر نیچے ہلتا۔
یہ چل کیوں اتنا رہا ہے؟
کوئی بریک لگاؤ۔۔۔
سیونگ نے زور سے آواز لگائی۔
بھائی… یہ گاڑی نہیں، اونٹ ہے۔۔۔
اسی دوران تائیجون کی سواری ختم ہوئی۔
جیسے ہی اونٹ دوبارہ بیٹھا…
وہ تقریباً کود کر نیچے اترا۔
زمین پر آتے ہی اُس نے سینے پر ہاتھ رکھا۔
مزا آیا۔۔۔۔ اب یہ جو اٹھا نہ۔۔۔ مُجھے لگا میں گیا نیچے۔۔
سب ہنس پڑے۔
سوہان فوراً آگے بڑھا۔
اب میری باری۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ پھرتی سے اونٹ پر جا بیٹھا۔
اونٹ والے نے ہلکی سی آواز لگائی اور اونٹ دوبارہ کھڑا ہونے لگا۔
مگر سوہان تو جیسے پہلے سے تیار بیٹھا تھا۔
اونٹ جیسے ہی کھڑا ہوا…
اس نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا دیے۔
واااااااو۔۔۔
تائیجون نے فوراً جواب دیا،
بہت بہادر بن رہا ہے…
نیچے اترے گا نا تب پتا چلے گا۔
سوہان نے اوپر سے ہی زبان نکال دی۔
جلنے والوں کا کچھ نہیں ہو سکتا۔
سب دوبارہ ہنس پڑے۔
اونٹ والا آہستہ آہستہ اونٹ کو ساحل کے کنارے لے جانے لگا۔
سوہان کبھی سمندر کی طرف دیکھتا…
کبھی ہاتھ ہلا کر باقی سب کو چھیڑتا۔
اوئے… میری تصویر اچھی لینا۔۔۔
جےکیونگ نے فوراً موبائل اٹھا لیا۔
فکر نہ کر… ایسی تصویر لوں گا کہ پورا اونٹ کٹ جائے گا، صرف تو ہی نظر آئے گا۔
ابے۔۔۔
سوہان نے اوپر سے ہی احتجاج کیا۔
اسی دوران…
اونٹ نے اچانک گردن جھٹکی۔
سوہان ایک لمحے کو توازن کھو بیٹھا۔
اوئے اوئے اوئے…
وہ فوراً زین کو مضبوطی سے پکڑ گیا۔
نیچے کھڑے سب قہقہہ مار کر ہنسنے لگے۔
تائیجون نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر زور سے کہا،
دیکھااااا!
ہیرو بن رہا تھا۔۔۔
اب آیا نا مزا۔۔۔۔
سوہان نے شرمندگی چھپاتے ہوئے فوراً سیدھا ہو کر بیٹھنے کی کوشش کی۔
میں تو بس…
چیک کر رہا تھا کہ زین مضبوط ہے یا نہیں۔
ہاں ہاں…
ہیوک نے قہقہہ لگایا۔
ہمیں بھی نظر آگیا کتنا چیک کیا ہے۔
پھر ایک ایک کر کے سبھی نے اونٹ کی سواری کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
سب سے پہلے سوہان کی سواری ختم ہوئی۔
اس کے بعد رین یون کی باری آئی۔
وہ بڑے سکون سے جا کر اونٹ پر بیٹھ گیا۔
اونٹ چلنے لگا تو اُس نے موبائل نکال کر آرام سے سیلفی لینا شروع کر دی۔
سیونگ نے دور سے آواز لگائی،
اوئے… گر گیا تو پہلے موبائل بچائے گا یا خود کو؟
رین یون نے ہنستے ہوئے جواب دیا،
پہلے سیلفی مکمل ہونے دو…
پھر سوچوں گا۔
اس کے بعد جےکیونگ خود اونٹ پر جا بیٹھا۔
اونٹ والے نے جیسے ہی اونٹ کو آگے بڑھایا، جےکیونگ نے فلمی انداز میں دونوں ہاتھ پھیلا دیے۔
میں ریگستان کا بادشاہ ہوں۔۔۔۔
تائیجون نے فوراً آواز لگائی،
نہ کر اونٹ شرمندہ ہوجائے گا۔۔۔۔
سیونگ کی باری آئی تو وہ پورا وقت اونٹ والے سے سوال ہی پوچھتا رہا۔
اس کی عمر کتنی ہے؟
یہ روز کتنے لوگوں کو گھماتا ہے؟
یہ کھاتا کیا ہے؟
اور اونٹ والے کو اُس کی انگریزی کی بلکل سمجھ نہ آئی۔۔۔۔
چپ ہوجا۔۔۔ اُسے نہیں سمجھ آئے گی۔۔۔
ہیوک اور سومین نے بھی خوشی خوشی اونٹ کی سواری کی۔
آخر میں سب کی نظریں ایک ساتھ ہان ووُ پر جا ٹھہریں۔
سوہان نے اُس کی طرف اشارہ کیا۔
اب تیری باری۔
ہان ووُ نے فوراً نفی میں سر ہلا دیا۔
نو… میں نہیں۔
تائیجون شرارتی انداز میں مسکرایا۔
ڈر گیا؟
ہان ووُ نے بےتاثری سے جواب دیا،
ڈرنے والی کوئی بات نہیں… بس شوق نہیں ہے۔
رین یون اُس کے قریب آیا۔
اتنی دور کراچی آئے ہو…
اونٹ کی سواری کیے بغیر واپس جاؤ گے؟
جےکیونگ نے بھی بات بڑھائی،
بعد میں کوریا جا کر لوگ پوچھیں گے…
پاکستان میں کیا کیا؟’
صرف بھٹا کھایا؟’
سب زور سے ہنس پڑے۔
ہان ووُ نے ایک نظر اونٹ کو دیکھا…
پھر اپنے دوستوں کے چہروں کو…
جو پوری امید سے اُس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
آخرکار اُس نے ہلکی سی سانس بھری۔
اوکے… صرف ایک چکر۔
ییییییی…
تائیجون نے بچوں کی طرح تالیاں بجا دیں۔
++++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
