بشر ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۱۱
سوہان حسبِ معمول آج بھی چند منٹ میں گہری نیند سو چکا تھا۔
کمرے کی روشنی مدھم تھی۔
ٹیبل لیمپ کی زرد روشنی صرف بستر کے ایک حصے تک پھیل رہی تھی۔
سومین نے خاموشی سے بیگ کھولا اور قرآنِ مجید نکال لیا۔
اب یہ اس کی عادت بنتی جا رہی تھی۔
ہر رات چند آیات۔ اور پھر گھنٹوں سوچنا۔
اس نے وہی صفحہ کھولا جہاں گزشتہ رات پڑھنا چھوڑا تھا۔
نظریں اگلی آیت پر جا کر رک گئیں۔
❝ ان کے دلوں میں بیماری ہے، اور اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھا دی، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ ❞ ( سورۃ البقرہ، آیت ۱۰)
سومین نے آیت ایک بار پڑھی۔ پھر دوبارہ۔ پھر تیسری بار۔
اس بار اُس کی پیشانی پر ہلکی سی شکن نمودار ہوئی۔
دلوں میں بیماری… وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔
یہ کیسی بیماری ہے؟
فوراً ہی اُسے اندازہ ہوگیا کہ یہاں جسمانی بیماری کی بات نہیں ہو رہی۔ یہ کوئی اور چیز تھی۔
شاید… انسان کے اندر کی کوئی خرابی۔
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
پھر اُس کی نظریں آیت کے اگلے حصے پر گئیں۔
اور اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھا دی…
یہ حصہ پڑھ کر وہ رک گیا۔
اس نے خود سے کہا۔
اگر خدا ہے… تو وہ بیماری کیوں بڑھائے گا؟
چند لمحے وہ یہی سوچتا رہا۔
پھر اچانک اُسے اپنی زندگی کے کچھ لوگ یاد آگئے۔
ایسے لوگ… جو شروع میں صرف ایک چھوٹا سا جھوٹ بولتے تھے۔ پھر دوسرا۔ پھر تیسرا۔ پھر آہستہ آہستہ جھوٹ اُن کی عادت بن جاتا تھا۔
یہاں تک کہ ایک وقت آتا تھا جب وہ خود بھی اپنے جھوٹ پر یقین کرنے لگتے تھے۔
اور اگر کوئی اُنہیں سچ بتانے کی کوشش کرتا…
تو وہ ناراض ہو جاتے۔ انکار کر دیتے۔ یا مذاق اُڑاتے۔
سومین نے آیت دوبارہ پڑھی۔
دلوں میں بیماری…۔اور وہ بڑھ گئی…
اچانک ایک خیال اُس کے ذہن میں آیا۔
شاید… یہ سزا شروع میں نہیں ہوتی۔۔شاید پہلے انسان خود راستہ چنتا ہے۔ پھر بار بار وہی راستہ اختیار کرتا ہے۔ اور آخرکار اُس کے اندر وہ خرابی اتنی مضبوط ہو… جاتی ہے کہ واپس آنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔جیسے… کوئی شخص روز جھوٹ بولے۔
پھر ایک دن سچ سننا ہی پسند نہ کرے۔ یا کوئی شخص روز تکبر کرے۔
پھر ایک دن اُسے اپنی غلطی دکھائی دینا ہی بند ہو جائے۔
وہ خاموش ہوگیا۔ یہ خیال دلچسپ تھا۔ بہت دلچسپ۔
کیونکہ اگر ایسا ہے… تو پھر بیماری بڑھنا شاید اچانک نہیں ہوتا۔ بلکہ آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ انسان کے اپنے انتخابوں کے نتیجے میں۔ لیکن پھر بھی…
سومین نے انگلی سے آیت کے الفاظ پر ہلکا سا ہاتھ پھیرا۔
کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔
وہ چند لمحے رکا۔ پھر آہستہ سے بولا،
لیکن یہ سب اتنے یقین سے کیسے کہا جا رہا ہے؟
یہی چیز اسے بار بار قرآن کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی تھی۔
قرآن پِھر سے دعویٰ کر رہا تھا۔
ایسا دعویٰ جو کسی انسان کے لیے کرنا آسان نہیں۔
کیونکہ کوئی انسان یقین سے نہیں جان سکتا کہ دوسرے کے دل میں کیا چل رہا ہے۔
سومین کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
اگر خدا موجود نہیں…
تو پھر قرآن اتنے اعتماد سے انسان کے اندر کی باتیں کیوں کر رہا ہے؟
پچھلی آیت نے بھی اسے ایسے ہی حیران کیا تھا پچھلی آیت میں بھی قرآن دعویٰ کر رہا تھا۔۔۔
سومین کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔
پھر اُس کی نظریں اگلی آیت پر جا کر رک گئیں۔
❝ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، تو کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ ❞ — سورۃ البقرہ، آیت ۱۱
وہ کچھ لمحے خاموش بیٹھا رہا۔
یہ تو ہر دور کا مسئلہ لگتا ہے۔ اس نے آہستہ سے کہا۔
کیونکہ اپنی زندگی میں بھی اُس نے ایسے لوگ دیکھے تھے جو ہمیشہ یہی سمجھتے تھے کہ وہ صحیح ہیں۔ حالانکہ باقی سب اُن سے اختلاف کرتے تھے۔
مگر پھر اُس کے ذہن میں فوراً ایک سوال آیا۔
لیکن یہاں فساد کون طے کرے گا؟
اگر ایک شخص کہتا ہے کہ وہ اصلاح کر رہا ہے…
اور دوسرا کہتا ہے کہ وہ فساد کر رہا ہے…
تو صحیح کون ہے؟
سومین نے کرسی پر پہلو بدلا۔
یہی تو مسئلہ تھا۔۔ہر انسان خود کو ہی صحیح سمجھتا ہے۔نجنگیں بھی اسی وجہ سے ہوتی ہیں۔
نظریات بھی اسی وجہ سے ٹکراتے ہیں۔
ہر فریق سمجھتا ہے کہ وہ دنیا بہتر بنا رہا ہے۔
اور دوسرا فریق نقصان پہنچا رہا ہے۔
وہ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر اُسے ایک بات محسوس ہوئی۔
اب تک کی آیات میں قرآن صرف اُن کے اعمال پر بات نہیں کر رہا تھا۔
بلکہ اُن کے اندر کی کیفیت پر بھی بات کر رہا تھا۔
وہ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔.وہ خود کو مصلح کہتے ہیں۔.وہ سمجھتے ہیں کہ وہ درست ہیں۔
گویا قرآن اُن کے بارے میں ایسی چیزیں بتا رہا تھا جو باہر سے نظر نہیں آتیں۔
سومین نے آہستہ سے کہا۔۔۔
اگر یہ صرف کسی فلسفی کی کتاب ہوتی…
تو وہ کہتا۔ میرے خیال میں یہ لوگ غلط ہیں۔
اگر کوئی مورخ لکھ رہا ہوتا… تو وہ کہتا شاید یہ لوگ غلط تھے۔ لیکن قرآن کا انداز مختلف تھا۔
وہ “شاید” نہیں کہتا۔ وہ اعلان کرتا ہے۔ یقین کے ساتھ۔ جیسے لکھنے والے کو پوری حقیقت معلوم ہو۔
سومین نے ایک لمبی سانس لی۔
یا تو یہ کتاب واقعی اُس ہستی کی طرف سے ہے جو انسانوں کو اُن سے بہتر جانتی ہے…
وہ رکا۔
یا پھر یہ اپنے بارے میں بہت بڑا دعویٰ کر رہی ہے۔
پھر اُس نے دوبارہ آیت کی طرف دیکھا۔
اور اس بار اُس کی دلچسپی فساد کے لفظ سے زیادہ ایک اور چیز میں تھی۔ یہ اعتماد۔ یہ یقین۔ یہ انداز۔
کیونکہ جتنا وہ قرآن پڑھ رہا تھا…
اتنا ہی اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کتاب قاری سے صرف اتفاق نہیں مانگتی۔ یہ اُسے چیلنج بھی کرتی ہے کہ وہ فیصلہ کرے: کیا واقعی کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن دونوں کو جانتی ہے؟
اور یہی سوال تھا جس کا جواب سومین ابھی تک تلاش کر رہا تھا۔۔۔
+++++++++++++
ہیوک کو رات میں ماہم کا میسج آیا تھا، لیکن وہ اُس وقت سو چکا تھا۔ صبح اُٹھ کر جب اُس نے میسج دیکھا تو فوراً پریشان ہو گیا۔
اب میں کیسے جا سکتا ہوں؟ اُس نے بےچینی سے سوچا۔
پرسوں تو اُس نے کسی بہانے سے بات ٹال دی تھی، مگر اب کیا کرے؟ کب تک بہانے بناتا رہے گا؟
اسی پریشانی میں اُس نے تائیجون کو سب کچھ بتا دیا۔
تائیجون بھی سوچ میں پڑ گیا۔
بھائی کو بتانا ہی پڑے گا۔ تائیجون نے آخرکار کہا۔
ورنہ تُو جا ہی نہیں سکے گا۔ ہر بار کیا بہانہ کرے گا؟
ہیوک نے لمبی سانس بھری۔
وہی تو سوچ رہا ہوں…
دونوں ابھی اسی بارے میں سوچ رہے تھے کہ اچانک دروازہ کھلا اور سوہان اندر آ گیا۔
ابے چلو۔۔۔ وہ جلدی سے بولا، پھر اچانک رک گیا۔ لیکن ایک مسئلہ ہو گیا ہے۔
ہیوک چونکا۔ کیا ہوا؟
تائیجون بھی فوراً متوجہ ہوا۔
کوئی مسئلہ ہو گیا کیا؟
سوہان نے سر ہلایا۔
نہیں، کچھ نہیں ہوا۔ بس آج ہم کہیں نہیں جا رہے۔ سب ہوٹل میں ہی آرام کریں گے۔
کیا؟ کیوں؟ ہیوک نے حیرانی سے پوچھا۔
کس نے کہا؟ تائیجون نے بھی سوال کیا۔
بھائی نے۔
لیکن کیوں؟
سوہان نے کندھے اُچکائے۔
ان کا دل نہیں کر رہا جانے کا۔ انہوں نے منع کیا تو سیونگ نے بھی منع کر دیا۔ سیونگ نے منع کیا تو سومِن نے بھی منع کر دیا۔ سومِن نے منع کیا تو ہان وو نے بھی منع کر دیا۔ ہان وو نے منع کیا تو…
بس بس۔۔۔ ہیوک نے فوراً بات کاٹی۔ سمجھ گئے ہم۔
سوہان نے مسکراتے ہوئے کہا، تو چلو پھر۔
تائیجون نے بھنویں سکیڑیں۔ ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ کہیں نہیں جا رہے۔
سوہان نے آنکھیں گھمائیں۔ ارے، ناشتہ کرنے تو جا رہے ہیں نا! نیچے ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں۔
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
اچھا، اچھا۔ تم جاؤ، ہم آتے ہیں۔
نہیں۔۔۔ سوہان فوراً بولا۔ میرے ساتھ چلو۔
ابے، تُو چل۔
تائیجون نے اُس کے کندھے پر اپنا بازو ڈال لیا اور
سوہان بھی کچھ بڑبڑاتا ہوا اُس کے ساتھ چل پڑا۔
ہیوک نے ایک لمحے کے لیے پھر ماہم کا میسج یاد کیا، دل میں بےچینی دوبارہ جاگ اُٹھی، مگر اگلے ہی لمحے وہ بھی اُن دونوں کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گیا۔
++++++++++++++
ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے شام کے چار بج گئے، اور ہیوک تیار ہو کر جانے کے لیے کھڑا ہو گیا۔
شاید بھائی بھی، جانے انجانے میں، چاہتے ہیں کہ میں اُس سے ملوں۔ ہیوک نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تائیجون ہنس پڑا۔ ہاہا! لکی ہے تُو۔
بس، تُو یہاں سب سنبھال لینا۔
کیا سنبھال لینا؟ تائیجون فوراً بولا۔ میں بھی ساتھ جاؤں گا۔
کیوں؟
لڑکی دیکھنے۔
ہیوک نے گھور کر اسے دیکھا۔
وہ کوئی بازار کا میلہ نہیں ہے جو تُو اُسے نہیں دیکھ سکتا۔ وہ نقاب کرتی ہے۔
تو کیا ہوا؟ ویسے ہی دیکھ لوں گا۔
پھر بھی نہیں۔
کیوں نہیں؟ ورنہ میں سب کو بتا دوں گا۔
ہیوک نے بے بسی سے ٹائیجون کو دیکھا۔۔۔
ابے یار! وہ اَن کمفرٹیبل فیل کرتی ہے۔
وہ کیوں؟
پتا نہیں، لیکن میں نے نوٹس کیا ہے۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے بھی بہت سوچتی ہے، گھبراتی ہے۔ شاید بہت معصوم ہے اسی لیے۔
تائیجون نے فوراً اعتراض کیا۔
معصوم؟ دنیا میں کوئی معصوم نہیں ہوتا۔ سب لڑکیاں معصوم بننے کی ایکٹنگ کرتی ہے۔۔۔
ہیوک نے سر ہلایا۔
نہیں، وہ واقعی ایسی ہے۔ تُو اگر اُس سے ملے گا تو تجھے بھی یہی لگے گا۔ اور وہ کوئی ایکٹنگ نہیں کرتی۔ نہ ہی دوسری لڑکیوں کی طرح جان بوجھ کر کیوٹ بننے کی کوشش کرتی ہے۔ اویں تو مجھے وہ پسند نہیں آئی نہ تُجھے پتہ ہے میرا۔۔۔
ہاں، یہ تو مجھے اچھی طرح معلوم ہے۔ تائیجون نے قہقہہ لگایا۔ اب تو اُسے دیکھنا اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔
نہیں! کہا نا، نہیں۔ پلیز یار، سمجھا کر۔
اچھا بابا، دور سے دیکھ لوں گا۔ پکا اُس کے قریب نہیں جاؤں گا۔
ہیوک نے گہری سانس لی۔
تم دونوں اتنے ضدی کیوں ہو؟
تم دونوں؟ تائیجون نے حیرت سے پوچھا۔
تم اور جے کیونگ۔
تائیجون فوراً ہنس پڑا۔
کیونکہ ہم میلے میں بچھڑے ہوئے جڑواں بھائی ہیں۔ اسی لیے۔
ہیوک بے اختیار ہنس دیا۔
ہاں ہاں، قسم سے وہیں لگتے ہو۔۔ اب مجھے تیار ہونے دے۔
آہاں، ہو جا تیار۔ ہم نے کون سا تجھے روکا ہوا ہے؟
مستی مت کر۔ باہر جا کر دیکھ، کوئی ہے تو نہیں؟ راستہ کلئیر ہے نا؟
تائیجون نے سیلوٹ مارنے کی ادا کی۔
جی جناب! ابھی چیک کر کے آتا ہوں۔
یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا، جبکہ ہیوک آئینے میں خود کو دیکھتا بال ٹھیک کرنے لگا۔
++++++++++++
وہ دونوں ابھی کمرے سے نکلے ہی تھے کہ جے کیونگ بھی اپنے کمرے سے عین اُسی وقت باہر آ گیا۔ اُس نے دیکھا کہ دونوں نے جینز پہن رکھی ہے، چہروں پر ماسک لگائے ہوئے ہیں اور ٹوپیاں بھی پہنی ہوئی ہیں۔
اُنہیں اس حالت میں دیکھ کر اُسے فوراً اندازہ ہو گیا کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔
چند لمحوں تک تینوں ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔
پھر جے کیونگ نے سنجیدگی سے کہا،
جو بھی بولنا، سچ بولنا۔ سچ کے سوا کچھ نہیں۔
تائیجون فوراً اُس کی طرف لپکا اور اُس کے کندھے پر اپنا بازو ڈال کر بولا،
اب چل تُو بھی ہمارے ساتھ۔
جبکہ ہیوک نے عجیب سا منہ بنا کر دونوں کو گھورا۔
جلدی چلو، نہیں تو کوئی آ جائے گا۔
یہ کہہ کر تائیجون آگے بڑھا اور ہیوک کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بھی اپنے ساتھ گھسیٹ لیا۔
جے کیونگ ابھی تک حیران تھا۔
لیکن تم دونوں جا کہاں رہے ہو؟
چل تو سہی، سب پتا چل جائے گا۔ تائیجون نے پراسرار انداز میں کہا۔
ہیوک دونوں کو گھورتا غصے سے بولا،
وہاں پہنچتے ہی مجھ سے سو فٹ دور رہنا۔
جے کیونگ نے بھنویں چڑھا لیں۔
وہاں؟ کہاں وہاں؟
ابے، اتنے سوال مت کر۔ تائیجون نے اُس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔ خاموشی سے چل۔ میں ہوں نا، سب سنبھال لوں گا۔
بس اسی بات کا تو خطرہ ہے۔۔۔ جے کیونگ نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔
بے عزتی مت کر میری۔ تائیجون نے ناراضی جتاتے ہوئے کہا۔ ایک تو لے کر بھی جارہا ہوں۔۔۔ اوپر سے مُجھے ہی اکڑ دیکھا رہا ہے۔۔۔
تم دونوں کی وجہ سے اگر میرے ساتھ کچھ ہوا نا، یا وہاں جا کر کوئی گڑبڑ ہوئی، تو اچھا نہیں ہوگا۔ بڑے مزے سے جو تُم دونوں میرے ساتھ جارہے ہو نہ۔۔ ہیوک پِھر غصے سے بولا۔۔۔
ارے، کیوں ہوگا مسئلہ؟
کیونکہ تُم دونوں پنوتی ہو جہاں جاتے ہو، کچھ نہ کچھ گڑبڑ کر کے آتے ہو۔ ہیوک نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا۔ اوپر سے سب کو پتا بھی چل جاتا ہے۔
بات تو صحیح ہے۔ یہ تائیجون ہے ہی پنوٹی۔۔۔
ٹائیجون فوراََ جے کیونگ کو گھورا اس نے تُجھے بھی بولا۔۔۔
اپنے خلاف باتیں نہیں سنتے۔۔۔ جے کیونگ نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا۔۔
تو کیا صرف دوسروں کے خلاف باتیں سنوں؟ تائیجون نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔
یہاں سب جانتے ہیں کون سب سے زیادہ بڑا والا پنوٹی ہے۔۔۔ تائیجون نے لیفٹ کا بٹن دباتے چیخ کر کہا۔۔۔
زیادہ چیخ نہیں۔۔۔ ہیوک جھنجھلائے
یہاں لیفٹ میں ہم تینوں کے سوا کوئی نہیں۔۔۔
یہاں کا مطلب ہم سب، ہم سب سارے بھائی جانتے ہیں۔۔۔ تائیجون نے وضاحت دی۔۔
ابھی میں بتاؤں۔۔؟؟ کیا ہر مصیبت کیسے تیرے پیچھے بھاگتی ہے۔۔ جے کیونگ نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔..
تائیجون کے ایسے بےشمار قصے تھے جن کی وجہ سے صرف وہ خود نہیں بلکہ پورا گروپ خطرے میں پڑ جاتا تھا۔ نہ جانے کتنی بار اس کی حرکتوں نے سب کی جان نکال دی تھی۔
کبھی کنسرٹ کے دوران جو کام اسے نہیں کرنا ہوتا تھا، وہی کر بیٹھتا۔ کبھی عین پرفارمنس کے وقت اس کا مائیک خراب ہو جاتا، اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اکثر ایسا صرف اسی کے ساتھ ہوتا تھا۔ کبھی گانے کے بول بھول جاتا اور پھر باقی ممبرز کو اپنی طرف دیکھ کر ہنسی روکنے میں مشکل پیش آتی۔ کبھی سونگ کے غلط لیریکس غلط گا لیتا جس سے سب کا دھیان بٹ جاتا۔ ایک دفعہ اسٹیج کی لائٹ اس نے ڈانس کرتے کرتے نیچے زمین پر گرا دیا تھا۔۔۔ ایک دفعہ ریہرسل میں سب کی کوریوگرافی بالکل پرفیکٹ چل رہی تھی۔ عین اُس وقت تائیجون نے غلط سمت میں ٹرن لے لیا اور سیدھا اپنے ساتھ کھڑے ممبر سے جا ٹکرایا۔ پھر کیا تھا، ایک کے بعد ایک سب کا بیلنس بگڑ گیا اور پورا گروپ ڈومینو کی طرح گرتا چلا گیا۔ جبکہ اس سارے ہنگامے کے بیچ تائیجون اکیلا سیدھا کھڑا رہ گیا، جیسے غلطی اُس نے نہیں بلکہ باقی سب نے کی ہو۔۔ ایک دفعہ ایوارڈ شو میں جیسے ہی جیتنے والے گروپ کے طور پر ایس ٹو ایس کا نام اناؤنس ہوا، پورا گروپ خوشی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن تائیجون حسبِ معمول خوشی میں اپنے ہوش کھو بیٹھا۔ وہ اچانک زور سے کھڑا ہوا تو اُس کا گھٹنا سامنے والی کرسی سے ٹکرا گیا، اور کرسی دھڑام سے آگے جا گری۔
مسئلہ یہ تھا کہ وہ کرسی کسی اور گروپ کے ممبر کی تھی، جو بےچارہ ابھی آرام سے بیٹھا ہوا تھا۔ کرسی کے ہلتے ہی وہ بھی گھبرا کر تقریباً اپنی نشست سے گر گیا۔ پورے ہال میں چند لمحوں کے لیے عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
اور سب سے بڑی مصیبت؟
سامنے موجود تمام کیمرے یہ منظر مختلف زاویوں سے ریکارڈ کر چکے تھے۔۔
اور آج تک اُس کا یہی مؤقف ہے..
کرسی خود گری تھی، میں نے کچھ نہیں کیا!۔۔
ایسے بہت سے لاتعداد تائیجون کے کارنامے تھے۔۔۔ اوپر سے کچھ وہ جان بوج کر ان لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے کرتا تھا۔۔۔
مصیبت میرے پیچھے نہیں بھاگتی، میں مصیبت کے آگے بھاگتا ہوں۔۔۔
یہ سن کر جے کیونگ زور سے ہنس پڑا جبکہ ہیوک نے بےزاری سے بولا۔۔۔ چپ رہوں دونوں۔۔۔ تُم دونوں ہی پنوٹی ہو۔۔۔۔
زیادہ نہیں بولا۔۔ ابھی ہم ہوٹل سے نکلے بھی نہیں ہے۔۔ تائیجون نے ہیوک کو دھمکایا۔۔۔
پھر ہیوک خاموش ہوگیا۔۔۔
آخرکار تینوں پوری احتیاط کے ساتھ ہوٹل سے باہر نکل گئے، جیسے کسی خفیہ مشن پر جا رہے ہوں۔
++++++++++++
کیفے کے باہر شام آہستہ آہستہ گہری ہو رہی تھی۔
سڑک کے کنارے لگے زرد بلب جل چکے تھے اور ہوا میں ہلکی سی خنکی شامل ہو گئی تھی۔
جس کیفے کا لوکیشن ماہم نے بھیجا تھا، اُس کے سامنے اس وقت وہ تینوں کھڑے تھے۔
ہیوک نے ہلکے بھورے رنگ کی ڈھیلی سویٹ شرٹ اور سرمئی پینٹ پہن رکھا تھا۔ چہرے پر سیاہ ماسک موجود تھا جو اُس کے آدھے نقوش چھپا رہا تھا۔ سیاہ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے اور گہری سیاہ آنکھیں مسلسل آس پاس کا جائزہ لے رہی تھیں۔
اُس کے ساتھ ہی جے کیونگ کھڑا تھا۔
گہرے نیوی بلیو سویٹر اور سیاہ پینٹ میں ملبوس۔
چہرے پر ماسک اور سرمئی آنکھوں میں حسبِ معمول تجسس تھا۔۔۔ کہ یہ دونوں یہاں کرنے کیا آئے ہیں۔۔؟؟
اور تائیجون… وہ سفید سویٹ شرٹ اور سفید پینٹ میں ملبوس تھا۔ چہرے پر ماسک ہونے کے باوجود اُس کی منفرد آنکھیں فوراً توجہ کھینچ لیتی تھیں۔ وہ نہ مکمل بھوری تھیں اور نہ ہی مکمل سبز۔ اُن میں دونوں رنگ اس خوبصورتی سے گھلے ہوئے تھے کہ روشنی کے بدلنے کے ساتھ کبھی وہ شہد جیسی سنہری بھوری لگتیں اور کبھی ہلکی زمردی سبز۔ اور اِس وقت وہ آنکھیں بار بار پورے کیفے میں گھوم رہی تھیں۔
ابے ہیوک… کہاں ہے تیری معشوقہ؟
اگلے ہی لمحے ہیوک کا ہاتھ اُس کے سر پر پڑا۔
ماہم نام ہے اُس کا۔ ماہم بولا۔۔۔
نام سنتے ہی جے کیونگ نے دونوں کو باری باری دیکھا۔
کون ماہم؟
تائیجون کے چہرے پر فوراً شرارتی مسکراہٹ آ گئی۔
بات کچھ ایسی ہے جناب… وہ ڈرامائی انداز میں بولا۔
ہمارے جناب جنگ ہیوک صاحب کا کسی پر دل آ گیا ہے۔
جے کیونگ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ کیا؟
ہاں۔
کس پر؟
یہ مت پوچھ۔
تائیجون نے فوراً جواب دیا۔
یہ سن کے وہ پاکستانی ہے۔۔۔ پھر اُس نے خاص زور دے کر کہا۔ اور مسلمان بھی۔
جے کیونگ نے فوراً ہیوک کی طرف دیکھا۔
مسلمان ہے؟
ہاں۔
اور؟
ہیوک کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اور معصوم ہے۔
تائیجون نے فوراً ایک اور چپت رسید کی۔
ابے۔۔۔ اچار ڈال لے اُس کی معصومیت کا۔ ہر بات میں معصوم معصوم…
ہیوک نے اُسے گھورا۔
اسی لیے میں تجھے میں اپنی کوئی بات نہیں بتاتا۔
ہاں ہاں۔
جے کیونگ اب تک حیران تھا۔
اچھا تو تم دونوں ابھی اُس سے ملنے آئے ہو؟
ہم دونوں نہیں۔ ہیوک نے فوراً تصحیح کی۔ صرف میں۔
تو پھر میں؟ جے کیونگ نے فوراً پوچھا۔
تائیجون نے جواب دیا۔ ہم دور بیٹھ کر دیکھیں گے۔۔۔
کیوں تو نے پہلے کبھی لڑکی دیکھی نہیں،
ہاں وہی میں اس کو بولا۔۔۔ ہیوک نے جھنجھلا کر کہا۔
لیکن یہ میرے پیچھے پیچھے آگیا۔۔۔
اور مجھے بھی ساتھ لے آیا۔ جے کیونگ جھنجھلا کر بولا
ابے تو سمجھ نہیں رہا تھا۔ ایس تو ایس گروپ کے ممبر مسٹر جنگ ہی-ہیوک کو لڑکی پسند آ گئی ہے۔
وہ ڈرامائی انداز میں رکا۔
جنگ ہی-ہیوک کو!
پکا وہ حجاب کرتی ہوگی؟
ہاں۔ ہیوک نے فوراً جواب دیا۔
تائیجون نے حیرانی سے دونوں کو دیکھا۔ کیوں؟
جے کیونگ نے فاتحانہ انداز میں انگلی ہیوک کی طرف کی۔ مجھے پہلے ہی پتا تھا۔
اسے ایسی ہی لڑکی پسند آئے گی۔
کیوں؟ تائیجون نے پھر پوچھا۔
جے کیونگ ہنس پڑا۔ بھول گیا؟
فینز میٹنگ میں کیا ہوا تھا؟
تائیجون چند لمحے سوچتا رہا۔
پھر اچانک اُس کی آنکھیں پھیل گئیں۔
اووووو…..
وہ والی؟
ہاں وہی والی۔
جے کیونگ نے ہنستے ہوئے کہا۔
ساری فینز کو چھوڑ کر ایک حجاب والی لڑکی کے پیچھے پڑ گیا تھا۔
یہ کون ہے؟
کہاں سے آئی ہے؟
پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
نام کیا ہے؟
کون سی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے؟
تائیجون زور سے ہنس پڑا۔
ہاں…
صحیح پکڑے ہو…
ہیوک نے فوراً احتجاج کیا۔
لیکن مجھے ماہم اس وجہ سے پسند نہیں آئی….
پھر؟ جے کیونگ نے پوچھا۔
پھر وہ معصوم ہے۔
پھر سے معصوم… تائیجون پھر سے جھنجھلایا۔۔۔
جے کیونگ ہنس پڑا۔
چھوڑ دے یار۔
کیوں تنگ کر رہا ہے اُسے؟
اُسے لگ رہی اچھی اور معصوم تو لگنے دے۔۔۔
وہی تو۔۔۔ ہیوک نے فوراً حمایت ملتے ہی کہا۔
پھر اُس نے پورے کیفے میں اپنی سیاہ آنکھیں دوڑائی۔۔۔
ویسے لگتا ہے ابھی تک آئی نہیں۔
چند لمحے بعد اُس نے سامنے موجود کھڑکی کے قریب والی میز کی طرف اشارہ کیا۔
چلو… میں وہاں جا کر بیٹھتا ہوں۔
تم لوگ یہیں بیٹھو۔
ابے اتنا دور؟
تائیجون فوراً بولا۔
ہم اُس کے پیچھے والی ٹیبل پر بیٹھ جاتے ہیں نا۔
نہیں۔
کیوں؟
کیونکہ تُو نے کہا تھا نا دور سے دیکھے گا۔
تائیجون نے منہ بنایا۔ پھر بھی… اتنا دور؟
ہاں۔
اُس ٹیبل کے پیچھے والی ٹیبل ٹھیک ہے۔
وہاں بیٹھ جاتے ہیں۔
نہیں۔
ابے۔۔۔۔ تائیجون نے بےبسی سے جے کیونگ کی طرف دیکھا۔ اسے سمجھا۔
جے کیونگ نے کندھے اچکا دیے۔
ارے یہیں بیٹھ جا۔
پھر ہیوک کی طرف دیکھ کر بولا،
تو جا۔
ہم یہیں بیٹھے ہیں۔
ہیوک کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
وہ اپنے بال ٹھیک کرتا ہوا اپنی منتخب کردہ میز کی طرف بڑھ گیا۔
تائیجون فوراً کرسی پر آگے جھکا۔
ابے یار۔۔۔
اُس کی باتیں سنتے نا۔۔۔
جے کیونگ نے بےنیازی سے کافی کا مینو اٹھا لیا۔
کیا کرے گا سن کر؟
پھر ہیوک کو تنگ کروں گا۔ تائیجون نے فوراً جواب دیا۔
جے کیونگ نے مینو اُس کے سر پر مارا۔
خاموشی سے یہیں بیٹھا رہ۔
ورنہ ابھی جا کر ہیوک کو بتا دوں گا کہ تُو جاسوسی کرنے کا پلان بنا رہا ہے۔
تائیجون فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
غداری…
ادھر ٹائیجون اور جے کیونگ اپنی میز پر گئے، جبکہ ہیوک اُن سے چار نشستیں آگے جا کر اُس میز پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
بیٹھنے کے بعد وہ بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ہر بار جب کیفے کا دروازہ کھلتا، اُس کی نظریں بےاختیار اُدھر اُٹھ جاتیں۔
چند منٹ گزرے… پھر دروازہ ایک بار پھر کھلا۔
اور اِس بار ہیوک کی نظریں وہیں ٹھہر گئیں۔
وہ آ گئی تھی۔
آج بھی وہ سیاہ عبایا پہنے ہوئے تھی۔
ڈھیلا سا عبایا اُس کے وجود کو مکمل طور پر ڈھانپے ہوئے تھا، جبکہ سیاہ حجاب کے نیچے سے صرف اُس کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔
وہی پُرسکون… وہی معصوم… وہی گہری سیاہ آنکھیں۔
ہیوک چند لمحے اُسے دیکھتا رہ گیا۔
اُسے اچانک خیال آیا کہ شاید ماہم اُسے پہچان نہ سکے۔
آخر اُس کے چہرے کا آدھا حصہ تو ماسک کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔
اسی سوچ کے ساتھ وہ فوراً اپنی نشست سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس نے دیکھا…
ماہم سیدھا اُسی کی طرف آ رہی تھی۔
جیسے اُسے پہچاننے میں ایک لمحہ بھی نہ لگا ہو۔
ہیوک کے ہونٹوں پر بےاختیار مسکراہٹ آگئی۔
ماہم میز کے قریب آ کر رُکی۔
پھر نرم لہجے میں بولی۔
السلام علیکم۔
ہیوک نے فوراً جواب دیا۔
وعلیکم السلام۔
ماہم کی آنکھوں میں حیرت سی ابھری۔
واہ… آپ نے تو بہت صحیح جواب دیا۔
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
مجھے یہاں آئے کافی دن ہو گئے ہیں، تو کچھ چیزیں سیکھ لی ہیں۔
ماہم کرسی کھینچتے ہوئے بولی۔
آپ کو اِس کا مطلب بھی پتا ہے؟
ہاں۔
کیا؟
آپ پر سلامتی ہو۔
ماہم کی آنکھیں ہلکی سی پھیل گئیں۔
واہ… پھر اُس نے دلچسپی سے پوچھا۔
یہ کس نے بتایا؟
ہمارے منیجر نے۔ ہیوک نے جواب دیا۔
میں نے اُن سے پوچھا تھا۔
پھر اُس نے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
آپ بیٹھیں پلیز۔
جی…
ماہم آہستہ سے بیٹھ گئی۔
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
ہیوک کو عجیب سی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔
حالانکہ وہ ہزاروں لوگوں کے سامنے پرفارم کر چکا تھا… انٹرویوز دے چکا تھا…
بڑے بڑے اسٹیجز پر جا چکا تھا…
مگر اِس وقت ایک عام سی پاکستانی لڑکی کے سامنے بیٹھ کر اُسے غیرمعمولی جھجھک محسوس ہو رہی تھی۔
اُس نے جلدی سے بات شروع کی۔
آپ کیا لیں گی؟
ماہم نے فوراً کہا۔
کچھ بھی چل جائے گا۔
کافی؟
اوکے۔…
ہیوک نے سر ہلایا۔
پھر ویٹر کو بلا کر دو کافیوں کا آرڈر دے دیا۔
ہیوک نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
آپ نے مجھے پہچانا کیسے؟
مَاہَم کی آنکھوں میں ہلکی سی حیرت ابھری، پھر وہ مسکرا دی۔
یہیں سوال تو مجھے آپ سے کرنا چاہیے، نہیں؟
ہیوک کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔
ہاں… مگر میں نے تو آپ کو ہمیشہ نقاب میں ہی دیکھا ہے۔ تو یہ اتنا مشکل نہیں تھا۔۔۔
مَاہَم نے ہلکا سا سر ٹیڑھا کیا۔
یہاں اور بھی کوئی لڑکی ہے نقاب میں؟
ہیوک چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر ہنس دیا۔
آپ مجھے کنفیوز کر رہی ہیں۔
نہیں نہیں۔ مَاہَم نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔ اس کا بہت سادہ سا جواب ہے۔ آپ نے مجھے اپنی طرف آتے دیکھا، اس لیے پہچان لیا۔
ہاں… ہاں، رائٹ۔ ہیوک نے سر ہلاتے ہوئے جواب تو دے دیا، مگر دل ہی دل میں ایک اور بات سوچ رہا تھا۔
لوگ اور دنیا اتنی معصوم نہیں ہوتے جتنا ماہم تُم انہیں سمجھتی ہو…
ماہم کی باتوں میں ایک عجیب سی سادگی تھی، جیسے وہ ہر چیز کو سیدھے انداز میں دیکھتی ہو۔ لیکن دنیا اور یہاں کے لوگ اتنے سیدھے کہاں ہوتے ہیں۔۔
مَاہَم دوبارہ بولی۔
اور رہی بات میں نے آپ کو کیسے پہچانا…
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر کیفے میں سرسری نظر دوڑائی۔
یہاں اور کوئی اکیلا ماسک میں نہیں بیٹھا ہوا۔
ہیوک نے اردگرد دیکھا، پھر بےاختیار ہنس پڑا۔
ہاہا… رائٹ۔
تو پھر پہچاننے میں مشکل ہی کیا تھی؟
بالکل نہیں تھی۔
مَاہَم نے اطمینان سے سر ہلایا، جیسے مسئلہ حل ہوگیا ہو۔
ہیوک اسے دیکھ کر پھر مسکرا دیا۔
اسی دوران ویٹر کافی رکھ گیا۔
++++++++++++++
اِدھر تائیجون اور جے کیونگ اپنی نشستوں پر بے فکری سے بیٹھے تھے۔ دونوں نے ماسک اتار دیے تھے، کیونکہ یہاں اُنہیں پہچاننے والے لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔
جے کیونگ نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور اطمینان سے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔ اُس کے چہرے پر ایک ہلکی سی آسودہ مسکراہٹ تھی۔
سچ تو یہ تھا کہ اُسے یہ گمنامی پسند تھی۔
نہ کوئی سرگوشیاں۔ نہ کوئی تصویریں لینے کی کوشش۔ نہ ہر چند قدم پر نام پکارنے والے لوگ۔
صرف ایک عام انسان کی طرح بیٹھنا، کافی پینا اور سکون سے وقت گزارنا۔ یہ احساس اُسے اچھا لگتا تھا۔
جیسے برسوں بعد کسی عام انسان کی طرح کہیں بیٹھنے کا موقع ملا ہو۔
تائیجون نے گردن موڑ کر اُس طرف دیکھا جہاں ہیوک بیٹھا تھا۔
کھڑکی کے قریب والی میز پر ماہم آ چکی تھی۔
وہ آہستہ قدموں سے آئی تھی اور ہیوک کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔
دونوں کے درمیان کچھ بات ہوئی جس پر ہیوک کے ماسک کے پیچھے بھی اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی مسکراہٹ نمایاں ہوگئی۔
ٹائیجون نے فوراً جے کیونگ کی کہنی میں کہنی ماری۔
دیکھ… دیکھ…
جے کیونگ نے بےزاری سے سر اُٹھایا۔
اب کیا ہوا؟
آگئی ہیوک کی لڑکی۔۔۔
ہیوک کی لڑکی۔۔۔؟؟ جے کیونگ نے غصے سے گھورا اُسے۔۔۔
ارے سوری۔۔۔ ہیوک کی پسند کی لڑکی۔۔۔۔
اب کیا کروں میں۔۔۔؟؟ جے کیونگ نے بیزاری سے کہا
ٹائیجون نے منہ بنایا۔ کُچھ نہیں وہاں بیٹھتے نہ تو زیادہ مزہ آتا باتیں سنتے۔۔۔
جے کیونگ نے مینو اُس کی طرف دھکیل دیا۔
چھوڑ۔ آرڈر دے دے۔…
تائیجون نے مینو اٹھا لیا۔
تو بتا… کیا لے گا؟
جے کیونگ نے ایک نظر مینو پر ڈالی۔ پھر بےدلی سے بولا، چپس منگا لے۔ کوئی اسنیک بھی۔ اور کافی۔
اوکے… تائیجون نے فوراً جواب دیا۔
پھر پوری توجہ مینو پر مرکوز کر دی۔ اور ویٹر کو آرڈر دینے لگا۔۔۔۔
+++++++++++++
جے کیونگ نے مسکراتے ہوئے کافی کا مینو کھولا۔
بالکل۔
تم کیوں اپنے خدا پر یقین رکھتی ہو؟
ہیوک کا سوال سن کر ماہم کچھ لمحے خاموش رہی۔
ماہم نے آہستہ سے میز پر رکھی انگلیوں کو دیکھا۔
مجھے نہیں لگتا میں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے۔
ہیوک خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
شاید اس لیے کیونکہ میں نے ہمیشہ اللہ کو اپنی زندگی میں موجود پایا ہے۔
موجود؟
ماہم نے ہلکا سا سر ہلایا۔ ہاں۔
وہ چند لمحے رکی۔
جب میں بہت چھوٹی تھی نا… مجھے لگتا تھا دعا صرف مانگنے ہے۔
پھر؟
پھر آہستہ آہستہ سمجھ آیا کہ دعا مانگنے سے زیادہ بات کرتے ہے۔
ہیوک کی نظریں اُس کے چہرے پر جم گئیں۔
ماہم کی آواز بہت نرم تھی۔
کبھی کبھی میں کچھ نہیں مانگتی۔
پھر کیا کرتی ہو؟
بس دل کی بات کرتی ہوں۔
ہیوک چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
اور تمہیں لگتا ہے وہ سنتا ہے؟
اس بار ماہم مسکرائی نہیں۔
نہیں۔۔۔۔
ہیوک چونکا۔ نہیں؟
مجھے لگتا نہیں… اس نے آہستہ سے کہا۔ مجھے یقین ہے۔
خاموشی۔
کیسے؟
ماہم نے کھڑکی سے باہر نظریں جما دیں۔
کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں کو آتے جاتے دیکھا ہے۔
دوست بدلے۔ لوگ بدلے۔ حالات بدلے۔ یہاں تک کہ میں خود بھی بدل گئی۔
وہ رکی۔
لیکن ایک چیز کبھی نہیں بدلی۔
ہیوک بے اختیار آگے جھک گیا۔ کیا؟
یہ احساس کہ جب پوری دنیا سمجھ نہ پائے… تب بھی کوئی ہے جو سمجھتا ہے۔
اُس کی آواز دھیمی تھی۔
جب میں غلط ہوتی ہوں تو بھی۔، جب میں روتی ہوں تو بھی،جب میں ڈرتی ہوں تو بھی، اور جب میں کسی کو کچھ بتا نہیں سکتی… تب بھی۔
ہیوک خاموش ہوگیا۔
ماہم نے پہلی بار اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
تم نے کبھی محسوس کیا ہے؟
کیا؟
کہ انسان جتنا بھی اکیلا ہو جائے… اُس کے دل کے اندر کہیں نہ کہیں یہ خواہش باقی رہتی ہے کہ کوئی اُسے پوری طرح جانتا ہو۔
ہیوک کے ذہن میں بے اختیار اپنی ماں، جنگ سوک اور اپنی بے شمار دعائیں آ گئیں۔
ماہم بولتی رہی۔
میں اللہ پر یقین اس لیے نہیں رکھتی کہ مجھے ایسا سکھایا گیا تھا۔
میں یقین اس لیے رکھتی ہوں کیونکہ میں نے اُس کے بغیر خود کو کبھی مکمل محسوس نہیں کیا۔
کیفے میں چند لمحوں کی خاموشی پھیل گئی۔
پھر ماہم نے بہت آہستہ کہا،
میرے لیے اللہ کسی مذہب کا حصہ نہیں ہے،
پھر؟
اُس کی آواز سرگوشی سے بھی دھیمی تھی۔
میرے لیے وہ گھر ہے۔
ہیوک کی سانس جیسے ایک لمحے کو رک گئی۔
گھر؟
ہاں۔
ماہم کی آنکھوں میں عجیب سی نرمی تھی۔
دنیا کے کسی بھی کونے میں چلی جاؤں… کتنی ہی غلطیاں کر لوں… کتنی ہی دور بھٹک جاؤں… مجھے معلوم ہے واپس لوٹنے کے لیے ایک دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔
وہ مسکرائی۔
اور شاید اسی احساس کو میں ایمان کہتی ہوں۔
ہیوک کچھ نہیں بولا۔ پہلی بار اُس کے پاس کوئی سوال نہیں تھا۔
کیونکہ وہ ماہم کی آنکھوں میں وہ یقین… وہ سکون… اور اپنے رب کے لیے وہ محبت دیکھ رہا تھا…
جو اُسے زندگی بھر بہت کم لوگوں میں نظر آئی تھی۔
+++++++++++
تائیجون اور جے کیونگ ابھی اپنی ہی باتوں میں مصروف تھے۔
کبھی ہیوک پر تبصرہ کرتے، کبھی ماہم پر، اور کبھی اپنی بےتکی گفتگو پر خود ہی ہنس پڑتے۔
مگر پھر اچانک جے کیونگ کی نظر کیفے کے شیشے والے دروازے پر جا کر ٹھہر گئی۔
دروازہ کھلا۔
اور ایک لڑکی تیز قدموں سے اندر داخل ہوئی۔
بھورے رنگ کا عبایا…
چہرے پر ہلکا گلابی حجاب اور نقاب…
اور چال میں ایسی جلدی جیسے وہ پہلے ہی دیر کر چکی ہو۔
وہ سیدھی اندر کی طرف بڑھ رہی تھی۔
مگر جے کیونگ کی نظریں چند لمحوں کے لیے اُس پر جم گئیں۔
پھر اچانک وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
ابے کہاں جا رہا ہے؟
تائیجون نے فوراً پوچھا۔
مگر جے کیونگ نے جواب نہیں دیا۔ اُس نے ہاتھ اٹھا کر اُسے لڑکی کو روکنے کی کوشش کی۔
مگر لڑکی نے اُسے دیکھا بھی نہیں۔
وہ اُسی رفتار سے آگے بڑھتی رہی۔
پھر جے کیونک تیزی سے چلتا اُس کے سامنے آکھڑا ہوا۔
اُس کے قدم فوراً رک گئے۔
نقاب کے پیچھے سے اُس کی آنکھیں ناگواری سے سکڑ گئیں۔
یہ کیا چھچھور پن ہے؟
جے کیونگ چند لمحے اُسے دیکھتا رہ گیا۔
ایکسکیوز می؟ اُس نے حیرت سے کہا۔۔۔
سامنے سے ہٹو۔
جے کیونگ کی بھنویں اوپر اٹھ گئیں۔
عجیب بدتمیزی ہے۔
کیا کہا آپ نے مجھے؟
سنائی نہیں دیتا کیا؟ لڑکی نے غصے سے کہا۔
میں نے کہا ہٹو۔
اس سے پہلے کیا کہا تھا؟ جے کیونگ نے فوراً پوچھا۔
اُس نے سرد نگاہوں سے اُسے دیکھا۔
میں اپنی باتیں بار بار نہیں دہراتی۔
جے کیونگ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
لیکن ابھی تو دہرائی ہیں۔
بدتمیزی مت کرو۔
میں نے؟ جے کیونگ نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
میں نے بدتمیزی کی؟
ہاں۔ لڑکی نے فوراً جواب دیا۔
ایسے کسی کا راستہ روکتے ہیں؟
میں نے ہاتھ بھی ہلایا تھا۔
تم نے دیکھا نہیں۔
تو میں کیوں دیکھوں؟ کسی ایرے غیرے کا ہاتھ۔
تائیجون جو دور بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا، تقریباً کرسی سے گرنے والا تھا۔
جبکہ جے کیونگ چند لمحے خاموش رہا۔
پھر بولا،
بس نہ دیکھو۔ پھر دونوں ہاتھ پھیلا دیے۔
پھر لو، آ گیا سامنے میں۔
لڑکی نے غصے سے اُسے دیکھا۔
ایک نمبر کے بدتمیز انسان ہو تم۔
جے کیونگ نے فوراً جواب دیا۔
سیم ٹو یو۔
لڑکی کی آنکھیں مزید تنگ ہو گئیں۔
مجھے بس اپنی کمپنی کا نام بتا دو۔
بس۔
اس کے بعد تم اپنے راستے، میں اپنے راستے۔
آپ کی مہربانی کی ضرورت نہیں مجھے۔
لیکن مجھے آپ پر مہربانی کرنی ہے۔
ہنہ۔۔۔۔۔ لڑکی نے ناک چڑھائی۔ ہٹو یہاں سے۔
اُس نے آگے بڑھنے کی کوشش کی اور جے کیونگ کو ایک طرف ہٹانا چاہا۔
مگر عین اسی وقت تائیجون بھی وہاں پہنچ گیا۔
ارے ارے ارے۔۔۔
وہ فوراً بیچ میں آ گیا۔
بتا دو نا۔ کمپنی کا نام ہی تو پوچھ رہا ہے۔
پھر جے کیونگ کی طرف اشارہ کیا۔
یہ ویسے بھی ایسے تُمہاری جان نہیں چھوڑنے والا بہت ضدی ہے۔
لڑکی نے پہلی بار غور سے تائیجون کو دیکھا۔
پھر چند لمحے خاموش رہی۔
اچھا؟
ہاں۔ تائیجون نے پوری سنجیدگی سے سر ہلایا۔
لڑکی نے دونوں کو ایک ایک نظر دیکھا۔
پھر بےزاری سے بولی تو میں کیا کروں۔۔۔؟؟
اور پھر خالی ٹیبل کے سائڈ سے کرسی ہٹاتی اُن کے پاس سے گزر گئی۔
ارے۔۔۔ تائیجون نے فوراً آواز دی۔ ارے سنو تو۔۔۔
مگر وہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھ سکی۔
تائیجون نے افسوس سے جے کیونگ کی طرف دیکھا۔
گئی۔۔۔۔۔
نہیں گئی۔۔۔۔ وہ رہی۔۔ جے کیونگ نے کی نظر اُس ٹیبل پر جم گیا جہاں وہ جا کر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
+++++++++++++++
ہیوک چند لمحے خاموش رہا۔
اچھا اب تُم مُجھے اپنے اسلام کے بارے میں بتاؤ۔۔۔؟؟
ماہم نے سر ہلایا۔
اسلام کا آغاز ہی یہیں سے ہوتا ہے۔
اللہ سے؟
جی۔
اسلام سب سے پہلے انسان کو کسی قوم، کسی زبان، کسی رسم یا کسی شخصیت کی طرف نہیں بلاتا۔
سب سے پہلے وہ انسان کو اُس کے رب سے ملواتا ہے۔
ہیوک خاموشی سے سنتا رہا۔
ماہم کی آواز پُرسکون تھی۔
دیکھیں… اگر میں آپ سے پوچھوں کہ مسلمان کسے کہتے ہیں؟
ہیوک نے کندھے اچکائے۔
جو اسلام کو مانتا ہو؟
ماہم ہنس پڑی۔
یہ تو آسان جواب ہے۔
پھر وہ بولی،
مسلمان کا مطلب ہے وہ شخص جو اپنے آپ کو اپنے رب کے سپرد کر دے۔
یعنی؟
یعنی یہ مان لے کہ میرا خالق مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ مجھے پیدا کرنے والا مجھ سے زیادہ حکمت رکھتا ہے۔ اور جو حکم وہ دے گا، وہی میرے لیے بہتر ہوگا۔
ہیوک سوچ میں پڑ گیا۔
ماہم نے آہستہ سے کہا،
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں ہے۔
یہ ایک تعلق ہے۔
بندے اور اُس کے رب کے درمیان۔
نماز، روزہ، دعا، قرآن…
یہ سب اُس تعلق کو مضبوط کرنے کے طریقے ہیں۔
اصل مقصد اللہ ہے۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر ہیوک نے پوچھا،
اور تمہارے نبی؟
ماہم کے چہرے پر بےاختیار نرمی آگئی۔
محمد ﷺ؟
ہیوک نے سر ہلایا۔
ہاں۔
ماہم چند لمحے خاموش رہی۔
پھر دھیرے سے بولی،
اگر اسلام مجھے اللہ سے ملواتا ہے…
تو محمد ﷺ مجھے یہ سکھاتے ہیں کہ اللہ تک پہنچنے والا انسان کیسا ہوتا ہے۔
ہیوک کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
++++++++++++++
میں نے تمہیں منع کیا تھا نا؟
تیز اور غصے بھری آواز سنتے ہی دونوں کی نظریں ایک ساتھ اُس طرف اٹھ گئیں۔
فاطمہ اُن کی میز کے پاس کھڑی تھی۔
بازو سینے پر بندھے ہوئے تھے اور اُس کی غصیلی نظریں سیدھا ماہم پر جمی ہوئی تھیں۔
ماہم اُسے دیکھتے ہی گھبرا کر فوراً کھڑی ہو گئی۔
میں تو بس…
میں تو بس کیا؟
فاطمہ نے فوراً بات کاٹ دی۔
ہاں؟
کہا بھی تھا میں نے…۔لیکن میری سنتا کون ہے؟
ماہم نے بےبسی سے لب کاٹے۔
یار…
ہیوک نے ماحول کو نرم کرنے کی کوشش کی۔
آپ بیٹھ جائیں۔ آرام سے بات کرتے ہیں۔
میں تو بس اِنہیں اسلام کے بارے میں بتا رہی تھی۔
ماہم نے جلدی سے وضاحت دی۔
فاطمہ نے فوراً جواب دیا۔
کیوں؟
سارے عالم اور مولانا دنیا سے غائب ہوگئے ہیں کیا؟
اُن کے پاس نہیں جا سکتے تھے؟
ایک تو آپ آرام سے بات کریں ماہم سے پلیز…
ہیوک نے اُسے ٹوکا اُسے بلکل بھی فاطمہ کا ایسے ماہم پر چیخنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
فاطمہ فوراً اُس کی طرف مڑی۔
آپ چپ رہیں۔
اور اُس نے انگلی اٹھا کر سیدھا ہیوک کی طرف اشارہ کیا۔
یہ میری دوست ہے۔۔ میں جیسے چاہوں اِس سے بات کروں۔
ہیوک فوراً خاموش ہو گیا۔
اسی لمحے جے کیونگ اور تائیجون بھی وہاں پہنچ گئے۔
کون کس کی دوست ہے؟
جے کیونگ نے آتے ہی پوچھا۔
فاطمہ کا سر فوراً اُس کی طرف گھوما۔
اور اگلے ہی لمحے اُس کی آنکھیں مزید تنگ ہو گئیں۔
تم پھر آ گئے؟
تائیجون نے فوراً جے کیونگ کی طرف اشارہ کیا۔
کہا تھا نا…
یہ ضدی ہے۔
اب فاطمہ کی نظریں تائیجون کی طرف مڑ گئیں۔
تم چپ رہو۔
نہیں تو بلاوجہ کسی اور کا غصہ تم پر نکل جائے گا۔
اوکے۔ اوکے۔ تائیجون نے فوراً دونوں ہاتھ اوپر کر دیے۔
میں خاموش۔
بالکل خاموش۔
فاطمہ نے دوبارہ جے کیونگ کی طرف دیکھا۔
ہاں تم بولو پہلے، تمہارا کیا مسئلہ ہے؟
ہیوک نے حیرانی سے دونوں کو دیکھا۔
تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو؟
ہاں۔
جے کیونگ نے فوراً جواب دیا۔
یہ وہی بال والی لڑکی ہے۔
اوہ…
ہیوک کے منہ سے بےاختیار نکلا۔
پھر اُس نے دوبارہ فاطمہ کی طرف دیکھا۔
آپ بیٹھ جائیں نا۔ ہم آرام سے بات کر لیتے ہیں۔
“میں بس ماہم سے اُس کے رب کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ اور ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔ جیسا آپ سمجھ رہیں۔۔۔
فاطمہ نے طنزیہ انداز میں سر ہلایا۔
ہاں۔
ہر کہانی کی شروعات یہی سے ہوتی ہے۔
تائیجون فوراً بول پڑا۔
کہاں سے ہوتی ہے؟
فاطمہ نے اُسے دیکھا۔
پہلے بہت شریف بنتے ہیں۔ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے ہیں۔ پھر اپنی اصلیت دکھاتے ہیں۔
کون سی اصلیت؟ تائیجون نے معصومیت سے پوچھا۔
فاطمہ نے بس اُسے گھورا۔
صِرف گھورا کہ وہ فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
اچھا اچھا…
سمجھ گیا۔
میں کچھ نہیں بول رہا۔
ماہم نے آہستہ سے فاطمہ کا بازو پکڑا۔
یار…یہ چلے جائیں گے۔ ٹورسٹ ہیں۔ اُس دن بھی تو بتایا تھا تمہیں۔ دو تین دن میں واپس چلے جائیں گے۔ جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے۔
یہ سنتے ہی فاطمہ اچانک خاموش ہو گئی۔
اِتنا خاموش کہ سب چونک گئے۔
ابھی چند لمحے پہلے جو آتش فشاں بننے والی تھی، وہ یکدم ساکت ہو گئی تھی۔
جے کیونگ نے حیرت سے ماہم کو دیکھا۔
پھر ذرا جھک کر اُس کے قریب سرگوشی کی۔
ایسا کیا بول دیا تم نے؟
جو ابھی پھٹنے کے قریب تھی، اچانک خاموش ہو گئی۔
ماہم نے بھی دھیرے سے جواب دیا۔
چلے جائیں گے…
یہ اُس کا ٹراما ہے۔
اب زیادہ دیر غصہ نہیں کر پائے گی۔
جے کیونگ کی بھنویں اوپر اٹھ گئیں۔
کیوں؟
ماہم کی آواز نرم ہو گئی۔
کیونکہ…
اِسے سب چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
چند لمحوں کے لیے جے کیونگ خاموش ہو گیا۔
اُس نے پہلی بار فاطمہ کو غور سے دیکھا۔
اور شاید پہلی بار اُس کی آنکھوں میں موجود غصے کے پیچھے چھپی ہوئی اداسی بھی۔
اُدھر تائیجون اب بھی صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ارے؟
کیا ہوا؟
آگ اچانک بجھ کیسے گئی؟
فاطمہ نے فوراً اُسے گھورا۔
تائیجون ایک سیکنڈ میں سنبھل گیا۔
میرا مطلب…
شاید پاؤں میں درد ہو گیا ہو گا آپ کے۔
بیٹھ جائیں۔
اُس نے جلدی سے قریب والی کرسی کھینچ دی۔
سب کو یقین تھا کہ فاطمہ اب اُسے ڈانٹنے والی ہے۔
مگر حیرت انگیز طور پر… فاطمہ واقعی بیٹھ گئی۔
تائیجون نے پلکیں جھپکائیں۔
فاطمہ نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے سب کو ایک ایک نظر دیکھا۔ پھر صاف لہجے میں بولی۔
جو باتیں کرنی ہیں…میرے سامنے کرو۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر ہیوک نے دونوں ہاتھ میز پر رکھتے ہوئے لمبی سانس لی۔
آہ…۔شکر ہے۔
اور واقعی…
اُس لمحے میز پر موجود سب لوگوں نے دل ہی دل میں سکون کا سانس لیا۔
++++++++++++++
تائیجون نے میز پر کہنی ٹکاتے ہوئے ہلکی سی کھانسی کی۔
بات شروع کرنے سے پہلے تھوڑا انٹرو ہو جاتا تو اچھا ہوتا…
ماہم نے فوراً سر ہلایا۔
ہاں، یہ میری دوست فاطمہ ہے… اور میں ماہم۔
پھر اُس نے ہیوک کی طرف دیکھا۔
اور آپ؟
ہیوک نے مسکراتے ہوئے اپنے ساتھ بیٹھے دونوں لڑکوں کی طرف اشارہ کیا۔
یہ میرے دوست ہیں… تائیجون اور جے کیونگ۔ یہ بھی ٹورسٹ ہیں میرے ساتھ ہی آئے تھے۔۔
اوہ… ماہم نے سر ہلایا۔
فاطمہ بدستور خاموش بیٹھی تھی، مگر اُس کی نظریں سب پر باری باری جا رہی تھیں، جیسے اب بھی کسی پر مکمل اعتبار نہ ہو۔
ماہم نے ہلکا سا سانس لیا۔
تو… بات جہاں میں نے ختم کی تھی، وہیں سے شروع کرتی ہوں۔
سب خاموش ہوگئے۔
ماہم آہستہ آہستہ حضور اکرم ﷺ کی زندگی کے بارے میں بتانے لگی۔
وہ مکہ کے ماحول کا ذکر کرتی…
پھر بتاتی کہ کس طرح لوگ بتوں کی عبادت کرتے تھے…
کس طرح کمزوروں پر ظلم ہوتا تھا…
اور پھر کس طرح ایک شخص کھڑا ہوا جس نے کہا کہ سب انسان برابر ہیں، سب کا رب ایک ہے، اور صرف اُسی کی عبادت ہونی چاہیے۔
ہیوک پوری توجہ سے سن رہا تھا۔
تائیجون بھی غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔
کبھی کبھی وہ کچھ پوچھنا چاہتا، مگر پھر ماہم کی بات درمیان میں نہ کاٹنے کے لیے رک جاتا۔
مگر جے کیونگ…
اُس کی توجہ دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔
ایک حصہ ماہم کی باتیں سن رہا تھا۔
اور دوسرا…
بار بار فاطمہ کی طرف جا رہا تھا۔
فاطمہ خاموشی سے بیٹھی تھی۔
ہاتھ میز پر رکھے ہوئے۔
نظریں ماہم پر۔ چہرہ نقاب کے پیچھے چھپا ہوا۔
مگر اُس کی آنکھیں… وہ مسلسل ماہم کو دیکھ رہی تھیں۔ جیسے وہ ہر لفظ کو پرکھ رہی ہو۔ ہر جملے کو تول رہی ہو۔
اور یہ بھی دیکھ رہی ہو کہ سامنے بیٹھے یہ تینوں واقعی سن رہے ہیں یا صرف وقت گزار رہے ہیں۔
چند لمحوں بعد جے کیونگ کی نظریں پھر اُس پر جا ٹھہریں۔
فاطمہ نے فوراً محسوس کر لیا۔
اُس نے آہستہ سے گردن موڑی۔
اور سیدھا جے کیونگ کو دیکھا۔
جے کیونگ نے فوراً نظریں دوسری طرف کرلیں۔
دو سیکنڈ بعد پھر چوری سے دیکھا۔
فاطمہ نے پھر پکڑ لیا۔
اس بار اُس کی آنکھیں ذرا سی سکڑ گئیں۔
جے کیونگ نے ایسے ظاہر کیا جیسے وہ دیوار کا ڈیزائن دیکھ رہا ہو۔
تائیجون نے یہ منظر دیکھ لیا تھا۔
وہ ہونٹ دباکر ہنسی روکنے لگا۔
کچھ دیر بعد وہ جے کیونگ کے قریب جھکا۔
بھائی…
جے کیونگ نے بغیر اُس کی طرف دیکھے کہا۔
کیا؟
دیوار پسند آگئی؟
کون سی دیوار؟
وہی… جو براؤن عبائے میں بیٹھی ہے۔
جے کیونگ نے فوراً اُس کے بازو پر مکا مارا۔
چپ رہ۔
تائیجون کی ہنسی نکل گئی۔
فاطمہ نے دونوں کو گھورا۔
تائیجون فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
جی، معذرت۔
ماہم نے حیرانی سے پوچھا۔
کیا ہوا؟
کچھ نہیں۔
تائیجون نے فوراً سنجیدہ چہرہ بنایا جیسے اس کی پوری توجہ ماہم کی باتوں پر ہو۔۔۔۔
ماہم کی آواز نرم مگر پُراعتماد تھی۔
اور پھر رسولِ اکرم ﷺ نے مکہ والوں کی اتنی مخالفت، تکلیفیں اور ظلم برداشت کیے، لیکن پھر بھی اُن کے لیے بددعا نہیں کی…
تائیجون نے آہستہ سے کھنکارا۔
ایک بات پوچھوں؟
ماہم نے اثبات میں سر ہلایا۔
یعنی… لوگوں نے اُنہیں اتنا تنگ کیا، مارا، ستایا، گھر چھوڑنے پر مجبور کیا… پھر بھی انہوں نے بدلہ نہیں لیا؟
بدلہ لینے کی طاقت ہونے کے باوجود نہیں لیا۔ ماہم نے نرمی سے جواب دیا۔
تائیجون نے حیرت سے آنکھیں جھپکیں۔
یہ حصہ مجھے سمجھ نہیں آیا۔
کون سا؟
طاقت ہونے کے بعد بھی معاف کرنا۔
ماہم مسکرائی۔
کیونکہ طاقتور وہ نہیں جو بدلہ لے لے۔ طاقتور وہ ہے جو بدلہ لے سکتا ہو لیکن اللہ کے لیے معاف کر دے۔
ہممم…
تائیجون سوچ میں پڑ گیا۔
یہ کافی مشکل لگ رہا ہے۔
ہے بھی۔
اس بار فاطمہ نے مختصر سا جواب دیا۔
سب کی نظریں اُس کی طرف اٹھ گئیں۔
فاطمہ بدستور سنجیدہ بیٹھی تھی۔
معاف کرنا آسان نہیں ہوتا۔۔۔۔
وہ بس اتنا کہہ کر خاموش ہوگئی۔
جے کیونگ کی نظریں چند لمحوں کے لیے اُس کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔
ایسا لگا جیسے اُس ایک جملے کے پیچھے کوئی پوری کہانی چھپی ہوئی ہو۔
مگر اُس نے کچھ نہیں پوچھا۔
حیرت انگیز طور پر پہلی بار اُس نے کوئی فضول بات نہیں کی۔
ماہم دوبارہ بولنے لگی۔
اور رسول اللہ ﷺ کے اخلاق اتنے اعلیٰ تھے کہ دشمن بھی اُنہیں صادق اور امین کہتے تھے۔
صادق اور امین؟
ہیوک نے پوچھا۔
سچ بولنے والے اور امانت دار۔
ہیوک نے دھیرے سے سر ہلایا۔
پھر چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولا۔
واه۔۔۔۔۔
تائیجون نے کافی کا کپ میز پر رکھا اور ہلکا سا سر جھکا کر مسکرایا۔
اچھی کہانی ہے۔
ماہم کی بھنویں فوراً سکڑ گئیں۔
کہانی؟
حقیقت ہے۔
فاطمہ نے سرد لہجے میں تصحیح کی۔
تائیجون نے کندھے اچکائے۔
میرے لیے تو کہانی ہی ہے۔
کیوں؟ ماہم نے حیرت سے پوچھا۔
کیونکہ کوئی بھی انسان حقیقت میں ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔
کیسا؟.ہیوک نے پوچھا۔
اتنا اچھا۔
تائیجون نے فوراً جواب دیا۔.لوگ ایسے نہیں ہوتے۔
میں نے زندگی میں جتنے لوگ دیکھے ہیں، سب کی کوئی نہ کوئی حد ہوتی ہے۔
اس کی نظریں میز پر جم گئیں۔
کوئی تمہارے ساتھ اچھا ہے تو بدلے میں کچھ چاہتا ہے۔ کوئی مدد کرتا ہے تو تعریف چاہتا ہے۔ کوئی معاف کرتا ہے تو اس لیے کہ وہ بھول چکا ہوتا ہے۔
مگر ایسا انسان؟ جس پر ظلم ہو۔جسے تکلیف دی جائے۔جس کا دل توڑا جائے۔ اور پھر وہ معاف بھی کر دے؟
اس نے سر ہلایا۔
نہیں۔ حقیقت میں لوگ ایسے نہیں ہوتے۔
فاطمہ کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
تو تم سمجھتے ہو سب لوگ تمہارے جیسے ہوتے ہیں؟
نہیں۔ تائیجون نے فوراً جواب دیا۔ میں سمجھتا ہوں سب انسان انسان ہوتے ہیں۔
اور انسان کمزور ہوتا ہے۔
ماہم خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
تائیجون نے بات جاری رکھی۔
یہ سب مذہب کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔
مثالی کردار، مثالی لوگ، مثالی باتیں۔
اس نے میز پر انگلی سے ہلکی سی تھپکی دی۔
حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
یہ سنتے ہی ہیوک نے ایک نظر ماہم کی طرف دیکھا۔
اسے اندازہ تھا کہ یہ جملہ ماہم کو پسند نہیں آئے گا۔
مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ ماہم ناراض نہیں ہوئی۔
وہ چند لمحے خاموش رہی۔
پھر دھیرے سے بولی،
تم نے کبھی ایسے انسان کو دیکھا نہیں…
اس لیے تمہیں لگتا ہے کہ ایسا انسان ہو نہیں سکتا۔
تائیجون ہلکا سا مسکرایا۔
اور تم نے دیکھا ہے؟
نہیں۔
ماہم نے سادگی سے جواب دیا۔
پھر؟
لیکن میں نے ایسے لوگوں کے بارے میں پڑھا ہے…
اس کی آواز نرم تھی۔
اور جتنا میں پڑھتی ہوں…
اتنا مجھے لگتا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ایسے لوگ نہیں ہوتے۔
وہ رکی۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود ایسے نہیں ہوتے، اس لیے ہمیں یقین نہیں آتا کہ کوئی اور ایسا ہو سکتا ہے۔
تائیجون کے چہرے کی مسکراہٹ ذرا سی مدھم پڑ گئی۔
فاطمہ نے خاموشی سے کافی کا کپ اٹھایا۔
جبکہ ہیوک پوری توجہ سے ماہم کو دیکھ رہا تھا۔
چھوڑو یہ سب باتیں۔
جے کیونگ نے ماحول ہلکا کرنے کی کوشش کی۔
تم دونوں اپنے بارے میں بتاؤ۔ کیا کرتی ہو؟
ماہم نے نرمی سے جواب دیا۔
میں یونیورسٹی جاتی ہوں۔ بی-ائے کر رہی ہوں۔
اوہ…
جے کیونگ نے سر ہلایا۔
اچھا ہے۔
مگر اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ پوچھتا، فاطمہ نے اسے ایک ایسی نظر سے دیکھا جیسے خبردار کر رہی ہو کہ حد میں رہے۔
پھر وہ سیدھی ہو کر بولی،
مجھے لگتا ہے ہمیں اب چلنا چاہیے۔ کافی دیر ہو گئی ہے۔
ماہم نے گھڑی دیکھی اور فوراً سر ہلا دیا۔
ہاں، صحیح کہہ رہی ہو۔
پھر اس نے مسکراتے ہوئے تینوں کی طرف دیکھا۔
آپ سب سے مل کر اچھا لگا۔
ہیوک کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ آگئی۔
مجھے بھی۔
مگر جے کیونگ ابھی ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھا۔
اس کی نظریں بار بار فاطمہ پر جا رہی تھیں۔
اور فاطمہ حسبِ معمول اسے مکمل نظرانداز کر رہی تھی۔
یہی چیز جے کیونگ کو سب سے زیادہ کھٹک رہی تھی۔
وہ اتنی ضدی کیوں تھی؟
آخر اس کی کمپنی کا نام بتانے میں مسئلہ کیا تھا؟
ویسے…
وہ اچانک بولا۔
آپ کی دوست بھی پڑھتی ہیں؟
ماہم نے جواب دیا۔
ہاں۔
اور یہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ جاب بھی کرتی ہیں۔
جے کیونگ کی آنکھوں میں فوراً دلچسپی جاگ اٹھی۔
اچھا؟
کس کمپنی میں؟
جملہ مکمل ہوتے ہی فاطمہ کی گردن آہستہ سے ماہم کی طرف مڑی۔
وہ گھورنا نہیں تھا۔ وہ وارننگ تھی۔
واضح، خطرناک اور خاموش وارننگ۔
ماہم فوراً خاموش ہوگئی۔
جبکہ جے کیونگ نے معصوم بننے کی ناکام کوشش کی۔
فاطمہ نے ایک گہرا سانس لیا۔
پھر پوری سنجیدگی سے بولی،
میں کہیں بھی جاب کروں… یہ جاننا آپ کے لیے ضروری نہیں۔
جے کیونگ نے منہ کھولا ہی تھا کہ اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
بالکل بھی ضروری نہیں۔
تائیجون نے فوراً ہونٹ دانتوں تلے دبا لیے تاکہ ہنسی نہ نکل جائے۔
ہیوک نے بھی نظریں دوسری طرف پھیر لیں۔
فاطمہ نے مزید ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔
اس نے ماہم کا ہاتھ پکڑا۔
چلو۔
فاطمہ…۔ماہم نے آہستہ سے کہا۔ آرام سے۔۔۔
اللہ حافظ۔ فاطمہ نے مختصر سا کہا۔
فی امان اللہ۔ پھر اس نے ماہم کا ہاتھ کھینچا۔۔۔
ماہم نے جاتے جاتے مڑ کر دیکھا۔
ہیوک اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اس کے چہرے پر وہی ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
اللہ حافظ، ماہم۔
اس نے آہستہ سے کہا۔
ماہم کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ اتر آئی۔
اللہ حافظ۔
اگلے ہی لمحے فاطمہ نے اسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے کیفے سے باہر لے گئی۔۔۔۔
چند سیکنڈ تک میز پر خاموشی چھائی رہی۔
پھر تائیجون نے کھنکار کر جے کیونگ کی طرف دیکھا۔
مبارک ہو۔
کس بات کی؟ جے کیونگ نے بےزاری سے پوچھا۔
تائیجون بمشکل ہنسی روکتے ہوئے بولا،
آج پہلی بار کسی لڑکی نے تمہیں اتنی عزت سے بےعزت کیا ہے۔
ہیوک کے قہقہہ لگانے سے پہلے ہی جے کیونگ نے ٹشو
اٹھا کر اس کے منہ پر دے مارا۔۔۔۔
+++++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔
