سات رنگِ حیات
از قلم حفظہ مرزا
قسط نمبر 6
شاور لینے کے بعد اس کے دل کی بےچینی پہلے کی نسبت کچھ کم ضرور ہوئی تھی، مگر ذہن میں اٹھنے والے سوالات اب بھی مسلسل اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ وہ گہرا سانس لے کر بیڈ پر بیٹھی، لیکن اگلے ہی لمحے جیسے کسی خیال نے اسے چونکا دیا۔
اس نے فوراً اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا اور اسے آن کر لیا۔ اس کی نظریں بےچینی سے اس پوسٹ کو تلاش کرنے لگیں، جس میں اُس لڑکے کے ساتھ ایک لڑکی کی تصویر بھی موجود تھی۔
تصویر دیکھتے ہی وہ چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گئی۔
“یہ تصویر تو میں نے خود کھینچی تھی…”
اس نے دھیمی آواز میں خود سے کہا۔
“لیکن میں نے تو اسے پوسٹ کرنے کے لیے نہیں کھینچا تھا۔ بس… اسے تھوڑا سا تنگ کرنے کے لیے، مذاق میں لے لی تھی۔”
اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“پھر یہ پوسٹ کس نے کی؟”
یہ تصویر تو اس کے اپنے موبائل میں تھی۔ بغیر اس کی اجازت کے یہ باہر کیسے آگئی؟
وہ مسلسل ایک ایک امکان پر غور کرنے لگی، مگر کوئی جواب سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوند گیا۔
“ایک منٹ…”
اسے یاد آیا کہ اس دن صرف وہ اکیلی نہیں تھی اس کی گروپ کی لڑکیاں بھی اس کے ساتھ ہی تھیں انہیں پتہ تھا میں نے تصویر ہی لی ہے۔۔۔۔
اس کی نظریں اسکرین پر جم گئیں، جبکہ ذہن میں ایک ہی سوال بار بار گونج رہا تھا…
“آخر ان میں سے یہ حرکت کس نے کی ہے؟”اور یہ سوچ ہی رہی تھی ۔۔۔اور خود سے کہہ رہی تھی۔ سوچ سوچ ایک اینکر کی طرح سوچ زرنش۔۔۔
وہ مسلسل یہی سوچ رہی تھی کہ آخر کرے تو کیا کرے؟ کس پر بھروسا کرے؟
پورے گروپ میں لڑکے بھی تھے اور لڑکیاں بھی… مگر اب اسے کسی پر بھی یقین نہیں رہا تھا۔ کیونکہ اتنا تو وہ سمجھ چکی تھی کہ یہ حرکت کسی باہر والے نے نہیں، بلکہ انہی میں سے کسی نے کی تھی۔
اس کا دل غصے، بےبسی اور بےاعتمادی سے بھر چکا تھا۔
اب اسے یقین ہونے لگا تھا کہ یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش تھی… اسے بدنام کرنے، اسے پھنسانے اور اس کی عزت خاک میں ملانے کی سازش۔
مگر ایک بات اب بھی اس کی سمجھ سے باہر تھی۔
“اگر پوسٹ انہی میں سے کسی نے کی تھی… ۔۔
وہ کرسی سے ٹیک لگا کر چند لمحے خاموش بیٹھی رہی، پھر اچانک اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔
اس نے فوراً گروپ چیٹ کھولی اور ایک پیغام ٹائپ کرنا شروع کر دیا۔
“مجھے پتا چل گیا ہے کہ یہ پوسٹ کس نے کی ہے۔ کل صبح سب سے پہلے میں ایف آئی آر درج کرواؤں گی۔ بہتر یہی ہے کہ جس نے بھی یہ حرکت کی ہے، وہ خود ہی پوسٹ ڈیلیٹ کر دے، ورنہ پھر میرے جیسا برا کوئی نہیں ہوگا۔ اب تم تیار رہنا… کیونکہ مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ قصوروار کون ہے۔”
پیغام بھیجنے کے بعد اس نے گہرا سانس لیا۔
حقیقت تو یہ تھی کہ اسے کسی کا نام نہیں معلوم تھا۔
یہ صرف ایک چال تھی… ایک ایسا جال، جس میں وہ اصل مجرم کو پھنسانا چاہتی تھی۔
اس نے لیپ ٹاپ بند نہیں کیا۔ نظریں مسلسل اسکرین پر جمی رہیں۔ ہر چند منٹ بعد وہ صفحہ ریفریش کرتی اور دل ہی دل میں دعا کرتی۔
“بس… ایک بار پوسٹ ڈیلیٹ ہو جائے۔”
وقت آہستہ آہستہ گزرتا گیا۔
تقریباً اس نے ایک بار پھر پیج ریفریش کیا۔
اور اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
پوسٹ غائب تھی۔
صرف پوسٹ ہی نہیں…
پورا اکاؤنٹ ہی ڈیلیٹ ہو چکا تھا۔
اس کے ہونٹوں پر بےاختیار سکون بھری مسکراہٹ آگئی۔
“شکر ہے…”
لیکن یہ سکون چند ہی لمحے قائم رہ سکا۔
کیونکہ اگلے ہی لمحے ایک اور سوال اس کے ذہن میں ابھرا۔
“اگر اکاؤنٹ بھی ڈیلیٹ ہو گیا ہے… تو مطلب یہ سب واقعی کسی ایسے شخص نے کیا ہے جو میرے بہت قریب ہے… جو میرے ہر قدم سے واقف ہے۔”
اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
اس کے ذہن میں صرف چار چہرے گردش کرنے لگے…
اس کے وہ چار قریبی دوست…
کیونکہ وہ تصویر صرف انہی کے پاس موجود تھی۔
اس نے بےاختیار خود سے سرگوشی کی۔
“کیا… ان میں سے کسی نے میری پیٹھ پیچھے یہ سب کیا ہے؟”
یہ خیال ہی اس کے دل کو چیرنے کے لیے کافی تھا۔
اسی سوچ میں گم تھی کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
“چھوٹی بی بی.. کھانا لگ گیا ہے۔”
ملازمہ کی آواز پر وہ چونکی اور لیپ ٹاپ بند کر دیا۔
“ٹھیک ہے، میں آ رہی ہوں۔”
ملازمہ کے جاتے ہی اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
سب سے پہلے… اسے اُس لڑکے سے معافی مانگنی تھی، جسے اس کی وجہ سے سب کے سامنے ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اور پھر…
اسے ہر قیمت پر اُس شخص کو ڈھونڈنا تھا، جس نے یہ ساری سازش رچائی تھی۔
اچانک اسے ایک اور چہرہ یاد آیا۔
وہ پراسرار لڑکی۔۔۔۔پری۔۔۔۔۔۔۔”کل… سب سے پہلے اسے بھی ڈھونڈوں گی۔ کم از کم ایک بار اس کا شکریہ تو ادا کرنا بنتا ہے۔”
یہ سوچتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔
اگلی صبح وہ معمول سے کہیں پہلے یونیورسٹی پہنچ گئی۔
پورے کیمپس میں اس کی نظریں صرف ایک ہی شخص کو تلاش کر رہی تھیں۔
آن۔
مگر پورا کیمپس چھان مارنے کے باوجود وہ کہیں نظر نہ آیا۔
اسی دوران سامنے سے ایک لڑکی آتی دکھائی دی، جو آن کے گروپ کو اچھی طرح جانتی تھی۔
زرنش فوراً اس کے پاس گئی۔
“سنو… کیا تم نے آج آن کو دیکھا ہے؟”
لڑکی نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
“تم ابھی تک اسی کی تلاش میں ہو؟ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی؟”
زرنش کے لہجے میں سختی آگئی۔
“میں نے تم سے صرف ایک سوال کیا ہے۔ جواب دو… کیا وہ آج آیا ہے؟”
لڑکی نے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں… آج وہ یونیورسٹی نہیں آیا۔”
یہ سنتے ہی زرنش کے دل میں ایک عجیب سی اداسی اتر گئی۔
“کیا… اس نے واقعی یونیورسٹی چھوڑ دی؟”
یہ خیال آتے ہی وہ بےچین ہو گئی۔
نہیں…
وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔
اس کا آخری سال تھا۔
امتحانات بھی قریب تھے۔
وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور اپنے خاندان کی امید تھا۔
وہ اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑنے والوں میں سے نہیں تھا۔
پھر آخر وہ گیا کہاں؟
وہ انہی سوچوں میں گم کھڑی تھی کہ اچانک وہی چار فرینڈز لڑکیاں اس کے قریب آ گئیں۔مریم ۔لائبہ ۔بشرا۔ہانیہ
سب سے آگے مریم تھی۔
“زرنش! کیسی ہو؟”
زرنش نے اس کی طرف دیکھا، مگر اس کی آنکھوں میں پہلے جیسی اپنائیت نہیں تھی۔
“ٹھیک ہوں۔”
مختصر سا جواب دے کر وہ آگے بڑھنے لگی۔
“ارے، کہاں جا رہی ہو؟”
مریم نے اسے روک لیا۔
“چلو، آج ساتھ لنچ کرتے ہیں۔”
زرنش تلخ مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف مڑی۔
“تم لوگوں کے ساتھ لنچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔”
مریم حیران رہ گئی۔
“کیا مطلب؟”
“مطلب بالکل صاف ہے۔”
اس کی آواز پہلے سے زیادہ سرد ہو چکی تھی۔
“کل تم سب وہاں موجود تھیں۔ تم سب نے دیکھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا تھا… مگر تم میں سے ایک بھی آگے نہیں آئی”۔۔۔۔۔
کچھ لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر ایک لڑکی بولی۔
“اور تم کون سا کسی کے لیے ایسا کرتی؟”
زرنش نے فوراً جواب دیا۔
“کم از کم میں اپنے دوستوں کا ساتھ تو نہیں چھوڑتی۔ مشکل وقت میں بھاگتی نہیں ہوں۔”
اس کی بات سن کر مریم کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
“جب تم خود اُس کے پیچھے پڑی ہوئی تھیں، تو اب بھگتو بھی۔”
زرنش چونک گئی۔
یہ وہی مریم تھی…
جو ہر وقت اس کے آگے پیچھے گھوما کرتی تھی۔
آج اچانک اس کے لہجے میں اتنی نفرت کیوں تھی؟
مریم طنزیہ انداز میں بولی،اب مریم نے بھی کوئی لحاظ نہیں رکھا۔۔۔
“کیسا لگ رہا ہے؟ پہلی بار کسی لڑکے نے تمہیں سب کے سامنے ریجیکٹ کیا۔”
زرنش نے غصے سے اسے دیکھا۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟”
“مطلب بالکل صاف ہے۔ ہر لڑکا تم سے دوستی کرنا چاہتا تھا، ہر کوئی تمہاری تعریف کرتا تھا، اور تم خود کو سب سے خاص سمجھتی تھیں۔”
وہ ہنسی۔
“اب ایک لڑکے نے تمہیں اہمیت نہیں دی الٹا سب کے سامنے تمہاری بےعزتی کی۔۔ تم سے اب برداشت نہیں ہو رہا؟”
تو تم برا لگ رہا ہے۔۔۔
زرنش کی مٹھیاں بھنچ گئیں۔
غصہ اپنے عروج پر تھا، مگر اس نے خود پر قابو رکھا۔
پھر اچانک اس نے سیدھا سوال کر دیا۔
“وہ پوسٹ… تم نے کی تھی؟”
یہ سنتے ہی مریم کے چہرے پر لمحہ بھر کے لیے عجیب سا تاثر آیا، مگر اگلے ہی لمحے وہ ہنس پڑی۔
“میں؟ میں کیوں کروں گی؟ مجھے تمہارے اس مڈل کلاس لڑکے سے کیا لینا دینا؟”
باقی لڑکیاں بھی فوراً بول اٹھیں۔
“زرنش، تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔”
زرنش نے ایک ایک چہرے کو غور سے دیکھا، پھر پرسکون لہجے میں بولی۔
میں نے تو تم لوگوں سے پوچھا ہی نہیں ۔۔وہ تینوں بھی پریشان ایک دم سے ہو گئی۔۔۔اس روز تم تینوں میرے ساتھ تھی اور تم لوگوں کو پتہ تھا تصویر کے بارے میں۔۔۔
“سچ زیادہ دیر تک نہیں چھپتا…”بس یاد رکھنا میں کسی کو آسانی سے معاف نہیں کرتی۔۔۔۔۔بہت جلد تم لوگ اس چیز کا انجام دیکھو گی۔۔۔
یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلی گئی، جبکہ پیچھے کھڑی لڑکیاں ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
وہ تینوں مریم کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔۔کیا اسے سچ میں پتہ چل گیا۔۔۔۔۔ ہم پر شک کر رہی ہے مریم بھی عجیب سوچتی ہے اور کہتی ہے چھوڑو اس بات کو اسے جو کرنا ہے کرنے دو چلو چلتے ہیں۔۔۔۔
غصے، دکھ اور بےبسی نے اس کا دل جکڑ رکھا تھا۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ کرے تو کیا کرے۔
ایک طرف اس شخص کی تلاش تھی جس نے اس کے خلاف یہ گھناؤنی سازش رچائی تھی، اور دوسری طرف ایک ایسا بوجھ، جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے دل پر مزید بھاری ہوتا جا رہا تھا۔
وہ…
آن سے معافی بھی نہیں مانگ سکی تھی۔
انہی سوچوں میں گم وہ بےاختیار گاڑی چلاتی رہی۔ اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ کب اس کی گاڑی اسی ریسٹورنٹ کے سامنے آ کر رک گئی، جہاں کل اس کی ملاقات پری سے ہوئی تھی۔
گاڑی پارک کرتے ہوئے اس کی نظریں بےاختیار سامنے والی عمارت پر جا ٹھہریں۔
کل پری اسی عمارت میں گئی تھی۔۔ ریسٹورنٹ سے نکل کر۔۔۔
اس نے کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا۔
صبح کے ٹھیک دس بج رہے تھے۔
کل بھی وہ تقریباً بارہ بجے یہیں ملی تھی۔
“شاید… وہ اسی عمارت میں کام کرتی ہے۔”لنچ کے لیے ائی تھی ریسٹورنٹ میں۔۔
اس نے دل ہی دل میں سوچا اور گاڑی میں ہی بیٹھی اس کا انتظار کرنے لگی۔
وقت آہستہ آہستہ گزرتا گیا۔
دس بجے…
ساڑھے دس…
گیارہ…
پھر ساڑھے گیارہ…
ہر بار جب عمارت کا دروازہ کھلتا، اس کی نظریں بےاختیار اسی طرف اٹھ جاتیں۔
کبھی کوئی ملازم باہر نکلتا، کبھی کوئی کافی کا کپ ہاتھ میں لیے سیڑھیاں اترتا، تو کبھی کوئی فون پر بات کرتے ہوئے پارکنگ کی طرف بڑھ جاتا۔
مگر…
پری کہیں نظر نہیں آئی۔
آخرکار گھڑی کی سوئیاں بارہ پر آ کر رک گئیں۔وہ جس نے آج تک کبھی کسی کا ویٹ نہیں کیا تو اسے ویٹ کرنا سخت برا لگتا ہے لیکن آج وہ اتنا ویٹ کر رہی تھی۔۔۔
صرف ایک لڑکی کے لیے۔۔
زرنش نے ایک بار پھر عمارت کی طرف دیکھا، مگر اس کی امید ایک بار پھر ٹوٹ گئی۔
“شاید… آج وہ نہیں آئے گی۔”
اس نے مایوسی سے سیٹ کے ساتھ سر ٹکا دیا۔
انتظار کرتے کرتے پورا تین گھنٹہ گزر گئے
اب بھوک بھی شدت سے محسوس ہونے لگی تھی۔
اس نے آہ بھری۔
“چلو… کم از کم کچھ کھا ہی لیتی ہوں۔”
وہ گاڑی سے اتری اور آہستہ قدموں سے ریسٹورنٹ کے اندر چلی گئی۔
ایک کونے والی میز کا انتخاب کیا، جہاں سے باہر والی سڑک صاف دکھائی دے رہی تھی۔
اس نے ایک کافی اور ایک سینڈوچ آرڈر کیا۔
کھانا سامنے آ گیا، مگر اس کی نظریں اب بھی بار بار شیشے کے پار اسی عمارت کے دروازے پر جا ٹھہرتیں۔
ہر بار یہی امید جاگتی…
“شاید اب آ جائے…”
لیکن ہر بار مایوسی ہی اس کا مقدر بنتی۔
کھانا ختم ہونے کے بعد اس نے خاموشی سے بل ادا کیا اور بھاری قدموں سے باہر نکل آئی۔
دل اب بھی کسی انجانی امید سے بندھا ہوا تھا۔
وہ پارکنگ ایریا میں پہنچی، گاڑی اسٹارٹ کی اور جیسے ہی واپس جانے کے لیے گاڑی موڑی، اچانک سامنے والی عمارت کے باہر ایک سیاہ رنگ کی گاڑی آ کر رکی۔
زرنش کی نظریں فوراً اس گاڑی پر جم گئیں۔
اگلے ہی لمحے ایک مانوس وجود گاڑی سے باہر اترا۔
سیاہ عبایا میں، ہاتھ میں فائل اور چہرے پر ہمیشہ کی طرح نقاب میں تھی اس نے فورا اسے پہچان لیا۔۔۔
زرنش کے چہرے پر بےاختیار مسکراہٹ آگئی۔
“آخرکار مل ہی گئی…”
اس نے جلدی سے گاڑی ایک طرف روکی، دروازہ کھولا اور تقریباً دوڑتے ہوئے اس کی طرف بڑھی۔
ادھر پری نے گاڑی لاک کی اور عمارت کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی کہ پیچھے سے کسی نے قدرے اونچی آواز میں پکارا۔
“Excuse me… Madam!”
آواز سنتے ہی پری کے قدم وہیں رک گئے۔
وہ آہستہ سے مڑی…
اور اس کی نظریں سیدھی زرنش پر جا ٹھہریں۔۔۔۔۔
جی۔۔۔زرنش نے کہا ؟؟؟کیا آپ سے بات ہو سکتی ہے صرف پانچ منٹ کے لیے۔۔۔پری جواب دینے کے لیے سوچ ہی رہی تھی۔۔۔۔ کہ وہ پھر سے بولی پولیس صرف جسٹ پانچ منٹ آپ کے لوں گی۔۔۔
پری نے مختصر سا “اوکے” کہا اور سامنے موجود ریسٹورنٹ کی طرف بڑھ گئی۔ اندر جا کر اس نے ایک خالی میز کا انتخاب کیا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ چند لمحوں بعد درنش بھی اس کے سامنے آ کر بیٹھ گئی۔
پری نے خاموشی توڑتے ہوئے پرسکون لہجے میں کہا،
“ہاں، بتاؤ۔”
درنش نے لب تو کھولے، مگر الفاظ جیسے گلے ہی میں اٹک گئے۔ وہ بار بار نظریں جھکا رہی تھی، پھر پری کی طرف دیکھتی اور فوراً نگاہیں چرا لیتی۔ اس کی گھبراہٹ اس کے چہرے سے صاف جھلک رہی تھی، جیسے وہ بہت کچھ کہنا چاہتی ہو، مگر ہمت نہ جمع کر پا رہی ہو۔
پری خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے درنش کی بے چینی اور جھجھک دونوں محسوس کر لی تھیں۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نرمی سے کہا،
“کوئی بات نہیں… اگر ابھی کہنا مشکل لگ رہا ہے تو خود کو مجبور مت کرو۔”
اس کی بات سنتے ہی درنش نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، جیسے سمجھ ہی نہ پائی ہو کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی صاف نظر آ رہی تھی۔
تب پری نے نرم لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔
درنش نے اس کی بات سمجھتے ہوئے آہستہ سے سر ہلایا۔ چند لمحے خاموش رہی، پھر جیسے اچانک اسے اپنی اصل بات یاد آئی۔
“تھینک یو… اُس دن کے لیے۔”
پری نے بےنیازی سے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
“کوئی بات نہیں۔”
درنش نے ہچکچاتے ہوئے دوبارہ کہا۔پری کے نقاب میں ہونے کی وجہ سے وہ اس کے تاثرات سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
“اور… اُس دن کا بل؟ آپ مجھے بتا دیں، میں پیمنٹ کر دیتی ہوں۔”
“اس کی ضرورت نہیں ہے۔”
اتنا مختصر جواب سن کر درنش ایک بار پھر خاموش ہو گئی۔ اس کے ذہن میں بےشمار باتیں گردش کر رہی تھیں۔۔۔۔۔
مگر سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گفتگو کا آغاز کہاں سے کرے۔۔۔۔وہ پہلی دفعہ نروس ہو رہی تھی وہ بھی ایک لڑکی کے سامنے اسے سمجھ نہیں ا رہی تھی کیا بولے۔۔۔۔
پری خاموشی سے اس کی کیفیت کا جائزہ لے رہی تھی۔ آخرکار اس نے خود ہی خاموشی توڑی۔
“کیا تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہے؟”
درنش نے فوراً نفی میں سر ہلا دیا۔
“نہیں…”
چند لمحوں بعد اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا،
“آپ… اُس دن کے بارے میں کچھ پوچھیں گی نہیں؟”
پری نے پرسکون لہجے میں جواب دیا،
“نہیں۔ اگر تم خود مجھے بتانا چاہو، تو ضرور سنوں گی۔”
یہ سنتے ہی درنش نے تیزی سے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں… میں بتانا چاہتی ہوں۔”
“ٹھیک ہے،” پری نے کہا، “لیکن پہلے کچھ آرڈر کر لیتے ہیں۔ باتیں آرام سے ہوں گی۔”
اس نے ویٹر کو بلا کر اپنے لیے کھانے کا آرڈر دیا۔ چند ہی منٹوں بعد کھانا میز پر آ گیا۔پری نے اسے دیکھتے ہوئے کہا کیا تم نہیں کھاؤ گے جس پر اس نے کہا نہیں میں کھا چکی ہوں۔۔۔۔ پری نے سکون سے کھانا شروع کیا۔۔۔
پھر درنش کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔۔۔۔”اب شروع ہو جاؤ۔”
درنش نے ایک گہرا سانس لیا اور شروع سے لے کر آخر تک ساری بات اسے بتا دی۔ وہ بولتی جا رہی تھی، جبکہ پری خاموشی سے کھانا بھی کھا رہی تھی اور پوری توجہ کے ساتھ اس کی ہر بات سن بھی رہی تھی۔ اس نے درمیان میں ایک بار بھی اسے نہیں روکا۔
جب درنش اپنی بات مکمل کر چکی تو پری بھی کھانا ختم کر چکی تھی۔ اس نے ٹشو سے اپنے ہاتھ صاف کیے، پانی کا ایک گھونٹ لیا اور چند لمحے سوچنے کے بعد بولی،
“باقی کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے… لیکن ؟؟؟۔”
درنش نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“۔تمہیں وہ پوسٹ نہیں کرنی چاہیے تھی۔”
میں نے وہ پوسٹ نہیں کی۔۔۔
وہ آہستہ سے بولی،
“مجھے اندازہ ہے۔۔مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی مجھے فیملی کو بیچ میں نہیں لانا چاہیے تھا۔۔۔ بٹ یقین کرو مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ اس کی سسٹر ہے۔۔۔میں تو یقین کر بھی لوں تو کیا وہ یقین کرے گا۔۔۔
جس پر زرنش سر ہلاتے ہوئے کہتی ہے ہاں یہ تو بات ہے۔ بٹ میں ایک کام کر سکتی ہوں۔۔۔اگر میں سچائی سامنے لاؤں۔۔۔
کہ وہ پوسٹ کس نے کی تھی…”ہاں شاید یہ ہو سکتا ہے پر کیا تمہیں پتہ ہے وہ کس نے کی۔۔۔ جس پر زرنش سر ہلاتی ہے ہاں مجھے اندازہ ہے۔۔۔
پری نے فوراً اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہمیشہ ہم دور کے دشمن تلاش کرتے رہتے ہیں، جبکہ اکثر دشمن ہمارے سب سے قریب کھڑا ہوتا ہے۔”
چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے پوچھا،
“یہ معاملہ تم خود سنبھال لوگی؟”
درنش نے اعتماد سے سر ہلایا۔
“ہاں۔۔ میں بی ایس ماس کمیونیکیشن کر رہی ہوں، اور میں چاہتی ہوں کہ یہ معاملہ خود ہی ہینڈل کروں۔”
اس بار پری کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
“یہ تو اچھی بات ہے۔”
پھر اس نے پرسکون لہجے میں پوچھا،
“اور کچھ؟”
درنش نے ایک لمحے کے لیے نظریں جھکا لیں، جیسے اس کے دل میں ابھی بھی بہت سی باتیں دفن ہوں، مگر وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ انہیں زبان دے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔
پری نے چند لمحے خاموش رہ کر کہا،
“اگر کبھی یہ معاملہ تمہارے لیے مشکل ہو جائے تو اپنی فیملی سے مدد لے لینا۔ مجھے یقین ہے، وہ ضرور تمہارا ساتھ دیں گے۔ آخر فیملی ہی وہ سہارا ہوتی ہے جو ہر مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑا رہتی ہے۔”
یہ سنتے ہی درنش کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس نے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں… میں اپنی فیملی کو کچھ نہیں بتا سکتی۔”
اس کی آواز میں بےبسی صاف محسوس ہو رہی تھی۔
“وہ پہلے ہی میری اس ڈگری کے خلاف ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں فیشن ڈیزائننگ یا بزنس میں جاؤں۔۔
، لیکن میں نے بی ایس ماس کمیونیکیشن کا انتخاب کیا، کیونکہ میرا خواب رپورٹر بننے کا ہے۔”
وہ ایک لمحے کے لیے رکی، پھر ہلکی سی تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
“اور اگر میری امی کو اس بارے میں پتہ چل گیا… تو وہ بہت ناراض ہو جائیں گی۔ آپ میری امی کو نہیں جانتیں، وہ اس بات پر بہت بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیں گی۔ اسی لیے… میں انہیں کچھ نہیں بتا سکتی۔”
پری نے خاموشی سے اس کی پوری بات سنی، بغیر کسی تبصرے کے۔
درنش نے گہرا سانس لیا اور قدرے نرم لہجے میں بولی،
“ویسے… تھینک یو سو مچ۔”
پری نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
درنش نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“بہت عرصے بعد میں نے کسی سے دل کی بات کی ہے۔ پہلے میں اپنی ہر بات اپنے بڑے بھائی سے شیئر کرتی تھی، لیکن وہ اس وقت پاکستان میں نہیں ہیں۔ اگر وہ یہاں ہوتے تو شاید میں آپ کو کبھی پریشان نہ کرتی۔ میں ہمیشہ انہی سے مشورہ لیتی تھی۔”
اس نے نظریں جھکا لیں۔
“لیکن آج… نہ جانے کیوں، مجھے لگا کہ میں ایک ایسے انسان سے بات کر سکتی ہوں جسے میں ٹھیک سے جانتی بھی نہیں۔”
پری کے چہرے پر ہلکی سی نرمی آئی۔
“کوئی بات نہیں۔ اگر کبھی بات کرنے کا دل چاہے… تو مجھ سے بات کر سکتی ہو۔”
درنش کی آنکھوں میں ایک دم امید کی چمک ابھری۔
“کیا… ہم دوست بن سکتے ہیں ۔۔۔میں کسی سے دوستی نہیں کرتی۔۔وہ خاموشی سے اپنی کرسی سے اٹھی، اپنا ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور جانے لگی۔
درنش نے جلدی سے اسے آواز دی۔
“رکیے… کیا میں آپ کا نمبر لے سکتی ہوں؟ اگر کبھی مجھے آپ سے بات کرنے کی ضرورت پڑے…”
اور آپ کا نام کیا ہے۔۔
پری کے قدم رک گئے۔
وہ چند لمحوں تک خاموشی سے درنش کو دیکھتی رہی، جیسے کچھ سوچ رہی ہو۔ پھر اس نے کہا ۔۔۔۔
“اوکے۔”۔۔۔۔۔
پری ۔۔زرنش نے حیرت سے اسے دیکھا جس پر اس نے کہا میرا نام پری ہے۔۔زرنش نے اپنا سر ہلایا۔۔
اس نے اپنا نمبر بتایا، اور جب درنش نے محفوظ کر لیا تو
پرسکون لہجے میں بولی،
“اگر کبھی کوئی مشکل ہو… تو مجھے کال کر لینا۔”
درنش کے چہرے پر بےاختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔
“تھینک یو… تھینک یو سو مچ۔”
پری نے صرف ہلکا سا سر ہلایا، پھر مڑی اور آہستہ آہستہ ریسٹورنٹ سے باہر نکل گئی، جبکہ درنش کافی دیر تک اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔۔۔
پری کے جانے کے بعد بھی درنش کافی دیر تک وہیں بیٹھی رہی۔ اس کی نظریں ریسٹورنٹ کے دروازے پر جمی تھیں، جہاں سے پری ابھی چند لمحے پہلے باہر نکلی تھی۔
اس کے ذہن میں بس ایک ہی خیال گردش کر رہا تھا۔
“کیا واقعی کوئی اجنبی بھی اتنا مخلص ہو سکتا ہے؟ بغیر کسی مطلب کے کسی کی بات سن سکتا ہے… اس کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو سکتا ہے؟”
وہ پہلی بار کسی ایسے انسان سے ملی تھی، جس نے نہ اس سے غیرضروری سوال کیے نہ اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا، اور نہ ہی اسے جج کیا۔
سچ میں وہ ایک پری تھی پری کی طرح اس کی ہیلپ کرنے اگئی تھی۔۔۔
شاید… اسی لمحے ان دونوں کی دوستی کا آغاز ہوا تھا۔بٹ آج تک پری نے اسے اپنا دوست نہیں کہا تھا ۔۔۔اور وہ اکثر پوچھتی تھی کیا ہم دوست ہیں جبکہ پری ہمیشہ خاموش رہتی تھی اس کی بات پر۔۔۔۔
اس کے بعد وقت آہستہ آہستہ گزرتا گیا۔
ملاقاتیں کم ہی ہوتیں، لیکن باتیں تقریباً روز ہو جاتی تھیں۔ درنش کبھی کسی بہانے سے پری کو کال کر لیتی، کبھی اپنے دن بھر کے واقعات سناتی، تو کبھی اپنے دل کی الجھنیں۔ اور پری… ہمیشہ خاموشی، تحمل اور صبر سے اس کی ہر بات سنتی رہتی۔
پری نے نہ کبھی اس سے ذاتی سوال پوچھا نہ اس کی فیملی کے بارے میں اور نہ ہی زرنش نے کبھی پری ایسے سوال کے کہ تم کون ہو کہاں سے ہو ۔۔۔
وہ ایک دوسرے کی پرسنل لائف کے بارے میں کبھی بات نہیں کرتی تھی۔۔۔۔۔۔انہی یادوں میں کھوئی پری اچانک چونکی، جب کسی نے اس کے سامنے ہاتھ ہلایا۔
“ہیلو، میڈم! کہاں کھو گئی ہیں؟”
درنش کی آواز سن کر پری حال میں واپس آئی۔ اس نے ایک پل کے لیے پلکیں جھپکائیں، پھر ہلکا سا سر جھٹکتے ہوئے بولی،
“ہاں… کچھ نہیں۔”
پھر اس نے سوالیہ انداز میں درنش کو دیکھا۔
“کیا کہا تم نے؟”
درنش مسکراتے ہوئے بولی،
“میں کہہ رہی تھی… میری دادی آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔”
یہ سنتے ہی پری نے اپنی مخصوص معصوم حرکت کی۔ اس نے آنکھیں ذرا سی سکیڑ لیں، بھنویں اوپر اٹھائیں اور بناوٹی گھبراہٹ کے ساتھ بولی،
“کیوں بھئی؟ میں نے ایسا کیا کر دیا؟”
درنش اس کے تاثرات دیکھ کر بےاختیار ہنس پڑی۔
“ارے ارے… ڈریں نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”
وہ ہنسی دباتے ہوئے بولی،
“بس… وہ میری نئی دوست سے ملنا چاہتی ہیں۔”
پھر شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے اس نے مزید کہا،
“اور یہ بھی دیکھنا چاہتی ہیں کہ آخر میرے پرانے دوستوں سے جان چھڑوانے میں کس کا ہاتھ ہے۔۔۔
میں نے کب کہا کہ تم میری دوست ہو۔۔
“میں نے تو کچھ نہیں کیا، سب کچھ تم نے خود ہی کیا ہے۔”
درنش نے فوراً شرارتی انداز میں جواب دیا۔۔۔زرنش اس کی یہ باتیں سننے کی عادی تھی اس لیے اب اسے اچھا لگتا تھا جب وہ یہ کہتی تھی۔۔۔
“ہاں… لیکن میں دادی اماں سے آپ کی بہت باتیں کرتی رہتی ہوں۔”
پری نے بھنویں ہلکی سی اٹھائیں۔
“اچھا؟”
“جی۔ میں انہیں اکثر آپ کے بارے میں بتاتی ہوں۔ آپ کیسے ہیں، کیسے بات کرتی ہیں، لوگوں کی مدد کیسے کرتی ہیں… اور پتہ ہے؟”
وہ ذرا سا جھک کر رازدارانہ انداز میں بولی،
“انہیں آپ بہت اچھی لگی ہیں، حالانکہ انہوں نے ابھی تک آپ کو دیکھا بھی نہیں۔”
پری نے حیرت سے اسے دیکھا۔کیا میں تمہیں دادی ٹائپ لگتی ہوں۔۔۔
درنش مسکرا دی۔
“کیونکہ میں جب بھی آپ کے بارے میں بتاتی ہوں، وہ کہتی ہیں کہ تمہاری یہ دوست بہت سمجھدار لگتی ہے۔ اور… مجھے بھی لگتا ہے کہ آپ دونوں کی نیچر کافی حد تک ایک جیسی ہے۔”
پری نے اسے گور کر دیکھا۔۔۔۔تمہارا تو واقعی کچھ نہیں ہو سکتا۔”
درنش کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔۔اچھا، ٹھیک ہے۔ پھر کبھی ملاقات ہو جائے گی۔ ابھی مجھے جانا ہوگا، کافی کام ہے ۔ “
پری جیسے ہی جانے لگی تو اس نے محسوس کیا کہ زرنش مسلسل اسے دیکھے جا رہی ہے۔
” اب کیا ہوا ؟ اس طرح کیوں گھور رہی ہو؟”
زرنش نے ہلکی سی جھجک کے ساتھ کہا، میں بس یہ سوچ رہی ہوں کہ آپ دیکھنے میں کیسی ہوں گی۔ اتنے عرصے میں میں نے آپ کو ایک بار بھی بغیر نقاب کے نہیں دیکھا۔ جب بھی دیکھا، نقاب میں ہی دیکھا۔”
پری ہنس پڑی۔
” شاید اس لیے کہ جو مجھے دیکھ لیتا ہے، وہ مر جاتا ہے۔”
زرنش نے قہقہہ لگایا۔
“کیا مطلب ؟”
پری نے سنجیدہ ہو کر کہا۔۔ “میں ایسی ہوں… جو بھی دیکھے ہے وہ مر جاتا ہے ۔۔ “اگر تم نے مرنا ہے تو بتاؤ۔۔۔
نش نے بھی فوراً مذاق میں جواب دیا، د پھر کیا میں یہ سمجھوں کہ پارسل اندر سےخراب ہے؟”
پری نے ایک بھنویں اٹھاتے ہوئے کہا، ” جیسی تمہاری مرضی… جو چاہو سمجھ لو ۔ “
پھر وہ مسکراتے ہوئے بولی، اچھا، اب واقعی مجھے جانا ہوگا۔ “
“اوکے، پھر تین دن بعد ملاقات ہوگی ۔ “
“ان شاء الله – “
بہ پری ریسٹورنٹ سے باہر نکلی اور سیدھی اپنے دفتر کی طرف روانہ ہو گئی۔۔۔۔۔
زرنش چلو بھئی، کام ہو گیا… اب واپس آفس چلتے ہیں ۔ “
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پری اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو رومی اور ہنی پہلے ہی اس کا انتظار کر رہی تھیں۔ جیسے ہی پری اندر آئی، دونوں احتراماً کھڑی ہو گئیں۔
کمرے کے درمیان شیشے کی ایک بڑی سی میز رکھی ہوئی تھی، جہاں بیٹھ کر پری اپنا تمام کام سنبھالتی تھی۔ جبکہ بائیں جانب آرام دہ صوفوں کا ایک سیٹ رکھا تھا تاکہ میٹنگ یا غیر رسمی گفتگو وہیں بیٹھ کر کی جا سکے۔
ہنی اور رومی ایک صوفے پر بیٹھی تھیں، جبکہ پری سامنے والے صوفے پر جا کر بیٹھ گئی۔
“ہاں جی تو بولو۔”
رومی نے فوراً فائل اٹھا کر اس کی طرف بڑھا دی، جبکہ ہنی اپنے ڈیزائن دکھانے لگی۔
پری نے ایک ایک ڈیزائن غور سے دیکھا، پھر سر ہلاتے ہوئے بولی،
“ڈیزائن واقعی اچھے ہیں۔ امید ہے میری سرمایہ کاری ضائع نہیں جائے گی۔”
ہنی پُراعتماد لہجے میں بولی،
“ایسا ہرگز نہیں ہوگا، میم۔ ہم آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔”
“اچھی بات ہے۔” “اگلے مہینے سے تمہارا کام باقاعدہ شروع ہو جائے گا، اور مجھے امید ہے کہ ایک دن تم لوگ مجھ سے بھی آگے جاؤ گی۔”
دونوں کے چہروں پر خوشی پھیل گئی۔
“ان شاء اللہ،” رومی مسکراتے ہوئے بولی، “اور اُس دن ہم آپ کی ناکامیابی کا جشن بھی منائیں گے۔”
پری ہلکا سا مسکرائی۔
“یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کون کس سے آگے جاتا ہے۔ فی الحال پوری توجہ اپنے کام پر دو۔”
اس نے فائل پر دستخط کیے اور واپس رومی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا،
“ٹھیک ہے، اب اپنا کام شروع کرو۔ اور اگر کسی بھی قسم کا مسئلہ یا پریشانی ہو تو بلا جھجک مجھے بتانا۔”
“جی ضرور،” ہنی نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔ہنی تمہارے لیے ایک کام ہے جبکہ وہ حیرت سے پری کو دیکھتی ہے۔۔۔۔پھر پری اٹھتی ہے اور اپنے ٹیبل سے کچھ کاغذ اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دیا ہے یہ ڈیزائن ہے ۔۔۔
پری نے پُرسکون لہجے میں کہا،
“میں چاہتی ہوں تم میرے عبایا ڈیزائن کرو۔ آخر مجھے بھی تو پتا چلے کہ تم نے اب تک کیا سیکھا ہے اور تم اپنی صلاحیت سے مجھے کتنا حیران کر سکتی ہو۔”
ہنی نے جیسے ہی فائل کھولی، اس کی نظریں ڈیزائنز پر جم گئیں۔ ہر ڈیزائن نہایت نفیس، خوبصورت اور منفرد تھا۔ اس نے حیرت سے ایک نظر پری کو دیکھا، پھر دوبارہ صفحات پلٹے۔ فائل میں کل پانچ “عبایا کے ڈیزائن موجود تھے۔
“کیا… یہ پانچوں تیار کرنے ہیں؟” ہنی نے حیرت سے پوچھا۔
پری نے اثبات میں سر ہلایا۔
“جی ہاں، پانچوں کے پانچوں۔ بلکہ میں چاہتی ہوں کہ اگلے مہینے تک یہ سب مکمل ہو کر میرے سامنے ہوں۔”
ہنی نے ایک گہرا سانس لیا، پھر اعتماد سے بولی،
“جی، وقت کم ضرور ہے، لیکن میں یہ کام کر لوں گی۔”ہنی کے چہرے پر پُراعتماد مسکراہٹ پھیل گئی۔اسے ٹائم افی بی روم اندر داخل ہوئی ۔۔۔
“آپ بے فکر رہیں، میں آپ کو مایوس نہیں کروں گی۔ اگلے مہینے تک پانچوں ابایا مکمل تیار ہوں گے۔۔۔
پری نے ہنی اور رومی کا حد سے زیادہ مؤدبانہ انداز دیکھا تو ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی۔افی کی طرف ائی برو اٹھا کر دیکھا پھر واپس ہنی اور رومی کی طرف دیکھا۔۔۔
“کیا بات ہے؟ آج تو تم دونوں بڑی شریف بنی ہوئی ہو۔”
رومی ہنستے ہوئے بولی،”آج ہم آپ کی بہنیں نہیں بلکہ آپ کی کلائنٹس بن کر آئے ہیں۔”
پری نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
“گڈ… اچھی بات ہے۔ پھر ایسے ہی رہا کرو۔”
یہ سن کر ہنی اور رومی ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنس پڑیں، جبکہ افی بولی یہ تو ناممکن لگتا ہے۔۔۔ کمرے کا ماحول بھی ہلکا پھلکا اور خوشگوار ہو گیا۔
اس کے بعد تینوں کام سے متعلق مزید گفتگو کرنے لگیں، اور ساتھ ہی ہلکی پھلکی باتوں سے ماحول بھی خوشگوار ہو گیا۔۔۔
رومی اور ہنی کے جانے کے بعد پری ایک گہرا سانس لے کر دوبارہ اپنی کرسی پر آ بیٹھی۔افی بی سامنے والی چیئر پر ا کر بیٹھ گئی۔۔۔ وہ ابھی اپنی فائلیں سمیٹ ہی رہی تھی کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، اور اگلے ہی لمحے اس کی سیکریٹری تیزی سے اندر داخل ہوئی۔ دروازہ بند کرتے ہوئے اس کے چہرے کی سنجیدگی صاف بتا رہی تھی کہ معاملہ معمول کا نہیں۔
پری نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
سیکریٹری نے خاموشی سے ٹیبلٹ اس کے سامنے رکھا۔ پری کی نظریں اسکرین پر دوڑنے لگیں۔ چند لمحے گزرتے ہی اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے اور وہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہو گئی۔
سیکریٹری نے دھیمی مگر فکرمند آواز میں کہا،
پری نے ٹیبلٹ افی کی طرف بڑھا دیا۔ افی نے اس پر نظر ڈالی تو اس کے چہرے پر پریشانی مزید گہری ہوگئی۔
“میم… یہ آج کا تیسرا کلائنٹ ہے جو ہمارے ساتھ کنٹریکٹ ختم کر رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی صحیح وجہ نہیں بتا رہا۔ صرف ایک ہی جواب ملتا ہے… ‘پرسنل ریزن’۔”
افی سنجیدگی سے بولی،”سمجھ نہیں آ رہا آخر اچانک ایسا کیا ہوگیا؟ یہ وہی کلائنٹس ہیں جو پچھلے پانچ سال سے ہمارے ساتھ کام کر رہے تھے۔”
پری خاموشی سے تھی۔ اس کے ذہن میں ایک کے بعد ایک سوال جنم لے رہے تھے، مگر کسی سوال کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔
افی نے پھر دھیمی آواز میں کہا،
“اگر یہی صورتحال رہی تو کمپنی کے لیے حالات بہت مشکل ہو جائیں گے۔ روز بروز کلائنٹس ہمارا ساتھ چھوڑتے گئے تو صرف نقصان ہی نہیں ہوگا، بلکہ اسٹاف کی تنخواہیں اور دوسرے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ہمیں جلد از جلد کچھ کرنا ہوگا۔”
پری نے گہرا سانس لیا۔
“دیکھتے ہیں… کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالیں گے۔”
تینوں اسی مسئلے پر گفتگو میں مصروف تھے کہ سیکریٹری کو اچانک کچھ یاد آیا۔
“میم، میں نے ذاتی طور پر بھی اس معاملے کی چھان بین کی ہے۔”
پری نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
“کیا پتا چلا؟”
“ہمارے کچھ کلائنٹس ‘شاہ کمپنی’ کی طرف جا رہے ہیں۔”
پری کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
“تمہیں اس بات کا یقین ہے؟”
“دو کلائنٹس کے بارے میں ابھی تصدیق نہیں ہوسکی، لیکن ایک کے بارے میں مکمل یقین ہے۔ وہاں میرا ایک جاننے والا کام کرتا ہے۔ اسی نے بتایا کہ اس کلائنٹ نے ہمارا کنٹریکٹ ختم کرکے شاہ کمپنی کے ساتھ معاہدہ سوچا ہے۔”
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
اسی دوران ہنی، جو اپنا موبائل آفس میں ہی بھول گئی تھی، اسے لینے واپس آئی۔ جیسے ہی وہ دروازے کے قریب پہنچی، اندر سے آنے والی گفتگو نے اس کے قدم روک دیے۔ وہ خاموشی سے دروازے کے باہر کھڑی رہی اور انجانے میں ساری باتیں سن لیں۔
اس کے دل میں ایک عجیب سی بےچینی اتر آئی۔
“کیا کمپنی واقعی اتنے برے حالات سے گزر رہی ہے؟۔۔۔۔
وہ ابھی انہی خیالوں میں گم تھی کہ اچانک اس کے موبائل کی رنگ ٹون بج اٹھی۔
کمرے کے اندر موجود تینوں چونک گئے۔
پری کی نظر سامنے والی میز پر پڑے موبائل پر گئی۔
“یہ موبائل یہاں کب رہ گیا؟”
افی اور سیکریٹری نے بھی فوراً اسی طرف دیکھا۔
اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا، ہنی نے جلدی سے دروازہ کھولا اور اندر آ گئی۔
“سوری… میرا موبائل یہیں رہ گیا تھا۔”
اس نے فوراً موبائل اٹھایا، ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ “بائے” کہا اور تیزی سے باہر نکل گئی۔
دروازہ بند ہوتے ہی تینوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
افی نے دھیرے سے کہا،
“کیا… اس نے ہماری باتیں سن لیں؟”
پری نے چند لمحے سوچا، پھر سر جھٹک دیا۔
“پتہ نہیں… “اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے دونوں کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔
پری ابھی بات کر ہی رہی تھی کہ اچانک اسے اپنی ناک میں کچھ گیلا سا محسوس ہوا۔ اس نے آہستگی سے حجاب کے اندر ہاتھ لے جا کر ناک کو چھوا۔ جب انگلی پر نظر پڑی تو اس پر تازہ خون لگا ہوا تھا۔ ایک لمحے کو اس کا دل دھڑکا۔۔۔۔۔
مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو سنبھال لیا۔ اس نے فوراً مٹھی بند کر لی تاکہ کسی کی نظر اس خون پر نہ پڑے، پھر بالکل معمول کے انداز میں سب کی طرف دیکھتے ہوئے پرسکون لہجے میں بولی،
“تم لوگ جا سکتے ہو۔” باقی میں دیکھ لوں گی۔”
“اوکے، میم۔”
افی اور سیکریٹری سر ہلا کر کمرے سے باہر نکل گئے۔۔۔
ان کے جاتے ہی پری نے ایک گہرا سانس لیا۔ جیسے ہی کمرے کا دروازہ بند ہوا، وہ تیزی سے اپنی کرسی سے اٹھی اور سیدھی واش روم کی طرف چلی گئی۔
واش روم کے آئینے کے سامنے پہنچ کر اس نے حجاب ہٹایا تو ناک سے خون مسلسل بہہ رہا تھا۔ اس نے فوراً ٹشو نکال کر خون صاف کیا اور ناک پر دبا لیا۔ چند لمحوں کے لیے اس نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اس کی آنکھوں میں نمی ضرور اتری، مگر اس نے خود کو رونے نہیں دیا۔
تقریباً دو منٹ بعد خون آہستہ آہستہ رک گیا۔ اس نے آئینے میں اپنی تھکی ہوئی اور زرد پڑتی ہوئی شکل کو دیکھا، پھر ہلکی سی کڑوی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ابھری۔
“تو آخرکار… برا وقت شروع ہو ہی گیا۔”
اس نے آہستہ سے خود سے کہا، پھر ایک گہرا سانس لے کر دوبارہ حجاب درست کیا، چہرے پر معمول کی سنجیدگی اوڑھی اور واش روم سے باہر نکل آئی۔
لیکن اسے معلوم تھا… یہ تو صرف آغاز تھا، ابھی نہ جانے قسمت نے اس کے لیے اور کتنے امتحان سنبھال رکھے تھے۔
لیکن وہ خود کو پہلے ہی تیار کر چکی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
———————————–
ارحم اپارٹمنٹ میں داخل ہوا تو ہال میں موجود صوفے پر مان پہلے سے بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ جیسے ہی اس کی نظر ارحم پر پڑی، وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
“کہاں گئے تھے تم؟” مان نے پوچھا۔
“پولیس اسٹیشن۔” ارحم نے مختصر سا جواب دیا۔
“پھر؟ کیا بنا؟”
ارحم نے نفی میں سر ہلایا۔
“فی الحال تو ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا، البتہ پولیس نے مجھے جانے کی اجازت دے دی ہے۔”
مان چند لمحے سوچ میں ڈوب گیا، پھر سنجیدگی سے بولا،
“جس نے بھی یہ سب کیا ہے، پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کیا ہے۔ خیر… سچ زیادہ دیر چھپا نہیں رہتا، ایک نہ ایک دن سب سامنے آ ہی جائے گا۔”
“میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔” ارحم نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔ “لاہور واپس جا کر سب سے پہلے فیکٹری کا ریکارڈ دیکھوں گا۔ آخر یہ سب ہوا کیسے؟ مجھے یقین ہے، اس میں کسی نہ کسی اندر کے آدمی کا ہاتھ ضرور ہے۔”
مان نے اثبات میں سر ہلایا۔
“واپس کب جا رہے ہو؟”
“آج ہی۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد میری فلائٹ ہے، میں لاہور واپس جا رہا ہوں۔”
ارحم اپنے کمرے کی طرف جانے ہی والا تھا کہ اس کی نظر مان پر پڑی، جو پہلے ہی تیار ہو کر نکلنے کے لیے کھڑا تھا۔
ارحم نے حیرت سے پوچھا، “تم کہاں جا رہے ہو؟”
مان نے پرسکون لہجے میں جواب دیا، “مجھے اپنا ایک ضروری کام نمٹانا ہے۔”
ارحم نے آنکھیں ذرا سکیڑ کر اسے مشکوک انداز سے دیکھا۔
“ایسا کون سا کام ہے جو تم یہاں کر رہے ہو؟”
مان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
“ہے ایک کام… وقت آنے پر بتا دوں گا۔ فی الحال تم اس کی فکر مت کرو۔۔۔۔
ارحم نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر ہلکا سا سر ہلا دیا۔
“ٹھیک ہے۔”
مان نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے اچانک پلٹ کر پوچھا،
“ویسے ایئرپورٹ کیسے جاؤ گے؟”
“میں ٹیکسی کر لوں گا۔” ارحم نے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے، پھر لاہور میں ملاقات ہوتی ہے۔”
“ان شاء اللہ۔”
دونوں نے ایک دوسرے سے خدا حافظ کہا، جس کے بعد مان اپارٹمنٹ سے باہر نکل گیا، جبکہ ارحم اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تاکہ روانگی سے پہلے اپنی پیکنگ مکمل کر سکے۔۔۔۔
لاہور پہنچتے ہی ارحم نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔۔۔۔۔
اس کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا…۔۔۔
آخر وہ لوگ مرے کیسے؟ ان کے ساتھ یہ سب کیوں ہوا؟ اور اس کے مال میں گڑبڑ کرنے والے لوگ کون تھے؟
ایئرپورٹ سے سیدھا وہ اپنے آفس پہنچا۔
اسے اچانک آفس میں دیکھ کر پورا اسٹاف حیران رہ گیا، کیونکہ سب یہی سمجھ رہے تھے کہ وہ آج گھر جائے گا اور آرام کرے گا۔
اس کا سیکریٹری، اویس، جلدی سے اس کے پاس آیا۔
“سر! آپ آج سیدھا آفس آ گئے؟ آپ نے تو گھر جانا تھا۔”
ارحم نے چلتے چلتے ہی جواب دیا۔
“نہیں، ابھی میرے لیے کام زیادہ ضروری ہے۔”
یہ کہہ کر وہ سیدھا اُس کمرے کی طرف بڑھ گیا جہاں فیکٹری اور گودام کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی جاتی تھی۔ دیوار پر لگی بڑی بڑی اسکرینوں پر مختلف کیمروں کی ریکارڈنگ چل رہی تھی۔
ارحم نے آپریٹر سے کہا،
“مجھے اُس دن کی پوری فوٹیج دکھاؤ، جس دن یہ سامان لوڈ کیا گیا تھا۔ ایک ایک لمحہ۔”
کئی گھنٹوں تک وہ پوری توجہ سے تمام ریکارڈنگ دیکھتا رہا، مگر اسے کوئی غیر معمولی بات نظر نہ آئی۔ سامان پوری طرح چیک ہونے کے بعد ہی گاڑی میں لوڈ کیا گیا تھا۔
اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے گہرا سانس لیا۔
“یعنی… گڑبڑ فیکٹری میں نہیں ہوئی۔”
اس کی نظریں اسکرین پر ہی جمی رہیں۔
“اس کا مطلب ہے کہ راستے میں کہیں سامان تبدیل کیا گیا ہے۔”
اب بھی اس کے ہاتھ کوئی مضبوط سراغ نہیں لگا تھا۔
وہ باہر آیا تو اویس اس کے ساتھ میں کھڑا تھا۔
“اویس، ایک کام کرو۔ مجھے ان تمام لوگوں کی مکمل تفصیلات چاہیے جو اس شپمنٹ سے وابستہ تھے۔ خاص طور پر یہ معلوم کرو کہ ان میں سے کس کے تعلقات سب سے زیادہ کس کے ساتھ تھے، وہ کن لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا، اور حالیہ دنوں میں اس کی سرگرمیاں کیا تھیں۔ مجھے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کی رپورٹ چاہیے۔”
“جی سر، میں فوراً کام شروع کرتا ہوں۔” اویس نے سنجیدگی سے کہا۔
ارحم اپنے کیبن میں واپس آ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ مسلسل اسی واقعے کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں ایک بات بجلی کی طرح کوندی۔۔۔۔۔
“ایک منٹ…”
اسے چند دن پہلے کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔۔۔
ارحم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“مجھے ایک بات بتاؤ… کچھ دن پہلے ایک آدمی مجھ سے ڈیل کرنے آیا تھا۔ جب اس نے مجھے رشوت دینے کی کوشش کی تھی تو میں نے اسے ڈانٹ کر آفس سے نکال دیا تھا۔”
وہ چند لمحے رکا، پھر سنجیدہ لہجے میں بولا،
“مجھے اس آدمی کی مکمل تفصیلات چاہیے۔ وہ کون تھا؟ کہاں سے آیا تھا؟ کس کمپنی سے تعلق رکھتا تھا؟ اس کی کمپنی کا بیک گراؤنڈ، اس کے پارٹنرز… مجھے ہر چیز معلوم کرو۔”
پھر اس نے آہستہ سے کہا،
“کچھ نہ کچھ ضرور گڑبڑ ہے… اور میرا دل کہہ رہا ہے کہ اس معاملے کا تعلق اسی آدمی سے ہے۔”
اویس نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔
“سر، سچ کہوں تو یہی بات میرے ذہن میں بھی آ رہی تھی۔”
ارحم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا،
“یہ بات صرف ہم دونوں کے درمیان رہے گی۔ تم شروع سے میرے ساتھ کام کر رہے ہو، اس لیے مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے۔ میں چاہتا ہوں تم یہ تحقیقات مکمل رازداری سے کرو۔ کسی تیسرے شخص کو اس کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔”
اویس نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا،
“آپ بے فکر رہیں، سر۔ میں پوری ایمانداری اور احتیاط کے ساتھ کام کروں گا، اور بہت جلد آپ کو آپ کو بتاتا ہوں۔۔
“ٹھیک ہے۔ جاؤ، کام شروع کرو۔”
“جی سر۔”
یہ کہہ کر اویس کمرے سے نکل گیا، جبکہ ارحم کرسی پر بیٹھا کھڑکی کے باہر دیکھنے لگا۔ اب اس کے ذہن میں ایک ہی بات تھی… یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا، بلکہ بہت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کھیلا گیا کھیل تھا، اور وہ ہر قیمت پر اس کھیل کے اصل کھلاڑی تک پہنچ کر رہے گا۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگلی صبح پری، رومی کے ساتھ گاڑی میں نکلی تھی۔ راستے میں رومی کو کچھ چیزیں لینی تھیں، اس لیے مارکیٹ کے قریب پہنچ کر پری نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا،
“تم گاڑی پارک کر لو، میں اندر سے چیزیں لے کر آتی ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے پری مارکیٹ کے اندر چلی گئی، جبکہ رومی گاڑی پارک کرنے کے لیے آگے بڑھ گئی۔
مارکیٹ میں کافی رش تھا، مگر کچھ دیر بعد رومی کو ایک جگہ مل ہی گئی۔ اس نے گاڑی وہاں پارک کی اور ابھی ڈرائیور سیٹ سے نکل کر دروازہ کھول ہی رہی تھی کہ اچانک سامنے کھڑی گاڑی ریورس ہونے لگی۔
رومی کچھ سمجھ پاتی، اس سے پہلے ہی سامنے والی گاڑی پیچھے آتے ہوئے اس کی گاڑی سے ٹکرا گئی۔
اچانک لگنے والے جھٹکے سے رومی کا بازو، جو ابھی گاڑی کے دروازے کے اندر ہی تھا، دروازے کے درمیان آ گیا۔ چوٹ لگنے سے اس کے بازو سے خون نکل آیا اور وہ درد سے کراہ اٹھی۔
مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ سامنے والی گاڑی میں بیٹھے ڈرائیور نے پیچھے مڑ کر دیکھا تک نہیں۔ اسے اندازہ ہی نہیں ہوا تھا کہ ریورس کرتے ہوئے اس کی گاڑی کسی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی ہے۔
اسی وقت سڑک کی دوسری جانب سے ایک لڑکا وہاں آیا، اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اندر جا کر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی اور وہ دونوں وہاں سے چلے گئے۔
اس لڑکے کو بھی اس بات کا ذرا سا اندازہ نہیں تھا کہ گاڑی ابھی کسی دوسری گاڑی سے ٹکرائی ہے۔
دوسری طرف پری واپس مارکیٹ سے باہر آ رہی تھی۔ اچانک اس کی نظر رومی پر پڑی تو وہ وہیں رک گئی۔
اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے گاڑی کو رومی کی گاڑی سے ٹکراتے دیکھا تھا۔
“رومی!”
پری فوراً گھبرا کر اس کی طرف بڑھی۔
وہ اپنے زخمی بازو کو دوسرے ہاتھ سے تھامے ہوئے تھی۔ بازو سے خون دیکھتے ہی پری کے چہرے پر پریشانی چھا گئی۔
وہ فوراً رومی کے پاس پہنچی اور اس کا زخمی بازو تھامتے ہوئے بے چینی سے بولی،
“رومی!
رومی نے درد سے چہرہ سکیڑتے ہوئے پری کی طرف دیکھا، جبکہ پری کی نظریں مسلسل اس کے زخمی بازو پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔
پری فوراً رومی کے قریب آئی اور گھبراہٹ میں اس کے زخمی بازو کو دیکھنے لگی۔ اس نے احتیاط سے زخم کا اندازہ کیا، پھر فوراً اپنی نظر اس گاڑی کی طرف دوڑائی جو ابھی وہاں سے آگے جا رہی تھی۔
پری نے جلدی سے اس گاڑی کا نمبر غور سے دیکھ کر اپنے ذہن میں محفوظ کر لیا۔۔۔
اس کے بعد پری نے فوراً رومی کا دوپٹہ لیا اور اس کے زخمی بازو پر احتیاط سے باندھ دیا تاکہ خون کم ہو جائے۔
“چلو، میں تمہیں فوراً ہسپتال لے کر چلتی ہوں۔”
پری نے رومی کو سہارا دیا اور اسے گاڑی میں بٹھایا۔ خوش قسمتی سے قریب ہی ایک ہسپتال موجود تھا، اس لیے پری نے بغیر وقت ضائع کیے گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ دی۔
راستے بھر پری کی نظریں بار بار رومی کے زخمی بازو پر جا رہی تھیں، ۔۔۔۔۔تم چکر تو نہیں ارہے جبکہ پری کو پتہ تھا وہ خون دیکھ کر تھوڑا گھبرا جاتی ہے جس پر رومی کہتی ہے نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔
پری رومی کو فوراً ایمرجنسی میں لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے اس کے زخمی بازو کا معائنہ شروع کیا، جبکہ اسی دوران پری کے فون کی گھنٹی بجنے لگی۔
پری نے فون کی اسکرین پر نظر ڈالی اور رومی سے بولی،
“تم پٹی کرواؤ، میں ابھی کال سن کر آتی ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے پری ایمرجنسی سے باہر نکل گئی، جبکہ رومی وہیں ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی رہ گئی۔
ڈاکٹر نے اس کے بازو کا دوبارہ معائنہ کیا اور پھر پرسکون انداز میں کہا،
“زخم زیادہ گہرا نہیں ہے، لیکن احتیاط کے لیے ایک انجیکشن لگانا پڑے گا۔”
انجیکشن کا سنتے ہی رومی کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
“انجیکشن؟”
اس نے گھبرا کر ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔
ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلایا۔
“جی، بس ایک چھوٹا سا انجیکشن ہے۔”
رومی نے بے اختیار اپنی نظریں جھکا لیں، جیسے صرف انجیکشن کا نام ہی اسے خوفزدہ کرنے کے لیے کافی ہو۔۔۔۔۔
رومی نے ڈاکٹر کو انجیکشن تیار کرتے دیکھا تو فوراً بول اٹھی،
“انجیکشن کی ضرورت نہیں ہے، میڈیسن سے کام چل جائے گا۔”
ڈاکٹر نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“کیا مطلب؟ آپ ڈاکٹر ہیں یا میں ڈاکٹر ہوں؟”
رومی نے فوراً اپنا بازو دیکھتے ہوئے کہا،
“نہیں، میرا مطلب ہے… اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں، مجھے کوئی درد بھی نہیں ہو رہا۔”
رومی نے انجیکشن سے بچنے کے لیے جب معصومیت سے کہا،
“مجھے کوئی درد نہیں ہو رہا، انجیکشن کی ضرورت نہیں ہے۔”
تو ڈاکٹر نے حیرت سے ہلکا سا سر اٹھایا اور اسے دیکھا۔
رومی بھی اسی لمحے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
چند لمحوں کے لیے دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے جا ملیں۔
رومی کی نگاہیں ایک پل کو اس کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔
ڈاکٹر نے وائٹ فریم والے چشمے پہن رکھے تھے، جو اس کے سنجیدہ اور پُرسکون چہرے پر بہت جچ رہے تھے۔۔۔وہ نوجوان بلاشبہ بہت وجیہہ اور پُرکشش تھا۔ چہرے پر سنجیدگی نمایاں تھی۔۔۔۔
ڈاکٹر نے بھی رومی کو حیرت سے دیکھا، جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو کہ چند لمحے پہلے انجیکشن سے خوفزدہ یہی لڑکی اب اتنے اطمینان سے اس کی بات کاٹ رہی تھی۔
ڈاکٹر کی نظریں ایک لمحے کے لیے رومی پر ٹھہر گئیں۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ رومی کے چہرے پر انجیکشن کا خوف ابھی بھی صاف نمایاں تھا۔ اس کی آنکھوں میں گھبراہٹ تھی، مگر معصومیت بھی اتنی ہی نمایاں تھی۔ وہ کچھ کہنے کے بعد فوراً نظریں چرا گئی، جیسے ڈاکٹر کی نگاہوں کا سامنا کرنا اسے خود انجیکشن سے بھی زیادہ مشکل لگ رہا ہو۔
ڈاکٹر نے چشموں کے پیچھے سے ایک بار پھر اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر وہی سنجیدگی قائم تھی، مگر نہ جانے کیوں اس لمحے اس کی نگاہیں چند ثانیے زیادہ رومی پر ٹھہر گئیں۔
پھر اچانک رومی نے بھی نظریں اٹھائیں۔
دونوں کی نگاہیں ایک بار پھر آپس میں جا ملیں۔
رومی نے فوراً نظریں جھکا لیں، جبکہ ڈاکٹر نے ہلکا سا سر پیچھے کرتے ہوئے اسے دیکھا، جیسے وہ اس عجیب سی گھبراہٹ کی وجہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
رومی نے فوراً اپنی نظریں چرا لیں۔
ڈاکٹر نے بھی کچھ کہے بغیر اپنا دھیان دوبارہ اس کے زخمی بازو کی طرف کر لیا۔۔۔۔۔۔
رومی نے بھی نظریں اٹھائیں تو پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔
وہ ایک وجیہہ نوجوان تھا، صاف ستھرا اور سلیقے سے سنورا ہوا۔ گھنے بھورے بال نفاست سے سیٹ تھے، جبکہ آنکھوں پر لگے چشمے اس کے سنجیدہ چہرے پر خوب جچ رہے تھے۔۔ سفید کوٹ میں وہ خاصا باوقار اور پُرسکون دکھائی دے رہا تھا۔ چہرے پر ہلکی سی داڑھی، متوازن نقوش اور گہری آنکھیں اس کی شخصیت کو مزید پُرکشش بنا رہی تھیں۔
اس کے انداز سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کم گو اور سنجیدہ مزاج کا انسان ہے۔ بے جا مسکرانا یا فضول گفتگو کرنا شاید اس کی عادت نہیں تھی۔ وہ ہر بات کو غور سے سننے اور پھر مختصر جواب دینے والا شخص معلوم ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔
رومی چند لمحوں تک اسے دیکھتی رہی، پھر جیسے اچانک اپنی نظروں کا احساس ہوا، فوراً نظریں جھکا لیں۔۔۔۔
اسی وقت پری بھی واپس اندر آ گئی۔
پری کی نظر ڈاکٹر پر پڑی تو وہ ایک لمحے کے لیے رک گئی۔
.عرشیان بھائی؟”
ڈاکٹر نے بھی اسے پہچان لیا تھا۔
ارے بہنا آپ ۔۔
پری نے مسکرا کر کہا۔۔۔
تو آج کل آپ کی ڈیوٹی یہاں پر ہے جس پر وہ کہتا ہے ۔۔۔
کیا کہہ سکتے ہیں ۔۔
یہ میری سسٹر ہے۔”
رومی نے فوراً حیرت سے پری کی طرف دیکھا۔
اس کی نظروں میں صاف سوال تھا کہ یہ ڈاکٹر کو کب سے جانتی ہے؟
ڈاکٹر نے پری کی طرف دیکھ کر کہا،
“بڑے کافی عرصے بعد ملاقات ہوئی ہے۔ کیسی ہیں آپ؟”
پری نے مسکرا کر جواب دیا،
“میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟”
“میں بھی بالکل ٹھیک ہوں۔”
دوسری طرف رومی کی پٹی ہو چکی تھی۔ نرس نے اس کے بازو پر اچھی طرح پٹی باندھ دی تھی۔ رومی نے فوراً موقع دیکھتے ہی اٹھنے کی کوشش کی۔
“چلیں پری، اب ہو گیا ہے۔”
پری نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیا” ہو گیا؟”
“جی، ہو گیا۔”
ڈاکٹر نے بھی حیرت سے رومی کی طرف دیکھا۔
اس کا انجیکشن تو ابھی لگا ہی نہیں تھا!
رومی نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا اور اسے ایک ایسی معصوم اور امید بھری نظر سے دیکھا، جیسے خاموشی سے کہہ رہی ہو، بس آج مجھے جانے دیں۔
ڈاکٹر چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر ہلکی سی سانس لے کر بولا،
“اوکے، میں آپ کو میڈیسن لکھ دیتا ہوں۔”
رومی کے چہرے پر فوراً سکون آ گیا۔
ڈاکٹر نے پُرزہ لکھ کر پری کی طرف بڑھایا۔
پری نے پُرزہ لیا ۔اور پوچھا کیا یہ سب ٹھیک ہے جس پر ڈاکٹر کہتے ہیں ہاں ٹھیک ہے بس پانی سے دو رکھنا زخم کو۔۔
“ٹھیک ہے، اوکے۔۔۔
“اللہ حافظ۔”
عرشیان نے بھی ان دونوں کو جاتے ہوئے دیکھا۔ اس کی نظریں چند لمحوں تک رومی کے جاتے ہوئے وجود پر ٹکی رہیں۔
یہ پہلی بار ہوا تھا کہ اس نے کسی مریض کی بات مانتے ہوئے اسے انجیکشن لگائے بغیر جانے دیا تھا۔ عموماً وہ علاج کے معاملے میں کسی کی نہیں سنتا تھا، مگر نہ جانے کیوں آج رومی کی ضد کے سامنے خاموش ہو گیا تھا۔
اس نے گہری سانس لی اور میز پر پڑی فائل کو دیکھتے ہوئے خود سے کہا،
“احتیاط کرنے کو تو کہہ دیا ہے… لیکن اب پتا نہیں یہ کرے گی بھی یا نہیں۔”
چند لمحوں کے لیے اس کے ذہن میں رومی کا گھبرایا ہوا چہرہ اور انجیکشن سے بچنے کی کوشش گردش کرنے لگی۔
عرشیان نے فوراً اپنے خیالات کو جھٹکا اور دوبارہ اپنی فائلوں میں مصروف ہو گیا۔
مگر جانے کیوں، آج پہلی بار کسی مریض کے جانے کے بعد بھی اس کی نظریں کچھ دیر دروازے پر ہی ٹھہری رہیں۔۔۔
یہ ان دونوں کی پہلی ملاقات تھی، مگر دونوں میں سے کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ مختصر سا لمحہ آگے چل کر ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ بننے والا ہے۔
پری رومی کو ساتھ لے کر باہر نکل گئی۔
ہسپتال سے باہر آتے ہی پری نے رومی کی طرف دیکھا۔
“ویسے تمہیں انجیکشن نہیں لگنا تھا؟”
رومی نے ایک لمحے کو توقف کیا، پھر بالکل اطمینان سے بولی،
“ہاں،وہ تو لگ چکا تھا۔”
پری نے اثبات میں سر ہلا دیا اور میڈیسن لینے کے بعد اسے گاڑی میں بٹھا دیا۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی رومی نے اچانک پوچھا،
“تم اس ڈاکٹر کو کیسے جانتی ہو؟”
پری نے فوراً کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے جواب دیا،
“میں اکثر ایک دو کیسز کے سلسلے میں ان سے ملی ہوں اسی لیے جانتی ہوں۔”
“اچھا…”
رومی نے مزید سوال نہیں کیا۔
رومی خاموشی سے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔
وہ پری کو یہ نہیں بتانا چاہتی تھی کہ انجیکشن ابھی تک لگا ہی نہیں تھا۔
اور یہ بھی نہیں کہ اس کے بازو میں ابھی بھی درد ہو رہا تھا۔
بس ایک انجیکشن سے بچنے کی خوشی میں وہ اپنا درد چھپا گئی تھی۔۔۔۔
پری نے گاڑی چلاتے ہوئے رومی کی طرف دیکھا، جو خاموشی سے اپنے زخمی بازو کو تھامے بیٹھی تھی۔
“میں تمہیں گھر ڈراپ کر دیتی ہوں۔ گھر جا کر آرام کرو، آج تمہیں کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
رومی نے ایک نظر پری کی طرف دیکھا اور خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
کچھ ہی دیر بعد پری نے اسے گھر کے باہر اتار دیا۔
“آرام کرنا، اور ڈاکٹر نے جو احتیاط بتائی ہے اس کا خیال رکھنا۔”
“ہاں، ٹھیک ہے۔”
رومی کے اندر جاتے ہی پری نے گاڑی آگے بڑھائی۔ کچھ فاصلے پر پہنچ کر اس نے اپنا فون نکالا اور ایک نمبر ملایا۔
“مجھے ایک حادثے کی رپورٹ درج کروانی ہے۔”
پری نے اسے پوری صورتحال مختصر انداز میں بتائی اور ساتھ ہی وہ گاڑی کا نمبر بھی بتا دیا جو اس نے موقع پر نوٹ کیا تھا۔۔۔
دوسری طرف سے جواب ملنے کے بعد پری نے کال ختم کر دی۔
وہ جانتی تھی کہ حادثہ جان بوجھ کر نہیں ہوا تھا، مگر ڈرائیور کا بغیر رکے وہاں سے چلے جانا اسے بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔
پری نے ایک گہری سانس لی، فون ایک طرف رکھا اور گاڑی کا رخ اپنے دفتر کی طرف موڑ دیا۔۔۔
———————————————
رات کو دیر سے گھر واپس آنے کی وجہ عرشمان آج کافی لیٹ اٹھا تھا۔ تقریباً دس بجے اس کی آنکھ کھلی۔ وہ جلدی سے تیار ہوا اور پھر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال سنوارنے لگا۔ گرے سوٹ میں وہ ہمیشہ کی طرح بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔
وہ نیچے آیا تو سب سے پہلے دادی سے ملا۔
دادی نے اسے دیکھتے ہی کہا،
“آج تم کافی لیٹ ہو گئے ہو۔”
عرشمان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
“ہاں دادی، رات کو کام کی وجہ سے دیر سے واپس آیا تھا، اسی لیے آج آنکھ دیر سے کھلی۔”
پھر دادی نے پیار سے پوچھا۔۔
“تم نے ناشتہ نہیں کرنا؟”
عرشمان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا،
“نہیں دادی، آفس میں ہی کچھ کھا لوں گا۔”دادی سے پیار لیتے ہو۔۔۔ خدا حافظ ۔۔
یہ کہہ کر وہ باہر کی طرف بڑھا۔
باہر آیا تو وہاں اس کا بھائی بھی کھڑا تھا، ۔ وہ بھی ہاسپٹل جانے کے لیے تیار کھڑا تھا، مگر اسی وقت اس کی نظر اپنی گاڑی پر پڑی تو وہ پریشان ہو گیا۔
عرشمان نے اسے پریشان دیکھ کر پوچھا،
“کیا ہوا بھائی؟”
اس نے گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
“گاڑی خراب ہو گئی ہے، اور مجھے پہلے ہی دیر ہو رہی ہے۔ کیا تم مجھے ڈراپ کر دو گے؟”
عرشمان نے فوراً کہا،
“ہاں، کیوں نہیں۔ ایسا کریں ہیں ڈرائیور پہلے مجھے آفس ڈراپ کر دیں، پھر آپ کو ڈراپ کر دے گا۔۔۔
اس کے بھائی نے کچھ لمحے سوچا، پھر سر ہلاتے ہوئے کہا،
“چلو ٹھیک ہے، یہ بھی صحیح ہے۔”۔ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے میں ڈرائیو نہیں کر سکتا۔۔۔۔
دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے اور ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
کچھ دیر بعد ڈرائیور نے پہلے عرشمان کو اس کے آفس کے باہر اتارا۔کیونکہ پہلے اس کا افس آتا تھا ہاسپٹل سے ۔۔۔ عرشمان گاڑی سے اتر کر اندر چلا گیا، جبکہ اس کا بھائی ڈرائیور کے ساتھ آگے جانے لگا۔
ابھی وہ کچھ ہی دور گئے تھے کہ عرشیان نے ڈرائیور سے کہا،
“ذرا مجھے مارکیٹ کے پاس روکنا، مجھے کچھ لینا ہے۔”
ڈرائیور نے گاڑی سائیڈ پر روک دی۔
عرشیان گاڑی سے اترا اور مارکیٹ کی طرف چلا گیا، جبکہ ڈرائیور گاڑی میں بیٹھا اس کا انتظار کرنے لگا۔
ڈرائیور گاڑی میں بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا اور اس کا دھیان کچھ دیر کے لیے سڑک کے بجائے سگریٹ کی طرف تھا۔ اسی دوران گاڑی آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف سلپ ہونے لگی۔ پہلے تو اسے لگا شاید اسے وہم ہو رہا ہے، مگر جیسے ہی اسے احساس ہوا، اس نے فوراً گاڑی روکنے کی کوشش کی۔ لیکن تب تک گاڑی پیچھے جا کر کسی چیز سے ٹکرا چکی تھی۔
وہ گھبرا کر فوراً گاڑی کو تھوڑا آگے لے آیا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔
اسی وقت عرشیان بھی مارکیٹ سے واپس آ کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ پیچھے لوگوں کا کافی رش جمع ہو چکا تھا۔ اس نے حیرت سے باہر دیکھا اور پھر ڈرائیور سے پوچھا،
“کیا ہوا ہے؟ اتنا رش کیوں لگا ہوا ہے؟”
ڈرائیور نے نظریں سامنے رکھتے ہوئے مختصر سا جواب دیا،
“پتہ نہیں صاحب۔”
یہ کہتے ہی اس نے فوراً گاڑی آگے بڑھا دی، جبکہ پیچھے جمع ہونے والا رش آہستہ آہستہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوتا چلا گیا۔۔۔۔
عرشیان گاڑی میں فوراً سگریٹ کی بو محسوس ہوئی۔ اس نے ناگواری سے ڈرائیور کی طرف دیکھا اور کہا،
“تم گاڑی میں بیٹھ کر سگریٹ پی رہے تھے؟ کتنی بار منع کیا ہے، گاڑی میں بیٹھ کر ایسی حرکتیں مت کیا کرو۔”
ڈرائیور نے فوراً معذرت کرتے ہوئے کہا،
“سوری صاحب، غلطی ہو گئی۔ نیکسٹ ٹائم خیال رکھوں گا، بس آج بھول گیا تھا۔”
یہ کہتے ہی اس نے فوراً گاڑی کے شیشے نیچے کر دیے تاکہ سگریٹ کی بو باہر نکل جائے۔۔۔۔۔
عرشیان نے بھی خاموشی اختیار کر لی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا، جبکہ ڈرائیور نظریں سڑک پر جمائے گاڑی چلاتا رہا۔
اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحے پہلے اس کی معمولی سی غفلت ایک بڑی غلطی کا سبب بن چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
——————————————–
