WO KHAT JO KABHI BHEJA NA JA SAKA BY JAVERIA ARSHAD (ARTICLE).

عنوان: ایک ایسا خط، جو کبھی بھیجا نہ جا سکا

 

پیارے میرے بچپن

 

آج نہ جانے کیوں تم بہت یاد آئے۔ سوچا تمہیں ایک خط لکھوں، حالانکہ میں جانتی ہوں کہ یہ خط کبھی تم تک نہیں پہنچے گا۔ وقت ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا، اسی لیے شاید یہ خط بھی ہمیشہ میرے دل میں ہی رہے گا۔

مجھے تمہاری وہ بےفکری والی زندگی یاد آتی ہے، جب چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشی مل جاتی تھی۔ بارش کا پہلا قطرہ، عید کے نئے کپڑے، گرمیوں کی چھٹیاں، دوستوں کے ساتھ کھیلنا اور امی کی آواز پر گھر بھاگ آنا…شام کے وقت اسکول کا کام کرنا رات کو بے فکری سے سونا اور نانی کے گھر جا کر کزنز کے ساتھ کھیلنا یہ سب لمحے اس وقت عام لگتے تھے، مگر آج انہی یادوں کی قیمت سمجھ آتی ہے۔

اس وقت ہمیں جلدی بڑا ہونے کی خواہش تھی۔ لگتا تھا کہ بڑے ہو کر ہر خواب آسانی سے پورا ہو جائے گا۔ لیکن جب حقیقت میں بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ عمر کے ساتھ صرف قد نہیں بڑھتا، ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ہنسی کم اور فکر زیادہ ہو جاتی ہے۔

کاش! میں ایک دن کے لیے پھر سے تمہارے پاس آ سکتی۔ تمہیں بتاتی کہ وقت کو اتنی جلدی آگے بڑھانے کی دعا نہ مانگو۔ ہر لمحے کو جیو، ہر رشتے کی قدر کرو، کیونکہ یہی لمحے بعد میں یاد بن جاتے ہیں۔

آج بھی جب کسی بچے کو بےفکری سے کھیلتے دیکھتی ہوں تو دل مسکرا بھی دیتا ہے اور اداس بھی ہو جاتا ہے۔ مسکراتا اس لیے کہ بچپن اب بھی دنیا میں موجود ہے، اور اداس اس لیے کہ میرا بچپن کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

یہ خط شاید کبھی بھیجا نہ جا سکے، کیونکہ نہ تمہارا کوئی پتہ ہے اور نہ ہی وقت واپس آنے کا کوئی راستہ۔ مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ تم ہمیشہ میری یادوں میں زندہ رہو گے۔ جب بھی زندگی تھکا دے گی، میں اپنی یادوں میں تمہیں ضرور تلاش کروں گی۔

 

وہی بچی… جو اب بڑی ہو گئی ہے۔

جویریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *